One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 Last updated: 8 December 2025
Rate this Novel
One Wheeling Episode 1One Wheeling Episode 2One Wheeling Episode 3One Wheeling Episode 4One Wheeling Episode 5One Wheeling Episode 6One Wheeling Episode 7One Wheeling Episode 8One Wheeling Episode 9One Wheeling Episode 10One Wheeling Episode 11One Wheeling Episode 12One Wheeling Episode 13One Wheeling Episode 14One Wheeling Episode 15One Wheeling Episode 16One Wheeling Episode 17One Wheeling Episode 18One Wheeling Episode 19One Wheeling Episode 20One Wheeling Episode 21One Wheeling Episode 22One Wheeling Episode 23One Wheeling Episode 24One Wheeling Episode 25One Wheeling Episode 26One Wheeling Episode 27One Wheeling Episode 28One Wheeling Episode 29One Wheeling Episode 30One Wheeling Episode 31One Wheeling Episode 32One Wheeling Episode 33One Wheeling Episode 34One Wheeling Episode 35One Wheeling Episode 36One Wheeling Episode 37One Wheeling Episode 38One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 1)One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 2)One Wheeling Episode 40 (Last Episode Part 1)One Wheeling Episode 40 (Last Episode Last Part)
One Wheeling by Umme Hani
باسم مین روڈ پر ٹریفک کے رش پر زچ سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔بار بار گھڑی پر ٹائم دیکھ رہا تھا مگر گاڑیوں کا اژدھا کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔چھ بجے اسے ٹیوشن کے لئے پہنچنا تھا ۔۔۔۔اسی پریشانی میں تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکا جس کی بائیک کا سلنسر شاید پھٹا ہوا تھا اس لئے بائیک کی بے ہنگم سی آواز پر سب کی نظروں کا مرکز بن گیا تھا۔۔۔۔۔ باسم نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔وہ تیز رفتار موٹر سائیکل چلاتا ہوا گاڑیوں کے دائیں بائیں سے یوں راستہ بنائے گزر رہا تھا جیسے زگ زیگ کھیل رہا ہو ۔۔۔۔باسم پہلے ہی ٹریفک کی وجہ سے پریشان تھا پھر اس افلاطونی بائیک کے کرتب کر مزید پریشان ہونے لگا ۔۔۔۔۔باسم اب اسکی بائیک کے آگے تھا گرین سگنل کھلنے کے اشارے پر وہ نکلنے ہی والا تھا کہ وہ لڑکا اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا اس کے پیچھے بیٹھے لڑکے نے اسے لڑکے کو ٹوکا
"کیا شاہو بھائی ۔۔۔کتنا رف چلاتے ہیں آپ ۔۔۔۔مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کسی گاڑی سے ٹکر نا ہو جائے "
"تو کیا ہوئی ٹکر۔؟۔۔۔ کیوں ڈرتے ہو ڈپو(ڈرپوک ) ۔۔۔۔تمہارا بھائی روڈ کا شہنشاہ ہے ۔۔۔۔انکھیں بند کیے بھی گزر سکتا ہے ۔۔۔۔وہ بھی بنا ٹکرائے ۔۔۔اگر میں بھی یوں لائین میں جانے کا انتظار کرتا تو ہم اب بھی بہت پیچھے کھڑے ہوتے ۔۔۔۔۔"باسم نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا ۔۔۔۔پیچھے بیٹا لڑکا چودہ پندرہ برس کا تھا اور آگے بائیک پر بیٹھا لڑکا جو خود کو سڑکوں کا شہنشاہ کہہ رہا تھا با مشکل بائیس تئیس سال سے اوپر کا نہیں تھا ۔۔۔۔دیکھنے میں بھی دبلا پتلا مگر پھرتیلا تھا ۔۔۔۔۔اشارہ کھلتے ہی وہ لڑکا کسی آندھی طوفان کی طرح سے اسکے پاس سے بائیک لیکرگزرا تھا ۔۔۔۔۔باسم اس لڑکے کو تاسف سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
"نا جانے یہ نئ نسل خود کو ٹارزن کی اولاد کیوں سمجھتی ہے ۔۔۔۔۔خدا نخواستہ اگر کسی گاڑی سے ٹکر ہو جائے تو ۔۔۔۔ساری شہنشاہت دھری کی دھری رہ جائے ۔۔۔۔۔باسم نے اپنی راہ لی مگر باقی راستہ ان لڑکوں کے بارے میں ہی افسوس کرتے ہوئے گزری ۔۔
