One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 31

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 31

One Wheeling by Umme Hani

جب وارث خانزادہ ایک گھنٹے بعد واپس شاہزیب کے پاس آیا ۔۔۔۔کانسٹبل شاہزیب کی شرٹ اتار کر اسکے ہاتھ اور پاؤں باندھ کر کرسی پر بیٹھا چکا تھا ۔۔۔۔۔

کمر پر صبح کے زخم بھی ابھی تازہ تھے ۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ خاموش سر جھکائے بیٹھا تھا ایک کرسی سامنے پڑی تھی ۔۔۔۔۔ وارث نے کرسی کو پکڑ کر الٹا کیا یعنی کرسی کی پشت شاہزیب کے سامنے رکھی اور بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔اسے تمسخرانہ نظروں سے دیکھ کر مسکرایا

“ہائے میرے مجنوں ۔۔۔۔۔ جو حال میرے ہاتھوں آج تمہارا ہونا ہے مجھے سوچ کر ابھی سے تم پر ترس آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

“افف یہ محبت اور ستم گر زمانہ ۔۔۔۔۔چچ چچ چچ ۔۔۔۔

” اپنی آنکھیں شاہزیب کے چہرے کے قریب کر کے پٹپٹاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔اسکے طنز پر ایک تاسف بھری نظر شاہزیب نے اس پر ڈالی تھی ۔۔۔۔۔وارث خانزادہ کا استزائیہ قہقہ گونجا ۔۔۔۔۔پھر یک دم ہی چہرے پر سختی لا کر بولا

“ایسے کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔آنکھیں نیچے کر اپنی ۔۔۔۔۔۔ ورنہ آنکھیں نکال لونگا تیری ۔۔۔۔جانتا ہے نا کون ہوں میں ۔۔۔۔”شاہزیب کی گھورتی ہوئی نظروں پر وہ تپ کر پھنکارتے ہوئے بولا

“ہاں نکال سکتے ہو میری آنکھیں …مار بھی سکتے ہو ۔۔۔۔ اور میرے پاس مار کھانے کے علاؤہ چارہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ لوگوں کو بے بس مجبور کر کے انہیں مارنے کی حرس جو ہو چکی ہے تم لوگوں کو ۔۔۔۔۔

“کیا بک رہا ہے تو ۔۔۔۔”وارث نے اپنے ہاتھ سے شاہزیب کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر دبایا ۔۔۔۔۔۔

” ۔۔۔۔۔صبح سے تیری بکواس سن رہا ہوں ۔۔۔۔ میری مار کا تجھے ابھی اندازہ نہیں ہے”وارث سے زور سے اسکے منہ کو دبا کر جھٹکے سے چھوڑا ۔

“بندھے ہاتھ پاؤں سے میری طاقت کا بھی تمہیں اندازہ نہیں ہے انسپکٹر ۔۔۔۔۔” تعجب سے وارث خانزادہ کی آنکھیں پھیلی تھیں

“او اچھا ۔۔۔۔۔تو تم مجھ پر اپنی طاقت کا رعب جھاڑ رہے ہو ۔۔۔۔۔واہ بھئ ۔۔۔۔۔چونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں ۔۔۔ایک پولیس والے آن ڈیوٹی آفیسر کو تم کھلے عام دھکیل دے رہے ہو ۔۔۔۔۔ “یہ کہہ کر کچھ دیر تو بڑی حیرت سے وہ شاہزیب کی بے خوف آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“اسی بات کا تو بھرم ہے تمہیں ۔۔۔۔ ذرا میرے ہاتھ پاؤں کھولو اور پولیس کا لیبل ہٹا کر آؤں میرے سامنے ۔۔۔پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ شاہو کیا بگاڑ سکتا ہے تمہارا “شاہزیب کی بے خوفی میں فرق نہیں آیا تھا

“او ہو ۔۔۔۔۔۔صدقے جاؤں میرے مجنوں ۔۔۔۔۔باتیں بڑی دلچسپ کرتا ہے یار تو ۔۔۔۔۔ لیکن میں یہ اختیار تمہیں کیوں دوں ۔۔۔۔” ایک با ادب کھڑے کانسٹبل سے وارث خانزادہ نے کہا

“جاؤں جا کر نمک لے کر آؤں پہلے اسکے زخموں پر نمک پاشی کرو گا ۔۔۔۔ آج مارو گا نہیں تمہیں بنامار کے ہی ۔ وہ اذیت دونگا کہ تڑپوں گئے تم ۔۔۔۔۔”وہ دانت بینچ کر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں ایک شاپر میں نمک بھی آ چکا تھا ۔۔۔۔۔وارث شاہ نے اسکی کمر پر جہاں جہاں ڈنڈوں کے نشانات میں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا نمک لگانا شروع کیا ۔۔۔۔ شاہزیب کو لگا کسی نے مرچیں سی مل دیں ہوں ہزار ضبط کے بھی اس کی چیخیں نکل گئیں تھیں ۔۔۔۔ بے چینی ایسی تھی کے ناقابل برداشت تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ بری طرح سے مچل ہی تو گیا تھا ۔۔۔۔ ایسی اذیت کا عادی کہاں تھاوہ ۔۔۔۔۔۔۔وارث خانزادہ اسکی کیفیت سے حظ اٹھارہا تھا ۔۔۔۔ہنس رہا تھا

“تھالی کا بینگن ۔۔۔۔۔ہاں ۔۔۔۔۔مجھے سکھاؤں گے کہ اپنے عہد کو کیسے نبھانا چاہیے ۔۔۔۔۔ ” وارث نے شاہزب کے سامنے کے بال پکڑ کر اس کا برادشت سے سرخ ہوتا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔۔

” ہاں تو اب بتاؤں کون ہوں میں ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی آنکھیں غصے سے لال انگارہ بنی ہوئی تھی ۔مگر چپ رہا ایک لفظ نہیں بولا ۔۔۔

پوری رات جب بھی وہ تکلیف کم ہوتے ہی ذراسا نیند میں جاتا نمک پھر سے اسکے ،زخموں ہر مل دیا جاتاوہ بلبلا اٹھتا تھا ۔۔۔۔۔ ۔۔صبح تک یہی سلسلہ جاری رہا ۔۔۔۔وارث خانزادہ بھی نیند سے بے حال ہو چکا تھا اس لئے صبح کی پہلی آذان کی آواز پر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔شاہزیب بھی کافی مضمحل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ ایک کانسٹبل نے اسکے ہاتھ پاؤں کھول دیے نمک کی تکلیف کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے کی کوشش کرتا رہا تھا ۔۔۔ رسیوں کی سخت گرفت کی وجہ سے اب ہاتھوں اور پاؤں میں زخم سے ہو چکے تھے ۔۔۔۔اسکے باوجود ہاتھ پاؤں کے آزاد ہوتے ہی وہ زمین پر گرتے ہی نیم بے ہوشی میں جا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔

*******…….

دوپہر کا کوئی وقت تھا جب نیناں کمرے سے نکلی تھی سامنے بختیار صاحب بھی اپنے خوابیدہ لباس میں ملبوس حیدر سے محو گفتگوں تھے ۔۔۔نیناں اب بھی انجکشن کے زیر اثر تھی اپنے قدموں پر چل بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔۔مگر بختیار صاحب کے منہ سے شاہزیب کا نام سن کر ٹھٹک گئ تھی دل زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔ذہن۔بھی کچھ ہواسوں میں آیا تھا ۔۔۔۔۔

