One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 28
Rate this Novel
One Wheeling Episode 28
One Wheeling by Umme Hani
پھپو صاحبہ کپڑے پھیلانے اوپر گئیں تو سانس سے سانس نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔ہانپتے ہوئے کپڑوں سے بھری بالٹی اوپر رکھی ۔۔۔ پھر لمبے لمبے سانس بھرنے لگیں ۔۔۔۔۔برابر والی چھت کا کبوتر باز اپنے کبوتروں کے پنجرے کے پاس ہی کھڑا تھا آہٹ سن کر فورا سے لپک کر دیوار کے پاس مسکراتے اور چہکتے ہوئے پہنچا مگر پھپو کو ہانپتے کانپتے دیکھ کر منہ کے زاویے بگاڑتا ہواواپس مڑ گیا ۔۔۔۔۔پھپو اسکی حرکت کو دیکھ چکی تھیں کپڑے رسی پر پھیلاتے ہوئے ایک شیطانی منصوبہ دماغ میں بنایا پھر خباثت بھری مسکراہٹ چہرے پر در آئی نیلو کے بدلتے رویے نے انہیں پہلے سے زچ کر کے رکھ دیا تھا اس بار تو سازشی دماغ نے وہ سوچا تھا کہ نیلو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
*******……….
“شاہزیب سے کیا کام ہے “زمان صاحب تذبذب سے ہو رہے تھے سامنے آفیسر نے لاپروائی سے کان میں انگلی گھسا کر کان میں تیزی سے انگلی چلا کر کان کھولنے کی کوشش کی اور ایک ابرو چڑھا کر زمان صاحب کو دیکھا
“میں صبح ہی صبح نہار منہ ذیادہ سوالوں کے جواب نہیں دے سکتا ۔۔۔۔”ایک لمبی جمائی لیتے ہوئے اس افسر نے بیزاری سے کہا وہ نوجوان اپنی وضع سے پٹھان معلوم ہوتا تھا
“عاتقہ بیگم اور شازمہ نمیرہ بھی اس آفیسر کو دیکھ چکیں تھیں ۔۔۔۔شازمہ شاہزیب کے کمرے کی طرف دوڑی تھی ۔۔۔۔۔
اندر جا کر دروازہ بند کر کے لوک کر دیا پھر شاہزیب نو جگانے لگی جو آڑا ترچھا بے سود سو رہا تھا
“شاہو اٹھو “شازمہ نے اسے بری طرح جھنجھوڑ دیا بامشکل ہی شاہزیب کی آنکھ کھلی
“کیا ہے شازی سونے دو نا یار ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے کروٹ بدلی
“شاہو ۔۔۔باہر پولیس آئی ہے تمہارا پوچھ رہی ہے ۔۔۔۔اٹھو بھی ۔۔۔۔۔میرا تو دل ڈوب رہا ہے “
“شازمہ بدحواس سی بول رہی تھی شاہزیب جو اسکی مخالفت سمت کروٹ بدل چکا تھا یک دم کرنٹ کی مانند سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔آنکھیں مسلنے لگا
“پولیس ۔۔۔۔کیوں آئی ہے ۔۔۔۔”
“مجھے لگتا ہے یہ اس نیناں کے باپ کیا دھرا ہو گا ۔۔۔تم باز نہیں آتے ہو شاہو کیوں نہیں سمجھتے وہ نہیں چھوڑے گا تمہیں ۔۔۔۔لعنت کیوں نہیں بھیج دیتے ایسی محبت پر جو ایسی ذلت دیکھائے “شازمہ کا دل سلگ رہا تھا ۔۔۔۔کیا حال کر کے رکھ دیا تھا اس ۔محبت نے اسکے بھائی کا رات کا ساراغصہ بھول بھال وہ فکرمندی سے بات کر رہی تھی شاہزیب نے تیکھی نظر اس پر ڈالی
“میں دیکھتا ہوں کیا قصہ ہے ۔۔۔۔”شاہزیب اٹھ کر کھڑا ہو گیا کپڑے درست کرنے لگا
“نہیں شاہو تم مت جاوں باہر ۔۔۔۔میری بات سنو ایسا کرو کہیں چھپ جاوں “شازمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسوقت شاہزیب کو پولیس کی نظروں سے اوجھل کر دے
“ہاں ایسا کرو بیڈ کے نیچے چھپ جاوں “شازمہ نے چند ثانیے پورے کمرے کا جائزہ لیکر ایک محفوظ جگہ بتائی
“کیوں ۔۔۔چور ہوں میں جو یوں چھپتا پھرو ۔۔۔۔ہٹو پیچھے دیکھتا ہو کیا چکر ہے ۔۔۔شازمہ کو ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے وہ لمبے لمبے ڈانگ بھرتا ہوا کمرے سے نکل کر سیدھا مین دروازے تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔جہاں زمان صاحب حواس باختہ کھڑے تھے ۔۔۔عاتقہ بیگم اور نمیرہ بھی اڑی ہوئے رنگت لئے پریشان کھڑی تھیں سامنے شاہزیب کو دیکھ کر آفیسر نے سر سے پیر تک باغور اس کا جائزہ لیا تصویر اس تک پہنچ چکی تھی اس لئے زخمی چہرے کے باوجود پہنچان چکا تھا ۔۔۔۔شاہزیب زمان صاحب کے پیچھے کھڑا تھا ۔۔شازمہ بھی کمرے سے نکل چکی تھی فکرمند تھی ۔۔۔۔۔بس عاصم ہی سو رہا تھا ۔۔۔۔۔
