One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 27

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 27

One Wheeling by Umme Hani

شاہزیب تو کمرے میں چلا گیا لیکن ایڈ بکس لیکر نمی کی جگہ عاتقہ بیگم کمرے میں پہنچیں تھیں ۔۔۔۔۔۔وہ بیڈ پر دراز تھا ماں کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا

“امی آپ کیوں آئیں ہیں نمی کو بھیج دیتیں “شاہزیب بیڈ پر بیٹھا اب اپنے بازؤں پر لگنے والے زخم دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔عاتقہ بیگم اسکے سامنے بیڈ پر۔ بیٹھ گئیں ۔۔۔۔ایڈ بکس کھولا اور

روئی پر ڈیٹول لگا کر اسکے زخموں کو صاف کرنے لگیں

“کہاں سے آ رہے ہو شاہزیب “عاتقہ بیگم بہت سنجیدگی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگیں ۔۔۔۔چہرے پر تکلیف کے آثار تھے جو بیٹے کے زخموں کو دیکھ کر ہو رہی تھی

“کہیں سے نہیں امی بس بائیک سے گر گیا تھا “شاہزیب نے بہانہ جڑا عاتقہ۔ بیگم نے شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھا وہ نظریں۔ چرانے لگا

“جھوٹ مت بولو ۔۔۔۔۔ شازی نے ساری بات بتا دی ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔اس نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا ۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم کی بات سب تلخی پر اتر آیا

“ٹھیک ہے پھر جو میں کر رہا ہوں سمجھ لیں وہ بھی ٹھیک ہے “

“نہیں وہ غلط ہے ۔۔۔۔سمجھتے کیوں نہیں تم ہمارا کوئی جوڑ نہیں ہے ان بڑے لوگوں سے ۔۔۔۔ تم اپنے میل جول والوں میں سے جس لڑکی کا کہو گئے میں تمہارا رشتہ لے جاؤں گی ۔۔۔اس لڑکی سے زیادہ خوصورت لڑکی ڈھونڈ لاؤں گی تمہارے لئے ۔۔۔۔بس اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔”زخموں پر دوا لگاتے ہوئے۔ بڑے پیار سے شاہزیب کو سمجھانے لگیں ۔۔۔۔۔

“امی وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔۔۔ میری خاطر سب سے لڑ رہی ہے ۔۔۔۔۔کیسے چھوڑ دوں اسے جو میری خاطر خود کی جان لینے سے گریز نا کرے ۔۔۔۔۔ “شاہ کی آنکھوں میں تو بس نیناں کا ہی بسیرا تھا

“یہ زخم بھی اسی کے دیے ہوئے لگ رہے ہیں “عاتقہ بیگم نے جتانے والے انداز سے کہا

“نہیں یہ زخم تو اس اسٹیٹس کے ہیں جو ہمارے معاشرے نے بنا دیا ہے ۔۔۔۔ ورنہ ہمارے دین نے تو رنگ نسل دولت سب کے فرق کو ختم کر دیا تھا ۔۔۔۔لیکن ہم اب بھی لیکر چل رہے ہیں ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر عاتقہ۔ یگم نے پہلو۔ بدلہ

“یہ باتیں کتابوں تک محدود رہ گئیں ہیں بیٹا دنیا کے کچھ اور ہی رنگ ڈھنگ ہیں ۔۔۔۔۔”

“میرا باپ پروفیسر ہے امی ۔۔۔یہ سارے سبق انہی کے یاد کروائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔یہ امیر غریب سب برابر ہیں اللہ کی نظر میں ہمہیں بھی فرق نہیں رکھنا چاہیے ۔۔آپ کو یاد ہے نا مجھے اپنا ٹفن کسی سے شیر کرنے کی عادت نہیں تھی لیکن ابو روز کہتے تھے کہ اپنی کلاس کے اس لڑکے سے ٹفن شیر کرو جو نا ٹفن لاتا ہو۔۔۔ نا پیسے اور بریک کے وہ للچائی ہوئی نظروں سے سب کی طرف دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔اسے ضروتمند کو کہے بغیر اپنا ٹفن اسکی طرف بڑھا دینا اور کہنا کہ مجھے بھوک کم ہے اس لئے تم میرے ساتھ کھا لو ۔۔۔۔اور ان کی سخت تاکید پر ۔میں ایسا ہی کرنے لگا تھا ۔۔۔۔”

“ہاں تو اس میں غلط کیا تھا شاہزیب “

۔”غلط وہ نہیں تھا غلط یہ ہے کہ ۔۔۔جب ابو نے زبان کے ساتھ ساتھ مجھے اس پر عمل بھی کروانے کا عادی بنا دیا تواب مجھ سے فرق کرنے کو کیوں کہا جا رہا ہے ۔۔۔۔ میرے دل سے اونچ نیچ ذات پات کو کھرچ کر نکالنے والا میرا باپ اب میرے ساتھ کیوں نہیں کھڑا کیونکہ اب معاملہ برعکس ہے ۔۔۔۔جب میں نے اپنے سے کم تر کو کبھی کم تر نہیں سمجھا تو پھر مجھے سے یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ اپنے سے برتر کو اسکی برتری کے ساتھ قبول کرو ۔۔۔۔کیوں کروں امی مجھ میں کیا کمی ہے سوائے پیسے کہ ۔۔۔میں بدکردار نہیں ہوں ۔۔۔۔شرابی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ یونیورسٹی میں ٹاپ نہیں کرتا تو فیل بھی کبھی نہیں ہوا میرے پروگریس سے ابو ہمیشہ مطمئن رہے ہیں ۔۔۔۔۔انہوں نے جو کہا میں نے مانا ہے ۔۔۔۔کیا میرا اتنا بھی حق نہیں یہ ایک چیز کی میں بھی ان سے فرمائش کرو تو وہ بھی میرے ساتھ قدم کے ساتھ قدم ملانے کو تیار رہیں ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات انہوں نے بہت خاموشی سے سنی تھی

