One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 23
Rate this Novel
One Wheeling Episode 23
One Wheeling by Umme Hani
صبح باسم جلدی اٹھ گیا تھا ۔۔۔۔خود تو وہ ہمیشہ چائے کے ساتھ پراٹھہ ہی کھا لیتا تھا ۔۔۔باقی گھر کے افراد بھی یہی ناشتہ خوشی سے کر لیتے تھے ۔۔۔مگر شاہزیب کی عادت سے واقف نہیں تھا ۔۔۔پھر وہ مہمان تھا اس لئے آفس جانے سے پہلے اس کے لئے بیکری سی مختلف قسم کے بسکٹ ۔۔۔۔اور چھوٹا سا سادہ کیک لینے چلا گیا
نیلوفر پوری اتوار باسم کا انتظار کرتی رہی مگر وہ رات کو دیر سے ہی آیا تھا اس لئے خط اس تک پہنچا نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔۔ پیر کی صبح وہ سویرے ہی اٹھ گئ پھپو اسوقت سو رہی تھی موقع اچھا دیکھ کر وہ جلدی ہی نیچے پہنچ گئ ۔۔۔۔رائمہ کچن میں تھی ۔۔۔۔۔
رباب اسکول کے لئے نکل چکی تھی رابعہ بیگم صبح ذرا دیر سے اٹھتیں تھیں ۔۔۔۔نیلو فر کو معلوم تھا کہ اسوقت باسم آفس کے لئے تیار ہوچکا ہوتا ہے اس سے پہلے کہ وہ آفس کے لئے نکلتا وہ رائمہ سے نظریں بچاتے ہوئے باسم کے کمرے کے باہر جا کر رک گئ دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔آگے پردہ تھا ۔۔۔نیلو فر نے ذرا سا پردہ ہٹا کر دیکھا سامنے بیڈ پر باسم چادر تانے مخالف سمت کروٹ لئے سو رہا تھا ۔۔۔وہ جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔۔اسوقت تو وہ آفس جانے لئے تیار ہوتا تھا سو کیسے سکتا ہے ۔۔۔کہیں بیمار تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔وہ خرما خرما قدم اٹھاتی پلنگ تک یہی سوچتے ہوئے پہنچی ۔۔۔۔
“باسم ۔۔۔۔۔باسم “نیلوفر نے دو بار اسے دھیمے لہجے میں پکارا ۔۔۔۔مگر وہ بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔ہمت کر کے وہ آگے بڑھی کپکپاتے ہاتھ سے اسکے کندھے سے ہلایا ۔۔۔۔
“ہممم”باسم نے بیزاری سے کہا شاید بہت گہری نیند سے جاگا تھا ۔۔۔نیلوفر نے اسے جگتا دیکھ کر فوراسے رخ بدل لیا ۔۔۔۔اسے تو بس باسم کو خط پکڑانا تھا اور چلے جانا تھا ۔۔۔۔
شاہزیب بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔۔۔ ذہن نیناں کی طرف ہی تھا اس لئے خواب میں بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ کسی نے کندھے سے ہلا کر خواب کو بےدردی سے توڑا تھا ۔۔۔۔پہلا خیال شاہزیب کو زمان صاحب کا ہی آیا تھا اتنا حسین خواب وہی توڑ سکتے تھے ۔۔۔۔پھر اسے لگا نمی ہو گی کالج کے لئے وہی اتنی بےدردی سے جگاتی تھی گہری نیند سے جاگا تھا اسوقت ذہن سے یہ بات محو ہو چکی تھی کہ وہ گھر کے۔ بجائے باسم کے کمرے میں سو رہا ہے ۔۔۔۔موندی موندی آنکھیں کھول کر کروٹ بدلی ۔۔۔کوئی لڑکی کالے لباس پہنے سر پر اچھے سے ڈوپٹہ پہنے رخ موڑے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔ایک ںسفید دودھیاں ہاتھ اسکی طرف بڑھا ۔۔۔۔سفید بے داغ کلائی پر چند کالے رنگ کی چوڑیاں کھنکی تھیں ۔۔۔۔اور ہاتھ میں ایک رقعہ تھا جو وہ لڑکی رخ پھرے بس ہاتھ ہی اسکی جانب بڑھا کر رقعہ اسے دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔شاہزیب یک دم سے ہی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔کمرے کا جائزہ لیا یاد آیا کہ باسم کے کمرے میں موجود ہے ۔۔۔۔
“آپکے سوال کا جواب اس خط میں موجود ہے ۔۔۔۔۔میں زبان سے کچھ نہیں کہہ سکتی “وہ لڑکی شرماتے ہوئے منمناتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کو ایک منٹ لگا تھا۔ نیند سے ہوش میں آنے میں ۔۔۔۔
“جی ۔۔۔۔کون ہیں آپ ۔۔۔۔کونساسوال ۔۔۔۔کیسا جواب “شاہزیب کو صبح ہی صبح پہلیاں بھوجنا عجیب سا لگ رہا تھا
“کیون انجام بننے کی کوشش کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔ اپنی فری کی پہچان بھول گئے ہیں “
“فری ۔۔۔۔۔”شاہزیب اب بھی نا فہم تھا
“بس آپ جلدی سے یہ رکھ لیں ۔۔مجھے اوپر بھی جانا ہے پھپو اٹھ گئیں تو بہت مسلہ ہو جائے گا”نیلو فر رخ موڑے خط اسکی طرف بڑھائے بول رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب نے اسکے ہاتھ سے خط پکڑ لیا ۔۔۔۔وہ تیزی سے کمرے سے نکلنے لگی تھی کہ بہت زور سے کسی سے ٹکرا گئ تھی ۔۔۔۔سر کسی کے شانے سے بہت زور سے لگا تھا ۔۔۔۔
“افف “منہ بے اختیار نکلا
