One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 1)
Rate this Novel
One Wheeling Episode 39 (2nd Last Episode Part 1)
One Wheeling by Umme Hani
نیناں پہلی بار منگنی کا جوڑا دیکھ کر ٹھٹکی تھی ۔۔۔۔اسکے بعد انگوٹی دیکھ کر سب دوستوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سراہا تھا
“نیناں بہت پیاری رنگ ہے ۔۔۔۔ رابی کی آنکھیں چمکیں تھیں
“سونے کی لگتی ہے مگر نگ زرقون کا ہو گا “دوسری دوست نے رائے دی
“نہیں اسٹوپٹ ۔۔۔۔ڈائمنڈ ہے ۔۔۔۔صاف۔ نظر آ رہا ہے”رابی نے دوسری لڑکی کی ترید کرتے ہوئے کہا
“نیناں کو شک تو ہوا تھا لیکن رابی کی بات پر دوبارہ سے غور سے رنگ دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
پھر ہوٹل کے بل پر بختیار صاحب کی بحث پر بھی چپ تھی ۔۔۔مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
کہ قصہ کیا ہے لیکن سب کچھ اسوقت سمجھ آیا جب چینل سرچ کرتے ہوئے سپورٹ چینل پر شاہزیب کا لائیو شو دیکھا تھا ۔۔۔۔جو اسلام آباد سے براہ راست چل رہا تھا نیناں کے ہوش ہی تو اڑ گئے تھے ۔۔۔۔شاہزیب کو سامنے سے چلتے ہوئے آتا دیکھ کر ہی دل نے گواہی دے دی تھی کہ یہ ہیلمنٹ بوائے ہی شاہزیب ہے ۔۔۔جیسے نڈر انداز سے وہ بلیک دستانے چڑھاتے ہوئے بائیک پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔نیناں اپنی آنکھیں جھپکنا بھول گئ تھی ۔۔۔وہ کوئی عام ۔گیم شو نہیں تھا موت کا کھیل تھا جو وہ اپنی سانسیں روکے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اور اسکا عاشق وہ کھیل رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔*******
شاہزیب نے گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہی دستانے چڑھاتا ہوا ہیوی بائیک کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ بہت بڑا ایک ٹریک تھا ۔۔۔۔ لیکن نہایت ہی خطر ناک ۔۔۔۔۔ پورے ٹریک کے اطراف آگ لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اور سیدھی ۔نظر آنے والی سڑک کے بیچوں بیچ کئ جگہ گول سے رنگ تھے جو چاروں طرف آگ کی لپیٹ میں تھے ۔۔۔۔اور اس پورے ٹریک میں کئ جگہ ایسے ہی رنگ اور سرنگیں سی بنی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ جہاں سے اس ہیلمنٹ بوائے کو گزرنا تھا ۔۔۔۔۔سامنے شائقین ہیلمنٹ بوائے کے نعروں سے اس لڑکے کی پزیرائی کر رہے تھے اس نے سب سے پہلے اپنے مداحوں کو ہاتھ ہلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا پھر وہ بائیک سنبھال چکا تھا ۔۔۔۔ایسا خطرنا کھیل کھلنے والا اس وقت اس گراؤنڈ میں واحد وہی ایک شخص تھا ۔۔۔۔۔۔
شاہزیب نے کک مار کر بائیک اسٹاٹ کی تھی لوگوں کے شور کافی حد تک کم ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب آج جس ٹریک پر بائیک چلا رہا تھا ۔۔۔۔وہ ذیادہ چوڑا نہیں تھا ۔۔۔۔ ایک سے دوسری بائیک وہاں چل نہیں سکتی تھی اس لئے اطراف میں لگی آگ کی تپش بہت اچھی طرح سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن اس کا فوکس اس وقت بائیک پر رکھنا ضروری تھا ۔۔۔۔ بائیک کا ٹریک بھی کافی آڑا ٹہرہ پیچیدہ قسم کا تھا ۔۔۔لیکن تیز اسپیڈ سے اسے یہ سب چند منٹوں میں عبور کرنا تھا ۔۔۔۔۔ تقریبا ایک میل کا فاصلہ طے کرتے ہی ٹریک شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔پورے ہال میں لاکھوں مداحوں کی موجودگی میں بھی ہو کا عالم تھا آواز تھی تو شاہزیب کی بائیک کی لوگوں کی نظریں تھیں تو شاہزیب پر ۔۔۔۔اونچے نیچے ٹریک پر توازن کو بر قرار رکھنا ہی جان جھنکوں کا کام تھا کیونکہ یک دم ہی ٹریک کی اونچائی شروع ہو رہی تھی اورلمحہ بھر کے بعد ہی ایک گہرا نیچلا راستہ ۔۔۔۔پھر آگے گول رنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ۔۔۔لیکن ٹریک ختم ہونے تک شاہزیب کی بائیک کے ٹائر آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے ۔۔۔۔۔ سب شائقین کی جان پر بنی تھی ۔۔۔بے ساختہ لوگ اپنی کرسیوں سے کھڑے ہو چکے تھے ایک چیخو پکار تھیں جو ہال میں اٹھیں تھیں ۔۔۔۔۔سب کو لگا تھا کہ اب بائیک بلاسٹ ہو جائے گی اور یہ لڑکا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا ۔۔۔۔قیوم صاحب کے بھی پسینے چھوٹ گئے تھے ۔۔۔وہ مسلسل دس دن سے ایک کے بعد ایک خطرناک کھیل کھیل رہا تھا یہ آخری شو تھا ۔۔۔۔وہ تھک بھی چکا تھا ۔۔۔۔۔ اور یہ کھیل بھی سب سے زیادہ خطرناک تھا ۔۔۔۔۔
