One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 26

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 26

One Wheeling by Umme Hani

نیناں نے شاہزیب سے بائیک اپنے بنگلے سے کچھ پیچھے ہی رکوا دی تھی ۔۔۔ورنہ کیمرے کی مدد سے فورا بختیار صاحب کو پتہ چل جاتا کہ وہ کس کے ساتھ آئی ہے ۔۔۔اپنے باپ کے مزاج کو سمجھتی تھی اسے اندازہ تھا ۔۔اسوقت تو وہ بھی غصے سے لال بھبوکا بنے ہوئے اسی کے منتظر ہوں گئے شاہزیب کو دیکھ کر کہیں کچھ الٹا سیدھا ہی نا کر دیں اسکے ساتھ اس لئے نیناں نے یہی مناسب سمجھا کہ وہ دور سے چلا جائے ۔۔۔۔۔

“بس شاہزیب یہیں روک دیں آگے میں خود چلی جاؤں گی “شاہزیب نے بائیک وہیں۔ روک دی نیناں جلدی سے نیچے اتری

“اب آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔۔میں فون پر آپ سے رابطہ رکھوں گی ۔۔۔۔۔”نیناں کے ہر انداز میں عجلت تھی

“چلا جاؤں گا لیکن تمہیں اندر تک چھوڑنے کے بعد تمہاری ابا سے بات کرنی ہے مجھے “شاہزیب کے ارادے سن کر نیناں ہواس باختہ ہوئی تھی وہ بائیک کو کھڑی کر چکا تھا خود بھی نیچے اتر گیا

“شاہزیب ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔آ آپ نہیں جائیں گئے اندر پوپس بہت غصے میں ہوں گئے “نیناں کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ایک دن تو سامنا کرنا ہی ہے میری مینا ۔۔۔چلو ابتدا آج سے کرتے ہیں “شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ تھاما اور اسکے بنگلے کی طرف چلنے لگا نیناں کی جان پر بن گئ تھی

“شاہزیب خدا کا واسطہ ہے آپ کو آپ جائیں ابھی ۔۔۔میں ۔۔۔۔میں پہلے پوپس کو منا لوں پھر آپ کو بھی بلا لوں گی “نیناں اب اسے مطمئن کر کے بھجنے کے حیلے بہانے بنانے لگی

” یہ سب تو تم بہت دن سے کر رہی ہو نیناں ۔۔۔۔تمہارے بس کی بات ہے ۔۔اب سب مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔۔ “ایسا لاپروا اور نڈر شخص نیناں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ہر بات وہ بتا چکی تھی شاہزیب کو کہ بختیار صاحب کیا ارادے رکھتے ہیں اسکے لئے مگر پھر بھی وہ یوں تیز قدم اٹھا رہا تھا جیسے بہت گرم جوشی اور پر تپاک استقبال کیا جائے گا اس کا وہاں

“شاہزیب نہیں ۔۔۔پلیز آج نہیں “نیناں کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے شاہزیب نے اپنے قدم روک کر نیناں کی طرف دیکھا اپنے ہاتھ سے اسکے آنسوں صاف کیے

“آج نہیں تو کبھی نہیں نیناں ۔۔۔۔۔ڈرنا تو مجھے چاہیے

لیکن مجھے ڈر نہیں لگ رہا (جب پیار کیا تو ڈرنا کیا….عشق میں جینا عشق میں مرنا ۔۔۔اور ہمہیں اب کرنا کیا ۔۔۔۔پیار کیا کوئی چوری نہیں کی چھپ چھپ آئیں بھرنا کیا۔۔۔جب پیار کیا تو ڈرنا ہے ۔۔۔۔نیناں کیسا لگا میرا گانا ۔۔۔۔۔۔۔”شاہزیب کے چہرے پر پھیلا اطمینان لہک لہک کر مسکرا کر گانا سنانا۔۔۔۔۔ نینان حیرت کے سمندر ۔میں غوطہ زن ہوئی تھی ۔۔۔۔اسی سچویشن میں گانا شاید وہی گا سکتا تھا۔۔۔۔نیناں کی تو جان پر بنی تھی ۔۔۔۔۔عجیب شخص تھا ابھی تک پہلی مار کے نشانات چہرے پر باقی تھے ۔۔۔۔ اور وہ بے خوف سا اسکاہاتھ تھامے ایک نئ قیامت سے نمٹنے کے لئے تیار تھا ۔۔۔۔۔نیناں سمجھ گئ تھی کہ یہ اسکا سر پھرا عاشق اب نہیں روکے گا اپنی آنکھیں بند کییں ۔۔۔خود کو مضبوط کیا۔۔۔۔۔اور اسکے ساتھ موت کے کنوئیں میں خود کو دھکیلنے کے لئے تیار ہو گئ۔۔۔۔مین گیٹ پر پہنچ کر بیل بھی شاہزیب نے دی نیناں دل اس زور سے دھڑکا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا ۔۔۔۔تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

۔۔۔۔سامنے سے چھوٹی سی کھڑکی کھلی

“کون “پٹھان نے سوال کیا لیکن نیناں کو شاہزیب کے ساتھ کر دنگ رہ گیا ۔۔۔فورا سے موبائل پر کال کرنے لگا۔۔۔۔۔

