One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 14
Rate this Novel
One Wheeling Episode 14
One Wheeling by Umme Hani
باسم رامس کے گھر شادی کا کارڈ دینے گیا ۔۔۔۔اور ساتھ ہی نکاح کا بلاوا بھی ۔۔۔۔لیکن رامس نا آنے کے بہانے تراش رہا تھا ۔۔۔۔۔
“امی آ جائیں گی ۔۔مجھے آجکل آفس کا بہت کام ہے گھر آ کر بھی اسی میں مصروف رہتا ہوں ۔۔۔۔میری طرف سے معذرت ہے باسم ۔۔۔”رامس کی امی بھی وہیں بیٹھیں تھیں مگر خاموش تھیں بیٹے کی کیفیت سے واقف تھیں اس لئے ایک بار بھی اصرار نہیں کیا ۔۔۔۔
“یہ بہانے مت بناو ۔۔۔۔تمہیں تو مجھ سے روز ملنے آنا چاہیے پوچھنا چاہیے کہ کسی کام میں مجھے تمہاری مدد تو درکار نہیں مگر تم تو خاص موقعوں میں آنے سے بھی انکاری ہو۔۔۔اچھے دوست ہو یار میں تو چاہ رہا تھا کہ نکاح کے وقت گواہوں میں تم سائن کرو “باسم کی بات پر رامس نے کرب سے باسم کی طرف دیکھا دل میں ایک ٹیس سی اٹھی ۔۔۔تو اب یہ وقت بھی آنا تھا مجھ پر اپنی ہی محبت کو کسی اور کے حوالے اپنی گواہی پر کر دوں ۔۔۔۔۔رامس نے ایک سرد آہ بھری آنکھوں کی نمی کو پلکوں سے پیچھے دھکیلا
“یہ بات نہیں ہے تم کہو کیا کام کرنا ہے وہ میں کر دونگا لیکن فنگشن اٹینڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔اس کے معزرت ہے “رامس نے با مشکل یہ جمعلہ ادا کیا
“میں کوئی بھی بہانہ نہیں سنو گا رامس تم اگر نہیں آئے تو سمجھ لینا کہ دوستی ختم ۔”۔۔۔باسم نے حتمی انداز سے کہا ۔۔۔۔۔
“باسم تم فکر مت کرو میں خود لاؤں گی اسے ۔۔۔”رامس کی والدہ نے بیٹے کے متغیر ہوتے چہرے کو ایک نظر دیکھا جو ضبط کے آخری درجے پر تھا پھر بات کو سنبھالنے لگیں
“آنٹی آپ نکاح والے دن جلدی ہی پہنچ جائیے گا اور رامس کو ضرور لائیے گا ۔۔۔۔”باسم نے کارڈ سامنے ٹیبل پر رکھا اور خود کھڑا ہو گیا
“کیوں نہیں بیٹا ۔۔۔ضرور لاؤں گی لیکن تم کہاں جا رہے ہو بیٹھوں چائے پی کر جانا ۔۔۔”
“نہیں آنٹی ابھی کچھ گھر اور بھی ہیں جہاں کارڈ باٹنے ہیں ۔۔۔ورنہ آپکے ہاتھ کی چائے ضرور پیتا”باسم پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے بولا پھر رامس سے ہاتھ ملا کر چلا گیا ۔۔۔۔
“امی آپکو کیا ضرورت تھی جھوث بولنے کی ۔۔۔میں ہر گز بھی نہیں جاؤں گا “رامس نے سخت لہجہ اپنایا
“بیٹا یہ کیا حماقت ہے دوست ہے وہ تمہارا کیاسارے تعلق توڑ دو گئے ۔۔۔۔”رامس کی والدہ نے پیار سےخاسے سمجھانا چاہا
“تو کیا اس کے نکاح پر گواہ بنکر سائن کروں ۔۔۔۔اتنا بڑا امتحان مت لیں مجھ سے امی ۔۔۔۔اپنی گواہی پر کسی اور کا کر دوں اسے ۔۔۔۔۔مرنےسے پہلے کیوں موت کی سزاسنا رہیں ہیں مجھے ۔۔۔میں نہیں جاؤں گا ۔”۔۔۔رامس اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