“فری آپ یہاں ۔۔۔اس وقت ۔۔۔”باسم کو سامنے دیکھ کر نیلو کا رنگ اڑااوت ہوش و ہواس سب اڑ گئے تھے۔۔۔اگر باسم یہاں تھا تو کمرے میں کون تھا جیسے دیکھے بنا ہی وہ اپنا خط دے کر آ رہی تھی
“باسم آپ یہاں ہیں تو وہاں کون ہے”…. فری نے اب پلٹ کر بیڈ پر بیٹھے شخص کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب اب سمجھ چکا تھا اس لئے مسکرا کر دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” افف یہ کیا کر دیا میں نے “نیلو فر فورا سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔باسم بس اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔وہ آفس کے لئے تیار تھا بس ناشتہ کچن میں رائمہ کو دے کر کمرے سے اپنا والٹ لینے آیا تھا ۔۔۔۔لیکن فری سے یوں ملاقات ہو جائے گی یہ اس نے سوچا ہی نہیں تھا پھر اس کا یوں ہونق ہونا شاید وہ شاہزیب۔ کو باسم سمجھیں تھی ۔۔۔۔باسم نے شاہزیب۔ کی معنی خیز مسکراہٹ کو دیکھا ۔۔۔۔اس کے پاس آ گیا
“اٹھ گئے تم “
“نہیں۔۔۔ اٹھا۔۔۔۔ دیا۔۔۔ گیا ۔۔۔۔۔کون تھی یہ لڑکی ۔۔۔بہن تو یقینا نہیں ہو گئ تمہاری “شاہزیب نے لفظوں کو جما کر کہا
“نہیں بہن نہیں ہے ۔۔۔بہن کی دوست ہے ۔۔۔۔شاید غلطی سے اس کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔”باسم نے نظریں چرائیں جھوٹ تو اسے ویسے بھی بولنا نہیں آتا تھا اور اگر کبھی بول بھی دیتا تو پکڑا جاتا تھا ب بھی شاہزیب نے جھٹ سے اسکی بات کی تصحیح کی
” نہیں کمرے میں تو ٹھیک ہی آئی تھی اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ کمرہ تمہارا ہے ۔۔۔۔ہاں یہ الگ بات ہے اپنی بات غلط بندے سے کہہ گئ۔۔۔” شاہزیب نے اپنی آنکھیں۔ گھما کر کہا باسم کا دل تھما تھا
“کیا بات ۔۔۔۔۔کون سی بات “باسم کچھ بوکھلا سا گیا تھا ۔۔۔۔
“بھئ بڑی شرمیلی لڑکی پھسائی ہے تم نے یار ۔۔۔۔۔ بنا دیکھے دیوار کی طرف منہ کیے اظہار کرے گی تو اسی غلطیاں تو ہوں گئ نا سامنے دیکھ کر بات کرنی چاہیے پتہ تو چلے کہ سامنے بیٹھا کون ہے مطلوبہ شخصیت یا کوئی اجنبی ۔۔۔۔۔۔ “
شاہزیب کو باسم کی غیر ہوتی حالت پر مزہ ا رہا تھا جو اسے سامنے خجل سا ہو رہا تھا نظریں تک اٹھا نہیں پا رہا تھا
“ایک پریم پتر بھی دے کر گئ ہے مجھے تمہارے مغالطے میں ۔۔۔۔پڑھ کر سناؤں “شاہزیب۔ کے ہاتھ میں تہے شدہ کاغذ دیکھ کر باسم کے رہے سہے اوسان بھی گم ہوئے تھے
“نہیں رہنے دو یہ مجھے دو میں خود پڑھ لوں گا ۔۔۔۔”باسم نے خط شاہزیب کے ہاتھ سے جھپٹنا چاہا مگر اسنے ہاتھ فورا سے پیچھے کر لیا ۔۔۔۔
“ارے نہیں بھئ ۔۔۔اب ہم دوست ہیں دوستوں سے کیا پردہ ۔۔۔۔میں پڑھ کر سناتا ہوں نا تمہیں ۔۔۔۔”شاہزیب نے خط کھولنا شروع کیا باسم کی جان پر بنی تھی
“شاہزیب دس از ناٹ فیر ادھر دومجھے “تیر کمان سے نکل چکا تھا شاہزیب نے پڑھنا شروع کیا
“پیارے باسم !”
“جو سوال آپ نے مجھ سے پوچھا ہے اس کا جواب میں آپکے سامنے لفظوں سے نہیں دے پاؤں گی اس لئے تحریری طور پر جواب دےرہی ہوں ۔۔۔۔مجھے آپ بہت ۔۔۔۔۔۔۔اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں نے ہمیشہ آپکے خواب دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔ دل بھی آپکے نام پر دھڑکتا ہے ۔۔۔۔۔۔رات کو خوابوں پر بھی آپکی حکمرانی ہے ۔۔۔۔ پہلی بار جب میں نے آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔میں تواسی وقت آپ کو دل دے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن کہہ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں باسم ۔۔۔۔۔آپکی ہمراہی میں زندگی گزارنا میری سب سے بڑی خوش نصیبی ہو گی ۔۔۔۔
فقط آپکی فری “جیسے جیسے شاہزیب پڑھ رہا تھا باسم اسے گھور رہا تھا ۔۔۔بے بسی یہ تھی کہ اسے گالیاں نہیں دے سکتا تھا ورنہ غصہ اسے شاہزیب پر جی بھر کے آ رہا تھا ۔۔۔۔پھر نیلو پر بھی آنے لگا کم از کم دیکھ تو لیتی کہ خط دے کسے رہی ہے
“لو پکڑو ۔۔۔۔ یہ بھی کوئی اظہار ہے ۔۔۔بلکل مزہ نہیں آیا ۔۔۔سب کچھ کہہ دیا جو کہنا چاہیے تھا بس وہی گول کر گئ صاف ستھرا”” آئی لو یو “” لکھ کر جان چھڑاتی ۔۔۔۔”خط شاہزیب نے باسم کو پکڑ دیا جو اسے بس خشمگین نظروں سے گھور رہا تھا
“پتہ ہے نیناں اسکی جگہ ہوتی تو سیدھا “”آئی لو یو””” ہی لکھتی ۔۔۔۔بلکہ لکھتی ہی کیوں صاف منہ پر بول دیتی ۔۔۔۔ بنداس طریقے سے “