نیناں دم بخود بیٹھی تھی لگتا تھا بے جان وجود کے ساتھ یہ سب دیکھ رہی ہو آنسوں ٹپ ٹپ آنکھوں سے بہہ رہے تھے بائیک کو آگ کی لپیٹ میں دیکھ کر منہ سے چیخ برآمد ہوئی تھی
“شاہزیب ۔۔۔۔۔”
دل نے بس یہی ایک نام پکارا تھا ۔۔۔۔ بائیک کے ٹائر کو لگیں آگ دیکھ کر نیناں کی جان نکلی تھی مگر اگلے ہی پل شاہزیب نے پھرتی دیکھاتے ھوئے بائیک کو آگے کی طرف دھکیل دیا تھا بس چند سکینڈ کے بعد ہی ایک دھماکے سے بائیک کو آگ لگ چکی تھی ۔۔۔۔شاہ زیب بھی گرا تھا مگر ہیلمنٹ کی وجہ سے چوٹیں صرف جسم پر ہی لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ یا یوں کہیں کہ بال بال بچ گیا تھا ۔
نیناں کی چیخیں بر آمد ہوئیں تھیں رحمت بی بی فوراسے لاونج میں پہنچی تھی نینان کو زارو قطار روتا دیکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا
“بے بی کیا ہوا ہے ” لیکن وہ کچھ بھی بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔۔۔۔رحمت بی بی کے ساتھ لپٹ کر روتی رہی جب ٹی وی پر تالیوں کی گونج سنائی دی تو اپنے ٹرانس سے باہر نکلی ۔۔۔۔۔۔ٹی وی پر سامنے کھڑا وہ ٹرافی وصول کر رہا تھا ۔۔۔ہیلمنٹ بوائے کے نعرے گونج رہے تھے ۔۔۔۔۔ رحمت بی بی نے پانی نیناں کو پلایا ۔۔۔
“رحمت بی بی کمرے سے میرا موبائل لا کر دیں “
نینان اب کچھ سنبھلی تھی ۔۔۔۔دل تھا کہ دھڑکنا بھول چکا تھا ۔۔۔۔۔ سامنے وہ بے دردی بالماں اپنی جیت کا چیک وصول کر رہا تھا ۔۔۔۔ساری گھتیاں نیناں کے ذہن میں سلجھنے لگیں تھیں ہاتھ میں پہنی انگوٹھی ۔۔۔اسے منہ چڑھاتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔ رحمت بی بی فون لیکر آئی تو سب سے پہلے نیناں نے آنسوں پونچے اور سب سے پہلے عاتقہ بیگم کو فون کیا ۔۔۔باتوں کے دروان یہ پوچھنے لگی کہ شاہزیب کس کام کے لئے اسلام آباد گیا ہے لیکن وہ بھی لاعلم تھی انہوں نے بھی وہی بتایا جو شاہزیب نے نیناں سے کیا تھا یقینا آپ ی فی۔لی کوبھی وہ دھوکے میں رکھ کر گیا تھا ۔۔۔۔پھر نیناں نے اپنی منگنی کے جوڑے اور انگوٹھی کا پوچھا ۔۔۔عاتقہ بیگم سے ہی اسے معلوم ہوا کہ انہوں نے تو اسے کوئی جوڑا دیا نہیں تھا شاہزیب نے ہی ان سے کہا تھا کہ نیناں خرید چکی ہے ۔۔۔۔اور انگوٹھی بھی شاہزیب نے ہی انہیں لا کر دی تھی ۔۔۔۔۔
نیناں سمجھ گئ تھی کہ یہ سب کچھ شاہزیب نے کیسے حاصل کیا ہے ۔۔۔۔۔
دو دن نیناں نے کیسے کاٹے تھے وہی جانتی تھی ۔۔۔۔
لیکن جب شاہزیب کی کال آئی تو اطمینان بھرا سانس اس نے لیا تھا کہ وہ واپس پہنچ گیا ہے
مگر کال اٹینڈ نہیں کی تھی دو دن ۔۔۔۔دن رات شاہزیب کی کال اور میسجز آتے رہے مگر نیناں بھی بے حسی کی تصویر بنی بیٹھی رہی لیکن وہ شاہزیب تھا۔۔۔۔۔ اتنا صبر کہاں سے لاتا جو نیناں نے کیا تھا دو دن بعد ہی اسکے کالج سے باہر کھڑا تھا ۔۔۔نیناں اسے دیکھ کر سمجھ گئ کہ اب وہ اسے ساتھ لیے۔ ۔بنا نہیں جائے گا
اس لئے اسکے ساتھ بیٹھ گئ۔۔۔۔۔
شاہزیب نے ہر بات کی تصدیق کر دی تھی مگر نیناں کی بات کا جواب نہیں دیا تھا
خاموشی سے نیناں کو دیکھتا رہا پھر دوبارہ بائیک پر۔ بیٹھ گیا
“چلو آؤ۔ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں ” شاہزیب کی بات سن کر نیناں اسکے پیچھے بیٹھ گئ اپنے بنگلے کے باہر اتر کر شاہزیب کو دیکھنے لگی