******………
شاہزیب جب اپنے اپارٹمنٹ پہنچا تو بلڈنگ کے نیچے ہی خرم سیفی اور جمی نے اسے گھیر لیا …تینوں ہی ہاتھ باندھے ۔۔۔۔شک بھری نظروں سے اسے تاڑ رہے تھے شاہزیب نے انہیں سیڑیوں کے سامنے استاذہ کیے دیکھاتا ہاتھ سے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا
“ابے پیچھے ہٹو تم لوگ کیا میرا راستہ روکے کھڑے ہو “شاہزیب نے چڑ کر کہا
“پہلے تو ہمہیں یہ بتا ۔۔۔چکر کیا ہے اس لڑکی سے تمہارا “جمی نے نظریں۔ گھما کر پوچھا
“کون سی لڑکی “شاہزیب نے گڑبڑا کر نظریں پھیریں
“اچھا اچھا تو منے کو یہ بھی ہم بتائیں کہ کون سی لڑکی ؟ “سیفی نے اس کے گال تھپتھپا کر کہا ۔۔۔
“میری جان جسے دیکھ کر ہوش تو ہم سب کے بھی اڑے تھے لیکن اسے لیکر تو اڑ گیا ۔تھا ۔۔۔وہ لڑکی۔۔۔”جمی نے شاہزیب کے کندھے پر کہنی رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“اچھا ۔۔۔وہ ہ “شاہزیب نے یوں ظاہر کیا جیسے اسے اب خیال آیا ہو
“ہاں ووہ”خرم نے جما کر کہا
“م۔۔میری ۔۔۔ک کزن تھی “شاہزیب جھجکا تھا ۔۔۔پھر جھوٹ بولتے ہوئے اسکی زبان اکثر لڑکھڑا جاتی تھی
“ابے چوزے ! اب تو ہمہیں بنائے گا ۔۔۔۔تیری سات پشتوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔شازل بھائی کے علاؤہ تیرا تو کوئی لڑکا تک کزن نہیں ہے پھر لڑکی کزن کہاں سے آ گئ ۔۔۔۔”
“چل میرے منے ۔۔۔میرے لال سچ سچ بتا ۔۔۔کون تھی وہ “سیفی نے اسکے گال کھنچتے ہوئے پوچھا
“تھی کوئی بھی ۔۔۔۔نہیں بتاتا میں ۔۔۔کیا کر لو گئے۔۔۔۔کر کیا لو گئے میرا “شاہزیب کو ان سے جان چھڑوانے کا یہی ایک بہانہ نظر آیا کہ تھوڑا سا بھرم دیکھا کر چلتا کرے تینوں کو مگر وہ ہتھے سے اکھڑ نے لگے
“دیکھ شاہو سچ سچ بتا دے ۔۔۔یہ دادا گری ہمہیں مت دیکھا ۔۔۔۔ “
“نہیں بتاؤں گا ۔۔۔۔پوچھ سکتے ہو تو پوچھ کے دیکھاو ۔۔۔”شاہزیب نے سیفی ہاتھ پیچھے کیا اور گھمبیر لہجہ اپنانے کی کوشش کی
“دیکھ ،شاہو یہ چیٹنگ ہے ۔۔۔۔تیری خاطر ہم نے ایسے کتنے ہی چانس گوائیے ہیں کیونکہ تجھے یہ لڑکیوں کا لفڑا پسند نہیں ہے ۔۔۔اور تو ہمارے ساتھ ہی گیم کر رہا ہے ۔۔۔یہ نہیں چلے گا شاہو یہ ہمارے گروپ کے اصول کے خلاف ہے ۔۔۔۔۔”
“میں بھی جانتا ہوں ۔۔۔۔اور بے فکر رہو اپنے گروپ کا کوئی اصول نہیں توڑو گا ۔۔۔ بس ۔۔۔بھروسہ کرو مجھ پر ۔۔۔”تینوں کی شاکی نگاہیں اسی پر تھیں۔۔۔
“اب ہٹو پیچھے رات کو پریکٹس پر بھی جانا ہے ۔۔۔اگلے ہفتے اس دلاور کو بھی مزہ چکھانا ہے “
شاہزیب ان کے سامنے کترارہا تھا اس لئے انہیں پیچھے ہٹاتے ہوئے زینہ چڑھنے لگا ۔۔۔۔
“ابے کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے ورنہ یہ یوں بھاگنے کی کبھی نہیں کرتا “خرم سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔
“چل دیکھتے ہیں کب تک ہم سے چھپاتا ہے “سیفی نے کہا
“*******……..
