One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 Last updated: 8 December 2025

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling by Umme Hani

باسم مین روڈ پر ٹریفک کے رش پر زچ سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔بار بار گھڑی پر ٹائم دیکھ رہا تھا مگر گاڑیوں کا اژدھا کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔چھ بجے اسے ٹیوشن کے لئے پہنچنا تھا ۔۔۔۔اسی پریشانی میں تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکا جس کی بائیک کا سلنسر شاید پھٹا ہوا تھا اس لئے بائیک کی بے ہنگم سی آواز پر سب کی نظروں کا مرکز بن گیا تھا۔۔۔۔۔ باسم نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔وہ تیز رفتار موٹر سائیکل چلاتا ہوا گاڑیوں کے دائیں بائیں سے یوں راستہ بنائے گزر رہا تھا جیسے زگ زیگ کھیل رہا ہو ۔۔۔۔باسم پہلے ہی ٹریفک کی وجہ سے پریشان تھا پھر اس افلاطونی بائیک کے کرتب کر مزید پریشان ہونے لگا ۔۔۔۔۔باسم اب اسکی بائیک کے آگے تھا گرین سگنل کھلنے کے اشارے پر وہ نکلنے ہی والا تھا کہ وہ لڑکا اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے نے اسے لڑکے کو ٹوکا
"کیا شاہو بھائی ۔۔۔کتنا رف چلاتے ہیں آپ ۔۔۔۔مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کسی گاڑی سے ٹکر نا ہو جائے "
"تو کیا ہوئی ٹکر۔؟۔۔۔ کیوں ڈرتے ہو ڈپو(ڈرپوک ) ۔۔۔۔تمہارا بھائی روڈ کا شہنشاہ ہے ۔۔۔۔انکھیں بند کیے بھی گزر سکتا ہے ۔۔۔۔وہ بھی بنا ٹکرائے ۔۔۔اگر میں بھی یوں لائین میں جانے کا انتظار کرتا تو ہم اب بھی بہت پیچھے کھڑے ہوتے ۔۔۔۔۔"باسم نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔پیچھے بیٹا لڑکا چودہ پندرہ برس کا تھا اور آگے بائیک پر بیٹھا لڑکا جو خود کو سڑکوں کا شہنشاہ کہہ رہا تھا با مشکل بائیس تئیس سال سے اوپر کا نہیں تھا ۔۔۔۔دیکھنے میں بھی دبلا پتلا مگر پھرتیلا تھا ۔۔۔۔۔اشارہ کھلتے ہی وہ لڑکا کسی آندھی طوفان کی طرح سے اسکے پاس سے بائیک لیکرگزرا تھا ۔۔۔۔۔باسم اس لڑکے کو تاسف سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
"نا جانے یہ نئ نسل خود کو ٹارزن کی اولاد کیوں سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔خدا نخواستہ اگر کسی گاڑی سے ٹکر ہو جائے تو ۔۔۔۔ساری شہنشاہت دھری کی دھری رہ جائے ۔۔۔۔۔باسم نے اپنی راہ لی مگر باقی راستہ ان لڑکوں کے بارے میں ہی افسوس کرتے ہوئے گزری ۔۔