One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 11
Rate this Novel
One Wheeling Episode 11
One Wheeling by Umme Hani
اتوار کے دن زمرد بیگم اور شازل کے ساتھ پھر سے زمان صاحب کے گھر پر براجمان تھیں آج تو جاوید عرف جیدی صاحب بھی تشریف فرما تھے ۔۔۔۔شاہزیب بھی خلاف توقع گھر پر ہی تھا ۔۔۔چائے اچھے خوشگوار موڈ میں پی گئ تھی ۔۔۔۔۔شازمہ ہر چیز رکھنے میں پیش پیش تھی ۔۔۔چائے پینے کے بعد زمرد بیگم نے ہی بات شروع کی
“بھئ زمان ۔۔۔آج تومیں تم سے کچھ کہنے آئیں ہوں ۔۔۔۔بس انکار نہیں چاہیے مجھے ۔۔کہے دیتی ہوں میں “زمرد بیگم نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولیں
“ارے بھابی آپ حکم کریں ۔۔۔”زمان صاحب نے بھی انکی بات کا مان رکھتے ہوئے کہا ۔۔عاتقہ بیگم کے چہرے کے زاویے بگڑے ۔۔۔۔زمرد بیگم کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“دیکھ لیا آپ نے جیدی ۔۔۔میں نا کہتی تھی زمان مجھے منع کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔”بڑی ادا سے آبرو چڑھا کر زمرد بیگم نے میاں کو دیکھ جتایا شازل نے ایک بھر پور مسکراہٹ شازمہ پر اچھالی اور بھنور اچکا کر اشارے سے خود کو داد دی ۔جیسےمیدان مار چکا ہو۔۔شازمہ نے شرم کے نظریں جھکائیں ۔۔شاہزیب ان دونوں کے اشارے بازیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔چھٹی حس ذرا اور چوکنی ہوئی ۔۔۔۔شاہزیب ذراسیدھا ہو کر بیٹھ گیا جیدی صاحب نے ناگواری سے منہ موڑا ۔۔۔۔
“جی کہیے بھابی “زمان صاحب نے بات بڑھائی
“کہنا کیا ہے بس سمجھو کہ حکم دینا ہے ۔۔۔اصل میں ۔شازل کے آفس والوں نے ایک بڑےےے سے مہنگے والے ہوٹل میں دعوت رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔”زمرد بیگم نے بڑے کہتے ہوئے بازو کو بھی پھیلانا ضروری سمجھا ۔۔۔
“اچھا اچھا یہ تو اچھی بات ہے “زمان صاحب نے مسکرا کر کہا
“ارے کیا خاک اچھی بات ہے ۔۔۔یعنی کہ حد ہی ہو گئ ہے ۔۔۔”جیدی صاحب نے ابھی بس بات شروع کرنے سے پہلے اپنا تکیہ کلام ہی دہرایا تھا زمرد بیگم نے وہیں پر ٹوک دیا
“میں کہتی ہو جیدی خبردار جو بیچ میں بولے بھی تو ۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ جاوید صاحب اپنی زبان کی پول پٹاری کھولتے زمرد بیگم کے کڑے تیور اور بر وقت تنبیہ پر چپ سے ہو گئے ۔۔۔۔
“ہاں تو زمان میاں میں کہہ رہی تھی کہ بات تو بڑی اچھی ہے۔۔۔۔ تم تو جانتے ہو بڑے افسر کی نوکری لگی ہے میرے شازل کی ۔۔۔۔اب ایسے لوگوں کے چونچلے بھی بڑے ہوتے ہیں ۔۔۔بس انکی فرمائش ہے کہ شازل اپنی منگتر کے ساتھ دعوت کھانے آئے “زمرد بیگم کی بات ختم ہو گئ تھی ۔۔۔زمان صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ بھی غائب ہو چکی تھی ۔۔۔اور تناؤ بڑھنے لگا تھا