“شاہزیب آپ کی انگوٹھی میرے پاس آپکی امانت ہے ۔۔۔۔مجھے آپکے فیصلے کا انتظار رہے اگر آپ کا انتخاب ویلنگ ہے تو میں یہ رنگ آپ کو واپس دیدوں گی ۔۔۔۔۔”نیناں کو لگا اب وہ کہے گا کہ کہ نیناں تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ تمہیں چھوڑ دوں گا مگر وہ کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔بس قہر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ نیناں نے جب اسے خاموش دیکھا تو ۔۔۔۔ دل دھاڑے مار کر رونے کو چاہا ۔۔۔۔ دل جل کر خاک ہوا تھا شاہزیب کی خاموشی پر وہ سلگ کر رہ گئ تھی شاہزیب نے بائیک اسٹاٹ کی
“شاہزیب مجھے اب کال بھی مت کیجیے گا ۔۔۔۔میں فون نہیں اٹھاؤں گی “ایک مدہوم سی امید تھی نیناں کے اب شاہزیب اس سے کہے گا کہ کیوں نہیں فون کروں گا ۔۔۔ ضرور کروں گا مگر ۔۔۔وہ آندھی کی طرح بائیک سے خاک اڑاتا ہوا جا چکا تھا ۔۔۔۔نیناں گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے کمرے میں جا کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
کہاں کھڑی تھی وہ ۔۔۔۔۔ کیا مقام تھا شاہزیب کی زندگی میں اس کا ۔۔۔۔پہلی بار نیناں کو ویلنگ سے نفرت سی ہوئی تھی یا جیلس ۔۔۔۔۔ یہ جذبہ اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔۔۔۔
“کیا تھا ڈانٹ کر ہی کہہ دیتے کہ تمہیں نہیں چھوڑ سکتا ہاں ویلنگ چھوڑ دونگا میرا مان ہی رہ جاتا ۔۔۔لیکن نہیں چپ چاپ چلے گئے یہ بھی سوچا کہ مجھے کتنی تکلیف ہو گی ۔۔۔ ۔۔۔۔ رات کو بختیار صاحب نے آنے سے پہلے ا گی طرح وہ ٹھنڈے پانی سے منہ دھو چکی تھی تا کہ انہیں یہ نا لگے کہ پورا دن روتی رہی ہے ۔۔۔۔
*****
شاہزیب اپنے اپاٹمنٹ کے نیچے پہنچا ہی تھا جب ایمبولنس کھڑی دیکھ کر گھبرا گیا ۔۔۔۔۔ خرم اور اسکے والد اسکی والدہ کو سہارا دیتے ہوئے ایمبولنس میں بیٹھا رہے تھے ۔۔۔۔شاہزیب فوار سے بائیک کھڑی کر کے خرم کے پاس آگیا ۔۔۔۔خرم۔کی والدہ سینے پر ہاتھ رکھے مچل رہیں تھیں ۔۔۔۔
“خرم خالہ کو کیا ہوا ہے “
“امی کے بہت درد ہے سینے میں بس اس لئے ہاسپٹل لے جا رہے ہیں “خرم کچھ عجلت میں تھا
“چلو میں بھی ساتھ چلتا ہوں خرم کے ساتھ شاہزیب بھی بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔خرم کے والد آگے ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گئے پورے راستے اسکی والدہ ہائے ہائے کرتی رہیں ۔۔۔انہیں انجائنا کا ہلکا سا اٹیک ہوا تھا ۔۔۔۔ وقت پر ہاسپٹل پہنچ گئیں تھیں اس لئے جلد ہی قابو پایا گیا تھا مگر وہ وہم میں ضرور مبتلہ ہو چکیں تھیں ۔۔دو چار دن میں جیسے ہی گھر پہنچی خرم کی شادی کی ضد کرنے لگیں ۔۔۔۔
عاتقہ بیگم اور زمان صاحب انکی خیریت دریافت کرنے گئے تھے مگر انکی فرمائش سن کر دنگ سے رہ گئے تھے ایک مہنے کے اندر وہ نکاح اور رخصتی مانگ رہیں تھی ۔۔۔۔جس حالت میں وہ تھیں زمان صاحب نے ہامی بھر لی ۔۔۔۔عاتقہ بیگم بھی چپ ہی رہیں مگر جب یہ خبر گھر پر سب کو معلوم ہوئی تو سب سے ذیادہ ہنگامہ نمیرہ نے کیا تھا
“امی اتنی کیا جلدی ہے انہیں ۔۔۔۔ایسے ہوتی ہے کسی کی شادی ۔۔۔۔۔ مجھے نہیں کرنی ۔۔۔”
“بری بات ہے نمی ۔۔۔۔ انکی طعبیت ایسی نہیں ہے کہ منع کر سکیں “کمرے میں سب ہی موجود تھے سوائے زمان صاحب کے
“جانے دیں امی سب بہانے ہوں گئے ۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔اتنی جلدی کیسے ہو گی تیاری “نمیرہ ٹسوے بہا رہی تھی عاتقہ بیگم اسے گھور رہیں تھیں شازمہ نمیرہ کے پاس بیٹھ گئ
“ہو جائے گی نمی تم فکر مت کرو ۔۔۔۔امی میری جتنی بھی چیزیں آپ لے چکیں ہیں وہ نمی کو دیتے ہیں میری شادی کو تو ابھی تین مہنے پڑیں ہیں ۔۔۔۔لیکن خالہ کو انکار کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔”شازمہ نے مشورہ دیا
“شازمہ نے نمیرہ کا مسلہ پل میں حل کیا تھا
“شازی آپی میں کیوں پہنوں آپکے کپڑے اور ۔۔۔اتنی جلدی میں کیا ارمان پورے ہوں گئے میرے ۔۔۔۔۔چار لوگوں میں نکاح کروا کر رخصت کر کے لے جانے سے خرچہ جو بچ رہا ہے انکا ۔اس لئے یہ ترکیب لڑائی ہے ۔۔۔۔”نمیرہ کو ساری بد گمانیاں خرم کے گھر والوں سے تھیں
“نمی بہت ہو چکا ہاں ۔۔۔۔وہ واقع بیمار ہیں کتنا فضول بوتی ہو تم ۔۔۔۔۔ تمہاری شادی بہت اچھی ہو گی ۔۔۔۔چار لوگوں میں نہیں ہو گئ تمہارا شاہوں کرے گا سارا خرچہ ۔۔۔۔بس اب خبردار جو خالہ کے بارے میں کچھ بھی ککا تو ۔۔۔۔ساس ہیں تمہاری عزت سے بات کیا کرو ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے نمیرہ کو ڈپٹا تو وہ چپ ہو گئ
