One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 2
Rate this Novel
One Wheeling Episode 2
One Wheeling by Umme Hani
دستر خواہ پر پھر سے دال دیکھ کر رباب کا منہ بن گیا تھا ۔۔۔۔
“آپاں ۔۔ابھی پرسوں تو دال کھائی تھی…..مجھے نہیں کھانی ۔۔۔۔” رباب خفگی سے منہ بنا کر بولی
“بری بات ہے روبہ جو بھی پکے بسم اللہ پڑھ کر شروع کرتے ہیں نقص نکالنے اور منہ بنانے سے اللہ ناراض ہوتا ہے بیٹا ۔۔۔۔۔”رابعہ بیگم نے نے رباب کو پیار سے ٹوکتے ہوئے کہا
“امی ہر دوسرے دن دال مجھ سے نہیں کھائی جاتی ۔۔۔”رباب نے پلیٹ پیچھے کھسکا کر کہا
“روبی بچے تم مجھے کال کر دیتی ۔۔۔میں باہر سے اپنی گڑیا کو کچھ لا دیتا ۔۔۔۔”باسم کے نرم لہجے پر اسکی والدہ نے ٹوک دیا
“کیوں لا دیتے ۔۔۔۔اتنے نخرے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔مہنے کے آخری دنوں میں کیسے منہ سوکھ جاتا ہے تمہارا۔۔۔۔ خرچہ کتنی مشکل سے کرتے ہیں ہم لوگ ۔۔۔ کیا یہ نہیں جانتی ۔۔۔۔چلو روبہ خاموشی سے کھانا کھاؤ ۔۔۔۔ تمہارا بھائی کوئی مشین نہیں پیسے کمانے والی انسان ہے ۔۔۔دن رات نہیں دیکھتا تم لوگوں کے لئے “رابعہ بیگم نے اپنا سفید ڈوپٹہ سر پر جماتے ہوئے غصے سے رباب کو گھرکا تھا باسم کو برا سا لگا رباب میں تو جان بستی تھی اسکی
“امی پلیز چھوٹی ہے وہ ۔۔۔۔کیوں ڈانٹ رہیں اسے ۔۔۔روز جو پکے چپ چاپ کھاتی ہی ہے کیا ہوا جو آج اسکا دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔اور میں دن رات ایک آپ لوگوں کے لئے ہی کر رہا ہوں ۔۔۔میری گڑیا کو اب آپ بلکل نہیں ڈاٹیں گی ۔۔۔۔چلو روبی تم اٹھو اور بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھ کر آؤں ۔۔۔۔میں بس کھانا ختم کر لوں پھر چلتے ہیں باہر ۔۔۔جو تمہیں پسند ہو ۔۔۔وہ کھا لینا “
“باسم “رابعہ بیگم نے سخت نظروں سے بیٹے کو دیکھا رائمہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی جانتی تھی کہ باسم رکے گا نہیں
“امی پلیز ۔۔۔۔روبی کب روز روز فرمائش کرتی ہے “روباب کا چہرا تو باسم کی بات پر چہکنے لگا تھا فورا سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ
“باسم کیا ضرورت ہے اس فضول خرچی کی “
“امی مجھے یہ احساس دلا کر اتنا شرمندہ۔ مت کیا کیجیے کہ میں صرف آپ لوگوں کی ضروریات ہی پوری کر سکتا ہوں ۔۔۔۔پھر اگر بابا زندہ ہوتے تو کیا وہ روبی اور رائمہ کی فرمائشیں پوری نہیں کرتے ۔۔۔۔کرتے نا ۔۔۔۔۔”باسم کی بات پر اسکی والدہ کی آنکھوں میں آنسوں چمکنےگے
“جیتے رہو بیٹا ۔۔۔اللہ تمہیں ہم پر سلامت رکھے ۔۔۔۔رابعہ بیگم نے ڈوپٹے کے کنارے سے آنسوں صاف کیے اور دل بیٹے کے لئے دعا گو ہونے لگا
