One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 1

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 1

One Wheeling by Umme Hani


‍‍‍‍‍‍‍‍‍”شاہو بھائی ۔۔۔۔مجھے یہ میتھ کا سم سمجھ نہیں آ رہا پلیز سمجھا دیں ۔۔۔۔”شاہزیب جو ٹی وی پر ایک ٹائر پر بائیک چلاتے لڑکے کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔عاصم کی بات پر چونکا عاصم اپنی میتھ کی بک اور رجسٹر پکڑے اسے کے سامنے کھڑا تھا

“عاصم ابھی جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔بعد میں سمجھا دونگا ۔”۔۔۔شاہزیب نے مدافعانہ انداز سے کہا اور دوبارہ نظریں ٹی وی پر مرکوز کر لیں ۔۔۔۔عاصم بھی اسکے برابر میں بیٹھ گیا اور بڑی بیزاری سے شاہزیب کو ٹی وی دیکھتے ہوئے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی بڑی دلچسپی سے اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا جو سامنے سے گزرنے والے ٹرک کے نیچے سے بائیک کو آڑا کرتے ہوئے نکلا تھا ۔۔

“۔۔۔ڈس ونڈر فل ۔۔۔۔”شاہزیب نے ایسے داد دی جیسے یہ سب حقیقت میں ہوا ہو یا سامنے ایکٹنگ کرنے والے ہیرو کی جگہ خود یہ سب کر رہا ہو ۔۔۔۔۔سین ختم ہو چکا تھا اور شاہزیب کی دلچسپی بھی ۔۔۔۔

“بھائی “عاصم نے دوبارہ پکارا ۔۔۔۔

“ہاں اب بولو “شاہزیب نے ٹی وی آف کیا ۔۔۔عاصم نے بک اسکے آگے رکھ دی ۔۔۔عاصم کو سم

سمجھانے کے بعد ۔۔۔شاہزیب اپنے موبائل پر کال کرنے لگا ۔۔۔۔

“ہاں کہاں ہے جگر ۔۔۔۔”عاصم نے تاسف کو اپنے بڑے بھائی کو دیکھا جو پھر اپنے دوستوں کے ساتھ مٹر گشتی کا پلان بنا رہا تھا ۔۔۔۔۔

“رات کاکیا پروگرام ہے ڈوڈ۔۔۔۔”شاہزیب اپنی باتوں میں مگن تھا

“چل پھر ملتے ہیں رات کو ۔۔۔۔” فون بند کرنے کے بعد شاہزیب کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ زمان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔۔۔۔بڑی بیٹی شازمہ ۔۔ ۔۔۔۔۔اسکے بعد۔شاہزیب پھرنمیرہ اور سب سے چھوٹا عاصم ۔۔۔۔بڑی بیٹی بی ایڈ کر چکی تھی اور اپنے تایا زاد سے منسوب تھی چند مہینے میں اسکی شادی ہونے والی تھی ۔۔۔چھوٹی بیٹی نے ابھی بی اے کے لاسٹ ائیر کہ۔ اسٹاٹ لیا تھا شاہزیب ایم کام کے تیسرے سمسٹر میں تھا اور چھوٹا عاصم نویں جماعت کا طالب علم تھا ۔۔۔۔شاہ زمان خود بھی کالج میں پروفیسر تھے ۔۔۔۔اور عاتقہ بیگم ہاوس وائف ہی تھیں۔۔۔۔۔شاہزیب کو بس ایک ہی شوق تھا بائیک کو نت نئے طریقوں سے چلانے کا ۔۔۔۔اس لئے دوستوں کی گیدنگ بھی ویسی ہی تھی ۔۔۔۔۔شام کو سب دوست یار ملکر سڑکوں پر ایک ساتھ نکلتے آگے پیچھے بائیک لئے اوربائیک چلاتے چلاتے ۔۔۔کبھی آگے کا ٹائر اٹھا لیتے ۔۔۔۔کبھی دونوں ہاتھ اوپر کیے بائیک چلاتے تو کبھی بائیک پر لیٹ جاتے ۔۔۔۔ساتھ میں آنے جانے والے مسافر پلٹ کر جب انہیں دیکھتے اور ہوٹنگ کرتے ۔۔۔ تالیاں بجاتے یا داد دیتے ۔۔۔اس وقت ان کی خوشی قابل دید ہوتی ۔۔۔۔۔اس وقت وہ خود کو بولی وڈ کا ہیرو تصور کرتے نظر آتے تھے ۔۔۔۔آج بھی شاہ زیب نے دوستوں کے ساتھ ملکر ۔۔۔۔۔بائیک چلاتے ہوئے بائیک پر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔دونوں ہاتھ ہینڈل پر ہی تھے مگر وہ خود سیٹ پر دونوں پاؤں رکھے جھک کر بائیک چلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔گو کہ یہ عمل چند لمحوں پر محیط تھا مگر لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے کی کافی تھا ۔۔۔۔اسی طرح کے تماشوں کے بعد اب وہ ایک چائے کے ہوٹل میں بیٹھے ٹھٹے لگاتے ہوئے اپنی کارستانی پر فخر کر رہے تھے ۔۔۔۔

