One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 29
Rate this Novel
One Wheeling Episode 29
One Wheeling by Umme Hani
عاتقہ بیگم کا رو رو کر برا حال ہو چکا تھا ۔۔پریشان تو زمان صاحب بھی بہت تھے ۔۔۔۔نمیرہ اور شازمہ بھی پریشان تھی۔ لیکن ماں کو تسلی دے رہیں تھیں ۔۔۔..
“امی کیوں اتنا رورہیں چپ ہو جائیں “شازمہ عاتقہ بیگم کے پاس بیٹھ گئ
“کیسے چپ ہو جاؤں ۔۔۔میرا بچہ بنا کسی جرم کے جیل میں بند ہے ۔۔۔۔ہائے میرے دل سے ہول اٹھ رہے ہیں زمان کچھ کرتے کیوں نہیں آپ “عاتقہ بیگم سامنے صوفے پر گردن جھکائے بیٹھے زمان صاحب سے مخاطب ہوئیں
“کیا کرو میں ۔۔۔۔بتاوں مجھے صبح کا دو بار جا چکا ہوں پولیس اسٹیشن مگر وہ لوگ مجھے ملنے تک نہیں دے رہے اس سے ۔پتہ نہیں کیا کیا ہے اس نے کچھ بھی تو معلوم نہیں ہو پا رہا ۔۔۔۔۔۔”زمان صاحب خود بے حد پریشان تھے ۔۔۔۔
“ابو یہ سب اس نیناں کی وجہ سے ہوا ہے اس کے باپ نے کھلی دھمکی دی تھی کہ اگر شاہزیب باز نہیں آیا تو وہ شاہزیب کو نہیں چھوڑیں گئے “شازمہ کی بات سن کر زمان صاحب نے زریک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔ یہ بات کب ہوئی ہے ۔۔۔اور تم مجھے اب بتا رہی ہو ۔۔۔۔کب ہوا یہ سب ۔۔۔۔۔”زمان صاحب کواپنی لاعلمی پر طیش آنے لگا اب ان سے چھپ چھپا کر بھی بہت کچھ گھر میں ہونے لگا تھا شازمہ روانی میں کہہ تو گئ مگر پھر تذبذب سی ہو کر چپ ہو گی
“شازی ۔۔۔۔کیا بات ہوئی ہے بتاؤں مجھے میں تو یہ حیران پریشان تھا کہ نا جانے اپنی بائیک سے کسی کو نقصان نا پہنچا بیٹھا ہو لیکن یہاں تو قصہ ہی اور ہے۔۔۔۔ “شازمہ نے جھجھکتے ہوئے ساری بات زمان صاحب کے گوش گزار کر دی زمان صاحب کی پریشانی میں مزید اضافہ ہونے لگا تھا وہ تو سمجھے تھے کہ شاہزیب کو وہ لڑکی اور اس کا باپ ہاتھوں میں ڈالنے کے چکر میں ہیں ۔۔۔مگر یہاں تو بات ہی بہت سنگین حد تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔۔
شام ڈھلنے کو تھی جب زمان صاحب پھر سے پولیس اسٹیشن پہنچ گئے
زمان صاحب کو کانسٹبل آفیسر کے کمرے میں جانے سے روک رہا تھا
“دیکھوں بڑے میاں صاحب کی اجازت نہیں کہ کوئی اس وقت ان سے ملے “
“میرا بیٹا بنا کسی ارسٹ۔ وارنٹ کے صبح سے جیل میں بند ہے۔۔۔۔کہاں ہے وہ میں اپنے بیٹے سے ملے بنا کہیں نہیں جاؤں گا “۔۔۔۔۔ زمان صاحب آفیسر وارث کے کمرے میں زبردستی داخل ہوئے تھے سامنے نظریں بختیار صاحب پر پڑی دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا ۔۔۔ ۔بختیار صاحب زمان صاحب کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے تھے سب غائبانہ سا تعارف تھا کبھی انہیں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا کمرے میں سامنے رکھے ٹیبل پر چائے کا خالی کپ اور کچھ مختلف لوازمات موجود تھے جو بختیار صاحب کے لئے خاص طور پر منگوائے گئے تھے مگر انہوں نے چائے ہی پی تھی بختیار صاحب اندر آنے والے اپنی ہی ہم عمر شخص کو دیکھ رہے تھے جو بے حد پریشانی کے عالم میں دیکھائی دے رہا تھا اور یہ کون سی انوکھی بات تھی پولیس اسٹیشن میں جو بھی آتا ہے پریشانی میں مبتلہ ہی ہوتا ہے زمان صاحب بھی آفیسر سے بات کرنے آئے تھے ۔۔۔۔۔