One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 2)

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 2)

One Wheeling by Umme Hani

نیناں کے پہلے حواس معطل تھے عاتقہ بیگم کو بد حواس دیکھ کر وہ مزید گھبرا گئ تھی

“اس لڑکے نے تو ایسی افتاد ڈالی ہے دس منٹ میں کہ کیا بتاؤں میں میری سوج بوجھ ہی ختم کر دی ہے “عاتقہ بیگم بوکھلائی سی منہ میں بڑبڑاتی ہوئے نینان کے پاس آئیں ۔۔۔

ڈوپٹہ سر پر اوڑھو بیٹا “عاتقہ بیگم نے نیناں سے کہا

“نیناں کی پہلے آدھی جان نکلی ہوئی تھی عاتقہ بیگم کی بات پر وہ گھبرا سی گی تھی

“قاری صاحب اندر آرہے ہیں نکاح ہے تمہارا ۔۔۔۔اور نمیرہ کا “

“میرا “نینان کی حیرت آنکھیں پھٹیں تھیں ۔۔۔۔”

“ہاں بھئ شاہزیب کی تو کوئی کل سیدھی نہیں ہے بھلا یہ کوئی موقع تھا ۔۔۔ یوں نکاح کرنے کا ۔۔۔ بہن کی شادی تو سات خیریت سے ہونے دیتا ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔نا جانے کس بات کی جلدی رہتی ہے اس لڑکے کو سارے کام اس نے آج ہی کرنے ہی۔ جیسے “عاتقہ بیگم نے سن بیٹھی نیناں کے سر پر خود ڈوپٹہ دیا ۔۔۔قاری صاحب اندر داخل ہوئے نینان غائب دماغ سے بیٹھی رہی بس کسی ٹرانس کی طرح ایجاب و قبول کرتی رہی۔۔۔۔اسکے بعد نکاح نامے پر بھی سائن کر دیے ۔۔۔۔ اس کے بعد نمیرہ کا نکاح شروع ہو چکا تھا گھڑی کی طرف دیکھا تو پندرہ منٹ گزر چکے تھے ۔۔۔

تو یہ تھا شاہزیب کا فیصلہ ۔۔۔۔پندرہ منٹ لگے تھے اسے نیناں بختیار سے نیناں شاہزیب بنتے ہوئے ۔۔۔۔۔

کچھ دیر میں نیناں اور نمی کو نیچے لے جایا گیا ۔۔۔۔ نمی تو اسٹیج پر خرم کے ساتھ بیٹھ گئ تھی لیکن نیناں شازمہ کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ گئ کچھ دیر بعد ہی شازمہ اٹھ کر نمیرہ کے پاس چلی گئ ۔۔۔۔بختیار صاحب اسٹاپ چہرہ لیے ایسے بیٹھے تھے جیسے سب کچھ ہار بیٹھے ہوں ۔۔۔۔

عاصم آ کر نیناں کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔کچھ نظریں چرا رہا تھا

“عاصم تم نے چیٹنگ کی میرے ساتھ فون انہیں کیوں دیا تھا “نیناں نے خفگی دیکھائی

“نہیں آپی چیٹنگ نہیں کی مجھے کیا پتہ تھا شاہوں بھائی یوں کریں گئے ۔۔۔ایم سوری “

“اٹس او کے “

“نیناں آپی میرے ساتھ اوپر چلیں گھر میں “

“کیوں “

“چلیں تو مجھے کچھ دیکھانا ہے “عاصم نے نیناں کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ اوپر اپنے فلیٹ میں لے گیا ۔۔۔۔۔ گھر اس وقت خالی تھا سب مہمان نیچے تھے ۔۔۔۔۔ عاصم اسے اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔جہاں شاہزیب پہلے سے موجود تھا

۔۔۔شاہزیب کو دیکھ کر نیناں کہ جان پر بنی تھی ۔۔۔۔

“شاہو بھائی “عاصم نے شاہزیب کو پکارا

“ہاں ٹھیک ہے اب جاؤ “شاہزیب نے لا پروا انداز سے عاصم سے کہا ‘

نیناں نے حیرت سے عاصم کو دیکھا

“عاصم “آواز حلق سے با مشکل نکلی

“ایم سوری آپی ۔۔۔۔وہ میں “

“یہ معافی تلافی بعد میں کرتے رہنا ۔۔۔۔ ابھی جاؤں یہاں سے ۔۔۔اور سنو مین دروازے پر کھڑے رہنا اگر کوئی آئے تو بتا دینا مجھے ۔۔۔۔۔۔۔”شاہزیب اب تک انکے قریب پہنچ چکا تھا عاصم واپس پلٹ گیا ۔۔۔۔۔ نیناں نے شاہزیب کی طرف ڈرتے ہوئے دیکھا ۔۔۔پھر واپسی کے لئے پلٹ گئ