“بھابی یہ کیا طریقہ ہوا بھلا ۔۔۔شادی سے پہلے میل ملاقاتیں ہمارے گھروں کا طور طریقہ نہیں ہیں ۔۔۔۔یہ تو شازل گھر کا بچہ ہے تو یوں آ جا جاتا ہے ورنہ میں تو اس حق میں بھی نہیں تھی ۔۔۔آپ توشاید بھولے بیٹھی ہیں اللہ جنت نصیب کرے ابا میاں نے تو ہماری تصویریں تک نہیں دیکھائی ہیں اپنے بیٹوں کو بس خود ہی سارے فیصلے کیے تھے رشتے بھی طے ہوئے شادیاں بھی ۔ ہو گئیں اور نبھ بھی گئیں ۔۔۔۔اور ہم نے بھی شادی پر ہی شوہر کو پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔پورے خاندان میں رعب تھا ابا میاں کا ۔۔۔اور انہی کی دی گئ تربیت ہے کہ شازمہ سے بنا پوچھے ہی زمان نے آپ کو زبان دی تھی ۔۔۔۔مجال ہے جو میری بچی نے افف بھی کیا ہو باپ کے سامنے۔۔۔ میں نے تو سسر کی اسی روایت کو اپنے بچوں کو گھٹی میں ملا کر پلا کر اتنا کیا ہے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلی پچھلی ساری کسر نکالی تھی زمان صاحب کو بیوی پر پہلی بار فخر سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔شاہزیب نے ماں کو سراہتے ہوئے انگوٹھے کے اشارے سے داد دی اور انہوں نے بھی آبرو چڑھا کر داد وصول کی ۔۔۔۔جیدی صاحب بھی جوش میں آ کر شروع ہو گئے
“یہی ۔۔۔یہی ۔۔۔بات میں اس کم عقل عورت کو دو دن سے سمجھا رہا ہوں ۔۔مگر نہیں وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔۔۔”یعنی کہ حد ہی ہو گئ ہے ” زمرد بیگم نے شوہر کی بات ہوا میں اڑائی
“ارے تم تو چپ رہو ۔۔۔میں کہتی ہوں عاتقہ کس دور میں رہتی ہو بھئ ۔۔۔۔ابا میاں مرتے مر گئے جائیداد تو کوئی چھوڑی نہیں کہ بچوں کے کچھ دن ہی پھر جاتے بس یہ فرسودہ سی رسمیں چھوڑ گئے ہمارے لئے ۔۔۔ارے تمہارا بھی کیا قصور ہے عاتقہ ان بند ڈربو میں رہ کر سوچ بھی ایسی ہی رہ گئی ہے تمہاری۔۔۔۔ذرا میرے ڈیفنس آ کر دیکھوں کیسے کھلے ماحول میں کھلے ذہن کے لوگ رہتے ہیں ۔۔۔”زمرد بیگم کہاں عاتقہ بیگم سے پیچھے رہ سکتی تھیں
“بھئ زمان مجھے انکار نہیں چاہیے دو گھڑی کی تو بات ہے بچے کھانا کھائیں گئے اور واپس گھر آ جائیں گئے “زمان صاحب بس خاموشی سے تیوری چڑھائے بیٹھے تھے شاہزیب نےگلہ کھنکھارا
“شازل بھائی کس ہوٹل ہے ارنجمنٹ “شاہزیب نے شازل کو مخاطب کیا ۔۔۔۔۔شازل نے شہر کے نامور ہوٹل کا نام گردن اکڑا کر بتایا ۔۔۔
“اوہ اچھا اچھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ہممم …اب تو وہاں ڈانس فلور کی بھی سیٹنگ بن چکی ہے تو کیا ڈانس وانس کا دور چلے گا ۔۔۔۔” شاہزیب نے باپ کی توجہ ایک نئ جانب مبذول کروائی
“ہاں ڈیفنس کا نمبر ون ہوٹل بھی تو ہے لیکن ہم لوگ صرف ڈنر ہی کریں گئے ‘”شازل نے نظریں بدلیں
“اور باقی آپ کے دوست ڈانس وغیرہ کا بھی شوق پورا کریں گئے “شاہزیب جان بوجھ کر اسے کرید رہا تھا اسے پتہ تھا کہ ایسی جگہ پر زمان صاحب شازمہ کو کبھی نہیں بھیجیں گئے
“وہ انکی مرضی ہے ۔۔۔۔جو چاہے کریں ۔۔۔۔”شازل نے کندھے اچکا کر لاپروائی دیکھانے کی کوشش کی مگر شازل کے جواب پر زمان صاحب برجستہ بولے