“ہاں وہ بول سکتی ہے ۔۔۔ لیکن مڈل کلاس لڑکیاں اتنی بولڈ نہیں ہوتی “باسم کے طنز پر شاہزیب کھلکھلا کر ہنسا تھا
“افف یہ مڈل کلاس لڑکی۔۔۔ تمہیں ہی مبارک ہو ماسٹر صاحب ۔۔۔۔جو (اظہار تمہارے لئے کرے گی مگر کرے گی کسی اور سے ۔۔۔۔۔) میرے لئے میری نیناں ہی ٹھیک ہے ۔۔۔۔پتہ ہے وہ بلکل میرے جیسی ہے ۔۔۔اس لئے تو اسکی محبت میں اس حد تک پہنچ چکا ہوں میں کہ ابا کے جوتوں کی بھی پروا نہیں کی ۔۔۔۔۔”شاہزیب نیناں کی تصور میں کھو کر بول رہا تھا ۔۔۔۔اور ایسے بتا رہا تھا جیسے جوتے کھا کر کوئی والڈ ریکوڈ قائم کیا جو محبت میں
“جس کا حصول بھی تمہارے لئے ناممکنات میں سے ہے ۔۔۔”
“ایسی بات بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ بس مشکل ہوتا ہے ۔۔۔۔ پھر شاہو نہیں گھبراتا ایسے چیلنجز سے ورنہ کبھی ون ویلنگ جیسے کھیل نا کھیلتا ۔۔۔۔۔”
“تمہیں شاید شوق ہے موت کے منہ میں ہاتھ دینے کا ۔۔۔۔ ون ویلنگ بھی موت کا کھیل ہے اور اس لڑکی کاحصول بھی مرنے سے کم نہیں ۔۔۔۔جس یہ دن بات اس لڑکی کے والد تک پہنچی سب سے پہلے وہ تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا “باسم نے اسے ہوش دلانا چاہا ۔۔۔مگر وہ شاہو ہی کیا جو بات کو ذیادہ دیر سنجیدہ لے سکے
“لائف میں اگر رسک نا ہو تو جینا بےکار ہے ۔۔۔۔۔جو ہو گا وہ دیکھا جائے گا ۔۔۔۔”وہ کسی اور ہی ٹرانس میں مسکرایا تھا
“ہماری زندگی صرف ہماری نہیں ہوتی شاہزیب ہمارے ساتھ جڑے ہر رشتے کو ہماری ضرورت ہوتی ہے ہمہیں انکے لئے بھی جینا پڑتا ہے اور جینا چاہیے بھی ۔۔۔۔”باسم نے ایک حقیقت سے روشناس کرایا
“تو تم جیوں نا میرے یار ۔۔۔لیکن میں اپنی زندگی اپنے حساب سے جیوں گا ۔۔۔۔۔”
“میں شام میں آکر تم سے بات کرو گا “باسم نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اپنا بٹوا لے کر جیب میں ڈالا
“تم کہاں جارہے ہو “شاہ،یب نے اسے اب غور سے دیکھا تھا بلیک ڈریس پینٹ کے ساتھ لائٹ پنک شرٹ پہنے وہ اپنے آفس جانے کے لئے تیار تھا
“اپنے آفس شام تک لوٹ آؤں گا ۔۔۔۔ناشتہ کھانا امی تمہیں کمرے میں ہی دے دیں گی۔۔۔۔تم آرام کرو شام کو میں سر سے بھی بات کروں گا ۔۔۔۔”باسم عجلت میں اپنی بات مکمل کر رہا تھاساتھ ہی ساتھ ہاتھ پر گھڑی۔ بھی باندھ رہا تھا
“او بھائی میں یہاں رکنے والا نہیں ہوں ۔۔۔پانچ منٹ رکو میرے ساتھ ہی باہر نکلنا ۔۔۔میں کیا کروں گا تمہارے کمرے میں رہ کر “شاہزیبپلنگ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا
“سمجھوں نا یار ۔۔۔۔ابھی کہیں مت جاؤں ۔۔۔ شام تک رک جاؤ میں انشاللہ آج ہی سر سے بات کرونگا ابھی تو اپنی امی کا نمبر دو مجھے انہیں انفارم کر دوں کہ تم میرے ساتھ ہو وہ ناحق پریشان ہوتی رہیں گئی ۔۔۔۔”باسم نے اسکا کندھا تھپتھپا کر کیا
“نمی کا نمبر یاد ہے مجھے امی کے پاس کہاں موبائل ہے تم اسے کہہ دینا وہ امی کو بتا دے گی “شاہزیب نے نمیرہ کا نمبر اسے بتایا باسم نے نمبر اپنے موبائل پر سیو کیا
اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔اور شاہزیب واش روم میں گھس گیا ۔۔۔۔۔
******……..
نمی کے نمبر پر کسی کی کال آرہی تھی نمبر ان نون تھا پہلے تو اٹھانے سے گریز کر رہی تھی لیکن جب مسلسل کال آنے لگی تو اٹھا لیا کہ شاید شاہزیب کسی دوسرے نمبر سے کال نا کر رہا ہو ۔۔۔۔۔
“ہیلو ۔۔۔۔جی میں باسم بات کر رہا ہوں “
“آپ ۔۔۔لیکن آپکے پاس میرا نمبر کیسے آیا “
“شاہزیب نے دیا تھا وہ رات سے میرے ساتھ ہے آنٹی سے کہیے گا کہ وہ فکر نا کریں ۔۔۔۔”
شاہو بھائی آپکے ساتھ ہے ۔۔۔۔”نمیرہ چہک کر بولی تھی
“جی میرے ہی گھر پر ‘ہے”
آپ پلیز میرے بھائی کا خیال رکھیے گا ۔۔۔۔”
“جی بلکل او کے میں گھر جا کر آپکی بات کروا دونگا شاہزیب سے “باسم نے فون بند کر دیا نمیرہ نے بھی عاتقہ بیگم اور شازمہ کو بتا دیا کہ شاہزیب باسم کے گھر ہے ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کے بے تاب دل کو اب کچھ سکون ملا تھا ۔۔۔۔۔شازمہ دوپہر میں بڑی سی چادر اوڑھے خرم نے گھر پہنچ گئ جو اسی فلور پر سامنے کی لائن میں تھا ۔۔۔۔
خرم کی امی سے سلام کر کے خرم کا پوچھنے لگی
