One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 6

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 6

One Wheeling by Suneha Rauf

“اماں کیا بتاؤں سورج چاند کی جوڑی لگے گی رامس اور فرح کی ۔۔۔۔اتنا جہیز لائے گی کہ گھر چھوٹا پڑ جائے گا آپکا ۔۔۔۔”رامس گھر میں داخل ہوا تو اسکی بجو کی آواز کانوں سے ٹکرائی

“لو آ گئ پھر آفت کی پڑیاں امی کے کان بھرنے “۔۔۔رامس پہلے ہی رائمہ کے رشتہ طے ہو جانے پر دلبرداشتہ ہورہا تھا ۔۔۔۔اوپر سے اپنی بجو کے روز کے لانے والے نے نئے رشتوں کے قصیدے اب اسکی برداشت سے باہر تھے ۔۔۔اس لئے اپنے کمرے کے بجائے سیدھا اپنی امی کے کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔۔اسکی بڑی بہن ایک تصویر ماں کو پکڑائے اسکی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی ۔۔۔۔

رامس نے بے دلی سے سلام کیا رامس جو دیکھ کر وہ کھل اٹھی ۔۔۔۔

“ارے ادھر آ رامس دیکھ کیسا اچھا رشتہ لائی ہوں تیرے لئے ۔۔۔بہت امیر لوگ ہیں ۔۔۔۔تمہاری تصویر دیکھتے ہی انہوں نے ہاں کر دی ۔۔۔۔پتہ ہے لڑکی کی ماں تو کہہ رہی تھی کہ شادی پر سب نندوں کو سونے کے سیٹ پہنائےگی ۔۔۔۔اور اپنی بیٹی کو گھر بھی الگ سے لیکر دیں گئے ۔۔۔تمہاری تو لاٹری لگ جائے گی رامس ۔۔۔۔”بجو تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہیں تھی ۔۔۔انکھوں میں سونے کے سیٹ کی چمک ابھی نظر آنے لگی تھی

“وہ تو سب ٹھیک ہے رقیہ ۔۔۔مگر لڑکی کی عمر زیادہ ہے ہمارے رامس سے چھ سات سال بڑی لگ رہی ہے ۔۔۔بلکہ لڑکی تو یہ دیکھنے میں کہیں سے نہیں لگ رہی ۔۔۔۔”ماں جو تصویر کو ناگواری سے دیکھ کر بولیں مگر رقیہ صاحبہ ماں کی نا گواری کی پروا کیے بغیر پھر سے شروع ہو گئ

“اماں اتنی بھی بڑی نہیں لگ رہی ویسے کچھ موٹی ہے ۔۔۔”رامس ماں کے قریب آیا ۔۔۔۔اور تصویر انکے ہاتھ سے پکڑ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو لڑکی تو کسی طور پر نہیں لگ رہی تھی اچھی خاصی عمر کی تھی ۔۔۔۔رامس نے تصویر اپنی بجو کے ہاتھ میں تھمائی اور کرخت لہجے سے بولا

“مجھے نہیں پسند آپ انکار کر دیں “

“ارے ایسے کیسے انکار کر دوں ۔۔۔۔بڑی مشکل سے تووہ لوگ مانے ہیں ۔۔۔۔ارے ٹرک بھر کے جہیز لائے گی تمہیں اور کیا چاہیے “رقیہ بھائی پر بگڑنے لگی

“مجھے بیوی چاہیے ۔۔۔۔جہیز میں لپٹی ہوئی استانی نہیں جو نئے پاٹ پڑھاتی رہے مجھے ۔۔۔۔۔اور ہمیشہ اپنے جہیز کا رعب ڈالتی رہے ۔۔۔۔۔بجو آپ کو اب میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔میں خود ڈھونڈ لوں گا لڑکی “رامس نے جان چھڑوانا چاہی

“آئے ہائے سن رہی ہو اماں صاحب زادے کے ارادے ۔۔۔اب یہ خود ڈھونڈے گا لڑکی ۔۔۔۔بڑی بہن کی تو کوئی اوقات ہی نہیں رہی۔۔۔۔ایک میں پاگل ہوں اماں جو اپنی گھرگھرستی چھوڑ کے بھائی کی محبت میں گھلی جا رہی ہوں “رقیہ کے مگر مچھ کے آنسوں۔ تیزی سے آنکھوں رواں دواں ہونے لگے