کچھ دیر دروزہ کھلا سامنے بختیار صاحب خطرناک تیوروں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔نیناں کا رنگ اڑا تھا۔۔۔۔۔نیناں سانس اٹکا تھا۔۔۔۔اسے لگا گھٹن کے مارے وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی

بختیار صاحب کی نظریں صرف شاہزیب پر تھی وہ بھی بلا تامل انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“پوپس “نیناں نے بامشکل لب کھولے مگر بختیار صاحب نے فوراسے اپنے ہاتھ کے اشارے سے نیناں کو روک دیا ۔۔۔۔اور خود دروازے سے پیچھے ہٹ گئے

“اندر آؤں شاہزیب “بڑا کرخت اور بلند لہجہ تھا ۔۔۔۔آنکھیں سرخ چہرہ سرخ ۔۔۔وہ جس قدر غصے میں تھے نیناں کو لگا کہ جسم سے اسکی روح پرواز کرگئی ہے ۔۔۔یا شاید آج آسمان اسی پر گر پڑے گا ۔۔۔۔۔نیناں کو اپنا وجود بے جان سا لگنے لگا ۔۔۔شاہزیب بے نیازی سے نیناں کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے اسے باغور دیکھا چہرے پر پہلے سے چوٹ کے نشانات تھے ۔۔۔۔۔ باپ سے اچھا خاصاپٹنے کے بعد بھی اسکی آنکھیں بے خوف تھیں ۔۔۔۔۔۔

“خان دروازہ بند کرو “بختیار صاحب نیناں کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیکھ چکے مگر چپ تھے خان نے مالک کی بات پر عمل کیا بختیار صاحب اب چلتے ہوئے شاہزیب کے مقابل کھڑے ہو گئے

“ہاتھ چھوڑو میری بیٹی کا “اپنی سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے دانت کچکچا کر کرخت لہجے میں بولے ۔۔۔نیناں ہاتھ چھڑوانےلگی مگر شاہزیب کے ہاتھ کی گرفت اور بھی مضبوط تھی وہ اب بھی انکی آنکھوں میں بنا آنکھ جھپکائے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر دوسرے ہاتھ سے بختیار صاحب کا ہاتھ پکڑا اور نیناں کا ہاتھ اس میں دے دیا ۔۔۔۔

“نیناں آپکے پاس میری امانت ہے رانا صاحب بہت جلد اسے لینے آؤں گا پوری بارات کے ساتھ “شاہزیب اب بھی بے خوف انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے اعتماد سے بات کر رہا تھا لیکن اسکی باتوں سے نیناں کے کانوں میں سٹیاں سی بجنے لگیں سامنے حیدر ہاتھ باندھے اس لڑکے کی جرت پر حیران تھا ۔۔۔۔۔شیر کی بیچھاڑ میں وہ یوں نڈر کھڑا تھا ۔۔۔۔

بختیار صاحب نے نیناں کو کھنچ کر اپنی جانب کیا ۔۔۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی انکے پاس آئی تھی پھر نیناں کو قہر بھری نظروں سے گھورا ۔۔۔۔۔۔ نیناں کا ہاتھ۔ چھوڑ کر ایک زوردار تھپڑ نیناں کے منہ پر مارا وہ دور جا کر گری تھی ۔گال کے ساتھ ساتھ دماغ میں بھی سنسناہٹ سی ہونے لگی درد سے زیادہ دکھ سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔حیدر بھونچکا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب نے تو کبھی اسے سردلہجے میں بھی بات نہیں کی تھی پھولوں طرح اسے نرمی سے رکھا تھا کبھی اسکی آنکھوں میں آنسوں تک نہیں آنے دیا تھا اور اب تھپڑ ۔۔۔۔ہل تو شاہزیب بھی گیا تھا یہ توقع تو بہرحال اسے بھی نہیں تھی شاہزیب نے بے اختیار ہی بختیار صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا انکی آنکھوں غصے سے دیکھتے ہوئے بولا

“آج کے بعد ہاتھ مت اٹھائیے گا نیناں پر “

۔۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے انہوں نے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا اور شاہزیب کا گریبان پکڑ لیا ۔۔حیدر نے فورا سے آگے بڑھ کر نیناں کو فرش سے اٹھانا چاہا مگر اس نے حیدر کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا ۔۔۔۔اور خود کھڑی ہو گئ

“جان سے مار دوں گا تمہیں اگر اپنی غلیظ زبان سے میری بیٹی کا نام بھی لیا تو ۔۔۔۔۔ “بختیار صاحب غصے کی آخری حد میں تھے شاہزیب پر چلا کر بولے

وہ انکے غصے سے بھرے لہجے اور آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا پھر مسکرا کر بولا

“نیناں “شاہزیب نے بڑے اطمینان سے اس کا نام لیا بختیار صاحب نے گریبان چھوڑ غصے سے ایک پنچ اسکے چہرے پر مارا ۔۔وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا تھا مگر شاید ہر چیز کے لئے تیار تھا اس لئے گرا نہیں تھا فورا سے سنبھل گیا ۔۔۔۔۔ چہرے کے زخموں سے پھر سے خون بہنے لگا تھا ۔۔۔۔۔نیناں شاہزیب کی طرف لپکی مگر حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