اسکی آنکھوں میں کسی کی محبت کے دیے بڑی آب وتاب سے چمک رہے تھے۔۔۔۔عاتقہ بیگم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا آنکھوں سے ایک تکلیف دہ آنسوں نکل کر رخسار پر چھلکا بے اختیار بیٹے پر پیار آنے لگا اسے سینے سے لگا کر بینچ نے لگیں

“میری تو دعا ہے شاہزیب تمہیں وہ سب ملے جو تم چاہتے ہو ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔”

“بس امی دعا کے بعد “لیکن” نہیں کہتے ۔۔۔۔۔ اللہ سے صرف مانگتے ہیں ۔۔۔۔”لیکن” کہہ کر اسکی قدرت پر شک نہیں کرتے ۔۔۔۔وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔۔۔۔پھر یہ “لیکن “کی بے یقینی کیوں “آج تو شاہزیب انہیں حیران کرنے پر تلا ہوا تھا عاتقہ بیگم نے شاہزیب کا زخمی چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر فرحت محبت سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

“کتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگے ہو ۔۔۔۔مجھے تو تم اب بھی وہیں شاہزیب لگتے تھے جو ہر بات منوانے کے لئے میرے پیچھے منتیں کیا کرتا تھا ۔۔۔امی ابو سے کہہ کر یہ دلوا دیں وہ لے دیں ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم کی آنکھوں کے سامنے دس سالہ شاہزیب گھومنے لگا ۔۔۔۔انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی پر بوسہ دیا

شاہزیب نے بھی ماں کو محبت سے دیکھا ۔۔۔انکے دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔۔عاتقہ بیگم کے ہاتھوں کی پشت کو اپنے ہونٹوں سے لگا کر چومنے لگا پھر اپنی آنکھوں پر رکھ لیا ۔۔۔۔۔

“میں اب بھی وہی شاہزیب ہوں امی ۔۔۔۔امی ابو سے کہیں نا نیناں کا رشتہ لیکر جائیں اسکے والد کے پاس ۔۔۔۔۔۔”شاہزیب نے منت بھرے لہجے سے کہا عاتقہ بیگم دل تڑپا ۔۔۔۔ماں کا دل تو ویسے ہی اولاد کے لئے موم کی طرح نرم ہوتا ہے

“کیا نیناں کے والد مان جائیں گئے ؟”

“انکو ابھی چھوڑیں ابو تو پہلے مان جائیں “شاہزیب کو زمان صاحب کی فکر تھی جو رخ وہ بختیار صاحب کو دیکھا کر آ رہا تھا اسے امید تھی کہ وہ سوچیں گئے ضرور ۔۔۔۔پھر نیناں سے بہت محبت بھی کرتے ہیں کب تک بیٹی کے آنسوں دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔یقینا نرم پڑ ہی جائیں گئے ۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے میں بات کروں گی ان سے ۔۔۔۔تم یہ بتاؤں کچھ کھایا ہے تم نے “عاتقہ بیگم نے سہولت سے موضوع بدلہ

“نہیں امی کچھ نہیں کھایا بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔”شازیب نے معصومیت سے کہا کھایا بھی کچھ نہیں تھا باسم کے گھر صبح کا ناشتہ ہی تو کیا تھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم فورا سے اٹھ کر چلی گئیں کھانا گرم کر کے اسے اپنے ہاتھوں سے اسے کھلانے لگیں

*********

پھپو بیگم کے دل میں نیلو کے لئے تنفر بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اب وہ انہیں دو با دو جواب دینے لگی تھی ۔۔۔۔۔اور بھائی بھی بیٹی کی طرف داری میں بولنے لگا تھا ۔۔۔۔کئ سال نیلو پر حکم چلاتے ہوئے انہیں عادت جو ہو چکی تھی اپنی ہی کرنے کی پھر سارے گھر پر انکا راج رہا تھا اب نیلو کے بدلے رنگ ڈھنگ ان سے کہاں۔ برداشت ہونے تھے۔۔۔۔نیلوفر کھانا اب اپنے والد سے پوچھ کر انکی پسند کا بنانے لگی تھی ۔۔۔پھپو اگر اپنی فرمائش کر بھی دیتیں تو نیلو یہ کہہ کر ٹال جاتیں کہ اسے بھی وہی پسند ہے جو اسکے والد نے کھانا ہے

“پھپو میں تو وہی کھاؤں گی جو بابا کو پسند ہے آپ ایسا کریں اپنے لئے خود بنا لیں ۔۔۔۔”پھپو تو اسکی شکل ہی دیکھتی رہ جاتی ۔۔۔۔ہر بات پر انہیں نوک ٹوک کی ایسی عادت پڑ چکی تھی کہ بنا اسکے انکی بات مکمل نہیں ہوتی تھی

“نیلو یہ پیاز اتنے موٹے کیوں کاٹ رہی ہو اور باریک کاٹو “اچھے خاصے کام میں کیڑے نکالنا انکا پسندیدہ مشغلہ تھا

“اس سے زیادہ باریک مجھ سے تو نہیں کٹتا پھپو یہ چھری پکڑیں اور آپ مجھے کاٹ کر دیکھائیں ۔۔۔۔۔”نیلوفر نے چھری اور پیاز انکے سامنے رکھ دیے ۔۔۔۔پھپو ہونقوں کی طرح نیلو کو دیکھنے لگیں