“نا شوہر کو صبح ناشتہ بنا کر دیا ۔۔۔نا ہی بچوں کے لئے کچھ پکا کر آئی بس سویرے سے اس لڑکے کے چکر میں گھن چکر بنی ہوئی ہوں اور یہ ہے کہ لاڈ صاحب کے مزاج ہی نہیں۔ مل رہے “ڈوپٹے کے پلوسے آنکھیں رگڑ کر سرخ کرتی رقیہ نے بھائی کو کن اکھیوں سے دیکھا جو اپنی بجو کی ڈرامے بازی بڑے انہمانک سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“رامس کچھ تو سوچ سمجھ کر بات کیا کرو ۔۔۔۔رقیہ تم چپ کرو کھانا میں باندھ دونگی تمہیں جاتے ہوئے لے جانا گھر ۔۔۔اور رامس کی فکر مت کرو جو تم کہو گئ وہی ہوگا ۔۔۔۔”رامس ماں بات سن کر تلملا ساگیا تھا

“بجو آج سے آپ میری طرف سے آزاد ہیں ۔۔۔اپنی گھر گھرستی پر توجہ دیں میری فکر چھوڑ دیں ۔۔۔۔ مجھے شادی کی نہیں کرنی ۔۔۔۔اب اگر آپ یہاں کوئی اور رشتہ لائیں تو میں گھر چھوڑ کے چلا جاؤں گا ۔۔۔۔۔”وہ غصے سے کہتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

******………

باسم کے اوپر کا پورشن بھی کروائے پر چڑھ چکا تھا ۔۔۔۔ایک بڑے میاں انکی بہن اور انکی ایک اکلوتی جوان بیٹی تھی جو رائمہ کی ہم عمر تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔بہت جلد ہی رائمہ سے گھل مل گئ تھی ۔۔۔بڑے میاں بھی کافی خوش مزاج قسم کے انسان تھے ۔۔۔۔البتہ انکی بہن ذرا تیز مزاج کی خاتون تھیں ۔۔۔۔۔میاں وفات پا چکے تھے بیٹا پردیس پڑھنے کیا گیا وہیں کس ہو کر رہ گیا وہیں شادی کر کے پیچھے ماں کو پلٹ کر نہیں دیکھا تھا اس لئے بھائی کے ساتھ ہی رہتی تھیں ۔۔۔۔لیکن اکثر نیلو فر پر برستی ہی نظر آتی تھیں ۔۔۔(نیلو فر ۔۔۔بڑے میاں کی بیٹی کا نام تھا )

نیلوفر دیکھنے میں بھولی بھالی بہت خوبصورتی لڑکی تھی گوری رنگت ۔۔۔بڑی بڑی آنکھیں ۔۔۔ہنستی تو دائیں گال پر ڈمپل سا پر جاتا تھا ۔۔۔۔لیکن اپنی پھپو سے بہت ڈرتی تھی ۔۔۔۔ان کے سامنے گم صم سی رہتی تھی ۔۔۔۔باسم ان دنوں بہت مصروف رہنے لگا تھا ۔۔۔۔رائمہ کی شادی میں بہت کم وقت رہ گیا تھا ۔۔۔۔اس لئے بازار میں کپڑوں کی زمہ داری رائمہ اور رابعہ بیگم پر ڈال دی تھی باقی سارے کام باسم نے اپنے سر ہی لے رکھے تھے ۔۔۔۔رات سےاسکی طعبیت نا ساز سی تھی ۔۔۔صبح ہلکے سے بخار کے باوجود آفس چلا گیا لیکن جلد ہی چھٹی لیکر واپسی آ کر گیا وہ مسلسل کام کی وجہ سے تھک کر چور ہوچکا تھا بخار بھی تیز ہو چکا تھا گھر پہنچا تو ۔۔رابعہ بیگم رائمہ اور روباب بازار جانے کے لئے تیار کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔لیکن باسم کی نا ساز طعبیت کو دیکھتے ہوئے رابعہ بیگم نے روباب کو رکنے کے لئے کہہ دیا

“روبہ تم بھائی کے پاس گھر رک جاؤں ۔۔۔پھر کبھی چلی جانا ۔۔”

“لیکن امی میری تو ابھی ساری شاپنگ ہونے والی ہے ۔۔۔”رباب کا دل بازار جانے پر بے تاب تھا