“چھوڑو مجھے حیدر “وہ ہاتھ چھڑوانے

“اگر نیناں کا نام لیا تو اتنا مارو گا کہ بھول جاؤں گئے یہ نام ۔لینا۔۔۔” بختیار صاحب دھاڑتے ہوئے بولے

“نیناں ۔۔۔۔نیناں ۔۔۔۔۔نیناں۔۔۔۔۔”شاہزیب نے ہونٹ کے قریب بہنے والے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا

بختیار صاحب اسکی طرف لپکے اسکے دونوں کندھے پکڑ کر اسے جھنجھونے لگے

“کیوں میرے ہاتھوں سے مرنا چاہتے ہو تم ۔۔۔۔دفع ہو جاؤں یہاں سے اور دوبارہ کبھی نیناں کے قریب آنے کی کوشش مت کرنا “بختیار صاحب نے اسے پیچھے دھکیلا

“میں شادی کرنا چاہتا ہوں اس سے “شاہزیب نے بے خوفی سے کہا بختیار صاحب اسکی ڈھٹائی پر غضب ناک لہجے سے چلا کر بولے

“حیثت کیا ہے تمہاری ۔۔۔۔ایک سڑک چھاپ کو دونگا

میں اپنی اکلوتی بیٹی رانا بختیار راجپوت اس شہر کا نامور بزنس مین کڑروں کی جائیداد کا مالک ۔۔۔۔ جس سے بات کرنے کے لئے بھی لوگ گھنٹوں انتظار کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں مجھ سے بات کرنے کا موقع مل جائے مجھ سے بزنس ڈیل کرنے کے لئے سفارشیں کرواتے ہیں ۔۔۔میرے آفس میں عام کلرک بھی تم سے زیادہ تعلیم یافتہ ہے ۔۔۔۔تم جیسے تھرڈ کلاس دو ٹکے کو رانا بختیار بھیک تو دے سکتا ہے لیکن بیٹی نہیں ۔۔۔۔۔کیوں اپنی موت کو دعوت دے رہے ہو میرے غصے کو مت ورغلاو لڑکے بن موت مارے جاؤں گئے ۔۔۔۔اور تمہاری موت سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا نا کسی میں اتنی ہمت ہے کہ رانا بختیار پر کیس کر سکے ۔۔۔۔کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی مجھ سے ۔۔۔ میرے کسی بھی عمل کے لئے ۔۔۔۔۔بہتر ہے کہ دفع ہو جاؤں یہاں سے ” وہ لفظوں کو یوں چبا کر بول رہے تھے جیسے شاہزیب کو کچا چبا جائیں گئے گھمنڈ نخوت انکی آنکھوں اور لہجے سے چھلک رہا تھا

“رانا صاحب آپکی جائیداد پر یہ سڑک چھاپ تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔لیکن پھر بھی یہ میرا وعدہ ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی آپ مجھ دوٹکے کے لڑکے سے ہی کریں گئے ۔۔۔” اعتماد ایسا تھا کہ جیسے وہ سب کچھ کر ہی گزرے گا

“”تو تم باز نہیں آؤں گئے ۔۔۔”بختیار صاحب نے اسکی نڈر آنکھوں میں خوف کی رمق تک نہیں دیکھی تھی

“بلکل بھی نہیں “وہی بلا کا اعتماد جس نے آگ سی بھر دی تھی بختیار صاحب کے اندر

“گاڈز اتنا مارو اسے کہ یہ اپنا نام بھی بھول جائے ۔۔۔”وہ چلا کر بولے تو چوکیدار کے برابر میں کھڑے دو ہٹے کٹے نوجواں موبانہ انداز میں سر ہلانے لگے ۔۔۔۔نیناں کو لگا کہ قیامت اب سر پر آن پہنچی ہے

“پوپس نہیں آپ کچھ نہیں کہیں گئے شاہزیب کو ۔۔۔۔۔شاہزیب خدا کے لئے چلے جاؤں یہاں سے مار ڈالیں گئے یہ لوگ تمہیں ۔۔۔۔”نیناں بلک بلک کر رونے لگی تھی اپنا آپ حیدر کی گرفت سے چھڑوا رہی تھی