“یار شاہو آج تو۔تو نے محفل ہی جیت لی ۔۔۔۔”خرم کی داد پر شاہوں نے آبرو چڑھائے اور اپنا کالر کھڑا کرنے لگا ۔۔۔۔

“یہ تو بس ایک ٹیلر تھا میرے دوست ۔۔۔پکچر ابھی باقی ہے ۔۔۔۔۔۔”کسی انڈین فلم کا کھسا پٹا جملہ اس نے اسی ہیرو کے انداز سے اپنی ایک آنکھ دباتے ہوئے ادا کیا ۔۔۔ باقی کے سب دوست ہسنے لگے

********……….********

“باسم بھیا میرے نوٹس “رباب نے باسم کو باہر جاتے دیکھ کر ہانک لگائی ۔۔۔

“لے آؤں گا گڑیا “باسم نے جواب دیا اور صحن میں آ گیا جہاں اسکی بائیک کھڑی تھی

“باسم امی کی میڈسن بھی ختم ہو چکی ہیں “رائمہ کمرے سے بولی

“ہاں مجھے معلوم ہے ۔۔آتے ہوئے لے آؤں گا ۔۔۔”باسم نے صحن میں کھڑی بائیک کو مرکزی دروازے سے باہر نکالتے ہوئے کہا اور بیٹھتے ہی کک لگائی ۔۔۔اورچلا گیا ۔۔۔باسم اپنی دونوں بہنوں سے بڑا تھا ۔۔۔۔رائمہ باسم سے سال بھر ہی چھوٹی تھی ۔۔۔۔اس لئے بھائی کے تکلف سے مبرا رہتی تھی پھر دونوں میں۔ دوستی بھی بہت تھی ۔۔۔۔رباب۔ چھوٹی تھی اس لئے اپنے سارے لاڈ بڑے بھائی سے ہی اٹھواتی تھی ۔۔۔۔۔والد کے انتقال کے بعد ساری ذمہ داری باسم پر ہی آ گی تھی ۔۔۔اس لئے جاب کے بعد کھانا کھاتے ہی وہ ٹیوشن پڑھانے چلا جاتا تھا پھر رات کو کھانے پر ہی لوٹتا تھا ۔۔۔۔۔تین کمروں کے چھوٹے سا مکان جوایک پسماندہ علاقے میں تھا ۔۔۔۔جس میں وہ لوگ اپنی صرف ضرورتوں کو ہی پوراکر پاتے تھے ۔۔۔۔۔والد کے کے انتقال کے بعد والدہ بھی بیمار رہنے لگیں تھیں۔۔۔۔۔پھر رائمہ بھی شادی کے قابل تھی ۔۔۔۔خوش شکل ہونے باوجود آنے والے رشتےپسماندہ علاقے اور گھر کو دیکھ کر لوٹ جاتے تھے ۔۔۔۔۔رائمہ نے کمرے کی صفائی کے بعد صحن کو دھونے کے لئے پائپ لگایا ۔۔۔۔۔ایک ہاتھ میں پانی کا پائپ دوسرے میں جھاڑو پکڑے وہ تیز تیز ہاتھ چلانے لگی ۔۔۔۔رباب اپنے کمرے میں نوٹس پر سر کھپا رہی تھی فائنل ایگزائم میں چند مہینے ہی باقی رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