“امی آپ لوگ جائیں میں ویسے بھی سونے لگا ہوں رباب رک کر کیا کرے گی ۔۔۔پھر پیچھے دن ہی کتنے رہ گئے ہیں ۔۔۔اچھا ہے کہ یہ بھی شاپنگ سے فارغ ہو جائے ۔۔۔”باسم کے اصرار پر وہ تینوں بازار چلی گئیں باسم بھی اپنے کمرے میں لیٹ گیا تھکن اور بخار کی وجہ سے فورا ہی آنکھ لگ گئ ۔۔۔۔۔نا جانے کتنی دیر وہ بے خبر سوتا رہا اوپر کے شور کی وجہ سے باسم ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔۔۔

“ارے میں کہتی ہوں تم چھت پر لینے کیا گئ تھی ۔۔۔۔کب سےچل رہا ہے یہ سب “اوپر کے پورشن سے کسی عورت کی چیخ کر بولنے کی آواز اندر کمرے تک آ رہی تھی باسم نے تکیہ سر کے اوپر رکھا تاکہ مزید سو سکے لیکن وہ خاتون بھی گلا پھاڑنے کی شاید عادی تھیں باسم اٹھ کر بیٹھ گیا ہاتھ بالوں پر پھیر کر لحاف اتارنے لگا ۔۔۔اس شور میں اسکے لئے سونا ممکن نہیں تھا

“پھپو مجھے کچھ نہیں پتہ ۔۔۔۔میں۔ تو صرف دھلے ہوئے کپڑے پھیلانے گئ تھی ۔۔۔۔ وہ لڑکا خود سے ہی اشارے بازیاں کرنے لگ گیا تھا میں فورا سے نیچے آنے لگی تھی لیکن آپ اوپر آ گئیں “

“نیلو جھوٹ مت بولو مجھ سے ۔۔۔۔مجھے دیکھ کر تیرا رنگ پھر کیوں اڑا تھا ۔۔۔۔کوئی چکر توضرور ہے ۔۔۔ دیکھ سچ سچ بتا دے ورنہ ۔۔۔۔”وہ عورت پھر سے دھاڑی تھی ۔۔۔۔باسم شور کی وجہ سے سو نہیں پا رہا تھا ۔۔ اس لئے اٹھ کر صحن میں آ گیا ۔۔۔۔

“پھپو میں سچ کہہ رہی ہوں “وہ رونے لگی تھی

“چل اب شکل گم کر اپنی میرے سامنے سے ۔۔۔۔میں بازار جا رہی۔ ہوں دروازہ ٹھیک سے بند کر لے اور خبر دار جو چھت پر قدم بھی رکھا تو ۔۔۔”اوپر کے پورشن کادروازہ الگ سے باہر کی جانب کھلتا تھا ۔۔۔مگر سیڑیوں ۔میں لوہے کا جنگلہ لگا ہوا تھا ۔۔۔اگر کوئی اوپر سے نیچے اترتا یا چڑھتا تو صحن سے صاف دیکھائی دیتا تھا ۔۔۔جب تک باسم صحن میں آیا تب تک پھپو صاحبہ باہر تشریف لے جا چکی تھیں ۔۔۔اس لئے ایک دم سے خاموشی چھا گئ تھی ۔۔۔۔لیکن باسم کی نیند اڑ چکی تھی اس لئے صحن میں رکھے تخت پر بیٹھ گیاسر میں درد ہونے لگا تھا ۔۔۔سوچا کہ چائے ہی بنا لے ۔۔۔۔ مگر گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز پر وہ وہیں ٹھٹک گیا ۔۔۔۔کوئی رو رہی تھی ۔۔۔۔ ۔۔نیلو فر سیڑھی پر بیٹھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی ۔۔۔اسے تو یہی پتہ تھا کہ رائمہ رباب اپنی امی کے ساتھ بازار گئ ہیں۔۔۔اور باسم تواسوقت گھر پر موجود ہی نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔اسے لگا نیچے کا گھر بلکل خالی ہے پھپو کے جانے کے بعد دروازہ بند کر کے اوپر جانے کے بجائے سیڑیوں میں بیٹھ کر رونے لگی ۔۔۔۔اسوقت تواسے اپنی محرومہ ماں کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔اگر وہ زندہ ہوتیں تو پھپو آئے دن اس قسم کے گھٹیا الزام تو نا لگاتیں اس پر ۔۔۔رونے اور سسکنے کی آواز پر