پہلے تووہ اسکی مرضی کے مطابق کام کرنے میں اپنی جان ہلکان کرتی رہتی تھی مگر اب سیدھا صاف جواب ہوتا تھا اس کے پاس اسی طرح کپڑے دھونے کے بعد کپڑوں سے بھری بالٹی نیلوفر نے پھپو کے سامنے رکھ دی وہ جو صحن میں کرسی پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہیں تھی بالٹی رکھنے کی آواز سے چونک گئ۔۔۔۔۔

“پھپو یہ کپڑے چھت پر پھیلا دیں ۔۔۔۔”چلچلاتی دھوپ میں دوپہر کے دو بجے پھپو چھت پر جانے کو تیار نظر نہیں آ رہی تھی

“میں ۔۔۔میں کیوں جاؤں ۔۔ارے نیلو تیری عقل کیا گھاس کھانے گئ ہے ۔۔۔۔اتنی دھوپ میں ۔۔۔میں جاؤں گی اوپر “

“جی آپ ہی جائیں گی کیونکہ اوپر چھت پر وہ کبوتر باز ہر وقت جو کھڑا رہتا ہے ۔۔۔میں جاؤں گی تو پھر سے اشارے کنارے شروع کر دے گا ۔۔۔۔۔پھر آپ کو لگے گا کہ میرا قصور ہے اس لئے میں نے سوچ لیا ہے کہ آج کے بعد چھت پر کپڑے آپ پھیلانے جائیں گئیں ۔۔۔۔۔”نیلو فر کی بات پر پھپو بیگم حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگیں ۔۔۔۔ دکھتے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر گھور کر نیلوفر کو دیکھا جو مسکرا کے اپنی ایک ابرو کو چڑھاتے ہوئے بالٹی کی طرف نظریں گھما کر اشارتاً کہا کہ جاؤں اپنے بھاری وجود کے ساتھ اور بھتکو اپنا شک ۔۔۔۔پھپو نے اندر کی کھولن نتھنوں کے ذریعے باہر نکالی ۔۔اور بالٹی پکڑ کر لڑکھڑاتے قدموں سے چھت پر چلی گئں۔۔۔نیلو نے ہاتھ جھاڑے جیسے بلا سر سے اتری ہو اور پھپو کی کرسی پر۔ بیٹھ کر ریموڈ پکڑے ٹی وی دیکھنے لگی ۔۔۔۔

*******……..

رات جب زمان صاحب پہنچے تھے شاہزیب سو چکا تھا ایک دن شاہزیب گھر سے باہر رہا تھا ایک دن بعد اپنا بستر نصیب ہوا تھا اس لئے جوڑ جوڑ دکھنے کے باوجود بڑی سکون اور گہری نیند سو رہا تھا ۔۔۔۔۔زمان صاحب کی بیل پر دروازہ عاتقہ بیگم نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کے چہرے پر پھیلی دلکشی اور راحت دیکھ کر زمان صاحب نے سکون کی گہری سانس لی گزرشتہ دن سے انکے چہرے پر پژمردگی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔آنکھون میں آنسوں کے ساتھ ساتھ شکووں کے بھی ڈیرے تھے ۔۔۔ ۔منہ سے کچھ نہیں کہہ رہیں تھیں مگر انداز بہت کچھ بتا رہے تھے کہ۔۔ کیوں ماں کا صبر آزما رہے ہو ۔۔۔۔اس لئے اب آنکھوں کی چمک سے سمجھ گئے کہ برخودار گھر آ چکے ہیں ۔۔۔ماں سے راز و نیاز بھی خاصے طویل کر کے یقینا کھانا بھی ماں کے ہاتھ سے کھا کر اب آرام فرما رہے ہوں گئے ۔۔۔۔دل تو انکا بھی اب چین کی بانسری بجا رہا تھا ۔۔۔۔۔باپ جیسا بھی سخت ہو مگر دل میں اتنا ہی فکرمند بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔سارے بچوں سے زمان صاحب کو پیار تھا لیکن سب میں شاہزیب کی محبت سبقت لے جاتی تھی ۔۔۔۔حالانکہ سب سے ذیادہ تنگ بھی اسی نے کیا تھا ڈانٹ بھی سب سے زیادہ وہی کھاتا تھا مگر رزلٹ بھی سب بچوں میں اسی کا باپ کی شایان شان آتا تھا ۔۔۔۔عجیب ذہن پایا تھا اس نے ۔۔۔وہ کتابی کیڑا نہیں تھا ۔۔۔نا ہی ہر وقت لائبریری میں موٹا چشمہ لگائے کتابوں میں گم رہتا تھا ۔۔۔۔بس کتاب پکڑی اور پڑھنا شروع ۔۔۔پرفیسرز کے لیکچر سنے اور فٹ ہو گئے ذہن میں ۔۔۔۔۔۔۔لفظ با لفظ تو نہیں لیکن بات پوری سمجھ جاتا تھا ۔۔۔۔۔ورنہ جیسے جیسے اس نے شوق پال رکھے تھے اس کے مطابق تووہ فیل کے علاؤہ کچھ نہیں آ سکتا تھا ۔۔۔۔۔مگر خاصا ذہین تھا جیسے دلچسپی سے ٹی وی پر ویلنگ دیکھ کر بلکل ویسے ہی کر گزرتا تھا ایسے ہی پوری دلجمعی سے پڑھنے بیٹھتا تھا تو کچھ کر کے ہی اٹھتا تھا ۔۔۔۔۔۔اس لئے زمان صاحب کا جھکاؤں بھی سارے بچوں میں شاہزیب کی طرف کچھ زیادہ تھا ۔۔۔اس لئے چودہ سال کی عمر میں میڑک میں ٹاپ کرنے کے بعد اس نے پہلی بار موٹر سائیکل کی فرمائش کی تھی ۔۔۔۔اس سے پہلے وہ سائکلنگ کرتا تھا ۔۔۔۔زمان صاحب نے پہلے تو انکار کر دیا شاہزیب کا چہرہ بجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔اس نے دوبارہ زمان صاحب سے ضد نہیں کی تھی نا ہی ان سے دوبارہ تذکرہ کیا لیکن عاتقہ۔ بیگم کا اصرار کرنا اس بات کی گواہی تھا کہ پیچھے شاہزیب کی پر زور فرمائش ہے ۔۔۔۔اس لئے سب کو بنا بتائے ہی زمان صاحب نے اپنی سیونگ میں سے ایک بائیک خرید کر شاہزیب کو چابی پکڑائی