وہ دو ہٹے کٹے گارڈز شاہزیب کے قریب آ گئے ۔۔۔۔ایک نے مارنے کے لئے ہاتھ اسکی طرف بڑھایا مگر نا کام شاہزیب نے اس کا ہاتھ پکڑا کر اسے پیچھے دھکیل دیا ۔۔۔دوسرا آگے بڑھا تو اسکے پیٹ پر شاہزیب نے اس زور سے پیر مار کر پیچھے دھکیلا کہ وہ بھی دوہرا ہونے لگا ۔۔۔۔۔پہلے والا پھر شاہزیب کے نزدیک آیا ایک پنچ شاہزیب کے کندھے پر لگا مگر شاہزیب کا پنچ اسکے ناک پر لگا تھا اسکے ناک سے خون بہنے لگا ۔۔۔۔شاہزیب اگر مار کھا رہا تھا تو بدلے میں مار بھی رہا تھا پورا پورا مقابلہ کر رہا تھا ان سے ۔۔۔۔بختیار صاحب نے غلط اندازہ لگایا تھا اس کے لئے۔۔۔۔ وہ بزدل نہیں تھا نا ہی باتوں کا شیر تھا عملی طور پر بھی کر گزرنا جانتا تھا ۔۔۔۔۔ پیچھے ہٹنے کو بھی تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔لڑنے کے گن بھی جانتا تھا اور لڑ بھی رہا تھا بیک وقت دونوں گارڈ کا مقابلہ کر رہا تھا حیران تو نیناں بھی تھی حیدر بھی اس لڑکے کو بڑی مہارت سے ڈٹ کر لڑتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر میں وہ دونوں گارڈ تھک ہار کر پیچھے ہٹ گئے بس تو شاہزیب کی بھی ہو چکی تھی پسینے سے شرابور وہ اپنے گھٹنوں کو پکڑے اب لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔بختیار صاحب کو یہ شکست اس چھاناک بھر کے چھوکرے سے کھانا اپنی اہانت اور ہزمیت پر گالی کے مترادف لگی ۔۔۔۔ اس لئے خود آگے بڑھے اور خود شاہزیب کو مارنا شروع کر دیا لیکن اس بار شاہزیب نے نا انہیں رکا نا انکا ہاتھ پکڑا وہ یوں مار کھا رہا تھا جیسے لڑنا جانتا ہی نا ہو ۔۔۔نیناں چلانے لگی اپنے باپ کی منتیں کرنے لگی تا کہ وہ شاہزیب کو چھوڑ دیں

“پوپس ۔۔۔۔ پوپس چھوڑ دیں اسے ۔۔۔اسکا قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔ کیوں مار رہے ہیں اسے ۔۔۔ میں نے مجبور کیا تھا اسے محبت میں پہل میں نے کی تھی ۔۔۔۔ مارنا ہے تو مجھے ماریں ۔۔۔۔خدا کے لئے اس چھوڑ دیں اسے۔۔۔۔”وہ چلا کر کہہ رہی تھی خود کو مسلسل حیدر کی گرفت سے چھڑوا رہی تھی رو رہی تھی ۔۔۔۔تڑپ رہی تھی

“حیدر چھوڑ دو مجھے وہ مر جائے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا چھوڑو مجھے ۔۔۔۔مجھےاسکے پاس جانا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔٫اب وہ حیدد کی منت کرنے لگی اپنی کلائی چھڑوانے لگی حیدر بے حسی سے اسکی کلائی پکڑے کھڑا تھا ۔۔۔۔نیناں کی سفید کلائی اس وقت سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔وہاں بختیار صاحب کو تو کوئی جنون سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اسے بے تحاشہ مار رہے تھے بامشکل ہی سہی مگرنیںناں نے خود کو حیدر کی گرفت سے آزاد کروا ہی لیا تھا بھاگتی ہوئی وہ شاہزیب کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔

“بس کر دیں پوپس۔۔۔۔۔آپ انسان ہیں یا جلاد ۔۔۔کیسا دل آپ کا جس میں احساس ہے نا رحم ۔۔۔۔۔قصور کیا ہے اسکا اگر محبت کی جرم کی سزا کا حقدار ہے جو آپ اسے دے رہے ہیں تو مجھے بھی ماریں ۔۔۔میں بھی برابر کی قصوروار ہوں ” نیناں شاہزیب کے آگے کھڑی بختیار صاحب کے سامنے کھڑی روتے ہوئے بول رہی تھی شاہزیب کا پورا چہرہ نیلو نیل ہو چکا تھا ۔۔۔۔مگر۔بختیار صاحب کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا

“ہٹو آگے سے اسے میں چھوڑو گا۔ نہیں ورنہ اس کمینے سے کہو کے بھول جائے تمہیں اور ۔ دفع ہو جائے یہاں سے “بختیار صاحب بری طرح ہانپ رہے تھے ۔۔۔۔۔مار مار کر تھک چکے تھے شاہزیب بری طرح زخمی ہو چکا تھا مگر ڈھٹائی سے مار کھا رہا تھا

“ہٹ جاؤں نیناں مارنے دو انہیں ۔۔۔۔۔ یہ اپنی آخری حد آزما لیں ۔۔۔میں بھی اپنی برداشت کا امتحان لے لوں بیچ میں مت آؤں تم “شاہزیب کی بات پر نیناں نے پلٹ کر اسے دیکھا خون چہرے سے بہہ کر گلے سے بھی نیچے جا رہا تھا پورا چہرہ بری طرح زخمی ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

“پاگل ہو گئے تم ۔۔۔چلے کیوں نہیں جاتے ہو ،شاہزیب ۔۔۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں شاہزیب جاؤں یہاں سے “نیناں نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کی

“ایک بار رانا صاحب کہہ دیں کہ تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیں گئے میں چلا جاؤں گا ۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر بختیار صاحب کا خون ابلا تھا ۔۔۔۔۔

“بدبخت انسان بکواس بند کرو اپنی “اس سے پہلے کہ بختیار صاحب پھر سے شاہزیب کو مارتے نیناں نے جلدی سے برابر میں کھڑے چوکیدار کی جیب پر لٹکی پسٹل پکڑ کر اپنے سر پر تان لی ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کے قدم اور سانس وہیں رک گئیں تھیں

“نیناں “وہ بے یقین سے ہوئے

“پوپس اگر آپ نے اب شاہزیب کو ہاتھ بھی لگایا تو میں خود کو ختم کر لوں گی “آنسوں اب بھی اسکے رخسار بھگو رہے تھے ۔۔۔۔