“کمینہ بہت ڈھیٹ ہے یہ شاہزیب ۔۔۔۔۔ابھی میری انسپکٹر سے بات ہوئی ہے ۔۔۔۔ باپ بھی کل جیل میں آیا تھا اس سے ملنے مگر مایوس لوٹ گیا ۔۔۔۔پولیس کی اتنی مار کھا کر بھی اپنی بات سے پھرنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔ پوری رات اذیت دی ہے اسے مگر ۔۔۔وہ اپنی بات سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے” ۔۔۔۔۔

نیناں کو لگا غلط سن رہی ہے ۔۔۔۔ پہلے تو کانوں پر یقین کرنا مشکل ہوا پھر بختیار صاحب کی دھمکیاں ذہن میں گونجیں ۔۔۔۔شاہزیب کا خیال آتے ہی دل بنا پانی کی مچھلی کی طرح مچلا تھا ۔۔۔وہ جیل میں تھا ۔۔۔۔۔ پولیس اس پر تشدد کر رہی تھی ۔۔۔۔یہ بات نیناں کے لئے کسی اذیت سے کم تو ہر گز نہیں تھی ۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے ۔۔۔۔بختیارصاحب اور حیدر کی پشت تھی نیناں کی طرف ۔۔۔۔۔ وہ قدم اٹھاتی ہوئی ان کے سامنے آن پہنچی

“شاہزیب کہاں ہے پوپس ۔۔۔۔”نیناں کو دیکھ کر دونوں ہی اپنی جگہ چونکے تھے وہ بنا کسی تامل کے پوچھ رہی تھی

“نیناں ۔۔۔آر یوآل رائٹ ۔۔۔۔۔اب کیسی طعبیت ہے بیٹا “بختیار صاحب جلدی سے کھڑے ہو کر اسکے قریب آئے موضوع کو بدلنے کی کوشش کی

“کہاں ہے وہ ۔۔۔۔کیا کیا ہے آپ نے اسکے ساتھ ۔۔۔۔”وہ مضطرب سی پوچھ رہی تھی

‘نین کچھ نہیں کیا اسکے ساتھ ۔۔۔۔تم بیٹھوں ادھر” حیدر بھی اسکے نزدیک آ گیا مگر نیناں نے اسے نظر انداز کیا بختیار صاحب کے سامنے تن کر پوچھنے لگی

“کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے کہاں میرا شاہزیب ۔۔۔۔پوپس کیا کیا ہے آپ نے اسکے ساتھ ۔۔۔۔جیل میں ہے وہ ؟”

نیناں کے آنسوں تواتر بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔

“نیناں میری بات سنو ۔۔۔۔”بختیار صاحب اپ سٹ سے ہو گئے کہ بات کو سنبھالیں کیسے

“کیسے کر سکتے ہیں آپ اسکے ساتھ یہ سب ۔۔۔۔ مارا گیا اسے وہاں کیوں پوپس ۔۔۔آپ نے کیوں کیا ایسا ۔۔۔کہاں ہے وہ کون سی جیل میں ہے ۔۔۔مجھے ملنا ہے اس سے “نیناں کی بے تابی بختیار صاحب کے ہوش اڑا گئ تھی

“نیناں “

میں جا رہی ہوں پوپس “۔۔۔وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی لاونج کا دروازہ کھولے باہر نکل گئ تھی اس وقت ننگے پاؤں تھی بکھرے بال آنکھوں میں غنودگی کاتاثر قدم بھی ٹھیک سے اٹھا نہیں پا رہی تھی مگر بے اختیاری ایسی تھی کہ جیسے شاہزیب تک پہنچ ہی جائے گی ۔۔۔۔۔ بختیار اور حیدر پیچھے لپکے تھے ۔۔۔۔۔ دوپہر کا وقت تھا سورج سر کھڑا تھا ننگے پاؤں وہ فرش پر بھاگتے ہوئے

مین گیٹ تک پہنچی تھی زبردستی چھوٹا گیٹ کھولنے کی کوشش کرنے لگی چوکیدار اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

“خان ہٹو پیچھے مجھے جانے دو ۔۔۔۔مار ڈالا ہے اسے ان ظالموں نے۔۔۔ جانے دو مجھے ۔۔۔ہٹو پیچھے “نیناں چلا رہی تھی رو رہی چوکیدار کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی جو گیٹ کے سامنے ایستاذہ کیے کھڑا تھا

“بے بی صاحب آپ اندر جاؤں ” چوکیدار نے نیناں کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔۔بختیار صاحب اور حیدر اس تک پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔۔

“نیناں آر یو ان یور سنسز اتنی دھوپ میں ننگے پاؤں یہاں کھڑی ہوں پاؤں جل جائیں گئے تمہارے ۔۔۔۔۔

“میرے پاؤں کی فکر ہے آپکو اسکی فکر نہیں جس پر ظلم کے پہاڑ توڑے رہے ہیں آپ ۔۔۔پوپس مجھے اسکے پاس جانا ہے ۔۔۔۔ “وہ بے چین ہوئی تھی

“خان اپنے جوتے اتارو “بختیار صاحب کو اس وقت بیٹی کے ننگے پیروں کی فکر تھی جو دھوپ کے باعث جلتے فرش پر تھے ۔۔۔مگر اسے ہوش نہیں تھا وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی مگر کسی اور کے لئے ۔۔۔

“نہیں پہننا مجھے کچھ بھی ۔۔۔۔”چوکیدار کی چپل اس نے پیروں سے دور دھکیلی تھی

“نین چلو یہاں سے حیدر نے نیناں کو بازو سے پکڑا اور زبردستی اندر لے جانے لگا

“چھوڑو مجھے حیدر ۔۔۔۔ مجھے شاہزیب نے پاس جانا ہے ۔۔۔۔۔ “زبردستی گھسٹتا ہواوہ اسے اندر لے گیا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب بھی اندر داخل ہو گئے ۔۔۔۔۔

حیدر اس وقت تک نیناں کو اسکے کمرے

یں بند کر۔ چکا تھاوہ زور زور سے دروازہ بجا رہی تھی ۔۔۔

“کھولو مجھے ۔۔۔۔کیوں بند کیا ہے مجھے یہاں ۔۔۔مجھے بھی جیل میں بند کر دو پلیز ۔۔۔میرے جرم کی سزا اسے کیوں دے رہے ہو اسکا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔حیدر دروازہ کھولو ۔۔۔۔حیدر آئی ول کل یو ۔۔۔۔۔یو ڈیمٹ کھولو دروازہ ۔۔۔۔۔”وہ چلا رہی تھی رو بھی رہی تھی حیدر اور بختیار صاحب صوفے پر سر پکڑے بیٹھے تھے ۔۔۔۔حیدر نے سر اٹھا کر بختیار صاحب کے مضطرف چہرے کی طرف دیکھا جہاں فکر کی گہری لکیریں نمایاں تھیں اس نے گہری سانس کھنچ کر لی

“انکل آپ کو لگتا ہے ۔۔۔نین آج رات مجھ سے نکاح کے لئے رضامند ہو جائے گی۔۔۔۔۔یا کبھی خوش رہ پائے گی ۔میرے ساتھ ۔۔۔ “بختیار صاحب نے بے اختیار حیدر کی جانب دیکھا