“نیناں تمہیں جانے کی اجازت نہیں ہے “شاہزیب کی با رعب پکار پر اس کے قدم رکے تھے

“وہ پوپس نیچے انتظار کر رہے ہوں گئے میرا “نیناں نے بہانہ بنایا

“اس وقت پوپس سے ذیادہ میں حق رکھتا ہوں۔ تم پر ۔۔۔میرا حکم ذیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔۔۔اس لئے شرافت سے میری بات سن لو ورنہ جیسے نکاح کیا ہے رخصتی بھی ابھی کروا لوں گا ۔۔۔پندرہ منٹ کے اندر”نیناں خاموش کھڑی رہی ۔۔۔جانتی تھی کے مخالف کھڑے شخص کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے ۔۔۔اپنی دھن کا وہ کتنا پکا تھا اسکی آخری حد وہ کچھ دیر پہلے دیکھ چکی تھی

“ادھر دیکھوں میری طرف ” نیناں کی شاہزیب کی طرف پشت تھی “نیناں نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

“نیناں “اس بار لہجے میں میٹھاس تھی محبت کی چاشنی تھی ۔ نیناں نے پلٹ کر اپنا رخ شاہزیب کی جانب موڑ لیا ۔۔۔مگر بولی کچھ نہیں

“مسز نیناں شاہزیب زمان ۔۔۔۔۔ کیسا لگا میرا فیصلہ ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے دو قدم بڑھا کر فاصلہ کچھ کم کیا اور چہرہ جھکا کر نینان کے چہرے کے برابر کر کے اسکی آنکھوں۔میں اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے استزائیہ انداز میں جتایا پھر کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر ہسنے لگا ۔۔۔۔ اسے یوں ہنستا دیکھ کر نیناں کی پیشانی کے بل مزید گہرے ہوئے تھے ۔۔۔۔اسکی جان پر بنی تھی اور وہ ہنس رہا تھا بلکہ بے تحاشہ ہنس رہا تھا ۔۔۔۔

“شاہزیب ۔۔۔””میں”” یا “”ویلنگ “”۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے ہنستے ہوئے اسکی نقل اتاری ۔۔۔۔

نیناں سلگ کر رہ گئ ۔۔۔۔ دل جلے انداز سے شاہزیب کو دیکھا

“بہت دھمکیاں دینی آتی ہیں تمہیں ۔۔۔۔۔ میں فون نہیں کرو گی ۔۔۔۔آپ کی انگوٹھی میرے پاس امانت ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ کے فیصلے کا انتظار رہے گا ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔اور کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔۔

Congratulations on your weeling mister shah zeab”

شاہزیب نے ایک قدم اور بڑھایا

Mrs shah zeab know I congrats you for your weeding

“شاہزیب نے اسکے جھکے ہوئے چہرے کو ہاتھ سے اوپر اٹھا کر کہا ۔۔۔۔

“نیناں جی آج تو شاہزیب آپ کو ایسی ڈور سے باندھ چکا ہے کہ دونوں جہان میں اب تمہیں مجھ سے کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ پکا تمہیں اپنے نام کر چکا ہوں میری مینا ۔۔۔۔۔ اب چاہوں تو اتار پھینکو انگوٹھی مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔ ” نیناں نے اپنے چہرے سے اس ہاتھ پیچھے کیا

“شاہزیب نے جیب سے میں ہاتھ ڈال ایک سونے کی چین۔ نکالی تھی ۔۔۔۔نیناں نے اسکے ہاتھ میں چین دیکھی تو دو قدم پیچھے ہٹ گئ

“میں خود پہن لوں گی “

“جی نہیں یہ تو میں خود پہناؤں گا تمہیں ۔۔۔۔ “سونے کی چین میں جھولتے ہوئے لوکٹ پر شاہزیب کا نام لکھا تھا ۔۔۔۔شاہزیب ۔نے آگے بڑھ کر وہ چین اسکے گلے میں پہنا دی چین خاصی بڑی تھی اس لئے آرام سے اسکے سر سے ہوتے ھوئے اس کے گلے میں آ چکی تھی

“میری طرف سے نکاح کا تحفہ ہے۔۔۔۔نیناں اس چین پر صرف میرا نام لکھا ہے ۔۔۔۔بلکل ویسے ہی جیسے تمہارے دل پر لکھا ہے ۔۔۔۔ اسے میں ہمیشہ تمہارے گلے دیکھنا چاہو گا ۔۔۔۔۔ یہ میری خواہش ہے “شاہزیب نے محبت بھرے انداز سے کہا