” کیوں بھئ شاہو کی لاڑی لگ گئ ہے ۔۔۔۔یا آجکل بنک ڈکیتی کرنے کا ارادہ ہے ۔۔باشادہ سلامت کا ۔۔۔۔جو ایک مہنے میں ہو جائے گا انتظام ۔۔۔۔۔امی آپ کہہ دیں کہ اتنی جلدی شادی بس سادگی سے ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔”شازمہ نے منہ بنا کر اپنا بڑا پن جتایا “لیکن شاہزیب چپ نہیں رہا
“شامی کباب تم جل کر خاک ہی ہوتی رہو گی ‘اور دیکھنا نمی کی شادی کیسے دھوم دھام سے ہوتی ہے ۔۔۔۔شازمہ کی طعبیت صاف کرنے کے بعد اب وہ نمیرہ کو تسلی دینے لگا
“نمی تم فکر مت کرو ۔۔۔۔۔ شادی تمہاری ویسے ہی ہو گئ جیسے سب کی ہوتی ہے ۔۔۔۔”
۔”شاہزیب کیسے کرو گئے سب ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم بول پڑیں
“باس سے قرضہ لے لوں گا امی “پیسے تو شاہزیب کے پاس تھے اور اچھے خاصے تھے لیکن یہ بات وہ ماں کو نہیں بتا سکتا تھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے قرضوں کی ۔۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے فورا سے ٹوک دیا نمی کے آنسوں پھر سے بہنے لگے ۔۔۔۔
لیکن شاہزیب نے پھر بھی شادی کا جوڑا نمیرہ کو اچھا خاصا مہنگا لا کر دیا تھا ۔۔۔۔ ” شاپنگ ہر بھی لے گیا تھا ۔۔۔۔۔جو جو اسے پسند تھا شاہزیب نے لیکر دیا تھا
شادی کے لئے اتنی جلدی ہال تو پاسبل نہیں تھا مگر
اپاٹمنٹ کے نیچےوہ ٹینٹ کا انتظام کر رہا تھا ۔۔۔۔۔گھر میں پیسوں کا کوئی بھی سوال نا اٹھائے اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ خرم کو اعتماد میں لیتا ۔۔۔۔بہن کی خواہش تھی وہ بھی اسکی چہتی بہن کیسے ہو سکتا تھا کہ شاہزیب پیچھے ہٹتا ۔۔۔۔اس لئے رات کو ہی خرم کو لیکر چائے والے ہوٹل میں لے گیا ۔۔۔۔۔
اور اپنی ساری بات اسکے گوش گزار کر دی ۔۔۔۔خرم کنگ سا اسے دیکھتا رہ گیا تھا سب کے ناک کے نیچے شاہزیب یہ سب کر چکا تھا اور کسی کو کان وکان خبر تک نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
“شاہو کیوں کر رہے یہ سب کچھ ۔۔۔جانتے ہو وہ شخص کتنا بڑا گیم کھیل رہا ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔ یہ پراویٹ کمپنی والے ۔۔۔۔۔ جوا لگاتے ہیں سٹے بازی لگتی ہے یہاں ۔۔۔۔ سارا پیسہ ہی حرام کا ہوتا ہے ۔۔۔۔چھوڑ دو سب کچھ”ختم کو اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا کن چکروں میں پڑ چکا تھا شاہزیب
“جانتا ہوں کہ وہ سیٹھ کروڑں کما رہا ہے لیکن مجھے بھی ایک معقول رقم دے رہا ہے ۔۔۔۔اور سٹا وہ لگا رہا ہے میں نہیں ۔۔۔۔ میں اپنی محنت کے پیسے لے رہا ہوں ۔۔۔”شاہزیب کے پاس سارے تسلی بخش جواب موجود تھے
“تم جو بھی سمجھ لو لیکن یہ خطرناک ہے جان لیوا ہے ۔۔۔۔ یوں سڑکوں پر ہلکی پھلکی ویلنگ سمجھ آتی ہے مگر جو تم شروع کر چکے وہ غلط ہے شاہزیب ۔۔۔۔۔”خرم نے متانت سے سمجھانا چاہا
“بس ہے ایک مجبوری “۔”کیا ہے وہ مجبوری مجھے بھی تو پتہ چلے “۔”خرم نے تیکھے انداز سے شاہزیب کو گھورا جو نظریں چرا رہا تھا
“بس ہے ۔۔ابھی نہیں بتا سکتا وقت آنے پر بتا دونگا “۔”شاہزیب نے پہلو بدلہ
“جانتا ہوں تمہاری اس مجبوری کو ۔۔۔۔ اسی رئیس کی بیٹی کی بےجا فرمائشیں پوری کرنے کے لئے یہ راستہ اختیار کیا ہے تم نے “خرم کو لگا نیناں کی وجہ سے وہ یہ سب کر رہا ہے
” تمیز سے بات کرو ۔۔۔۔ ہونی والی بھابی ہے تمہاری ۔۔۔۔ تم بھی اب دوست کے ساتھ بہنوئی ہو اس لئے مجھے تمہاری بھی عزت کرنی پڑے گی ۔۔۔لیکن تم نیناں کو بیچ میں مت لاؤں تم جانتے ہو اسکے خلاف کچھ نہیں سنو گا “
” میں صرف خرم ہوں ۔۔۔۔ تمہارا جگری یار ۔۔۔۔مجھ سے تم یہی تعلق رکھوں تو بہتر ہے ۔۔۔ ۔ ہاں وہ بھابی ہے لیکن ہم جیسی نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی شک تھا ۔۔۔۔ کہ یہ نہیں رہ سکے گی اس گھٹے ماحول میں ۔۔۔۔”