“اس کا کیا مطلب سمجھوں میں حیدر “بختیار صاحب کے تیز اور تند لہجے پر حیدر ٹھیک ہو کر بیٹھ گیا

“انکل ۔۔۔نین کے بارے میں سوچیں ۔۔۔۔ میں نہیں۔ سمجھتا کہ وہ کبھی اس لڑکے کو بھول پائے گی

“اچھا تو تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ اس سارے جہان کے آوارہ گرد کو رانا بختیار اپنی بیٹی دے دے ۔۔۔ہار مان لے ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نکاح میں اس کا آج ہی پڑھواں گا ۔۔۔۔تم اگر ایسا نہیں چاہتے تو تب بھی مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔میرے سرکل میں بہت سے لوگ میری ایک ہاں کی منتظر بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ حیدر مجھے اپنی رائے ابھی بتا دو ۔۔۔۔۔ ورنہ بس ایک گھنٹہ ہی کافی ہے میرے لئے نیناں کے لئے کسی دوسرے کا انتظام کرنے کے لئے ۔۔۔۔ یہ تو اب میری ضد ہے کہ شاہزیب کبھی بھی میرا داماد تو ہر گز نہیں بنے گا ۔۔۔۔۔”وہی رعونیت اور نخوت سے ڈوبا ہوا لہجہ

“انکل ایسا کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔مجھے بس نین کی فکر تھی مجھے کیوں اعتراض ہو گا ۔۔۔۔”حیدر سمجھ گیا تھا کہ بختیار صاحب اپنے فیصلے پر ابھی بھی اٹل ہیں ۔۔۔۔لیکن اندر ہی اندر نین کا ردعمل سوچ کر حیدر پریشان سا ہونے لگا تھا اسے سنبھالنا یا اسکے دل سے شاہزیب کا گہرہ نقش مٹانا حیدر کو ایک نا ممکن امر لگنے لگا تھا ۔۔۔۔۔وہ اب بھی چیخ چیخ کر رو رہی تھی دروزہ بجا رہی تھی کمرے کی چیزوں کے ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی تھی یقینا وہ اپنے کمرے کا حلیہ بگاڑ رہی تھی ۔۔۔۔

بختیار صاحب کے موبائل پر وارث کی کال آنے لگی ۔۔۔۔

“ہاں بولو انسپکٹر “

“میرے لئے آگے کیا حکم ہے سر “

“پڑا رہنے دو اسے یونہی اب ہاتھ مت اٹھانا اس پر ۔۔۔۔۔”نیناں کی بے تابی دیکھ اور شاہزیب کے سو فیصد سچی قیاس آرائی پر وہ مضطرب سے تھے جیل کا سن کر ننگے پاؤں ہی تو بھاگی تھی وہ باہر

“یہ پیچھے شور کیسا ہے “وارث نینان کے چلانے کی آواز سن کر پوچھنے لگا

“کچھ نہیں بس میری بیٹی ہے ۔۔۔جسے اس کمینے نے پھنسا رکھا ہے اپنے جال میں ۔۔۔۔اب با ضد ہے کہ اسے شاہزیب سے ملنا ہے “بختیار صاحب۔ بے بس ہی ہو چکے تھے

“ہاں لے آئیں اسے یہ آپ کے لئے اچھا ہے “وارث کی بات پر بختیار صاحب سیدھے ہو کر بیٹھے

“کیسے اچھا ہے ۔۔۔یہ بھی کوئی شرفا کے آنے کی جگہ ہے “بختیار صاحب کو وارث کا مشورہ زہر کے مترادف لگا تھا

“سمجھیں بختیار صاحب شاہزیب کو اس حالت میں دیکھ کر ہو سکتا ہے آپکی بات مان جائے آپکی بیٹی ۔۔۔۔”وارث کی بات بختیار صاحب کے دل کو لگی تھی نیناں اس کے تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتی تھی یہ بھی ممکن سی بات تھی کہ وہ اسے اس حالت میں دیکھ کر نکاح پر راضی ہو جائے ۔۔۔یہ خیال آتے ہی بختیار صاحب پھر سے پر امید ہو گئے تھے اٹھ کر ۔۔۔۔۔نیناں کے کمرے کا دروازہ کھولا تو پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا ڈرسنگ کے موجود ہر چیز زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔۔پرفیوم کی بوٹلز کرچیوں کی صورت بکھری پڑیں تھیں ۔۔۔۔وہ بیڈ پر گھٹنوں پر سر جھکائے رو رہی تھی ۔۔۔۔

” بختیار صاحب نے ناگواری سے پورے کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔۔۔پھر نیناں کے پاس آ کر رک گئے۔۔۔

“چلو نیناں “آوز پست تھی

نیناں نے چہرہ اوپر کیا

“ملناہے تم نے شاہزیب ۔۔۔مل لو آخری بار اس سے ۔۔۔۔ “

نیناں فورا سے کھڑی ہوگئ

“آخری بار سے کیا مطلب ہے آپ کا “

“وہ میں تمہیں واپس آ کر بتاؤں گا “یہ کہہ کر وہ آگے کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔نیناں اپنے سلیپر پہنے ان کے پیچھے چلی گئ ۔۔۔۔۔

******…….

باسم زمان صاحب کے گھر میٹھائی لیکر پہنچا تھا ۔۔۔خوش تھا ۔۔۔۔ دل اسوقت مطمئن اور شاد سا تھا ۔۔۔۔

اپنی خوشی وہ زمان صاحب کے ساتھ باٹنا چاہتا تھا۔۔۔۔دروازہ زمان صاحب نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔۔زمان صاحب کا بجھا ہوا چہرہ دیکھ کر باسم کے چہرے کی مسکراہٹ مدہوم ہو کر غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ زمان صاحب کی متورم آنکھیں دیکھ کر باسم بے چین سا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

زمان صاحب نے پیچھے ہٹ کر باسم کو اندر آنے کی اجازت دی ۔۔۔پر لہجہ ٹوٹا ہوا تھا پہلی بار وہ اپنے استاد کو یوں ٹوٹا بکھرا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اندر داخل ہوا ڈرائنگ روم میں جانے لگا لیکن زمان صاحب اسے اپنے کمرے میں لے گئے گھر میں بھی ایک غیر محسوس خاموشی تھی ۔۔۔زمان صاحب نے ۔سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔۔۔وہ خاموشی سے بیٹھ گیا وہ بھی اپنی راکنگ چیر پر ڈھے گئے ۔۔۔۔

“سر آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔کیا بات ہے “باسم کی پوچھنے کی دیر تھی زمان صاحب کاقبط ٹوٹا تھا آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے

“باسم میاں ۔۔۔۔میرا بیٹا ۔۔۔میرا شاہزیب اس وقت پولیس کسٹڈی ۔میں ہے “ایک غیر متوقع بات پر باسم بھونچکا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔

“شاہزیب ۔۔۔۔پولیس ۔۔۔۔سر مگر کیوں ۔۔۔کس جرم میں “باسم اپنی خوشی بھولے ۔۔۔۔ شاہزیب کے لئے حیران پریشان سا ہو گیا تھا ۔۔۔

“اس لڑکی کے باپ نے بنا کسی جرم کے بنا کسی ارسٹ وارنٹ کے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے ۔۔۔”آنسوں اب سسکیوں کے ساتھ نکل رہے تھے