“خرم تو ابھی آیا ہے یونیورسٹی سے ۔۔۔۔کمرے میں سو رہا ہو گا ۔۔۔۔تم بتاؤں پتہ چلا کون ہے وہ لڑکی جس کی خاطر اتاولا ہوا جا رہا ہے شاہو ۔۔۔ارے اتنی مار پر تو خرم نے بھی کان پکڑ لینے تھے ۔۔۔مگر یہ لڑکا ۔۔۔بہت ہی نڈر ہے ۔۔۔ مجال ہے جو کسی کا ڈر بھی ہو اسے “خرم کی امی کے خیالات اسوقت شازمہ پر گراں گزر رہے تھے
“خالہ خرم کہاں ہے اٹھائیں اسے سارا اسی کا کیا دھرا ہے ۔۔۔۔بڑی خوب دوستی نبھاتا پھر رہا تھا شاہو سے ۔۔کمبخت بتا نہیں سکتا تھا ہمہیں کہ شاہو آجکل کیا گل کھلا رہا ہے ۔۔۔۔شازمہ سے شاہزیب کی برائی برداشت نہیں ہوئی اس لئے ساری بات خرم پر ڈال دی
“ارے شازی بھلا میرے خرم کو کیا پتہ “
“رہنے بھی دیں خالہ شاہو کچھ چھپا بھی سکتا ہے خرم سے ۔۔۔۔سیفی اور جمی سے تو شاید کچھ باتوں کا بھید بھی ہو مگر خرم سے بات کیے بغیر اسکا کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا بلائیں اسے ۔۔۔آج اس آوارہ لڑکی کا وہ حال کرونگی کہ خود پناہ مانگے گی شاہزیب سے اسکی وجہ سے سب کچھ ہوا ہے ۔۔۔۔میرے بھائی کو ابو کے جوتے کھا رہا ہے اسکی خاطر گھر سے بے گھر ہو گیا ہے ۔۔۔ تو وہ کیوں اپنے محل میں عیش کرتی پھرے ۔۔۔۔”شازمہ جو رات سے نہ ان پر خار تھی
“آئے شازی کیا کرو گی اسکے ساتھ ۔۔۔”ہونٹوں پر انگلی رکھے بڑی دلچسپی سے خرم کی امی نے پوچھا
“وہ میں آپکو آکر بتاؤں گی ۔۔۔خرم کو اٹھائیں “
“اچھا اچھا اٹھاتی ہوں اسے “خرم کی امی بڑی عجلت میں تم کے کمرے میں گیئں اور جھنجھوڑ جھنجھاڑ کر خرم کو دو منٹ میں باہر لے آئیں وہ جمائی ہاتھ سے روکتا ہوا باہر آیا ۔۔۔جھنجھلاہٹ اس کے ہر انداز سے ٹپک رہی تھی ۔۔۔۔۔
“شازی آپی آپ ۔۔۔شاہو آ گیا گھر پر “شازمہ کو سامنے دیکھ کر رسم اس نے پوچھا ورنہ اندازہ تو تھا کہ معاملہ کافی سنگین صورت حال اپنا چکا ہے ایک دن میں نہیں نمٹنے والا
“وہ بھی آ جائے گا فی الحال تو منہ پر پانی کے چھینٹے مارو اور چلو میرے ساتھ “
“کہاں “
“نیناں کے گھر “
“نیناں کے گھر مگر کیوں “خرم نے حیرت سے گلا پھاڑتے ہوئے پوچھا
“شاہو کا رشتہ لینے “شازمہ نے تپ کر الٹاجواب دیا
“واٹ ” خرم کی پوری آنکھیں کھلی تھیں “
“شازی تو کیا بات یہاں تک آ پہنچی تم۔تو کہہ رہی تھی کہ اس لڑکی سے دو دو ہاتھ کرنے جا رہی ہو “خرم کی امی نے تعجب سے پوچھا
“خالہ میرے پاس وقت نہیں ہے آپکے اور خرم کے سوالوں کا جواب دوں …چلو بھئ خرم لیکر چلو مجھے اس لڑکی کے گھر “
“مجھے کیا پتہ کہاں رہتی ہے وہ “خرم نے نظریں چرائیں “
“ذیادہ بنو مت سب پتہ ہے تمہیں شرافت سے چلو ورنہ ابو سے کہہ دونگی کہ تم نے ہی اس لڑکی کے ساتھ پھنسایا ہے شاہو کو “
“ارے بھائی میں ایسا کیوں کروں گا مجھے تو علم تک نہیں ہے ” تم زچ ہوا
“کھاو خالہ کے سر کی قسم “شازمہ پکا انتظام کر کے آئی تھی
شازی نے برجستہ کہا خرم خاموش ہو گیا
“ہو گئ ختم ڈرامے بازی چلو جلدی چلو اب اس لڑکی کا قصہ مجھے آج ہی ختم کرنا ہے تا کہ شاہو گھر آ سکے “خرم پانچ منٹ میں تیار ہو کر بائیک کی چابی لئے کھڑا تھا ۔۔۔۔شازمہ نے دوبارہ سے چادر درست کی ۔۔۔۔اور اسکے ساتھ ہو لی۔۔۔۔۔
“*******…….
ناشتہ ٹرے میں لیکر رباب آئی تھی شاہزیب کے کمرے میں
“اسلام علیکم بھائی “
“واعلیکم اسلام ۔۔۔۔”شاہ زیب نے سرسری سااسے دیکھتے ہوئے کہا عاصم کی ہم عمر تھی وہ لڑکی چہرے کے نقوش باسم سے بہت ملتے تھے
“وہ باجی کہہ رہیں یہ ناشتہ آپ کر لیتے ہیں یا کچھ اور بنادیں “ٹرے میں چائے کے ساتھ فرائی انڈا ۔سلائس ۔۔بسکٹ کیک دیکھ کر شاہزیب نے رباب کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا
“میں کوئی رانا راجپوت کی اولاد نہیں ہوں ۔۔۔۔عام سا بندہ ہوں۔۔۔بلکل تمہارے باسم بھائی کی طرح ۔۔۔۔یہ ناشتہ بھی خاصا پر تکلف ہے ۔۔۔۔مجھے اسوقت صرف چائے کی ہی طلب تھی ۔۔۔۔”
“بھائی آپ ہمارے ۔مہمان ہیں ۔۔۔۔”رباب۔ نے خوش مزاجی سے کہا
“وہ بھی زبردستی گلے پڑا مہمان ۔۔۔۔اینی وئے ۔۔۔۔ٹھیک ہی یہ سب کچھ آپ جاو اور ہاں اپنی امی سے کہنا دوپہر میں میرے لئے خاص احتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو پکے گا میں کھا لوں گا ۔۔۔۔۔”رباب فورا باہر چلی گئ ۔۔۔۔شاہزیب کو سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا خواہ مخواہ یہاں بیٹھنا پڑ رہا تھا اس کے مزاج میں کہاں تھا ٹک کے ایک جگہ بیٹھنا ۔۔۔۔۔