نیناں گھر آ کر بہت خوش تھی ۔۔بات بات پر ایک مسکراہٹ تھی جو اسکے چہرے کو نیا ہی روپ رنگ دے رہی تھی ۔۔۔۔
“تم اچھی لڑکی ہو بلکہ بہت اچھی لڑکی ہو “
“ان کپڑوں میں زیادہ حسین لگ رہی ہو “شاہزیب کے جمعلے اسکی سماعتوں میں رس گھول رہے تھے ۔۔۔وہ آئنے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔خود کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔عجیب سی سر شادی تھی اس کے دل میں جس کی عکاسی اس کا چہرہ کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ خوش تھی دل میں جیسے نئی امنگیں جاگ اٹھیں تھیں ۔۔۔۔۔بار بار وہ کبھی اپنا ڈوپٹہ گلے میں لیکر دیکھنے لگی۔۔۔کبھی کھلے بالوں کو آگے کر کے خود کو دیکھتی ۔۔۔۔ہر زاویے سے اسے اپنا آپ الگ سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔کمرے کا دروازہ نوک ہوا ۔۔۔نیناں ہوش کی دنیا میں لوٹی ۔۔۔۔
“٫کون ہے “
“میں رحمت بی بی “
“اندر آئیں رحمت بی بی”نیناں کی اجازت ملتے ہی کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔رحمت بی بی اندر داخل ہوئی نیناں مسکراتے ہوئے اس کے قریب آئی
“رحمت بی بی دیکھیں میں نے پہلی بار شلوار قمیض پہنی ہے بتائیں ۔ میں کیسی لگ رہیں ہوں “رحمت بی بی نے مسکرا کر سے دیکھا
“بلکل شہزادی لگ رہی ہے میری گڑیا ۔۔۔۔چلو اب باہر آؤں بختار صاحب بلا رہے ہیں “
“پوپس ۔۔۔۔اتنی جلدی ۔۔۔۔وہ تو چھ بجے آتے ہیں ابھی تو چار بج رہے ہیں۔۔۔”نیناں کو بختیار صاحب کی اچانک آمد پر یقین نہیں آ رہا تھا
“مجھے لگ رہا ہے کہ شاید کچھ طعبیت ٹھیک نہیں ہے کافی چپ چپ ہیں ۔۔۔۔تمہیں بلا رہیے ہیں “نیناں بختیار صاحب کی طعبیت ک سن کر پریشان ہو گئ تھی اس لئے فورا سے کمرے سے نکل کر باہر لاونج میں آئی ۔۔۔۔بختیار صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے پانی پی رہے تھے سامنے نیناں کو شلوار قمیض میں دیکھ کر پانی کا گلاس منہ سے پیچھے کیا ۔۔۔اور سامنے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔پیشانی پر تیوری چڑھائے سے ایک نظر سر سے پاؤں تک دیکھا تب تک نیناں انکے پاس پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔
“پوپس کیا ہوا آپکی طعبیت کو ۔۔۔آر یوال رائٹ “نیناں کو یوں پریشان دیکھ کر وہ زبردستی مسکرائے۔۔۔
“یس لٹل فرینڈ آئی ایم آل رائٹ “
“نو پوپس ۔۔۔۔مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں بس آج کچھ تھکن محسوس ہورہی تھی اس لئے جلدی آگیا ۔۔۔تم سناؤں کیسا گزرا آج کا دن “بختیار صاحب کا وہی روٹین کا سوال تھا جو وہ ہر بار گھر آ کر کرتے تھے مگر آج اس سوال نے نیناں کے چہرے پر کئ رنگ بکھیر دیے تھے پورے دن کاسوچ کر شاہزیب کا خیال آتے ہی اسکی مسکراہٹ گہری ہو گئ ۔۔۔۔۔ چہرے پر دھنک کے رنگ سے بکھر گئے تھے ۔۔۔بختیار صاحب بیٹی کے چہرے پر نمودار ہونے والے نئے رنگ دیکھ کر گھبرائے تھے ۔۔۔۔اس کی مسکراہٹ اسکی آنکھوں کی چمک چہرے کی جگمگاہٹ انہیں کسی انہونی کی خبر سنا رہی تھی ۔۔وہ کسی خیال کے زیر اثر مسکرا رہی تھی
“نیناں “بختیار صاحب نے دوبارہ پکارا تو وہ چونک گئ “
“جی پوپس “
‘میں نے کچھ پوچھا ہے ۔۔۔دن کیسا گزرا “
“فرسٹ کلاس ۔۔۔”نیناں نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔رحمت بی بی چائے رکھ کر چلی گئ ۔۔۔نیناں بختیار صاحب کے لئے چائے بنانے لگی
“صبح کالج نہیں گئ تھی تم “بختیار صاحب نیناں کے چہرے پر کچھ کھوجنے کی کوشش کر رہے تھے