“شازمہ نہیں جائے گی ۔۔۔۔”شازل کے چہرے کے زاویے بدلے شازمہ بھی بجھ سی گئ
“آئے ہائے کیوں نہیں جائے گی “زمرد بیگم نے تیوری چڑھا کر کہا
“بھابی میری بیٹی ایسی وہیات جگہ پر ہر گز نہیں جائے گی ۔۔۔۔نا شادی سے پہلے بعد میں ۔۔۔۔”
“میں تو پہلے ہی خلاف تھا اس بات کے ۔۔۔۔ارے کمبخت میری سنتا کون ہے ۔۔۔یعنی کہ حد ہی ہو گی ہے ۔۔۔”جاوید صاحب نے بھی زمان کی بات کی تائید کی
“چاچو۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے میں شازمہ کی حفاظت نہیں کر سکتا ۔۔۔یا آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے “شازل خود کو ضبط کر کے بولا
“بات کو غلط طرز مت لے کر جاؤں شازل تم پر بھروسہ نہیں ہوتا تواپنی بیٹی کا تم سے کبھی رشتہ ہی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔مگر بیوی یا منگتر کے ساتھ جانے کی بھی کچھ جگہیں ہوتی ہیں ۔۔۔میں ایسی جگہوں پر شاہزیب۔ کو بھی نا بھیجوں تو شازمہ کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا “زمان صاحب کے اٹل انداز پر شازل تلملا کر رہ گیا مگر بولا کچھ نہیں
“زمان میری بات تو سنو ۔۔”زمرد بیگم نے اپنی سی کوشش کرنا چاہی
“بھابی بس بات میں ختم کر چکا ہوں اب اس ۔موضوع پر مزید بحث نہیں ہو گی “زمان صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے زمرد بیگم کو چپ کروادیا ۔۔۔شازل کواپنی ہتھک سی محسوس ہوئی ۔۔۔داماد کی بات کوئی وقعت ہی نہیں ہے انکی نظر میں
“اٹھیں امی بہت دیر ہو چکی ہے اب واپس گھر جائیں گئے “شازل فورا سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔شازمہ کا رنگ فق ہو گیا ۔۔۔۔یوں اچانک اٹھ کر جانے سے کہیں بات ہی نا بڑھ جائے شازمہ کا حلق خشک ہوا ۔۔۔
“بیٹھوں شازل ۔۔۔میرے خیال سے میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس پر تم یوں ریایکٹ کرو ۔۔۔۔کھانا کھائے بغیر یہاں سے کوئی نہیں جائے گا ۔۔۔شازی ۔۔۔نمی اٹھوں دونوں اور رات کے کھانے کی تیاری کرو “باپ کی پکار پر دونوں بیک وقت اٹھیں اور کچن کا رخ کیا
“ہاں ہاں بلکل بات کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ہم اپنے گھر کی بچیوں کو کیوں آفس کے غیر مردوں کے سامنے بیٹھا کر کھانا کھلائیں”یعنی کے حد ہی ہو گئ ہے ۔۔۔۔”جاوید صاحب نے زمان صاحب کی بات کی پھر سے تائید کی زمرد بیگم اور شازل باقی کا وقت تیوری چڑھائے بیٹے رہے ۔۔۔۔
البتہ آج عاتقہ بیگم اور شاہزیب ضرور خوش تھے ۔۔۔۔
کچھ دیر میں سب بڑے زمان صاحب کے کمرے میں بیٹھ گئے ۔۔۔عاصم شازل کے پاس بیٹھا باتیں کرنے لگا مگر وہ سیدھے منہ جواب نہیں دے رہا تھا شاہزیب سامنے بیٹھا اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر دل ہی دل میں۔ خوش ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“قید میں ہے بلبل سیاد مسکرائے ۔۔۔۔کہا بھی جائے ۔۔۔چپ رہا بھی نا جائے ۔۔۔”شاہزیب کو گنگنانا شازل کو آگ لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ قہر بھری نظروں سے شاہزیب کو دیکھ رہا تھا