“یہ لو چابی ۔۔۔تمہاری بائیک نیچے کھڑی کے ۔۔۔”شاہزیب کا حیرت سے منہ کھلارہ گیا تھا یک دم چہرے پر اتنی خوشی تھی کہ جیسے خزانہ ہاتھ لگا ہو

“ابو ۔۔۔ابو ۔۔۔آپ نے سچ مچ مجھے بائیک لے کر دی ہے “وہ بے یقینی سے بولا

“ہاں لیکن ایک شرط پر “

“مجھے ہر شرط منظور ہے “وہ عجلت سے بولا صوفے سے بھی کھڑا ہو گیا جلدی تو اس بات کی تھی کہ نیچے جا کر اپنی بائیک دیکھے

“پہلے سن تو لو نامعقول “

“ابو مجھے بنا سنے ساری شرطیں قبول ہیں ۔۔۔۔۔۔”اسکے تو پاوں میں جیسے پتنگے سے لگ گئے تھے ۔۔۔۔فورا سے اٹھ کر بے اختیار زمان صاحب کے گلے لگ گیا ۔۔۔۔

“ابو آئی لو یو ۔۔سو مچ “بس یہی اسکا شکریہ کا انداز تھا اور یہی محبت جتانے کا طریقہ یہ کہہ کر گھر سے نکل کر یہ جا وہ جا ۔۔۔۔۔ وہ محبت کا اظہار بے اختیار ہی کر گزرتا تھا بلکل بے دھڑک انداز میں ۔۔۔۔کہ زمان صاحب اسے دیکھتے ہی رہ جاتے تھے ۔۔۔۔آداب لحاظ مروت تو شاہزیب صاحب کو اسوقت سارے یاد آتے تھے جب انکی غلطی پر زمان صاحب کے ہاتھوں کھچائی ہونا مقصود ہوتی تھی ۔۔۔تب وہ نظریں جھکائے ہاتھ باندھے ۔۔۔۔سر خم کیے چہرے پر مظلومیت معصومیت لئے کھڑا ہوتا کہ دیکھتے ہی انکا غصہ ختم ہو جائے ۔۔۔باپ کی ہر بات پر سر بس اثبات میں ہی ہلتا تھا ۔۔۔۔اس لئے ڈانٹ کا سلسلہ بھی طویل نہیں ہو پاتا تھا بس دس پندرہ منٹ کی جی حضوری سے ہی کام چل جاتا تھا ۔۔۔۔یہ سب تو اسکا لڑکپن اور بچپن تھا اب توواقع بڑا ہو چکا تھا اپنی باپ کے سامنے پہلی بار اپنی بات پر ڈٹ کر کھڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔ نظریں اب جھکی ہوئی۔ تھی۔ مگر ہر بات پر سر نہیں ہلایا تھا ۔۔۔۔۔بلکہ اس بار تو اپنی بات بلا تامل انہیں بتائی تھی کہ وہ کیا ارادے رکھتا ہے اس لڑکی کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔زمان صاحب کے زہن میں بچپن سے اب تک کی کہانی چند منٹوں میں گزری تھی ۔۔۔۔

“کھانا لگاؤں آپکے لئے “دو دن بعد یہ سوال عاتقہ بیگم نے براہ راست شوہر سے کیا تھا ورنہ وہ خفا خفا سی تھیں زیادہ بات نہیں کر رہیں تھیں زمان صاحب سے ۔۔۔شازمہ سے ہی کہہ دیتی تھیں کہ اپنے ابو کو کھانا دیدو ۔۔۔۔زمان صاحب نے غور سے بیوی کو دیکھا جس کے نرم لہجے کا مقصد وہ جان چکے تھے ۔۔کہ بیٹے نے ماں کو آج پھر سے اپنی بات منوانے کے لئے ہتھیار بنا کر بھیجا ہو گا ۔۔۔۔۔ایسادلفریب لہجہ عورت کا ماں بننے کے بعد اولاد کی بے جا خواہش کے لئے شوہر کو منوانے کے لئے ہو ہی جاتا ہے ۔۔۔۔۔

“کھا کر آیا ہوں جیدی بھائی نے کھلا دیا تھا “زمان صاحب کے لہجے میں بیزاری تھی

“اچھا چائے بنا دیتی ہوں میں نے۔ بھی شام۔کو نہیں پی دونوں ساتھ ہی پی لیتے ہیں “لہجے میں پھر سے شیرنی اتری

“رہنے دو وہ بھی پی کر آ رہا ہوں ۔۔۔آ گیا تمہارا لاڈلا۔۔۔۔”زمان صاحب نے عاتقہ بیگم کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا

“دیکھیں زمان اب کچھ مت کہیے گا اسے ۔۔۔”عاتقہ بیگم کا آخری داؤ چلا آنکھوں سے آنسوں چھلکے لہجہ پر نم ہوا ۔۔۔۔۔

“دماغ کچھ درست ہوا ہے موصوف کا کہ نہیں “زمان صاحب اب صوفے پر بیٹھ چکے تھے اپنے جوتے اتارے اور سر صوفے کی پشت پر ٹکا کر آنکھیں بند کر کے اطمینان سے پوچھا