“نیناں نےمجھ سے کبھی نہیں کہا یہ سب کرنے کے لئے ۔۔۔۔یہ میرااپنا فیصلہ ہے ۔۔۔۔وہ تو ضد پر اڑی ہے کہ ویلنگ چھوڑ دوں “
“تو کیوں کر رہے ہو پھر ‘”خرم کو تشویش سی ہوئی
“کہا نا وقت آنے پر بتاؤں گا ۔۔۔فی الحال تو ۔میری بات سنو ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے جیب میں سے ایک چیک نکال کر خرم کے ہاتھ پر رکھا جو دس لاکھ کا تھا ۔۔۔خرم دیکھ کر حیرت سے شاہزیب کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
“یہ میری امانت سمجھ کر رکھ لو ۔۔۔۔ابو کو ابھی کچھ معلوم نہیں ہے ۔۔۔اس لئے شادی کا سارا خرچہ تم اپنا نام لے کر کروں گئے۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ نمی کی کوئی خواہش ادھوری رہ جائے ۔۔۔۔۔ “
“یہ تم رکھوں ۔۔۔۔نمی کی خواہشیں پوری کرنا اب میری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔وہ میں کر دونگا ۔۔۔۔۔ “خرم نے تاسف سے شاہزیب کی طرف دیکھ کر چیک اسکے ہاتھ میں پکڑا دیا
“خرم پلیز ۔۔۔۔میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں اپنی فیملی کے لئے ۔۔۔۔۔ اب جا کر تو موقع ۔ملا ہے اپنا آپ منوانے کا۔۔۔۔ مجھے تمہاراساتھ چاہیے خرم “شاہزیب نے اپنایت سے خرم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
“میرے اکاؤنٹ میں آلریڈی پندرہ لاکھ ہیں ۔۔۔۔اس سے ذیادہ میں رکھنا نہیں چاہتا یہ تم رکھو اپنے پاس۔۔۔۔ بس ایک بار باہر کا چانس لگ جائے تو ڈالر ملیں گئے رپوں کی جگہ ۔۔۔۔۔ دیکھوں تمہارا شاہو کیسے دن بدل کے رکھ دے گا سب کے “۔ شاہزیب کے منہ سے اس طرح کی گفتگو۔ سن کر خرم حیران پریشان تھا
“شاہو ۔۔۔یہ تم ہو ۔۔۔۔۔ یہ تم کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔ یہ کب ہوا ۔۔۔۔کب تمہیں پیسوں کی ہوس نے اندھا کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ تم نے خالی جیب بھی کبھی پیسوں کی پروا نہیں کی تھی “خرم کو یقین نہیں آ رہا تھا
“اب بھی نہیں کرتا بس کسی کو منہ توڑ جواب دینا ہے ایک بار وہ دیدوں۔ ۔۔۔چھوڑ دونگا ویلنگ بھی ۔۔۔۔”
“کون ہے وہ “
“وقت آنے پر بتاؤں گا ۔۔۔لیکن اس سے پہلے کسی کی نہیں سنو گا ۔۔۔۔نا تمہاری ۔۔۔نا نیناں کی ۔۔۔۔۔ یہ تو عہد کیا ہے شاہو نے خود سے ۔۔۔۔”خرم نے گہری سانس لی اور چیک جیب۔ میں رکھ لیا ۔۔۔۔
*****…….
دوسری جانب رائمہ روز بازار کے چکر لگا لگا کر تھک چکی تھی ۔۔۔۔۔ اب باسم بھی اسکے ساتھ چلا جاتا تھا ۔۔۔۔ مہندی کا ایک ہی دن رکھا گیا تھا البتہ شادی پہلے باسم کی ہونی تھی باسم کے ولیمے پر رائمہ کی بارات تھی ۔۔۔۔۔
نیلوفر نے دونوں گھروں کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی کھانا ایک ہی جگہ پک جاتا تھا کیونکہ رائمہ بازار سے تھکی ہاری آ کر کچھ بھی نہیں بنا پاتی تھی
نیلوفر بھی خوش تھی ۔۔۔رائمہ آکر ایک ایک چیز اسے دیکھاتی تھی ۔۔۔۔کہ باسم نے تمہارے لئے لیا ہے ۔۔۔۔یہ رنگ باسم کو بہت پسند یے۔۔۔۔۔ مہندی کے جوڑا نیلوفر کا ہیلو تھا مگر ڈوپٹہ پنک تھا ۔۔۔۔ رائمہ کا جوڑا رامس کے گھر سے آنا تھا وہاں رامس کے گھر پر بھی ساری بہنیں ڈھیرا جمائے بیٹھیں تھیں روز ہی ہلا گلا چل رہا تھااکلوتے بھائی کی شادی پر بہنوں نے بھائی سے نیگ پر لینے کے لئے لمبے چوڑی لسٹ بنا رکھی تھی ۔۔۔۔۔
دوسری طرف رباب بھی ۔۔۔۔دودھ پلائی پر اکلوتے بہنوئی کی جیب خالی کرنے کے مشورے سہلیوں سے لے رہی تھی ۔۔۔۔
عاصم روز ہی نیناں سے بات کر رہا تھا نمیرہ کی ایمرجنسی شادی کا عندیہ بھی اسی نے سنایا تھا ۔۔۔۔شاہزیب کی پل پل کی خبر نیناں کو عاصم سے ہی مل رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ بھی اپنی اکلوتی بھابی سے پوری پوری دوستی نبھا رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب بھی نیناں کے پلان پر عمل کرتے ہوئے رات کو سوتے وقت جان بوجھ کر نیناں کا ذکر شاہزیب سے کرنے لگتا وجہ تو نہیں جانتا تھا مگر یہ پتہ تھا کہ دونوں کے درمیان ان بن چل رہی ہے ۔۔۔۔
ورنہ شاہزیب نیناں سے بات ضرور کرتا تھا۔۔۔۔