******…….
نیناں پریشان جلے پاوں کی بلی بنی ہوئی تھی جب سے معلوم ہوا تھا کہ شازیب کو اسکے والد نے گھر سے نکال دیا ہے وہ بے چین تھی ۔۔۔۔۔صبح ہوتے ہی تیار ہو کر باہر جانے لگی لاونج میں بختیار صاحب اخبار پڑھ رہے تھے آج آفس بھی نہیں گئے تھے ۔۔۔۔گھر کے عام لباس میں ملبوس تھے
نیناں کو بنا اجازت باہر جاتے دیکھ کر اسے پکارا
“جی پوپس “نیناں کے قدم وہی۔ تھم گئے تھے
“کہاں جا رہی ہو “
“پوپس رابی کے گھر کالج کے کچھ لیکچر مس ہوگئے تھے۔۔۔۔”
“کہیں جانے ضرورت نہیں ہے رابی کو کال کر کے یہاں بلا لو “
“پوپس میرا جانا ضروری ہے واپسی پر مجھے بک شاپ پر بھی جانا ہے ۔۔۔۔کچھ بکس پرچیز کرنی تھیں “
“انکا بھی نام لکھ کر دیدو ڈرائیور لے آئے گا “بختیار صاحب کوئی حجت نہیں چھوڑ رہے تھے
نیناں زچ سی ہونے لگی دل میں طرح طرح کے وسوسے شاہزیب کے لئے سر اٹھا رہے تھے ۔۔۔فون وہ اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔۔۔اس لئے اسے ملنے جانا چاہتی تھی مگر بختیار صاحب کوئی بھی بہانہ سننے کو تیار نہیں تھے نیناں انکے قریب آ کر بولی
“آپکی ان باتوں کا مطلب میں کیا سمجھوں پوپس ۔۔۔آپ کو مجھ پر ٹرسٹ نہیں ہے “
“یہی مطلب سمجھنا مناسب رہے گا ۔۔۔۔تم پر اعتبار کر کے دیکھ چکا ہوں “
“ٹھیک ہے پھر سچ سن لیجیے ۔۔۔ مجھے شاہزیب سے ملنے جانا ہے “
“اپنے کمرے میں جاؤں نیناں چند دن تم کہیں باہر نہیں جاؤں گی ۔۔۔ہفتے کو روف کراچی پہنچ رہا ہے اور اسی رات میں تمہارا نکاح حیدر سے کر دونگا ۔۔۔۔رخصتی کے ساتھ ۔۔۔۔۔تم چند دنوں بعد حیدر کے ساتھ یو کے جا رہی ہو ۔۔۔۔۔ایک سال سے پہلے نہیں لوٹو گئ ۔۔۔”
“پوپس ۔۔۔۔۔”نیناں پر ہے در پے ایک سے بڑھ کر ایک عذاب گرانے والا اس کا اپنا باپ تھا ۔۔۔۔وہ بختیار صاحب کے پاس بیٹھ گئ
“پلیز پوپس کیوں کر رہے ہیں ایسے میں سگی بیٹی یوں آپ کی ۔۔۔۔۔میری خوشی اور رضامندی کے خلاف آپ کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔”
“اپنے کمرے میں جاؤں نیناں ورنہ “
“میں کوئی نکاح نہیں کرو گی صاف انکار کر دوں گی “وہ کھڑی ہو گئ
“یہ بھی دیکھا جائے گا فی الحال اپنے کمرے میں جاؤں “وہ غرا کر بولے نیناں روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔
دوپہر میں مین گیٹ کی بیل یوں بج رہی تھی جیسے بجانے والا ہاتھ رکھ کر بھول گیا ہو ۔۔۔۔بختیار صاحب پہلے ہی نیناں کی وجہ سے اپ سیٹ تھے ۔۔۔پھر یہ لگاتار بجنے والی بیل پر چلا اٹھے ۔۔۔۔۔
” رحمت بی بی جا کر دیکھیں باہر گارڈ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔کیاچوکیدرا سارے مر گئے ہیں کون ہے جو یوں جاہلانہ طریقے سے بیل دے رہا ہے ۔۔۔۔رحمت بی بی فورا سے باہر چلی گئیں مگر بیل جب نہیں رکی تو مجبورا بختیار صاحب کو بھی باہر آنا پڑا ۔۔۔۔چوکیدار چھوٹا گیٹ کھولے کسی پر بھڑک رہا تھا ایک نسوانی آواز تر تر کرتی مسلسل بحث کرتی سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
“او خانہ خراب کا بچہ بیل تمہاری باپ کا ہے جو یوں بجا رہا ہے ۔۔۔۔ہاتھ ہٹاوں ورنہ کتے چھوڑ دونگا تم پر “
“ہمت ہے تو جوڑ کر دیکھاوں ابھی پولیس کو بلوا کر تمہاری درگت بنوا دونگی۔۔۔۔کہہ دوں گئ تم مجھے چھیڑ رہے تھے
اتنی دیر میں بختیار صاحب بھی وہاں پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔شلوار قمیض پہنے سر پر بڑی سے چادر اوڑھے وہ نیناں سے چند سال بڑی لڑکی تھی ۔۔۔۔
“کیا جہالت ہے یہ ۔۔۔۔کسی نے اتنے مینرز نہیں سیکھائے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے کے کیا طور طریقے اپنائے جاتے ہیں “بختیار صاحب کے غصے سے پوچھا
“آپ لوگوں کے نزدیک مینرز کی تشریح شاید مصنفین نے الگ سے لکھ کر بھیجی ہے ۔۔۔۔۔ کیا ہے آپ کے نزدیک مینرز ۔۔۔۔”وہ لڑکی خاصی نڈر سی تھیں بنا ڈرے گھبرائے بات کر رہی تھی
“میرے خیال سے کسی کے گھر أنے کی اجازت موبانہ طریقے طلب کی جاتی ہے۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کا لہجہ دھیمہ ہوا
“ارے واہ آپکو تو مینر کا مطلب وہی معلوم ہے جو ہمیں سکھایا جاتا ہے ۔۔۔یہ بات ذرا اپنے اس بدتمیز چوکیدار کو بھی سمجھا دیں ۔۔۔۔جسے سب سے پہلے میں نے بہت مینر سے کہا تھا کہ مجھے نیناں سے ملنا ہے ۔۔۔۔۔اور جواب میں اس نے نہایت بدتمیزی سے کہا میں یہاں سے دفع ہو جاؤں ۔۔۔۔۔ آپ امیر لوگ کیا سمجھتے ہیں آپکے پاس دولت ہے تو سامنے کی ہر چیز بکاوں ہو چکی ہے یہاں تک کہ دوسروں کی عزت بھی ۔۔۔۔۔۔ لیکن ہر جگہ ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔جو مینرز آپ نے نہیں سیکھائے وہ میں سکھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ پروفیسر کی بیٹی ہوں اس لئے میرا ذرا طریقہ مختلف ہے جو بچے آرام سے سبق ناسیکھیں انہیں پنیش کر کے سکھایا جاتا ہے اس طرح سے وہ سبق کبھی نہیں بھولتا ۔۔۔۔”شازمہ کی بات بختیار صاحب نے بڑے تعجب سے سنی تھی ۔۔۔پھر اپنے چوکیدار کو گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
“کیا کہہ رہیں ہیں یہ ۔۔۔۔تم نے بدتمیزی کی ہے “
“صاب جی یہ اسی خانہ خرابی کے بچے کی بہن ہے ۔۔۔۔۔جو بے بی اپنی پھٹپھٹیا پر لیکر جاتی تھی۔۔۔اپ نے ہی کہا تھی کہ اگر وہ آئے تو باہر سے ہی بھگا دوں “چوکیدار نے اپنی بات کی وضاحت دی