“گئ تھی پوپس”نیناں نے جھوٹ بولا اور نظریں چراتے ہوئے فلاسک سے چائے کپ میں ڈالنے لگی۔۔۔بختیار صاحب کی تیز اور زریک نظریں نیناں پر ہی تھیں ۔۔۔۔جو بڑی صفائی سے جھوٹ بول گئ تھی
“پھر کیا کیا”
“پوپس میں اپنی فرینڈ کے ساتھ ونڈو شاپنگ پر چلی گئ تھی ۔۔۔یہ دیکھیں کتنا خوبصورت ڈریس لیا ہے وہاں سے “نیناں ۔ چائے کا کپ بختیار صاب کو پکڑاتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی
“تم کب سے ایسے ڈریسز پہننے لگی ۔۔۔۔۔”
“اب آپ مجھے ایسے ڈریسز میں ہی دیکھیں گئے ۔پوپس۔۔”
“کیوں “
“کیوں کہ میں لڑکی ہوں پوپس ۔۔۔اور لڑکیوں کو ایسے ہی ڈریسز پہنے۔ چاہیے ۔۔۔۔”
“ہممم ۔۔۔تمہاری ساری دوستیں بھی لڑکیاں ہی ہیں ۔۔۔لیکن وہ وہی پہنتی ہیں جو تم پہلے پہنتی تھی ۔۔۔۔۔آجکل کس کمپنی میں بیٹھ رہی ہو جو تمہیں ایسی باتیں سکھا رہے ہیں ۔
“It’s such a middle class mentality
۔۔۔شلوار قمیض پہنو ڈوپٹہ سر پے رکھو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کی بات پر نیناں نے کوئی بھی درعمل ظاہر نہیں کیا
“But۔۔۔۔ I like it …..pops “
مجھے اچھا لگا یہ پہن کر ۔۔۔سب نے میری تعریف کی ۔۔۔سب کو میں ڈیفرنٹ اور اچھی لگی ہوں ۔۔۔۔ہے نا پوپس میں اچھی لگ رہی یوں نا ؟نیناں کے پیار بھرے استفسار پر بختیار صاحب خاموش ہی رہے ۔۔۔۔
“ہمم ۔۔۔۔اینی وئے نیکسٹ ویک امریکہ سے حیدر آ رہا ہے ۔۔۔۔”
“کون حیدر “بختیار صاحب نے چائے کا کپ لبوں پر لگاتے ہوئےکہا
“تمہارے انکل رؤف کا بیٹا “
“اوہ اچھا “نیناں کو اپنے والد کے بیسٹ فرینڈ انکل رؤف یاد آ چکے تھے جو تین سال پہلے ہی امریکہ میں شفٹ ہوئے تھے
“میں چاہتا ہوں تم اسے اچھی سی کمپنی دو ۔۔۔۔اسے ملو جلو اسے انڈرسینڈ کرو ۔۔۔۔مجھے وہ لڑکا بہت پسند ہے ۔۔۔۔
It has all qualities of a good life partner”
“بختیار صاحب کی بات پر نیناں کا ایک رنگ آ کر گزرا تھا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب بھی اچھی طرح بیٹی کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
“پوپس مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ” نیناں نے۔ بے چینی سے کہا
“ابھی نہیں میں سونا چاہتا ہوں ۔۔۔بات ہم پھر کبھی کریں گئے “بختیار صاحب نے خالی کپ سامنے ٹیبل پر رکھا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔نیناں وہی۔ پریشان سی بیٹھی رہی
*******……..
شاہزیب کا موڈ آج بہت خوشگوار تھا ۔۔۔۔رات سوتے ہوئے اسے پہلا خیال نیناں کا ہی آیا تھا ۔۔۔۔اسکے پسندیدہ لباس میں وہ لڑکی اسے سب سے خاص لگی تھی ۔۔۔۔پھر اسکی باتیں اسکا اظہار آج اسے کچھ بھی برا نہیں لگا تھا ۔۔۔۔کوئی ایسی بھی لڑکی ہوتی ہے جو بے پناہ دولت اور عیش عشرت کو محبت کی خاطر چھوڑنے کو تیار ہو جائے ۔۔۔۔۔۔ایک نیا دلفریب احساس شاہزیب کو اندر سے مسرور کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
*******………
باسم اب باقاعدگی سے عاصم کو پڑھانے لگا تھا ۔۔۔۔۔اکثر وہ اپنے آفس کی واپسی پر عاصم کو پڑھانے چلا جاتا ۔۔۔۔۔چند دن بعد ہی وہ دن بھی آن پہنچا جس دن رائمہ کا نکاح تھا ۔۔۔۔باسم صبح سےمصروف تھا مگر تیاریاں تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں تھیں ۔۔۔۔۔لڑکے والوں کی طرف سے پچیس لوگوں نے آنا تھا باقی رابعہ بیگم نے محلے کے چند لوگوں کو بھی مدعو کر لیا تھا ۔۔۔۔ادھر زمان صاحب اور عاتقہ بیگم بھی رائمہ کے نکاح کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔۔۔باسم سفید شلوار قمیض پہنے سب سے پہلے تیار ہوا تھا