عاتقہ بیگم بھی تب تک۔ برابر میں بیٹھ چکیں تھیں

“ز۔۔۔۔زمان “زبان کی لڑکھڑاہٹ سے سمجھ گئے کہ اب وکیلن صاحبہ بیٹے کے حق میں بولنے کے لئے تیار بیٹھیں ہیں “زمان صاحب نے آنکھیں کھول کر کن آنکھیوں سے عاتقہ بیگم کو دیکھا ان کا حوصلہ کمزور پڑنے لگا تھا زمان صاحب اب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔۔۔سنجیدگی سے گویا ہوئے

“عاتقہ شاہزیب کی وکالت بلکل نہیں سنو گا ۔۔۔۔۔نا ہی کسی قیمت پر اس کی لڑکی کے لئے رضامندی دونگا ۔۔۔۔۔ہاں اس کے علاؤہ کچھ کہنا چاہتی ہو تو کہہ سکتی ہو ۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم کے آنکھوں میں جھلملانے والے آنسوں اب رخسار پر گرنے لگے

“اسے بس وہی چاہیے ۔۔۔۔۔ “وہ بھرائی ہوئی آواز سے بولیں

“نہیں اسے نہیں انہیں شاہزیب چاہیے ۔۔۔۔۔۔اس لڑکی اور اسکے باپ کو ایک ذر خرید غلام چاہیے تمہارے بیٹے کی صورت میں ۔۔۔۔ جو عمر بھر انکی احسان کی جوتی بھی کھائے اور کما کر انکی عیاشیوں کا سامان بھی مہیا کرتا رہے ۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں عاتقہ ۔۔۔۔۔دو ہی تو بیٹے ہیں ہمارے عاصم تو ابھی بہت چھوٹا ہے میرے سارے خواب شاہزیب سے وابسطہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسکی جذباتی ضد کے بدلے اسے نہیں کھو سکتا ۔۔۔۔ “زمان صاحب متانت سے بات کر رہے تھے

“تو آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔۔ایسے وہ رہ لے گا ہمارے ساتھ ۔۔۔۔نہیں زمان آپکی سختی سے بھاگ جائے گا ۔۔۔۔آپ اس کے ساتھ تو کھڑے ہو کر دیکھیں ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے پھر سے سمجھانے کی کوشش کی

“ہر گز بھی نہیں ۔۔۔۔میں نے سوچ لیا ہے ۔۔۔شازمہ کے ساتھ ہی چند مہینوں میں اسکی شادی بھی کر دونگا ۔۔۔۔باقی کی پڑھائی ہوتی رہے گی میرے ایک دو کولیگ ہیں جنہوں نے دبے لفظوں سے مجھ کہا بھی تھا ۔۔۔اور انہیں اس بات پر بھی اعتراض نہیں کہ شاہزیب ابھی جاب لیس ہے ۔۔۔بس ۔میری شرافت کے قائل ہیں وہ لوگ پھر ہمارے ہم پلّہ بھی ۔۔۔۔میں بات رکھوں گا تو انکار نہیں کریں گئے ۔۔۔۔شادی ہم پلّہ میں ٹھیک رہتی ہے عاتقہ ۔۔۔۔۔ وہ لڑکی کبھی یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتی اس لئے شاہزیب کو ہی یہاں سے لے اڑے گی ۔۔۔۔۔سمجھا دوں اسے بھی اچھی طرح ۔۔۔”یہ کہہ کر زمان صاحب اٹھ کر اپنے کمرے کے بجائے شاہزیب کے کمرے میں چلے گئے عاتقہ بیگم تذبذب سی وہیں بیٹھی رہیں۔۔۔۔شوہر اور بیٹے کے بیچ میں پھنس کر رہ گئیں تھیں دونوں کی دلیلیں اپنی اپنی جگہ ٹھیک تھیں ۔۔۔۔۔

زمان صاحب۔ سیدھا شاہزیب کی جانب ہی بڑھے تھے اس دن تو مارتے ہوئے احساس نہیں ہوا تھا کہ کہاں کہاں مار چکے ہیں لیکن غصہ ختم ہونے کہ بعد خفت نے آن گھیرا تھا ۔۔اب بیٹے کے چہرے پر چوٹیں دیکھ کر دل میں بڑے زور کی ٹھیس اٹھی تھی ۔۔۔۔کس قدر جہالت کا ۔ظاہرہ کر۔ چکے تھے۔اسکے ساتھ۔۔۔۔۔فوراسے دل کی تڑپ نے قدموں کی رفتار کو بڑھایا تھا ۔۔۔بے چینی سے اس کے برابر بیٹھ گئے سر پر چوٹیں چہرے پر نیل کے نشانات ہونٹوں کے دونوں کنارے زخمی ۔۔۔۔ خود پر ملامت کرتے ہوئے اپنے آپ پر غصہ بھی آیا ۔۔۔۔اتنا کیسے مار سکتے تھے چہرے کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں چوٹ کے نشان نا تھے ۔۔۔۔۔ہزار ضبط کے باوجود آنسوں ٹوٹ کر پلکوں کی بارڈ سے نکل کر رخسار پر گرے تھے ۔۔۔ضبط کا بندھ ابھی بھی باندھ رہے تھے اسی وجہ سے ہونٹوں کی کپکپاہٹ کو ہونٹ بینچ کر روکنا چاہا ۔۔۔۔لزرتے ہاتھ سے شاہزیب کا پورا چہرا چھوا ایک ایک زخم پر مرھم کی طرح آہستگی سے ہاتھ پھراجیسے اس تڑپ اور محبت شفقت بھرے لمس سے سارے زخم غائب ہو جائیں گئے نشانات بھی مٹ جائیں گئے درد کا اثر بھی جاتا رہے گا ۔۔۔۔مگر ایسا کہاں ممکن تھا پیار سے اسکا ماتھا چوما سر پر ہاتھ پھیرا وہ گہری نیند میں ذرا سا منہ کھولے سو رہا تھا ۔۔۔۔باپ کا لمس پا کر ذرا ساکسمسایا تو زمان صاحب اسکی نیند کی خرابی کی وجہ سے فوراسے پیچھے ہٹ گئے اگلے لمحے اپنے ہاتھوں کی پشت سے یوں آنسوں صاف کیے جیسے شاہزیب اٹھ کر انکی محبت کی یہ چوری پکڑ لے گا ۔۔۔مگر وہ اب بھی گہری نیند میں تھا ۔۔۔۔

