One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 21
Rate this Novel
One Wheeling Episode 21
One Wheeling by Umme Hani
نیناں بنا بات کیے ہی اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔کافی دیر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی روتی رہی ۔۔۔۔۔بختیار صاحب کا رویہ نیناں سے بہت بدل چکا تھا ۔۔۔۔پہلے جو اہمیت وہ نیناں کو دیتے تھے اب حیدر کو دینے لگے تھے ۔۔۔۔۔منگنی کی شاپنگ بھی اسے پوچھے بنا ہو چکی تھی ۔۔۔۔جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی ۔۔۔وہاں بنا پوچھے کہاں رشتے طے ہوتے تھے ۔۔۔مگر اس کا ہو چکا تھا سارے فیصلے سارے انتظامات مکمل تھے نیناں کی مرضی کے بغیر ۔۔۔۔رات کو شاہزیب کی کال آنے لگی ۔۔۔پہلے تو نیناں کا جی چاہا کہ اسے ہر بات سے آگاہ کر دے ۔۔۔۔مگر پھر رک گئ ۔۔۔۔وہ ارادہ باندھ چکی تھی کہ صبح بختیار صاحب سے شاہزیب کے بارے میں بات کرے گی انہیں منا بھی لے گئ ۔۔۔وہ بہت پیار کرتے تھے اس سے اس لئے اسے انکار نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔نیناں خود کو بہلانے لگی تھی رات کو ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی صبح بریک فاسٹ سے پہلے ہی بختیار صاحب کے کمرے کا دروازہ نوک کر کے اجازت ملتے ہی اندر چلی گئ وہ تیار ہو چکے تھے بس بال بنا رہے تھے ۔۔۔۔نیناں کو دیکھ کر مسکرانے لگے
“لٹل فرینڈ ۔۔۔۔اتنی جلدی اٹھ گئ ۔۔۔۔ نیناں کو سامنے دیکھ کر انھوں سے پیار سے اسے پوچھا پھر اسکی متورم آنکھوں کی جانب دیکھا جو رتجگے کی کہانی سنا رہیں تھی ۔۔۔۔۔۔اسکی روئی روئی آنکھیں اور بھی بہت سی داستاں سنا رہیں تھی پل بھر کو بختیار صاحب کا دل تڑپا ۔۔۔۔کہاں وہ اسکی آنکھ میں ایک آنسوں برداشت نہیں کر سکتے تھے ۔۔اور کہاں اب وہ پوری رات روئی تھی۔۔۔۔اور جان کر بھی انجام بننے پر مجبور تھے
“پوپس مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ” نیناں۔ انکے قریب آ کر بھرائی ہوئی آواز سے بولی
“یس ٹل می لٹل فرینڈ ۔۔لیکن جو کہنا ہے فٹافٹ ایک منٹ کے اندر کہو میں لیٹ ہو رہا ہوں “بختیار صاحب نہیں چاہتے تھے کہ نیناں ان سے کچھ ایسا مانگ لیں جو وہ دینا نہیں چاہتے تھے اس لئےبہانے تراش رہے تھے وہاں سے کھسکنے کی کوشش میں تھے
“پوپس میں حیدر سے شادی نہیں کرسکتی “بات وہی ہوئی تھی جس کا انہیں اندیشہ تھا
“شادی نہیں کر رہا ہوں میری گڑیا صرف منگنی کی رسم کر رہا ہوں ۔۔۔۔”
“پوپس مجھے وہ پسند نہیں ہے “
“لیکن مجھے پسند ہے “بختیار صاحب کے حتمی لہجے نے نیناں کی ہمت پسپا کر دی تھی ۔۔۔کچھ پل تو وہ بختیار صاحب کی آنکھوں میں۔ دیکھتی رہی ۔۔۔جہاں اسکے لئے اجنبیت سی تھی ۔۔۔۔نیناں نے دوبارہ ہمت کر کے بات آگے بڑھائی
“یہ میری زندگی ہے پوپس ۔۔۔۔میری لائف کا سب سے بڑا ڈسیجن ہے یہ ۔۔۔مجھے حق ہونا چاہیے کہ میں خود اس بات کا فیصلہ کرو “نیناں کی بات سچ تھی مگر ایک کڑوا سچ بختیار صاحب نے اسے دونوں بازوں سے پکڑا اور زریک نظریں اس پر جمائی
“میں کون ہوں تمہارا۔۔۔نیناں “بختیار صاحب کا لہجہ ذرا سخت ہوا
“آپ میرے سب کچھ ہیں ” نیناں نے بھیگے ہوئے لہجے سے کہا
“کتنی محبت کرتی ہو ۔مجھ سے “بختیار صاحب آج نیناں سے کڑا امتحان لے رہے تھے
“بہت ذیادہ پوپس آپ جانتے ہیں”
“میں بھی تم سے بہت ذیادہ محبت کرتا ہوں نیناں ۔۔۔۔اسلئے مجھ پر بھروسہ کرو تمہارے لئے جو بھی فیصلہ کرونگا وہ سو فیصد درست ہوگا ۔۔۔۔”اب انکے لہجے میں نرمی در آئی تھی
“پوپس میں پھر بھی حیدر سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔بیکوذ “بختیار صاحب نے نیناں کی بات بیچ میں برے طرح سے کاٹ دی اور کرخت لہجے میں بولے
“آئی نو ۔۔۔۔۔تمہارے انکار کی وجہ میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔۔۔۔لیکن تمہارے منہ سے سننا نہیں چاہتا ۔۔۔۔جس دو ٹکے کے لڑکے کے ساتھ ۔آجکل تم گھوم رہی ہو۔۔۔۔ تم کیا سمجھتی ہو میں انجان ہوں اس بات سے “بختیار صاحب کا لہجہ اب بلند ہوا تھا چہرے پر ناگواری پیشانی پر تیوری چڑھائے وہ ضبط کے مراحل سے گزر رہے تھے ۔۔۔نیناں حیران ہوئی تھی سب کچھ جان کر بھی بختیار صاحب اس کا حیدر سے رشتہ کیوں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔نیناں کے دونوں بازو چھوڑ کر اب وہ اسکی جانب غصے سے دیکھ رہے تھے