“پھر تو آپ واقع اس رویے کی حقدار ہیں جو
یرے ملازم نے کیا۔۔۔۔کیا کام ہے نیناں سے “بختیار صاحب کا لہجہ سخت ہوا
“بیفکر رہیں۔ رشتہ لیکر نہیں آئی اس کا اپنے بھائی کے لئے ۔۔۔۔اسے تنبہی کرنے آئی ہوں کہ میرے بھائی کا پیچھا چھوڑ دے ۔۔۔۔”شازمہ کی بات پر بختیار صاحب نے دوبارہ اسے غور سے دیکھا ۔۔۔۔
“کیوں “
“کیوں کا کیا مطلب ہے ۔۔۔۔نیناں ہمیں ہر گز پسند نہیں ہے ۔۔۔۔کیوں پیچھے پڑی ہے میرے بھائی کہ ۔۔۔پہلے گھر پہنچ گئ تھی اس سے ملنے ۔۔۔۔اور اب ۔۔۔۔اب اسکی وجہ سے شاہو کو گھر سے نکال دیا گیا ہے ہے ۔۔۔۔ اس لئے اسے یہ سمجھانے آئی ہوں کہ لگامیں ڈال کر رکھے خود کو “شازمہ غصے سے لفظوں کو چبا چبا کر بول رہی تھی
“ہممم ” بختیار صاحب نے اسکی ساری بات غور سے سنی “
“ٹھیک ہے اندر آ جاؤ “بختیار صاحب چھوٹے گیٹ سے پیچھے ہٹ گئے ۔۔۔۔شازمہ نے فاصلے پر کھڑے خرم کو پکارا جو اپنی بائیک کے ساتھ کھڑا تھا
“خرم بائیک کھڑی کر کے اندر آؤں میرے ساتھ “خرم چپ چاپ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔شازمہ کا اجازت نامہ ملتے ہی بائیک کو سائیڈ پر کھڑا کیا اور شازمہ کے ساتھ اندر داخل ہو گیا
“رحمت بی بی ان دونوں کو نہایت عزت اور احترام کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھائیں اور ٹھنڈا بھی پلائیں ۔۔۔۔میں بھی ابھی آتا ہوں وہاں “سامنے کھڑی رحمت بی بی نے اثبات میں سر ہلایا
“جائیں بیٹا آپ جا کر بیٹھیں مجھے بھی آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے”اس بار بختیار صاحب کا لہجہ مختلف تھا وہ نرمی سے بات کر رہے تھے ۔۔۔۔شازمہ تو بنا کسی چیز سے متاثر ہوئے بغیر رحمت بی بی کے پیچھے چلتی رہی مگر خرم کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ تھیں ۔۔۔اتنا وسعی لان رنگ برنگے پھولوں سے نہایت نفیس طریقے سے سجا ہوا تھا پورچ میں اسوقت تین گاڑیاں کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔ڈرائیوار گاڑی کے پاس سفید وردی پہنے نہایت مودبانہ طریقے سے ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔۔۔
“واہ کیا ششکے ہیں دولت مندوں کے بھی “خرم چاروں طرف بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔شازمہ نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
“جس کام کے لئے آئے ہو نا اسی پر فوکس کرو۔۔۔۔”شازمہ نے جھاڑ پلائی تو وہ سیدھا ہو کر چلنے لگا لاونج کا گیٹ کھلنے پر خرم کی آنکھیں پھر سے پھیل گئیں وسیع وعریض ہال نما لاونج فرش جیسے سفید سنگ مر مر سے بنے تھے چلنے پر گماں ہوتا تھا کہ شیشے پر قدم رکھا ہو ۔۔۔۔سامنے قیمتی اور اسٹائلش صوفے رکھے تھے جہاز سائیز کی ایل سی ڈی دیوار پر لگی تھی سامنے سینٹرل ٹیبل کرسٹل شیشے کا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔خوبصورت شیشے کے واز جگہ جگہ رکھے گئے تھے لاونج سے ہی اوپر کی طرف سیڑیاں جا رہیں تھیں سیٹیوں کے اطراف بھی لوئے کے ہینڈل کے ساتھ شیشے ہی لگے ہوئے تھے ۔۔۔کافی جگہ قد آدم شیشے لگے ہوئے تھے اگر اسے شیش محل کہا جاتا تو جھوٹ نا ہوتا ۔۔۔۔کچھ دیر تو یہ سب دیکھ کر دونوں ہی مدہوش ہوئے تھے ۔۔۔۔
“جی ڈرائنگ روم اس طرف ہے جی “رحمت بی بی کی آواز پر دونوں ہوش کی دنیا میں لوٹے تھے ۔۔۔۔وہ انہیں ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں لے گئ جہاں نرم اور دبز ہلکے براؤن رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا ۔۔۔خرم نے فورا سے اپنے پاؤں ہوائی چپل سے آزاد کیے۔۔۔۔البتہ شازمہ شش وپنج میں مبتلہ ہوئی تھی کہ پاؤں میں پہنے سینڈل اتارے یا پھر پہنے ہوئے ہی اندر داخل ہو جائے کیونکہ انکے ڈرائیگ دوم میں بچھے سستے سے قالین پر بھی انہیں چپل پہن کر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔۔۔۔خرم آگے بڑھ چکا تھا شازمہ وہیں کھڑی تھی
“رک کیوں گئیں شازی آپی آؤں نا ۔۔۔”شازمہ نے یہی بہتر سمجھا کہ جوتا پہنے رکھے ۔۔۔۔اس لئے آگے بڑھ گئ ۔۔۔۔رحمت بی بی نے انہیں۔ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔اور باہر چلی گئ ۔۔۔ پاؤں رکھتے ہی جوتے سمیت شازمہ کے پاؤں اندر تک دھنے تھے ۔۔۔ خرم اس وقت تک صوفے تک پہنچ چکا تھا تھا ۔۔۔۔وہ دھڑام سے صوفے پر بیٹھا اور کچھ اندر دھنس گیا ۔۔۔
“واہ کیا مزے ہیں شازی آپی ۔۔۔۔اتنا نرم گدا بھی ہوتا ہے پاکستان میں ۔۔۔۔ایک ہمارے گھر کے گدے ہیں ۔۔۔۔امی کے جہیز کے ۔۔۔۔اب تک چل رہے ہیں حالانکہ 1979؛میں شادی ہوئی تھی امی کی ۔۔۔زمین اور گدوں میں ذرابھی فرق معلوم نہیں ہوتا ۔کہ زمین کونسی ہے اور گدا کون سا ہے ۔۔۔۔مجھے تو بیٹھے ہی نیند آنے لگی ہے “وہ ڈرامائی انداز سے بولا
“بکو کم سمجھے ۔۔۔۔ہمارا گھر نہیں کے یہ ۔۔۔۔نا ہی ہماری اتنی اوقات ہے ۔۔۔صرف آنکھوں کی چکاچوند ہے ۔۔۔۔لمحہ بھر کا خواب ۔۔۔جب یہاں سے نکل کر اپنی کھٹارا بائیک پر بیٹھوں گئے تو یاد آ جائے گا کہ ہم کون ہیں “شازمہ بھی ذرا فاصلہ رکھ کر خرم کے پاس ہی بیٹھ گئ
“اچھا نا ۔۔ابھی تو صوفے کا مزہ لینے دیں ۔۔۔”خرم کو شازمہ کا ٹوکنا برا لگا تھا ۔۔۔۔
“ویسے ۔میں سوچ رہا ہوں اگر اپنے شاہو کی شادی یہاں ہو جاتی ہے تو ۔۔اسکے تو وارے نیارے ہو جائیں گئے۔۔۔۔کیا مزے ہوں گئے اس کے ۔۔۔۔ وہ تو گھر سے ہی باہر نہیں نکلے گا ۔۔۔۔”