رامس کی والدہ نے رامس سے نکاح پر چلنے کے لئے بہت منت سماجت کی مگر اسکی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکیں ۔۔۔۔۔وہ اکیلی ہی رائمہ کے نکاح پر پہنچ گئیں۔۔۔زمان صاحب بھی پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔باسم زمان صاحب کے گلے ملا ۔۔عاتقہ بیگم کو بھی سلام کیا ۔۔۔
“سر آپ پلیز اندر آئیں ۔۔۔۔میم آپ بھی ۔۔۔۔”باسم کا بس نہیں چل رہا تھا اپنے استاد کے قدموں کے نیچے بچھ جائے ۔۔۔۔انہیں گھر کے اندر لاتے ہی رابعہ بیگم کو پکارنے لگا وہ جو مہمانوں
میں مصروف تھیں سب کو چھوڑ چھاڑ باسم کے پاس پہنچ گئیں
“امی یہ میرے سر ہیں اور یہ انکی مسز ۔۔۔” باسم نے مسکرا کر تعارف کروایا ۔۔۔رابعہ بیگم نے زمان صاحب کو سلام کیا اور عاتقہ بیگم کے گلے ملیں “
“بہت خوشی ہوئی آپ لوگوں سے ملکر باسم بہت تعریف کرتا ہے اپنے استاد کی ۔۔۔۔”
“یہ خود بھی بہت سلجھا ہوا لائق فائق ہے ۔۔۔۔”زمان صاحب نے ساتھ کھڑی باسم کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔باسم زمان صاحب کو ڈرائینگ روم میں لے گیا اور رابعہ بیگم عاتقہ بیگم کو صحن میں رکھی کرسیوں پر بیٹھانے لگیں ۔۔۔گھر کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔ صحن میں کچھ اور بھی خواتین بیٹھیں تھیں ۔۔۔عاتقہ بیگم رامس کی والدہ کے پاس بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔۔یونہی شادی کے حوالے سے بات چیت کرنے لگیں ۔۔۔۔نیلو فر نے آف وائٹ کام کی میکسی پہنی ہوئی تھی کیچر سے بالوں کی چند لٹو کو مقید کیا اور باقی کے بال کھلے چھوڑے تھے کانوں میں۔بڑے سے آویزے پہنے اپنی غلافی آنکھوں میں کاجل بھی کافی گہرہ لگایا تھا ۔۔۔البتہ اپنی پھپو کے ڈر سے لیپ اسٹک لائٹ پنک ہی لگائی سر پر دوپٹہ جمائے پاؤں میں شورٹ ہیل کے سینڈل پہنے وہ سیڑیاں پھلانگتی ہوئی نیچے آئی تھی ۔۔۔۔۔رابعہ بیگم سے سلام کر کے اندر رائمہ کے پاس چلی گئ ۔۔۔جو پنگ کلر کی کامدانی پشواس میں۔ ہلکے سے میک اپ میں بھی کوئی اسپرا لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ نفیس مگر بہت خوبصورت سا جیولری سیٹ ماتھے پر چھوٹی سی بندیا کانوں میں چھمکے بالوں پر کلیوں کے گجرے دونوں ہاتھوں میں پنک اور سلور چوڑیاں پہنے کافی کنفوژ سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔سامنے نیلو فر جو دیکھ کر اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا ۔۔۔
نیلو فر اسکے پاس آکر بیٹھ گئ
“نیلو کی بچی اب آئی ہو ۔۔۔۔کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔”رائمہ نے اپنے سرد ہاتھوں سے نیلوفر کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔۔
۔******………
شازمہ اور نمیرہ کھانا کھا چکی تھیں شاہزیب۔ دوستوں کے ساتھ پریکٹس پر جا چکا تھا ۔۔۔۔رات کو جب وہ لوٹا ۔۔۔صرف شازمہ ہی جاگ رہی تھی ۔۔۔وہ بھی دروازہ کھول کر تیکھے انداز سے بولی
“تم جلدی نہیں آ سکتے ۔۔۔ابھی میں نے کچن کو سمیٹا ہے اور اب میں پھر سے تمہارے لئے کھانا گرم کرو “
“کھانا رہنے دو مجھے بھول نہیں ہے ۔۔۔۔”شاہزیب نے لا پروائی سے کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔شازمہ بھی اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔۔آجکل اکھڑی اکھڑی سی رہنے لگی تھی اور وجہ تھی شازل کا اسے بار بار اپنی پارٹی پر آنے کے لئے فورس کرنا اب بھی وہ اسے فون پر سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ نہیں آسکتی مگر وہ بھی ضد پکڑے بیٹھا تھا ۔ ۔
