One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 3
Rate this Novel
One Wheeling Episode 3
One Wheeling by Umme Hani
زمان صاحب شام کو گھر لوٹے تو ٹیبل کے سامنے شازل اور انکی بڑی بھاوج بیٹھیں تھیں اور سامنے ٹیبل پر چائے کے ساتھ مختلف قسم کے لوازمات رکھے تھے ۔۔۔۔وہ بھی اسلام کر کے ہاتھ دھو کر رہیں بیٹھ گئے
“بھائی صاحب کو ساتھ لے آنا تھا بھابی ۔۔۔۔”زمان صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی بڑی بھابی سے مخاطب ہو کر کہا جو ہر ہفتے ہی اپنے اکلوتے برخودار کے ساتھ یہیں نظر آتیں تھیں
“ارے زمان تمہیں پتہ ہے اپنے بھائی کی عادت کا ۔۔۔۔گھر ایک دفع آنے کے بعد کہاں دوبارہ نکلتے ہیں اور چھٹی کے دن تو ٹی وی سے ہی فرصت نہیں ملتی انہیں ۔۔۔۔۔میں بھی کہاں نکلتی ہوں گھر سے اب بھی نہیں آ رہی تھی بس یہ شازل زبردستی لے آیا ورنہ ان گھٹنوں کے درد کے ساتھ کہاں دوسری منزل تک کی سیڑیاں چڑھی جاتیں ہیں مجھ سے “زمرد بیگم کے دکھڑے شروع ہوچکے تھے ۔۔۔عاتقہ بیگم تیوری۔ چڑھائے بیٹھیں تھیں ۔۔۔عاصم خاموشی سے سموسے کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔اور نمیرہ اپنے کمرے میں اپنا اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی ایک شازمہ ہی تھی جو اوبھگت میں لگی ہوئی تھی
“تائی امی یہ شامی کباب تو آپ نے چکھے ہی نہیں ۔۔۔۔”شازمہ نے فورا سے انکی پلیٹ میں کباب رکھ دیے
“ارے تم کیوں پلیٹ بھری جا رہی ہو ۔۔۔میں گھر سے بھوکی تھوڑی آئی ہوں ۔۔۔۔”لہجہ طنزیہ تھا اور ماتھے پر پڑے بل بھی ہمیشہ کی طرح موجود تھے
“امی شازمہ نے اتنے پیار سے آپ لئے بنائے ہیں کھا کر دیکھیں “شازل نے ٹہوکا لگا کر کہا ۔۔۔۔اور خود بھی شامی کباب اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھنے لگا ۔۔۔
“اچھا ۔۔تم اتنا کہہ رہے ہو تو کھا لیتی ہوں ورنہ کھانا تو میں ابھی کھا کر ہی آئی تھی ۔۔۔۔”زمان صاحب نے صرف کپ میں چائے ہی ڈالی تھی ۔۔۔
“عاتقہ ۔۔۔۔کہاں ہے شاہزیب “زمان صاحب کا لہجہ برہم تھا صبح کے غصے کے آثار ابھی بھی چہرے پر موجود تھے
“اپنے کمرے میں ہے پڑھ رہا ہے “عاتقہ بیگم کا تکیہ کلام جو وہ ہر بار شاہزیب کے لئے استعمال کرتی تھیں ۔۔۔۔
“آئے ہائے ۔۔۔یہ لڑکا تو گھر پر ویسے ہی نظر نہیں آتا جب آؤں اپنی پھٹپھٹیا پر نکلا ہوا ہوتا ہے آج اگر اتفاق سے گھر ہے تو کیا سلام کرنا بھی گورا نہیں ہوا اسے ۔۔۔۔پچھلے آدھے گھنٹے سے میں بیٹھی ہوں میں تو سمجھیں موصوف گھر ہی نہیں ہیں ” زمرد بیگم کوئی موقع ہاتھ جانے نہیں دیتیں تھیں اور شاہزیب سے تو خاص خار کھاتی تھیں ۔۔۔۔زمان صاحب پہلے ہی شاہزیب سے غصہ تھے پھر زمرد بیگم کی باتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔۔۔۔۔