باسم دھیرے سے چلتا ہوا سیڑیوں کے پاس لگے جنگلے کے سامنے کھڑا اس نازک سے وجود کو ہچکیوں سے روتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“امی آپ کیوں چلی گئیں۔ مجھے چھوڑ کر ۔۔۔۔بابا تو میری کوئی بات سنتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔بس جو پھپو کہہ دیں اسی پر یقین کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔میری بات سننے والا کوئی بھی نہیں ہے میں بے قصور ہو کر بھی پھپو کے گھٹیا الزام سننے پر مجبور ہوں ۔۔۔۔۔۔امی اگر آپ ہوتیں تو کسی کی جرت نہیں ہوتی مجھے اس طرح کچھ کہنے کی “گھٹنوں پر سر دئیے وہ بدتدریج روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔باسم ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔گورے سفید ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپٹے ہوئے تھے ۔۔۔چہرہ گھٹنوں میں چھپائے ۔۔۔وہ اپنی محرومہ ماں سے شکوہ کناں تھی کمر پر لمبی جھولتی چٹیا دائیں جانب ڈھلک چکی تھی ۔۔۔۔باسم کچھ اور قریب جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔اپنا گلہ تھوڑا ساکھنکھارا تا کہ اپنی موجودگی کا علم اس روتی لڑکی کو دلا سکے ۔۔۔۔ اس وقت تو باسم کی خواہش اس لڑکی کو دیکھنے کی تھی ۔۔۔جو نا جانے کس دکھ میں آنسوں کی ندیاں بہانے پر تلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

باسم کی آواز پر بے ساختہ نیلوفر نے اپنا سر اٹھایا کر دیکھا ایک خوش شکل ہیڈسم سا نوجوان سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا سی گئ آج تک وہ صرف باسم کے نام سے واقف تھی ۔۔۔۔رائمہ اور رباب کے منہ سے وہ باسم تعریفیں بہت سن چکی تھی مگر کبھی اسے دیکھا نہیں تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔اور باسم اس خوبصورت معصوم سی مومی گڑیا جیسی لڑکی کو دیکھ کر دم بخود رہ گیا تھا ۔۔۔۔حسن کا پیکر تھی وہ لڑکی ۔۔۔۔روئی روئی آنکھیں اسکی آنکھوں کا گلابی پن اسکی دلکشی اور بھی بڑھا رہا تھا ۔۔۔وہ یک لخت ہی کھڑی ہو گئ ۔۔۔باسم بھی چونک سا گیا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اوپر کا زینہ چرھتی۔۔۔باسم کی آواز پر وہیں ٹھٹک کر رک گئ

“سنیے جائیے گا مت”

“جی “وہ پلٹ کر اسے تحیر سی اسے دیکھنے لگی “

“بیٹھیں یہیں پر “نیلو فر وہیں ۔ کھڑی رہی ۔۔۔”

“بیٹھ جائیں ۔۔۔” باسم کے دوبارہ کہنے پر نا چاہتے ہوئے بھی وہ دوبارہ سیڑھی پر بیٹھ گئ لیکن اپنا رخ باسم کی مخالفت سمیت موڑ لیا

“کیوں رورہیں تھیں آپ “باسم کو اب بھی اسکی لمبے بالوں کی چٹیا ہی نظر آ رہی تھی

“آپ سے مطلب “وہ ذراسخے لہجے سے بولی

“جی ۔۔۔مطلب تو ہے ۔۔۔۔جبھی پوچھ رہا ہوں ۔۔۔۔مت رویا کریں آنسوں کبھی بھی انکے خاطر نہیں بہانے چاہیے جنھیں انکی پروا نا ہو ۔۔۔۔۔آپ کتنی با کردار ہیں یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ۔۔۔۔ہم کبھی بھی دوسروں کو انکی خواہش کے مطابق مطمئن نہیں کر سکتے ۔۔۔۔نا ہی اپنی پاکیزگی کایقین دلاسکتے ہیں۔۔۔۔اگر آپ اچھی ہیں توآپ کو کسی کو بھی اس بات کا یقین دلانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔”

“آپ کو میری باتیں نہیں سننی چاہیے تھیں یہ غیر اخلاقی حرکت ہے ۔۔۔۔”نیلو فر کو باسم کے سامنے خفت سی محسوس ہونے لگی تھی وہ اسکی آہ وازای سن چکا تھا