آفیسر نے ہاتھ سے زمان صاحب کو پیچھے کیا اور قدم اندر کی طرف بڑھا کر عین شاہزیب کے مقابل کھڑا ہو گیا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تیس بتیس سال کاوہ نوجوان خشمگین نظریں آپکی آنکھوں گاڑے سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جہاں اسے نا اپنی بارعب شخصیت کی مرعوبیت نظر آ رہی تھی نااپنے عہدے کا خوف ۔۔۔۔ سامنے کھڑا لڑکا ہر خوف سے عاری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا چند لمحوں میں آفیسر شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتا رہا ۔۔۔۔پھر گمبھیر آواز سے بولا
“آنکھیں نیچے مسٹر ۔۔۔۔۔۔ہماری آنکھوں میں ایسے دیکھنے کی جرت سامنے والے کو بڑی مہنگی پڑتی ہے مجرموں کو
“ایک خباثت بھری مسکراہٹ سے ذومعنی بات پر شاہزیب نے آنکھیں جھکانےکی بھی زحمت نہیں کی۔۔۔۔
“آپ اپنی وردی کا رعب جھاڑنے آئیں ہیں ۔۔۔۔۔یا میرے خلاف کوئی ثبوت اور وارنٹ بھی ہے آپکے پاس ۔۔۔”شاہزیب کا بے خوف لہجہ آفیسر کو کھولا کر رکھ گیا تھا وہ اپنی مٹھیاں بینچ کر بولا
“نہیں لایا وارنٹ لیکن اپنے ساتھ پھر بھی تمہیں ہتھ کڑی پہنا کر گھسیٹتا ہوا لیکر جاؤں گا یہاں سے “آفیسر کا لہجہ سخت ہوا
“کس جرم میں ۔۔۔کیا کیا ہے میرے بیٹے نے “زمان صاحب نے بلند لہجے سے پوچھا ۔۔۔۔خود چاہے بیٹے کو ڈانٹ مار لیا تھا مگر پولیس کو دیکھ کر چپ نہیں رہے تھے
“پروفیسر صاحب ۔۔۔بڑی اونچی اڑان اڑنے کے چکر میں ہے یہ آپکا سپوت ۔۔۔۔۔لیکن اب اسکی ڈور میرے ہاتھ میں ۔۔۔۔انسپکٹر وارث خانذرادہ کے ہاتھ میں ۔۔۔۔۔ایسی لگامیں ڈالوں گا کہ سارے کس بل نکال دونگا اس کے ۔۔۔۔۔”وہ اب بھی شاہزیب کی بے خوف آنکھوں میں اپنی آنکھوں کی ہولناکی سے اسے ڈرانے کی کوشش کرتے ہوئے لفظ چبا کر بول رہا تھا
پھر زمان صاحب کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا
“رہ گئ جرم کی نشاندہی ۔۔۔۔تو وہ آپ کی چوائس پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔۔ چوری چکاری۔۔۔۔۔اسمگلنگ ۔۔۔۔۔یا قتل ۔۔۔جیسی چاہیں ایف آئی آر کاٹ دونا اسکی ۔۔۔۔۔اور وہ بھی ثبوت اور گواہوں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ہمارااپنا راج ہے کون ہے جو ہم سے پوچھنے کی جرت کرے “زمان صاحب کی متغیر ہوتی رنگت اور غیر ہوتی حالت سے وہ آفیسر لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکرانے لگا
شاہزیب نے جب باپ کو پریشان دیکھا تو بول پڑا ۔۔۔۔
“چلو کہاں چلنا ہے “آفیسر سمیت ،زمان صاحب اور باقی سب بھی شاہزیب کے حیرت سے دیکھنے لگے یہاں تک کہ وہ آفیسر بھی جیسے صرف دھماکانے ڈرانے کے آڈر ۔ملے تھے
“نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔یہ کہیں نہیں جائے گا ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم گھبرائی ہوئی شاہزیب کے پاس آ کر کھڑی ہوگئیں
آفیسر جو یہ امید لگائے بیٹھا تھا کہ ابھی شاہزیب معافی تلافی پر اتر آئے گا منت سماجت سے بات رفع دفع ہو جائے گی لیکن معاملہ برعکس تھا وہ لڑکا بے خوف قسم کا تھا
“آفیسر کو شاہزیب کی بے باکانہ جرت اور بے خوفی نے جیسے کھلے عام للکارا تھا اس لئے اس کا طیش میں آنا فطری سی بات تھی ۔۔۔اس نے پیچھے کھڑے کانسٹبل کو ہتھ کڑی لگانے کا اشارہ کیا
“چلو بھئ لگاؤں اسے ہتھ کھڑی ۔۔۔۔بہت شوق ہے اسے ہمارے مہمان خانے کی سیر کرنے کا ساری اکڑ نکال دوں گا اسکی “
“اور آپ لوگ کر بھی کیا سکتے ہیں ۔۔۔اصل مجرم تو پکڑنے کی ہمت نہیں ہے آپ لوگوں میں ۔۔۔۔ وہ تو سر عام سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ۔۔۔بس بے قصوروں ہر ہی چلتی ہے آپکی ۔۔۔۔جھوٹی ایف آئی آر جھوٹے کیس ۔۔۔۔جھوٹی سزائیں ۔۔۔۔۔ مار دھاڑ ۔۔۔۔اچھا فرض ادا کر رہے ہیں اپنی وردی کا “شاہزیب کا یوں آئینہ دیکھانا تو آگ بگولا کر گیا تھا وارث خانزادہ کو ۔۔۔۔
“ہمہیں قانون مت سکھاؤں ۔۔۔۔۔چلو پہناؤں سے ہتھ کڑی اور اسے گھسٹ کر ۔میں خود لیکر جاؤں گا “وہ غصے سے غرا کر بولا