مگر آفیسر اپنی سیٹ پر موجود نہیں تھا بس ایک سوٹیٹ بوٹیٹ صاحب ٹانگ ہے ٹانگ رکھے کرسی پر پیشانی پر بل ڈالے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور کانسٹبل تیزی سے اندر داخل ہوا اور بختیار صاحب سے مخاطب ہوا
” سر آپکوسر بلا رہے ہیں آپکا کا کام ہو چکا ہے “
بختیار صاحب کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے اتنی جلدی انہیں یہ نوید سننے کو ملے گی وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔پھر خیال آیا کہ پولیس کا ڈنڈا بڑے بڑوں سے بات منوا لیتا ہے پھر وہ چھٹانک بھر کا لڑکا چیز ہی کیا تھا وہ خوش تھے ۔۔۔۔بڑے متکبرانہ انداز سے اٹھے گردن اکڑا کر اپنا کوٹ ٹھیک کیا اور پولیس کانسٹبل کے پیچھے چل دیے ۔۔۔۔۔زمان صاحب انہیں جاتے دیکھ رہے تھے کہ کانسٹبل کی بات پر چونکے
“بڑے میاں باہر بینچ پر بیٹھ کر صاحب کا انتظار کرو “دوسرے کانسٹبل نے زمان صاحب سے کہا جو انہیں کمرے میں آنے سے روک رہا تھا
“پہلے اپنے آفیسر کو بلاؤ ۔۔۔مجھے یہ جاننا کہ کس نے ایف آئی آر کٹوائی ہے میرے بیٹے کے خلاف اور کس جرم میں “زمان صاحب تیکھے لہجے سے بولے
“یہ جو صاحب ابھی یہاں بیٹھے تھے انہوں نے کٹوائی ہے ۔۔۔۔۔ ابھی بھی تمہارے بیٹے سے ملنے گئے ہیں ۔۔۔۔ دیکھوں بڑے میاں ہم بھی تمہاری طرح ملازم پیشہ انسان ہیں ۔۔۔۔معاملہ کیا ہے یہ تو ہمہیں بھی نہیں پتہ مگر تمہارے لڑکے کو پکڑنے کے آڈر بہت اوپر سے آئیں ہیں ہمارے صاحب کو ۔۔۔۔ ابھی وارث صاحب نے تمہارے ہی لڑکے کا ریمانڈ لیا ہے ۔۔۔۔۔” کانسٹبل کی بات پر زمان صاحب کے ہوش اڑے تھے
“کیا شاہزیب کا “زمان صاحب کا دل دہلا تھا ۔۔۔۔انہیں لگا کسی نے اندر سے روح کھنچی ہو
“مارا ہے اسے ۔۔۔۔میرے بچے کو مارا ہے۔۔۔ مگر کیوں ۔۔۔کس جرم میں ۔۔۔۔مجھے ابھی اسکے پاس جانا ہے “زمان صاحب تڑپ ہی تو گئے تھے بن پانی کی مچھلی کی طرح اندر سے دل تڑپ کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔
“ابھی کسی کو اجازت نہیں ہے ملنے کی ۔۔۔۔۔ مگر بڑے میاں اگر تم اس سیٹھ کی منت کر لو تو شاید تمہارے بیٹے کی خلاصی ہو جائے ۔۔۔۔سنا ہے بڑا پیسے والا ہے یہ سیٹھ ۔۔۔نا جانے کیا بگاڑا ہے تیرے لڑکے نے اس کا جو اوپر سے سفارش ہوئی ہے اسکی ۔۔۔۔بڑے میاں دعا کرو معاملہ نمٹ جائے ورنہ جہاں سے تیرے لڑکے کی سفارش آئی ہے ۔۔۔۔وہ مر بھی گیا تو اس کی لاش بھی نہیں ملے گئ تمہیں ۔۔۔۔”کانسٹبل نے زمان صاحب کے رہے سہے اوسان بھی گم کر دئے تھے زمان صاحب کے آنسوں بہنے لگے مرے مرے قدم بھی لڑکھڑا سے گئے کانسٹبل نے سہارہ دے کر انہیں باہربینچ پر بیٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔
******……..
نیناں نیم بے ہوشی میں بھی شاہزیب کو پکار رہی تھی تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر نرس تو جا چکیں تھیں مگر حیدر وہیں کرسی پر اسکے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔۔نیناں غنودگی میں تھی مگر بے چین تھی ۔۔۔۔۔ چہرے پر اضطراب تھا بار بار اپنا ڈرپ لگا ہاتھ ہلانے لگتی ۔۔۔بے چینی سے شاہزیب کو پکارنے لگتی
” شاہزیب جاؤں یہاں چلے جاؤں یہ لوگ تمہیں نہیں چھوڑیں گئے ۔۔۔۔خدا کے لئے چلے جاؤں ۔۔۔۔۔”
حیدر اسکے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔سفید رنگت اس وقت پیلی پڑ چکی تھی متورم آنکھیں ۔۔۔۔بے رونق چہرہ ۔۔۔۔ کچھ بھی تو پہلے جیسا نہیں تھا نیناں کے چہرے پر ۔۔۔۔۔ “
“شاہزیب تم ٹھیک کہتے تھے کوئی نہیں سمجھے ہماری محبت کو چلو نا دور لے چلو مجھے یہاں سے ۔۔۔۔بہت دور ۔۔۔۔۔”نیناں کی بڑبڑاہٹ سے حیدر کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔
نیناں کے لئے سب کچھ شاہزیب تھا وہ کچھ نہیں تھا کہیں نہیں تھا ۔۔۔۔ہوش میں غنودگی میں جنون میں سب میں وہ اسی کو پکارتی تھی ۔۔۔۔یہاں تک کے اپنے باپ کے سامنے بھی چپ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ پھر سمندر پر بھی صرف اسکی بائیک کی آواز سن کر شاہو نام کے نعرے سن کر کیسے اندھا دھن بھاگی تھی اسکی طرف کب ہوش تھا اسے حیدر کہاں ہے ۔۔۔۔۔شاہزیب کے زخموں پر وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی جب بختیار صاحب شاہزیب کو مار رہے تھے ۔۔۔۔حیدر کو ترس آنے لگا تھا اس پر اس لئے اسوقت بھی اپنے ہاتھ گرفت ڈھیلی کر دی تھی اس لئے نیناں ایک پل میں ہاتھ چھڑوا کے شاہزیب کے سامنے ڈھال بنی تھی ایک لمحہ ضائع کیے بنا ریوالور اپنی کنپٹی پر رکھی لی تھی ۔۔۔۔وہ کتنا اہم تھا نیناں کے لئے یہ بات ڈھکی چھپی تو نہیں تھی کسی سے ۔۔۔۔۔حیدر کو اپنا آپ بے معنی سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ نیناں کی زندگی میں کہیں بھی تو نہیں تھا ۔۔۔۔۔پھر کیا فائدہ تھا ایسے تعلق کا جو وہ جوڑنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔حیدر نے لمبی گہری سانس بھری ۔۔۔۔۔پھر اپنی سوچ کا نظریہ بدلہ
“کم عمر سی تو ہے یہ ۔۔۔۔اپنا اچھا برا کہاں سمجھ سکتی ہے ایسا جذباتی فیصلہ بعد میں پچھتاوں کے سوا کچھ نہیں دیتا ۔۔۔۔مجھے یہ سب ایک کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی لینا چاہیے ۔۔۔۔یہاں شاہزیب ہے اس لئے نین کا ریایکشن اتنا شدید ہے ۔۔یو کے میں میرے سوا کوئی نہیں ہو گا تو خود ہی سنبھل جائے گی “حیدر نے حقیقت سے آنکھیں پھیریں ۔۔۔۔۔
*******………..
اس کبوتر باز لڑکا کی آنکھوں سے خباثت ٹپک رہی تھی ۔۔۔۔نیلو کا ڈوپٹہ اس نے کھنچنے کی کوشش کی مگر یک دم ہی نیلوفر نے ڈوپٹہ پکڑ کر اس لڑکے کی کوشش کو نا کام بنایا اسے دھکا دے کر کمرے کے دروازے پے پہنچ گئ ۔۔۔۔۔ دروزی کھٹکھٹانے لگی
“پھپو ۔۔۔پھپو دروازہ کھولو ۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اندر سے کمرے کی چٹکنی کھولتی وہ لڑکا اسے اپنی جانب کھنچنے لگا
“تیری پھپو آج تیری کوئی مدد نہیں کرے گی ارے اسی نے تو بلایا ہے مجھے ۔۔۔۔تا کے تجھے ہمیشہ کے لئے اپنی رانی بنا سکو ۔۔۔۔۔”نیلو کو دونوں بازوں سے پکڑ کر وہ کمینگی سے ہنسی ہنستے ہوئے اسکے ہوش اڑ رہا تھا
“چھوڑو مجھے ورنہ میں شود مچا دونگی ۔۔۔۔”نیلو نے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرنا چاہا
“تب بھی تمہاری ہی بدنامی ہے ۔۔میری رانی ۔۔۔”نیلو نے اپنے ناخنوں سے اس لڑکے کا چہرہ نوچ کے رکھ دیا ساتھ ہی ساتھ زور زور سے چلانے لگی ۔۔۔شام کا وقت تھا باسم آفس سے لوٹا ہی تھا اور نیلو کے والد بھی اسی وقت پہنچے تھے اور اکثر شام ہی واپس لوٹتے تھے ۔۔۔۔۔نیلو کے شور شرابے پر نیلو کے والد نے دروازہ زور سے بجایا باسم اپنے گیٹ کے پاس ہی کھڑا تھا جب نیلو کے چلانے آوازیں سنی وہ بھی وہیں بائیک روک کر نیلو کے والد کے پاس پہنچ گیا۔۔۔موقع ہی کچھ ایسا تھا کچھ ہی دیر میں پھپو نے کمرے کے دروازے کی کنڈی کھولی اور نیچے کا دروازہ کھولنے کے لئے بھاگی ۔۔۔۔
“دروازہ کھولتے ہوئے ٹسوے بہانے لگی
“ارے بھیا نیلو نے تو ہمہیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔دیکھوں آکر اپنی چہتی کو نا جانے کس انجان کو ساتھ لئے کمرے میں بند ہے میں دروازہ بجا بجا کر تھک گئ ہوں مگر کھول ہی نہیں رہی “پھپو کاڈرسمہ شروع ہو چکا تھا