“اور میری خواہش “نیناں کے نیناں نے سوالیہ انداز سے شاہزیب کو دیکھا

“ویلنگ کے علاؤہ بولو نا میری مینا کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔ہر چیز خرید کے تمہارے قدموں میں نچھاور کر دونگا بڑا سا بنگلہ گاڑی نوکر چاکر جو تم چاہو ۔۔۔۔ “اس کے بعد شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ پکڑ کر گانا شروع کر دیا

(تیرے گھر کے سامنے ایک محل بناؤ گا

رانا صاحب کاسر سب کے سامنے جھکاؤں گا

یہ جو جھوٹی شان پر اکڑتے ہیں۔۔۔ ابا تمہارے

یہ سب انکے قدموں میں پھنک کے دیکھاوں گا

اسٹیٹس کی اونچی ۔۔۔اونچی دیواروں کو

سب گرا کے تمہیں سنگ لے جاؤں گا

تیرے گھر کے سامنے ایک محل بناؤں گا )

شاہزیب لہک لہک کر نیناں کو سنا رہا تھا نیناں چپ چاپ سن رہی تھی ۔۔۔۔شاہزیب کی آنکھوں میں اس وقت کچھ اور ہی تھا نا محبت تھی نا غصہ نا خفگی شکایت ۔۔۔نا ہی محبت پا لینے کی چمک ۔۔۔۔کچھ اور تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ جو نیناں سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔یک دم ہی بجلی کی طرح نیناں کے دماغ کی گھنٹی بجی تھی وہ جس طرح سے گانے کے بولو میں بختیار صاحب کا کوئی پوشیدہ پیغام اسے دے رہا تھا

“شاہزیب دولت چاہیے آپکو؟ ” نیناں بے یقینی سے پوچھنے لگی

“ہاں بے تحاشہ ۔۔۔۔بے تحاشہ دولت چاہیے مجھے ۔۔۔۔۔ تمہارے باپ سے بڑا بنگلہ چاہیے ۔۔۔۔ تمہارے باپ سے مہنگی گاڑی چاہیے نیناں ۔۔۔میرے شیش محل میں ہر چیز رانا ہاؤس سے اعلی ہو گی دیکھ لینا تم ۔۔۔۔۔جو دولت تمہارے باپ دادا نے برسوں میں کمائی ہے شاہزیب تمہیں چند سالوں

میں کما کر دیکھائے گا ۔۔۔۔ “شاہزیب کی باتوں نے نیناں کے ہوش اڑا دیے تھے۔۔۔۔۔ بات کچھ اور تھی اور مسلہ شوق اور جنون کا نہیں تھا مسلہ انا کا تھا

“اچھا تو بات شوق اور پیشن کی نہیں تھی ۔۔۔۔انا کی تھی ۔۔۔۔ کیا کہا ہے پوپس نے آپ سے ۔۔۔”نیناں اب بات کی نویت کو سمجھ رہی تھی

“اپنے باپ سے پوچھ لینا جا کر نیناں۔۔۔۔ سب سوال جواب مجھ سے مت کیا کرو “وہ اکھڑ کر جواب دے رہا تھا

“مجھے معلوم ہوتا تو حق مہر میں نو ویلنگ لکھوا دیتی “نیناں نے تاسف کا اظہار کیا

“ٹھیکا نہیں لیا ہوا شاہو نے کہ تم باپ بیٹی دونوں کی ڈیمانڈز پوری کرتا رہے ۔۔۔۔تمہارا باپ ہے نا تمہارا حق مہر لکھوانے کے لئے تمہیں زحمت اٹھانے کی ضرورت کیا ہے بہت سستی قیمت لگائی ہے تمہارے باپ نے تمہاری ۔۔۔۔ذرا میرے دل سے پوچھ کر تو دیکھتا کہ کتنی انمول ہو تم ۔۔ ۔۔۔۔ بس چند سال کی بات ہے دیکھوں کیا کرتا ہوں رانا بختیار کے ساتھ ۔۔۔۔ میری غیرت کو للکارا ہے اس شخص نے بہت زعم ہے نا اسے اپنی دولت پر ۔۔۔۔اس سے ذیادہ کما کر دیکھاوں گا انہیں ۔۔۔۔”وہ ذہنی طور پر کہیں اور تھا ۔۔۔۔کچھ اور چل رہا تھا اسکے دل ودماغ میں