“شاہوں بھائی ۔۔۔۔خیر ہے آج کل نیناں آپی سے بات نہیں کر رہے آپ ورنہ تو فون بھی پناہ مانگ رہا ہوتا ہے “عاصم نے جان بوجھ کر ذکر چھیڑا
“بکواس کم کیا کرو ۔۔۔۔فون پناہ مانگ رہا ہوتا ہے۔۔۔ایک لگاؤں گا تمہیں ۔۔۔۔ “شاہزیب نے تھپڑ کے لئے ہاتھ عاصم کی طرف بڑھایا تو وہ پیچھے ہٹ گیا
“چل بھئی موٹے بلے سائیڈ مار ۔۔۔”عاصم کو پورے بیڈ پر بچھے ہوئے دیکھ کر شاہزیب نے اسے دھکیلتے ہوئے کہا وہ پیچھے ہٹ گیا تو شاہزیب نے تکیہ درست کیا اور لیٹ گیا ۔۔۔۔انکھوں پر بازو بھی رکھ لیا
“شاہوں بھائی میری نیناں آپی سے آج بات ہوئی تھی ۔۔۔۔آواز نہیں نکل رہی انکی ۔۔۔۔بہت بیمار لگ رہیں تھیں “شاہزیب جو اپنی آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا تھا عاصم کی بات پر برجستہ بازو آنکھوں سے ہٹا تھا ۔۔۔۔نیناں کا بتایا ہوا بہانا کام کرنے لگا تھا ۔۔۔۔
“تم نے پوچھا نہیں کیا ہوا ہے اسے “شاہزیب کے۔ چہرے پر فکرمندی نمایاں تھی
“کیسے پوچھتا بیچاری آپی سے بات ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔”عاصم نے بھی بے چارگی چہرے پر سجائی شاہزیب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔جانتا تھا کہ خود بات کرے گا تووہ فون تک نہیں اٹھائے گی ۔۔۔اس لئے عاصم کے اوپر سے ہوتے ہوئے اسکی سائیڈ سے اس کا موبائل اٹھایا ۔۔
“چل بھئ موٹے اٹھ کے بیٹھ ۔۔۔”شاہزیب نے نیناں کا نمبر ملایا اور فون اسپکر پر کر دیا
“سنو بات تم کرو گئے ۔۔۔خیریت پوچھوں اس کی خبر دار جو اسے یہ بتایا کہ میں اسکی بات سن رہا ہوں”شاہزیب کے اس اقدام سے تو عاصم گھبرا سا گیا تھا ۔۔۔۔ نیناں کونسی سچ مچ بیمار تھی ۔۔۔۔بس چاہ رہی تھی کہ کسی طرح شاہزیب اسکی بات مان لے اسکی بیماری کا سن کر شایداس کادل نرم پڑ جائے ۔۔۔پریشان تو وہ واقع ہو چکا تھا عاصم کا رنگ اڑا ہوا تھا اسے معلوم تھا جیسے ہی نیناں فون اٹھائے گی عاصم کا جھوٹ پکڑا جائے گا ۔۔اور یہی ہوا تھا
نیناں نے فون اٹھایا
چہکتی ہوئی آواز سے نیناں کی سنائی دی
“ہیلو عاصم ۔۔ہاو آر یو “شاہزیب نے گھور کر عاصم کی طرف دیکھا عاصم کا حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔۔
شاہزیب نے عاصم کو بات کرنے کا اشارہ کیا وہ نفی میں سر ہلانے لگا شاہزیب نے ایک چت اسکے سر پر لگائی اور بات کرنے کا اشارہ کیا
“فائن آپی “
“اب بتاؤں تم نے کہا ان سے کہ میں بیمار ہوں ۔۔۔۔”نیناں کے استفسار پر عاصم نے چوری آنکھ سے شاہزیب کو دیکھا جو خشمگین نظروں سے اسے گھور رہا تھا
“ج جی آپی “
“پھر کیا ریاکشن تھا ان کا “
فون کا اسپکر آف کر کے شاہزیب نے فون کان پر لگایا
“بہت کیرنگ اور لونگ ۔۔۔۔ اینڈ مسنگ ۔۔۔۔”شاہزیب کی آواز سن کر نیناں نے فورا سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔اپنے پکڑے جانے پر دل زور زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔ فون کی بیل اب شاہزیب کے نمبر سے آنے لگی تھی ۔۔۔۔مگر نیناں نے کال کاٹ دی ۔۔۔پھر میسج آنے لگے
“میری بلبل کو اتنی فکر ہے میری تو مجھ سے بات کر سکتی ہے ۔۔۔۔ عاصم کو بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں ہے وہ ویسے ہی ڈپو(ڈر پوک ) ہے تمہاری طرح ۔۔۔ میرے سامنے یہ چالاکی نہیں چلے گی نیناں ۔۔۔۔ بات نا کرنے کی شرط تم نے ہی لگائی ہے ۔۔۔۔جب چاہے توڑ سکتی ہوں ۔۔۔۔ لو یو میری مینا اینڈ گڈ نائٹ “شاہ زیب کا میسج پڑھ کر نیناں نے فوار سے فون سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔ “مطلب یہ شخص ایسے نہیں مانے گا ۔۔۔”نیناں کو اپنے پلان کے فلاپ ہونے کا افسوس تھا ۔۔۔۔۔
چند دن بعد ہی زمان صاحب نے بختیار صاحب کو نمیرہ کی شادی کا سندیسہ دیا تھا ۔۔۔۔ نیناں تو دل وجان سے جانے پر راضی تھی ۔۔۔۔بختیار صاحب تو یہ سن کر شش وپنج میں مبتلہ تھے کہ پہلی بار کسی کی شادی اسکے گھر کے باہر کناتوں میں دیکھنی پڑے گی ۔۔۔۔
“یہ بھلا کسی شادی ہوئی ۔۔۔ارے پیسے نہیں تھےمجھ سے کہہ دیتے ۔۔۔دو گھنٹے میں سب کچھ ارینج کر دیتا ۔۔۔