رباب فٹا فٹ سے بڑی سی چادر لپٹے چھوٹے سے صحن میں پہنچ گئ باسم بھی اٹھ کر صحن کے سامنے لگے واش بیسن سے ہاتھ دھونے لگا۔۔۔۔۔اور پھر دونوں بائیک پر بیٹھ کر باہر نکل گئے
رباب نے باہر بیٹھ کر بریانی کھائی اور اسکے بعد آئسکریم کھا کر گھر آئی تھی ۔۔۔۔اسکے چہرے پر خوشی دیکھ کر باسم بھی مطمئن ہو گیا تھا ۔۔۔
باسم اپنی زمہ داریوں سے ۔منہ موڑنے والوں سے ہر گز نہیں تھا اپنی تنخواہ سے ہر ماہ ایک معقول رقم وہ سیو کر رہا تھا ۔رابعہ بیگم گھر کا خرچہ بہت سوچ سمجھ کر سمجھداری سے چلاتی تھی اسراف سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتی تھیں ۔باسم رائمہ کی شادی کے لئے بھی پیسے سیو کر رہا تھا ۔۔۔۔ اب اسے ایک اچھے رشتے کا انتظار تھا ۔۔۔۔تا کہ عزت سے اپنی بہن کو رخصت کر سکے
******……..
“تم سمجھاتی کیوں نہیں ہو شاہزیب کو ۔۔۔۔دن با دن اس کا شوق جنون کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے شازو “شازل فون پر شازمہ پر بگڑنے لگا ۔۔۔۔
“شازل میں کیا کر سکتی ہوں روز تو کہتی ہوں اسے ۔۔۔میری سنے تب نا ۔۔۔میں نے تو ابو سے بھی شکایت لگانے میں گریز نہیں کیا ۔۔۔۔۔تمہیں پتہ امی سے الگ ڈانٹ پڑی ہے اس بات پر مجھے “وہ روہانسی ہوئی
“”سارا بگاڑ ہی چچی کی شے کا نتیجہ ہے “شازل کو تو جیسے موقع مل گیا تھا
“اچھا اب بس بھی کرو ۔۔۔۔دو تین مہینے میں ویسے بھی جاب کرنے لگے گا تو خود ہی مجبور ہو کر چھوڑ دے گا یہ سب ۔ابو نے بات کی ہے اپنے دوست سے کمپوٹر کے کافی کورس وہ کر چکا ہے ۔۔۔اب یونیورسٹی کے بعد اکیڈیمی میں کمپوٹر کورس کروایا کرے گا ۔۔۔۔پھر کہاں فرصت ملے گی ایسی ایکٹیوٹی کی ۔۔”شازمہ کو ہر وقت اپنے بھائی کے لئے شازل سے ایک لمبا چوڑا لیکچر سنا اچھا نہیں لگتا تھا ۔۔۔۔جو شازل کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔۔۔
“او کے مجھے کیا لگے جب تم لوگوں کو ہی پروا نہیں ہے ۔۔۔۔اینی وئے تمہیں یہ بتانے کے لئے فون کیا تھا کہ امی آج میرے ساتھ آئیں گی تمہاری طرف ذرا اچھا سا پوچھ لینا انہیں”شازمہ بیڈ پر لیٹے ہوئے بات کر رہی تھی شازل کی بات پر اٹھ کر بیٹھ گئ
“کیا مطلب ہے شازل ہم نے کب انہیں ٹھیک سے نہیں پوچھا “
“یار میرا مطلب یہ نہیں ہے ۔۔۔بس یونہی امی کو شکایت ہی رہتی ہے ۔۔۔ہر بار چائے پے مت ٹرخایا کرو کھانا وانا کھلا دیا کرو انہیں ۔۔۔۔کچھ دیر بیٹھ کر بات کرلیا کرو کمپنی دیا کرو انہیں وہ کون سا روز روز آتی ہیں ۔۔۔۔۔ “شازل کی شکایتوں کی پٹاری جو ایک بار کھلتی تھی تو بند ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی حالانکہ ہر اتوار کو زمرد بیگم اور شازل لازمی انکے گھر آتے تھے ۔۔۔
“شازل ہر بار ہم تائی جان کو کھانے پر روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ خود ہی نہیں رکتیں ۔۔۔۔”شازمہ نے وضاحت دی