*******……..

باسم مین روڈ پر ٹریفک کے رش پر زچ سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔بار بار گھڑی پر ٹائم دیکھ رہا تھا مگر گاڑیوں کا اژدھا کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔چھ بجے اسے ٹیوشن کے لئے پہنچنا تھا ۔۔۔۔اسی پریشانی میں تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکا جس کی بائیک کا سلنسر شاید پھٹا ہوا تھا اس لئے بائیک کی بے ہنگم سی آواز پر سب کی نظروں کا مرکز بن گیا تھا۔۔۔۔۔ باسم نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔وہ تیز رفتار موٹر سائیکل چلاتا ہوا گاڑیوں کے دائیں بائیں سے یوں راستہ بنائے گزر رہا تھا جیسے زگ زیگ کھیل رہا ہو ۔۔۔۔باسم پہلے ہی ٹریفک کی وجہ سے پریشان تھا پھر اس افلاطونی بائیک کے کرتب کر مزید پریشان ہونے لگا ۔۔۔۔۔باسم اب اسکی بائیک کے آگے تھا گرین سگنل کھلنے کے اشارے پر وہ نکلنے ہی والا تھا کہ وہ لڑکا اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے نے اسے لڑکے کو ٹوکا

“کیا شاہو بھائی ۔۔۔کتنا رف چلاتے ہیں آپ ۔۔۔۔مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کسی گاڑی سے ٹکر نا ہو جائے “

“تو کیا ہوئی ٹکر۔؟۔۔۔ کیوں ڈرتے ہو ڈپو(ڈرپوک ) ۔۔۔۔تمہارا بھائی روڈ کا شہنشاہ ہے ۔۔۔۔انکھیں بند کیے بھی گزر سکتا ہے ۔۔۔۔وہ بھی بنا ٹکرائے ۔۔۔اگر میں بھی یوں لائین میں جانے کا انتظار کرتا تو ہم اب بھی بہت پیچھے کھڑے ہوتے ۔۔۔۔۔”باسم نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔پیچھے بیٹا لڑکا چودہ پندرہ برس کا تھا اور آگے بائیک پر بیٹھا لڑکا جو خود کو سڑکوں کا شہنشاہ کہہ رہا تھا با مشکل بائیس تئیس سال سے اوپر کا نہیں تھا ۔۔۔۔دیکھنے میں بھی دبلا پتلا مگر پھرتیلا تھا ۔۔۔۔۔اشارہ کھلتے ہی وہ لڑکا کسی آندھی طوفان کی طرح سے اسکے پاس سے بائیک لیکرگزرا تھا ۔۔۔۔۔باسم اس لڑکے کو تاسف سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔

“نا جانے یہ نئ نسل خود کو ٹارزن کی اولاد کیوں سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔خدا نخواستہ اگر کسی گاڑی سے ٹکر ہو جائے تو ۔۔۔۔ساری شہنشاہت دھری کی دھری رہ جائے ۔۔۔۔۔باسم نے اپنی راہ لی مگر باقی راستہ ان لڑکوں کے بارے میں ہی افسوس کرتے ہوئے گزری ۔۔۔۔۔۔