“تم میری بیٹی ہو نیناں ۔۔۔۔میری زمہ داری ہو ۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ تم سے غفلت برت سکتا ہوں ۔۔۔۔تم سے اگر اب تک میں نے باز پرس نہیں کی تو صرف اس لئے کہ میں چاہتا تھا تم خود صحیح اور غلط کی پہچان کر سکو ۔۔۔۔۔مجھے لگا چار دن اس لڑکے کے ساتھ بائیک پر گھوم کر تمہارا دماغ درست ہو جائے گا تمہیں احساس ہو جائے گا کہ حیدر تمہارے لئے اس لڑکے سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔تم خود اسے چھوڑ دو گی مگر تمہاری حماقتیں اب میری برداشت سے باہر ہو چکیں ہیں ۔۔۔۔ آئندہ میں تمہیں اس سڑک چھاپ کے ساتھ بلکل نا دیکھوں “بختیار صاحب غصے سے بھپرے ہوئے سخت لہجے میں بول رہے تھے
“پوپس آپ غلط سمجھے ہیں اسے ۔۔۔وہ بہت اچھا ہے ۔۔۔۔ حیدر سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔ ایک بار آپ اسے موقع تو دے کر دیکھیں پوپس ۔۔۔وہ آپ کی ہر شرط پر کھرا اترے گا ۔۔۔۔”نیناں ملتجی ہو کر باپ کو منانے کی سعی کرنے لگی
“کیا تمہیں وہ ساری آسائشیں دے سکتا ہے جس کی تم بچپن سے عادی ہو ۔۔۔کما سکتا ہے اتنا پیسہ ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب نے تاسف سے اس سے پوچھا
“پوپس مجھے کوئی آسائش نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔ ان سب کے بغیر بھی میں اسکے ساتھ خوش رہ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔”نیناں کے جواب پر انکا غصہ عروج پر جا پہنچا
“بہت احمق ہو تم نیناں ۔۔۔۔کیا سمجھتی ہو تم اس طرح کے لڑکوں کو۔۔۔ انکی نظر صرف دولت پر ہوتی ہے ۔۔۔۔تمہارے سامنے وہ جتنا بھی اچھا بن رہا ہے وجہ تمہارا بنک بیلنس ہے تم نہیں “بختیار صاحب نے حقیقت کا ایک اور پہلو اسکے سامنے رکھا
“نہیں پوپس شاہزیب کو غرض نہیں ہے آپکی دولت سے “
“میں نے دنیا دیکھی ہے ۔۔۔۔اتنی تمہاری عمر نہیں ہے جتنا میرا تجربہ ہے “بختیار صاحب کو نیناں پر مزید تاؤ آنے لگا انکی نظر میں نیناں صرف جذباتی رو میں بہہ جانے والی لڑکی تھی
“میں نے اسکا دل دیکھا ہے پوپس جہاں صرف میں ہوں ۔۔۔۔ آپکی دولت کی ہوس نہیں ۔۔۔۔ آپ کو اگر ایسا لگتا ہے کہ اسے آپکی دولت سے سروکار ہے تو آپ بے شک مجھے اپنی ہر چیز سے عاق کر دیں وہ سوال نہیں کرے گا ۔۔۔۔یااس سے کسی بھی پیپر پر سائن لے لیں کہ وہ کبھی آپکی دولت اور روپے پیسے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔۔۔۔ ۔۔۔”نیناں ہر حال میں انہیں قائل کرنے چاہتی تھی اور کر بھی رہی تھی لیکن بختیار صاحب کی نظر میں صرف تاسف تھا
“اور تمہیں اس جہنم میں دھکیل دوں ۔۔۔جہاں دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر تمہیں شاید وہ نا دے سکے ۔۔۔۔نہیں نیناں ۔۔۔۔تم میری جان ہو میری اکلوتی اولاد ہو ۔۔۔۔۔۔مجھے کتنی عزیز ہو میں لفظوں سے بیان نہیں کر سکتا تمہاری خاطر میں نے اپنی زندگی میں دوسری عورت کو آنے کی اجازت نہیں دی تا کہ تمہارے ساتھ کوئی ذیادتی کر سکے ۔۔۔۔۔اب اگر تم اپنی بیوقوفی میں مجھ سے آگ کے شعلے مانگ لو گی تو کیا سمجھتی ہو دےدونگا تمہیں۔۔۔۔ ہر گز نہیں ۔۔۔۔حیدر بہت اچھا لڑکا ہے بہت برائیڈ فیوچر ہے اس کے سامنے تمہیں وہ سب کچھ دے سکتا ہے ۔۔۔۔ جو میں نے تمہارے لئے چاہا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تم ۔ سے بہت محبت بھی کرتا ہے ۔۔۔۔ “
“پوپس میں شاہزیب کے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کرو گی “اتنا سب سمجھانے کے بعد بھی نیناں اپنی بات پر قائم تھی
“نیناں مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو “بختیار صاحب کو غصہ آنے لگا ایسی ضد تو کبھی نیناں نے کسی چیز کے لئے نہیں کی تھی ۔۔۔۔
“یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔۔حیدر کو کسی جھوٹی امید کر مت رکھیں پوپس میں سب کے سامنے انکار کر دوں گی “نیناں کے صاف انکار نے بختیار صاحب کو بے اختیار کر دیا تھا وہ پوری آنکھیں پھلائے خطرناک تیوروں سے اسے گھور رہے تھے
“تم نے ابھی صرف میری محبت دیکھی ہے نیناں ۔۔۔۔میرا غصہ نہیں دیکھا تمہیں تو میں کچھ نہیں کہو گا مگر اس لڑکے کو نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔۔اگر چاہتی ہو کہ شاہزیب تمہیں زندہ سلامت نظر آتا رہے تو حیدر سے شادی کر لو ۔۔۔۔ورنہ میرے لئے اسے مکھی کی طرح مسلنا مشکل نہیں ہے “بختیار صاحب کی دھمکی نیناں پر بے اثر تھی
“پوپس اگر آپکی وجہ سے اسے ایک آنچ بھی آئی یا ایک کھرونچ بھی لگی تو آپ میرا مرا ہوا منہ دیکھیں گئے ۔۔۔۔۔”نیناں کا اگلا جمعلہ سن کر بختیار صاف کا رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔نیناں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بول رہی تھی جہان بختیار صاحب کو شاہزیب۔ کی محبت کی لوئیں بڑی آب و تاب سے جلتی ہوئیں نظر آ رہیں تھیں
“نیناں”وہ چلا کر بولے ۔۔نیناں کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔بختیار صاب کے ہوش اڑانے لگے تھے ۔۔۔۔۔کیا کچھ نہیں کہہ کر گئ تھی وہ انہیں ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے کوٹ اتار کر بیڈ پر پھینکا اور خود بھی بیڈ پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا ۔۔۔۔
******……
نیناں روتی ہوئی سیدھا حیدر کے کمرے کی طرف گئ تھی ۔۔۔۔دروازے کو دستک دیتے ہوئے بھی نیناں رو رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب سے بیوفائی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں نا ہی اس پر کسی اور کو ترجعی دے سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر کی دستک کے بعد ہی دروازہ کھل گیا تھا حیدر شاید نیند سے جاگا تھا ۔۔خوابدیدہ لباس پہنے ۔بامشکل آپ ی جمائی روکی آنکھیں کھولے نیناں کو دیکھا پھر پیچھے ہٹ کر اسے اندر آنے کی جگہ دی۔۔۔۔ نیناں اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔حیدر نے دروازہ بند کیا اور اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
“اتنی صبح صبح نین چلو یہ اچھا ہی کیا آنکھیں کھولتے ہی تم نظر آ گی پورا دن بیت اچھا گزرنے والا ہے میرا ۔۔۔۔۔اینی وئے بیٹھو ادھر میں ذرا فرش ہو جاؤں ۔۔۔۔اصل۔میں پوری رات خوشی کے مارے مجھے نیند ہی نہیں آئی ڈیڈ نیکسٹ ویک پہنچ رہے ہیں ۔۔۔اور انکل بھی منگنی کے بجائے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں ۔۔۔۔مت پوچھوں کتنا خوش ہوں میں “نیناں کے آنسوں اور دبی دبی سسکیوں کو یکسر نظر انداز کیے وہ موندی موندی آنکھوں سے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“حیدر ۔۔۔۔میری بات سنو ۔۔۔۔۔ میں محبت نہیں کرتی ہوں تم سے یہ میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں “نیناں نے آنسوں بہاتے ہوئے لجاجت سے اسے کہا
“کوئی بات نہیں میں تم سے تمہاری محبت مانگوں گا بھی نہیں نین ۔۔۔اپنی محبت بنا کسی اعتراض کے تم پر نچھاور کرتا رہوں گا بس اب خوش ۔۔۔۔”حیدر اب اپنے قدم اسکی جانب بڑھاتے ہوئے بہت ڈھٹائی سے کہہ رہا تھا نیناں پیچھے ہٹ گئ
” مجھے نہیں چاہیے تم سے کچھ بھی ۔۔۔۔پلیز حیدر میں نہیں جی سکتی ہوں شاہزیب کے بغیر سوچ بھی نہیں سکتی تمہارے بارے میں ۔۔۔۔ میری ریکوسٹ ہے تم سے ۔۔۔پلیز پوپس کو سمجھاؤں ۔۔۔یا تم انکار کر دو ۔۔۔بلکہ ایسا کرو یہاں سے واپس ہی چلے جاؤں ۔۔۔یہ احسان کر دومجھ پر “وہ ہاتھ جوڑے روتے ہوئے اسکی منت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