” شاہزیب تم چپ رہو ۔۔۔۔ایک لفظ نہیں بولنا “زمان صاحب نے شاہزیب کو سخت لہجے میں تنبیہ کی پھر ملتجی نظروں سے آفیسر کو دیکھا جس کی فوری رنگت غصے کے مارے سرخ ہو رہی تھی
“دیکھیں میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔اسکی بدتمیزی کی میں معافی مانگ لیتا ہوں ۔۔۔۔”زمان صاحب منت پر اتر آئے تھے پیچھے نمیرہ اور شازمہ کھڑی رو رہیں تھیں
“ہٹ جائیں پروفیسر صاحب ۔۔۔۔اپنی شامت کو دعوت اس نے خود دی ہے ۔۔۔چلو بھی لگاؤں ہتھ کڑی “ایک کانسٹبل آگے بڑھا
“اسکی ضرورت نہیں ہے کہیں بھاگا نہیں جا رہا ہے ۔میں خود چل رہا ہوں آپ لوگوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔”شاہزیب کافی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
“شاہزیب “عاتقہ بیگم کی جان پر بنی تھی زمان صاحب بھی دل تھامے اسے دیکھنے لگے
“امی کچھ نہیں ہو گا مجھے ۔۔۔۔۔ جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے تو آپ کیوں پریشان ہیں ۔۔۔۔”شاہزیب نے بس اتنی سے تسلی ماں کو دی اور آفیسر سے پہلے گھر سے نکل گیا تینوں کانسٹبل شاہزیب کی تقلید میں تیز تیز قدم بڑھاتے اس تک پہنچے آفیسر خانزادہ حیرت سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
******……..
رات بھر جاگنے کے بعد صبح ہی بختیار صاحب نے اپنے ڈی آئی جی دوست کو فون کر کے مختصر سا شاہزیب کے بارے میں بتایا اور اسکی تصویر بھی بھیج دی ۔۔۔۔یہ بھی تاکید کی کہ اگر ڈرانے دھمکانے سے معاملہ نمٹ جاتا ہے تو بات کو بڑھائے بغیر ختم کر دیں ورنہ جو سخت ایکشن لے سکتے ہیں لیں انہیں ہر حال میں شاہزیب کے قدموں کو روکنا تھا ۔۔۔بیٹی پر ایک بار ہاتھ اٹھانے کی غلطی کر چکے تھے ۔۔۔بار بار نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔ نیناں اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی صبح سے شام ہونے کو آئی تھی۔۔۔۔بختیار صاحب پریشان تو حد سے زیادہ تھے ۔مگر بیٹی کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں جتا پا رہے تھے ۔۔۔۔اس لئے اس بار حیدر سے کہا کہ وہ اسے فورس کر کے کچھ کھانے پر مجبور کرے ۔۔۔۔۔حیدر کی مسلسل دستک پر دروازہ نہیں کھل رہا تھا
“نین اوپن دا ڈور بے بی ۔۔۔۔نین “حیدر کے بار بار کہنے کے جواب میں بس لمبی خاموشی ہی سنائی دے رہی تھی
“نین شاہزیب آیا ہے ۔۔۔ تم سے ملنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ملو گی اس سے یا واپس بھیج دوں “حیدر کو بس دروازہ کھلوانے کا یہی ایک طریقہ سمجھ آیا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب جو برا تو لگا مگر چپ رہے ۔۔۔ایک پل میں دروازہ کھلا تھا ۔۔۔سامنے نیناں کی روئی روئی آنکھیں۔ چہرے پر اب بھی انگلیوں کی چھاپ واضع تھی ۔۔۔پھر بھی ایک بے چینی سے وہ باہر کی جانب بڑھنے لگی مگر حیدر اسے بازو سے پکڑ کر اندر کمرے دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔
“دروازہ کیوں بند کیا ہے تم نے چھوڑو میرا ہاتھ حیدر کہاں ہے شاہزیب “نینان بھڑک ہی تو اٹھی تھی
“کہیں نہیں ہے وہ۔۔۔ جھوٹ بولا تھا میں نے ۔۔۔۔تم سے دروازہ کھلونا تھا ۔۔۔۔”حیدر کی بات پر وہ بھڑک اٹھی تھی
“ہاؤ ڈیر یو ۔۔۔۔۔۔ہوتے کون ہو تم مجھ سے جھوٹ بولنے والے ۔۔۔۔چھوڑو مجھے اور نکلو میرے کمرے سے باہر ۔۔۔آئی ہیٹ یو ۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی گرفت سے خود کو چھڑواتے ہوئے چلا کر بولی تھی
“آئی نو بے بی ۔۔۔۔۔”حیدر کے لہجے میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا وہ متوازن لہجہ اپنائے ہوئے تھا نیناں کو اسکے بیڈ پر لے جا کر بیٹھا دیا ۔۔۔۔
“نین بند کرو یہ پاگل پن ۔۔۔۔یو نو آئیڈیا کہ بختیار انکل کتنے اپ سٹ ہیں تمہاری وجہ سے “حیدر نے نرمی اپناتے ہوئے رسانیت سے کہا نینان نے بہتے آنسوں کے ساتھ تاسف سے حیدر کو دیکھا