“اب آپ با آواز بلند شکوے کریں گئ تو بندہ نا چیز کان تو بند کرنے سے رہا ۔۔۔۔یوں مت رویا کریں آپ کی والدہ کو تکلیف پہنچے گی “باسم مبہم سا مسکرایا اور دھیمے لہجے سے بولا

“تو میں بھی تو تکلیف میں ہوں ۔۔۔۔میں کس سے کہو ۔۔۔۔”اب وہ سنبھل چکی تھی رخ دوسری جانب موڑے ہی باسم سے بات کر رہی تھی۔۔۔

“یوں روتے ہوئے امی سے شکوے کر کے سکون مل جاتا ہے آپ کو ۔۔۔”باسم نے تعجب سے پوچھا نیلوفر نفی میں سر ہلا کر اپنے آنسوں پونچنے لگی ۔۔۔

“پھر کیوں بہاتی ہیں آنسوں ۔۔۔۔خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔دوسروں کی باتوں کی پروا کرنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔خوش رہا کریں یقین جانیے آپکی مسکراہٹ آپکے آنسوں سے زیادہ خوبصورت اور دلفریب ہے ۔۔۔نیلوفر جو رخ موڑے باسم کی باتوں کے جواب دے رہی تھی بے ساختہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

“یقین نا آئے تو آئنے سے پوچھ لیں سچ بتا دے گا آپ کو “

نیلو فر کے دل کی دھڑکنیں یک دم ہی الگ سی لہہ سے دھڑکیں تھیں ۔۔۔۔۔نیلو فر فورا سے اوپر کا زینہ چڑھ گئ ۔۔۔۔کمرے میں بیٹھ کر دل کے بے ترتیب سے دھڑکنے پر آنکھیں بند کیے اسے اعتدال پر لانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔جو باسم کے آخری جمعلے سے بے قابو سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔پھپو کے طعنے تو وہ ویسے ہی بھول چکی تھی سامنے لگے ڈرسنگ کے شیشے پر نظر پڑی تو کھڑی ہو کر ڈرسنگ کے سامنے آ گئ ۔۔۔۔اپنا چہرہ غور سے دیکھنے لگی رونے کی وجہ سے آنکھیں متورم سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔کچھ دیر اپنے چہرے کے خوبصورت نقوش دیکھتی رہی خود با خود ہی ایک مسکان چہرے پر آ کر ٹہر گئ ۔۔۔۔۔

چہرہ خود با خود ہی دلکش سا لگنے لگا ۔۔

“یقین جانیے آپکی مسکراہٹ آپکے آنسوں سے زیادہ خوبصورت اور دلفریب ہے “باسم کے جمعلے سماعتوں میں گونجے تو مسکراہٹ اور گہری ہو گئ ۔۔۔۔۔

“اب یہ آئنے کے سامنے کھڑی کیوں مسکرا رہی ہو ۔دیوانوں کی طرح ۔۔”پیچھے سے پھپو کی آواز سن کر وہ چونک سی گئ تھی ۔۔مین گیٹ کی چابی وہ ساتھ لیکر گئیں تھیں اب ہاتھ میں سبزی کے شوہر پکڑے ہانپتی ہوئی۔ اندر داخل ہوئیں تھیں

“کچھ نہیں پھپو ۔۔۔۔ب بس بال بنانے لگی تھی “نیلو فر نے گھبرا کر جواب دیا

“ارے چھوڑ بالوں کو اچھے خاصے تو بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔جا کر پانی لیکر آ ۔نظر نہیں آتا ۔اتنی دوپہر میں جا کر سبزی لائی ہوں ۔۔۔”پھپو بیڈ پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس بھرنے لگیں نیلوفر نے پھپو کے ہاتھ سے شوہر پکڑا اور فورا سے کمرے سے باہر نکل گئ

******………

شاہزیب نے عاتقہ بیگم کے لاکھ کہنے پر بھی کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔

“امی ایک بار کہہ جو دیا کچھ نہیں کھانا مجھے ۔۔۔۔”شاہزیب غصے سے غرایا ۔۔۔۔۔اور سامنے سائیڈ ٹیبل ہر رکھی موٹر بائیک کی چابی پکڑی اور کمرے سے نکلنے لگا

“اب کہاں جا رہے ہو اتنے غصے میں “

“بیفکر رہیں ۔۔۔مرنے نہیں جا رہا ۔۔۔٫”