“وہ دیکھوں جلا دل کسی کا ۔۔۔۔یہ پھوٹے ہیں کس کے ستارے ۔۔۔۔”شازل بھائی یہ گانا میں ٹھیک گا رہا ہوں نا ۔”۔۔۔شاہ زیب نے سر تال لگاتے ہوئے اسے مزید سلگانے کی کوشش کی تھی
“مجھے نہیں پتہ ۔۔اتنے پرانے گانے میں نہیں سنتا” ۔۔۔شازل نے جل کر جواب دیا
“اوہ تو میں نئے گا لیتا ہوں ۔۔۔۔
“پپو کانٹ ڈانس سالا ۔۔۔پپو ناچ نہیں سکتا ۔۔۔۔”یہ گانا ٹھیک ہے ” شاہزیب نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ہلا ہلا ڈانس کرتے ہوئے گانا گایا تھا
“تم چپ نہیں رہ سکتے ۔۔۔اپنا راگ کہیں اور جا کر الانپو”
“اووہو آپ کو برا بھی مناتے ہیں ۔۔۔ایم سوری ۔۔۔”شاہ زیب نے مصنوعی ڈرنے کی ایکٹنگ کی
“شازی کیا جل رہا ہے یار بدبو باہر تک آ رہی ہے ۔۔۔ “شاہزیب۔ نے جان بوجھ کر ٹکڑا دیا ۔۔۔نمی پسینہ پونچتی ہوئی باہر آئی ۔۔۔
“کچھ نہیں جل رہا شاہو بھائی پلاؤ جو دم دیا ہے “
“جلدی دم دو کہہ۔ بھوک سے میرا دم ہی نا نکل جائے “شاہزیب نے کہا
“شاہزیب”کمرے سے زمان صاحب نے شاہزیب کو پکارا تو وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔شازل نے موقع دیکھ کچن کا رخ کیا
جہاں شازمہ ہانڈی پر چمچہ ہلا رہی ساتھ ہی ساتھ سلاد بھی کاٹ رہی تھی۔۔۔۔نمیرہ ایک سائیڈ پر کباب فرائی کر رہی تھی ۔۔۔
“نمی تم باہر جاؤں ۔مجھے شازو سے بات کرنی ہے”شازل بھی عجلت میں تھا کہ کہیں شاہزیب یا کوئی اور باہر نا آجائیں شازمہ کی شاز،ل کی طرف پشت تھی بے ساختہ وہ پلٹی
“شازل آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جائیں ہہاں سے اللہ کا واسطہ ہے ۔۔۔کوئی کچن میں آگیا تو ۔۔۔۔”شازمہ نروس ہوئی
“نمی باہر جاؤں اور اگر کوئی کمرے سے نکلے تو مجھے بتا دینا ۔۔۔شازل نے نمیرہ سے کہا تووہ کچن سے نکل گئ ۔۔۔
“شازل ” شازمہ کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے
“ایک دم چپ ۔۔۔شازو میں کچھ بھی نہیں جانتا تم کوئی بہانہ کرو یا کچھ بھی کرو ۔۔۔۔تم میرے ساتھ ضرور جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔مجھے سب کے سامنے اپنی انسلٹ نہیں کروانی ۔۔۔۔ہر حال میں تم میرے ساتھ جاؤں گی ورنہ یاد رکھنا ۔۔۔میں بات تک نہیں کرو گا تم سے “شازل نے سخت اور دھیمے لہجے میں وان کیا
“میں کیسے آ سکتی ہوں ابو میری جان نکال دیں گئے “
“اگر تم نہیں آئی تو میں ۔۔۔۔۔”
“شازل بھائی کمرے کا دروازہ کھلا ہے “نمیرہ کی پکار پر شازل فورا کچن سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔شا،زمہ سر پے ہاتھ رکھے پریشان ہونے لگی ۔۔۔۔۔کیا کرے کیا نا کرے کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی
******……..
شام کے وقت رائمہ باسم کے کمرے کی چادر بچھا رہی تھی جب نیلوفر کمرے میں آکر دروازہ بند کرنے لگی ۔۔۔۔رائمہ اسکے اڑے ہوئے رنگ اور یوں دروازہ بند کرنے پر متحیر سی ہونے لگی ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے تمہیں اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو ۔۔۔”رائمہ نے نیلوفر کو ہونق بنی دیکھا تو پوچھا ۔۔۔
“کچھ نہیں۔ بس پھپو سے چھپ کر آئی ہوں ۔۔۔اس لئے ۔۔”وہ لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی یا اپنا پھولا ہوا سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
“اچھا بیٹھو ادھر رائمہ نے اسے بیڈ پر بیٹھایا نیلوفر نے اپنا ہاتھ ڈوپٹے میں لپیٹا ہوا تھا ۔۔۔جیسے ہاتھ میں کچھ کچھ۔ چھپایا ہو رائمہ دیکھ تو چکی تھی مگر نیلو فر سے پوچھا کچھ نہیں پوچھا پھر نیلو کچھ نارمل ہوئی تو ڈوپٹہ پیچھے کیا اپنے ہاتھ میں پکڑا زیور رائمہ کے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔۔ رائمہ حیرت سے وہ زیور دیکھنے لگی
“یہ رکھ لو رائمہ تمہارے کام آئیں گئے ۔۔۔۔اپنے بھائی سے کہنا کسی سے بھی قرضہ نا لے اسے بیچ کر نکاح کا انتظام کر لے ۔۔۔”نیلو فر نے عجلت میں اپنی بات مکمل کی
“نیلو ۔۔۔۔۔تم پاگل ہو گئ ہو ۔۔۔میں کیوں لوں یہ تم سے پکڑو سے ۔۔میں نہیں لوں گی ۔۔باسم مجھے نہیں چھوڑے گا “رائمہ نے فورا سے وہ زیور نیلوفر کو پکڑا دیا ۔۔۔
“بات کو سمجھو رائمہ ۔۔۔۔تمہیں اسوقت اسکی ضرورت ہے ۔۔۔۔”نیلو نے رسانیت سے سمجھانا چاہا
“ہر گز بھی نہیں ۔۔۔میں نہیں لونگی “رائمہ کا انداز حتمی تھا
“چلو قرض سمجھ کر رکھ لو ۔۔۔کر دینا واپس “باسم اسی وقت اپنے آفس سے واپس لوٹا تھا رابعہ بیگم کو سلام کر کے اپنے کمرے میں جانے لگا تو نیلوفر اور رائمہ کی باتوں پر کمرے سے باہر ہی ٹھٹک گیا انکی باتیں سننے لگا ۔۔۔۔۔کمرہ نا بند تھا نا لوک ہلکا سا کھلا ہوا تھا سامنے اسے نیلوفر ہی نظر آ رہی تھی بار بار اپنا زیور رائمہ کو دیتی ہوئی ۔۔۔۔۔باسم کمرے میں داخل ہوا
“آپ کا قرض واپس کون کرے گا ۔فری۔۔۔۔ رائمہ تو سسرال چلی جائے گی اور کیا خبر اس کا شوہر اسے یہ قرضہ واپس کرنے کے لئے پیسے دے یا نا دے “باسم کی آواز پر نیلوفر اور رائمہ دونوں نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جو اب دروازے سے اندر داخل ہو چکا تھا اور ان دونوں کی طرف ہی قدم بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔
“میں بھی یہی سمجھا رہی ہوں اس لڑکی کو ۔۔۔۔مگر یہ ہے کہ “