“نام مت لو میرے سامنے انکا ۔۔۔شرم آتی ہے مجھے انہیں اپنا باپ کہتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔کاش کے انکے بجائے میں کسی غریب کے گھر پیدا ہو جاتی ۔۔۔۔۔ کم از کم اس میں انسانیت تو زندہ ہوتی ۔۔۔۔۔”نینان کا تلخ اور بلند لہجہ بختیار صاحب باہر کھڑے سن رہے تھے
” نین بی ہیو یورسلف ۔۔۔۔۔وہ لڑکا یہ سب ڈیزو کرتا تھا “
“او شٹ اپ حیدر ۔۔۔۔۔۔ خبردار جو شاہزیب کے بارے میں کچھ بھی کہا تو ۔۔۔۔۔۔ مجھےاسکے کردار کی گواہی تم اور پوپس جیسے نیرو مائینڈ لوگوں سے ہر گز نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔”وہ تلخ تھی سخت لہجے میں بول رہی تھی
“او کے ٹھیک ہے ۔۔۔ہم غلط ہیں تمہاری نظر اٹس او کے
تمہیں سمجھانا ہی بیکار ہے نین ۔۔۔۔۔تمہاری آنکھوں میں شاہزیب نامی پٹی جو بندھی ہے ۔۔۔۔۔ جو تمہیں کچھ دیکھنے ہی نہیں دیتی “حیدر زچ ہوا تھا
“نہیں میں نے تو بہت کچھ دیکھ لیا ہے ۔۔۔۔سب کے چہرے اپنے اصل روپ کے ساتھ مجھے نظر آچکے ہیں ۔۔۔۔۔ ورنہ میں تو یہی سمجھتی آئی تھی کہ میرے پوپس دنیا کے بیسٹ فادر ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اپنی آن بان کی خاطر وہ انسان سے جانور بھی بن سکتے ہیں ۔۔۔۔آئی ہیٹ ہم ۔۔۔۔گھن آ رہی ہے مجھے خود سے کہ ایسے شخص کی بیٹی ہوں میں “نیناں کی بات پر باہر کھڑے بختیار صاحب کی مٹھیاں بینچی تھیں اپنی بیٹی کے منہ سے یہ سب سن کر ان کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“کیسا زہر بھرا دیا اس کمینے دو ٹکے کے لڑکے نے نیناں کے دل میں “آنکھوں میں پھر سے شاہزیب کے لئے خون اترا تھا ۔۔۔۔۔۔
“نین دس از ٹو مچ بہت ہو چکا ۔۔۔۔۔۔چلو اب باہر نکلو اور معافی مانگوانکل سے ۔۔۔۔۔”حیدر اب غصے سے بولا۔۔نیناں نے تاسف سے اسے دیکھا
” میں معافی مانگوں ۔۔۔کیوں مانگو ۔۔۔۔کس بات کی معافی مانگوں ان سے ۔۔۔۔کل رات انہوں نے جو جہالت کا مظاہرہ شاہزیب کے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔مجھے خود پر افسوس ہے کہ جسے میں ویل ایجوکیٹ ۔۔۔ویل مینرز باپ سمجھ کر انہیں اپنا آئیڈیل بنائے رکھتی تھی وہ اندر سے کیا ہیں ۔۔۔۔ “
“تم اس لڑکے کی خاطر انکل سے متنفر ہو رہی ہو ۔۔۔آر یو میڈ نین”حیدر کے تعجب کا اظہار کیا
“نہیں آج رات میں نے ایک بھی آنسوں شاہزیب کے لئے نہیں بہایا اسکے لئے نہیں روئی میں آج رات مجھے میرے اندھے اعتماد نے رلایا جو مجھے اپنے پوپس پر تھا ۔۔۔۔۔ بس میرا مان ٹوٹ گیا آج ۔۔۔۔۔ میں نے پوپس کو ہمیشہ ایک اونچے مقام پر دیکھا تھا حیدر ۔”وہ سسک سسک روتے ہوئے کہنے لگی
۔۔۔”۔بچپن سے وہ میرا خیال رکھتے آ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھےاپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہیں ۔۔۔۔میری ذرا سی تکلیف پر بلک اٹھتے تھے ۔۔۔۔۔مجھے لگا میرا باپ مجھ سے محبت کرتا ہے اس کا دل بہت نرم ہے جبھی مجھے پھولوں کی طرح با حفاظت رکھتا ہے ۔۔۔لیکن میں غلط تھی ۔۔۔۔۔”وہ آنسوں بہا رہی تھی ایک اضطراب تھا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
” انکی نظر میں تو میں انسان ہی نہیں ہوں ۔۔۔۔شاید انکے اس محل میں ڈیکوریشن میں رکھا ہواسب سے انٹیک پیس ہوں ۔۔۔۔جیسے وہ ہمیشہ محل میں سجا دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ بے جان سا وجود سمجھتے ہیں۔ مجھے ۔۔۔۔جسے جب تک ان کا دل چاہے اپنے محل کی زینت بنا لیں اور جب چاہیے تمہیں گفٹ کے طور پر تھما دیں “
نیناں کی بات تھی کہ ذلت کی آخری حد بختیار صاحب کے لئے سب نا قابل برداشت تھی اس لئے غصے سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے وہ حیدر کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب کی آمد پر انہیں تاسف سے دیکھ کر رخ پھر گئ بختیار صاحب نے اسے بازو سے پکڑ ا اور اپنے مقابل کھڑا کیا