“شاہزیب “زمان صاحب کی گرجدار آواز پر عاتقہ بیگم کے تیور مزید بگڑ گئے
“لو آ گئ میرے بیٹے کی شامت پتہ نہیں اس عورت کو کیا خدا واسطے کا بیر ہے میرے شاہزیب سے “عاتقہ بیگم کی بڑبڑاہٹ پر شازمہ زچ سی ہو کر ماں کو دیکھنے لگی کہ کہیں مبادا انکی باتیں تائی امی اور شازل نے نا سن لیں ہوں مگر شکر تھا کہ انہوں نے توجہ نہیں دی ۔۔۔۔۔شاہزیب جو کمرے میں بیٹھا ٹی وی پر بائیک کے نئے کرتب نہایت انہمانک دیکھ رہا تھا بلکہ دیکھ کیا رہا تھا ذہنی طور پر وہیں۔ پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب اس قدر غور سے ایک ایک اسٹپ کو دیکھتا اور پھر خود بھی اسی انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا تھا اب بھی اسی میں مگن تھا جب زمان صاحب کی آواز پر ہوش میں آیا بری طرح۔ چونکا ریموڈ بھی ہاتھ سے گر گیا ۔۔۔۔ہڑبڑا کر ریموڈ پکڑا اور ٹی وی آف کیا اپنے بیڈ سے اٹھ کر شرٹ کو درست کیا اور باہر آ گیا۔۔۔۔سامنے تائی اماں۔ اور شازل کو دیکھ کر جی بھر کے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔لیکن باپ بھی سامنے ہی بیٹھا تھا اس لئے چہرے کو نارمل کیااور سب کو مشترکہ سلام کیا ۔۔۔۔
“کیا تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ گھر ہر مہمان آئیں تو سلام کرتے ہیں “زمان صاحب کی دھاڑ پر عاتقہ بی نے بیٹے کا دفاع کیا
“اسے کیا معلوم زمان کہ بھابی آئیں ہیں وہ تو اس کا ٹیسٹ تھا تو میں نے اسے ڈسٹرب نہیں کیا “عاتقہ بیگم نے بہانہ بنایا شاہزیب نے دل میں ۔ شکر ادا کیا ۔۔۔۔اور دل ہی دل میں ماں کو داد دی جو عین موقع پر ہر بار اسے بچا ہی لیتی تھیں ۔۔۔۔۔۔
“اچھا تو پڑھائی بھی تم کرتے ہو “شازل سموسوں اور کبابوں سے ہاتھ صاف کر کے اب چائے پیتے ہوئے بولا ۔۔۔بلکہ طنزیہ بولا
“جی شازل بھائی اللہ کا شکر ہے کبھی بی گریٹ نہیں لیا ۔۔۔۔ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا ہوں ۔۔۔۔” شاہزیب نے جتانے والے انداز سے کہا کیونکہ شازل کا ہمیشہ سے بی گریٹ ہی آیا تھا جاب بھی باپ کی سفارش پر ملی تھی ۔۔۔۔شازل نے پہلو بدلہ کیونکہ یہ بات کافی حد تک تو ٹھیک ہی تھی ۔۔۔۔پڑھائی میں شاہزیب شازل سے بہت اچھا تھا ۔۔۔۔اسکی اس ایکٹیوٹی کی وجہ سے کبھی اس کا رزلٹ متاثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔شازل اور زمرد بیگم کھانا کھائے۔ بغیر نہیں گئے تھے ۔۔۔۔۔
اگلے روز بائیک کی چابی شاہزیب کو مل چکی تھی ۔۔۔۔