“نین میں کہیں نہیں جاؤں گا اور نا ہی انکار کرونگا ۔۔۔۔تمہاری حماقت پر تمہارا بلکل ساتھ نہیں دونگا ۔۔۔۔ہاں اگر شاہزیب اسٹیٹس میں ہمارے برابر کا ہوتا تو میں اپنے دل پر جبر بھی کر لیتا تمہاری خوشی کی خاطر نین چھوڑ دیتا تمہیں ۔۔۔۔۔پر میں اچھی طرح جانتا ہوں انکل کبھی بھی شاہزیب سے تمہاری شادی نہیں کریں گئے ۔۔۔۔میرا چلے جانا مسلے کا حل نہیں ہے میں چلا بھی گیا تو وہ تمہاری شادی شاہزیب کے علاؤہ کسی اور سے کر دیں گئے جو انکے معیار پر پورا اترے گا ۔۔۔۔جب یہ طے ہے نین کے شاہزیب تو تمہیں ملے گا نہیں ۔۔۔تمہاری زندگی میں پھر کوئی اور کیوں آئے ۔۔۔میں کیوں نہیں ۔۔۔۔ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ میں بہت خیال رکھوں گا تمہارا ۔۔۔۔ میری محبت پا کر بھول جاؤں گی شاہزیب کو ” اب وہ نیناں کے بکھرے ہوئے بالوں کو اسکے آنسوں سے تر بتر چہرے سے اپنے ہاتھ سے ہٹانے لگا ۔۔۔۔ایک رات میں کملا کر رہ گیا تھا اس کا خوبصورت چہرا نیناں نے اس کا ہاتھ فوراسے پیچھے ہٹا دیا خود بھی پیچھے ہٹ گئ
“سانس لینا بھول سکتی ہوں پر اسے نہیں ۔۔۔۔میں ایک دوست سمجھ کر تم سے فیور لینے آئی تھی حیدر ۔۔۔۔ لیکن تم بھی پوپس کی طرح سوچتے ہو ۔۔۔۔تم لوگوں کو کیوں لگتا ہے کہ میری خوشیاں پیسوں اور آسائشوں کے ساتھ مشروط ہیں ۔۔۔۔ ایسا ہوتا تو پچھلے ایک ماہ سےمیں اسکے ساتھ بائیک پر سفر نا کر رہی ہوتی ۔۔۔۔جب تک میرا وقت اسکے ساتھ گزرتا ہے مجھے لگتا ہے کہ میں واقع جی رہی ہوں ۔۔۔۔۔ایک نئی زندگی سے متعارف کروایا ہے اس نےمجھے ۔۔۔۔۔ یہ سیکھایا ہے ہے زندگی لگچریز کے بنا بھی ہنستے مسکراتے گزاری جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔ جانتے ہو حیدر جو مزہ مجھے اسکے ساتھ برنس روڈ میں عام سے ٹھیلے پر بکنے والی چاٹ کھانے کا آتا ہے وہ بڑے بڑے نامور ہوٹلز اور رسٹورنٹ کے اٹالین اور چائینز فورڈ میں بھی نہیں آتا تیز اور تند دھوپ میں جو سکون مجھے اسکے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر سفر کرنے میں ملتا ہے ۔۔۔۔وہ اپنی کرولا کے اے سی میں بیٹھ کر بھی نہیں ملتا ۔۔۔۔۔ جب مجھے ایسی زندگی گزارنے پر اعتراض نہیں ہے تو پھر تمہیں اور پوپس کو کیوں اعتراض ہے ۔۔۔۔ پوپس ایک بار اس سے مل کر تو دیکھیں ۔۔۔۔کوئی عیب نہیں ہے اس میں سوائے اس کے کہ امیر باپ کا بیٹا نہیں ہے وہ ۔۔۔تم بتاؤں حیدر کسی کا دولت مند نا ہونا اس کا عیب تو نہیں ہے جس پر پوپس کو اعتراض ہو ۔۔۔ “نیناں کی باتیں حیدر خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔۔۔وہ مسلسل آنسوں بہا رہی تھی
“حیدر ۔۔تم سموکنگ کرتے ہو ۔۔۔مگر شاہزیب نہیں کرتا ۔۔۔۔تم کبھی کبھی ڈرنک بھی کرتے ہو ۔۔۔۔مگر اس نے کبھی دیکھی تک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ میں کئ بار اسکے ساتھ باہر گئ ہوں اسکے ساتھ اسکی بائیک پر بیٹھ کر۔۔۔۔ ہمارے درمیان بہت سی باتیں ہوئیں ہیں ۔۔۔مگر وہ مجھ سے فاصلہ برقرار رکھ کر بات کرتا ہے ۔۔۔۔۔اس کی باتوں میں ایسی بے باکی نہیں ہوتی جو مجھے سنتے ہوئے ناگوار گزرے بلکہ اگر میں کچھ کہہ بھی دوں تو وہ ہر بات پر مجھے بھی ٹوک دیتا ہے ۔۔۔ مجھے وہ باتیں سمجھاتا ہے جو لڑکی ہونے کے ناطے مجھے معلوم ہونی چاہیے تھیں ۔۔۔مگر مجھے کبھی کسی نے نہیں بتائیں۔مجھے کیسا پہنا چاہیے کیسے اٹھنا بیٹھنا چاہیے ۔۔۔کیسے دیکھنا چاہیے ۔۔۔کیا کہنا چاہیے کیا نہیں کہنا چاہیے یہ سب میں نے اس سے سیکھا ہے ۔۔۔۔۔ بہت ساری خوبیاں ہیں اس میں ایک بار پوپس اور تم اسٹیٹس کا چشمہ اتار کر اسے میری نظر سے دیکھوں ۔۔۔۔وہ تمہیں تم سے بہت اونچے مقام پر نظر آئے گا ۔۔۔۔”نیناں کی آنکھوں میں شاہزیب کا چہرہ تھا ۔۔۔۔کانوں میں اسکی کہی ہوئی باتیں ۔۔۔۔حیدر نے ایک گہری سانس بھری ۔۔۔۔خود کو نیناں کی باتوں پر لاجواب کا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔اور تھا سچ ہی سومنکنگ اور ڈرنکنگ بہرحال وہ کرتا ہی تھا
“ٹھیک ہے نین تم انکل کو شاہزیب کے لئے راضی کر لو۔۔۔میں ہمیشہ کے لئے تمہاری زندگی سے چلا جاؤں گا ۔۔۔اور اگر وہ نہیں۔ مانے تو میں بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا ایم سوری ۔۔۔۔”نیناں بہتے ہوئے آنسوں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔۔۔۔جان چکی تھی کہ یہ جنگ اسے اکیلے ہی لڑنی ہے ۔۔۔۔