“کیا بک رہی ہو شگفتہ “نیلوفر کے والد تیزی سے زینہ چڑھے پھپو کے مگر مچھ کے آنسوں سے باسم بھی طرح واقف تھا لیکن جو خبر وہ سنا رہیں تھی۔ وہ ناقابل فہم تھی بے اختیار ہی وہ بھی زینہ چڑھ کر اس کمرے کے پاس پہنچ گیا جہاں سے چلانے اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آرہی۔ تھیں ۔۔۔۔پھپو بھی ہانپتی ہوئی اوپر پہنچ گئ ۔۔۔۔آس پاس گھروں کے لوگ بھی آواز سن کر باہر گلی میں جمع ہونے لگے
“نیلو دروازہ کھولو ۔۔۔۔”نیلو کے والد نے زور زور سے دروازہ بجایا
مگر وہ چلا رہی تھی دروازہ نہیں کھول رہی تھی ۔۔۔
“ہٹیں آپ پیچھے میں کھولتا ہوں ۔۔۔”باسم کی جان پر بنی ہوئی تھی اس نے نیلو کے والد کو پیچھے کیا اور دروازے کو روز سے دھکے دینے لگا لکڑی کا دوپٹ کا دروازہ تیسرے ہی زور در جھٹکے سے کھل گیا تھا ۔۔۔۔۔ سامنے وہ لڑکا نیلوفر کو پکڑے ہوئے تھا ۔۔۔۔دروزہ کھلنے پر یکایک سے نیلو فر کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔نیلو کی قمیض بازوں سے پھٹ چکی تھی ناخنوں کے کھرونچ کے نشانات بازو اور گردن پر واضع تھے بنا ڈوپٹے کے وہ بے تحاشہ خوفزدہ سی روتی ہوئی اپنے بابا کے سینے سے لگ گئ ۔۔۔۔ باسم کا خون کھول کر رہ گیا تھا اس نے نا آؤں دیکھا نا تاؤ اس لڑکے کو مارنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
“ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی “باسم نے اسکے منہ پر مکا ماراوہ پرے جا کر گرا تھا ۔۔۔۔۔
“ارے جھوٹی ہے یہ لڑکی ۔۔۔۔۔اس نے خود مجھے بلایا تھا کمرے میں ۔۔۔۔۔جب اسکی پھپو کو شک ہو گیا کہ میں اسکے ساتھ کمرے میں ہوں تو یہ چلانے لگی ۔۔۔۔میں نے باہر نکلنا چاہا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر مجھے روکنے لگی ۔۔۔تا کہ خود معصوم بن جائے ۔۔۔۔”اس لڑکے کی کہانی سن کر نیلو فر نے کینہ توز نظروں سے اسے دیکھا
“بابا یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔میں بھلا ایسا کیوں کرونگی ۔۔۔۔”
باسم نے اس لڑکے کا گریبان پکڑا اور کئ طمانچے اس کے منہ پر رسید کیے
“کیا بک رہے ہو تم شرم نہیں آتی کسی باکردار لڑکی کے بارے میں بکواس کرتے ہوئے ۔۔۔۔”
“چھوڑو مجھے یہ کتنی پارسا ہے ۔۔۔سب جانتے ہیں پچھلے ایک مہنے سے یہ مجھے چھت پر مل رہی ہے ۔۔یہ دیکھوں خط جو اس نے لکھ کر مجھے اپنے کمرے میں بلایا ہے۔۔۔اسکی پھپو نے بھی کئ بار ہمہیں باتیں کرتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔پوچھو اس کی پھپو سے “وہ لڑکا پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا جیب میں سے ایک خط نکال کر باسم کے سامنے بڑھنے لگا ۔۔۔۔پھپو بھی کھسیا کر نظریں چرائے اپنے بھائی سے کہنے لگیں
“خدا جھوٹ نا بلوائے ۔۔دیکھا تو میں نے کئ بار ہے نیلو کو اس لڑکے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے ہوئے مگر ۔۔۔۔۔۔میری سگی بھتجی ہے میں پردو نہیں ڈالو گی تو کون ڈالے گا ۔۔۔میں نے کئ بار اسے روکنے کی کوشش کی مگر ۔۔۔۔میری سنتا کون ہے ۔۔۔ سب کو تو یہی لگتا ہے کہ میں اس پر سختی کر رہی ہوں ظلم کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔ “نیلوفر پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا وہ اپنے بابا سے پیچھے ہٹ کر پھپو کے پاس کھڑی ہو گئ ۔۔۔
“کیوں جھوٹ بول رہیں ہیں آپ ۔۔۔۔پھپو کب دیکھا آپ نےمجھے یہ سب کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔”
“رہنے بھی نیلو میرا منہ مت کھلواں “پھپو نے اس لڑکے سے کاغذ کا رقعہ کھنچ کر اسے نیلو کے باپ کو پکڑا دیا ۔۔۔۔۔اسی اثنا نیچے شور شرابا سن کر رائمہ اور رابعہ بیگم بھی اوپر پہنچ گئیں ۔۔۔۔نیلو کے بابا نے وہ رقعہ پکڑا اور پڑھنے لگے جہاں محبت کا اعتراف لکھا ہوا تھا اور کمرے میں آنے کی التجا بھی تھی اور یہ بھی کہ وہ اسوقت اکیلی ہے اور اسے ملنا چاہتی ہے
کاغذ کے ٹکڑے کو پڑھ کر نیلو کے بابا نے ایک نظر بیٹی کے روتے ہوئے چہرے پر ڈالی دوسری اس کبوتر باز پر پھر نظریں جھکا لیں ۔۔۔۔۔
“لڑکے تم جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔ کل اپنے گھر والوں کو بھیج دینا میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کر دونگا ۔۔۔۔۔”نیلو کے والد کی بات سن کر پھپو اور وہ لڑکا اپنی کامیابی پر مسکرانے لگے ۔۔۔مگر نیلو کو لگا کسی نے بم پھوڑ دیا ہے اس کے سر پر ۔۔۔۔۔ پھتر بنی وہ اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جنہیں اپنے خون اور تربیت پر بھروسہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