*****7*………
باسم گھر کی مرمت کا کام شروع کروا چکا تھا ۔۔۔۔۔ایک مہنے میں اوپر کے پورشن۔ کی شکل نکل آئی تھی ۔۔۔۔باسم نے ایک دو اسٹیٹ ایجنسی والوں سے بھی کہہ رکھا تھا کہ ایک چھوٹی فیملی ہو تو وہ اپنا گھر کرایے پر دینا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔ابھی بھی وہ اسٹیٹ ایجنسی سے باہر نکلا تو سامنے سے رامس سے ملاقات ہو گئ وہ بھی باسم کے لگ بھگ ہی تھا اور اسی علاقے میں رہتا تھا ۔۔۔۔محلے داری کے علاؤہ دونوں کالج تک ساتھ ہی پڑھے تھے اس لئے تعلقات بھی کافی اچھے تھے رامس نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا
“اور بھئ ۔۔۔۔سناوں نوکری کیسی چل رہی ہے “رامس نے مسکرا کر پوچھا
“ایک دم فٹ فاٹ تم سناوں۔۔۔”
“بس یار وہی روز کی روٹین صبح آفس ۔۔۔پھر گھر اور اسکے بعد صبح پھر آفس کچھ نیا ہے ہی نہیں زندگی میں ۔۔۔۔”رامس کے کوفت زدہ چہرے کو دیکھ کر باسم کا قہقہ بے اختیار تھا ۔۔۔۔
“تو شادی کر لے میری جان ۔۔۔۔سب نیا نیا لگے گا “
“چھوڑ یار ۔۔۔۔آجکل کی لڑکیوں کو ہم جیسے نوکری کر کے ماہانہ تیس ہزار کمانے والے مرد پسند نہیں آتے جن کے پاس ایک پرانی سی پھٹھیاں سی بائیک ہو ۔۔۔اور دوکمروں کا گھر جہاں آسائشیں تو دور کی بات ضرورت ہی بڑی مشکل سے پوری ہوتی ہیں ۔۔۔۔مہنہ بعد میں ختم ہوتا ہے اور جیب میں تنخواہ پہلے ۔۔۔۔تم سناؤں ۔۔۔۔تمہارے کیاارادے ہیں “رامس باتوں کے دوران ہی باسم کا ہاتھ تھامے سامنے ایک چائے کے لئے بنے کیفے میں لے آیاتھا اب دونوں ایک پر سکون گوشہ دیکھ کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔
“میری باری تو بعد میں آتی ہے پہلے رائمہ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اسکی آجکل بڑی فکر ہے مجھے “رائمہ کے نام پر رامس کے ماتھے پر شکنیں سی بڑھنے لگیں ۔۔۔۔۔
“تو کیا ۔۔۔۔دیکھا کوئی راشتہ ” رامس نے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔۔دو کپ چائے کا آڈر باسم نے دیا تھا
“ہاں امی آج کل اسی مشن پر لگی ہوئی ہیں ۔۔۔ایک دو شتے آئے بھی تھے “
“تو کیا ہوگئ بات پکی “رامس کے چہرے سے ایک رنگ آ کر گزرا تھا
“نہیں یار رائمہ توانہیں پسند تھی مگر میرا غریب خانہ پسند نہیں آیا ۔۔۔۔نا جانے لڑکے والوں نے بیٹی بہا کر لیکر جانے ہوتی ہے یا اپنا بیٹا دینا ہوتا ہے جو بڑا گھر دیکھتے ہیں ۔۔۔۔”باسم بھی تاسف سے بولا ۔۔۔ ہوٹل کاایک ملازم لڑکا دو کپ چائے کے رکھ کر چلا گیا ۔۔۔۔رامس نے گہرا سکون واطمینان کا سانس بھرا اور کپ لبوں سے لگا لیا ۔۔۔
“کی۔۔۔۔سا لڑکا چاہیے تمہیں رائمہ کے لئے “رامس کچھ جھجکا تھا
“بس یار کاروباری ہو تو ذیادہ بہتر ہے ورنہ تنخواہ تو اچھی ہو ۔۔۔۔اس مہنگائی کے دور میں تم تو جانتے ہو بیس تیس ہزار سے کہاں گھر چلتے ہیں اب مجھے دیکھ لو ۔۔۔۔آفس سے آتے ہی ٹیوشن کے لئے نکل جاتا ہوں رات دس بجے تک ٹیوشن پڑھاتا ہوں پھر جا کے گھر کے خرچے کے علاؤہ کچھ بچا پاتا ہوں ۔۔۔اب بہن کو جہیز میں سب کچھ دونگا تو لڑکا بھی تو کم از کم ایسا ہی چاہوں گا جو اسے خوش رکھ سکے ۔۔۔۔ “باسم چائے کے چھوٹے چھوٹے سپ لیتے ہوئے بولا رامس طنزیہ مسکراہٹ لئے بولا