******…….
شاہزیب کو اپنے تینوں دوستوں پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔۔گھر آ کر ذیادہ وقت اپنے کمرے میں گزارا تھا ۔۔۔۔۔رات کو نیناں کو کال کرتا رہا مگر اس نے بھی فون پر بات نہیں کی ۔۔۔۔۔
“کیا مصیبت ہے نیناں فون اٹھاؤ یار ۔۔۔پک اپ دا فون مینا ۔۔۔۔”بار بار کال کر کے وہ زچ ہو چکا تھا ۔۔۔
“مت اٹھاؤ ۔۔۔۔میں بھی اب بات نہیں کرونگا تم سے ۔۔۔۔ کرتی رہنا میری منتیں “فون بیڈ پر پھینکا اور خود سونے کے لئے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
بار بار جمی سیفی اور خرم کا خیال آنے لگا اگر سچ میں دوستی ختم کر دی انہوں نے تو کیا کروں گا میں ۔۔۔۔کیوں نہیں سمجھتے کہ میں نے کوئی گناہ تو نہیں کیا کمینے ہیں سارے کے سارے ۔۔۔ساتھ دینے کے بجائے شرطیں رکھ رہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ او میری ۔نیناں تمہاری خاطر پتہ نہیں کیا کیا چھوڑنا پڑے گا ۔مجھے ۔۔۔۔۔شاہزیب نے تکیہ درست کیا اور سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں
******
“پھپو دودھ ختم ہو گیا ہے آپ دوا پانی سے کھالیں بابا رات کو لائیں گئے تو رات کو دودھ سے لے لیجیے گا ۔۔۔۔۔”نیلوفر نے پانی کے گلاس کے ساتھ پھپو کو دوا دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“نیلو تو اچھی طرح جانتی ہے کہ دودھ کے بغیر مجھ سے دوا نہیں کھائی جاتی ۔۔۔۔ایسا کر نیچے سے لے آ دودھ جب ہمارا آئے گا تو واپس کر دینا ۔۔۔۔”نیلوفر نے دوا اور گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔اور نیچے اتر گئ اتوار کا دن تھا مگر صحن میں غیر معمولی خاموشی تھی کچن صحن میں ہی تھا اور کچن سے کھٹ پٹ کی آواز سے نیلو کو لگا کہ رائمہ کچن میں ہی ہو گی اس لئے اسے پکارتے ہوئے بے دھڑک کچن میں آ گئ لیکن وہاں باسم کھڑا چائے بنا رہا تھا ۔۔۔۔۔نیلو کی پکار کر س نے پلٹ کر دیکھا نیلو خاموش سی ہو گئ
“رائمہ گھر پر نہیں ہے اپنی دوست سے ملنے گئ ہے ۔۔۔۔۔امی اور رباب بھی نہیں ہیں رامس کے گھر گئیں ہیں اس وقت میں اکیلا گھر پر ہوں ۔۔۔۔آپ فورا سے پہلے یہاں سے چلی جائیں ورنہ یہ نا ہو کہ میرے ساتھ بدنام ہو جائیں ۔۔۔۔ کیونکہ آپکی پھپو کو عادت ہے ہر ایک ساتھ آپکا نام جوڑنے کی ۔۔۔۔اور آپ کوعادت ہے سب کچھ چپ چاپ سننے کی مگر میں شریف انسان ہوں کوئی مجھے کسی کے ساتھ بدنام کرنے کی کوشش کرے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا “۔۔۔۔باسم کی بات پر نیلو دلبرداشتہ سی ہو گئ تھی
“آپکے کہنے کا مطلب کیا ہے ۔۔۔۔آپ شریف ہیں تو کیا میں شریف نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ “وہ روہانسی ہوئی آنکھوں میں آنے والی نمی کو آنکھیں ۔ چھپک کر باہر گرنے سے روکا
“یہ تو آپ بہتر طور پر جان سکتی ہیں فری ۔۔۔۔۔ یا آپکی پھپو ” باسم نے چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے کہا
“دیکھیں پھپو کو عادت ہے یہ فضول میں شک کرنے کی ” نیلو فر نے وضاحت کی ۔۔۔باسم نے چائے کا کپ شلف پر ہی رہنے دیا اور اپنا پورا رخ نیلوفر کی طرف کر کے ہاتھ باندھے اس کے خفا خفا چہرے کو دیکھنے لگا
“اور آپکو عادت ہے چپ چاپ سب کچھ سہنے کی ۔۔۔۔۔فری کیوں چپ رہتی ہیں آپ ۔۔۔۔۔جب آپ غلط نہیں ہیں تو کہتی کیوں نہیں۔
“نہیں کہہ سکتی ۔۔۔۔کبھی تو انہیں خود ہی احساس ہو ہی جائے گا ۔۔۔۔”نیلو کی بات پر باسم اپنے لہجے کی تلخی چھپا نہیں پایا تھا تھا