“رائمہ ۔۔۔۔رائمہ۔۔۔۔ باہر آ کر بات سنو میری “رابعہ بیگم کی پکار پر رائمہ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔نیلوفر نے زیور بیڈ پر رکھا اور کھڑی ہو کر کمرے سے باہر جانے لگی مگر باسم اسکے سامنے ایستاذہ کیے کھڑا تھا ۔۔۔
“مجھے باہر جانا ہے” ۔۔۔نیلو فر نے راستہ نا پا کر کچھ جھجک کر کہا
“تو جائیے روکا کس نے ہے ۔۔لیکن اپنا زیور لیکر جائیں ۔۔۔۔۔کیونکہ رائمہ تو اپنا قرض نہیں اتار سکتی ۔۔۔”باسم نے اپنی بات دہرائی
“آپ رکھ لیں ۔۔۔جب آپ کے پاس ہوں تو لوٹا دیجیے گا ۔۔۔”نیلو فر نے اپنی ہمت مجتمع کر کے باسم سے کہا
“ہمم اور اگر آپکی پھپو کو پتہ چل گیا تو وہ تو ایک نیا الزام لگا دیں گی آپ پر ۔۔کیا جواب دیں گئی انہیں”باسم ہاتھ باندھے اسے کہنے لگا
“وہ کچھ نہیں کہیں گی ۔۔۔یہ میری امی کا زیور ہے ۔۔۔اور اسکا علم نا بابا کو ہے نا پھپو کو ۔۔۔۔۔”نیلو فر مطمئن تھی
“مطلب آپکی امی کی نشانی ہے آپ کے پاس ۔۔۔میں تو اسکی قیمت کبھی بھی چکا نہیں پاؤں گا فری ۔۔۔”
“میرا نام نیلوفر ہے ” باسم کے فری کہنے پر وہ الجھی تھی
“ہمم میں جانتا ہوں ۔۔۔آپ کو میرا فری کہنا برا لگا ہے ” باسم نے مسکرا کر پوچھا
“نہیں ” نیلو فر نے برجستہ جواب دیا
“تو پھر ٹھیک ہے ۔۔۔۔”باسم نے آگے بڑھ کر زیور اٹھا کر نیلوفر کے ہاتھ میں رکھ دیا اور فورا سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا
“آپ کو میری فکر ہے ۔۔۔یہ جان کر
مجھے اچھا لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آپ کی فکر ہے “نیلو فر نروس ہوئی تھی باسم مسکرائے بنا نہیں رہ سکا نیلوفر کے چہرے پر صاف لکھا تھا کہ اسے فکر ہے
“ابھی تو رائمہ سے کہہ رہیں تھیں ۔۔۔میں کسی سے بھی قرض نا لو ۔۔۔۔پھر آپ کیوں مجھے اپنا مقروض کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔دیکھیں ہو سکتا ہے کہ میری آپ کے پیسوں پر نیت خراب ہو جائے ۔۔۔۔”باسم نے بات کو نیا رخ دیا
“جی “وہ متحیر ہوئی
“ہاں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں یہ زیور رکھ کر مکر جاؤں ۔۔۔پھر کیا کریں گی آپ ۔۔کیسے وصول کریں مجھ سے “باسم کو وہ حد سے زیادہ ڈری سہمی نروس سی لڑکی بہت اپنی اپنی لگنے لگی تھی
“آپ ایسے نہیں ہیں ۔۔۔مجھے معلوم ہے ۔۔۔۔اس لئے میں آپ پر اعتبار کر سکتی ہوں “”
“اچھا اتنا بھروسہ ہے مجھ پر ۔۔۔اور کیا کیا معلوم ہے میرے بارے میں “وہ مسکرایا تھا بات کو بڑھنا چاہتا تھا
“اور ۔۔۔۔۔اور کچھ نہیں ‘”نیلو فر نے بات ختم کرنا چاہی
“فری ۔۔۔آپ صرف میرے لئے دعا کیا کیجیے ۔۔۔مجھے۔صرف دعاؤں کی ضرورت ہے “
“وہ تو میں ہر نماز کے بعد روز آپکے لئے خاص طور پر کرتی ہوں “نیلو فر کے منہ سے پھسلا تھا ۔۔۔۔پھر خود ہی اپنی بات پر نادم سی ہونے لگی باسم بے اختیار ہسنے لگا ۔۔۔۔اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