“کیا کہا تم نے کیا سمجھتا ہوں میں تمہیں۔۔۔۔۔ نیناں میری نرمی کا ناجائز مت اٹھاؤ جو منہ آئے گا تم بول دو گی اور میں سن لوں گا۔۔۔۔ہر گز نہیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ جس کی زبان تم بول رہی ہو نیناں اسے میں کہیں نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔ “بختیار صاحب کی بات پر نیناں نے تنفر سے انہیں دیکھا
“آپ اور کر۔ بھی کیا سکتے ہیں ۔۔۔۔ وہ آپ کی حیثت کا نہیں ہے اس لئے بدمعاش بن سکتے ہیں اس پر ۔۔۔۔ شاہزیب بھی اگر میری طرح ایک بہت بڑے بزنس مین کا بیٹا ہوتا تو کیا انکار کرتے آپ؟ ۔۔۔اسے چھوڑ کر کرتے میری شادی حیدر سے ۔۔۔تیار ہو جاتے مجھے اپنی نظروں سے اتنی دور بھجنے کے لئے ۔۔۔۔۔بولیں پوپس جواب دیں مجھے ۔۔۔۔۔”وہ چلا کر پوچھ رہی تھی
“ہاں یہی سچ ہے ۔۔۔۔ اگر تم مجھے اسٹیٹس کانشیز سمجھتی ہو تو ۔۔۔۔ہاں ہوں ایسا ہی ۔۔۔اگر میری خواہش یہ ہے کہ میرے اکلوتے داماد کا معاشرے میں ایک اعلی مقام ہو تو برائی کیا ہے اس میں ۔۔۔۔میں باپ ہوں تمہارا پوراحق رکھتا ہوں تم پے ۔۔۔۔جو مجھے ٹھیک لگے گا میں وہی تمہارے کروں گا ۔۔۔۔اب رؤف پاکستان آئے یا نا آئے کل میں تمہارا نکاح حیدر سے پڑھوا دونگا ۔۔۔۔تمہیں بھوکا رہنا ہے شوق سے رہو ۔۔۔۔اپنے کمرے میں رو دھو کر گزارنا ہے ۔۔۔تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑھتا ۔۔۔۔۔ بس کل تک کا انتظار ہے مجھے ۔۔۔۔۔”
بختیار صاحب نے ایک ایک لفظ غصے سے چبا کر کہا
“شاہزیب کے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کرونگی ۔۔۔۔یہ آپ بھی اچھی طرح سمجھ لیں یہ میرا۔رائٹ ہے ۔۔۔۔اور اب اپنے حق کی جنگ میں خود لڑو گی ۔۔۔۔۔”نیناں نے بھی دو با دو جواب دیا
“اچھا تو یہ نیا پاٹ پڑھا کر گیا ہے وہ تمہیں “بختیار صاحب ہر بات کا زمہ دار شاہزیب کو ہی سمجھ رہے تھے
“نہیں یہ وہ سبق ہے جو آپ کے رات کے رویے سے میں نے سیکھا ہے ۔۔۔۔سوچ سمجھ کر کوئی تقریب رکھیے گا پوپس کیونکہ میں سب کے سامنے انکار کر دوں گی ۔۔۔۔۔اگر آپ رانا بختیار راجپوت اس شہر کے ایک مغرور اور ضدی بزنس مین ہیں تو میں بھی آپ ہی کی بیٹی ہوں میرے رگوں میں بھی یہی ضدی خون دوڑ رہا ہے ۔۔۔۔نیناں مر جائے گی لیکن شاہزیب کے علاؤہ کسی کی نہیں ہو گی ۔۔۔۔”نیناں بھی انکی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہی تھی وہی بے خوفی آج نیناں کی آنکھوں میں تھی جو رات میں وہ شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔۔
ایک جھٹکے سے انہوں نے نیناں کا بازو چھوڑا ۔۔۔۔وہ بیڈ پر جا گری ۔۔۔۔
“حیدر فون اٹھاؤ اس کا ۔۔۔۔۔کسی سے رابطہ نہیں رکھے گی اب یہ ۔۔۔۔”بختیار صاحب اب حیدر سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔۔حیدر نے اثبات میں سر ہلایاسائیڈ ٹیبل پر رکھا نیناں کا موبائل اٹھایا اور اپنی جیب میں رکھ لیا ۔۔۔۔۔
نیناں کچھ نہیں بولی خاموشی سے بس آنسوں بہاتی رہی ۔۔۔۔۔حیدر اور بختیار صاحب کمرے سے جا چکے تھے ۔۔۔۔ کمرے کا دروازہ بند ہوا پھر لوک ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔۔
بختیار صاحب نے دروازہ لوک کر کے چابی حیدر کو تھما دی ۔۔۔۔
“میں کسی ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں تم خیال رکھنا اس کا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں ایک ڈاکٹر آئے گا ۔۔۔۔اسے نیناں کے کمرے میں لے جانا نیند کا ڈوز دے گا اسے اسکے بعد ڈرپ لگا دے گا ۔۔۔۔۔تا کہ بھوکے رہنے کی وجہ سے جو ویکنس اسے ہو رہی ہے وہ کور ہو جائے ۔۔۔۔۔بس تم یہ سب اپنی رہنمائی میں کرواں گئے حیدر ۔۔۔”
“جی انکل آپ بیفکر رہیں “حیدر کے تسلی بخش جواب پر بختیار صاحب لمبے ڈانگ بھرتے ہوئے لاونج سے باہر نکل گئے جہاں ڈرائیور انہیں کے انتظار میں گاڑی میں بیٹھا تھا