“شاہزیب اس انا کی جنگ میں میرا کیا قصور ہے ۔۔۔۔میں کہاں ہوں آپ کی نظر میں “نیناں اب رونے لگی تھی شاہزیب کے غصے کا بڑھتا ہوا پارہ بھی نیچے آنے لگا ۔۔۔اس میں نیناں کا تو واقع کوئی قصور نہیں تھا

“تم یہاں ہو۔۔۔۔شاہو کے دل میں اور ہمیشہ یہیں رہو گی تمہیں کبھی کچھ نہیں کہوں گا “شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ تھامے اپنے دل کے مقام پر رکھا

“شاہزیب مجھے بتائیں کیا بات ہوئی تھی پوپس سے ۔۔۔ایسا کیا کہا تھا انہوں نے ۔۔۔۔”

“وہ میں نہیں بتاؤں گا ۔۔۔۔پوچھ لینا خود ان سے ۔۔۔۔ “

“پوچھ لونگی بات بھی کر لوں گی ۔۔۔۔وہ ہوتے کون ہیں میرے اور آپ کے بیچ میں آنے والے ۔۔۔۔ شاہزیب میں نے عشق کیا ہے آپ سے ۔۔ ۔۔۔مجھے دولت نہیں چاہیے ۔۔۔۔صرف آپکا ساتھ چاہیے “

یہ کہہ کر بے اختیار ہی وہ شاہزب کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی شاہزیب اسکی اس افتاد پر گڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔فورا سے اسے خود سے الگ کیا تھا

“یہ کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔نیناں جاؤں اب یہاں سے “وہ کئ قدم اس سے پیچھے ہٹا تھا

” کیا غلط کیا ہے میں نے ۔۔۔۔ پہلے مجھ سے وعدہ کریں کہ ” شاہزیب نے نیناں کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوک دی

“ایسا کوئی وعدہ نہیں کروں گا جسے نبھا نا سکوں ۔۔۔کہہ دینا رانا صاحب سے رخصتی کی تیاری کریں ایک مہنے بعد تمہارے حق مہر کے پیسے انکے منہ پر مار کر تمہیں لے جاؤں گا ۔۔۔۔۔ ایک دن کا بھی انتظار نہیں کرونگا بول دینا ان سے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر شاہزیب کھڑی کے پاس چلا گیا جھٹکے سے پردہ پیچھے کیا کھڑی کھول دی ۔۔۔۔اسوقت باہر کی ٹھنڈی ہوا بھی اسکے اندر کی دھکتی آگ کو کم کرنے کے لئے نا کافی تھی جو بختیار صاحب کی باتوں سے اندر دھک رہی تھی نیناں قدم اٹھاتی ہوئی اسکے پاس آ کر کھڑی ہو گئ

“شاہزیب کیا حق مہر ہے میرا ” آنکھوں میں کئ سوال تھے شکوے تھے کہ مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو ۔۔۔۔ میرا کیا جرم ہے ۔۔۔۔لیکن شاہزیب نے اس بار اسکی آنکھوں میں دیکھا ہی نہیں بس کھڑی سے باہر دیکھتا رہا

“جاؤ۔ یہاں سے نیناں ۔۔۔۔ میراسلیکشن ہو چکا ہے چند دن میں چلا جاؤں گا یہاں سے ۔۔۔۔ اور واپس آتے ہی رخصتی لے لوں گا ۔۔۔۔”

“شاہزیب آپ “

“نو مور کوسچنز جاؤں یہاں سے “شاہزیب کے سخت لہجے پر وہ روتے ہوئے وہاں سے چلی گئ تھی ۔۔۔۔نیچے کھانا لگ چکا تھا مگر نیناں نے ایک نوالہ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔۔۔ کھانے کے فوری بعد ہی رانا صاحب نے زمان صاحب سے اجازت مانگی تھی ۔۔۔

پورے راستے بختیار صاحب بھی چپ بیٹھے رہے اندازہ تو انہیں بھی نہیں تھا کہ بیٹی کا نکاح کرنے پر مجبور ہو جائیں گئے۔۔۔۔۔