“پھر اپنی دعاوں پر یقین رکھیے ۔۔۔۔ویسے مجھے تو خود کو خوش نصیب سمجھنا چاہیے کوئی روز میرے لئے دعائیں کرتا ہے وہ بھی خاص طور پر ۔۔۔۔”نیلوفر گھبرا کر کمرے سے نکلنے لگی
“فری “
“جی “
“مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔”نیلوفر نے پلٹ کر باسم کو دیکھا جو ہاتھ باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔دل پھر سے بے قابو ہونے لگا ڈھکنوں پر اس کا خریدار ہی کب تھا ۔۔۔۔کان کی لوئیں سرخ ہونے لگی وہ فورا سے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔صحن میں جاتے ہی سامنے پھپو سے سامنا ہو گیاوہ شاید ابھی ہی آئیں تھیں ۔۔۔۔
نیلوفر کا انہیں دیکھ کر رنگ ہی آڑ گیا تھا ۔۔۔۔
“لو تو تم یہاں بیٹھی ہو نیلو اور میں۔۔۔ میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈتی پھر رہی ہوں ۔۔۔۔”
“ہاں میں نے ہی بلوایا تھا میں نے کہا ذرا رائمہ کے ساتھ ہاتھ بٹا دے گی ۔۔۔۔”رابعہ بیگم اسکی پھپو کے تیز مزاج کو سمجھتی تھیں اس لئے فوراسے بات سنبھال لی
“ہاں ہاں کیوں نہیں “پھپو کی ٹیون فورا سے سیدھی ہو گئ ۔۔لیکن پھپو کی نظر جب نیلو فر کے ڈوپٹے میں لپٹے ہاتھ پر پڑی تو فورا سے بولیں ۔
“اری نیلو تیرے ہاتھ میں کیا ہے “نیلو فر کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے ۔۔۔۔
******………
شاہزیب گہری نیند میں تھا جب نمیرہ نے اسکے جھنجھوڑنا شروع کیا ۔۔۔۔۔
“شاہو بھائی اٹھو نا ۔۔۔دیر ہو جائے گی ۔۔۔ابھی مجھے بھی کالج چھوڑنا ہے ۔۔۔” نمیرہ یونیفارم پہنے تیار ہو کر شاہزیب کو اٹھا رہی تھی شاہزیب نے بامشکل آنکھیں کھولیں ڈراوزر اور بنیان پہنے وہ بیڈ کے ایک کنارے پر بے ترتیب سو رہا تھا اس نے تکیہ دوبارہ سے سیدھا کیا جو آدھا بیڈ سے نیچے لٹک رہا تھا،اور کروٹ بدل کر سونے لگا
“نمیرہ اب عاصم کوجگا رہی تھی ۔۔۔عاصم اور شاہزیب کاایک کی بیڈ تھا اور لحاف کمبل بھی ایک ہی لیتے تھے ۔۔۔۔بلکہ شاہزیب تو کم ہی اپنے اوپر کچھ اوڑھتا تھا ۔۔۔لیکن عاصم کو سردی کچھ زیادہ محسوس ہوتی تھی اس لئے گرمیوں میں بھی لحاف تان کر ہی سوتا تھا ۔۔۔ ۔۔
“عاصم اٹھو بھی ۔۔۔”نمیرہ نے عاصم کو جھنجھوڑا ۔۔۔ور کمرے کے پردے بھی ہٹا دیے ۔عاصم نے نیند میں کروٹ بدلی اور ہاتھ بے اختیار شاہزیب کی گال پر بڑی زور سے پڑا وہ ہڑبڑا کر اٹھا تواسوقت تک عاصم صاحب اپنی ٹانگ اس کے اوپر رکھے دوبارہ سے سو چکے تھے ۔۔۔۔
“ابے گدھے پیچھے ہٹ ۔۔۔سانڈ کی طرح میرے اوپر کیوں۔ چڑھ رہا ہے ۔۔۔”شاہزیب نے غصے سے اسے پیچھے دھکیلا ۔۔۔۔عاصم اٹھ کر بیٹھ گیا شاہزیب کو گھورتے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔
“کیا ہے شاہو بھائی ۔۔۔یہ میرا پیار کرنے کا انداز ہے ۔۔۔۔”عاصم نے لاڈ سے شاہزیب کا گال پکڑ کر کھینچا
“تیرا پیار ویسے مجھے پوری رات سونے نہیں دیتا ۔۔۔۔آدھی رات مجھے تجھے پیچھے دھکیلنے میں گزرتی ہے ۔۔۔۔موٹے چشماٹو رات کو تیرا بستر میں وہ واش روم کے سامنے لگاؤں گا ۔۔۔۔”شاہ غصے سے دانت کچکچا کر بولا اور دوبارہ لیٹ گیا ۔۔۔
“میں پھر سے اوپر آکر آپ کے ساتھ جپھی ڈال کر سوں گا ۔۔۔۔اس سے پیار بڑھتا ہے ۔۔۔ہمیشہ آپکے ساتھ آپکے پہلو میں سویا کرو گا “عاصم نے شاہزیب کو آنکھ دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“تیرے پیار کو سہنے کا میرا حوصلہ نہیں تو دور ہی رہا کر مجھ سے ” شاہزیب نے چڑ کر کہا
عاصم اٹھ کر ہنستے ہوئے واش روم چلا گیا
“شاہو بھابی اٹھو ۔۔۔آدھا گھنٹہ آپ نے وش روم لگانا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔میں کب سے تیار ہو کر بیٹھی رہتی ہوں” روز نمیرہ کو شاہزیب ہی کالج چھوڑتا ہوااپنی یونیورسٹی جاتا تھا
“نمی دماغ مت چاٹو ۔۔۔میں آج ویسے بھی یونی نہیں جا رہا ۔۔۔بس میں جاؤں اپنے کالج یا ابو کی وسپا پے ۔۔۔۔پردے سیدھے کرو واپس سے ساری روشنی آنکھوں میں پڑ رہی ہے پہلے اس موٹے چشماٹو نے رات۔ بھر سونے نہیں دیا ۔۔۔” شاہزیب نے کوفت بھرے لہجے میں کہا نمیرہ نے ایک غصیلی نگاہ بھائی ہر ڈالی اور آٹھ کر پردے سیدھے کرنے چلی گئ جانتی تھی کہ اب وہ نہیں اٹھنے والا مگر جیسے ہی پردے برابر کرنے لگی نیچے نظر پڑی تو پوری کی پوری آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔۔نیچے انکی بلڈنگ کے باہر نیناں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔وہی بے نیاز سا حلیہ لئے پیٹ کے ساتھ شورٹ شرٹ ۔۔۔ایک اونچی پونی اور بلیک گلاسز پہنے چہرے کا رخ اس کھڑکی کی طرف ہی تھا جہاں نمیرا کھڑی تھی ۔۔۔۔نمیرا کو دیکھ کر نیناں نے ہاتھ ہلایا ۔۔۔نمیرہ نے فورا سے پردے برابر کر دیے اور شاہزیب کے پاس آکر اسے جھنجھوڑنے لگی
“شاہو بھائی وہ لڑکی پھر سے آ گئ “
“کون سی لڑکی ۔۔۔نمی سونے دو یار”نیناں تو شاہزیب کے ذہن میں بھی نہیں تھی
“ارے وہی مال والی ۔۔۔۔نیناں “نمیرہ کی بدحواسی پر شاہزیب نے ایک آنکھ کھولی ۔۔۔دماغ میں نیناں کے نام کی گھنٹی بجی ۔۔۔۔۔
“نیناں “وہ نیند ۔یں بڑبڑایا “پھر دماغ کی بتی روشن ہوئی ۔۔۔ہڑبونگ طریقے سے اٹھ بیٹھا ۔۔۔
“نیناں ۔۔۔۔نیناں “اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آ سکتی ہے
“ہاں نیناں ۔۔۔آپ تو کہہ رہے تھے کہ قصہ ختم کر دیا ہے “نمیرہ کی بات اس نے سنی ہی نہیں تھی دماغ میں اب بھی نیناں نام کی گھٹیاں بج رہیں تھیں