*******……….
بختیار صاحب جب مطالبہ جیل کی کوٹھری پر پہنچے وہاں ایک عدد ٹیبل رکھا جا چکا تھا پولیس کے دو اہل کار کرسیاں اٹھائے ٹیبل کے گرد تین کرسیاں رکھ چکے تھے اب ایک اسٹینڈ فین بھی رکھا جا چکا تھا اور چلا بھی دیا تھا ۔۔۔۔کوٹھری نما جیل بھی پہلے کی نسبت صاف تھی ۔۔۔۔۔۔شاہزیب اب بھی زمین کے ایک کونے میں سر دیوار سے ٹکائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔پورا جسم کسی آبلہ پا کی طرح درد کر رہا تھا ۔۔۔۔۔چہرے پر تکلیف کے آثار بہت گہرے تھے ۔۔۔۔۔۔ چاہ کر بھی وہ خود کو مطمین ظاہر کرنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب نے اسے یوں بےبحال اور شکست خوردہ دیکھا تو مدھم سی مسکراہٹ انکے چہرے پر در آئی اپنی فتح پر تو ہمیشہ جشن منایا تھا بختیار صاحب نے ۔۔۔۔۔ جس مقام پر وہ پہنچ چکے تھے ایسا گھمنڈ اور نخوت ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا ۔۔۔۔۔ وارث خانزادہ بھی اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا بختیار صاحب کو دیکھ کر ایک اترائی ہوئی مسکراہٹ انکی طرف اچھالی ۔۔۔۔۔ جیسے اپنی کامیابی پر فخر کر رہا ہو ۔۔۔۔بختیار صاحب مسکراتے ہوئے متکبرانہ انداز سے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئے گول میز کے گرد تین کرسی رکھی گئیں تھیں پھر ایک اہل کار سٹیل کے جگ میں پانی اور ایک اسٹیل کا گلاس لے آیااور دوسرا دال کی پلیٹ اور ایک روٹی لا کر ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔ شاہزیب وہیں زمین پر اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔وارث خانزادہ نے شاہزیب کے پاس جا کر اسے کندھے سے جھنجھوڑا ۔۔۔۔اس نے بامشکل آنکھیں کھولیں بھوک اور پیاس سے وہ نڈھال ہو رہا تھا پھر
اس پر اپنے وجود پر پڑنے والے پے در پے ڈنڈوں نے رہی سہی ہمت بھی ختم کر دی تھی ۔۔۔
“اٹھو بات کرو صاحب سے اور کھانا بھی کھا لو ۔۔۔۔”وراث خانزادہ نے شاہزیب سے کرخت لہجے سے کہا ۔۔۔وہ سامنے سلاخوں کو دائیں ہاتھ سے پکڑے سلاخوں کے سہارے سے کھڑا ہوا پھر لڑکھڑاتا ہوا کرسی پر ڈھے گیا ۔۔۔سامنے پانی اور کھانا دیکھ کر بھوک چمک اٹھی ۔۔۔۔ ہونٹ پیاس کی وجہ سے خشک تھے حلق تک میں کانٹے چبھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔شایزیب کا ہاتھ بے اختیار پانی کے جگ کی طرف بڑھا
“اے اٹھاؤں یہ پانی اور کھانا یہاں سے پہلے مجھے اس لڑکے سے بات کرنے دو ۔۔۔۔میراوقت بہت قیمتی ہے میں مزید انتظار نہیں کر سکتا “بختیار صاحب نے سامنے کھڑے کانسٹبل سے رعونیت سے کہا
“ہاں ہاں اٹھاؤ یہاں سے یہ سب ۔۔۔۔پہلے بات ہو گئ تیسری کرسی کھنچ کر وارث بیٹھتے ہوئے بولا اس سے پہلے کہ وہ کانسٹبل سب کچھ اٹھاتا شاہزیب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
“ایک منٹ ۔۔۔۔کچھ نہیں اٹھایا جائے گا یہاں سے ۔۔۔۔میں پہلے کھانا کھاؤں گا پھر بات کرو گا ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر بختیار صاحب نے حیرت سےوارث خانزادہ کو دیکھا ۔۔۔۔حیران تو وہ بھی رہ گیا تھا اتنی مار کے بعد بھی اسکے لہجے میں ذرا بھی بدلاؤ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
“تمہادی اتنی ہمت “وراث دھاڑ کر بولا
“اگر کسی نے کھانا سامنے سے اٹھایا تو میں کوئی ڈیل نہیں کرونگا چاہے اب مجھے مار مار کر فنا بھی کیوں نا کر دیا جائے ۔۔۔۔ اچھی طرح سوچ کو رانا صاحب ۔۔۔۔ انتظار کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے ۔۔۔ورنہ کر لو جو کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی ڈھٹائی پر وہ تلملا کر رہ گئے