“چپ نہیں ہوسکتے تم ۔۔۔۔فالتوں کی ٹر ٹر کیے جا رہے ہو ۔۔۔۔”شازمہ نے غصے سے آنکھیں دیکھاتے ہوئے ڈپٹا۔۔۔وہ خاموش ہوگیا ۔۔کچھ ہی دیر میں مختلف قسم کے مشروبات سے سجی ٹرالی رحمت بی بی اندر لیکر آئی ۔۔۔۔
“ٹرالی سامنے رکھے ٹیبل کے قریب رکھی
“کونسا جوس پینا پسند کریں گئے آپ لوگ “
“کون کون سے ہیں آپکے پاس “خرم کے سوال پر رحمت بی بی نے برجستہ اسے دیکھا شازمہ نے پھر اسے گھرکہ
“جی سب ہی فلیور ہیں ۔۔۔پیچ ۔۔۔اسٹابری ۔۔۔۔ایپل ۔۔۔۔پائن ایپل ۔۔۔۔چیری ۔۔۔اورنج۔۔۔مینگو ۔۔۔اسکے علاؤہ سوفٹ ڈرنک بھی ہے ۔”مختلف قسم کی بوتلیں سامنے رکھیں تھیں ۔۔۔۔
“آپ ایسا کریں میرے گلاس میں تھوڑے تھوڑے سارے فلیور ڈال کر اوپر سے سیون اپ بھی ڈال دیں ۔۔ ذرا نیا ٹیسٹ بن جائے گا ۔۔۔”خرم کی فرمائش پر رحمت بی بی نے پھر سے اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔۔۔شازمہ کا دل خرم کاسر پھاڑنے کو چاہ رہا تھا جو یہاں پر بھی اپنا ندیداپن دیکھانے سے باز نہیں آ رہا تھا ۔۔۔رحمت بی بی نے اس کا گلاس تیار کر کے خرم کو پیش کیا ۔۔۔خرم نے ایک ہی گھونٹ میں گلاس خالی کر کے ٹیبل پر رکھ دیا
“ایک اور بنا دیں بلکل سیم “رحمت بی بی نے پھر سے ایک گلاس اسکے لئے بنا کر رکھ دیا ۔۔۔
“آپ کیا لینگی میم”
“کچھ نہیں ۔۔۔بس آپ نیناں کو بلا دیں “”شازمہ نے منع کر دیا رحمت بی بی واپس چلی گئ ۔۔۔شازمہ نے ایک چت خرم کے کندھے پر لگائی
“تمیز نہیں ہے تمہارے اندر۔۔۔۔ کہیں آنے جانے کا طور طریقہ بھی ہوتا ہے ۔۔۔گدھوں کی طرح ایک گھونٹ میں گلاس خالی نہیں کرتے ۔۔۔تھوڑاتھوڑا سا پیتے ہیں ۔۔۔چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتے ہیں ۔۔۔ کمینہ پن صرف اپنے گھر تک رکھا کرو “شازمہ کی ٹوک پر خرم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ بختیار صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے خرم تب تک طریقے سے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔وہ ان دونوں کے مخالف صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
“آپ پلیز نیناں کو بلا دیں ہمہیں دیر ہو رہی ہے “شازمہ نے رکھے پن سے کہا
“بلا دیتا ہوں لیکن اس سے پہلےمجھے سوچوں سے بات کرنی ہے”
“جی فرمائیے “
“دیکھوں بیٹا ۔۔۔۔ تم بھی مجھے نیناں کی طرح عزیز ہو ۔۔۔۔نا تو میں بدلحاظ قسم کا شخص ہوں نا ہی سخت گیر باپ ۔۔۔لیکن کچھ حقیقت اٹل ہوتی ہیں ۔۔۔۔ہمیں انہیں ہر صورت ماننا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔اور آپ لوگوں کے اور ہمارے بیچ جو کلاس کا فرق ہے ۔۔۔۔مہں سے نظر انداز کر گز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔نیناں میری اکلوتی بیٹی ہے ۔۔۔۔سمجھ لو میری کل کائنات ہے وہ ۔۔۔۔۔ میں بازار میں بکنے وی ہر چیز اسے دلا سکتا ہوں چاہے وہ قیمتی سے قیمتی ہی کیوں نا ہو اور سستی سے سستی ہی کیوں نا ہو ۔۔۔مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔کیونکہ وہ میری بیٹی کی پسند ہو گئ ۔۔۔مگر اسکے لائف پارٹنر کے معاملے میں میرا ایک معیار ہے ۔۔۔جس پر شاہزیب کبھی بھی پورا نہیں اتر سکتا ۔۔۔۔۔معاف کرنا میں جتانا نہیں چاہتا نا ہی کسی کی کمتری پر مزاق اڑانا میرا مقصد ہے ۔۔۔۔لیکن مجھے اسی معاشرے میں رہنا ہے ۔۔۔۔انہیں لوگوں کو فیس کرنا ہے ۔۔۔۔ نیناں کی شادی میں طے کر کا ہوں اپنے دوست کے بیٹے سے مگر وہ اب بھی شاہزیب کے لئے باضد ہے ۔۔۔۔دودن سے اپنے کمرے میں بند ہے ۔۔۔۔نا کچھ کھا رہی ہے نا ہی میری بات ماننے کو تیار ہے ۔۔۔۔ مجھے لگا کہ تم لوگ اسے فورس کر رہے ہو گئے ۔۔۔۔لیکن تماری بات سن کر میری سوچ بدل گئ ۔۔۔ےم لوگ بھی اپنی حثیت کو اچھی طرح سمجھتے ہو ۔۔۔اسر اچھی بات ہے “بختیار صاحب کچھ دیر خاموش جوئے تھے جیب سے سگریٹ نکالی اور لبوں پر لیکر لائٹرسے جلایا ۔۔۔ایک لمبا کش لیا ۔۔۔۔۔دھواں باہر نکالا اور آگے بات جاری کی
“مجھے لگتا ہے جو کام میں نہیں کر سکاوہ تم کر سکتی ہو ۔۔۔۔ نیناں سے کچھ ایسا کہو کہ وہ شاہزیب کو بھول جائے ۔۔۔ یہ تمہارے بھائی کے حق میں بھی بہت بہتر ہے ۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ اسے نیناں کی زندگی سے نکالنے کے لئے مجھے کچھ سخت اقدامات اپنانے پڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔۔بجٹی اگر آپکی آپکے ہاتھ سے نکل چکی ہے تو سزا آپ میرے بھائی کو کیوں دیں گئے “شازمہ ہتھے سے اکھڑ تھی
” کیونکہ یہی طریقہ رائج ہے ۔۔۔۔پاوں پر اگر چونٹیاں چڑھ جائیں ۔۔۔اور ان میں سے ایک کاٹے تو انسان سبھی کو مسل دیتا ہے ۔۔۔چاہے قصور ایک کا ہی کیوں نا ہو آپ ی بیٹی کو تو میں جتنا روک سکتا ہوں روک رہا ہوں لیکن اگر شاہزیب پیچھے نہیں ہٹا تو چھوڑو گا اسے بھی نہیں ۔۔۔۔اس لئے تم لوگوں کو چاروں کروا رہا ہوں کہ اسکے قدم روک لو ۔۔۔۔مہں نیناں کو بھیجتا ہوں ۔۔۔میرء خیال سے تمہیں کیا کرنا ہے یہ تم اچھی طرح سمجھ چکی ہو گی “بختیار صاحب کی باتوں اور کھلی دھمکیوں پر شازمہ اور خرم کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب کی ہٹ دھرمی وہ دیکھ چکے تھے ۔۔۔۔اور بختیار صاحب کے خیالات سن کر دونوں ہی پریشان تھے ۔۔۔۔۔