“تم چچی جان سے کیوں نہیں کہتیں وہ تو امی کو وقت دیا کریں ۔۔۔۔وہ تو امی کو دیکھتے ہی کام کے بہانے بنائے اٹھ کر چلی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔”شازل نے شکایت کی
“امی کے مزاج کو تو تم سمجھتے ہو ۔۔۔۔لیکن میں نے تو کبھی تائی جان کو شکایت کا موقع نہیں دیا “
“اسی لئے امی کے لاکھ منع کرنے پر بھی میں نے صرف تم سے منگنی کی ہے ۔۔۔بس میں چاہتا ہوں تم انکا ذیادہ سے ذیادہ۔ خیال رکھو۔۔۔ انہیں کسی بھی قسم کی شکایت کا موقع مت دو ۔۔۔۔تا کہ میں انکے سامنے یہ کہہ سکوں کہ میرا فیصلہ بلکل ٹھیک تھا ۔۔۔۔”شازل کی بات پر وہ کچھ بول ہی نہیں پائی ۔۔۔۔۔۔۔یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ وہ اپنی تائی امی کی لاکھ خدمت کر کے بھی انکے ماتھے کے بل کبھی سیدھے نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔کمرے سے باہر زمان صاحب کی غصے سے چلانے کی آواز پر شازمہ بیڈ سے اٹھ بیٹھی تھی اور برابر میں سوئی ہوئی نمیرہ کسمسا کر موندی آنکھوں سے شازمہ سے پوچھنے لگی
“شازی آپی ابو کس پر چیخ رہے ہیں اتنی سویرے سویرے “
“ہمارے چہتے شاہو پر “شازمہ نے جل کر جواب دیا اور آٹھ کر کھڑی ہو گئ بکھرے بالوں کو سمیٹ کر کیچر لگایا ڈوپٹہ اوڑھا اور کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔سامنے چھوٹے سے لاونج میں رکھے ڈائنگ ٹیبل پر زمان صاحب خاصے غصے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ان کے سامنے شاہزیب نہایت مہدب انداز میں سر جھکائے فرمابردار اور ہونہار اولاد کی طرح کھڑا تھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم بھی کرسی پر بگڑے ہوئے موڈ سے بیٹھیں تھیں
“تم سے کچھ کہہ رہا ہوں میں بائیک کی چابی دو مجھے۔۔۔ آج کے بعد بس میں سفر کرو یا چنچی پر موٹر بائیک تمہیں نہیں ملے گی ۔۔۔میں نے تمہیں ۔ بائیک تمہاری سہولت کے لئے لیکر دی تھی ۔۔۔۔۔سمندر پر کرتب دیکھانے کے لئے نہیں اتنا شوق ہے تو کسی سرکس میں چلے جاؤں موت کے کنوئیں میں دیکھاوں اپنے فن کے مظاہرے ۔۔۔۔اچھےپیسے مل جائیں گئے تمہیں ۔۔اور تالیاں پیٹنے والے بھی کافی مل جائیں گئے “زمان صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہوتا تھا
“ابو شازل بھائی کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔میں۔ تو خرم کے ساتھ تھا رات ڈیر بجے تک اپنا اسئمنٹ تیار کرتا رہا ۔۔۔۔آپ بے شک خرم اور صیفی سے پوچھ لیں “شاہزیب چہرے پر مظلومیت سجائے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ہر چیز سے بے خبر ہو
“لاو فون دو اپنا ۔۔۔۔”زمان صاحب نے کڑے تیوروں سے کہا