“شازی آپی سونے دو نا۔۔۔ تم تو صبح سوتی رہو گی ۔۔مجھے تو کالج جانا ہے ۔۔۔۔”نمیرہ اسکے باتوں سے زچ ہوکر اٹھ کر موندی موندی آنکھیں کھولے بولی ۔۔۔۔
“اچھا نمی سو مارو تم “شازمہ پہلے سے ہی شازل سے التائی ہوئی تھی اس لئے بیزاری سے کھڑی ہوئی اور کمرے سے نکل کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔شاہ زیب کو بھوک لگی تو کمرے سے نکل کر کچن کی طرف بڑھنے لگا پتہ تھا کہ اب شازمہ تو کچھ دے گی نہیں سو اسلئے خود ہی کھانے کے ارادے سے کچن میں داخل ہوا ۔۔۔کچن میں ملجگا سا اندھیرا تھا شازمہ کی شاہزیب کی طرف پشت تھی ۔۔۔۔اور وہ دھیرے دھیرے فون پر کسی سے بات کر رہی تھی
شاہزیب دھیرے سے چلتا ہوا اسکے قریب آکر کھڑا ہو گیا
“سمجھیں نا شازل میں نہیں آ سکتی ۔۔۔کیا بہانہ بناؤں گی “
“شازو میں نے کہا نا تم سے کہ میں انکار نہیں سنو گا کسی سہیلی کا بہانہ بنا دو ۔۔۔مگر کل تم ضرور آؤں گی ورنہ بعد میں جو کچھ میں کرونگا مجھ سے اسکی شکایت مت کرنا “کچن میں اس وقت مکمل خاموشی تھی اس لئے شازمہ کے ساتھ ساتھ شاہزیب کو شازل کی آوازیں بھی صاف سنائی دے رہی تھیں ۔۔۔
“کس دوست کا بہانہ بناؤں گی سبھی تو اسی ایریے میں رہتی ہیں اور تقریبا شاہزیب کے دوستوں کی بہنیں ہیں ۔۔۔۔اگر سچ کھل گیا تو ابو سے پہلے شاہزیب میری جان لے لے گا ۔۔۔۔خدا کے لئے میری مجبوری سمجھیں “
“تم میری مجبوری سمجھو ۔۔۔میں اپنے دوستوں میں ذلیل ہو کر رہ جاؤں گا ۔۔۔۔اور یہ مجھے ہر گز منظور نہیں ۔۔۔”
“اچھا کرتی ہوں کچھ ۔۔۔۔بناتی ہوں کوئی بہانہ لیکن میں زیادہ دیر رکوں گی نہیں ۔”
“منظور ہے بس تم آ جاؤں “شازل فورا مان گیا تھا ۔۔۔شاہزیب الٹے قدم باہر نکل کر اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔۔۔اسی نہج پر سوچنے لگا جہاں شازل کی پاڑی تھی وہاں ڈانس کا پورا پورا پروگرام تھا جب وہ شازمہ کو آنے پر مجبور کر سکتا تھا تو ڈانس پر بھی کر سکتا تھا ۔۔۔اور آئندہ بھی اس قسم کے گیٹ ٹو گیدر پر لے جانے پر فورس کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔
******……..
کچھ ہی دیر میں لڑکے والوں کی آمد کا شور شروع ہو گیا تھا ۔۔۔باسم اور زمان صاحب مین گیٹ پر کھڑے ان کا استقبال کرنے لگے کچھ ہی دیر میں نکاح کا شور ہوا ۔۔۔۔مگر لڑکے کے والد اور بہنوئی نے باسم سے کہا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں اکیلے میں ۔۔۔باسم انکے ساتھ صحن میں الگ جگہ پر بیٹھ گیا
“دیکھو باسم میاں ۔۔۔تم تو جانتے ہو ہم لوگوں نے آج تک کوئی فرمائش تو رکھی نہیں ہے تم لوگوں کے سامنے ورنہ تو لوگ کیا کیا ڈیمانڈ نہیں رکھتے ۔۔۔”لڑکے کے ابا نے منہ میں پان چباتے ہوئے کہا
“جی ۔۔۔میں جانتا ہوں لیکن آپ لوگ بیفکر رہیں۔ میں اپنی بہن کو وہ ہر چیز دونگا جو جہیز کے نام پر دی جاتی ہے ۔۔۔”
“ارے وہ تو تم جانو اور تمہاری بہن اس سازو سامان سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ۔۔۔۔ہم تو بس اتنا چاہتے ہیں کہ تم یہ گھر ہمارے بیٹے کے نام کر دو ۔۔۔”
“جی “باسم کو لگا کسی نے پہاڑ اسکے سر پر گرا دیا ہو “
“ارے اس میں حرج ہی کیا ہے ۔۔۔۔بھائی بہنوں کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔پھر سال دو سال تم اس گھر میں رہ سکتے ہو ہمہیں کوئی اعتراض نہیں جب تم اس قابل ہو جاؤں کہ کہیں اور جا کر رہ سکو تو بے شک چلے جانا “وہ لاپروائی سے بولے
“یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں ۔۔۔۔کہاں جائیں گئے ہم ۔۔۔آپ کی ایسی کوئی ڈیمانڈ تھی تو آپ کو پہلے بتانی چاہیے تھی ۔۔۔آپ اب نکاح سے پہلے مجھے یہ سب بتا رہے ہیں “
“ارے اس سے کیا فرق پڑتا ہے اسٹام پیپر ہم ساتھ لائیں ہیں بس تم مختار عام غفور کے نام کر دو ۔۔۔۔اور نکاح کے لئے بسمہ للہ کرو “بڑے میاں نے بات یوں کی جیسے کوئی عام اور معمولی سی بات ہو ۔۔۔ کافی دیر باسم واپس ڈرائیونگ روم نہیں آیا اور نکاح خواہ بھی بار بار پوچھنے لگا تو زمان صاحب صحن میں آ گئے ۔۔۔۔سامنے صحن میں لگی کرسیوں کی قطاروں کے آخر میں انہیں باسم سر جھکائے بیٹھا نظر آیا اور لڑکے کا والد اور بہنوئی بھی زمان صاحب بھی ادھر چلے آئے ۔۔۔۔۔۔اس بڑے میاں گل فشانیاں سن کر زمان صاحب کا پارہ ہائی ہو گیا ۔۔۔
“معاف کیجئے گا محترم مگر یہ نہایت ہی نا مناسب سی بات ہے ۔۔۔۔اول تو اپنی بیٹی دینا ہی بہت دل جگر کی بات ہے کجا اس پر آپ اس کا سائبان ہی چھیننا چاہتے ہیں ۔۔۔نہایت افسوس کی بات ہے “زمان صاحب کی بات پر وہ بڑے میاں غصے میں آ گئے
“آپ ہمہیں ذلیل کر رہے ہیں ۔۔۔کیا ہم کم ظرف ہیں ۔۔۔ہم تو صرف اپنے بیٹے کی حیثیت اور عزت اس کے سسرال کی نظر میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔کیا یہ مقام ہے اس کا کہ ایک گھر اسکے نام نہیں کر سکتے کل کو کیاعزت اور احترام دیں گئے یہ لوگ میرے بیٹے کو ۔۔۔”بڑے میاں کے بلند لہجے پر صحن میں بیٹھیں خواتین بھی پیچھے کی جانب متوجہ ہو گئیں ۔۔۔رابعہ بیگم بھی پریشان سی ادھر ہی چلی آئیں ۔۔۔۔۔
زمان صاحب کون سا غصے کے کم تھے ۔۔۔
“کم ظرفی تو دیکھا رہے ہیں آپ ۔۔۔۔شرم آنی چاہیے عین نکاح کے موقعے پر اس طرح کی گھٹیا حرکت کر کے اپنی ڈیماڈیں بتاتے ہوئے ۔۔۔۔”زمان صاحب بھی دھاڑتے ہوئے بولے باسم کے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ بات کو سنبھالے کیسے شور بڑھنے لگا تو کمرے میں بیٹھی رائمہ اور نیلو فر بھی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں ۔۔۔۔۔جو صحن کا منظر صاف دیکھا رہی تھی ۔۔۔۔
“دیکھیں بات کو مزید مت بڑھائے ہم عزت دار لوگ ہیں ۔۔۔مجھے آپ کی شرط منظور ہے ۔۔لائیں بتائیں کہاں سائن کرنے ہیں ‘باسم فورا سے بولا اور بات کو سنبھالنے لگا
“کون سے سائن ۔۔۔کون سی شرط باسم “رابعہ بیگم سفید ڈوپٹہ سر پر جمائے وہیں باسم کے قریب آ کر پوچھنیں لگیں سبھی عورتیں اس طرف متوجہ ہو چکیں تھیں ۔۔۔
“کچھ نہیں امی ۔۔آپ پریشان نا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔”باسم بڑے ضبط بولا ۔۔۔
“بہن جی آپکی بیٹی کا نکاح اب تب ہو گا جب یہ گھر آپ غفور کے نام کریں گئے ۔۔۔۔۔ہم نے بات عزت سے چھپ کر طے کرنی چاہی تھی مگر یہ بڑے میاں تو ہمہیں برا بھلا کہنے لگے ۔۔۔۔”لڑکے کے والد کا اشارہ زمان صاحب کی طرف تھا ۔۔۔۔
سامنے کھڑی پر کھڑی رائمہ کو لگا کہ کسی نے زمین ہی کھنچ لی ہو ۔۔۔۔
“گھر ۔۔۔۔۔”اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔اور آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے ۔۔۔۔۔
رابعہ بیگم کی بھی ایسی ہی حالت تھی ۔۔۔”
“دیکھیں آپ بات کو بڑھائیں مت ۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔اپ بتائیں کہاں دستخط کرنے ہیں “باسم کا پریشانی سے حلق تک خشک ہو چکا تھا ۔۔۔بہن کی بارات کاواپس لوٹ جانا کیا معنی رکھتا ہے وہ اس چھوٹے سے محلے کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے ۔۔۔۔