شاہزیب نے نیچے اترتے ہی باہر لگے ٹینٹ کی طرف رخ کیا تھا ۔۔۔۔۔ نیناں کے بے لچک انداز نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ۔اس لئے دیر نہیں کرنا چاہتا تھا یہ نہیں جانتا تھا کہ انجام کیا ہو گا ۔۔۔لیکن اس بات کا یقین ضرور تھا کہ کر ضرور لے گا ۔۔۔۔۔سیدھا سامنے رکھے صوفے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔ بارات آ چکی تھی ۔۔۔۔ خرم کے ساتھ مولوی صاحب بیٹھے نکاح نامہ بھر رہے تھے زمان صاحب اور خرم کے ابا بھی وہیں موجود تھے ۔۔۔بختیار صاحب بھی گو کہ وہیں بیٹھے تھے مگر ان کے لئے یہ سب کچھ بے معنی سا تھا وہ تو بس کوٹ کے نیچے پہنی شرٹ کے اوپر کے بٹن کھولے کوفت میں مبتلہ پنکھے کی ہوا لے رہے تھے ۔۔۔شاہزیب سیدھا مولوی صاحب کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا

“قاری صاحب ایک اور نکاح نامہ بھی فل کریں “شاہزیب کی غیر متوقع بات پر سب ہی حیرت سے اسے دیکھنے لگے ۔۔۔۔لیکن سب سے زور کا جھٹکا بختیار صاحب کو لگا تھا ۔۔۔جو اس خطبی لڑکے سے کچھ بھی توقع رکھ سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

“شاہزیب دوسرا نکاح نامہ کس کا “زمان صاحب نے حیرت سے پوچھا

“میرا ” شاہزیب کے جواب پر بختیار صاحب یکلخت ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے

“کیا مطلب میری اجازت کے بغیر ہی تم کیسے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتے ہو ۔۔۔”بختیار صاحب کے تو تلوں پر لگی اور سر پر جا کر بجھنے کے بجائے بھڑکی تھی

“انکار کا جواز تو کوئی نہیں ہے ۔آپکے پاس رانا صاحب۔۔منگنی آپ کی رضامندی سے ہی ہوئی ہے ۔۔شادی بھی نیناں کی مجھی سے ہونی ہے چاہے جب بھی ہو ۔۔۔۔ یا آپ کا ارادہ بدلنے والا ہے ؟”

شاہزیب نے انہیں سوجھنے نہیں دیا تھا

“نن نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔تم ہی کرنی ہے لیکن اتنی جلدی نکاح ‘”بختیار صاحب گڑبڑا گئے تھے

“‘کوئی فرق نہیں پڑتا ….میں کون سا رخصتی مانگ رہا ہوں جو آپ اتنا گھبرا رہے ہیں “

“,ہاں ویسے حرج تو کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ” خرم کے والد نے بھی شاہ زیب کی بات کی تائید کی خرم چپ چاپ شاہزیب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“جیدی صاحب بھی وہاں پہنچ گئے

“ارے کیوں رش ڈال رکھا ہے ۔۔۔۔ “

“کچھ نہیں بھائی صاحب ۔۔۔بس شاہزیب نکاح کرنا چاہتا ہے وہ بھی ابھی “زمان صاحب نے بڑے بھائی مطلع کیا

“یعنی کے حد ہی ہوگئی ہے ۔۔۔لڑکا چاہتا ہے تو کر دیں۔۔۔۔اتنا بڑا مسلہ تو نہیں ہے “جیدی صاحب کو تو بھتجے سے ویسے بھی شروع سے پیار تھا ۔۔۔۔

بختیار صاحب تو بنا پانی مچھلی کی طرح مچل رہے تھے ۔۔۔۔۔

مگر انکار نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔وہ بری طرح سے انہیں پھنسا چکا تھا ۔۔۔

“بختیار صاحب آپ اپنی رائے دیں آپ کی بات کو سر آنکھوں پر رکھا جائے گا “زمان صاحب نے پھر بھی بختیار صاحب کو اہمیت دی

“بہت سوچ کر جواب دیجیے گا رانا صاحب ۔۔۔۔ آپ کا ہر قدم نیناں کی خوشی کے لئے اٹھنا چاہیے ۔۔۔۔اور اسکی خوشی آپ اچھی طرح جانتے ہیں ” شاہزیب نے تنبہی انداز سے انہیں بہت کچھ یاد کرا دیا تھا

بختیار صاحب دوبارہ صوفے پر ڈھے گئے تھے ۔۔۔۔

“مجھے اعتراض نہیں بھریں۔ نکاح نامہ “بختیار صاحب ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولے

بات جب حق مہر کی آئی تو نکاح خواہ نے بختیار صاحب سے پوچھا

“حق مہر کیا لکھوں

“ایک کروڑ لکھیں “بختیار صاحب کا کہنا تھا کہ نکاح خواہ سمیت سب کی نظریں بے ساختہ رانا بختیار پر اٹھیں تھیں