“تم “۔۔۔۔۔وارث اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا طیش سے شاہزیب کی طرف بڑھا ۔۔۔۔مگر بختیار صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔۔۔۔
“ٹہرو وارث ۔۔۔۔مجھے منظور ہے…..مجھے ہر حال میں آج بات کو اسکے انجام تک پہنچانا ہے میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں چاہتا ۔۔۔۔”وارث کو روکنے کے بعد اب وہ شاہزیب کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے بولے
“جلدی کھاؤ جو کھانا ہے “بختیار صاحب نے عجلت بھرے انداز سے کہااور اپنی گھڑی دیکھنے لگے ۔۔۔۔اندر سے نیناں کے لئے پریشان تھے جو رات سے بھوکی بے حال سی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔وارث پھر سے کرسی سنبھالی چکا تھا ۔۔۔۔۔شاہ زیب نے پہلے جگ پکڑا اسے باری باری اپنے دونوں ہاتھوں پر گرا کر ہاتھ دھوئے پھر پانی گلاس میں ڈال کر پینے لگا ۔۔۔پہلا گلاس پانی کا حلق کے اندر اٹک اٹک کر گزرا تھا ۔۔۔۔پچھلے اٹھارہ بیس گھنٹوں سے حلق خشک تھا ۔۔۔ لیکن پانی نے ہی اندر جاتے ایک توانائی سی بھر دی تھی ۔۔۔۔ پانی کی قدر وقیمت اسے اب سمجھ آ رہی تھی ۔۔۔۔دوسر گلاس پانی پینے کے بعد اب اور بڑے مطمئن انداز سے روٹی کا نوالہ توڑ کر کھانے لگا یہ نوٹس کیے بغیر کے وہاں موجود سب ہی نفوس اسی کو دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔پہلا نوالہ منہ میں رکھا ۔۔۔۔ تندور کی ٹھنڈی اکڑی موٹی سی روٹی چبانا بھی مشکل امر لگ رہا تھا مگر سامنے۔ ہیٹھے بختیار صاحب کی ناگوری کو دیکھ کر شاہزیب نے دائیں جانب کھڑے کانسٹبل سے کہا
“واہ کیا دال ہے بنائی ہے یار ۔۔۔بہت مزے کی ہے ۔۔۔مجھے اندازہ۔ نہیں تھا کہ جیل کی دال اتنی لذیذ ہی ہوتی ہے “وہ جانتا تھا کہ نیناں کے بھوکے رہنے کا قلق بختیار صاحب کی جان لے رہا تھا اس لئے اسے بھی صبح سے کچھ کھانے کو نہیں دیا گیا تھا۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ صرف بختیار صاحب کو تپانے کے لئے وہ پانی نما دال کو بھی یوں کھا رہا تھا جیسے بہت مزیدار کھانا اسکے سامنے رکھا گیا ہو ۔۔۔وارث اور کانسٹبل اس سر پھرے لڑکے کو منہ کھولے حیرت سے دیکھ رہے تھے جو بڑی رغبت سے کھانے میں مصروف تھا بختیار صاحب کی جان ہی تو جل کر خاک ہوئی تھی ۔۔۔بیٹی انکی اسکی محبت میں مرے جا رہی تھی ۔۔۔ہر چیز خود پر حرام کیے بیٹھی تھی اور وہ وہاں مار کے ساتھ ساتھ کھانے کے بھی مزے ایسے لوٹ رہا تھا جیسے فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔ایک روٹی اس نے پورے بیس منٹ میں ختم کی تھی ۔۔۔۔۔
“جاؤ ایک روٹی اور لا کر دو اور اس بار گرم روٹی لانا “کانسٹبل کو خالی پلیٹ پکڑاتے ہوئے شاہزیب نے آڈر دیتے ھوئے کہا ۔۔۔۔وارث نے دانت بیچنے کچھ کہنے کی کوشش کی ہی تھی کہ بختیار صاحب نے اس کا ہاتھ دبا کر چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔پھر کانسٹبل کی طرف متوجہ ہوئے
“جلدی سے لا کر دو جو یہ مانگ رہا ہے “بختیار صاحب کوئی بھی بدمزگی مزید نہیں چاہتے تھے جس سے تاخیر ہو ۔۔۔۔جب تک شاہزیب کھانا کھاتا رہا بختیار صاحب بار بار گھڑی دیکھتے رہے ۔۔۔۔جب وہ خوب سیر ہو گیا تو ۔۔۔شکر کا گہرا سانس بختیار صاحب نے لیا تھا ۔۔۔۔ٹیبل سے برتن اٹھا لیے گئے تھے ۔۔۔۔۔