“بکو مت شازیب جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہو ۔۔۔تمہارے ابو بلا رہیں تمہیں جا کر بات سنو انکی ۔۔۔۔اگر تم یونہی باہر گئے تو اس بار میرے کہنے پر بھی دوبارہ بائیک کی چابی نہیں ملے گی تمہیں”عاتقہ بیگم کی بات پر شاہزیب کے قدم وہیں رک گئے ۔۔۔۔۔واپس پلٹ کر ماں کے پاس آیا

“امی کیسے یقین دلاؤ ۔۔۔نہیں جانتا میں اس لڑکی کو ۔۔۔اپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ۔سمجھائیں ابو کو ۔۔۔”شاہزیب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کچھ نا کر کے بھی وہ مجرم کی طرح صفائیاں کیوں دے رہا تھا ۔۔۔۔

“یہ سب تم اپنے ابو سے جا کر کہو ۔۔۔۔”

“کیا کہوں انہیں ۔۔۔۔زمانے بھر کی ساری برائیاں انہیں صرف مجھ میں نظر آتی ہیں”شاہزیب غصہ ضبط کرتے ہوئے دانت کچکچا کر بولا ۔۔۔۔اندر ہی اندر سے زمان صاحب کا سامنا کرنے سے ڈر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

“جا کر بات کرو ان سے ورنہ تمہارے انتظار میں اپنا بی پی ہائے کر لیں گئے ۔۔۔اور ہاں ۔۔۔برابر والے کمرے سے نمیرہ کو بھی اپنے ساتھ لیکر جاؤں ۔۔۔آج تو اسکی بھی خیر نہیں ہے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے بریانی کی پلیٹ اٹھائی اور کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔یک دم ہی شاہزیب کے دماغ میں ایک نئ ترکیب آئی ۔۔۔نمیرہ ویسے بھی کچھ بیوقوف سی تھی پھر شاہزیب سے پیار بھی بہت کرتی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کی باتوں میں بھی جلدی ہی آ جاتی تھی ۔۔۔اب یہی ایک طریقہ تھا زمان صاحب کی ڈانٹ اور پھٹکار سے بچنے کا ۔۔۔۔،شاہ زیب نے کمرے سے نکل کر شازمہ اور نمیرہ کے کمرے میں دستک دی اور نیب گھما کر دروازہ کھولے اندر گھس گیا ۔۔۔نمیرہ رونے میں مصروف تھی اور شازمہ اسے چپ کروانے میں

“اب چپ تو کرو نمی ۔۔۔کہہ دینا ابو سے کہ شاہو نے تمہیں۔ بتانے سے منع کیا تھا ۔۔۔۔۔۔”شازمہ کے منہ سے یہ سن کر ،شاہزیب مزید تپ کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔فورا سے شازمہ اور نمیرہ کے پاس آیا ۔۔۔۔ اور شازمہ سے مخاطب ہوا

“شازی ۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے تم میری سگی بہن ہی نہیں ہو ۔۔۔۔۔کیا پٹیاں پڑھا رہی کو نمی کو ۔۔۔۔نکلو فورا یہاں سے امی کچن میں بلارہی۔ ہیں تمہیں”شاہزیب چٹکی بجا کر جھوٹ بول کر شازمہ کو کمرے سے نکالنا چاہا لیکن وہ شاہزیب کے مقابل کھڑی ہو گئ

“سگی بہن ہوں۔ اس لئے کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔باز آ جاؤں اپنی حرکتوں سے ۔۔۔ورنہ منہ کی کھاؤں گئے “وہ بھی آنکھیں دیکھا کر بولی

“وہ رہا کمرے کے دروازہ ۔۔۔اینڈ گیٹ لاسٹ “شاہزیب نے غصے سے تپے ہوئے شازمہ کو کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ بھی غصے سے پیر پٹختی ہوئی باہر چلی گئ۔۔۔

شاہزیب نمیرہ کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔اسکا ہاتھ تھامے بڑے نرم لہجے سے بولا

“ایک تم ہی تو میری سگی بہن ہو ہمیشہ مجھ سے پیار کرنے والی میرا خیال رکھنے والی۔۔۔۔۔نمی یاد ہم دونوں بچپن میں ہر شرارت مل کر کیا کرتے تھے ہے ۔۔۔۔”شاہزیب اب نمیرہ کو ایموشنل کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ویسے بھی شازمہ شاہزیب سے تین برس بڑی تھی اور شاہزیب اور نمیرہ میں سال کا ہی فرق تھا ۔۔۔۔اور یہ بھی سچ تھا کہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کے ذیادہ قریب رہے تھے کیونکہ عاصم ان سے کافی سال چھوٹا تھا ۔۔۔۔۔