“ریمانڈ لیا ہے اس کا ۔۔۔۔میرا بیٹا بے قصور ہے باسم ۔۔۔۔”زمان صاحب کو یوں روتے دیکھ کر باسم بوکھلاسا گیا تھا بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے وہ ہر حالات سے مسکراتے ہوئے لڑنے کا حوصلہ دینے والے شاگردوں کے ساتھ انکی حق کی آواز اٹھانے پر سب سے پیش پیش ہوتے تھے ۔۔۔۔لیکن شاید آج ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔۔

“ایسے کیسے کر سکتی پولپس ۔۔۔۔مجھے بتائیں کس پولیس اسٹیشن میں ہے وہ ۔۔۔۔میرے باس کا بھائی بہت بڑا وکیل ہے ۔۔۔۔میں بات کرتا ہوں ان سے ضرور کوئی راستہ نکلے گا سر ۔۔۔۔۔”باسم نے فورا سے فون جیب سے نکالا اپنے باس سے بات کی انہوں نے تسلی دے کر اطمینان بھی دلایا اور اپنے بھائی کا نمبر بھی دیدیا ۔۔۔۔باسم نے پھر ساری بات اس وکیل کو بتائی ۔۔۔۔وہ خاموشی سے پوری بات سنتا رہا

“کیس توآپ کا مضبوط ہے ۔۔۔۔بنا ایف آئی آر اور ارسٹ وارنٹ کے کیسے کوئی یوں لے جا سکتا ہے ۔۔۔۔ آپ انکے والد کے ساتھ میرے پاس پہنچے پھر کوئی راستہ نکالتے ہیں ۔۔۔۔وکیل کی بات سن کر زمان صاحب کو کچھ تسلی ہوئی تھی ۔۔۔۔بات اب بیٹے کی حق کی تھی ۔۔۔۔کیسے ممکن تھا کہ وہ پیچھے ہٹ جاتے ۔۔۔باسم کی گود میں رکھا میٹھائی کے ڈبے پر زمان صاحب کی اب نظر پڑی تھی ورنہ انہیں ہوش ہی کہاں تھا کسی بات کا

” یہ کیا ہے باسم میاں “

“سر ۔۔۔۔یہی دینے آیا تھا لیکن یہاں آکر تو آپ کو دیکھ کر پریشان ہو گیا آپ مجھے کل ہی بتا دیتے ۔۔۔میں کوئی غیر تو نہیں تھا سر ۔۔۔۔”باسم نے شکوہ کیا

“مجھے ہوش ہی کب تھی کل تو خود ہی معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا ۔۔۔لیکن شاہزیب ہار ماننے کو تیار نہیں پھر اس بار تو وہ حق پر ہے ۔۔۔۔”زمان صاحب پہلے سے بہتر نظر ا رہے تھے

” سر موقع تو ایسا نہیں ہے لیکن یہ آپ رکھ لیں ۔۔۔۔”میٹھائی کا ڈبہ زمان صاحب کی طرف۔ بڑھاتے ہوئے کہا

“یہ کس خوشی میں باسم میاں “

“میری بات پکی ہو گئ ہے ۔۔۔منگنی کی رسم رائمہ کی شادی پر ہو گئ “باسم نے کچھ جھجک کر بتایا زمان صاحب کے۔ چہرے کی پژمردگی غائب ہوئی ہلکا سا مسکرائے

“بہت بہت مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔ اللہ خوش اور آباد رکھے ۔۔۔۔ میں تمہاری آنٹی کے ساتھ تمہاری امی کو مبارک باد دینے آؤں گا بس ذرا یہ شاہزیب کا معاملہ حل ہو جائے ۔۔۔۔۔

” جی میں سمجھ سکتا ہوں سر ۔۔۔۔ اب آپ میرے ساتھ چلیں وکیل ہمارے ہی انتظار میں بیٹھا ہے”

زمان صاحب نے میٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں لیا اور باسم کے ساتھ ہی لاونج میں آ گئے ۔۔۔عاتقہ بیگم کو آواز دی لیکن نمیرہ کمرے سے باہر آئی ۔۔۔۔

“ابو امی بڑی مشکل سے ابھی ہی سوئی ہیں آپ مجھ سے کہیں کیا کام ہے “روئی روئی آنکھوں سے اس نے زمان صاحب کے ساتھ کھڑے باسم کو بھی ایک اچٹتی سی نظر سے دیکھا جو نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔ ایک پل بھی اسکی نظر خطا نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ اسی بات کا قلق نمیرہ کو ہوتا تھا ۔۔۔کڈئی کیسے اتنا ،شریف بھی ہو سکتا ہے کہ نظریں ہی نا اٹھائے

“یہ رکھ لو باسم میاں کی منگنی کی ہے ۔۔۔ اور اپنی امی سے کہنا کہ پریشان نا ہو ہم وکیل کے پاس جا رہے ہیں انشاللہ بہت جلد شاہزیب بھی رہا ہو جائے گا ۔۔۔۔”زمان صاحب نے میٹھائی کا ڈبہ نمیرہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔بے ساختہ ہی نمیرہ کی نظریں باسم پر دوبارہ سے اٹھیں مگر وہ اب بھی نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔نمیرہ کو لگا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسلا ہو ۔۔۔۔ زمان صاحب کے ہاتھ ڈبہ لیکر وہ وہی کھڑی رہی زمان صاحب باسم کے ساتھ جا چکے تھے مگر وہ وہیں کھڑی ٹپ ٹپ آنسوں بہانے لگی ۔۔۔۔۔ باہر کی گھنٹی بجنے پر ہوش میں آئی تھی

جلدی سے آنسوں صاف کیے ۔۔۔۔۔ ڈبہ ڈائینگ ٹیبل پر رکھا اور باہر کا دروازہ کھول دیا سامنے خرم کھڑا تھا

“شاہزیب کہاں نمی۔ جو نمبر اس نے دیا تھا وہ بھی بند جا رہا ہے ۔۔۔کیا گھر آ چکا ہے یا پھر باسم کے گھر پر ہی ہے ۔۔۔۔”خرم ہر بات سے انجان تھا دو دن شاہزیب سے بات نہیں۔ ہوئی تھی ۔۔۔ فون بھی بند تھا اس کا ۔۔۔۔نمیرہ تو اسوقت دوہرے غم سے دو چار تھی ۔۔۔۔اس لئے رونے لگی خرم بوکھلا سا گیا تھا ۔۔۔

“نمی خیر تو ہے نا۔۔۔ شاہزیب تو ٹھیک ہے ۔۔۔”لیکن نمیرہ کی سسکیاں بلند ہونے لگی تو وہ مزید پریشان سا ہو گیا

“فار گاڈ سیک نمیرہ ۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔۔شاہزیب ۔۔۔”سب سے پہلا خیال خرم کا شاہزیب کی طرف ہی گیا تھا

“خرم ۔۔۔۔خرم ۔۔۔۔وہ ۔۔۔شاہو۔۔۔بھائی “نمیرہ کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے بس ہ کیوں سے روئے جارہی تھی

“ہاں کیا ہو ہے اسے منہ سے بولو بھی ۔۔۔بلکہ آگے سے ہٹو شازی آپی کہاں ہیں تم سے بات ۔نہیں ہو گی “خرم کو پتہ تھا کہ روتے ہوئے تو وہ صرف رو ہی سکتی ہے بول ںہیں سکتی اس لئے اسے پیچھے ہٹا کر اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔

“شازی آپی ۔۔۔آنٹی کوئی گھر پر ہے کہ نہیں “شاہزیب میں تو سب دوستوں کی جان بستی تھی ۔۔۔۔ شازمہ جو عاتقہ بیگم کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھی بامشکل ہی انہیں سلا پائی تھی۔ خرم کی پکار پر فورا سے کمرے سے نکلی تا کہ اسے چپ کروا سکے ۔۔۔خرم اور باقی دوست یہی سمجھے تھے کہ شاہزیب باسم کے گھر پر ہے ۔۔لیکن جو نمبر شاہزیب نے دیا تھا وہ بھی بند جا رہا تھا ۔۔۔اس کا اپنا موبائل تو گھر ہی موجود تھا۔۔۔شاہزیب کب گھر آیا تھا کب جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی چلا گیا کسی کو خبر تک نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

“کیوں شور کر رہے ہو امی بڑی مشکل سے ابھی سوئیں ہیں “شازمہ نے کمرے سے نکل کر دھیرے سے دروازہ بند کیا اور خرم سے دھیمے لہجے سے بولی

“شاہزیب کہاں ہیں ۔۔۔کیا ہوا ہے اسے ۔۔…اور نمی کیوں تو رہی ہے “خرم اس وقت حد سے زیادہ پریشان اور سنجیدگی سے بول رہا شازمہ کے بھی آنسوں جاری ہو گئے روتے روتے ساری بات خرم کو۔ بتانے لگی ۔۔۔خرم کے تو ہوش اڑ گئے تھے یہ سب سن کر

“اتنا سب کچھ ہو گیا شازی آپی اور آپ نے بتانا بھی گوارا نہیں کیا ۔۔۔سامنے کا دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت تک نہیں کی ۔۔۔میرا یار کل سے جیل میں بند ہے ۔۔۔اور مجھے خبر تک نہیں ۔۔۔۔”خرم تاسف اور غصے سے بولتا ہواوہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔جمی اور سیفی کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ بھی پریشان سے ہو گئے ان کے علم میں یہ تھا کہ شاہزیب باسم کے گھر ہے ۔۔۔۔اسوقت تو انہیں۔ بس شاہزیب کا ہی خیال تھا اس لئے سیدھا پولیس اسٹیشن ہی پہنچے تھے ۔۔۔۔

******…….

جب چند لڑکے زبردستی کانسٹبل کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وارث خانزادہ کے آفس میں داخل ہوئے ۔۔۔۔۔

اس جرت پر وارث حیرت سے کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا وہ تینوں اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسے دیکھنے لگے ۔۔۔ملجگی سے پینٹیں چیکدار مختلف رنگوں کی شرٹ پہنے وہ عام سے لڑکے اپنی بے خوف آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے

“کیا غنڈا گردی ہے یہ ۔۔۔”وارث نے سختی سے کہا

“یہ سوال تو ہمہیں آپ سے پوچھنا چاہیے ۔۔۔۔کیا غنڈا گردی ہے یہ ۔۔۔۔شاہزیب زمان کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے ۔۔۔دیکھائے اسکی ایف آئی آر ۔۔۔۔” سیفی نے دونوں ہاتھ ڈام ے ٹیبل پر رکھ کر وارث کو سخت لہجے سے پوچھا

“اچھا تواب ہر چلتے پھرتے کو میں ثبوت دونگا ۔۔۔نکلو یہاں سے ورنہ تم لوگوں کو بھی اسکے ساتھ بند کر دوں گا ۔۔۔۔”وارث غرا کر بولا

“ہاں تو کر دو ۔۔۔۔۔ اس لئے یہاں آئے ہیں ۔۔۔۔”جمی بھی اپنی جگہ تن گیا

“اوہ تو یاد آ رہی ہے اسکی “وارث نے مزاق اڑایا

“دیکھوں ہم لوگ چپ نہیں رہیں گئے ۔۔۔۔۔اس پولیس اسٹیشن کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گئے ۔۔۔۔۔۔ اتنا پتھروں کریں گئے کہ ہوش ٹھکانے لگا دیں تمہارے ۔۔۔۔۔پوری یونیورسٹی اٹھ کر آ کر یہی سوال کرے گی جو ابھی صرف ہم مر رہے ہیں۔۔۔۔پھر تم سارے جواب میڈیا کے سامنے دینا ۔۔۔۔وہ بھی ثبوت کے ساتھ ۔۔۔۔” خرم انگلی دیکھاتے ہوئے تنبیہ کے انداز سے کہا ۔۔۔۔۔ایک رنگ تھا جو وارث خانزادہ کے چہرے پر آ کر گزرا تھا میڈیا کی بے باکی اور جرت سے تو سب ہی واقف تھے پھر یہ خبر آگ کی طرح ہر چینل پر پھیلتی ۔۔۔۔جس کی لپیٹ میں اسکے ساتھ ساتھ کئ اور انسپکٹر بھی آ سکتے تھے عوام اول تو شور کرتی نہیں ہے لیکن جب نئ نسل کا خون کسی بات پر احتجاج ک جوش مارے تو پولیس والوں کے ڈنڈے انہیں پر برستے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔اور پھر حکومت کے ایکشن ریایکشن کا نزلہ بھی پولیس آفسران پر ہی گرتا ہے ۔۔۔بختیار صاحب کا کیا تھا پیسے دے کر اپنا پلہ جھاڑ کر سائیڈ پر ہو جاتا لیکن وارث کی نوکری خطرے میں پڑ سکتی تھی ۔۔۔۔۔وہ نا جائز طور پر یہ سب کر رہا تھااسے جائز بنانے میں وقت درکار تھا ۔۔۔۔۔پھر جھوٹ جھوٹ ہی ہوتا ہے کہیں۔ نا کہیں اپنے نشان چھوڑ ہی جاتا ہے ۔۔۔میڈیا کی نظر باز کی نظر سے زیادہ تیز تھی ۔۔۔۔جس آفسر کے پیچھے پڑ جاتے تھے اس کا اگلا پچھلا ریکوڈ سب سامنے رکھ دیتے تھے ۔۔۔۔وارث خانزادہ نے تھوک نگلا تھا ۔۔۔۔۔

“دیکھوں ابھی جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔ “لہجہ دھیمہ ہوا تھا

“شاہو سے ملے بغیر نہیں جائیں گئے “وہ تینوں تم کر بیک وقت بولے

وارث نے اپنے ٹیبل پر موجود بیل کا بٹن دبایا چند اہل کار اندر دروازے تک پہنچ کر اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے ۔۔۔۔

“انہیں باہر کارستہ دیکھاوں ۔۔۔۔اگر کچھ بدتمیزی کریں تو لاٹھی چارج شروع کر دینا ۔۔۔۔۔ وہ اہل کار حکم سنتے ہی خرم سیفی جمی کو پکڑے وہاں سے باہر لے گئے ۔۔۔۔۔زور زبردستی سے فائدہ نہیں تھا پولیس اسٹیشن سے انہیں باہر دھکیل کر دھمکی دی گئ کہ اگر اب آئے تو مار پیٹ شروع کر دی جائے گی

“خرم میرا خیال ہے یونی کے سب دوستوں سے بات کرتے ہیں ہم تین ہیں یہ لوگ ہمہیں تو روک لیں گئے مگر اگر پچاس سے سواسٹوڈنٹ بھی ہمارے ساتھ ہوئے تو بات بن سکتی ہے ۔۔۔۔”سیفی کی بات پر دونوں نے اثبات ۔میں سر ہلایا ۔۔۔۔