“ایک کروووووڑ ۔۔۔۔۔یعنی کے حد ہہہہہہہی ہو گئ ہے جیدی صاحب کی حیرت سے آنکھیں پھٹیں تھیں شازل کا تو سانس ہی تھم گیا تھا ۔۔۔۔ سیفی جمی خرم سب ہی حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔لیکن شاہزیب مطمئن کھڑا تھا

“بختیار صاحب ایک کروڑ حق مہر “زمان صاحب کی کنپٹیوں سے پسینہ بہنے لگا تھا شاہزیب نے کن۔ انکھیوں سے بختیار صاحب کے گھمنڈی روپ کو دیکھا تھا

“جی ایک کروڑ ۔۔۔موجلہ لکھ دیں ۔۔میں صرف اپنی بیٹی کی سیکورٹی چاہتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ یہ ساری زندگی اتنا حق ۔مہر نہیں دے سکتا ۔”۔۔۔ انداز مدافعانہ تھا ان کے معنی خیز لہجے سے شاہزیب کو ہتھک کی بو آ رہی تھی

” لکھیں قاری صاحب ایک کروڑ لکھیں ۔۔۔لیکن غیر موجلہ “

شاہزیب کی اس بات پر بختیار صاحب کی مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔۔۔ لیکن زمان صاحب تذبذب سے ہو کر شاہزیب کو دیکھنے لگے

“لکھ دیں میری بیٹی بہت بڑا دل رکھتی ہے ۔۔۔۔ اسکی خاطر جان دے سکتی ہے تو اسکے کہنے پر حق مہر بھی معاف کر دے گی ” وہی نخوت بھرا لہجہ وہ متکبرانہ سوچ تھی اس شخص کی ۔۔۔۔۔۔

حق مہر لکھ دیا گیا تھا ۔۔۔۔ نکاح کے پیپر اوپر گئے سائن ہو کر نیچے بھی آ گئے شاہزیب خرم کے گلے ملا تھا ۔۔۔۔ زمان صاحب سے ملنے کے بعد ہی بختیار صاحب نے زبردستی شاہزیب کو گلے لگایا تھا

” مبارک ہو تمہیں آفر آل تم اب ایک شہر کے جانے مانے بزنس مین کے داماد ہو اس وقت خود ہر جتنا رشک کرو کم ہے ۔۔۔۔ ” بختیار نے اپنی بھڑاک اس کے کانوں میں انڈلنی چاہی

“آپ کو بھی مبارک ہو رانا صاحب ۔۔۔ اس وقت آپ ایک سڑک چھاپ ۔۔۔آوارہ گر شخص کے سسر بن چکے ہیں ۔۔۔۔۔ رانا بختیار راجپوت آج ایک دوٹکے لڑکے کے سامنے جھک گیا ہے ۔۔۔۔ کیسا محسوس ہو رہا ہے رانا صاحب “دل جلانے کا موقع تو شاہزیب نے بھی نہیں جانے دیا تھا ۔۔۔۔۔

ان سے الگ ہو کر اس نے بھی مسکرا کر کہا تھا

******۔۔۔۔۔۔۔

نمی رخصتی کے وقت روئے جا رہی تھی ۔۔۔ لیکن باقی کے سب اسکی باتوں پر مسکرا رہے تھے

“امی میں کیسے رہوں گی آپکے بغیر۔۔۔۔میرا دل نہیں لگے گا ۔۔۔۔ اتنی دور آپ مجھے کیسے بھیج سکتی ہیں “عاتقہ بیگم کو نا تو اسکے رونے کی وجہ سمجھ آ رہی تھی ۔۔۔ نا ہی رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔

“مشکل سے اٹھ قدم پر تمہارا میکا ہے نمی ۔۔۔۔آٹھ قدم اتنی دور نہیں ہوتے “خرم نے اسے قریب ہو کر سرگوشی کی تو وہ بہتے ہوئے آنسوں کے ساتھ خرم کو گھورنے لگی

“بس بھی کرو نمی ۔۔۔۔ سامنے والا گیٹ ہی تو ہے ۔۔۔بیچ میں مشکل سے آٹھ فٹ کی ایک گلی ہی آتی ہے ۔۔۔۔۔جب دل چاہے آ جایا کرنا کیوں سارے میک اپ کا ستیاناس کر رہی ہو “شازمہ نے اسے گلے لگاتے ہوئے سرزش کی ۔۔۔۔فورا سے نمیرہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔فٹا فٹ سے پرس سے ٹشو نکالا اور آنسوں صاف کرنے لگی ۔۔۔۔

شاہزیب خرم کے گلے ملا تھا

“میری بہن کا بہت خیال رکھنا خرم ننھا سا دل ہے اسکا ۔۔۔۔ ٹوٹنا نہیں چاہیے “شاہزیب نے خرم کو سینے بینچتے ہوئے کہا

