One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 18

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 18

One Wheeling by Umme Hani

گھر پہنچ کر نیناں سیدھا اپنے کمرے میں گئ تھی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔شاہزیب کا زخمی چہرہ اور ہاتھ اسے نظر آنے لگے ۔۔۔۔۔۔رات ڈنر پر بھی اسے رحمت بی بی بلانے آئی مگر اس نے انکار کر دیا ۔۔۔بھوک لگی کیسے تھی ۔۔۔آنکھوں کے سامنے شاہزیب کا چہرہ تھا ۔۔۔۔۔رات دیر تک وہ روتی رہی پھر شاہزیب کو فون کرنے کا۔ خیال آیا تو اپنا موبائل لیا اور اس کا نمبر ڈائل کیا ۔۔۔۔۔۔شاہزیب سے بات کرنے کے بعد وہ خود کو بہت فریش محسوس کر رہی تھی ۔۔۔عجیب لڑکا تھا ۔۔۔۔۔عجیب انداز تھا اس کا بے تکلف سا ۔۔۔۔سب سے الگ سا ۔۔۔۔نیناں خوش تھی مطمئن تھی اپنے کسی عمل اور اظہار سے اب کوئی خوف نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔

*****…….

کھاناتوحیدر نے بھی نہیں کھایا تھا وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا ۔۔۔۔۔غصے سے بیڈ پر بیٹھ کر جوتوں سے اپنے پاؤں کو آزاد کیا ۔۔۔۔الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکال کر واش روم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔شاور کا ٹھنڈا پانی بھی اندر لگی آگ کو ٹھنڈا نہیں کر پا رہا تھا جو نیناں کے اظہار پر لگی تھی ۔۔۔۔وہ لڑکا تھا ہی کیا حیدر کے آگے ۔۔۔۔۔خوبی کیا تھی اس میں نا دولت ۔۔نا اسٹیٹس ۔۔۔۔نا ہی اچھی شکل وصورت ۔۔۔۔نین ۔ کو نظر کیا آیا ۔۔۔۔پرانی سی جینز نارمل سی ٹی شرٹ گلے میں سلور سی زنجیر منہ میں چیوگم ۔۔۔۔اس گندے سے لڑکے کا بہتا ہوا خون نین نے فورا سے اپنے ڈوپٹے سے صاف کیا ۔۔۔۔ اسکی زخمی پیشانی پر اپنا خوبصورت اور نارک ہاتھ پھیر رہی تھی رو رہی تھی ۔۔۔اس بلڈی راسکل کے لئے ۔۔۔”بہت دیر تک وہ شاور لیتا رہا پھر چینج کر کے بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔۔صبح پھر سے وہ نیناں کو کالج چھوڑنے کے لئے ریڈی تھا ۔۔۔۔نیناں جب بریک فاسٹ کے لئے ڈائینگ پر آئی تو رات والے واقع کا ذرا سا شائبہ تک اس کے چہرے پر نہیں تھا وہ بہت خوش لگ رہی تھی ۔۔ اپنی طرف سے وہ حیدر کو منع کر چکی تھی پھر شاہزیب کی باتوں کا اثر تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہی تھی آج اس نے ناشتہ بھی ڈٹ کر کیا تھا ۔۔۔۔اور بختیار صاحب سے ہنس ہنس کر باتیں بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔بہت دن بعد آج وہ پہلے جیسی نیناں لگ رہی تھی ورنہ جب سے حیدر آیا تھا اس نے نیناں کو چپ چپ ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔حیدر جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا نیناں پھر سے خاموش اور سنجیدہ سی اس سے لاتعلق ہو کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔وہ چپ ہی رہا کالج کے گیٹ پر پہنچ کر نیناں خاموشی سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔

دو دن میں شاہزیب بھی ٹھیک ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔زمان صاحب سے اس نے یہی بہانہ بنایا کہ اسکی بائیک کے سامنے چھوٹا بچہ اچانک آ گیا تھا اس لئے اسے بچانے کے چکر میں اسے چوٹ لگ گئ۔۔۔۔تیسری رات شاہزیب نے نیناں کو خود کال کی ۔۔۔۔۔جو اس نے دوسری بیل پر اٹھا لی ۔۔۔۔۔

“ہیلو ۔۔۔

“ہاں کیا ڈسائیڈ کیا تم نے ۔۔۔کہاں مل رہے ہیں ہم ۔۔۔”شاہزیب ڈارکٹ مدعے پر آیا تھا

“شاہزیب۔ ۔۔۔میں ابھی آپ سے نہیں مل سکتی “

“کیوں “

“بس یونہی “

“نیناں مجھے ملنا ہے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں یار۔۔۔۔ بس میں کوئی بھی بہانہ نہیں سنو گا ۔۔۔۔۔۔کل ہم مل رہے ہیں ۔۔۔۔میں بارہ بجے تمہارے کالج کے باہر تمہیں ملوں گا ۔۔۔۔”شاہزیب۔ نے نیناں کو ایک نئ مشکل میں ڈال دیا تھا ۔۔۔۔بارہ بجے وہ کالج کے گیٹ پر کھڑی ہو گئ کچھ ہی دیر میں شاہزیب بھی پہنچ گیا تھا بیگ کاندھے پر لٹائے وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔وہ شلوار قمیض پہنے گلے میں سلیقے سے ڈوپٹہ اوڑھے اس کے قریب پہنچ گئ ۔۔۔۔

“ہائے “نیناں کچھ تذبذب کا شکار ہو رہی تھی

“ہائے ۔۔۔چلو اب بیٹھو۔۔۔۔۔”شاہزیب نے بائیک پچھلی نشست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