“ٹھیک کہہ رہے ہو تم اور میرا خیال ہے کہ شاہو کے لئے سب اسٹوڈنٹ ضرور ہمارا ساتھ دیں گئے “خرم کو بھی یہی ٹھیک لگا

“میرا ایک کزن نیوز چینل کے لئے بھی کام کرتا ہے ۔۔۔۔اسے بھی بلا لیتا ہوں ۔۔۔۔۔ پھر یہ ہماری آواز نہیں روک سکے گئے ۔۔۔۔۔ جمی نے بھی بروقت مشورہ دیا ۔۔۔۔تینوں ہی ایک نئے عزم کے ساتھ سیدھا یونیورسٹی پہنچے تھے

******….

وارث خانزادہ پریشان ہو گیا تھا چاہتا تھا بات اب رھنے کا خطرہ تھا ۔۔۔اس لئے وہ معاملہ آج ہی آج ختم کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔ اس نے بختیار صاحب کو کال کی تھی ۔۔۔۔ پیچھے سے نسوانی چیخو پکار پر جب یہ معلوم ہوا کہ بختیار صاحب کی بیٹی اپنے عاشق کے لئے۔ بے قرار ہے تو وارث کو اسے دیکھنے کی دلچسپی سی ہونے لگی ۔۔۔۔ جس طرح سے شاہزیب مار کھا رہا ۔جس اذیت سے گزر رہا تھا۔۔ جیسے پیسے کو ٹھکرا رہا تھا باقی تو پھر ایک حسن ہی بچتا تھا جس نے شاہزیب کو اپنا گرویدہ بن ڈالا تھااس لئے نیناں کو دیکھنے کی دلچسپی وارث کے اندر اودھم مچانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ اس لئے بختیار صاحب کو یہ مشورہ دیا کہ وہ نیناں کو اپنے ساتھ لیکر آئیں ۔۔۔ ظاہر ہے جب وہ اپنے عاشق کو اس حال میں دیکھے گی تو یہ تو نہیں چاہے گی کہ وہ یہ تشدد برداشت کرتا رہے مجبورا ہی سہی لیکن وہ اپنے باپ کی بات ماننے پر آمادہ ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔اور اس کام بھی ختم ہو جاتا ۔۔۔۔ فکر کی بات تو تھی کیو۔کہ بختیار صاحب نے نا تو شاہزیب کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی تھی بلکہ وارث سے یہ بھی کہا تھا کہ انکا نام تک اس معاملے میں نہیں آنا چاہیے معاشرے میں ایک اونچا نام او مقام تھا ان کا ۔۔۔۔۔انہیں اپنی بدنامی ہر گز منظور نہیں تھی اور نا ہی وہ میڈیا کا سامنا کرنا چاہیے تھے بات کو بس مٹھی میں دبا کر ختم کرنا چاہتے تھے لیکن اب ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا وارث اسی نہج پر سوچوں میں غلطیاں تھا جب

بختیار صاحب کے ساتھ ایک لڑکی کو آفس میں۔ داخل ہوتے دیکھ کر وارث خانزادہ اپنی آنکھیں جھپکا تک بھول گیا تھا ۔۔۔۔۔ سفید دودھیا رنگ کھڑے نقوش کی وہ لڑکی اپنی روئی روئی آنکھوں سے بھی قیامت ہی تو ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ کپڑوں پر سلوٹیں ڈوپٹہ بے نیازی سے بس ایک کندھے پر جھول رہا تھا ۔۔۔۔بالوں بندھے ہوئے تھے مگر بے ترتیب سے تھے کئ آوارہ لٹیں چہرے پر جھول رہیں تھیں آنکھیں اشکبار تھیں ۔۔۔۔۔ عجیب ہوشربا لگ رہی تھی ۔۔۔۔چند لمحے تو وارث بھی یہ بھول گیا کہ وہ کھڑا کہاں ہے ۔۔۔یہ نہیں کہ اس نے آج تک حسن نہیں دیکھا تھا لیکن یہ رنگ روپ اس کے ہوش گوارہا تھا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں کی۔ بے باکی سے نیناں کو الجھن سی ہوئی اسکی آر پار کرتی نظروں سے نیناں نے جلدی سے ڈوپٹہ درست کیا ۔۔۔۔۔بختیار صاحب نے بھی ناگواری سے ٹیبل بجایا ایسی جگہ پر وہ پہلے ہی نیناں کو لانے پر راضی نہیں تھے ۔۔۔۔وارث چونکا تھا ۔۔۔۔پھر بختیار صاحب مو دیکھ کر ہڑبڑایا تھا ۔۔۔۔

“جی بختیار سر ۔۔۔۔چلیں سر ۔۔۔۔”اپنی غلطی کااحساس ہوتے ہی وہ جلدی سے اپنے کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔ ایک کانسٹبل کو وہ پہلے ہی کہہ چکا کہ شاہزیب کے ہاتھ دوبارہ سے باندھ دے ۔۔۔۔۔صبح سے اسکا کھانا پینا بھی بند تھا ۔۔۔۔۔

جب نیناں اور بختیار صاحب جیل کی راہداری سے وارث خانزادہ کی تقلید میں وہاں سے گزر رہے تھے آمنے سامنے جیل کے قیدی اپنی جگہوں سے اٹھ کر جیل کی سلاخوں پر لپک کر دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔نیناں کے قدموں میں تیزی آئی دل کی بے اختیاری بھی۔ بڑھنے لگی چند قدم کے فاصلے کا انتظار تھا لیکن صدیوں پر محیط لگنے لگا تھا ۔۔آنسوں تھے کے ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے دل تھا کہ تھمنے لگا تھا ارد گرد سے بے خبر اب وہ تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی راہداری سے آخری کونے سے موڑتے ہی سامنے ہی وہ ایک چھوٹی تنگ سی جیل میں گھنٹوں پر اپنے بندھے ہوئے ہاتھ رکھے منہ چھپائے بیٹھاتھا ۔۔۔۔نیناں بھاگتے ہوئے جیل کی سلاخوں سے اسکے برابر زمین پر بیٹھ گئ کلائیوں پر بندھی رسی اسکے خون سے سرخ ہو چکی تھی پیروں سے پینٹ کچھ اوپر کو فولڈ تھی اس لئے پاؤں پر بھی رسی کے نشانات سے خون رس رہا تھا ۔۔۔

نیناں کے گلے میں گرہیں سی پڑنے لگی کہنے تو بہت کچھ آئی تھی مگر اب لفظ نہیں تھے اسکے پاس ۔۔۔۔اپنی بے اختیار سسکیوں کو منہ پر ہاتھ رکھ کر دبانے کی کوشش میں بھی نامی کے باعث جو ہلکی سی آواز پیدا ہوئی تھی برجستہ شاہزیب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا پہلی بار شاہزیب کے چہرے پر درد ہی درد رقم تھا ۔۔۔۔لیکن آنکھوں میں حیرت تھی ۔۔۔۔

“نیناں “وہ مزید سلاخوں کے قریب آ گیا تھا ۔۔۔۔نیناں اب بھی منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی یا خود کو رونے سے روک رہی تھی ۔۔۔۔

“شاہزیب ۔۔۔۔۔”با مشکل ہی وہ نام لے سکی تھی ۔۔۔۔

نیناں نے سلاخوں پر رکھے شاہزیب کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔ اسکے چہرے پر اذیت کے آثار نیناں کو مضطرب کر گئے تھے