“تو کیا خوشیاں پیسوں اور سہولتوں کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں باسم “چائے کا خالی کپ رامس نے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ساتھ ہی ہوٹل کے ملازم بچے کو آواز دے کر چائے کے پیسے دینے لگا تو باسم اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“تم رہنے دو ۔۔۔پیسے میں دے دیتا ہوں “
“ارے نہیں میری جان اتنا بھی کنگال نہیں ہوں ۔۔۔”باسم کی عام سی بات پر رامس کے طنریہ جواب پر باسم نے ایک گہری نظر سے رامس کو دیکھا لیکن سمجھ نہیں پایا کہ اس نے اس طرح سے بات کیوں کی تھی ۔۔۔۔۔بہرحال وہ ہاتھ ملا کر الگ ہوئے تھے ۔۔۔باقی کا راستہ رامس نے کسی گہری سوچ میں ہی طے کیا تھا ۔۔۔۔باسم سے اسکی دوستی پرانی تھی لیکن بہت گہری نہیں تھی ۔۔۔لیکن بے تکلفی سے ایک دوسرے کے گھر آ جایا کرتے تھے ۔۔۔۔پھر محلےداری بھی تھی تو دونوں کی والدہ بھی آپس میں ملتی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔رائمہ کے لئے پسندیدگی رامس بہت پہلے سے رکھتا تھا مگر اپنے دوست کے ارادوں کے سامنے ہمیشہ ہی خود کو بہت کمزور سا محسوس کرنے لگتا تھا ۔۔۔۔۔۔تین بڑی بہنیں تھیں تینوں شادی شدہ تھیں آجکل اسکی والدہ اسی کے لئے لڑکی دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔مگر بہنوں کی خواہش تھی کہ لڑکی بڑے گھر کی ہو تاکہ اپنے اکلوتے بھائی کی شادی پر ڈھیر سارا جہیز لیکر آئے ۔۔۔۔۔لیکن بڑے گھر تو دور کی بات ایک عام گھرانے کی لڑکیوں کے بھی بڑے نخرے تھے
******………..
کیا چیز ہے یار یہ “خرم کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اس وقت بھی وہ اور شاہزیب سمندر پر موجود تھے اور کولڈرنک پی رہے تھے ۔۔۔خالی روڈ پر اپنے پسندیدہ مشغلے کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔۔۔۔کہ ایک ہیوی بائیک آ کر کچھ فاصلے پر رکی ۔۔۔۔اس میں متاثر کن چیز یہ تھی کہ وہ ایک بیس سالہ لڑکی چلا رہی تھی ۔۔۔۔۔بلیک جینز کی پینٹ ۔۔۔بلیک ہی شرٹ بلیک جوگر اور بلک چشمہ پہنے وہ بڑی ادا سے نیچے اتر کر سامنے کھڑی اپنی دوستوں کے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے شاید انکی داد وصول کر رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کی نظر بھی وہیں۔ تھی ۔۔۔۔ خرم کی نظر اسکی لڑکی سے ہٹ نہیں پا رہی تھی
“ہمم باڈی اچھی ہے “شاہزیب کی تعریف خرم کو کچھ عجیب لگی
“کیا “وہ حلق کے بل چیخا
” اسی سال کی نیو ماڈل ہے “شاہزیب نے کوک کاسپ لیتے ہوئے لاپروا انداز سے کہا خرم نے ایک بھر پور نظر اس لڑکی پر ڈالی پھر غور کرنے لگا کہ اسے کب کسی ماڈلنگ شو میں دیکھا ہے