“جی اب بولیں رانا صاحب کیا خدمت کر سکتا ہوں آپکی “اندر خوراک جاتے ہی شاہزیب کے ہواس بحال ہو چکے تھے ۔۔۔۔بختیار صاحب اسے یوں ہشاش بشاش دیکھ کر شش وپنج میں مبتلہ ہوئے جتنی مار اس نے کھائی تھی اسکی آواز بھی ان کے سامنے پست ہونی چاہیے تھی ۔۔۔۔مگر نا آنکھوں میں خوف تھا نا لہجے میں لڑکھڑاہٹ ۔۔۔۔۔۔ہاں تکلیف کے آثار چہرے پر واقع طور پر عیاں تھے ۔۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ تم ۔۔۔۔۔ “بختیار صاحب نے بات شروع کی میں شاہزیب نے بیچ میں ہی ٹوک دیا
“ایک منٹ ۔۔۔پہلے اس تھالی کے بینگن کو باہر نکالیں اس کے سامنے بات نہیں کرو گا میں “شاہزیب نے وارث خانزادہ کہ طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔وارث کے تو تلوں پر لگی اور سر پے جا کر بجھی ۔۔۔۔۔وہ طیش میں کھڑا ہوا
“۔میں تمہیں چھوڑو گا نہیں ۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایک انسپکٹر سے اس طرح بات کرنے کی “وہ دھاڑ کر بولا
“چند سکوں کی ہوس اور اپنے مفاد کی خاطر جو اپنے مقام سے گر جائے اور یہ بھول جائے کہ وہ کس عہد اور وعدے کے ساتھ اس کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔جہاں تم بیٹھے ہو ۔۔۔اسے تھالی کا بینگن ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔ “شاہزیب کی آنکھوں میں وہی بے خوفی تھی ۔۔۔وارث کا تو بس نہیں چل رہا تھا کیا نا کر گزرے اسکے ساتھ
“میں تمہیں “
“وارث کول ڈاؤن”بختیار صاحب نے وارث کو ٹھنڈا کرنےنکی کوشش کی جو لال بھوبکا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔پھر شاہزیب کی طرف متوجہ ہوئے
“۔۔۔۔دیکھوں میں معاملہ ختم۔ کرنا چاہتا ہوں میری تم سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ۔۔۔لیکن جو بات ہو گی وارث کے سامنے ہو گی “
“بات نیناں کی ہے ۔۔۔۔۔ وہ آپکی بیٹی ہے اور میری محبت ۔۔اور ہمارے ہاں جس سے محبت کرتے اسے اپنی عزت اور غیرت سمجھتے ہیں میں اسکی بات اس کے سامنے ہر گز نہیں کروں گا ۔۔۔۔”شاہزیب کے اٹل انداز پر بختیار صاحب کو ہی یار ماننی پڑی
“وارث تم جاؤں “
“۔۔لیکن سر “وارث جو اپنی اہانت سی محسوس ہوئی
“پلیز یو مے گو ناؤ “بختیار صاحب کے کہنے پر وارث اور سامنے کھڑا کانسٹبل وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔
“دیکھوں لڑکے ۔۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ تم نیناں سے یہ کہہ دو کے تم اس سے محبت نہیں کرتے صرف پیسے کی لالچ میں یہ سب کر رہے تھے ۔۔۔۔۔تا کہ وہ خود با خود پیچھے ہٹ جائے ۔۔۔۔اس کے بدلے تم جو چاہوں گئے میں تمہیں دونا گا ۔۔۔۔۔زندگی بدل دونگا تمہاری دھن دولت پیسے کی ریل پیل کر دوں گا ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب نے لالچ کا جال بچھایا
“جو مانگوں گا دیدیں گئے ؟”شاہزیب نے تعجب سے پوچھا
“ہاں “بختیار صاحب نے چیک بک جیب سے نکالی سامنے گول میز پر رکھ دی ۔۔۔۔۔ساتھ ہی کوٹ کی جیب سے ایک پین نکال کر رکھ دیا ۔۔۔
“رقم تم بھروں سائن میں کر دیتا ہوں “کچھ دیر شاہزیب انکے چہرے کو با غور دیکھتا رہا
“میں نے کبھی ایساسودا کیا نہیں رانا صاحب ۔۔آپ ہی بتا دیں کیا قیمت ہونی چاہیے آپکی بیٹی کی ۔۔۔۔۔ کتنے پیسے لکھوں اس پر کیونکہ ہمارے ہاں تو بہن بیٹی بیوی غیرت سمجھیں جاتی ہیں۔۔۔ کوئی یوں بات کرے تو ہم یا مر جاتے ہیں یا مار دیتے ہیں لیکن بیچتے کبھی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔چلیں یہ بتا دیں حیدر سے کتنے میں بات پکی کی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔ نیناں کی قیمت اس نے کیا لگائی ہے “بات تھی کہ کوئی تذلیل کی آخری حد ۔۔۔۔”بختیار صاحب کا چہرہ سرخ ہوا تھا
“کیا بک رہے ہو میری بیٹی ہے وہ۔۔۔ کوئی بکاوں مال نہیں “