” بھائی آپ کی وجہ سے ابو مجھے بھی نہیں چھوڑیں گئے ۔۔۔۔”نمیرہ کی اپنی جان پر بنی ہوئی تھی

“کچھ نہیں کہیں بس “ذراااا۔۔۔۔” سا ڈانٹیں گئے اور بس ۔۔۔۔”شاہزیب نے ذرا کو کچھ ذیادہ کھنچ کر کہا

وہ اپنے آنسوں صاف کرنے لگی

“اب میری بات سنو نمی ۔۔۔میری جان ۔۔۔میری پیاری سی پری۔۔۔میری چندا ۔۔۔۔ایک کام کر دو میرا ۔۔۔۔سچی مچی ۔۔۔تمہاری دوست کی برتھ ڈے پر پک اینڈ ڈراپ کی سروس میری طرف سے بلکل فری پیڑول کے پیسے بھی نہیں لوں گا تم سے “شاہزیب نے جال تو بہت بہترین انداز سے بچھایا تھا

“سچی شاہو بھائی “نمیرہ فورا سے خوش ہوگئ ۔۔۔

“بلکل سچی ۔۔۔بس تم ابو کے سامنے یہ کہہ دینا کہ ۔۔۔وہ جو لڑکی آئی تھی ۔۔وہ تمہاری دوست ہے ۔۔۔۔میری کچھ نہیں لگتی باقی سب میں سنبھال لوں گا ۔۔۔۔”شاہزیب کی بات سن کر نمیرہ نے اپنا ہاتھ شاہزیب کے ہاتھ سے چھڑوا لیا

“جی نہیں بھائی ۔۔۔۔میں یہ سب نہیں کروں گی ۔۔۔۔ابو میری جاں لے لیں گئے ۔۔۔۔نہیں بھئی ۔۔۔پیار اپنی جگہ اور ابو کی ڈانٹ اپنے اپنے حصے کی اپنی جگہ ۔۔۔۔۔میں آپ کی خاطر ایک بھی جھڑکی ابو سے نہیں سنو گی ۔۔۔”نمیرہ کے صاف کورے جواب پر شاہزیب کڑ کے رہ گیا ۔۔وہ بھی جانتی تھی کہ وہ ذیادہ قصوروار نہیں ہے ۔۔۔۔

“بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے ۔۔۔۔۔۔پیدل جانا اس چشماٹو عاصم کے ساتھ اپنی دوست کے گھر ۔۔۔خبردار جو مجھ سے ایک بار بھی کہا تو “شاہزیب نے اسے گھورتے ہوئے کہا اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔

“چلو اب ۔۔اٹھوں ۔۔۔۔۔پیشی لگوائیں ابو کی عدالت میں اپنی ۔۔۔”شاہزیب یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا نمیرہ بھی اسکے پیچھے لپکی تھی مگر زمان صاحب کے کمرے کے باہر کھڑے ہو کر دونوں کی اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھیں دونوں نے ایک آس بھری نظر ایک دوسرے پر ڈالی ۔۔۔۔حلق سے تھوک نگلا دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی کے بس معاملہ صرف ڈانٹ پھٹکار تک ہی محدود رہے گا اور کمرے کو نوک کیا ۔۔۔۔۔

“آ جاؤں دونوں اندر “ایک گرجدار آواز سے دونوں کی بندھی ہمت نے صاف جواب دے دیا کہ ابا کی ڈانٹ کون سی کم ہے ۔۔۔۔اپنی گرجدار آواز سے ہی سامنے والے کی روح فنا کرنا اچھی طرح جانتے تھے ۔۔۔۔نمیرہ کی آنکھوں میں نمی صاف نظر آنے لگی تھی اور شکل سے لگ رہا تھا کہ ابھی رونے لگے گی ۔۔۔۔کمرے کادروازہ کھول کر دونوں اندر داخل ہوئے تو سگریٹ کے دھوئیں سے سانس کھٹنے لگا ۔۔۔مطلب آج تو پکی خیر نہیں تھی ۔۔زمان صاحب سگریٹ پینے کے عادی نہیں تھے لیکن جب ٹریس میں ہوتے تو ۔۔۔۔چین سموکر کی طرح سگریٹ پیتے تھے ۔۔۔۔سامنے غصے سے کمرے میں چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔ساتھ ہی ساتھ سگریٹ پی رہے تھے ۔۔۔۔سب سے پہلے دونوں کی نظر سامنے رکھے ایش ٹرے پر پڑی تا کہ سگریٹ کی تعداد سے غصے کا اندازہ لگا سکیں ۔۔۔۔چھ سات بجھے سگریٹ سے دونوں سمجھ چکے تھے ۔۔۔۔لیکچر پورے گھنٹے ہو گا ۔۔۔۔دونوں کو کمرے کے دروازے پر دیکھ کر زمان صاحب نے غصے سے کہا

“دروازہ بند کرو اور ادھر آؤ۔ دونوں۔میرے سامنے ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے جلدی سے دروازہ بند کیا دونوں خرمہ خرمہ قدم اٹھاتے ہوئے زمان صاحب کے سامنے نظریں جھکائے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔۔۔

“شاہزیب سے میں کچھ بھی امید رکھ سکتا ہوں ۔۔۔مگر نمیرہ تم بھی ۔۔۔۔۔نہایت افسوس کی بات ہے ۔۔۔۔”زمان صاحب۔ کو نمیرہ سے واقع ایسی امید نہیں تھی “

ابو ۔۔۔۔ابو “نمیرہ روتے ہوئے زمان صاحب کے سینے سے لگ گئ دونوں بازو انکے گلے میں ڈالے رونے لگی

“اللہ کی قسم۔۔۔ابو مجھے نہیں پتہ وہ لڑکی کون ہے ۔۔۔۔میں تو شاہو۔ بھائی کے ساتھ مال میں گئ تھی اپنی دوست کا گفٹ لینے ۔۔۔شاہو بھائی نے ہی یہ شرط رکھی تھی کہ میں۔ انہیں برگر کھلاؤں گی تو ہی مجھے لیکر جائیں گئے ۔۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا کہ انہوں نے وہاں کسی لڑکی کو بلایا ہے ۔۔۔”نمیرہ کی خود ساختہ کہانی پر شاہزیب نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

“ابو ۔۔۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ مجھے اس لڑکی سے ملوانے لے کر گئے تھے ۔۔۔۔”روتے روتے وہ ساری بات شاہزیب کے گلے ڈال چکی تھی ۔۔۔۔یا شاید وہ یہی سمجھی تھی کہ شاہزیب نے جان بوجھ کر اس لڑکی کو بلوایا تھا ۔۔۔۔شاہ زیب بری طرح پھنس گیا تھا ۔۔۔۔

“اچھا اچھا اب یہ رونا بند کرو میں نے کون سا تمہیں ڈانٹا ہے ۔۔۔۔چلو شاباش چپ کرو “زمان صاحب۔ کا لہجہ دھیما دیکھ کر شاہزیب نے رشک بھری نگاہوں سے بہن کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

“واہ میرے اللہ ۔۔۔۔عورت کو آنسوں کا ہتھیار کیا خوب استعمال کرنا آتا ہے ۔۔۔۔۔۔چاہے وہ نمی جیسی بیوقوف ہی کیوں نا ہو کیسے ابو کے غصے کو ہوا میں اڑا گئ ہے ۔۔۔۔۔اور ایک میں ہوں جب تک ایک گھنٹہ گالیاں اور لعن طعن نا سن لوں جان بخشی کے کوئی چانس نہیں ہیں ۔۔۔۔۔شاہزیب کا دل نمیرہ کو داد دینے کو چاہ رہا تھا

“نمیرہ جاؤں تم ۔۔۔”نمیرہ نے فورا سے اپنا سر اٹھایا ۔۔۔

“شکریہ ابو “کہتے ہوئے اپنے آنسوں کو صاف کیا ۔۔۔۔اور انسے پیچھے ہٹ کر کمرے سے جانے سے پہلے شاہزیب کو ٹھنگا دیکھا کر مسکراتے ہوئے باہر چلی گئ ۔۔۔

کوئی اور موقع ہوتا تو شاہزیب ایک کشن اٹھا کر اسکے منہ پر ضرور دے مارتا ۔۔۔لیکن اب اپنی باری کے انتظار میں نظریں جھکائے کھڑا تھا