“اچھا تمہیں کیسے پتہ “
“مجھے پتہ نہیں ہو گا “شاہزیب نے تعجب کا اظہار کیا نظر اب بھی سامنے کی طرف ہی تھی جہاں وہ لڑکی اپنی بائیک سے ٹیک لگائے اپنی دوستوں کے ساتھ محو گفتگوں تھی
۔۔۔۔۔”اسے پانے کے لئے کب سے پیسے جمع کر رہا ہوں ریٹ بہت ہیں اس کمبخت کے ۔۔۔ایک بار ہاتھ لگ جائے تو ۔۔۔۔دنیا کو بتا دوں کہ شاہو کیا چیز ہے “شاہزیب کے اشتیاق پر خرم نے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھا
“ابے تو یہ کام بھی کرتا ہے “خرم کا تعجب آخری حد کو چھو رہا تھا
“آدھی یونیورسٹی جانتی کہ شاہو یہی کام شوق سے کرتا ہے ۔۔۔۔تمہیں ۔ جیسے پتہ نہیں ۔۔۔”شاہزیب اب بھی لاپروائی سے وہیں۔۔۔ دیکھتے ہوئے بول رہا تھا
خرم کے کانوں میں۔ سیٹیاں سی بجنے لگیں۔۔(۔تو کیا یہ لڑکیوں کے چکر میں بھی ہے ۔۔۔)خرم نے شاہزیب کو دیکھا جو ابھی اسی لڑکی کو بائیک پر ٹیک لگائے دیکھ رہا تھا
“کیا بہت پیسے لگتے ہیں ۔۔۔۔”خرم کا دل بھی للچایا ۔۔۔
“نہیں۔۔۔ تیرے باپ کی پراپرٹی ہے نا جو مفت میں مل جائے گی ۔۔۔۔۔اسوقت ڈیر لاکھ قیمت ہے اسکی “شاہزیب نے ہاتھ سے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں وہ لڑکی کھڑی تھی ۔۔۔ خرم نے فورا سے اس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے کر دیا
“ابے پاگل ہو گیا ہے کیا ۔۔۔اپنے ساتھ مجھے بھی مروائے گا یوں کھلے عام اشارے کر رہا ہے ۔۔۔اتنی محبت کرتے ہو اس سے “
“ابے عشق کرتا ہوں وہ بھی جنون کی حد تک ۔۔۔۔بس موقع ملنے دے بس ایک بار مل جائے مجھے ہواؤں میں اڑاؤں گا اسے “”
“اس لڑکی کو ۔۔وہ کیسے “خرم کی حیرت اپنی انتہا پر تھی
“کون سی لڑکی ۔۔میں تو ہیوی بائیک کی بات کر رہا ہوں “شاہزیب کی نظر اب بھی نیو ماڈل ہیوی بائیک پر تھی جس وہ لڑکی ٹیک لگائےکھڑی تھی
“اووووہ ۔۔۔۔میں سمجھا لڑکی کی بات کر رہے ہو “
“ابے گھامڑ لڑکیاں متاثر نہیں کرتی مجھے ۔۔۔۔میرے خواب بہت اونچے ہیں وہ اوپر آسمان تک ۔۔۔۔دیکھنا تمہارا شاہو کتنی اونچی اڑان اڑ کر دیکھائے گا تمہیں””شاہزیب نے آسمان کی طرف منہ کر کے مسکراتے ہوئے کہا عجیب سی چمک تھی اسکی آنکھوں میں ۔۔۔۔کچھ پا لینے کی…. جیت جانے کی یا دنیا میں ایک نیا انقلاب لانے کی ۔۔۔۔۔نا جانے کس مستی میں چور تھا وہ ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں عجیب سا نشہ نظر آتا تھا
“چل اب بائیک پر ایک نئ ٹرائے ماریں ۔۔۔۔کل انگلش فلم کا ایک سین دیکھا تھا میں نے ۔۔۔یار کیا سین تھا ۔۔۔۔”شاہزیب کی آنکھوں کے سامنے رات میں مووی میں دیکھا ہوااپنا پسندیدہ سین نظر آنے لگا ۔۔۔۔
“اوہ مجھے معاف ہی رکھ ۔۔۔۔تو کر۔۔۔۔ آج میں بس دیکھوں گا “خرم نے صاف منع کر دیا