“کیوں آئی ہو یہاں ۔۔۔۔۔”وہ دھیرے سے بولا

“مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔میری محبت نے کہیں کا نہیں۔ چھوڑا تمہیں ۔۔۔۔۔ میری غلطی کی سزا تمہیں یوں تکلیف میں مبتلہ کر دے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا” نیناں خفت اور کرب سے بات کر رہی تھی

“میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا ہے مجھے ۔۔۔”۔٫شاہزیب نے زبردستی سے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی “

“مجھ سے تو جھوٹ مت بولو ” آنکھوں میں محبت تھی اور اضطراب تھا

“نیناں جاؤں یہاں سے ۔۔۔۔ اور اپنا وعدہ یاد رکھنا مکر مت جانا “شاہزیب کی بات پر وارث ان دونوں کے قریب پہنچ گیا نیچے گھٹنوں کے بل نیناں کے بلکل۔ برابر بیٹھ گیا

“دیکھیں محترمہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ یہ زندہ رہے اور یہاں سے خلاصی بھی پا لے تو بختیار صاحب کی بات مان لیں ۔۔۔۔وہاں آپکا نکاح ہو گا یہاں یہ بھی رہا ہو جائے گا ۔۔۔ورنہ بیچارہ بن موت مارا جائے گا۔۔۔۔”نیناں کی جان پر بنی تھی ۔۔۔اور وارث اسکے چہرے سے اپنی ہوس بھری نظروں کی پیاس بجھا رہا تھا

“نہیں ۔۔۔۔خدا کے لئے چھوڑ دو اسے میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ لوگوں کے سامنے “وہ ہاتھ جوڑے روتے ہوئے کہہ رہی تھی وارث بڑی دلچسپی اسے دیکھ رہا تھا اپنی آنکھوں کو اسکے حسن سے خیراں کر رہا تھا ۔۔اس کا یہ انداز شاہزیب کو بے چین کرنے لگا

“نیناں ۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔کیوں ہاتھ جوڑ رہی ہو اس کے سامنے “شاہزیب غصے سے بولا تھا

“نہیں شاہزیب تمہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتی “نیناں ہار ہی تو چکی تھی ۔۔۔۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر دل کند چھری کٹ ہی تو گیا تھا

“پاگل پن مت کرو ۔۔۔۔ وعدہ کیا تھا تم ۔نے ۔۔۔۔نیناں تم جانتی ہو میں کتنا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ جانتی ہو نا ۔۔۔یہ لوگ مجھے جان سے نہیں مار سکتے ۔۔۔۔سمجھوں میری بات کو “نیناں کو یوں نرم پڑتا دیکھ کر شاہزیب کی بے چینی بڑھی تھی

“شاہزیب “وہ بے بسی اسے دیکھ رہی تھی بختیار صاحب بھی نیناں کو تذبذب سا دیکھ کر اس کے پاس پہنچ گئے

“نیناں اگر تمہیں اس کی جان عزیر ہے تو نکاح کر لو حیدر سے میں قسم کھاتا ہوں با حافظ اسے اسکے گھر پہنچا دوں گا “بختیار صاحب نے لجاجت اپنائی نیناں خاموش تھی

“نیناں ۔۔۔۔ ایسا تم کچھ نہیں کرو گی ۔۔۔۔”شاہزیب نے اسے یوں پریشان دیکھا تو لگا کہ جیسے وہ کمزور پڑ رہی ہے

“دیکھیں محترمہ اسکی باتوں میں مت آئیں ۔۔۔۔ ایک منٹ “وارث نیناں سے یہ کہہ کر کھڑا ہوا جیل کے دروازے کی کنڈی کھول کر اندر چلا گیا شازیب کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسکی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا ۔۔۔شاہزیب اسے اپنا آپ چھڑوا رہا تھا لیکن بندھے ہوئے ہاتھوں سے یہ ایک مشکل امر تھا شرٹ مکمل تو اتر نہیں سکتی تھی ۔۔۔لیکن اتنی اتر چکی تھی اسکی کمر پر لگے زخم نظر آ سکیں ۔۔۔یہ سب دیکھ کر ۔نیناں کے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑا تھا ۔۔۔۔جھرجھری سی لیکر اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں

“یہ شروعات ہے محترمہ ۔۔۔۔ باقی اب آپ پر ڈیپمنڈ کرتا ہے ۔۔۔ جب تک آپ کا نکاح نہیں ہو گا یہ یہی رہے گا اور جب تک یہ یہی رہے گا روز ایسے ہی زخم ملے گئے اسے ۔۔۔۔”,وارث کی بات پر شاہزیب بے ساختہ غرا کر بولا

“جھوٹ بکواس کر رہا ہے یہ ۔۔۔۔نیناں ۔۔۔۔میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر تم جانتی ہو ۔۔۔۔وعدہ کیا ہے تم نے ۔۔۔۔ “شاہزب نے اپنا آپ چھڑوایااور دوبارہ سے نیناں کے پاس آ کر کہنے لگا ۔۔۔۔وہ اب ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔شسہزیب دوبارہ سے نیچے بیٹھ گیا شاخوں کے قریب چہرہ کر کے بولا

“میں نے کہا تھا نکاح کر لو مجھ سے ۔۔۔۔۔ ورنہ تم کسی کی باتوں میں آ کر پیچھے ہٹ جاؤں گی ۔۔۔۔کیا کہا تھا تم نے ۔۔۔۔نیناں اگر شادی کرے گی تو صرف شاہزیب سے ۔۔کہا تھا نا تم نے ۔۔۔۔ قسم کھائی تھی تم نے نیناں “شاہزیب نے اسکی پتھر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ بنا آنکھ جھپکائے آنسوں سے لبریز آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔لیکن چپ تھی ایک دم ساکت ۔۔۔۔

“بولو اب منہ سے یار ۔۔۔ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔نیناں اگر میں باہر آ گیا تو جان لے لونگا حیدر کی ۔۔۔۔۔ تم اچھی طرح سے جانتی ہو مجھے ۔۔۔۔” شاہزیب کی جان پر بنینہعئی تھی پر نیناں اب بھی چپ تھی

“اٹھوں نیناں چلو یہاں سے بختیار صاحب کو لگا کہ اگر کچھ دیر وہ وہاں اور بیٹھی رہی تو شاہزیب کی باتوں میں آ جائے گی ۔نیناں کو بازوسے پکڑے وہ اٹھانے لگے ۔۔۔وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ کسی بے جان مجسمے کی طرح بختیار صاحب کے ساتھ وہاں سے جانے لگی ۔۔۔مگر نظریں اب بھی شاہزیب کی طرف تھیں ۔۔ ۔۔۔۔

“نیناں ۔۔۔۔نیناں۔۔۔۔۔ کیپ یور پرومس ۔۔۔نیناں “شاہزیب نے زور سے اپنے بندھے ہاتھ بے بسی سے جیل کی سلاخوں پر مارے نیناں کی چپ سے اسے لگا۔۔۔ اب وہ ہار چکی ہے ۔۔۔۔۔ وارث خانزادہ اسکے قریب آکر استزائیہ انداز سے ہسنے لگا