“کیسے تمہیں چھوڑ دوں شاہزیب ۔۔۔۔۔میری ساری قوت اور طاقت تو تم ہی ہو میں جو اس عمر میں بھی سینہ تان کر چلتا ہوں ۔۔۔وہ سب تمہاری وجہ سے ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہی کہتے ہیں لوگ ۔۔۔بیٹا باپ کا بازو ہوتا ہے ۔۔۔۔لیکن تم تو میرے جسم کی وہ مضبوط ہڈی ہو جس پر میں سہارے لئے کھڑا ہوں ۔۔۔۔ایک دن تمہارے بغیر میں نے کیسے گزارا ہے یہ کوئی میرے دل سے پوچھے ۔۔۔اس لئے۔تمہاری جذباتی سی محبت پر تمہیں خود سے دور نہیں کر سکتا میری سختی آج تمہیں غلط لگے مگر کل تمہارے کام آئے گی ۔۔۔تم یاد کیا کروں گئے کہ تمہارے باپ کا ہر فیصلہ تمہارے لئے ٹھیک تھا گہری سانس کے ساتھ ایک معصوم ارادہ کیا اور ۔۔۔۔۔زمان صاحب اٹھ کراپنے کمرے میں چلے گئے

******…….

“کیا سمجھتا ہے اپنے آپ کو مجھ سے چند انچ اونچا دیکھنے لگا ہے تو بڑا ہو گیا ہے مجھ سے ۔۔۔۔ذرا شرم نہیں آئی مجھے یوں دھمکاتے ہوئے ۔۔۔۔”شازمہ ساتھ ساتھ کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی ساتھ ساتھ شاہزیب کو کوس رہی تھی نمی بیڈ پر بیٹھی بہن کو جلے پاوں کی بلی بنی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“شازی آپی آپ کوبھی نہیں جانا چاہیے تھا اس لڑکی کے گھر “نمی نے خفگی سے کہا اسوقت تو اسے بھائی کی فکر ستا رہی تھی پھر یہ بھی سچ تھا کہ نمیرہ کو شاہزیب سے محبت ذیادہ تھی ۔۔شازمہ غصے سے جھلا کر بولی

“نمی تم چپ رہو جب پوری بات کا پتہ نا ہو تو بک بک مت کیا کروں میرے ساتھ ۔۔۔اس نیناں کی بچی کو تو میں۔ چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ابھی یہ تک نہیں پتہ کہ شاہو کی دلہن بنے گی کہ نہیں ۔۔۔لیکن دیکھوں تو ۔۔۔کیسی آگ لگائی ہے اس لڑکی نے ۔۔۔عمر میں نمیرہ وہ تمہارے جتنی ہی ہو گی ۔۔۔مگر تمہاری طرح للو شاہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔تم سے ڈھنگ کا جواب نہیں بن پاتا اور اسے دیکھوں کیسے ۔میرے خلاف زہر بھرا ہے شاہو کے دل میں “شازمہ کا بس نہیں چل رہا کہ نیناں کے ساتھ کیا نا کر گزرے ۔۔۔۔۔۔

“شازی آپی مجھے ڈر لگ رہا ہے “نمیرہ کو شاہزیب کاغصہ یاد آنے لگا تو آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے شازمہ نے بھی اپنے غصے پر بندھ باندھا اور نمیرہ کے پاس جا کر بیٹھ گئ

“کس بات سے ڈر لگ رہا ہے “

“شاہو بھائی کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس لڑکی سے ملکر آئیے ہیں ۔۔۔۔ ابو کی مار سے اتنے زخم تو نہیں آئے تھے جتنے آج وہ زخمی تھے ۔۔۔کیا پتہ ۔۔۔اس لڑکی کی وجہ سے۔۔۔۔۔”نمی کا خدشہ اپنی جگہ درست تھا

“یقینا یہ مار اس لڑکی کے باپ نے ہی پڑوائی ہو گئ ۔۔۔نمی وہ شخص مجھ سے صاف کہہ چکا ہے کہ اگر شاہو کو نہیں روکا تو کچھ۔ بھی کر دے گا اسکے ساتھ “شازی شاہزیب کی بدتمیزی بھول بھال بختیار صاف کے خیالات بتانے لگی نمی کا رونا اب سسکیوں میں بدل گیا

“شازی آپی شاہو بھائی نے اگر نیناں کی ضد نہیں چھوڑی تو کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔”وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے کافی خوفزدگی سے پوچھ رہی تھی شازمہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔۔

“کچھ نہیں ہو گا آ جائے گا باز ۔۔۔ابو کا پتہ ہی ہے تمہیں ۔۔۔۔ایسی نوبت نہیں آنے دیں گئے ۔۔۔پہلے تو میں چپ تھی لیکن اب صبح ہی ابو سے بات کروں گی ۔۔۔۔۔”شازمہ کو بھی نمیرہ والی فکر ستانے لگی تھی ۔۔۔۔۔بات اتنی بھی معمولی نوعیت کی نہیں رہی تھی کہ سنبھل جاتی۔۔۔۔۔بہت آگے تک بڑھ چکی تھی