“تم بھی عاصم کی طرح ڈپو ہو پورے ۔۔۔۔ڈرک پوک کہیں کے ۔۔۔۔میری جان
“زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل نہ کیا خاک جیا کرتے ہیں “
شاہزیب کی آنکھیں کسی نشے میں چور رہتیں تھیں ۔۔۔۔۔جیسے یہ زمین آسمان اسی کے لئے بنے ہیں ۔۔۔۔اور اپنی مرضی سے جو چاہے گا کر لے گا سمندر پر اس وقت رش نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔شاہزیب نے اپنی کوک خرم کو پکڑائی اور بائیک پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ سلنسر تو بائیک کا ویسے ہی خراب وہ کر چکا تھا اس لئے بائیک چلنے سے ایک بے ہنگم سی آواز کانوں کو ناگورا سی گزرتی تھی ۔۔۔۔لیکن بہت سے آس پاس کے لوگوں کو متاثر کرنے ذریعہ بھی بنتی تھی ۔۔۔۔۔اور یہی وجہ تھی کہ شاہزیب کی طرف سب لوگ ہی دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔۔اور ان میں سامنے کھڑی نیناں اور اسکی دوستیں بھی شامل تھیں۔۔۔۔۔(نیناں وہی لڑکی تھی جو ہیوی بائیک پر بیٹھ کر آئی تھی )
شاہزیب نے تیز رفتار سے بائیک آگے بڑھائی اور پل میں نظروں سے غائب ہو گیا لیکن اسکی بائیک کی آواز ہلکی ہلکی سے اب بھی آ رہی تھی ۔۔۔وہاں موجود سب کی نظریں اب بھی وہیں تھیں جہاں سے شاہزیب نکل کر گیا تھا اور کان اب بھی اسکے بائیک آواز پرلگے ہوئے تھے کچھ ہی لمحوں میں۔ آواز تیز ہونے لگی سامنے بہت دور اب اسکی بائیک۔ بھی نظر آنے لگی ۔۔۔۔نیناں کے نیناں بھی شاہزیب کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔جیسے جیسے وہ قریب آ رہا تھا بائیک کے سامنے کا ٹائر مکمل طور پر اٹھا چکا تھا بلکہ اتنا اونچا کر چکا تھا بائیک صرف پچھلے ٹائر کے آخری سرے پر ہی چل رہی تھی باقی کی بائیک بلکل ایسے تھی جیسے کسی نے کھڑی کر دی ہو ۔۔۔۔۔اسپر شاہزیب کا ایک ہاتھ اور پاؤں ہوا لہراتا ہوا دیکھ کر نیناں سمیت سب لڑکیوں کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی ۔۔۔ہاتھ سینے پر جا لگے ۔۔۔۔لگ رہا تھا کہ ابھی وہ بری طرح سے گر جائے گا ۔۔۔۔بس چند لمحے ہی سب کی سانسیں تھمی تھیں ۔۔۔۔۔انکھیں جیسے جھپکنا ہی بھول گئیں تھیں ۔۔۔۔دل بھی سب کے شاہزیب کی بائیک کی رفتار سے چل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔وہاں کھڑے سب لوگوں کو اپنی دھڑکنیں کانوں ۔میں یوں سنائی دے رہیں تھیں جیسے دل اچھل کر کان کے پاس آ کر دھڑکنے لگا ہو ۔۔۔اس بار تو خرم بھی حواس باختہ ہو گیا تھا ہاتھ میں پکڑی بوتل کی گرفت یوں مضبوط کی جیسے شاہزیب کی بائیک مضبوطی سے پکڑ لی ہو تا کہ وہ گر نا جائے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔بس چند لمحوں کا کھیل تھا کہ ۔۔یک دم ہی بائیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔
