One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 16

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 16

One Wheeling by Umme Hani

حیدر تو اپنے والد کے منہ سے بختیار صاحب کی نیناں کے لئے رضامندی سن کر ہی خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔۔۔ایک ہفتے کے بجائے اگلے روز کی ہی ٹکٹ کٹوانے کے چکر میں تھا ۔۔۔۔نیناں کو وہ پہلے سے پسند کرتا تھا ۔۔۔لیکن اپنی تعلیم کمپلیٹ کرنے اور کرئیر بنانے کے لئے امریکہ جانا ضروری تھا ۔۔۔۔پھر والدین بھی وہیں شفٹ ہونے کا سوچ رہے تھے ۔۔۔اس لئے اسنے اپنے والد سے کہا کہ وہ نیناں کے لئے بات کریں ۔۔۔۔مگر بختیار کے صاف انکار پر وہ بجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔لیکن اب تین سال بعد اچانک سے انکا شادی پر رضامندی ظاہر کرنا پھر حیدر کو بلانا ۔۔۔حیدر کے لئے خوش آئین بات تھی پہلے پہل تو نیناں بھی اس سے روز بات کرتی تھی ۔۔۔پھر اسکی دوستی بھی آپس میں بہت تھی لیکن پھر اپنی اپنی مصروفیت کے باعث باتوں کا سلسلہ ہفتوں سے مہنیوں تک جا پہنچا تھا اب تو اگر حیدر نیناں سے بات کرنا بھی چاہتا تو وہ اپنی مصروفیت کا کہہ کر ٹال جاتی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن سب تو اسکی وشی کی انتہا نہیں تھی اس لئے پہلی ہی فلائٹ جو دو دن بعد کی کنفرم ہوئی تھی ۔۔حیدر ریزو کروا چکا تھا ۔اور وہ دو دن اس نے صرف نیناں کے لئے شاپنگ کرنے پر ہی گزارے تھے ۔۔۔۔۔ادھر بختیار صاحب کا رویہ نیناں سے قدرے بدلہ بدلہ سا تھا ۔۔۔نا وہ اسکی روٹین کا پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔نا ہی اسے سیدھی طرح بات کر رہے تھے نیناں بار بار انکے بدلتے رویے کی وجہ پوچھ چکی تھی مگر وہ اصل وجہ بھی نہیں بتا رہے تھے بس مصروفیت کا بہانہ بنا کر بات ڈال جاتے تھے ۔۔۔۔

*****………..

شازمہ کا ضبط جب حد سے گزرا تو وہ آنسوں بہانے لگی

“,شازل مجھے آپکے ساتھ جانے ہر کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔میں چلوں گی آپکے ساتھ ۔۔۔شاہزیب کو

میری شکایت لگانی ہے ابو سے تو لگا دے۔۔۔۔ ابو مجھے ڈانٹیں ۔۔میں وہ بھی سہہ لوں گی “شازمہ کے جواب پر شازل نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ شاہزیب کی طرف اچھالی لیکن وہ جزبز ہی بیٹھا رہا

“لیکن میں آپکے ساتھ ڈانس ہر گز نہیں کرونگی کسی قیمت پر بھی نہیں ۔۔۔”شازمہ کے اگلے جواب پر شازل نے ایک تیکھی نظر شازمہ پر ڈالی۔۔اور غصے سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فل اسپیڈ سے گاڑی اڑاتا ہوا چلا گیا۔۔۔۔۔

شازمہ خاموشی سے شاہزیب۔ کے پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔باقی کا سفر خاموشی سے ہی گزرا

اپنے اپاٹمنٹ کے نیچے بائیک کھڑی کر کے جب اس نے پیچھے کھڑی شا،مہ کو دیکھا تو بے تحاشہ رو رہی تھی

“شازی تم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔۔۔اس لئے آنسوں بہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔”۔۔شاہزیب نے اپنے ہاتھوں سے اس کا آنسوں سے بھیگا چہرا صاف کیا اور بہت نرمی سے بات کر رہا تھا جانتا تھا کہ شازمہ بہت چاہتی ہے شازل کو ۔۔۔۔

“شاہو ۔۔۔وہ مجھے چھوڑ تو نہیں دے گا نا ۔۔۔۔رشتہ تو نہیں توڑ دے گا ۔۔۔۔۔”اپنے خدشے بتاتے ہوئے وہ ہچکیوں سے رونے لگی

” کیوں رو رہی ہوں ۔۔۔ادھر دیکھوں میری طرف ۔۔۔۔اتنی جرت نہیں ہے اس بزدل میں۔۔۔۔ ابو کے مزاج کو اچھی طرح سے جانتا ہے ۔۔۔پھر تایا ابو کبھی بھی اسے اتنا بڑا قدم نہیں اٹھانے دیں گئے ۔۔۔۔کچھ نہیں کرے گا بس کچھ دن۔۔پھوں پھاں کر کے چپ ہو جائے گا ۔۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے اسے اپنے انداز سے تسلی دی

“نہیں شاہو وہ بہت غصے میں تھا تین دن سے مجھے یہی دھمکی دے رہا تھا ۔۔۔۔اگراس نے سچ میں ایسا کچھ کر دیا تو میں ۔۔۔ “شازمہ پھر سے رونے لگی

“ایسی تیسی پھیر کے رکھ دوں گا میں اسکی وہ انکار کر کے تو دیکھائے ۔۔۔۔سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔۔۔تم بس پریشان ہونا۔ چھوڑو۔۔۔۔تم ڈرتی ہو اس لئے وہ تمہیں ڈراتا ہے ۔۔۔۔الو کا پٹھا کہیں کا ۔۔۔۔”شاہزیب کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا

“شاہو ۔۔۔گالی تو مت دو اسے “وہ روہانسی ہوئی

“تم یہ رونا بند کرو پہلے۔۔۔۔ اوپر جاتے ہی ابو سوال شروع کر دیں گئے تم سے ۔۔۔۔۔۔” شاہزیب کی بات سنتے ہی شازمہ نے ڈوپٹے سے آنکھیں صاف کیں پھر دونوں اوپر کا زینہ چڑھنے لگے

******……..

نیناں اپنی شاپنگ کر کے شام کو گھر لوٹی تھی سامنے لاونج میں بختیار صاحب بڑے خوشگوار موڈ میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔۔۔۔سامنے رکھی ٹیبل مختلف لوازمات سے بھری پڑی تھی ۔۔۔۔ایسا تب ہی ہوتا تھا جب کوئی ۔مہمان آیا ہو ورنہ بختیار صاحب شام میں صرف چائے ہی پیتے تھے ۔۔۔۔نیناں نے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔ڈرائیور اندر داخل ہوا اور سارے شاپنگ بیگ بھی صوفے پر رکھ کر چلا گیا۔۔۔۔۔

“ہمم شاپنگ ہو رہی تھی لٹل فرینڈ “بہت دن بعد بختیار صاحب نے بڑے خوشگوار موڈ میں نیناں سے پوچھا تھا ۔۔۔نیناں بھی خوش ہو گئ کئی دنوں سے اپنے والد کے خفا خفا موڈ پر وہ بجھ سی گئ تھی ۔۔۔

“یس پوپس یہ دیکھیں میں اپنے کتنے پیارے پیارے ڈریسز لائی ہوں ۔۔۔۔۔ “نیناں شاپنگ بیگ کھولے اپنے ڈریسز دیکھانے لگی جو سب ہی شلوار قمیض اور ڈوپٹے سمیت تھے ۔۔۔۔کہ اچانک سے کسی نے نیناں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔ایسی بے تکلفانہ جرت کوئی ملازم تو کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔وہ کچھ کنفوژ سی ہوئی

“رحمت بی بی ؟نیناں کو یقین تو نہیں تھا کہ رحمت بی بی ہوں گئیں لیکن گھر میں ملازمیں کے علاؤہ کوئی اور ہوتا بھی نہیں تھا نیناں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں پر رکھے ہاتھوں کو چھو کر اندازہ لگانے کی کوشش کی وہ ایک مردانہ سے ہاتھ تھے ۔۔۔ایسی جرت کون کر سکتا ہے وہ بھی بختیار صاحب کے سامنے

“کون ۔۔۔۔۔پوپس کون ہے میرے پیچھے “نیناں کے استفسار پر بختیار صاحب ہسنے لگے

“خود ہی بوجھ لو “بختیار صاحب کے لہجے میں خوشگواری تھی ۔۔۔۔مگر نیناں سمجھنے سے قاصر تھی اگر اسکی کوئی دوست بھی ہوتی تو لڑکی اور لڑکوں کے ہاتھوں کا فرق وہ اچھی طرح محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔

“آئی ڈونٹ نو “نیناں اب اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر گرفت بہت سخت تھی

“بوجھو تو جانیں ۔۔۔۔۔۔یور بسٹ فرینڈ ۔۔۔۔۔اینڈ یور لور “نیناں کو اب کو دھچکا سا لگا ۔۔۔اتنا کھلے عام اظہار کرنے والا کون تھا۔۔۔ نیناں کو برا سا لگا اس لئے اس وہ سخت لہجے سے بولی

“Remove your hands from my eyes … please”

نیناں کے لہجے کی کاٹ تھی کہ ہاتھ فوراسے ہٹ گئے۔۔۔نیناں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو سامنے حیدر کھڑا تھا ۔۔۔۔مسکراتا ہوا ۔۔۔بلکل ویسا ہی تھا جیسا تین سال پہلے تھا ۔۔۔۔انکھوں میں شرارت لئے ۔۔۔چہرے ہر وقت مسکراہٹ سجائے ۔۔۔۔۔

“تم “نیناں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

“یس مائے سویٹ فرینڈ۔۔۔ میں حیدر ۔۔۔۔۔تمہارا حیدر ۔۔۔”اب وہ نیناں کے پیچھے سے ہٹ کر اسکے برابر ا کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔

“کیسا لگا میراسرپرائز ۔۔۔۔”وہ بہت آکسائیڈ تھا ۔۔۔مگر نیناں بدل چکی تھی ۔۔۔اسے حیدر کو دیکھ کر پہلے حیرت ہوئی تھی پھر افسوس ۔۔۔۔وہ تو ویسا ہی شوخ مزاج سا تھا ۔۔۔مگر نیناں کے دل کی دنیا کسی اور کے نام سے آباد ہوچکی تھی ۔۔۔۔وہ شاید اسے دیکھ کر خوش بھی ہو جاتی اگر بختیار صاحب نے اسے ایک اور نئے رشتے سے متعارف نا کروایا ہوتا ۔۔۔۔

“تم ۔۔۔۔کب آئے “نیناں چاہ کر بھی چہرے پر مسکراہٹ نہیں لا پا رہی تھی ۔۔۔

“بس ابھی کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔میں نے سوچا تمہیں ڈرانا چاہیے ۔۔۔۔پتہ ہے میں انکل سے کہہ رہا تھا کہ اگر میں نین کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ بھی دوں تو وہ فورا سے مجھے پہچان جائے گی ۔۔۔۔ نو ڈاوٹ کہ وہ مجھے بھول جائے ۔۔۔بٹ ائی ایم سرپرائز نین۔۔۔۔یار میں امریکہ میں رہ کر بھی تمہیں کبھی نہیں بھولا اور تم یہاں رہ کر اپنے حیدر کوبھول گئ ۔۔۔”حیدر آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہا تھا تعجب سے پوچھا رہا تھا ۔۔۔

“ایسی بات نہیں ہے تین سال تم وہاں رہے ہو ۔۔اس دوران ایک بار بھی نہیں آئے ۔۔۔۔اس لئے میں تمہیں اتنی جلدی یہاں expect نہیں کر رہی تھی “نیناں کے چہرے کے بدلتے رنگ بختیار صاحب بہت غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔

“اچھا بھئی بچوں تم لوگ انجوائے کرو مجھے اپنے کسی دوست کے پاس جانا ہے ۔۔۔'” بختیار صاحب اٹھ کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔

“وائے ناٹ انکل ۔۔۔مجھے ویسے بھی نین سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہے “جتنا حیدر آکسائیڈ تھا اتنا ہی نیناں کا رویہ اس سے کھینچا کھنچا تھا

“بٹ ایم سو ٹائیڈ ۔۔۔۔حیدر ایم سوری میں ابھی شاپنگ سے آئی ہوں ۔۔تم بھی بہت لمبی فلائٹ لیکر آئے ہو ۔۔۔آئی تھنک یو مسٹ ٹیک آ رسٹ “بختیار صاحب سے پہلے نیناں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔حیدر بس اسے تعجب سے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔مگر بختیار صاحب کی بے چینی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔نیناں میں کافی بدلاؤ آنے لگا تھا وہ مال سے جتنے بھی ڈریس لائی تھی سب شلوار قمیص اور ڈوپٹے کے ساتھ تھے ان میں سے ایک جینز یاشرٹ نہیں تھی ۔۔۔اور یہ بات اتنی بھی غیر معمولی نہیں تھی ۔۔۔پہلے وہ ایسے ڈریسز دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی مگر جب سے وہ شاہزیب سے ملکر آئی تھی اس دن سے وہ انہیں ایسے ہی کپڑوں میں نظر آ رہی تھی خطرے کی گھنٹی بختیار صاحب کو اپنی سماعتوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔جس طرح سے روڈ سا بےہیو نیناں نے حیدر سے کیا تھا ۔۔۔بختیار صاحب سوچ میں پڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔

“او کے بیٹا آئی تھنک نیناں از لائٹ ۔۔۔۔تم آرام کرو ڈنر تک فریش ہو جاؤں گئے ۔۔۔پھر رات کو نیناں کے ساتھ لونگ ڈرائیور پر چلے جانا “بختیار صاحب نے مسکراتے ہوئے بات کو سنبھالنے کی کوشش کی

“نو انکل میں پورے سفر میں سوتا ہوا ہی آیا تھا کہ اس لئے بلکل فریش ہوں ۔۔۔لیکن شاید نین کچھ ذیادہ ہی تھک چکی ہے ۔۔۔اینی وائے آپ جائیں میں اپنے لیگیج ان پیک کر لیتا ہوں اور پھر رات کو آپ کو دیکھاوں گا کہ میں نے نین کے لئے کتنی شاپنگ کی ہے “حیدر اب بھی سرشار تھا خوش تھا ۔۔۔بختیار صاحب باہر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔اور حیدر اپنے کمرے میں

******…….***

چار پانچ دن گزر چکے تھے مگر نیناں کی کوئی کال نہیں آئی تھی ۔۔۔۔اندر ہی اندر بیچینی تو شاہزیب کو بھی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔لیکن۔ وہ خود کو بہلانے لگتا

“چلو اچھا ہے کہ اسے بات سمجھ میں آ گئ ظاہر ہے کون سی لڑکی عش وعشرت چھوڑ سکتی ہے وہ بھی صرف اس سو کولڈ محبت کی خاطر ۔۔۔۔”مگر پھر بھی بار بار فون پر نظر جاتی روز لگتا تھا کہ آج وہ ضرور کال کرے گئ ہو سکتا ہے بزی ہوں۔۔۔۔۔پھر خود کو جھٹک دیتا کہ میرا نیناں کو بھول جانا ہی بہتر ہے ۔۔۔پھر یہ خیال آنے لگتا کہ کم از کم ایک کال کر کے بتا تو سکتی تھی کہ ساتھ چلنا نہیں چاہتی یہ کیا بات ہوئی کہ بنا بتائے ہی کنارہ کشی کر لی جائے۔۔۔۔رات کے دو بجے بھی اسکی آنکھوں میں نیند کہیں نہیں تھی بس سوچوں کی یلغار تھی ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے نا کرے بات میری طرف سے بھاڑ میں جائے میں کون سا مرا جا رہا ہوں ۔۔۔اپنا تکیہ درست کر کے وہ بیڈ پر لیٹ گیا برابر میں عاصم بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔۔۔

“کیا بے فکر نیند ہے اس چشماٹو کی ۔۔۔چند دن پہلے میں بھی یونہی بے خبر سوتا تھا جب یہ نیناں نام کی مصیبت میری زندگی میں نہیں آئی تھی ۔۔۔۔پہلے تو چین نہیں تھا اسے ۔۔۔ہاتھ دھو کے میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی ۔۔اور اب ایسے غائب ہے جیسے ۔۔۔۔جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔۔۔۔۔محبت کی جھوٹی دعوے دار ۔۔۔۔۔بڑی لمبی لمبی چھوڑ رہی تھی ۔۔۔میں فیصلہ کر چکی ہوں اب پیچھے نہیں ہٹ سکتی ۔۔۔۔جھوٹی کہیں کی۔ ۔۔۔۔نمبر تو میرا یوں مانگ رہی تھی جیسے گھر پہنچتے ہی کال کر لے گئ ۔۔۔مگر نہیں ۔۔۔چار دن سے موبائل کی منحوس شکل دیکھ رہا ہوں ۔”شاہزیب نے جلے ہوئے دل سے سوچا اور کروٹ بدلی

“۔۔غلطی میری تھی مجھے نمبر دینا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔تا کہ یہ کمبخت انتظار کی سولی پر لٹکنا نہیں پڑتا ۔۔۔۔لیکن میں انتظار کر ہی کیوں رہا ہوں ۔۔۔مجھے سو جانا چاہیے پروا بھی نہیں کرنی چاہیے اس امیر مطلبی لڑکی کی ۔۔۔میرا اندازہ غلط تھا ۔۔۔وہ بلکل اچھی لڑکی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ایک دم سڑیل اور مغرور اپر کلاس لڑکی ہے ہنہ ۔۔۔۔۔۔تکیہ سر کے نیچے سے نکال کر اب اس نے سر کے اوپر لے لیا تھا ۔۔۔۔زبردستی آنکھیں بھی بند کر لیں ۔۔۔مگر نیناں تو جیسے دل ودماغ پر حاوی سی ہو چکی تھی سونے کی کوشش کرنے لگا مگر پھر سے سوچوں کا سلسلہ وہیں۔ سے جڑ جاتا جہاں سے ٹوٹا تھا

“یار غلطی کر دی میں نے ۔۔مجھے بھی اسکا نمبر لینا چاہیے تھا ۔۔۔۔میں ہوں ہی جذباتی اور بیوقوف ۔۔۔۔چپ چاپ اپنا نمبر اسے دے دیا ۔اس سے تو اسکا نمبر مانگا ہی نہیں ۔۔۔یار میں کیوں سوچ رہا ہوں اسکے بارے میں ۔۔۔۔۔افف کیا عذاب ہے ۔۔۔”شاہزیب دوبارہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائل پکڑ کر اسے آن کر کے دیکھنے لگا کہ شاید کوئی میسج یا کوئی کال آئی ہو ۔۔۔مگر نہیں بے دلی سے فون واپس رکھا ۔۔۔۔کمرے کا دروازہ بہت دھیرے سے کھلا تھاعاتقہ بیگم اندر داخل ہوئیں ۔۔۔۔شاہزیب کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر اس سے پوچھنے لگے

“سوئے نہیں تم ابھی تک ۔۔۔”عاتقہ بیگم چلتی ہوئی عاصم کے پاس آئیں نومبر شروع ہو چکا تھا ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی ، ہو چکی تھی رات کو پنکھوں کی ہوا بھی ٹھنڈی لگنے لگی تھی ۔۔۔۔عاصم کا سوئے ہوئے آدھا لحاف اوپر اور آدھا یونہی اترا ہوتا تھا عاتقہ بیگم نے عاصم کا لحاف اچھی طرح سے اسے اڑایا پھر اسکی پیشانی پر بکھرے بالوں کو پیچھے کیا ۔۔پیار سے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔شاہزیب اپنی ماں کی یہ روٹین شروع ہی دیکھتا آ رہا تھا ۔۔جب سے عاصم اسکے ساتھ سونے لگا تھا

“امی آپ سوتی کب ہیں ۔۔۔رات کو چار بار تو اس موٹے بلے کا لحاف درست کرنے آتی ہیں ۔۔۔۔ابھی آپ باہر بھی نہیں جائیں گی اور یہ ایک ٹانگ لحاف پر مارے گا پھر سے لحاف سے باہر نکلا ہو گا اور پھر دس منٹ۔ بعد ہی دونوں زانے پیٹ کے ساتھ لگائے سکڑ کرایسے سوئے گا جیسے ساری برف اسی پر پڑ رہی ہو ۔۔۔۔”شاہزیب نے عاصم کی روز کی روٹین بتائی

“شاہزیب تمہیں تو پتہ ہے عاصم کو ٹھنڈ کچھ ذیادہ لگتی ہے ۔۔اب نومبر شروع ہو گیا ہے ۔۔مجھے بس یہی فکر ستاتی رہے گی کہ کہیں اسے سردی نا لگ جائے ابھی دیکھنا کچھ دنوں میں سب سے پہلے کنفرڈر بھی یہی مانگے گا ۔۔۔میرا شہزادہ بیٹا ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم کا پیار پھر سے عاصم کا بھولا بھالا چہرہ دیکھ کر امڈا ۔۔۔پھر سے اسکے گال کو چوما

“امی آپ اب بھی اس موٹے بلے کو ایسے پیار کرتی ہیں جیسے یہ گود کا بچہ ہو بس بھی کر دیں ۔۔۔۔۔”شہزیب کی بیزاری پر عاتقہ بیگم مسکرانے لگیں

“میرے لئے تو یہ اب چھوٹا ہی ہے ۔۔۔اور پیار تو میں تم سے بھی بہت کرتی ہوں ۔۔۔تم کیوں جاگ رہے ہو اب تک “عاتقہ بیگم نے شاہزیب کو اب تک جاگتے دیکھ کر دو سری بار پوچھا

“پتہ نہیں امی نیند نہیں۔ آ رہی “شاہزیب۔ تکیہ گود میں رکھے اس پر دونوں کہنیاں ٹکائے بولا ۔۔۔۔۔۔عاتقہ بیگم اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ فرحت محبت سے اس کے گال کھنچنے لگیں ۔۔۔

“میری جان کیا پریشانی ہے مجھے بتاؤ ۔۔۔۔”

“کچھ بھی نہیں امی بس یونہی ۔۔۔۔نیند نہیں۔ آ رہی “اب کیا بتاتا انہیں کہ نیناں نے اسکے نیناں سے نیند غائب کر دی ہے

“اچھا چلو لیٹو میں تمہارے سر پر ہاتھ پھیر دیتی ہوں دیکھوں کیسے دو منٹ میں نیند آتی ہے تمہیں ۔۔۔۔”شاہزیب تکیہ ٹھیک کر کے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔عاتقہ بیگم اسکے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں ۔۔۔۔۔ماں کے ہاتھ کا پیار۔ بھرا لمس تھا کہ کچھ ہی دیر میں وہ واقع سو گیا تھا ۔۔۔۔۔

*****…….

نیناں تھکن کا بہانہ کر کے جو کمرے میں گئ پھر اگلی صبح ہی باہر آئی حیدر کے جگنے سے پہلے وہ کالج چلی جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ڈائنگ میں بختیار صاحب کو نیوز پیپر پڑھتے دیکھ کر انہیں سلام کیا ۔۔۔انکے قریب آ گئ انہوں نے مسکرا کر نیناں کی پیشانی پر بوسہ دیا ۔۔۔

“گڈ مارننگ لٹل فرینڈ “

“مارننگ پوپس “

نیناں جلدی سے کرسی پر بیٹھی اور جوس سے گلاس بھرنے لگی

“نیناں کل تم کچھ ذیادہ ہی تھک گئ تھی ڈنر بھی نہیں کیا “بختار صاحب نے فجر مندی سے پوچھا

“یس پوپس میں سو گئ تھی پھر آنکھ ہی نہیں کھلی ۔۔۔وہ بڑی عجلت سے سلائس پر مکھن لگائے ایک ہاتھ سے سلائس کھا رہی تھی دوسرے ہاتھ سے گھونٹ گھونٹ جوس پی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔نیناں کی جلد بازی بختیار صاحب کی سمجھ سے باہر تھی

“گڈ مارننگ انکل ۔۔۔حیدر اپنے ٹریک سوٹ میں شاید جوگنگ کر کے آرہا تھا چہرا پسینے سے بھرا ہوا تھا گلے میں ایک چھوٹا سا ٹاول بھی لٹک رہا تھا حیدر نے اسی سے پسینہ پونچا اور بے دھڑک نیناں کے برابر کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا

“ہیلو سوئٹ فرینڈ ۔۔۔۔کالج جا رہی ہو “اپنے گلاس میں جوس ڈالتے ہوئے وہ نیناں سے پوچھنے لگا ۔۔۔

“ہاں بس ویسے ہی لیٹ ہو چکی ہوں ۔۔او کے بائے پھر ملاقات ہو گی “نیناں نے ایک گھونٹ سے سارا گلاس خالی کیا اور گھڑی دیکھتے ہوئے کھڑی ہو گئ

“نیناں تمہارے کالج اسٹاٹ ہونے میں ابھی پورا آدھا گھنٹہ باقی ہے کس چیز کی جلدی ہے تمہیں “بختیار صاحب اسکی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے تھے وہ حیدر سے کترا رہی تھی ۔۔۔

“ایکچلی پوپس مجھے لائیبریری سے کچھ بکس ایشو کروانی تھیں اس لئے جلدی جانا ہے پھر کلاس اسٹاٹ ہو جائے گی تو مجھے مشکل ہو گی “بہانے تو آج کل نیناں کے پاس بے شمار تھے

“او کے چلو میں تمہیں کالج ڈروپ کر دیتا ہوں اسی بہانے تم سے بات بھی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔”حیدر نے جوس کا گلاس ایک ہی چت میں خالی کیا تھا

“تم بریک فاسٹ کرو نا حیدر ۔۔کہاں مجھے چھوڑو گئے پھر آؤں گئے میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گئ ۔۔۔واپس آ کر بات کر لوں گئ ۔۔۔۔”نیناں کوفت زدہ لہجہ اپنائے بولی

“نو ڈیر بلکل بھی نہیں مجھے ابھی بھوک بھی نہیں لگی ۔۔۔۔چلو میرے ساتھ “حیدر بھی کھڑا ہو گیا

“حیدر گاڑی کی چابی ڈرائیور کے پاس ہو گی اس سے لے لینا ۔۔۔”بختیار صاحب نے چائے کا کپ لبوں پر لگاتے ہوئے کہا چہرے پر تفکر کی گہری لکیریں نمودار ہو رہی تھیں ۔۔۔۔حیدر سے نیناں کی دوستی بچپن سے ہی تھی ۔۔۔اور بے تکلفی بھی بہت تھی ۔۔۔ملکر گھنٹوں باتیں کرتے تھے گیم کھیلتے تھے ہمیشہ ہی نیناں نے اسکی کمپنی کو انجوائے کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔مگر اب تو جیسے وہ حیدر کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔

نیناں پورے راستے خاموش ہی بیٹھی رہی بس حیدر ہی باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔۔کافی دیر بولنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ نیناں اسکی طرف متوجہ ہی نہیں ہے کسی اور گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی ہے

“”نین ۔۔۔۔آر یو ہیر”حیدر نے اسکے کان کے قریب جا کر کہا وہ یک دم۔ ہی ہڑبڑا گئ

“واٹس رونگ وید یو بے بی ۔۔۔میں تم سے بات کر رہا ہوں تم نا جانے کس خیالوں میں گم ہو ۔۔۔۔ایوری تھنگ از آل رائٹ ؟’

“یا ۔۔۔۔”نیناں نے مختصر سا جواب دیا

“کہیں کسی سے دل تو نہیں لگا بیٹھی میرے پیچھے سے “حیدر نےمزاق سے پوچھا تھا مگر نیناں کا رنگ فق ہو گیا تھا ۔۔۔۔نیناں نے نا تو انکار کیا ۔۔۔نا اقرار

” جسٹ جوکنگ ۔۔۔۔۔او کم آن نین کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔ایسی تو پہلے تم کبھی بھی نہیں تھی مجھے لگا میری بات سن کر تم مجھ پر مکوں کی برسات کر دو گی کہ حیدر تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ میں تمہارے بغیر کسی اور سے دل لگا سکتی ہوں “حیدر نے ہنستے ہوئے کہا

“ہمارے درمیان ایسی کمنٹمنٹ تو کبھی بھی نہیں ہوئی تھی حیدر ۔۔۔ہم اچھے دوست تھے ڈس اٹ۔۔۔”نیناں کی بات پھر حیدر کی آنکھوں میں تعجب سا تھا

“دوست تھے کیا مطلب ۔۔۔۔دوست ہیں نین ۔۔۔۔”حیدر نے لفظ جما کر بولے ۔۔۔۔

“اور کمٹمنٹ کا کیا ہے ۔۔۔وہی تو کرنے آیا ہوں ۔۔۔تم اندازہ نہیں لگا سکتی جب انکل نے پاپا سے یہ کہا کہ وہ مجھے تمہارے لئے۔چوس کر چکے ہیں ۔۔۔میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی ۔۔۔۔۔انکل نے ایک ہفتے بعد آنے کا کہا مگر مجھ سے صبر ہی نہیں ہوا اس لئے جیسے کہ پہلی فلائٹ کنفرم ہوئی ۔۔۔میں دوڑا چلا آیا تمہارے پاس۔”گاڑی اب اسکے کالج کے باہر کھڑی تھی نیناں جلدی سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔۔

“نیناں چھٹی کب ہوگئ تمہاری ۔۔۔ائی ول کم ٹو پک یو “

“ون او کلاک “نیناں یہ کہہ کر کالج کے گیٹ کے اندر داخل ہو گئ۔۔۔۔وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی سیدھا لائیبریری میں گئ ۔۔۔۔لائیبریری میں رش نا ہونے کے برابر تھا اس لئے ایک۔کونے کے ٹیبل پر بیٹھ گئ جہاں اس وقت کوئی اور اسٹوڈنٹ نہیں تھا ۔۔۔۔بیگ برابر والی کرسی پر رکھا ۔۔۔۔دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھ کر دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے وہ رونے لگی ۔۔۔۔کب سے خود پر ضبط باندھے ہوئے تھی ۔۔۔۔دل اب اسکے اختیار میں تھا کہ کب جیسے وہ حیدر کے لئے آمادہ کر لیتی دل کی ہر دھڑکن بس ایک نام کا ورد کرتی تھی اور وہ تھا شاہزیب کا ۔۔۔۔ محبت کہاں یہ دیکھتی ہے کہ محبوب بھی اسی اسٹینڈرڈ کا ہو جو خود کا ہے۔۔۔۔جو راستہ اسے بہت آسان اور سہل نظر آ رہا تھا اب احساس ہو رہا تھا کہ کتنا پیچیدہ ہے۔۔۔۔شاہزیب کے کہے جمعلے اسے سچ لگنے لگے تھے ۔۔۔۔۔وہ سمجھتی تھی اسکے پوپس جیسے اسکی ہر فرمائش پوری کر دیتے ہیں۔ یہ بھی کر دیں گئے مگر نہیں ۔۔وہ صحیح کہتا ہے ۔۔۔پوپس کبھی کسی میڈل کلاس کو اپنا اکلوتا داماد نہیں بنائیں گئے ۔۔۔۔آنکھوں سے بہتے گرم آنسوں اسے اندر تک جھلسانے لگے تھے ۔۔۔۔کیا میں بھول سکو گی شاہزیب کو نہیں یہ ممکن نہیں تھا ۔۔۔لیکن شاہزیب شاید بھول جائے کیونکہ اس نے اس محبت کے صحرا میں قدم ہی کب رکھا ہے ۔جہاں میں سفر کی ابتدا کر چکی ہوں ۔۔لیکن میں ۔۔۔میں سفر کی دھول میں اڑی ہوئی ہوں تپتے صحرا میں ننگے پاؤں چل رہی ہوں ۔۔۔۔”روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گئ تھی مگر دل کا بوجھ ذرا بھی نہیں سرکا تھا ۔۔۔۔پورا دن اس نے کوئی بھی کلاس اٹینڈ نہیں کی تھی ۔۔۔بس لائبیریری کے کونے میں بیٹھی اپنی اس محبت کا ماتم۔مناتی رہی جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔شاہزیب لا پرو مزاج کا لڑکا تھا شاید اسے نیناں یاد بھی نا ہو (یہ نیناں کا ذاتی خیال تھا )

لیکن وہ اب اسکے لئے کیا ہو چکا تھا۔۔صحیح معنوں میں وہ اب سمجھی تھی ۔۔۔حیدر نے اپنے آنے کا مقصد واضع کر دیا تھا آج نہیں تو کل وہ اسکے ساتھ رشتہ جوڑنے پر مجبور تھی ۔۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ بھی بول نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔واہسی پر بھی اسے حیدر ہی لینے آیا تھا گھر پہنچ کر نیناں جو اپنے کمرے میں لے گیا اور ایک پروا بیگ کھول کے اسکے سامنے رکھ دیا جو مختلف چیزوں سے بھرا پڑا تھا ۔۔۔جینز شرٹس پرفیوم میک اپ جیسا وہ کرتی تھی

جوگرز ۔۔۔چوکلیٹس۔۔۔۔

نیناں نے کوئی بھی ریایکشن نہیں دیا ۔۔۔

“نین یہ سب میں تمہارے لئے لایا ہوں ۔۔۔۔دیکھو ہر چیز تمہاری پسند کی ہے ۔۔۔۔”

“حیدر میری چوائس بدل۔ چکی ہے میں نا تو اب جینز پہنتی ہوں نا جوگر ۔۔۔تم نے خوہمخواہ میں تکلف کیا ۔۔۔

“چلو جو نہیں پہنا وہ اپنی فرینڈ کو دینا ۔۔۔نو ایس نین “حیدر نے بات جو نارمل انداز سے ہی لیا تھا

*****//……..

باسم دو دن نا تو اپنے آفس گیا تھا نا کہیں ٹیوشن پڑھانے سر بھاری بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔پھر رائمہ کی شادی بھی ڈلیے ہو چکی تھی ۔۔۔۔اسکی ٹیشن بھی کچھ کم ہو گئ تھی اور بوجھ بھی ۔۔۔رامس نے ہر چیز لینے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔اور اتنا تو وہ بھی جانتا تھا کہ اب رامس کبھی لے گا بھی نہیں ۔۔۔وہ صحن کے تخت پر لیٹا ہوا تھا جب گرل کھلنے کی آواز آئی سامنے نیلو فر پلیٹ میں کچھ لے کر آئی تھی ۔۔۔۔مگر صحن میں صرف باسم کو دیکھ کر پلٹنے لگی باسم اس وقت تک اٹھ کر بیٹھ چکا تھا

“فری آ جائیے ۔۔۔رائمہ اور روبی اندر ہی ہیں بس امی گھر پر نہیں ہیں ۔۔۔”نیلو فر نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا

“آپکو کیسے پتہ کہ میں آپ کو اکیلا دیکھ کر واپس جانے لگی تھی ۔۔۔۔”وہ شخص ہمیشہ اس کا ذہن پڑھ لیتا تھا اور اسے حیران کر دیتا تھا ۔۔۔۔باسم مسکرانے لگا

“جو دل کے قریب ہوتے ہیں انکی باتوں سے دل خود ہی آگاہی دے دیتا ہے ۔۔۔پوچھنے ۔اور بتانے کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔٫”نیلو فر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکی ۔۔۔وہ شخص کتنے آرام سے ہر بات کہنے کا ماہر تھا ۔۔۔۔۔

“جیسے اب آپ دیکھ لیں۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی اور آپ کھانے کے لئے کچھ لے کر فورا سے آ گئیں ۔۔۔حالانکہ میں نے تو آپ سے نہیں کہا تھا کہ مجھے بھوک لگی ہے ۔۔۔مگر آپکے دل نے آپ کو مطلع کر دیا ۔۔۔”باسم کی بات پر وہ مزید حیران ہونے لگی اپنے سیدھے ہاتھ کی انگشت منہ میں دبانے لگی

“کیا سچ میں ایسا ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن میں تو رائمہ اور روبی کے لئے لائی تھی ۔۔۔”نیلوفر کی معصومیت پر وہ ہسنے لگا

“لیکن بھوک تو مجھے لگ رہی تھی “اب وہ اٹھ کر اسکے قریب آگیا اسکے ہاتھ سے پلیٹ پکڑی گرما گرم پلاؤ دیکھ کر تو اسکی بھوک واقع چمک گئ تھی

“ہمم اب دیکھیں نا میرا پلاؤ کھانے دل چاہ رہا تھا اور آپ لے ائیں یقینا آپکے دل نے کہا ہو گا کہ آج پلاؤ بنا کر نیچے بھیجنا چاہیے ۔۔۔یہ سب دل کے معاملات ہوتے ہیں “۔۔۔باسم اب اسے مزید تنگ کرنے لگا۔۔۔۔۔

” لیکن میں نے تو پھپو کے کہنے پر بنایا تھا “پلاؤ لیکر وہ دوبارہ سے تخت پر بیٹھ گیا تھا پہلا نوالہ لینے لگا تو نیلوفر کی بات پر ہاتھ رک گیا

“اس کا مطلب یہ ہے کہ آپکی پھپو مجھے دل سے بہت چاہتی ہیں ۔۔۔۔بہت محبت کرنے لگیں ہیں۔ مجھ سے جبھی آپکے بجائے انہیں میرا خیال آ گیا ۔۔۔”باسم کی بات پر نیلو فر نے خفگی سے کہا یوں پھپو کے ساتھ باسم کا خود کو جوڑنا اس سے برداشت نہیں ہوا تھا

“ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔دل تو میرا بھی یہی کہہ رہا تھا کہ آج پلاؤ ہی بنا لوں ۔۔۔۔اور پھپو اور آپکی عمر میں ویسے بھی بہت فرق ہے ۔۔۔۔۔”باسم بے اختیار ہسنے لگا تو نیلوفر نروس ہونے لگی شاید جلد بازی میں کچھ غلط بول بیٹھی تھی ۔۔۔۔اسی اثنا میں رائمہ کمرے سے باہر آ گئ باسم کو یوں بے اختیار ہنستے ہوئے وہ کافی عرصے بعد دیکھ رہی تھی ۔۔۔سامنے نیلوفر گھبرائی ہوئی کھڑی تھی۔۔۔۔ان دونوں کو دیکھ کر رائمہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ٹہر گئ۔ ۔۔۔دل سے یہی دعا نکلی کہ باسم ہمیشہ ایسے ہی ہنستا مسکراتا رہے ۔۔۔۔۔

“کیا بات ہے ۔۔۔کس بات پر ہنس رہے ہو ۔۔۔اور نیلو تم کیوں کھڑی آؤں بیٹھو نا “رائمہ نے نیلو فر کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ اسی تخت پر بیٹھا دیا جہاں باسم بیٹھا تھا باسم بھی اپنی ہنسی پر قابو پا چکا تھا

“کچھ نہیں بس یونہی ۔۔۔۔پلاو دیکھ کر کچھ یاد آ گیا تھا “۔۔۔۔وہ اب پھر سے پلاؤں کھانے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔

“باسم میں سوچ رہی ہوں میری رخصتی کے بعد تو امی اکیلی ہو جائیں گئ کیوں نا میری رخصتی پر تمہارے بھی نکاح کے دو بول پڑھوا دیے جائیں مجھے بھی امی کی فکر نہیں رہے گئ ۔۔۔۔”رائمہ کے معنی خیز بات باسم سمجھ چکا تھا۔۔۔۔

“ہاں ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے ۔۔۔اب تو مجھے بھی لگتا ہے رامس کے ساتھ ساتھ میں بھی سہرا باند ہی لوں ۔۔۔لیکن اس کے لئے ایک عدد لڑکی کی ضرورت پڑتی ہے رائمہ “باسم نے ایک نظر پریشن حال نیلو فر پر ڈالی جو اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی

“تم ہاں تو کرو لڑکیاں میں آج سے امی کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیتی ہوں ۔۔۔کیوں نیلو تمہارا کیا خیال ہے “رائمہ نے جان بوجھ کر نیلوفر کو بھی گھسیٹنا چاہا

“میں کیا کہہ سکتی ہوں “وہ مزید نروس ہوئی

“ارے تم بھی بتاؤں اگر تمہاری نظر میں۔ کوئی لڑکی ہو تو “

“ہاں ۔۔ہاں ضرور دوستوں سے بھی مشورہ لینا چاہیے تمہیں ۔۔لیکن مجھ سے پوچھ تو کہ مجھے کیسی لڑکی پسند ہے “باسم نے چاول کھاتے ہوئے نیلو فر کی طرف دیکھا جو چور آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر نظروں کے تصادم پر گڑبڑا سی گئ

“ہاں بتاؤں “رائمہ نے پوری توجہ دیکھاتے ہوئے پوچھا

“رائمہ میں چلتی ہوں ۔۔۔اوپر کام ہے مجھے “نیلو فر نے کھسکنا چاہا ۔۔۔۔

“ارے بیٹھو نا نیلو باسم کی چوائس تو سن لو ہو سکتا ہے تمہاری نظر میں ایسی کوئی لڑکی ہو۔۔۔ہاں بتاؤں باسم “رائمہ نے نیلو ہاتھ پکڑ لیا تا کہ وہ اٹھ نا جا پائے ۔۔

“بہت پیاری اور معصوم سی ہو ۔۔۔اور جب ہنسے تو دائیں گال پر ڈمپل ضرور پڑتا ہو ۔۔۔۔”باسم نے ایک اچٹتی سی نظر نیلو فر پر ڈالی پھر رائمہ کی شرافمرتی نظروں پر

“اچھا اچھا جیسے نیلو کے پڑتا ہے “رائمہ کی بات سن کو نیلو فر کا رنگ اڑا تھا

“ازیکلی ۔۔۔بلکل ایسے ہی ۔۔۔اور آنکھیں بھی بڑی بڑی ہونی چائیے ۔۔۔چمکتے چاند کی طرح ۔۔”

۔”جیسی نیلو کی ہیں ۔۔۔”رائمہ پھر سے بولی

“پتہ نہیں میں کبھی غور نہیں کیا ۔۔۔۔”باسم نے لاپروائی دیکھائی

“تو اب کر لو غور کیونکہ مجھے تو نیلو بہت پسند ہے ۔۔۔”نیلو فر رائمہ کی جانب حیرت سے پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

“پسند تو مجھے بھی بہت ہے ۔۔لیکن اپنی دوست سے پوچھ لو اسے میں کیسا لگتا ہوں ۔۔۔”باسم کے برملا اظہار پر نیلو فر فورا سے اٹھ کر بھاگتے ہوئے اوپر چلی گئ پیچھے سے رائمہ اور باسم کی ہنسی کی آوازیں سنائی دے رہیں تھی ۔۔۔۔

******

آج بھی حیدر نیناں کو رات ڈنر کے بعد زبردستی سی ویو لیکر آیا تھا ۔۔۔وہ جو ٹیسٹ کا بہانہ کر کے جانے سے کترا رہی تھی بختیار صاحب کے کہنے پر اسے مجبورا اسکے ساتھ جانا پڑا ۔۔۔۔۔

کافی دیر وہ لوگ سمندر کی گیلی ریت پر چہل قدمی کرتے رہے

“نین تمہیں پتہ ہے نیکسٹ منتھ ڈیڈ ا رہے ہیں ۔۔۔ اسکے بعد ہماری انگیجمنٹ ہو گئ پھر تم پرمنٹ طور میری ہو جاؤں گئ ۔۔۔۔”حیدر کی بات سن کر نیناں کے گلے میں گرہیں سی پڑنے لگیں وہ اپنارخ بدل گی آنکھوں میں آنے والی نمی پلکوں کے باڑ سے پیچھے دھکیلنے لگی ۔۔۔۔۔

“تم چپ کیوں ہو ۔۔۔یار کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔۔میں نے اتنی بڑی خوشخبری تمہیں سنائی ہے اور تم خوش ہونے کے بجائے منہ بنائے کھڑی ہو ۔۔۔”حیدر کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا مگر نیناں سرد اور بے تاثر کھڑی تھی جیسے بے جان سی مورت ہو۔۔ ۔۔۔۔۔

“حیدر اگر میں یہ کہو کہ میری لائف میں کوئی اور ہے تو “نیناں نے اپنی ہمت مجتمع کر کے بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا

“تو میں سمجھو گا کہ تم مجھ سے بہت ہی چیپ سا مزاق کر رہی ہو ۔۔۔۔نو نین ۔۔ناٹ آ ٹال اگین ۔۔”حیدر کا لہجہ یک دم ہی بدلا تھا اب وہ سنجیدگی سے ذرا سخت لہجے میں بولا نیناں کی ہمت ٹوٹنے لگی تھی ۔۔۔سامنے مین روڈ پر لڑکے لڑکیوں کا رش بڑھنے لگا تھا بہت سی بائیکوں کی آوازیں ایک ساتھ آنے لگیں ۔۔۔ان میں ایک بائیک کی آواز پر نیناں نے پلٹ کر سامنے روڈ کی طرف دیکھا ۔۔۔سامنے شاہزیب اپنی بائیک پر بیٹھا دور سے بھی اسے صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔لائین سے اور بھی بہت سی بائیک کھڑی تھیں ۔۔۔شاہو شاہو کے نعروں پر نیناں نے حیدر سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور سامنے کی طرف بھاگنے لگیں

“نین ۔۔۔نین۔۔۔وائٹ رونگ وید یو کہاں جا رہی ہو تم نین “حیدر کیا کہہ رہا تھا کیا نہیں اسے ہوش ہی کب تھا بس وہ بھاگ رہی تھی ۔۔۔سامنے بڑے بڑے پتھروں پر ننگے پاؤں سے اوپر چڑھ رہی تھی۔۔۔۔۔نوکیلے پتھر اس کے پاؤں میں کہاں کہاں چبھ رہے تھے اسے کسی بات کی ہوش نہیں تھی بس نظریں سامنے شاہزیب پر تھیں ۔۔۔اور دل بس اسے دیکھ کر بے اختیار پنجرے میں بند پنچھی کی طرح پھٹپھڑانے لگا تھا ۔۔۔۔جیسے ہی وہ مین روڈ پر پہنچی چار پانچ بائیک تیزی سے وہاں سے دھول اڑاتی ہوئیں گزریں ۔۔۔۔اسکی نظریں صرف شاہزیب کی بائیک پر ہی جمی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں حیدر بھی اسکے پاس آ چکا تھا ۔۔۔نظر اسکی بھی سامنے سے گزرتی بائیک پر تھی یہ کھیل ہی اتنا دلچسپ تھا کہ سب کی نظریں بے اختیار ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔۔سامنے بہت سے لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے کچھ شاہو کے نام کے نعرے لگارہے تھے اور کچھ دلاور کے نام کے ۔۔۔۔۔ایک راؤنڈ لینے کے بعد دوسرے راؤنڈ پر بیک وقت سب کی بائیک کااگلا ٹائر ہوا میں ملحق ہوا ۔۔۔۔۔چند لڑکےتو چند سکینڈ کے بعد ہی اپنی بائیک کو دوبارہ واپس پہلے والی پوزیشن میں لے آئے تھے مگر صرف دو لڑکے کی تھے جو ٹائر اوپر کیے تیز رفتار سے بائیک چلا رہے تھے ۔۔۔۔۔ لوگوں کے نعرے اب بند ہو چکے تھے اب تو صرف نظریں ان دونوں بائیک پر جمی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔شاہزیب نے بائیک کو کچھ اور اوپر اٹھایا اور پچھلے ٹائر کے آخری سرے پر فل اسپیڈ پر چلانے لگا نیناں کی جان پر تب بنی جب وہ اپنا ایک ہاتھ ہوا میں لہرانے لگا اب وہ دوسری بائیک کو پیچھے چھوڑتا ہوا اگے بڑھ رہا تھا۔نیناں کو لگا کہ اگر ب اسے ٹائر نیچے نہیں کیا تو وہ گر جائے گا یہ خوف وہاں موجود ہر شخص کے دلیں ہلکورے مار رہا تھا ۔۔بے اختیار ہی نیناں نے چلا کر شاہزیب کو پکارا ۔۔چونکہ اس وقت سب ہی چپ تھے ۔۔۔۔اور صرف بائیک کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔شاہزیب نے نیناں کی بلند آواز پر ۔۔۔ بے اختیار پلٹ کر دیکھا ۔۔مگر اگلے ہی لمحے بائیک پر اپنا توازن کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔لوگوں کی چیخوں پکار کی آوازیں گونج اٹھیں