“میں بات کراوا دیتا ہوں “شاہزیب نمبر ملانے لگا
“نہیں میں خود کرو گا ۔۔۔لاو موبائل دو ادھر “
شاہزیب نے موبائل انکی طرف بڑھا دیا سیفی اور خرم کو وہ پہلے ہی سمجھا چکا تھا کہ اگر اسکے والد کبھی فون کریں تو بات کو سنبھال لیں اس لئے بیفکر تھا
۔۔۔زمان صاحب نے موبائل چھینے کے اندا،ز سے لیا ۔۔۔۔خرم کا نمبر ملایا اور فون اسپیکر پر کر دیا ۔۔۔۔
دو تین بیلوں کے بعد خرم نے فون اٹھایا شاید نیند میں تھا ایک لمبی جمائی با آواز لی اور خمار آلود لہجے میں۔ بولا
“ہاں بولو ہیرو آج کا کیا پروگرام ہے ۔۔۔۔رات والا بائیک کا سین کیوں نا آج مین روڈ ہے ہو جائے ۔۔۔۔۔۔”خرم نے بنا ہیلو سنے ہی شازل کی بات پر مہر لگا دی تھی شاہ زیب کا تو سانس ہی اوپر کا اوپر رہ گیا ۔۔۔۔۔زمان صاحب نے فون بند کیا غصے سے شاہزیب کو دیکھا ۔۔۔اور موبائل اپنی جیب میں رکھ لیا ۔۔۔۔
“اگر تم کوئی تماشہ نہیں چاہتے تو شرافت سے بائیک کی چابی مجھے دیدو “شاہ زیب دل میں جی بھر کے خرم کو گالیاں ی دیں ۔۔۔۔
“کمینے کو ہزار بار کہا تھا پہلے آواز سن لیا کر ۔۔۔مگر کمبخت جلد بازی میں ہمیشہ گڑبڑ کر دیتا ہے ٫دل کی بھڑاس دل میں ہی نکال کر
جیب سے چابی نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھ دی “زمان صاحب نے چابی لی اور اپنے کسی دوست کی طرف چلے گئے
*******……
“امی میں نے آفس میں کمیٹی ڈالی تھی اگلے مہینے نکلے گی ۔۔۔۔سوچ رہا ہوں ۔۔۔اوپر کا پورشن مرمت کروا لوں ۔۔۔۔۔”باسم نے رابعہ بیگم کے پاس بیٹھے چائے پیتے ہوئے بتایا
“کیا ضرورت ہے اوپر کے پورشن کی مرمت میں پیسہ لگانے کی ۔۔۔۔رائمہ کی شادی کے لئے سنبھال رکھو ۔۔۔۔کام آئیں گئے ہمارا گزارا تو ہو ہی رہا ہے ۔۔۔میں اور آئمہ رباب ایک کمرے میں آرام سے رہ لیتے ہیں تمہارا کمرہ بھی الگ سے ہے ۔۔۔۔مہمانوں۔ کے لئے ڈرائینگ روم بھی سیٹ ہے ۔۔۔۔پھر کیا کریں گئے اوپر کے پورشن کا “
“امی میں نے یہ کب کہا کہ اوپر اپنی رہائش رکھیں گئے ۔۔۔۔ذرا سی مرمت سے اچھا بھلا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔کرایے پر چڑھا دیں گئے اسکا دورازہ بھی میں الگ سے نکلوا دونگا ۔۔۔۔۔کچھ سہولت ہو جائے گئ “باسم کی بات پر اب وہ سوچ میں پڑ گئیں تھیں ۔۔۔۔۔بات تو اسکی ٹھیک کی تھی ذرا سی مرمت پر گھر اگر کرایے پر چڑھ جاتا تو فائدہ تو انہیں کا تھا ۔۔۔۔۔
“امی کیا سوچ رہی۔ ہیں ۔۔۔۔”باسم نے خالی کپ سامنے رکھی۔ ہوئی تپائی پر رکھا
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔کرایہ اگر ہر مہینے آ جائے تو سوچ رہی ہو ایک کمیٹی میں محلے میں ڈال لوں رائمہ کے لئے ۔۔۔۔”
“جی امی ایسا ہی کر لیجیے گا ۔۔۔۔بس اگلے مہینے سے میں اسکی مرمت کا کام شروع کروا دونگا “