“وہ تو میں رکھ لوں گا لیکن میرا خیال کون رکھے گا ۔۔۔۔کون بچائے گا مجھے تمہاری بہن کے طعنوں سے “خرم نے شاہزیب کے کان میں سر گوشی کی

“بکو مت ۔۔۔۔سن لینا چپ چاپ کیا فرق پڑتا ہے “

“ہاں تم تو یہی کہو گئے “

شاہزیب سے بغل گیر ہونے کے بعد وہ پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔

نمیرہ بھی رخصت ہو کر خرم کے گھر جا چکی تھی مہمان بھی واپس جا چکے تھے باسم کی کال پر کال آ رہی تھی ۔۔۔شاہزیب نے فون اٹھایا

“آ رہا ہوں میرے باپ ۔۔۔۔ ابھی فارغ ہوا ہوں

“چلو پھر جلدی پہنچو”باسم نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔۔

*****……

رامس اور رائمہ کی رسم شروع ہو چکی تھی ۔۔۔رائمہ کی نندوں نے پھولوں کا زیور اسے پہنایا تو باسم کے ساتھ کھڑی رباب نے اپنے سر پر ہاتھ مارا

“باسم بھائی ہم نے تو نیلو آپی کے لئے پھولوں کا زیور لیا ہی نہیں “

“رباب اب یاد آ رہا ہے تمہیں ۔۔۔۔اب چھوڑو یہ سب ۔۔ “,

“نہیں نا باسم بھائی لے آئیں نا مجھے بھی آج گجرے پہننے ہیں ۔۔۔آپ نے وعدہ کیا تھا لا کر دیں گئے ۔۔۔۔۔”رباب نے یاد دلایا ۔۔۔۔

“اچھا بابا لا دیتا ہوں موڈ ٹھیک کرو اپنا “باسم نے رباب کے چہرے پر خفگی دیکھ کر کہا

رامس کی رسم مہندی ہو چکی تھی اس لئے ۔۔۔۔وہ بھی باسم کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا

“چلو بھئ دولہا میاں ۔۔۔۔تمہاری رسم ہو گئ اب میری باقی ہے “

“ہاں۔ تو بھی جاؤں تم بھی ۔۔۔”

“ابھی نہیں شاہزیب کا انتظار ہے ۔۔۔وہ آ جائے تو پھر شروع کریں گئے ۔۔۔ابھی تو تم چلو میرے ساتھ قریب ہی کلیوں اور پھولوں کی دوکان ہے میں بھی ذرا اپنی ہونے والی بیگم کے لئے پھولوں کا زیور لے آؤں اور رباب کے کے لئے گجرے بھی لانے ہیں ۔۔۔۔؟

“اب ۔۔۔اب کہاں وقت ہے باسم ۔۔۔۔ “رامس نے گھڑی دیکھی

“نہیں رامس رباب کو ناراض نہیں کر سکتا چلو نا ویسے بھی شاہزیب کو پہنچنے میں دس منٹ ہیں ۔۔۔۔”

باسم اور رامس پھولوں کا زیور خریدنے چلے گئے

******”””””

نمیرہ حجلہ عروسی میں بیٹھی تھی کمرہ پھولوں سے سجا ہوا تھا اور بہت خوبصورتی سے سجا ہوا تھا ۔۔۔۔۔کمرہ کھلنے پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔اور فورا سے ڈوپٹہ کھنچ کر گھونگھٹ بھی نکال لیا خرم اسکی اس حرکت کو دیکھ کر ہسنے لگا دروازہ بند کیا اور چلتا ہوا اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔نمیرہ کو خرم کا ہسنا تپا گیا تھا اگر اس نے ذرا سا شرمانے کی کوشش کر ہی لی تھی تو یہ کیا کہ وہ مزاق میں ہسنے ہی لگ جائے ۔۔۔وہ پورے سر سے دوپٹہ اتار چکی تھی ۔۔۔خرم نے اسکے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

“ارے اب کیا ہوا ۔۔۔نکالو گھونگھٹ جلدی سے ۔۔ورنہ منہ دیکھائی نہیں دونگا ۔۔۔۔ “خرم نے اسکے خفا خفا چہرے کو دیکھ کر چھڑتے ہوئے کہا

“نہیں ۔۔۔تم ہنسو گئے مجھ پر “

“اب بندہ اپنی اتنیییی پیاری دلہن کو دیکھ کر ہنس بھی سکتا ۔۔۔۔۔ یہ تو ذیادتی ہے نمی “خرم نے نمیرہ کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔

“سچی میں بہت پیاری لگ رہی ہوں “نمیرہ نے سامنے لگے ڈرسنگ کے شیشے سے ایک طائرانہ نظر خود پر ڈالی لال عروسی جوڑے میں وہ واقع حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔خرم اسکے یوں دیکھنے پر مسکرانے لگا

“ہاں نمیرہ خرم آپ بہت خوبصورت ہیں ۔۔۔۔ آنکھیں ۔۔۔ناک ۔۔۔۔ چہرہ۔۔۔ ہاتھ پاؤں سب برابر ہے ۔۔۔سوائے تمہارے گھونسلے جیسے بالوں کے ۔۔۔۔”نمیرہ تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئ تھی

“خرم کے بچے ۔۔۔۔۔ کالے کوے ۔۔۔۔ خبر دار ۔۔۔۔ خبردار جو تم نے میرے بالوں کو کچھ کہا تو ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔۔” خرم نمیرہ کے ردعمل سے واقف تھا اس لئے ہاتھ اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا

” اچھا جی ہاتھ چھوڑ دوں تمہارا ۔۔۔ کیوں چھوڑ دوں ۔۔۔۔آج تو ہاتھ آئی ہو تم میرے گن گن کے بدلے کوں گا تم سے ۔۔۔۔۔ کالا کوا لگتا ہوں تمہیں میں ۔۔۔۔ ہاں “خرم نے گھورتے ہوئے کہا نمیرہ رو دینے کو تھی

“تو تم نے مجھ سے بدلہ لینے کے لئے شادی کی تھی خرم ۔۔۔۔ یعنی کے تمہیں مجھ سے کوئی محبت وحبت نہیں ہے ۔۔۔۔”وہ روہانسی ہوئی

“محبت تو تم سے کرنی پڑے گی مجبوری ہے میری آخر شاہو۔ کی بہن جو ہو ۔۔۔۔ورنہ قسم سے مجھے گھنگرالے بالوں والی لڑکیاں بلکل پسند نہیں ہیں “خرم نے جلتی پر تیل چھڑکا تھا ۔۔۔۔

“ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔۔ ورنہ سر پھاڑ دونگی تمہارا ” نمیرہ کے خطرناک تیور دیکھ کر خرمں دوبارہ پٹری پر آ چکا تھا

“”ارے رے لڑکی شوہر ہوں تمہارا ۔۔۔۔ مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔ بچپن سے تم مجھے کالا کوا کہتی آ رہی ہو میں نے بھی تو بڑے ضبط سے سنا ہے اپنی باری میں تم سے برداشت نہیں ہو رہا ہے ” خرم نے اس کا ہاتھ نہیں۔ چھوڑا تھا ۔۔۔نمیرہ کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا

“تمہیں برا لگتا تھا “

“سب کو لگتا ہے نمی ۔۔۔۔ ہر شخص کو اپنا آپ بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔چاہے دوسروں کو پسند آئے یا نا آئے ۔۔۔پھر رنگ روپ سے ذیادہ انسان کا دل خوبصورے ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ ہاں کہ ناں “خرم نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی ۔۔۔”

“ہاں “

“چلو شکر ہے ۔۔۔۔ کچھ تو عقل سے کام لے لیتی ہو تم”

“خرم نے اسے انگوٹھی پہنتے ہوئے کہا

*******۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہزیب بائیک چلا رہا تھا عاصم اسکے پیچھے بیٹھا تھا جب مسلسل شاہزیب کا موبائل بجنے لگا ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے چلتی بائیک پر اس نے پینٹ کی جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو قیوم صابر کی کال تھی شاہزیب نے فورا فون کان پر لگا ۔۔۔

“یس سر “

“مبارک ہو تمہیں شاہزیب ۔۔۔۔ٹکٹ کنفرم ہو چکا ہے۔۔۔ہم پرسوں شام کی فلائٹ سے سری لنکا جا رہے ہیں ۔۔مائے بوائے “شاہزیب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔فون بند کر کے اس نے شرٹ کی فرنٹ جیب میں رکھا

“”یا ہووووو”شاہزیب خوشی سے چلایا تھا ۔۔۔بائیک کی اسپیڈ بھی بڑھ چکی تھی

“شاہوں بھائی آرام سے چلاؤ ۔۔۔”

“ارے موٹو تجھے نہیں پتہ کتنا خوش ہوں میں ۔۔۔۔”

بے اختیار ہی شاہزیب کا چہرہ عاصم کی طرف ہی پیچھے مڑا تھا

“شاہو بھائی سامنے دیکھو “عاصم چلا کر بولا