*******……..
شاہزیب کو پولیس اسٹیشن میں پہنچتے ہی سیدھا جیل میں بند کر دیا گیا ۔۔۔۔جہاں اسکے علاوہ کوئی دوسرا قیدی نہیں تھا ۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی کوٹھری ٹائپ کی جگہ تھی اس قدر مٹی سے آلودہ کہ مٹی کی دھول ہوا میں معلق تھی اتنی گھٹن کا احساس تھا وہاں کہ دم ہی گھٹ جائے ۔۔۔۔زمین بھی مٹی سے اٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔دیواریں پر کوئلے سے طرح طرح کے نقشوں نگار بنے ہوئے تھے ۔۔۔۔شاہزیب نے ایک نظر اس چھوٹے سے کوٹھری نما کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔پھر اپنی چپل سے زمین کے ایک کونے سے مٹی ہٹائی اور وہیں بیٹھ گیا ۔۔۔۔شام تک کسی نے اسے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا ۔۔۔۔نا پانی ۔۔نا کھانا ۔۔۔۔کچھ بھی اسکے پاس موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔ کافی دیر تو وہ جیل کی سلاخوں کے ارد گرد دیکھتا رہا مگر اسے وہاں کوئی بھی نظر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔جب اسے لایا گیا تھا توشروع میں لائین سے دائیں بائیں کافی جیل نما کمرے بنے ہوئے تھے ۔۔ان میں قیدی بھی موجود تھے لیکن اس لمبی سی راہداری کے اختتام پر دائیں جانب موڑتے ہی صرف ایک ہی جیل تھی جہاں آگے راستہ ختم تھا۔۔۔وہ چھوٹی سی جیل تھی اس دیکھ کر لگ رہا تھا کہ بہت عرصے سے خالی پڑی ہو کیونکہ مٹی سے اٹی پڑی تھی ۔۔۔۔۔ پھر مایوس ہو کر گھٹنوں میں سر رکھے بیٹھ گیا صبح سے شام ہو چکی تھی ۔۔۔مگر اس جگہ ہو کا عالم تھا ۔۔۔۔شام میں چند قدموں کی چاپ اسے اسے اپنے سامنے سے سنائی دی لیکن اس نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا بھوک سے حالت ابتر ہو رہی تھی ۔۔۔۔رات کا ماں کے ہاتھ سے کھایا ہوا کھانا ہی اب تک نصیب ہوا تھا ۔۔۔۔جیل کی سلاخوں پر ڈنڈے کی کھنکھناہٹ سے شاہزیب نے سر اوپر اٹھایا سامنے وہی پٹھان آفیسر اور انکے ساتھ بختیار صاحب موجود تھے ۔۔۔۔ناک بھوں چڑھاتے ہوئے ۔۔۔۔۔ شاید مٹی کی باس انہیں ناگوار سی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
شاہزیب انہیں دیکھ کر کھڑا ہو کر اپنے مٹی سے اٹے کپڑے جھاڑنے لگا ۔۔۔جیل۔کا تالا آفیسر نے کھولا ۔۔۔۔دونون اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔کچھ دیر تو بختیار صاحب اور شاہزیب صرف ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہے ۔۔۔۔۔وہی بے خوف آنکھیں وہی چہرے پر اطمینان جس نے رانا بختیار کا سکھ چین تہہ وبالا کر کے رکھ دیا تھا
“کچھ اکڑ کم ہوئی تمہاری۔۔۔۔ بھوک نے کچھ عقل تو ٹھکانے لگائی ہو گی لڑکے “بختیار صاحب نے نخوت میں ڈوبے ہوئے لہجے سے کہا ۔۔۔۔۔شاہزیب کے چہرے پر مسکراہٹ سی پھیل گئ ۔۔۔۔پھر مسکراہٹ ہنسی میں بدلی ۔۔۔۔بختیار صاحب کا خون رگوں میں ابلنے لگا ۔۔۔۔
“ہنس کیوں رہے ہو تم “بختیار صاحب طیش میں آ کر بولے
“چچ چچ ہائے صد افسوس ۔۔۔۔۔۔رانا صاحب۔۔۔۔میری اتنی فکر ۔۔۔۔ میرے خاطر مدارت کے لئے اتنے پریشان مت ہوا کرے ۔۔۔میں بہت مزے میں ہوں “
شاہزیب کی باتیں انکو اندر تک سلگا کر رکھ دیتی تھی
“تمہاری فکر نہیں ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔ ہو کیا تم ۔۔۔۔اوقات کیا ہے تمہاری ۔میرے سامنے ۔۔۔۔۔ بس نیناں کی فکر ہے ۔۔۔۔میری بیٹی نے کل سے ایک نوالہ تک منہ میں نہیں ڈالا نا ہی ایک گھونٹ پانی کا پیا ہے ۔۔۔۔تمہاری وجہ سے جو ڈیمٹ ۔۔۔۔جب تک وہ کچھ نہیں کھائے گی کھانے کو تم بھی ترسوں گئے ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کا ہزمیت سے بھرا لہجہ اور شاہزیب کی جانب اٹھتی ہوئی انگلی۔۔۔۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس لڑکے کو فنا ہی کر ڈالیں ۔۔۔۔۔جن کی وجہ سے اپنی بیٹی کی نظروں میں انکی کوئی عزت نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔جو رات سے بھوکی پیاسی اپنے کمرے میں بند تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کی صحت پر مطلق کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔آفیسر کے اشارے پر بختیار صاحب نے خود پر ضبط کیا ۔۔۔۔۔پھر لہجے کو متوازن رکھ کر بولے