رانا بختیار پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ شادی اس طرح سے دیکھے گا ۔۔۔۔”بختیار صاحب کی آکڑ تھی کہ کم ہونے کو تیار نا تھی
“پوپس کیا حرج ہے ۔۔۔”نیناں نے بات بنائی
“نیناں مجھے بلکل نہیں پتہ تھا کہ تم مجھے یہ دن بھی دیکھاوں گی “بختیار صاحب کا لیکچر پھر سے شروع ہونے کو تیار تھا لیکن نیناں نے مدافعانہ انداز اپنایا
“ٹھیک ہے آپ مت جائیں ۔۔۔۔لیکن میرے توسسرال کا معاملہ ہے ۔۔۔میں تو ضرور جاؤں گئ ” نیناں کا سسرال پر یوں فدا ہونا بختیار صاحب کو ایک آنکھ نہیں۔ بھا رہا تھا
“ہاں بڑا شوق ہے تمہیں سسرالی رشتے نبھانے کا ۔۔۔تمہیں اکیلے تو کبھی نہیں بھیجو گا ۔۔۔ دیکھوں میں ساتھ تو چلو گا لیکن ہم زیادہ دیر نہیں رکیں گئے ۔۔۔۔
“او کے پوپس ۔۔۔ پھر آپ جلدی آ جائیے گا “
جس دن۔ نمیرہ کی شادی تھی اسی دن باسم کی مہندی بھی تھی ۔۔۔۔لیکن نمیرہ کی شادی شام سات بجے تھی اور باسم کی مہندی رات نو بجے شروع ہونے تھی صبح سے باسم شاہزیب سے اصرار کر رہا تھا کہ شادی سے فارغ ہوتے ہی اسکی مہندی کے فنگشن کر لازمی پہنچے ۔۔۔۔
“یار نہیں اس۔ پاؤں گا سمجھا کرو ۔۔۔بہن کی شادی پر وقت کیسے نکالوں گا “
“شاہزیب میں کچھ نہیں سنو گا تم لازمی آؤں گئے اور عاصم۔کو لیکر “
“ہاں ہاں سمجھ گیا اس چشماٹو نے ہی کہا ہو گا تمہیں مجھے پتا ے کے لئے ۔۔۔تا کہ اسے پک اینڈ ڈوپ فری مل سکے
“اس نے بھی کیا ہے لیکن دوستی بھی تو ہے ہماری ۔۔۔۔میرے ہاتھ کر بھی تو کوئی مہندی لگا ے والا ہو
“او ہو ۔۔۔پجر تو آنا پڑے گا ۔۔۔۔ایڈی مہندی لگاہوں گا جس رنگ پکا ہو گا ایک دم سرخ ۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر باسم مسکرانے لگا
بہت پش رفت کے بعد ہی شاہزیب مان گیا تھا ۔۔۔۔
عاتقہ بیگم کے کہنے پر نیناں نے منگنی والی پنک میکسی ہی پہنی تھی ۔۔۔۔ چھ بجے ہی تیار ہو کر بختیار صاحب سے جانے کی ضد کرنے لگی تھی ۔۔۔
“پوپس جلدی چلیں نا ۔۔۔سارا مزہ تو نکاح سے پہلے کے ہلے گلے کا ہوتا ہے ۔۔۔۔بعد میں کیا مزہ آئے گا ۔۔۔
“اچھا ہو جاتا یوں تیار پہلے ذرا نیوز تو سننے دو “
“نو پوپس جلدی سے تیار ہو کر آئیں “
نیناں نے ایل سی ڈی آف کر دی ۔۔۔بختیار صاحب بھی ہار مانتے ہوئے آپ ے کمرے میں تیار ہونے چلے گئے
*****
نیلو اور رائمہ گھر کے صحن میں رکھی کرسیوں پر مہندی کے جوڑے پہنے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔رامس بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ پہنچ چکا تھا ۔۔۔باسم کے پاس توایک منٹ کی فرصت نہیں تھی ۔۔۔۔۔ کھانا پہلے کھلانا تھااور مہندی کی رسم بعد میں ہونی تھی ۔۔۔۔
*****
دوسری طرف نمیرہ دلہن بنی بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔ زمرد بیگم بھی شازل اور جیدی صاحب کے ساتھ پہنچ چکیں تھیں ۔۔۔شازمہ نے وائٹ فراک پہنا تھا تو شازل نے وائٹ شلوار قمیض ۔۔۔۔ سفید شلوار قمیض کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے شاہزیب اور عاصم دونوں ہی ڈیشنگ لگ رہے تھے ۔۔۔۔ سیفی نے شاہزیب کی طرف سے شادی میں آنا تھا تو جمی نے خرم کی طرف سے ۔۔۔۔ نمیرہ گھر پر ہی کمرے میں بیٹھی تھی نکاح کے بعد ہی اسے نیچے لے جایا جانا تھا ۔۔۔۔۔
“بختیار صاحب کی گاڑی اپاٹمنٹ میں پارک ہوتے ہی نیناں اتر کر فورا سے اوپر چلی گئ تھی ۔۔۔۔
بختیار صاحب اپنے پورے وقار کے ساتھ چلتے ہوئے ۔۔۔۔ ٹینٹ میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ زمان صاحب اور خرم کے والد ہی سب مہمانوں سے مل رہے تھے ساتھ ہی ساتھ انہیں بیٹھنے کا بول رہے تھے ۔۔۔۔بختیار صاحب کو دیکھ کر زمان صاحب اور خرم کے والد بہت گرم جوشی سے ان سے ملے انہیں سامنے صوفے پر وی آئی پی جگہ پر بیٹھایا ۔۔۔۔پھر پینٹ کوٹ میں انہیں گرمی سی لگنے لگی تھی ۔۔۔فورا سے دو اسٹینڈ فین بختیار صاحب کے سامنے لگائے گئے ۔۔۔ ٹھنڈی منرل واٹر کی بوتل ان کے سامنے پیش کی گئ لیکن پھر انکے ماتھے کے بل ختم
نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔۔
نیناں جیسے ہی اپنی لمبی میکسی سائڈ سے اٹھاتی ہوئی سیڑیاں چڑھتے ہوئے اوپر شاہزیب کے دروازے پر پہنچی دل کی دھڑکنوں نے بے اختیار محبوب کو دیکھنے کی ضد میں دھڑکنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ دروازہ کھٹکھٹاتی ددوازہ بڑی عجلت سے کھلا تھا سامنے ہی شاہزیب بھی باہر تیزی سے نکلنے کو تھا مگر نیناں ۔ کو دیکھ کر ٹھٹک گیا نظروں۔ کے تصادم نے ۔۔۔۔ کیا کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔۔۔ ایک مہنے کی جدائی کی ساری بے تابیاں نظروں میں سمٹ آئیں تھیں ۔۔۔۔۔ نیناں نے فورا سے کسی چور جذبے کو دباتے ہوئے نظریں۔ چرائیں تھیں۔۔۔شاہزیب سے ناراضگی یاد آنے پر چہرے پر خفگی سجائے بولی
“ہٹیں آگے سے شاہزیب “
” نا ہٹوں تو “وہ مسکرا رہا تھا جیسے اسکی چوری پکڑ چکا ہو
“مجھے اندر جانا ہے نمی کے پاس “
“کیوں نمی سے کیا رشتہ ہے تمہارا “شاہزیب دروازے کے سامنے استاذہ کیے کھڑا تھا
٫”وہ میری نند ۔۔۔۔۔”نیناں خاموش ہو گئ سمجھ نہیں پا رہی تھی جواب کیا دے
“ہمم ۔۔۔بولو ۔۔۔بولو ۔۔۔ کیا لگتی ہے نمی ۔۔۔۔کیونکہ مجھ سے تو سارے رشتے تم توڑنا چاہتی ہو ۔۔۔پھر یہاں کس ناطے سے نمی سے ۔ نبھانے آئی ہو “شاہزیب کی بات پر نیناں نے برجستہ اسکی طرف دیکھا
“واپس چلی جاتی ہوں پھر “نیناں نے موٹے موٹے آنسوں آنکھوں کے باڑ سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر واپس جاتی شاہزیب نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
” واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے تمہارے پاس ۔۔۔سمجھی ۔۔۔۔۔ نا شاہوں کے دل سے نا اسکے گھر سے ” وہ نیناں کی آنکھوں دیکھتے ہوئے بولا
“اس بات کا کیا مطلب سمجھوں شاہزیب ۔مجھے چنا ہے آپ نے ؟”بڑی آس بھری نظروں سے سوال پوچھا گیا تھا ۔۔۔۔۔
“ہاں لیکن ویلنگ کے ساتھ “اس جواب پر نیناں بجھ سی گئ تھی اپنا ہاتھ جھٹکے سے شاہزیب کے ہاتھ سے جدا کیا ۔۔۔۔ آنسوں اب رخسار بھگونے لگے تھے شاہزیب کو نیناں کا یوں ہاتھ چھڑوانا برا لگا تھا اگلے کی لمحے وہ انگوٹھی اتار چکی تھی شاہزیب کو لگا کہ کسی دل ہی سینے سے کھنچ لیا ہو
” congratulations on your weeling mister shah zeab “
یہ کہہ کر نیناں نے انگوٹھی شاہزیب کی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔۔ شاہزیب کا یہ حال تھا جیسے کسی نے آگ کی بھٹی میں اسے پھنک دیا ہو ۔۔۔۔سلگ کر رہ گیا تھا
“جس ہاتھ سے رنگ اتاری ہے اسی ہاتھ سے پہنوں نیناں ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔ تمہیں میرافیصلہ سننا ہے ۔۔۔۔ سناتا ہوں تمہیں میں اپنا فیصلہ اندر جاؤں ٹھیک پندرہ منٹ کے بعد میرا فیصلہ تم تک پہنچ جائے گا ۔۔۔۔۔ دو سکینڈ دے رہا ہوں تمہیں پہنوں اسے واپس ۔۔۔۔ تیسرا سکینڈ نہیں ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔ “شاہزیب کے لہجے میں درشتگی تھیں کہ نیناں نے فوراسے رنگ پہن لی اور وہ لمحہ ضائع کیے بغیر نیچے اتر گیا ۔۔۔۔
نیناں کو خوف نے آن گھیرا تھا ۔۔۔کیا کرے گا پندرہ منٹ میں ۔۔۔۔افف میرے خدایا ۔۔۔۔ نیناں کا ہاتھ سینے پر گیا تھا ۔۔۔دروازہ کھول کر وہ اندر چلی گئ عاتقہ بیگم زمرد بیگم شازمہ اور باقی سب ۔لنے ملانے والی خواتین اب نیناں سے ملنے لگیں تھیں ۔۔۔مگر اس کا ذہن شاہزیب کی طرف تھا اور نظریں گھڑی کی طرف سب سے مل کر وہ نمیرہ کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔ نمیرہ بھی اٹھ کر نیناں سے گلے ملیں تھی ۔۔۔۔ دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو مچل رہا تھا بار بار وہ گھڑی کی طرف دیکھ رہی تھی پانچ منٹ گزر چکے تھے دس منٹ باقی تھے نیناں کی پیشانی پر پسینے کے قطر سے نمودار ہونے لگے ۔۔۔۔دل میں بار بار خود کو کوسنے لگی تھی کیا ضرورت تھی انگوٹھی اتارنے کی ۔۔۔میں نے کیوں اتنا غصہ دلا دیا ۔۔۔نا جانے کیا کریں گئے اب ۔۔۔۔”نیناں کو خود پر افسوس ہو نے لگا تھا ۔۔۔۔ٹھیک پانچ منٹ بعد ہی عاتقہ بیگم اور شازمہ اڑی کوئی رنگت سے اندر داخل ہوئیں نیناں کا دل تھما تھا