“اسے نیچے کرو نیناں چل جائے گی یہ بیوقوف لڑکی “بختیار صاحب کی جان پر اب بنی تھی

“شاہزیب جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔۔”نیناں نے اپنے پیچھے کھڑے شاہزیب سے کہا

“نیناں پہلے نیچے کرو اسے چل جائے گی یہ “

“ہاں تو چل جائے ۔۔۔۔ پوپس کو بھی پتہ چلے کہ تکلیف کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔تمہیں مارتے ہوئے تو احساس تک نہیں ہوا انہیں چاہے تم جان سے کیوں نا مر جاتے لیکن میرے مرنے پر تو ضرور ہو گا ۔۔۔۔۔ “

“نیناں “بختیار صاحب نے ایک قدم آگے بڑھایا ۔۔۔۔

“پوپس پیچھے رہیں ورنہ میں خود کو ختم کر لوں گی ۔۔۔۔۔شاہزیب نیناں کے پیچھے کھڑا تھا مگر کچھ فاصلے پر تھا اور نیناں پسٹل اپنے سر پر تانے کھڑی تھی ذراسی بے احتیاطی سے گولی اس کا بھیجا کھول سکتی تھی ۔۔۔۔

شاہزیب دھیرے دھیرے اسکے قریب بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔

“شاہزیب جاؤں یہاں سے “نیناں بنا اسکی جانب دیکھے اسے کہہ رہی تھی ۔۔۔اسکی نظر سامنے بختیار صاحب پر جمی ہوئیں تھیں

“ہاں جا رہا ہوں تم پسٹل نیچے کرو ۔۔۔نیناں “شاہزیب اپنے زخم بھولے نیناں کی فکر میں تھا حیدر بھی تیز چلتا ہوا بختیار صاحب کے پاس کھڑا ہو گیا رنگ حیدر کا بھی اڑا ہوا تھا ۔۔۔بختیار صاحب کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو لہو نا نکلے

“پہلے آپ جاؤں یہاں سے شاہزیب “

نیناں کو باتوں میں بہلا کر وہ اسکے قریب پہنچ چکا تھا شاہزیب نے نیناں کے ہاتھ سے پسٹل کھنچ لی ۔۔۔۔بختیار صاحب کا سانس بحال ہوا تھا ۔۔۔۔۔نیناں برجستہ پیچھے پلٹی تھی

“یہ کیا کرنے جارہی تھی تم ۔۔۔اگر یہ چل جاتی تو جانتی بھی کیا ہو جاتا ۔۔۔۔”شاہزیب غصے سے غرا کر بول رہا تھا ۔۔۔۔

“سب کی مشکل آسان ہو جاتی ۔۔۔۔ میرا ہی سارا قصور ہے شاہزیب ۔۔۔آپ نے بہت منع کیا تھا مجھے ۔۔۔۔ہر بات سے آگاہ کیا تھا ۔۔۔۔ ہمارے بیچ کے فرق کو بھی بتایا تھا ۔۔۔میں نے ہی ایک نہیں سنی ۔۔۔۔مجھے لگا تھا میرے پوپس مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ عام باپوں کی طرح نہیں ہیں ۔۔۔۔۔اس لئے میری محبت کو دل سے قبول کر لیں گئے لیکن میں غلط تھی ۔۔۔۔وہ بھی روایتی سے باپ نکلے پورے کے پورے دنیادار ۔۔۔۔۔مجھے معاف کر دیں “

“اب تو ہو چکا نا ۔جو ہونا تھا ۔۔معافی مت مانگوں مجھ سے۔۔۔۔”شاہزیب کے ہونٹوں کے دونوں کنارے پھٹ چکے تھے خون بھی بہہ رہا پھر بھی اسے تسلی دے رہا تھا سامنے کھڑے بختیار صاحب کو وقتی خفت نے آن گھیرا ۔۔۔جیسے اتنا بے تحاشہ مار رہے تھے اسی نے نیناں کو بچایا تھا ۔۔۔۔نیناں نے اپنے ہاتھ سے شاہزیب کے چہرے پر لگے خون کو صاف کیا ۔۔۔۔۔ساتھ ہی ساتھ سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔اسے لگا چوٹ شاہزیب کو نہیں نیناں کو لگی ہو ۔۔۔۔۔

شاہزیب نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بختیار صاحب کے پاس لے آیا ۔۔۔۔

“آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔۔میں یہاں آپکی مار کھانے آیا تھا ۔۔۔۔۔ یا آپکی اتنی مار نے مجھے میرا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔مجھے کوئی فرق نہیں پڑا ان سب چھوٹوں کا میں عادی ہوں ۔۔۔۔۔ جب سے بائیک چلانی سیکھی تھی تب سے ایسی چوٹیں میری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں مجھے درد نہیں ہوتا ۔رانا صاحب۔۔دیکھیں میری آنکھوں کہیں کوئی آنسوں کا ننھا سا بھی قطرہ نظر آ رہا ہے آپ کو ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں نا خوف تھا نا تکلیف کا کوئی تاثر اور نا ہی آنسوں کی ذراسی بھی نمی ۔۔۔۔۔