*******……….

رات کے بارہ بجے کے وقت سمندر کے خالی روڈ پر ۔۔۔۔باری باری سب ہی لڑکے اپنے اپنے نئے نئے کرتب دیکھا۔ رہے۔۔۔۔ تھے ۔۔۔۔۔شاہزیب کی باری پر شاہو ۔۔۔شاہو کے نعروں پر شاہزیب گردن اکڑاتے ہوئے سامنے آیا ۔۔۔۔سکن فٹ پینٹ ۔۔۔۔ٹی شرٹ ۔۔۔گلے میں سلور سی چین ۔۔۔ایک کان میں باریک سی بالی۔۔۔۔منہ میں چیونگم چباتے ہوئے اس وقت خود کو ہیرو سمجھتا ہوا وہ ہیرو کم اور آوارہ گرد ذیادہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔بائیک پر بیٹھتے ہی ۔۔۔۔۔۔ایک راؤنڈ لیتے ہی اس نے دوسرے راؤنڈ پر بائیک پر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔چند لمحے ہی اسے خود کو بیلنس کرنے میں لگے تھے ۔۔۔ان چند لمحوں بعد اس نے اپنا بائیاں ہاتھ اور پاؤں ہوا میں لہرانا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔چند لمحے اسکے دوستوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی۔۔۔۔۔اور چند لمحوں بعد ہی وہ دوبارہ بائیک پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اپناراونڈ پورا کرتے ۔۔۔۔ہی ہمیشہ کے وہیں ستائشی جمعلے سننے کو ملے تھے اور شاہزیب خود کو ہواؤں اڑتا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

******…..=

زمان صاحب نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی ۔۔۔۔دوسری کڑی نظر عاتقہ بیگم پر

“وقت دیکھ رہی ہو بیگم۔۔۔۔۔رات کاایک بجنے والا ہے ۔۔۔۔”

“صبح اتوار ہے زمان ….چھٹی ہے شاہزیب کی ۔۔۔۔ ۔آ جائے گا “اندر سے تو وہ بھی پریشان تھیں ۔۔۔۔مگر وہی روایتی ماؤں والی عادت ۔۔۔۔۔اولاد کی کرتوتوں پر ۔۔۔پردہ ڈالنا ۔۔۔پھر اسے محبت کا رنگ دے کر ٹال دینا ۔۔۔۔۔

“آج اس لڑکے کے مزاج درست کر دونگا ۔میں۔۔تم بیچ میں نہیں بولو گی “زمان صاحب کو فکر کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آ رہا تھا ۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے …۔۔مگر اتنا بھی مت ڈانٹیے گا ۔۔۔ہو جائے گا ٹھیک ۔۔۔۔۔مجھے کہہ کر گیا تھا کہ آج دیر ہو جائے گی۔ ۔۔۔شش۔شاید سب دوستوں نے ملکر کمبائنڈ اسڈی کرنی تھی رزلٹ بھی تو ہمیشہ اسکا اچھا ہی آتا ہے ۔۔۔۔”عاتقہ۔ بیگم نے خود ساختہ بہانہ جڑا۔۔۔۔۔

“امی شازل نے اسے سی ویو پر بائیک پر ریس لگاتے دیکھا ہے ۔۔۔۔”شازمہ کی اطلاع اسوقت عاتقہ بیگم پر گراں گزری تھی وہ جو ٹیبل پر زمان صاحب کو چائے کا کپ دے رہی تھی برجستہ بولی تھی

“شازل کو تو اپنی ماں کی طرح لگائی بجھائی کی عادت ہے شاید ۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم ماتھے پر بل ڈالے ناگواری سے بیٹی کو گھورتے ہوئے بولیں

“عاتقہ ۔۔۔۔۔کب سمجھو گی تم ۔۔۔۔۔تمہاری ایسی غلط شے شاہزیب کو کہیں کا نہیں چھوڑے گی” ۔۔۔۔زمان صاحب غصے سے غرا کر بولے ۔۔۔۔۔

عاتقہ بیگم نے قہر بھری نظر سے شازمہ کو دیکھا ۔۔۔اور اندر اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔شازمہ وہیں باپ کے پاس کرسی کھنچ کر بیٹھ گئ

شازل۔۔۔شازمہ کا منگتر اور تایا زاد بھی تھا ۔۔۔۔اور۔ بہت دفع شاہزیب کی ان حرکتوں پر اسے پیار سے ٹوک بھی چکا تھا مگر وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتا تھا ۔۔۔۔شازل کو اب یہ حل ہی نظر آیا تھا کہ اگر وہ شاہزیب کو اسی حرکتیں کرتے دیکھتا تو زمان صاحب کو یا شازمہ کو بتا دیتا ۔۔۔۔۔کافی دیر شاہزیب کا انتظار کرنے کے بعد زمان صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔شاہزیب رات کے دو بجے واپس آیا دروازہ شازمہ نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔شازمہ کے کڑے تیور دیکھ کر شاہزیب نے مسکرا کر اسکی ناک دبائی اور اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔

“شاہو کے بچے ۔۔۔۔وقت دیکھا ہے تم نے ۔۔۔۔”شازمہ نے ایک مکا اسکے کندھے پر جڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“آہستہ بولو شامی کباب ۔۔۔۔ابو اٹھ گئے تو مجھے کچا چبا جائیں گئے “شاہزیب شازمہ کو آنکھیں۔ دیکھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔

“شکر کرو سو چکے ہیں۔ تمہارا انتظار کرتے کرتے ۔۔رات عزت سے گزرے جائے گی تمہاری صبح دیکھوں ناشتے میں کیا حشر کرتے ہیں تمہارا ۔۔۔”شازمہ نے اس کا کام کھنچ کر چھوڑتے ہوئے کہا

“کیوں بھئ ۔۔۔بول دونگا کہ دوستوں کے ساتھ کمباینڈ اسڈی کر رہا تھا ۔۔۔فون کی بیٹری ڈاؤن ہو گئ تھی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔شاہ زیب اب صبح بنانے والے بہانے شازمہ کو بتاتے ہوئے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر منہ لگا پانی پینے لگا ۔۔۔۔۔

“جی جی ظے الہی آپکا یہ بہانہ ضرور کام آتا اگر شازل نے تمہیں سمندر کے کنارے بائیک پر سرکس کرتے نا دیکھا ہوتا ۔۔۔۔”شاہ زیب نے برجستہ منہ پر لگی بوتل کو پیچھے کیا ۔۔۔۔

“شازل بھائی ۔۔۔۔ابو کو بتا بھی دیا ۔۔۔۔”شاہزیب کی اب جان نکلی تھی ۔۔۔۔۔

“جی ۔۔۔بالکل “شازمہ نے بھائی کے اڑے ہوئے رنگ سے محفوظ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“امی صحیح کہتی ہیں ۔۔۔۔عورتوں والی ساری خصوصیات موصوف میں۔ پائی جاتی ہیں جس میں سر فہرست غیبت کرنا ہے ۔۔۔تم تو خیر مناوں شامی کباب۔۔۔۔شوہر کے سات ساتھ لڑاکا نند بھی بلکل فری ملنے والی ہے تمہیں ۔۔۔۔”پانی کی بوتل بند کر کے شاہزیب نے فریج میں رکھ دی

“جی نہیں وہ تمہاری فائدے کے لئے ہی کہتے ہیں”

“جی جی آپ حمایت نہیں۔ کریں گی تو اور کون کرے گا ۔۔۔خیر۔۔۔جلدی سے کچھ کھانے کو دو ۔۔۔صبح تو ابو کی ڈانٹ کے علاؤہ کچھ بھی نصیب نہیں ہونے والا “شاہزیب کی بات پر شازمہ نے برجستہ آج کا مینو بتایا

“بھنڈی بنی ہے ۔۔۔کھاوں گئے “شازمہ کی توقع کے عین مطابق شاہزیب کے منہ کے کئ آڑے ٹہرے ،زاویے بنے تھے

“تم نا صرف نام کی شامی کباب ہو بس یا پھر اپنی ہونے والی ساس کے سامنے نمبر بڑھانے کے لئے کباب بناتی ہو ورنہ میرے لئے تو بھنڈی کریلے بیگن ہی بنانے کو ملتے ہیں تمہیں ۔۔۔۔آملیت بنا کر دیدو ۔۔۔میں ذرا فرش ہو کر آتا ہوں “شاہ زیب اپنے کمرے میں۔ چلا گیا ۔۔۔۔چار کمروں کے اپاٹمنٹ میں شاہزیب اور عاصم کا ایک ہی کمرہ تھا ۔۔۔۔۔اکتوبر کے گرم موسم میں بھی اس لڑکے کو کیسے لحاف تانے نیند آتی ہے ۔۔۔۔شاہزیب نے کمرے میں داخل ہوتے جب عاصم کو لحاف منہ تک تانے سوتے دیکھا تو کہے بغیر رہ نہیں سکا۔۔