“چاہتے کیا ہو تم ۔۔۔۔۔اپنی ڈیمانڈ بتاو۔۔۔۔میں یہ قصہ ختم کرنا چاہتا ہوں “
“نیناں “شاہزیب کے منہ سے نیناں سن کر وہ ہتھے سے اکھڑ گئے ۔۔۔۔۔اس کا گریبان اس زور سے پکڑا کہ شرٹ کے بٹن ٹوٹ گئے ۔۔۔غصے کے مارے انکا چہرہ سرخ اور لرز رہا تھا ۔۔۔۔
“پہلے بھی کہہ چکا تم سے اور اب آخری بار کہہ رہا ہوں نیناں کا نام مت لینا اپنی زبان سے ۔۔۔۔۔قیمت بتاؤں پیسے اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤں یہاں سے “
” قیمت کس چیز کی ۔۔۔۔محبت کی ۔۔۔۔یا نیناں کی ۔۔۔۔”شاہزیب کے چہرے پر وہی اطمینان تھا
“نیناں کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے دور جانے کی “
“بہت مشکل ہے ۔۔۔۔اہمم ہنہ ۔۔۔۔۔نہیں رانا صاحب وعدہ کر چکا ہوں اسے کہ کچھ بھی ہو جائے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔۔۔وعدہ خلافی نہیں کرو گا ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کا پارہ آخری حد کو چھونے لگا ۔۔۔شاہزیب کا گریبان جھٹکے سے چھوڑا ۔۔۔
“وارث اسے اتنا مارو کہ ساری اکڑ ختم ہو جائے اسکی ۔۔۔۔میں تمہارے آفس میں ہوں جب اسکا دماغ کچھ درست ہو تو بلا لینا مجھے ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب تو چلے گئے ۔۔۔۔اور انسپکٹر وارث اپنی کمینگی ہنسی ہنستے ہو اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا سامنے ایک کانسٹبل بھی کھڑا تھا اسے اپنی شرٹ پکڑائی ۔۔۔۔۔ایک پتلا سا چھڑی ٹائپ ڈنڈا اسکے ہاتھ سے پکڑا ۔۔۔۔اور اسے جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ایک پل کو شاہزیب کا دل بڑی زور سے دھڑکا تھا پولیس کے ڈنڈے کہاں مشہور نہیں تھے ۔۔۔۔۔انکھیں بند کیں اور خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔پہلا ڈنڈا اسکی کمر پر بڑی زور کا لگا تھا ۔۔۔۔۔ریرڈ کی ہڈی پر ڈنڈا پڑتے ہی پورے وجود میں کرنٹ سا لگا تھا ۔۔۔۔ایک بے اختیار چیخ اسکے لبوں سے نکلی ۔۔۔۔
“ہیرو ابھی میں نے مارنا شروع بھی نہیں کیا ۔۔۔۔تو تو یوں چیخ رہا ہے ۔۔۔۔جب ماروگا تو کیا کرو گئے ۔۔۔۔۔شاہزیب نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔۔۔بس ہونٹوں کو زور سے بینچ لیا سامنے لوہے کی سلاخوں کو پکڑ کر ہاتھوں کی گرفت مضبوط کر لی۔۔۔۔۔پھر تو اس آفیسر نے ہاتھ نہیں رکا تھا ۔۔۔۔۔کمر بازو ٹانگیں سب پر ڈنڈا برساتا رہا ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں خود بھی ہانپنے لگا تھا ۔۔۔۔پسینے سے شرابور ہو چکا تھا اس لئے اس نے ڈنڈا ،زور سے ایک طرف پھینکا ۔۔۔۔غصے سے شاہزیب کے سامنے کے بال مٹھی میں لیکر اس کا سر اونچا کیا ۔۔۔۔پسنے سے تووہ بھی تربتر ہو چکا تھا ۔۔۔چہرے پر تکلیف کے آثار بھی بہت گہرے تھے آفیسر کے چہرے سے بھی پسینہ ٹپک رہا تھا ۔۔۔۔۔
“اب بول کیا سوچا تو نے ۔۔۔۔۔بلاوں بختیار صاحب کو ۔۔۔کرنی ہے ان سے ڈیل “وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ بات کر رہا تھا سانس تو شاہزیب کا بھی پھول رہا تھا اس نے نظریں آفیسر کی قہر بھری آنکھوں میں ڈالیں
“ہاں کرنی ہے ڈیل بلائیں جیسے بلانا ہے “شاہزیب کی بات پر وہ کمینگی سی ہنسی ہنسنے لگا
“عقل مند عاشق ہو ۔۔۔۔۔پہلے پہ مان جاتے تو اتنی مار نا کھانی پڑتی ۔۔۔۔۔”آفیسر نے شاہزیب سے کہہ کر سامنے کھڑے کانسٹبل سے کہا انکے آفس میں جا کر بختیار صاحب سے کہہ دے کہ کام ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ کانسٹبل کے ہاتھ سے شرٹ لیکر وہ آفیسر پہنے لگا ۔۔۔۔
“اور ہاں ۔۔۔۔۔اس کے لئے پانی اور کھانا بھی لے آ “آفیسر کی بات سنتے ہی سامنے کھڑا کانسٹبل وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