“جانتے ہیں میری مار کی تکلیف پر درد کہاں ہوا ہے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے نیناں کی طرف دیکھا جو اب بھی رو رہی تھی

“یہاں ہوا ہے ۔۔۔۔۔آنسوں بھی یہ بہا رہی ہے ۔۔۔میرے زخموں کا۔ درد اسکے چہرے پر عیاں ہے ۔۔۔۔۔ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔مار سکتے ہیں مجھے ۔۔۔۔۔۔سوچ لیں رانا صاحب کہیں میرے چکر میں اپنی بیٹی کو نا گنوا بیٹھے گا یہی بات سمجھانے آیا تھا میں یہاں آپ کو “شاہزیب کی بات پر بختیار صاحب کے دل پر گھونسا پڑا تھا ۔۔۔۔

“جا رہا ہوں مگر پھر آؤں گا ۔۔۔۔۔بار۔۔۔۔ بار آؤں گا ۔۔۔۔۔۔پیچھے ہٹنا تو شاہو نے سیکھا ہی نہیں ہے “

“نیناں خیال رکھنا اپنا “نیناں کو ایک الوداع نظر ڈالتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا

نیناں روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔۔بختیار صاحب وہیں کے وہیں کھڑے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔

********………

باسم کافی دیر تک شاہزیب کے بارے میں ہی سوچتا رہا زمان صاحب کے رویے میں ذرا لچک نہیں آئی تھی نا جانے رات کہاں گزارے گا ۔۔۔۔۔رات کا کھانا بھی باسم کے حلق سے نہیں اترا ۔۔۔۔۔۔۔جب چین نہیں آیا تو اسی نمبر پر کال کرنے لگا جو اس نے شاہزیب کو دیا تھا ۔۔۔۔۔چند بیل ہونے کے بعد ہی شاہزیب نے فون اٹھا لیا

“کہاں ہو تم “باسم نے اس سے پوچھا پیچھے سے ٹریفک کے شور کی آوازیں آ رہیں تھی”

“ہاں ہاں مجھے معلوم ہے موبائل کی فکر ستا رہی ہو گی تمہیں کل کر دونگا واپس ۔۔۔۔”شاہزیب کے جواب پر باسم نے گھور کر فون کو ایسے دیکھا تھا ۔جیسے شاہزیب کو دیکھ رہا ہو ۔۔۔عجیب سوچ ہے اس لڑکے کی میں اسکے لئے پریشان ہو رہا ہوں اور اسے لگ رہا کہ ایسے حالات میں اس سے موبائل کا پوچھوں گا فون اس نے دوبارہ کان پر لگایا

“لعنت بھیجو موبائل پر تم گھر آؤں ۔۔۔۔۔”باسم نے مدافعانہ لہجے میں کہا

“کیوں جتنا ذلیل کر چکے ہو ۔۔۔۔وہ کافی نہیں ہے ۔۔۔۔جو مزید ذلیل ہونے آ جاؤں میں یہاں پر “شاہزیب نے لاپوذئی سے شکوہ کیا

“یار میں نے ذلیل نہیں کیا ہے کر بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔بس ذرا غصے میں آ گیا تھا اس لئے ذرا ڈانٹ گیا ۔۔۔۔ اچھا سوری کر دیتا ہوں ۔۔۔۔اب واپس آؤں کہاں جاؤں گئے اس وقت

“اپنے گھر جاؤں گا ۔۔۔۔۔”

“ابھی مت جاؤں سر کا غصہ کم نہیں ہوا ہے ‘”باسم نے سمجھانا چاہا

“وہ بارہ مہینے یوں ہی رہتا ہے ۔۔۔۔مجھے پتہ ہے میرے بغیر ایک رات میں وہ سگریٹ پی پی کر ایش ٹرے بھر چکے ہوں گئے ۔۔۔۔پھوں پھاں تو بہت کریں گئے لیکن اب گھر سے نہیں نکالیں گئے ۔۔۔۔باپ ہے میرا ۔۔۔۔۔مجھے گھر میں دیکھے بنا چین کہاں آتا ہے انہیں ۔۔۔۔دس دفعہ پوچھا ہو گا خرم سیفی اور جمی سے کہ شاہزیب کہاں ہے ۔۔۔۔۔اگر نظر آ بھی جائے تو کہہ دینا کہ گھر پر نا آئے ۔۔۔۔اس کا مطلب سمجھتے ہو باسم عبدالرحمان”شاہزیب کی باتوں کی منطق بس وہی جانتا تھا

“کیا مطلب ہے “باسم کو دلچسپی سی ہوئی کیونکہ جو وہ کہہ رہا وہ سچ تھا سگریٹ کے ٹکروں سے بھرا سی ٹرے تو اس نے خود دیکھا تھا

“بڑے ہی نالائق شاگرد ہو میرے ابا کے ۔۔۔چار سال پڑھ کر بھی انہیں نہیں سمجھے ۔۔۔۔بدھو اس کا مطلب ہے کہ شاہزیب جہاں بھی ملے اسے بولو فورا گھر آ جائے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے بات ختم کر کے ہسنا شروع کر دیا فون بھی بند کر دیا ۔۔۔۔۔باسم اسکی بات کے گرداب میں الجھا رہا

*******………

زمان صاحب ابھی گھر نہیں آئے تھے اپنے بڑے بھائی کے بلانے پر انکے گھر گئے تھے ۔۔۔گھر کی ڈور بیل مسلسل بجی تھی اور یہ خاص انداز شاہزیب کا ہی تھا عاتقہ بیگم جو کمرے میں بیٹھی اب بھی رو رہیں تھیں فورا سے اٹھ کر کمرے سے نکلیں اتنی دیر میں عاصم دروازہ کھول چکا تھا ۔۔۔۔۔

اسے اس قدر زخمی حالت میں دیکھ کر وہ دنگ رہ گئیں تھیں بھاگتے ہوئے اس تک پہنچی تھیں

“شاہزیب یہ سب کیا ہو گیا ۔۔۔۔کس سے لڑ کر ا رہے ہو “عاتقہ بیگم کی جان نکلی تھی خون سے تربتر بیٹے کا چہرہ دیکھ کر عاتقہ بیگم نے چہرے پر ہاتھ سے خون صاف کیا

“شازی کہاں ہے امی “شاہزیب کو کہاں پروا تھی اپنے زخموں کی فی الحال تو بہن کا مزاج درست کرنا ضروری تھا ۔۔۔۔عرقہ بیگم کا ہاتھ نرمی سے اپنے چہرے سے پیچھے کرتے ہوئے گویا ہوا

“چھوڑو شازی کوبتاوں مجھے یہ چوٹیں کیسے لگیں “عاتقہ بیگم کا کلیجہ منہ کو آیا تھا

“شازی ۔۔۔۔شازی باہر آؤں “شاہزیب نے ماں کی بات کو نظر انداز کیااور شازمہ کو پکارنے لگا

شازمہ اور نمیرہ کمرے میں جائے نماز بچھائے اسی کے لئے نوافل پڑھ کر دعاؤں میں مشغول تھیں شاہزیب کی آواز سن کر دونوں مصلے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلیں اسے سامنے زخمی حالت میں دیکھ کر نمی تو رونے لگی تھی شاز،مہ بھی پریشان ہو کر اسکی طرف لپکی

“شاہو کیا ہوا ہے تمہیں اتنا خون اتنی چوٹیں “شازمہ نے ڈوپٹے سے اس کا چہرا پونچنا چاہا ۔۔۔ شاہزیب نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا ۔۔۔۔۔

“یہ دیکھلاوئے کا پیار مجھے مت پر مت جتاو۔۔۔سب سے بڑی دشمن ہو تم میری ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی غیر متوقع بات پر شازمہ حیران ہوئی تھی عاتقہ بیگم تو ویسے ہر بات سے انجان تھیں ۔۔۔۔نمی بھی تذبذب سی ہوئی عاصم بھی چپ چاپ آنسوں بہا رہا تھا ۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے شاہو کیسے بات کر رہے ہو کہاں سے آ رہے ہو لڑے ہو کسی سے ۔۔۔۔۔”شازمہ اصل بات اب بھی نہیں سمجھی تھی

“اپنی قسمت سے لڑ کر آ رہا ہوں ۔۔۔۔ جو تمہاری وجہ سے بدقسمتی میں بھی بدل سکتی تھی “شاہزیب نے کہا اور ساتھ ہی اسے بازو سے زور پکڑ لیا

“کیا کرنے گئ تھی نیناں کے گھر ۔۔۔۔کس سے پوچھ کر گئ تھی ۔۔۔۔بہت بڑی ہو مجھ سے ۔۔۔۔ میری زندگی کے فیصلے کا اختیار کس نے دیا تھا تمہیں ۔۔۔ہاں “شاہزیب نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا شازمہ سمجھ گئ تھی اسکے غصے کی وجہ

“کیا ہوا شاہزیب “عاتقہ بیگم بھی پریشان تھیں

“امی اسے کہہ دیں آئندہ اگر اس نے نیناں سے بات بھی کرنے کی کوشش کی تو میں “شاہزیب نے سخت لفظ منہ میں دبا لیے تھے شازمہ نے تاسف سے اسے دیکھا

“کیا کروں گئے تم چپ کیوں ہو گئے ۔۔۔کہہ دو کہ منہ توڑ دو گئے میرا ۔۔۔۔گلہ دبا دو گئے ۔۔۔۔۔اپنی اس آوارہ اور مطلبی فسادی لڑکی کی خاطر

“شازی ۔۔۔۔۔بکواس بند کرو اپنی “شاہزیب کی آنکھیں ابلیں تھیں بازو پر گرفت سخت ہوئی تھیں شازمہ بھی بلند لہجے میں بول رہی تھی

“چپ کرو دونوں پاگل ہو گئے ہو کیا

“امی اس سے کہیں میرا ہاتھ چھوڑے پاگل ہو گیا ہے بلکل ۔۔۔۔”شازمہ کا بازو درد کرنے لگا تھا

“شاہزیب چھوڑو شازی کا ہاتھ ۔۔۔۔۔۔شازمہ تم بھی منہ بند رکھوں بھائی کی حالت نظر نہیں آ رہی ۔کیوں لڑ رہے ہو تم دونوں “عاتقہ بیگم نے شاہزیب کی گرفت سے شازمہ کا بازو چھڑوایا ۔۔۔۔۔۔