******…….
شام تک شاہزیب کمرے میں بیٹھا بیزار ہو چکا تھا کچھ دیر تو رابعہ بیگم اسکے پاس بیٹھی ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں مگر کب تک کر سکتیں تھیں ۔۔۔۔۔
شام کو بسم افس سے لوٹا تو شاہزیب کے چہرے پر چھائی ناگواری دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ اکتالیس ہوا بیٹھا ہے ۔۔۔۔
“تم ٹی وی وغیرہ دیکھ لیتے ۔۔۔بور یو گئے ہو شاید “
“یار میں یہاں مزید نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔۔ ابو سے بات کرو جا کر ۔۔۔اور پلز اگر کوئی فالتو موبائل ہے تمہارے پاس تو وہ مجھے ایک دو دن کے لئے دیدو ۔۔۔۔بس سے رابطہ منقع ہو چکا ہے ۔۔۔لگ رہا ہے کسی جیل میں ہوں میں “
“میرے پاس ایک موبائل ہے تو ۔مگر ٹچ نہیں ہے “
“چلے گا ۔۔۔۔”
“اچھا رکو میں دیتا ہوں “باسم نے اپنا لںڈ کھول کر ایک چھوٹا موبائل اسے پکڑا دیا اور ایک سم اپنے موبائل سے نکال کر سے دیدی ۔۔۔۔
“,میرے پاس دو تھیں فی الحال یہ نمبر میرے ذیادہ یوز میں نہیں ہے ۔۔۔۔اور بیلنس بھی اس میں موجود ہے ۔۔۔۔باقی میں اور ڈلوا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔”باسم کے ہاتھ سے موبائل لیکر اس نے سب سے پہلے نیناں کا نمبر ملایا تھا لیکن فون کسی نے نہیں اٹھایا کافی دفعہ نمبر ڈائل کرنے پر بھی فون ریسیو نہیں ہوا تھا
“پتہ نہیں کہاں دفان ہو چکی پرسوں سے دیوانوں کی طرح فون کر رہا ہوں اسے ” شاہزیب غصے سے بڑبڑایا۔۔۔پھر سیفی کو فون کر کے کہا کہ اگر س سے رابطہ کرنا کو تو اسی نمبر پر کرے۔۔۔۔پھر نمی سے بات کی اس سے پوچھنے لگا کہ بائیک لی چابی کہاں ہے ۔۔۔۔نمیرہ نے کہا کہ وہ زمان صاحب نے اپنے لوکر میں رکھ لی تھی تا کہ شاہزیب انکے پیچھے سے لینے نا آ جائیے ۔۔۔۔”
“اچھا تم پریشان مت ہو تمہاری بائیک کی چابی میں آتے ہوئے سر سے لے آؤں گا ۔۔۔۔”باسم اس کی پریشانی بھانپتے ہوئے بولا ۔۔۔
“میں کھانا کھا کر سیدھا سر کے پاس ہی جاؤں گا ۔۔۔”باسم نے اسے تسلی دی اور کبڈ سے اپنے کپڑے نکال کر واش روم میں چلا گیا ۔۔۔
باسم ابھی کھانا ہی کھارہا تھا جب شاہزیب کے نمبر پر سیفی کی کال آئی ۔۔۔۔
“شاہو کدھر ہو تم “
“کہاں ہونا ہے وہیں ہوں باسم کے گھر پر “
“تمہیں کیا تھا کہ اس امیرزادی کے چکر میں مت پڑ دیکھا دیا نا اس نے اپنا اصل رنگ”سیفی تپا ہوا بول رہا تھا
“کیا بک رہا ہے۔۔۔۔کیا ہوا ہے “
“تیری ہیروئن اسوقت ایک عالیشان ریسٹورنٹ میں اپنے یار کے ساتھ بیٹھی ہے ۔۔۔۔”
“بکو مت سیفی ۔۔۔نیناں نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔کوئی اور ہو گی “شاہزیب تلملا کر بولا
“اس خاطر تم نے بچپن کے یاری توڑنے میں ایک منٹ نہیں لگایا تھا شاہو ۔۔۔اب بتا اسکی بیوفائی پر اسکی سزا کیا ہونی چاہیے”
“اگر سچ میں وہ نیناں ہی ہے تو ۔۔۔وہ حال کرونگا اس کا کہ دوبارہ محبت کے نام سے ڈرے گی چھوڑں گا نہیں اسے ۔۔۔” وہ دانت بینچ کر بولا
“ڈن ہے ۔۔۔میں رسٹورنٹ کا نام اور پتہ بھیج رہا ہوں آکر دیکھ لے خود ۔۔۔۔۔”سیفی کا فون بند ہوا ۔۔۔۔شاہزیب کو اب بھی بے یقین تھا ۔۔۔۔ نیناں کم از کم اسے دھوکہ نہیں دے سکتی تھی