۔۔کیا سمجھتی ہیں ۔۔۔کیا کوئی آسمان سے فرشتہ اتر کر آپکی مدد کرے گا آپکی باکبازی کی گواہی دے گا ۔۔۔۔ یا کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھی ہیں آپ ۔۔۔۔۔ہم عام انسان ہیں فری ولی اللہ نہیں ہیں۔۔۔۔جب تک خود ہمت نہیں دیکھائیں گئے لوگ ہمہیں یونہیں روند کر گزرتے رہیں گئے کسی کو خود با خود احساس نہیں ہوتا ۔۔۔احساس انہیں دلانا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔ خود کو اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی انگلی اٹھانے سے پہلے کئ بار سوچے “باسم اب نیلو کو متانت سے سمجھا رہا تھا ۔۔۔
“آپ کیسے کر لیتے ہیں اتنی اچھی باتیں ۔۔۔۔ آپکی باتیں مجھے بہت حوصلہ دیتی ہیں جیسے میرے ہر غم کا مداوا بن جاتی ہیں ” نیلو اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جو اپنے لفظوں سے اسکے اندر ایک نئ روح پھونک رہا تھا ایک نیا حوصہ اور کچھ کر دیکھانے کا عزم اجاگر کر رہا تھا ۔۔۔۔اسکے اندر ڈری سہمی بیٹھی نیلو کو نکال کر ایک بااعتماد فری جھنجھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
“مجھے بہت برا لگتا ہے جب آپکی پھپو آپ پر بے جاقسم کے الزامات لگاتی ہیں اور اسوقت اس سے زیادہ برا یہ لگتا ہے جب آپ چپ چاپ سنتی ہیں ۔۔۔ “
“آپ کیا چاہتے ہیں ” نیلو کو لگا اب وہ اسکے تابع ہونے لگی ہے جو وہ کہے گا نیلو وہی کرتی چلی جائے گی
“آپ انہیں سختی سے روکیں ۔۔۔۔” باسم نے نرمی سے کہا
“پھپو کی آواز سن کر میرے ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں ۔۔۔۔۔زبان لڑکھڑا جاتی ہے ۔۔۔۔” نیلوفر اپنے خدشات اسے بے دھڑک بتانے لگی جیسے وہ واقع سب کا حل نکال لے گا
“پھپو ہے وہ آپکی کوئی جن بھوت نہیں ہے ۔۔۔۔بس تھوڑا سا حوصلہ رکھ کر بات کریں یوں ڈریں گی تو سب ہی آپکو ڈرائی گئے ۔۔۔۔۔”
“کوشش کرو گی ” نیلو کی ہمت پر باسم نے شکر کا سانس لیا تھا پہلی بار اس نے کچھ کر دیکھانے کی ہامی۔ بھری تھی
“ضرور کیجے گا ۔۔۔۔یہ آپکے لئے بہت ضروری ہے ۔۔۔۔”
آپ شاید کسی کام سے آئیں تھیں ‘”بسم کے یاد دلانے پر نیلو کو ہوش آیا کہ وہ آئی کیوں تھی
“جی ایک گلاس دودھ مل سکتا ہے پھپو نے دوا کھانی ہے “
“جی کیوں نہیں “باسم نے فریج سے دودھ نکال کر ایک گلاس میں دودھ ڈال کر شلف پر رکھ دیا ۔۔۔۔نیلوفر نے گلاس اٹھایا اور واپس پلٹ گئ
“فری “باسم کی پکار پر اسکے قدم رک گئے
“میں اب تک آپ کے جواب کا منتظر ہوں “
“کون سے جواب کا “نیلو نے پلٹ کر پوچھا
“میں آپ کے لئے سوالی بن کر کب آؤں آپکے گھر “
“آپ کو تو میں اچھی نہیں لگتی بزدل اور ڈر پوک لگتی ہوں ۔۔۔۔ ‘”نیلو کے جواب پر باسم ہسنے لگا سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں یہ بول رہی ہے
“اس کے باوجود اچھی بھی لگتی ہیں ۔۔۔۔لیکن آپ کی خواہش بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے فری جتنی میری ۔۔۔میں نے جو باتیں چند دن پہلے رائمہ سے کہیں تھی مجھے معلوم تھا کہ وہ آپ پردے کے پیچھے کھڑی سن رہیں ہیں آپ ہی سے کہہ رہا تھا تا کہ آپ خود کو بدلنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔ورنہ میں تو اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں “باسم کی بات پر نیلو واپس چلی پلٹ کر تیز قدموں سے لوٹ گئ ۔۔۔۔۔