“خبردار جو ایک لفظ بھی نیناں کے بارے میں غلط کہا تو ۔۔۔۔ آج تو چھوڑ رہا ہوں تمہیں آئندہ سچ میں منہ توڑ دوں گا مگر تمہارا نہیں تمہارے اس شازل کا ۔۔۔۔سارا تماشہ اسی نے کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔اسے کہہ دینا اس گھر میں قدم نا رکھے ورنہ ضائع ہو جائے گا میرے ہاتھوں ۔۔۔۔۔”اپنی انگلی دیکھاتے ہوئے شازمہ کو وہ خطرناک تیوروں سے تنبیہ کرنے کے بعد نمی کو دیکھ کر بولا

“نمی ایڈ بکس لیکر آؤں ۔میرے کمرے میں”یہ کہہ کر شاہزیب کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔

******……..

“غصہ تھوک بھی دو زمان جوان بچے کو یوں گھر سے بے گھر کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔۔۔۔یعنی کے حد ہی ہو گئ ہے “جاوید صاحب نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا

“اولاد اگر نا فرمانی پر اتر آئے تو ڈنڈا اٹھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے بھائی صاحب “زمان صاحب نے بھی بگڑے موڈ سے چائے لبوں پر لگائی ۔۔۔

“ارے میاں یہ ہمارا دور نہیں ہے ۔۔کہ ابا نے دو جوتے لگائے ۔۔کان پکڑ کر مروڑا بچے کی عقل ٹھکانے لگا دی اور بچہ بھی جی ابا جی ابا کہتا ہوا مان گیا ۔۔۔ارے دیکھا نہیں تم نے دس چوروں کی مار کھائی تھی تم سے شاہزیب نے مگر مجال ہے جو اپنی بات سے ٹلا بھی ہو “جاوید صاحب کے برابر میں بیٹھیں زمرد بیگم نے بھی بات میں لقمہ دینا ضروری سمجھا ۔۔۔۔شازل البتہ خاموش ہی بیٹھا رہا ۔۔۔۔

“اسی بات کاتوافسوس ہے مجھے۔۔۔۔ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا اس نے میری ایک جھڑکی پر جان پر بن جاتی تھی اسکی ۔۔۔۔لفظ منہ سے نہیں نکلتے تھے اور اب “زمان صاحب خود بھی پریشان تھے جوان بیٹا ہاتھ سے نکل رہا تھا چین کب تھا انہیں بھی

“چچا ۔۔۔۔جس لڑکی کے ساتھ میں نے اسے دیکھا حلیے سے بہت امیر لگ رہی تھی ۔۔۔۔”شازل کافی سنجیدہ سا بول رہا تھا

“ہاں کچھ کھلے ماحول کی اور آزاد خیال بھی ہے ۔۔۔۔گھر بھی آ چکی ہے اس کمینے کے پیچھے “زمان صاحب نے تپے تپے لہجے میں کہا شازل نے خالی کپ سامنے ٹیبل پر رکھا اور متانت سے بولا

“لیکن شاہزیب کے رویے کو دیکھ کر چچا میں تو چکرا کر رہ گیا ہوں ۔۔۔۔ اگر وہ امیر باپ کی بیٹی ہے تو ہو سکتا ہے گھر جمائی رکھنے کے خواب دیکھا کر پھنسایا ہو گا شاہو کو ۔۔۔۔۔اوپر سے آپ نے بھی گھر سے نکال باہر کیا اسے۔۔۔۔پڑھنے میں اچھا ہے اپنا شاہزیب آخری سمسٹر ہے اس کا ۔۔۔۔۔ذہانت بھی لاجواب رکھتا ہے جو کمپوٹر کے کورسز لڑکے سالوں میں بھی نہیں کر پاتے اس نے مہنوں میں کر دیے تھے۔وہ بھی لاجواب نمبروں سے پاس ہوا تھا ۔۔۔۔۔ایسے لڑکوں کو تو پھانسی ہیں یہ اونچے گھروں کی لڑکیاں ساری زندگی مفت کال ملازم مل جاتا ہے انہیں باپ کا کام بھی سنبھالے گااور نخرے بھی برداشت کرے گا ان کے تو وارے نیارے ہو جائیں گئے “شازل کہ بات سن کر زمان صاحب کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے اس نہج پر تو انہوں نے سوچا ہی نہیں تھا واقع ایسا ممکن تھا ۔۔۔۔ہوتا بھی تھا کون سی انوکھی بات تھی

“شازل بات ٹھیک کر رہا ہے زمان ۔۔۔ہوش کے ناخن لو ساری زندگی محنت تمہاری پیسہ تمہارا اور فائدہ اٹھائے کوئی اور وہ بھی احسان کی جوتی سمیت ۔۔۔۔یعنی کے حد ہی ہوگی “جیدی صاحب نے بھی اپنی سی کوشش کی زمان صاحب کے دماغ کی بتی روشن ہو چکی تھی ۔۔۔۔چائے کا آدھا کپ ہاتھ میں پکڑے پکڑے ہی ٹھنڈا ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔ہوش آنے پر چائے کی طلب بھی باقی نہیں رہی تھی کپ واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔

“زمان میں کہتی ہوں پیار سے رہا کرو اس سے لڑکا ہے پابندیوں سے باغی ہو گیا تو ہاتھ ملتے رہ جاؤں گئے “زمرد بیگم نے کہا اور کپ اٹھا کر لے گئیں