“بکاؤ مال ہی تو بنا دیا سے آپ نے اسے۔۔۔۔اسی کاسودا تو کر رہے آپ مجھ سے یہاں بیٹھ کر وہ بھی زبردستی کا “وہ بھی چلا کر بولا
“میں تم سے اسے چھوڑنے کی بات کر رہا ہوں کل ہر حال میں مجھے اسکا نکاح کرنا ہے حیدر کے ساتھ ۔۔۔۔ “بختیار صاحب کی بات سن کر چند ثانیے کے بعد شاہزیب بولا
“اوہ تو یہ بات ہے ۔۔۔۔۔پھر تو بہت کام ہوں گئے آپ کو گھر پر یہاں کیا کر رہے ہیں جائیں اور جا کر شادی کی تیاریاں کریں ۔۔۔۔”شاہزیب کے چہرے پر فکر کی ایک بھی لکیر نمودار نہیں ہوئی تھی
“تو تم یوں نہیں مانو گئے ۔۔۔۔۔جان سے جانے کا شوق ہے تمہیں”وہ غرا کر بولے
“رانا صاحب میری جان ہی تو نہیں لے سکتے آپ ۔۔۔۔۔اتنا آسان ہے آپ کے لئے نیناں کو کسی اور کا کر دینا ۔۔۔۔۔ “
“میرے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے تم کچھ بھی نہیں ہو میرے سامنے “وہ دھاڑتے ہوئے بولے
“مشکل نا ہوتا تو رانا بختیار راجپوت جس سے ملنے کے لئے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ۔۔۔۔وہ یوں مجھ سے بات منوانے کے لئے گھنٹوں میرا انتظار نا کرتا ۔۔۔۔اور یوں بے بس میرے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک کر نیناں کی بھیک نا مانگ رہا ہوتا ۔۔۔۔میں کہاں عام ہوں رانا صاحب آپ نے تو بہت خاص بنادیا ہے مجھے ۔۔۔۔۔ جائیں کر کے دیکھائیں شادی کسی اور سے نیناں کی میں بھی تو دیکھوں ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ نکاح کر لے تو جوآپ کہیں گئے میں بنا کسی قیمت پر کر دونگا ۔۔۔۔اور اگر اس نے یہ نکاح نہیں کیا تو ۔۔۔۔۔۔”
“تو کیا “وہ جھلا کر بولے
“وہ آپ جانتے ہیں ۔۔۔۔۔ ابھی تو اسے آپ نے یہ بھی نہیں بتایا ہو گا کہ میرے ساتھ سلوک کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ورنہ “شاہزیب نے ہونٹ بینچ لئے
“ورنہ کیا
“ننگے پاؤں بھاگی آئے گی مجھ سے ملنے ۔۔۔کیوں نہیں سمجھتے کہ میری تو وہ ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔کوئی نہیں روک سکا اسے نا آپکی دولت نا آسائشیں ۔۔۔۔نا آپکا اونچا مقام نا اسٹیٹیس ۔۔۔۔۔ورنہ آج آپ یوں مجھ دو ٹکے کے لڑکے کے سامنے بے بسی سے نا بیٹھے ہوتے ۔۔۔۔جس نکاح کا آپ کل کا دعوہ کر رہے ہیں وہ تو رات کو ہی پڑھوا چکے ہوتے ۔۔۔ ۔۔”
“بختیار راجپوت کو چیلنج کر رہے ہو “وہ غصے سے چلا کر بولے اندر اتنی کھولن تھی کہ سامنے اس لڑکے کو آگ لگا دینے کو دل چاہا جو انہیں زچ کی آخری حد تک لے آیا تھا ۔۔۔۔
“چلیں چیلنج ہی سمجھ لیں ۔۔۔۔ جائیں کر لے دیکھائیں مجھے اس کا نکاح کسی اور سے وہ بھی کل۔کی تاریخ میں ۔۔۔۔۔”
“تم لڑکے “
“ورنہ کل کے بعد سمجھ جائیں گا ۔۔۔۔کہ شکست آپ کا مقدر ہے ۔۔۔۔ ” شاہزیب سے بات وہ مزید کہنا ہی نہیں چاہتے تھے
“وارث ۔۔۔۔وارث ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کی برداشت جواب دے گئ تھی وہ انسپکٹر کو چلا چلا کر بلانے لگے ۔۔۔۔۔۔اسوقت وہاں صرف بختیار صاحب کی آواز گونج رہی تھی وہ کرسی سے کھڑے زور زور سے چلا رہے تھے غصہ اتنا تھا کہ کچھ کر بیٹھیں گئے ۔۔۔۔۔
چند ہی لمحوں میں وارث خانزادہ دو سہل۔کادسں کے ساتھ تیز قدموں سے وہاں پہنچا ۔۔۔
“جی سر ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کے سامنے ادب سے کھڑا ہو گیا
“اس لڑکے کا ریمانڈ رکنا نہیں چاہیے ۔۔۔۔”
“جی سر ۔۔۔ نہیں رکے گا سر “وہ سینے پر ہاتھ رکھے نہایت ادب سے بولا
“اسے اتنا مارو کہ بس سانس چلتی رہے اس کی۔۔۔۔۔کل نیناں کے نکاح کے بعد چھوڑ دینا اسے ۔۔۔ “تاسف بھری نظر شاہزیب پر ڈالی کر وہ جا چکے تھے ۔۔۔۔۔۔شاہزیب کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیل گئ