*******……
کمرے کے لوک کھلنے کی آواز پر نیناں نے بامشکل آنکھیں۔ کھولیں ۔۔۔۔بھوک کہ وجہ سے کافی مضمحل سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔بیڈ پر دراز تھی حیدر کے ساتھ اپنے فیملی ڈاکٹر کو دیکھ کر نیناں نے نافہم انداز سے دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔ڈاکٹر کے آنے کی وجہ وہ نہیں جان پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن سیدھی ہو کر بیڈ کے کراؤں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔حیدر نے کمرے میں موجود کرسی اٹھا کر بیڈ کے قریب رکھ دی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر وہاں بیٹھ گیا ۔۔۔۔کمرے میں ایک نرس داخل ہوئی ہاتھ میں ڈرپ اور چند انجکشن تھے ۔۔۔نیناں بھدک کر پیچھے ہٹی تھی
“کیا کے یہ سب میں ٹھیک ہوں بلکل ۔۔۔۔”وہ گھبرا کر بولی
“ڈاکٹر نے بنا کچھ کہے نرس کو ایک انجکشن بھرنے کے لئے کہا ۔۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں ہوا ڈاکٹر ۔۔۔۔میں کوئی انجکشن نہیں لگاؤں گی ۔۔۔اس سے پہلے کے وہ بیڈ سے نیچے اترتی ۔۔۔۔حیدر نے اس کی پاس بیٹھ کر دونوں بازوں میں اسے جھکڑ لیا تھا
“نین ڈونٹ دو سلی او کے ۔۔۔۔”اس وقت وہ مکمل حیدر کی۔ پناہ میں تھی اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی
“حیدر لیو می ۔۔۔۔ائی ڈونٹ واٹ ٹو ٹیک اینی انجکشن ۔۔۔لیو می ۔۔۔کچھ نہیں ہوا ہے مجھے کیا کر رہے تم لوگ ۔۔۔چھوڑو مجھے “وہ کسمساتی رہی لیکن حیدر کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑوا نہیں پائی تھی انجکشن بازو پر لگتے ہی حیدر نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔
“ہاؤ ڈیر ٹو ٹچ میں ۔۔۔۔یوفول یو ڈیمٹ ۔۔۔آئی ہیٹ یو۔۔۔۔ آئی ۔۔۔۔۔”نیناں اب اپنے ہواس کھونے لگی تھی بھوک سے پہلے ہی خود کو مضمحل محسوس کر رہی تھی اب آنکھوں کے سامنے سب کچھ گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔اپناسر دونوں ہاتھوں سے جکڑے وہ خود کو حواس میں رکھنے کی کوشش میں نا کام ہو چکی تھی چند منٹ میں انجکشن نے اپنا اثر دیکھایا تھا حیدر نے آگے رکھ کر نیناں کو تکے پر سیدھا لیٹا دیا ۔۔۔نرس بڑی تذبذب سی یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی پھر ڈاکٹر کی ہدایت پر نیناں کو ڈرپ لگانے لگی ۔۔۔۔۔۔
******………
نیلو آجکل ہواؤں میں اڑ رہی تھی ۔۔۔۔اب خوش رہنے لگی تھی ۔۔۔۔رائمہ کے پاس بیٹھ کر اپنے کارنامے بھی ہنستے ہوئے۔ بتاتی تھی کہ آجکل وہ پھپو کو کیسے انہی کی باتوں پر زچ کرنے لگی ہے ۔۔۔۔رائمہ بھی خوش تھی ۔۔۔ہر وقت گم صم رہنے والی نیلو اب چہچہانے لگی تھی ۔۔۔۔۔
“نیلو او نیلو اوپر آ کر مجھے ذرا چائے تو بنا دے “۔۔۔۔۔۔پھپو کی ہانک پر نیلو کو جانا پڑا اوپر ا کر اس نے پھپو جو چاہے بنا کر دی ۔۔۔۔
ذرا کمرے کی صفائی کر دے بیٹا چادر بکھری پڑی ہے میرا جسم بہت درد کر رہا ہے میں ذرا آرام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔نیلو کو پھپو کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ترس سا آنے لگا ۔۔۔۔وہ سر ہلا کر اپنے کمرے میں چلی گئ مگر جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی کمرہ باہر سے بند ہوا اور کنڈی کی آواز آنے لگی پھپو صاحبہ نے دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا ۔۔۔۔نیلو نے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھا تو وہاں وہ کبوتر باز چہرے پر خباثت سجائے کھڑا دانت نکال رہا تھا ۔۔۔نیلو سانس لینا ہی بھول گی ۔۔۔۔۔
“ت۔۔تم ۔۔ی۔یہاں”نیلو کی زبان لڑکھڑائی ۔۔۔۔
“ہاں بڑا ترسا لیا تم نے مجھے آج تو اپنے سارے ارمان پورے کرو گا ۔۔۔میری رانی “وہ نیلو کی طرف بڑھا نیلو کا رنگ متغیر ہو ے لگا
“بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔”نیلو کا رنگ اڑا تھا ۔۔اس لڑکے نے پھرتی سے دروازے کی کنڈی لگائی ۔۔۔اور کمینگی سی ہنسی ہنستے ہوئے نیلو کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔۔نیلو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں حلق خشک ہوا ۔۔۔
“دیکھوں میرے قریب مت آنا ورنہ ۔۔۔م۔۔۔”نیلو کی بات بیچ میں رہ گی جب اس خبیث نے اس کا ڈوپٹہ اتارنے کی کوشش کی