*******……..

بختیار صاحب کافی دیر وہیں لان میں کھڑے رہے حیدر بھی وہیں ہاتھ باندھے سنجیدگی سے کھڑا رہا ختیار صاحب کے کا ذہن صرف شاہزیب کے بارے میں سوچ رہا تھا جو ابھی ابھی انکے سارے طبق پوری آب وتاب سے روشن کر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔وہ لڑکا۔۔۔۔ اس کا ہر عمل اسکی باتیں ۔۔۔نیناں کا اسکے لئے تڑپنا رونا ۔۔۔۔۔سب کچھ معمولی نوعیت کا توواقع نہیں تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب نیناں کے لئے کیا تھا ۔۔۔یہ بات تووہ انہیں اچھی طرح سے عملی طور پر سمجھا گیا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب کے گمان سے بڑھ وہ لڑکا نڈر اور بے خوف تھا ۔۔۔۔نا اس پر مار اثر انداز ہوئی تھی نا ہی دھمکیاں ۔۔۔۔ وہ اب بھی دوبارہ آنے کا کہہ کر گیا تھا تو مطلب آئے گا بھی ضرور ۔۔۔۔ اندر ہی اندر اس بات پر وہ حد سے زیادہ پریشان تھے

*******………

نیناں اپنے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی زارو قطار رو رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کی حالت کا زمہ دار خود کو سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔ اسکی” لو ایٹ فرسٹ سائٹ ” نے کیا حالت کردی تھی۔ بیچارے شاہزیب کی ۔۔۔۔۔لیکن اب جس مقام پر وہ پہنچ چکا تھا نیناں دل پر جبر کر کے راستہ الگ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔اس بات کے نتائج اور بھی خطرناک تھے ۔۔۔۔۔

*****…….

کمرے میں آکر بھی بختیار صاحب کی آنکھوں میں نا نیند تھی نا دل پر سکون ۔۔۔۔بیڈ پر لیٹ کر لمپ آف کیا ۔۔۔۔زبردستی آنکھیں بند کی تو ذہن جاگ گیا

“پوپس دیکھیں اس مانو بلی نے میرے ہاتھ پر ہرٹ کر دیا ۔۔۔دیکھیں نا پوپس میرے خون نکل رہا ہے ۔۔۔درد بھی ہو رہا ہے

“شی از آ ڈرٹی کیٹ “نیناں فورتھ کلاس میں تھی جب اس نے اپنی فرمائش پر ایک اٹلین بلی مانگی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب نے ایک ہفتے کے اندر اندر بلی اسے سامنے منگوا کر رکھ دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔نیناں کی کوئی فرمائش کہاں ٹالتے تھے وہ ۔۔۔۔

وہ بلی ہی اب نیناں کی ہر وقت منظور نظر تھی ۔۔۔۔۔ نیناں کئ گھنٹے اسے گود میں بیٹھائے اس کے ریشم جیسے لمبے سفید بال جو اسکے پورے جسم کو اور بھی حسین بنا رہے تھے انپر ہاتھ پھیرتی رہتی اور باتیں کرتی رہتی تھی ۔۔۔۔

حالانکہ وہ پالتوں بلی تھی مگر نا جانے کب اور کیسے نیناں پر چھپٹ پڑی اور اس کا ہاتھ زخمی کر بیٹھی بختیار صاحب اس وقت اپنی اسڈی میں آفس کی فائلز میں سر کھپا رہے تھے جب نیناں روتے ہوئے اپنی مانو کی شکایت لگانے کی غلطی کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب بیٹی کی آنکھوں میں آنسوں اور ہاتھ پر زخم اور خون دیکھ کر تڑپ ہی تو گئے تھے ۔۔۔سب کچھ وہیں چھوڑ چھاڑ نیناں کی طرف لپکے تھے وہ دبی دبی سسکیوں سے رو رہی تھی جینز کی پینٹ اور شرٹ پہنے بازو کے کف فولڈ کیے بوائے کٹ ہیر اسٹائل بلکل بختیار صاحب کی طرح کا بنائے پہلی نظر وہ انہیں اپنی ہی کاربن کاپی لگتی تھی ۔۔۔نین نقش اس نے باپ کے ہی چرائے تھے مگر رنگت ماں جیسی سرخ سفید تھی ۔۔۔۔۔۔نیناں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے رومال سے خون صاف کیا پھر غصے سے باہر لاونج کی طرف بڑھے بلی اب صوفے پر بڑے مزے سے براجمان تھی ۔۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے بختیار صاحب کے غصے کے عتاب کا نشانہ بن چکی تھی انہوں نے اسے اٹھا کر زور سے زمین پر پٹخا تھا نیناں کا سانس وہی رک گیا ۔۔۔اتنا سخت ردعمل اس کے گمان میں نہیں تھا وہ بلی بلبلا اٹھی تھی سر فرش پر لگتے ہی کان کے قریب اسکے خون بہنے لگا

“رحمت بی بی ۔۔۔۔رحمت بی بی “بختیار صاحب اب پرانی ملازمہ پر چلانے لگے

رحمت بی بی بھاگتے ہوئے کچن سے باہر ہواس باختہ سی ہو کر نکلیں۔۔۔وہ شایدلنچ بنوانے میں مصروف تھیں

نیناں نے بھاگ کر بلی کو پکڑنا چاہا مگر بختیار صاحب نے نیناں کا بازو نرمی سے پکڑ کر اسے روک دیا رحمت بی بی زمین پر تڑپتی بلو دیکھ بدحواس سی ہوگئیں بختیار صاحب کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا

“بےبی کےچوٹ کیسے لگ گئ کہاں دفع ہو گئے تھے سب کے سب ملازم ۔۔۔۔۔اندھے ہو کر بیٹھتے ہیں آپ سب لوگ یہاں ۔۔۔۔۔کس بات کی تنخواہ اٹھاتے ہیں مجھ سے میری بچی کے خون بہہ رہا ہے ہاتھ سے ۔۔۔۔”بختیار صاحب کی گرجدار آواز پر گھر میں موجود سب ملازمین بھاگتے ہوئے پہنچے تھے ۔۔۔۔۔

“پوپس میری مانو ۔۔۔۔۔”نیناں نے منمناتے ہوئے التجا کی مگر بختیار صاحب۔ سن ہی کب رہے تھے ۔۔۔۔۔

“اٹھا کر پھینکو باہر اس بلی کو ۔۔۔۔۔اور ڈرائیور سے بولو ایک سکینڈ میں گاڑی نکالے ۔۔۔۔نیناں کو ڈاکٹر پر لے جانا ہے “

“پوپس پلیز مانو کو بھی ساتھ لے چلیں۔۔۔۔۔اسے چوٹ لگی ہے ۔۔۔۔۔”لیکن بختیار صاحب نے ایک نہیں سنی نیناں کو بازو سے پکڑے ڈاکٹر پر لے گئے ۔۔۔ذیادہ زخم نہیں ہوا تھا بس ہلکی سی خراش ہی تھی مگر دوبارہ نیناں کو وہ بلی نظر تک نہیں آئی کہاں گئ اس کا کیا حال ہوا اسے کچھ پتہ نہیں چل سکا اس کے بعد تو وہ ایسا خوفزدہ ہوئی کہ ایسے شوق کو ہی خیر آباد کہہ دیا ۔۔۔۔تین دن تک بختیار صاحب نے اپنی ساری میٹنگ کینسل کر کے نیناں کے ساتھ ہی گزارے تھے کیونکہ مانو کے جانے سے وہ بیمار پڑ گئ تھی ۔۔۔پھر اسے زخمی حالت میں تڑپتے دیکھ کر خوفزدہ ہو گئ تھی ۔۔سوئے ہوئے بھی چیخنے لگتی تھی ۔۔۔پہلی دو راتیں تو بختیار صاحب۔ نے نیناں کے کمرے میں ہی جاگ کر گزاریں تھیں ۔۔۔وہ نیند میں بھی اپنی بلی کو پکار رہی تھی۔۔۔۔وہ نیناں کا وہ ہاتھ پکڑے بیٹھے رہے جس پر خراش آئی تھی کئ بار آنسوں بہا چکے تھے سفید دودھیاں ہاتھ کر سرخ کھرونچ اور بھی واضع ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ناشتہ کھانا دوا ہر چیز وہ نیناں کو اپنے ہاتھ سے دے رہے تھے ۔۔۔۔۔کسی سگی ماں کی طرح سنبھال رہے تھے ۔۔۔۔اسی محبت کا اثر تھا کہ نیناں جلد ہی اپنی بلی کو بھول بھال کر بہل گئ۔۔۔۔۔

کمرے کی ملجگی سی روشنی میں بند آنکھوں کے سامنے نیناں کا زخمی ہاتھ نظر آیا پھر ایک زور دار تھپڑ کی گونج سنائی دی نیناں کا زمیں پر لڑکھڑا کر گرنا جب نظروں سے گزرا تو یکایک اٹھ بیٹھے ۔۔۔۔۔اسکے رخسار ہر اپنی انگلیوں کا چھاپ کا احساس اب ہوا تھا ۔۔۔۔غصے میں کیسے یہ بھول گئے کہ تھپڑ مار کسے گئے تھے نیناں کو ۔۔۔۔۔اپنی اس لاڈلی بیٹی کو جس کی آنکھوں میں کبھی آنسوں تک نہیں دیکھ پاتے تھے ۔۔۔۔۔اپنا ہاتھ دیکھنے لگے جس سے اسے مارا تھا ۔۔۔۔۔خود پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔۔نیناں کا رونا تڑپنا یاد آنے لگا ۔۔۔دل پھر سے بیٹی کی محبت میں تڑپا ۔۔۔۔انکھوں سے آنسوں بھی ٹپکے مگر پھر خیال آیا جیسے وہ اپنی مانو کو چند دن میں بھول گئ تھی ۔۔۔۔شاہزیب کو بھی بھول جائے گی ایسے وقتی گھاو بھر ہی جاتے ہیں ۔۔۔جیسےمیری توجہ اور محبت نےنیناں کو اسکی مانو بھلا دی شاہزیب کو بھی بھول جائے گی ۔۔۔انہیں نیناں کی اتنی فکر نہیں تھی جتنی اس وقت شاہزیب کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی تھی

******…….

صبح نو بجے کے قریب گھر کا دروازہ دھڑدھڑانے کی آواز پر زمان صاحب سمیت عاتقہ بیگم شازمہ نمیرہ کی بھں آنکھ کھل گئ۔۔۔۔لیکن شاہزیب بے خبر سویا رہا تھا ۔۔۔۔

سب ہی اپنے کمروں سے نکل کر چھوٹے لاونج میں آ گئے تھے ۔۔۔۔زمان صاحب نے چشمہ پہنا اور دروازہ کھولا سامنے پولیس کے چار اہل کار دیکھ کر زمان صاحب کی ادھ کھلی۔ آنکھیں پوری طرح سے کھل گئی

“جی فرمائیے “زمان صاحب تذبذب ہوئے

“شاہزیب کا گھر یہی ہے “ایک کڑیل قسم نوجوان پولیس آفسر نے مہدبانہ انداز سے پوچھا

زمان صاحب کا دل کسی نے مٹھی میں لیا تھا