” مجنوں میاں ۔۔۔چلی گئ تمہاری لیلی ۔۔۔۔۔ ویسے لڑکی۔ بڑی کمال کی ہے ۔۔۔۔کیا حسن پایا ہے ۔۔۔۔اور اسکے نیناں ہائے ۔۔۔۔نام کی طرح نایاب ہیں سکی غلافی آنکھیں ۔۔۔۔۔ کیا خوبصورتی ہے۔ باپ رے باپ ۔۔۔۔”وارث خانزادہ کی بات پر شاہزیب نے قہر بھری نظر اس پر ڈالی تھی اور کھڑا ہو کرخاڈکے مقابل آ کر پھنکارتے ہوئے بولا

“کیا بکواس کر رہے ہو تم “

“سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔پتہ ہے ۔۔۔میں نے ہی تو بلایا تھا اسے یہاں ۔۔۔میں نے سوچا آخر ایسی کیا بات ہے اس لڑکی میں کہ تم نے ہاتھ آئی دولت ٹھکرادی ۔۔۔۔ پھر اتنی مار کھانے کے بعد بھی اپنی بات پر قائم ہو ۔۔ذرا دیکھوں تو سہی اس ماہ جبینہ کو ۔لیکن اب سوچ رہا ہوں تم حق پر ہو ۔۔۔ارے ایسے حسن پر تو واقع مر مٹ جانے کو جی چاہ رہا ہے ۔۔۔۔۔”شاہزب کی براد،ت نے جواب دیا تھا

“ایک لفظ بھی نیناں کے بارے میں اور کہاں تو ۔۔۔۔۔”شاہزیب کو وارث کے جمعلے اور نظروں کی خباثت پر آگ ہی تو لگ گئ تھی ۔۔۔۔۔ ایسی بے باک نظروں سے وہ اسے دیکھنے کاسوچ بھی نہیں سکتا تھا جو اسے وارث کی نظروں میں نیناں کے لئے۔ نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“کیوں نا کہو مجھے کون روک سکتا ہے ۔۔۔۔ تم میرا بگاڑ کیاسکتے ہو ۔۔۔۔۔ ہاں لیکن میں تمہارا بہت کچھ بگاڑ سکتا ہوں ۔۔۔۔ کیا خیال ہے رکوا دوں تیری لیلی کی شادی ۔۔۔۔۔ایسا کرتا ہوں خود کر لیتا ہوں اس سے شادی ۔۔۔۔افف کم بخت ابھی بھی نظروں سے غائب نہیں ہو رہی وہ اپنی دھن میں نیناں کا تصور باندھے کہہ رہا تھا اس وقت جیل میں شاہزیب اور وارث کے علاؤہ دوسرا کوئی تھا بھی نہیں

“شاہزیب کی شاید برادشت کی آخری حد تھی جس طرح وارث آنکھیں بند کیے نیناں کاتصور باندھے بول رہا تھا شاہزیب نے اسے سنبھلنے کا بھی موقع نہیں دیا تھا ۔۔۔اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں سے اسکاگلہ دباتے ہوئے گھسٹ کر ے دیوار سے لگا دیا ۔۔۔وارث خانزادہ اس افتاد کے لئے تیار نہیں تھا

اس لئے بوکھلا سا گیا

“ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری نیناں کو اتنی خباثت اور گھٹیا نظروں سے دیکھنے کی ۔۔۔۔۔ ایسے بے باک لفظوں سے اسکی تعریف کرنے کی ۔۔۔۔۔”شاہزیب پر تو کوئی جنون سوار تھا ۔۔۔۔۔۔ وارث نے شاہزیب کے ہاتھوں کو پکڑ لیا لیکن اسکے گلے پر شاہزیب کے ہاتھ کی گرفت اپنی مضبوط تھی کہ وہ بے بس سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔

“جسے آج تک میں نے صرف عزت اور محبت سے دیکھا ہے ۔۔۔۔ جو میرے لئے میری غیرت سے بڑھ کر ہے کوئی اسے ایسی بے باکی سے دیکھے تو دیکھے کیسے ۔۔۔۔۔جان نا میں لے لوں اسکی “شاہزیب پر تو جیسے خون سوار ہونے لگا تھا

“چھوڑ مجھے ۔۔۔۔۔کمینے “با مشکل ہی وارث خانزادہ کی ہلکی سی آواز نکلی اب اسکاسانس گھٹنے لگا تھا

“آج تو جان لے لوں گا تمہاری ۔۔۔۔۔ بنا قصور کے مجرم تو بنا دیا تم نے مجھے کیوں نا قتل بھی تمہارا ہی کر کے اس پر سچ کی مہر لگا دوں “شاہزیب دانے بینچ کر بولا

شاہزیب نے اپنی گرفت اور سخت کی وارث خانزادہ کی آنکھیں ابل کر باہر نکلی اب وہ مچلنے لگا تھا ۔۔۔۔۔اپنے ہاتھوں کو بری طرح سے چلا رہا تھا ۔۔۔کبھی شاہزیب کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگتا ۔۔۔لیکن اب اسے لگا کہ بس جان اب نکلی کہ تب

*******………..

نیناں پورے راستے خاموش ہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔بختیار صاحب بھی چپ رہے بس وہ ایک غیر مرئی نقطے کی جانب دیکھتے ہوئے شاہزیب کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

کیا تھا وہ ۔۔۔اور کیا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

پہلی بار جب نیناں نے اسے دیکھا تھا لا پروائی سے اپنی بائیک سے اتر کر اپنے دوست کے پاس جا کر کوک پینے لگا تھا اس بات سے قطعی لاپروا تھا کہ کتنے لوگوں کی منظور نظر بن چکا تھا پہلی بار رسٹورنٹ میں نیناں نے جب اس بات کرنا چاہی تب بھی وہ تو اسکی۔ خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔

پہلی بار جب اسکے گھر آیا تھا تب بھی اسکی دولت اور بنگلے کو دیکھ کر نا اسکی آنکھیں چکا چوند ہوئیں تھیں نا ہی وہ اسکے محل نما گھر سے متاثر ہو کر اسے انکار کرنے سے ہچکچایا تھا ۔۔۔۔۔

صاف منع ہی کرتا رہا تھا اسے ایک بار نہیں بہت بار لیکن نیناں کے مسلسل ۔اس کا پیچھا کرنے پر ہی وہ اسکی طرف راغب ہوا تھا ۔۔۔نیناں نے۔آنکھوں کو بند کر کے آنکھوں میں ٹہرے آنسوں کو چھلکنے کا راستہ دیا تھا ۔۔۔۔۔

اور اب ۔۔۔۔۔اب ۔۔۔۔۔صرف وہ ہی سب کے عتاب کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔۔۔اسکے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔اگر اسے کچھ ہو گیا تو کیاوہ خود کو ۔معاف کر پائے گی ۔۔۔۔کیا جواب دے گی اسکے گھر والوں کو ۔۔۔۔۔۔ بند آنکھوں سے صرف آنسوں ہی نہیں اسکے سارے ارمان بھی بہہ رہے تھے ۔۔۔۔

گھر تک کی مسافت پر وہ ایک فیصلے تک پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔۔

لاونج میں داخل ہوتے ہی سامنے صوفے پر حیدر شاید انہیں کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ نیناں نے اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے پلٹ کر بختیار صاحب کو دیکھا

“پوپس میں حیدر سے نکاح کرنے کو تیار ہوں ۔۔۔۔آپ شاہزیب کو چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔”

نیناں کے جواب پر حیدر متحیر تھا اور بختیار صاحب اپنی کامیابی پر شاد ۔۔۔۔۔۔