******……..
شاہزیب صبح سے نیناں کو کال کر رہا تھا مگر ۔۔۔کوئی فائدہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ فون نہیں اٹھا رہی تھی یہاں شاہزیب کی جان پر بن رہئ تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اتنی کال کے باوجود نیناں نے کال ریسیو نہیں کی تھی ورنہ وہ پہلی بیل پر فون اٹھا لیتی تھی
۔۔۔۔چھٹی کا دن تھا ۔۔۔۔مگر اگلے روز عاصم کا ٹیسٹ تھا اس لئے باسم کو چھٹی کے باوجود عاصم کو پڑھانے آنا پڑا ۔۔۔۔۔عاصم اپنا ٹیسٹ یاد کر رہا تھا ۔۔۔۔۔شاہزیب باہر لاونج میں ہی بیٹھا تھا ۔۔۔فون ہاتھ میں تھا مسلسل نیناں کو میسج کرنے پر مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔
نمی عاتقہ بیگم اور شازمہ ٹی وی لگائے بیٹھیں تھیں زمان صاحب اپنے کمرے میں تھے جب ڈور بیل بجی ۔۔۔۔دروازہ شازمہ نے ہی کھولا سامنے شازل اپنی والدہ کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔۔یہ بات اتنی اہمیت اب نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔وہ اکثر ہی اتوار کو آ جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔لیکن جو بات اہمیت کی حامل تھی وہ یہ تھی کہ شازل کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی ۔۔۔ویسے تو وہ شاہزیب کو کم ہی لفٹ کراتا تھا مگر آج اسے خود ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھا ۔۔۔۔۔۔ شاہزیب نے بھی سلام کیا شازل اسکے برابر میں ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“کیسے ہو شاہزیب ۔۔۔سب ٹھیک چل رہا ہے نا ” شازل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا
“جی سب ٹھیک ہے کیوں “
“بس یونہی پوچھ رہا ہوں یار گھبرا کیوں رہے ہو “شازل نے جان بوجھ کر ٹونٹ کیا
“میں کیوں گھبرانے لگا آپ سے بس کچھ حیرت ضرور ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔پہلے کبھی آپ نے ایسے پوچھا نہیں اس لئے “شاہزیب کو شازل کا انداز کچھ عجیب وغریب لگ رہے تھے ۔۔۔۔
“بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں دوسروں کے معاملے میں انٹر فیر کرنے کا ۔۔۔۔۔اب دیکھوں میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ ” شازل کے چہرے کے تاثرات یک دم بدلے تھے ۔۔شاہزیب اسکے پل پل بدلتے انداز کو سمجھ نہیں پا رہا تھا
“کیا مطلب میں سمجھا نہیں “
“وہی تو سمجھانے آیا ہوں سالے صاحب “شازل یہ کہہ کر اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔اور سامنے بیٹھی عاتقہ بیگم سے مخاطب ہوا جو زمرد بیگم سے محو گفتگوں تھیں
چچی ۔۔۔چچا جان کہاں ہیں “
“اپنے کمرے میں ہیں بیٹا جاؤں جا کر مل لو “
“جی میں ذرا انہیں سلام کر لوں ” شازل یہ کہہ کر زمان صاحب کے ک۔رے میں چلا گیا ۔۔۔شاہزیب نے کچھ دیر شازل کو غور سے دیکھا اسکی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی مگر نا کام رہا ۔۔۔ پھر اپنا سر جھٹک کر بات کو لا پروائی سے اڑایا ۔۔۔۔۔
“*******……….
کل جب شاہزیب نیناں کے ساتھ لنچ پر گیا تھا شازل وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ پہلے سے موجود تھا ۔۔۔ ۔۔ لیکن جہاں بیٹھا تھا وہاں شاہزیب اسے دیکھ نہیں سکتا تھا ۔۔۔ شاہزیب کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھ کر شازل کو پہلے تو یقین نہیں آیا کیونکہ وہ اس قسم کا لڑکا تھا ہی نہیں تھا ۔۔۔پھر وہ انہیں ہی دیکھتا رہا ۔۔۔۔وہ دونوں ارد گرد سے بے خبر ایک دوسرے میں ہی محو تھے ۔۔۔۔۔شازل نے دوستوں سے ایکسکیوز کیا اور اٹھ ایسے ٹیبل پر بیٹھ گیا جہاں سے شاہزیب اور نیناں دونوں اسے صاف نظر آنے لگے۔۔۔۔۔ پھر فوراسے دماغ میں شیطانی خیال آیا کہ شاہزیب کی وجہ سے شازمہ اسکے ساتھ پارٹی میں نہیں جا سکی تھی ۔۔۔۔سب سے ذیادہ مخالفت بھی شاہزیب نے ہی کی تھی ۔۔۔اس لئے اب وہ شاہزیب اور نیناں کی آپس میں مختلف انداز سے تصویریں کھنچنے لگا ۔۔۔۔نیناں کا شاہزیب کو ٹکٹکی باندھے دیکھنا ۔۔۔۔شاہزیب کا اسکے آنسوں پونچنا۔۔۔۔اسکے ہاتھ تھامنا ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنا ۔۔۔۔لیکن جیسے ہی شاہزیب کے دوستوں نے شاہزیب کو گھیرا ڈال شازل اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔
اب زمان صاحب کے کمرے میں نوک کر کے داخل ہوا تھا انہیں سلام کیا ۔۔۔کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔پھر اصل مقصد کر آ گیا
“چچا مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے “
“ہاں بولو بیٹا ” زمان صاحب بھی شگوار موڈ سے بولے
“چچا آپ نے شازو کو میرے ساتھ لنچ پر نہیں بھیجا تھا ۔۔۔۔میں جھوٹ نہیں بولوں گا مگر مجھے یہ بات بہت نا گوار گزری تھی ۔۔۔۔لیکن پھر جب میں نے آپکی باتوں کو غور کیا تو مجھے سمجھ آ گئ کہ آپ ٹھیک تھے اور میں غلط۔۔۔۔ہمیں اپنے اچھے ریت رواجوں کو فالو کرنا چاہیے ۔۔۔۔یہ بہت ہی نا مناسب سی بات ہے کہ لڑکا لڑکی کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر فلمی سچویشن سب کے سامنے کریٹ کرتے پھریں ۔۔۔۔بے حیاوں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے باتیں کریں کھانا وانا کھائیں ۔۔۔۔ جو بات شرم حیا میں ہے وہی اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔”شازل نے جو آگے کرنا تھا اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ زمان صاحب کو ذہنی طور پر ایسا احساس دلائے جس پر ان کا پارہ آخری حد تک ہائی ہو جائے ۔۔۔۔۔
“بلکل میں تو اس بات کے بلکل خلاف ہوں اچھی بات ہے تم بھی سمجھ گئے ۔۔۔۔میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ تم ایسی کسی بات کو لیکر میرے سامنے نہیں آؤں گئے ٫
“بلکل بھی نہیں چچا ۔۔۔شازو میری عزت ہے ۔۔۔۔ میں بھلا کیوں اپنے بڑوں کی مخالفت کروں گا ۔۔۔۔میں سمجھ چکا ہوں کہ ایسی باتیں تو آپ شاہزیب کے لئے بھی نا پسند کرینگے تو شازو تو پھر لڑکی ہے “
“بلکل بلکل ۔۔۔ایسا ہی ہے “زمان صاحب سے بس وہ یہی سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔
تیر کو جس نشانے وہ بیٹھانے آیا تھا وہ شازل بیٹھا چکاتھا ۔۔۔۔۔۔
“چچا باہر چل کر بیٹھتے ہیں امی بھی میرے ساتھ آئیں ہیں ۔۔۔۔”
“اچھا بھابی بھی آئیں چلو چلتے ہیں ‘زمان صاحب شازل کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل آئے سامنے ٹیبل پر چائے بس تیار ہی تھی ۔۔۔۔۔ سب لوگ ٹیبل پر ہی موجود تھے ۔۔۔۔شازل اور زمان صاحب بھی ٹیبل پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
نمی یہ ایل ای ڈی ۔۔۔موبائل سے connected ہو سکتی ہے ؟ شازل نے سامنے دیوار سے لگی ایل ای ڈی کی طرف دیکھ کر نمیرہ سے پوچھا ۔۔۔۔۔
“جی شازل بھائی ۔۔۔”نمیرہ فلاسک سے سب کے کپوں میں چائے ڈالتے ہوئے بولی ۔۔
“او کے ۔۔میں نے اپنی پارٹی کی پکس سب کو دیکھانی تھی ۔۔۔شاہزیب تم بھی ضرور دیکھنا بہت شاندار ریسٹورنٹ کے سین کیپچر کیے ہیں میں نے ۔۔۔”شازل کہ طنریہ جمعلے اور استزائیہ مسکراہٹ کے اندر چھپے ابہام سے شاہزیب نا فہم ہی تھا
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔میں تو ضرور دیکھوں گا ۔۔۔۔خاص طور پر ڈانسنگ سین “شاہزیب اپنی دھن میں تھا اسے کہاں پتہ تھا کہ کچھ دیر بعد اسکی زندگی کا تلخ موڑ شروع ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔شازل نے سامنے لگی ایل ای ڈی سے اپنا موبائل کنیکٹ کیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پارٹی کی پک دیکھانے لگا ۔۔۔۔پھر اپنے دوستوں کی ۔۔۔۔سب ہی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔سب کے ہاتھ میں پکڑے کپ شاہزیب اور نیناں کی تصویر پر لبوں پر جاتے جاتے رکے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب کا تو سانس اوپر کا اوپر ہی تھم گیا تھا ۔۔۔۔ نیناں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی اور وہ بریانی کھانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب نے برجستہ شازل کی طرف دیکھا جو اپنے آبرو چڑھائے اسکی آنے والی شامت پر ابھی سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔عاتقہ بیگم ۔۔۔۔زمرد بیگم ۔۔۔۔شازمہ نمیرہ سب کی آنکھیں آخری حد تک پھیلی تھیں ۔۔۔زمان صاحب کی پیشانی پر سلوٹیں گہری ہونے لگیں ۔۔۔آ نکھوں میں قہر س اترنے لگا ۔۔۔۔شاہزیب اب اپنی آنے والی شامت کے لئے خود کو تیار کرنے لگا تھا