******……..
“امی۔۔۔۔ ابو کو سمجھائیں نا آئندہ نہیں کرو گا ایسے۔۔۔۔ دوستوں کے ساتھ بھی نہیں جاؤں گا مجھے بائیک کی چابی دیدیں “عاتقہ بیگم کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھیں شاہ زیب مسلسل ایک گھنٹے سے انکی منتیں کر رہا تھا ۔۔۔
“مجھ سے تو تم بات مت کرو میری مانتے ہو کیا ۔۔۔۔خود بات کرو اپنے ابو سے “عاتقہ بیگم ہری مرچیں کتر کر ہانڈی میں ڈالتے ہوئے بولیں شازمہ بھی وہیں کھڑی سنک کے پاس برتن دھو رہی تھی
“امی پلیز کہہ تو رہا ہوں ۔۔۔آئندہ نہیں کرو گا ۔۔۔۔” “شاہزیب التجا کرتے ہوئے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔۔۔۔عاتقہ بیگم تو پہلے ہی دونوں بیٹوں پر فدا رہتی تھیں ۔۔۔اسکے گال تھپتھپا کر بولیں
“اچھا کرتی ہوں میں تمہارے ابو سے۔ بات جان مت کھاؤ۔ میری “۔۔۔۔۔۔شاہزیب کا گال کھنچ کر لاڈ سے بولیں ۔۔۔۔اپنے قد سے کئ گنا اونچا دکھنے والا شاہزیب انہیں ہمیشہ چھوٹا سا بچہ ہی لگتا تھا جو منت اور التجاؤں سے اپنی بات منوا ہی لیتا تھا ۔۔۔۔۔
“امی آپ دو دن رہنے دیں اسے بائیک کےبغیر کیوں اسکی باتوں میں آ رہیں ہیں “شازمہ جو اب برتنوں سے فارغ ہو کر سلاد کاٹ رہی تھی اپنی امی کے نرم پڑنے پر برجستہ بولی
“تم منہ بند رکھو شامی کباب سارا تمہارے اس شازل کا کیا دھرا ہے چغل خور کہیں کا “شاہزیب غصے سے آنکھیں دیکھاتے ہوئے شازمہ سے بولا بڑی مشکل سے تواس نے ماں کو راضی کیا تھا
“کبھی اپنی غلطی بھی مان لیا کرو ۔۔۔۔تم اگر ایسی حرکتیں ہی چھوڑ دو تو کسی کو بھی کچھ کہنے کا موقع نہیں ملے گا ۔۔۔۔۔۔” شازمہ نے بھی بھائی کو گھورتے ہوئے کہا
“امی ۔۔۔اسے سمجھا لیں ۔۔۔۔سمجھا لیں اسے ۔۔۔۔میرے منہ نا لگے یہ ۔۔۔اگر اس کی وجہ سے ابو نے مجھے چابی نہیں دی تو میں “۔۔۔۔۔شاہ زیب غصے سے دانت بیچ کے رہ گیا ۔۔۔۔بائیک ایک نشے کی طرح اسکے خون میں سرایت کر چکی تھی ۔۔۔۔صبح سے وہ بنا پانی مچھلی کی طرح مچل رہا تھا ۔۔۔۔
“میں تو ضرور منع کروں گی ابو کو ۔۔۔۔اتنے بد تمیز ہوتےجا رہے تم کے بڑی بہن کا بھی لحاظ نہیں ہے تمہیں “شازمہ بھی غصے سے بولی ۔۔۔۔
“چپ کرو تم دونوں ۔۔۔۔شازمہ چپ رہو ۔۔۔اور آٹا گوندھو ۔۔۔روٹی نمیرہ بنائے گی “عاتقہ بیگم نے جھگڑا ختم کرتے ہوئے کہا
“شاہزیب تم بھی جاؤں اپنے کمرے میں تمہارے ابو آتے ہیں تو میں لے دیتی ہوں تمہیں چابی شور مت مچاؤ “شاہزیب شازمہ کو أنکھیں دیکھاتے ہوئے کچن سے باہر نکل گیا