“سائن تو میاں اب بعد میں ہوں گئے پہلے اس بڑے میاں کو بولو کہ ہاتھ جوڑ کر ہم سے معافی مانگے ۔۔۔۔لڑکے کا باپ اکڑ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔باسم کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سچویشن کو سنبھالے کیسے ۔۔۔
“دیکھیں وہ استاد ہیں میرے ۔۔بہت قابل احترام ہیں میرے لئے ۔۔میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر بنتی کرتا ہوں ۔۔۔میری بہن کی عزت رکھ لیں تماشہ مت بنائیں “باسم ہاتھ جوڑے اس بے حس شخص کے سامنے کھڑا آنسوں بہاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔رائمہ جلدی سے کمرے سے نکل کر صحن میں آ گئ ۔۔۔۔عورتوں کو پیچھے دھکیلتی ہوئی باسم کے نزدیک جا کر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے
“تم کسی کے سامنے نہیں جھکو گئے باسم ۔۔۔اور نا ہی گھر انکے بیٹے کے نام لگاؤں گئے ۔۔۔۔”رائمہ سسکتے ہوئے کہنے لگے
“ارے کیا زبان ہے اس لڑکی کی سب کے سامنے بے شرموں کی طرح پہنچ گئ “اب تو لڑکے کی ماں جو اب تک خاموش تماشائی بنی بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی بول پڑی
“رائمہ تم اندر جاؤں میں بات کر رہا ہوں “باسم نے ملتجی لہجے سے رائمہ سے کہا
“نہیں مجھے یہاں شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔مجھے نہیں چاہیے ایسا شوہر جو ہر وقت میرے بھائی کا سر اپنے سامنے جھکائے رکھے ۔۔۔جائیں آپ لوگ یہاں سے ۔۔۔”رائمہ جو زیادہ تر خاموش ہی رہتی تھی آج بے دھڑک بات کر ہی تھی ۔۔۔۔تنگ آ چکی تھی لڑکے والوں کی بڑھتی ہوئی فرمائشوں پر
“رائمہ اللہ کاواسطہ ہے چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔جاوں یہاں سے “باسم بے بسی سے بولا
“یہ ٹھیک کہہ رہی ہے بلکل ایسے گھٹیا اور خبیث لوگ اس لائق ہی نہیں ہیں کہ ایسے شریف لوگوں کے گھر کی عزت کے امان بنیں “زمان صاحب کا خون کھول رہا تھا
‘سر پلیز آپ خاموش رہیں میری بہن کا اگر نکاح نہیں ہوا تو کوئی نہیں آئے گا یہاں اسے بہانے “باسم اب رو رہا تھا دور کھڑی رباب اور نیلوفر بھی آنسوں بہا رہی۔ تھیں۔ عاتقہ بیگم الگ پریشان نظر آرہی تھیں ۔۔۔۔
“چلو بھئ چلیں یہاں سے ۔۔۔ایسی منہ زور لڑکی کو ہم اپنی بہو نہیں بنا سکتے “لڑکا بھی ڈرائنگ روم سے باہر نکل کر باپ کی تقلید میں چلنے لگا باسم نے ان کا ہاتھ تھام لیا
“خدا کے لئے ایسے مت جائیں۔۔۔۔میری بہن کا کیا قصور ہے “..مگر وہ ہاتھ چھڑاتے ہوئے چلے گئے باسم انہیں باہر تک روکنے کی کوشش کرتا رہا ۔۔۔۔لیکن وہ نہیں رکے ۔۔۔
باسم ٹوٹے قدموں سے واپس آیا صحن کی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگا
“میری اللہ یہ کیسا امتحان تھا
میرا میں نے تو کہیں کوئی کوتاہی نہیں کی پھر کیوں میری بہن کو یہ ذلت دیکھنی پڑی ۔۔۔۔”زمان صاحب اس کے قریب گئے دونوں ہاتھوں سے باسم کے بازو تھام کر اسے کھڑا کیا ۔۔۔
“تمہاری بہن کا نکاح ابھی ہو گا تم پریشان مت ہو ۔۔۔”
باسم آنسوں سے بھری آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا ۔۔۔عاتقہ بیگم کا دل دہلہ ۔۔۔۔جذبات میں کون سا نیا قدم اٹھانے والے تھے زمان صاحب ۔۔۔
“سر ۔۔۔کون کرے گا “
“شاہزیب ۔۔۔۔میرا بیٹا “یہ کہہ انہوں نے جیب سے فون نکالا اور شاہزیب کو باسم کے گھر کا پتہ سمجھا کر فورا آنے کے لئے کہا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم تو دل پکڑ کر وہیں۔ بیٹھ گئیں۔۔۔۔۔