“امی آپ غلط کر رہیں ہیں۔۔۔۔”شازمہ آٹے کا تسلہ لئے اس میں آٹا چھانتے ہوئے بولی
“بس بھی کرو ۔۔۔۔بچہ ہی تو ہے ۔۔۔۔ذیادہ روک ٹوک بچوں کو باغی کر دیتی ہے شازی “ہانڈی کے نیچے آگ ہلکی کرتے ہوئے عاتقہ بیگم نے بیٹی کو سمجھانے کی کوشش کی
“جی اور ضرورت سے زیادہ ڈھیل بھی انہیں بگاڑ دیتی ہے ۔۔۔چند دن تو اسے بائیک کے بغیر رہنے دیں اسے اپنی غلطی کا احساس تو ہو۔۔۔ وہ دو بول منت کے آپ کو بول دیتا ہے آپکی ممتا فورا ہی جوش مارنے لگتی ہے “شازمہ اب آٹے میں پانی ڈالے اسے گوندنے کے ساتھ ساتھ ماں کو سمجھانے کی ناکام کوشش بھی کر رہی تھی
“اچھا نا چھوڑو تم اسے ۔۔۔۔صبح تم کہہ رہی تھی کہ ضروری بات کرنی تھی مجھ سے کیا کہنا تھا ۔۔۔”عاتقہ بیگم نے موضوع بدلہ
“ہاں امی یاد آیا ۔۔۔۔۔شازل کہہ رہا تھا کہ آج شام کو تائی امی آئیں گئی۔۔۔۔”
“آج پھر ۔۔۔۔اس عورت کا اپنے گھر میں دل کیوں نہیں لگتا ابھی پچھلے ہفتے تو آئی تھی ۔۔۔۔۔اب پھر سے لگ جاؤں اسکی خاطر تواضع میں ۔۔۔”عاتقہ بیگم نے گہری سانس کے ساتھ طنز کیا
“امی اس بار چائے پر مت ٹرخا دیجیے گا انہیں وہ نا بھی مانیں تب بھی انہیں کھانا کھلائے بغیر مت جانے دیجیے گا “
“کیوں بھئ ۔۔۔وہ ہمہیں کیا پوچھتی ہے ۔۔۔۔جب بھی جاؤ بس ایک گلاس بوتل ہاتھ میں تھما کر اپنی بیماریوں کے رونے شروع کر دیتی ہے ۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔میں عاصم سے سموسے جلیبیاں منگوا دوں گی ۔۔۔تم چائے بنا دینا “عاتقہ بیگم برہمی سے بولیں
“امی ۔۔۔۔کیوں مجھے شازل کے سامنے ذلیل کروایں گی أپ “شازمہ آٹا گوند چکی تھی اب سنک پر اپنے ہاتھ دھوتے ہوئے ملتجی انداز سے بولی
“اچھا تو یہ حکم نامہ شازل کی طرف سے جاری ہوا ہے ….کوئی ضرورت نہیں ہے اسے اتنا سر چڑھانے کی اسکی ماں ہمارے لئے کون سے لوازمات کے ڈھیر لگاتی ہے “عاتقہ بیگم کے تلوں پر لگی اور سر پر بجھی تھی دونوں دیورانی جھٹانی میں کبھی نہیں بنی تھی زمرد بیگم اگر سیر تھیں تو عاتقہ بیگم سوا سیر بن کر دیکھاتی تھی ۔۔۔اور بیچ میں پس کر رہ جاتی تھی بیچاری شازمہ
“امی اگر آپ کو مقابلے بازی ہی کرنی تھی تو میرا رشتہ ہی کیوں کیا وہاں ۔۔۔۔یا تو رشتوں کو طریقے سے نبھا لیں۔ یا پھر توڑ دیں یہ منگنی اور پھر مقابلہ کر لیں تائی امی سے “شازمہ زچ ہوتے ہوئے کچن سے نکل گئ عاتقہ بیگم بیٹی کا منہ دیکھتے رہ گئیں۔۔