“شازیب مجھے ایک بجے سے پہلے واپس یہیں ڈراپ کر دیجیے ۔گا ۔۔۔”نیناں کو واپسی پر حیدر ہی پک کرتا تھا۔۔۔

“تم بیٹھو تو ۔میری مینا ۔۔۔واپسی کا بھی سوچ لیں گئے ۔۔۔۔”وہ ویسا ہی لاپروا اندازاہ سے بول رہا تھا جو اسکی شخصیت کا خاصا تھی

نیناں نے کچھ نروس ہو رہی تھی پھر لڑکوں کے انداز سے بائیک پر بیٹھنے لگی

“یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔طریقے سے بیٹھوں ۔۔۔پینٹ شرٹ میں تم یوں بیٹھی پھر بھی کچھ ٹھیک لگتی مگر ان کپڑوں میں بہت برا لگے گا ۔۔۔”شاہزیب نے فورا ٹوک دیا

“پھر کیسے بیٹھوں ۔۔مجھے یونہی بیٹھنا آتا ہے ۔۔۔۔”نیناں کے نافہمی پر شاہزیب کوفت میں مبتلہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

“افف کیا کیا سکھانا پڑے گا تمہیں ۔۔۔۔تم ویسے بیٹھوں جیسے کرسی یاصوفے پر بیٹھتی ہو ۔۔۔۔”

“شاہزیب میں گر جاؤں گی “‘وہ پریشان ہوئی تھی

“نہیں گرو گی ۔۔۔۔بیٹھوں تو سہی ۔۔۔۔”شاہزیب کے کہنے پر نیناں ڈرتے ہوئے اسکے پیچھے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔اور فورا سے اسے کندھوں سے مضبوطی سے پکڑ لیا ۔۔۔۔۔شاہزیب نے بائیک کی کل ماری اور بائیک آگے بڑھا دی

“ڈرو مت ۔۔میں بائیک آہستہ چلاؤ گا ۔۔او کے ۔۔۔”شاہزیب نے بائیک کی اسپیڈ ہلکی ہی رکھی تھی وہ نیناں کو سیدھا سی ویو پر ہی لیکر گیا تھا دن کے بارہ بجے رش نا ہونے کے برابر تھا بائیک سے اتر کر وہ سمندر پر بنی شلف پر بیٹھ گئے ۔۔۔ہوا بہت تیز تھی اور سمندر کی لہروں کو آتے جاتے دیکھ رہے تھے یا شاید یہ سوچ رہے تھے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے ۔۔۔۔ نیناں چپ تھی

“نیناں مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں کبھی بائیک کے علاؤہ بھی کسی سے محبت کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔میرے خواب تو بس بائیک سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہوتے تھے ۔۔۔۔مگر تم نے تو مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔پتہ ہے تم بہت الگ سی ہو ۔۔۔۔”شاہزیب۔ اسے غور۔ سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا

“الگ مطلب “

“مطلب عام لڑکیوں جیسی بلکل نہیں ہو ۔۔۔۔۔کچھ میرے جیسی ہو ۔۔۔”شاہزیب نے سوچتے ہوئے کہا

” آپکے جیسی “

“ہاں مطلب لڑکوں جیسی سوچ رکھنے والی ۔۔۔۔ورنہ لڑکیاں محبت کر بھی لیں تو اظہار میں کبھی بھی خود سے پہل نہیں کرتیں ۔۔۔لیکن تم نے بلا جھجک مجھ سے صاف صاف کہہ دیا تھا ۔۔۔ اس وقت مجھے یقینن نہیں آ رہا تھا کہ میرے انکار کے باوجود تم اپنی بات قائم دائم رہی ۔۔۔ورنہ لڑکیاں تو آنا کا مسلہ بنا لیتی ہیں۔۔۔۔۔۔پھر میری وجہ سے جس طرح سے تم نے خود کو بدلنا ،شروع کیا ۔۔۔میرے دل کو بھی بدل کر رکھ دیا ۔۔۔۔مجھے لگتا تھا محبت فارغ لوگوں کا کام ہے ۔۔۔۔جو کچھ نہیں کر سکتے وہ محبت کر لیتے ہیں ۔۔۔”شاہزیب کی بات پر وہ ہسنے لگی تھی ۔۔۔۔پہلی بار شاہزیب اسے یوں کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

“سیریسلی میں بھی یہی سمجھتی تھی شاہزیب مجھے بھی سب سے فضول کام محبت ہی لگتا تھا ۔۔۔۔۔آپکی اور میری سوچ کتنی ملتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔شاید اسی لئے مجھے آپ پہلی بار میں ہی بہت اچھے لگے تھے ۔۔۔بہت الگ سے ۔۔۔۔”نیناں بھی بے تکلفی سے بات کرنے لگی ۔۔۔۔

“تم ہنستی بہت اچھا ہو ایسے ہی کھلکھلا کر ہنسا کرو پیاری لگتی ہو”نیناں نے مسکرا کر نظریں سامنے لہروں پر مرکوز کرلیں اسے چہرے پر آنے رنگ حیا کے تھے ۔۔۔۔اسکا تعریف پر یوں بلش ہونے پر شاہزیب۔ نےموضوع بدلہ

۔۔۔۔۔”چلو یہ بتاؤں سمندر کو دیکھ کر پہلا خیال کیا آتا ہے تمہیں ۔۔۔کہ تمہیں کیا کرنا چاہیے ۔۔۔۔”

نیناں کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اتری تھی

“پہلے آپ بتاؤں “شاہ زیب نے آنکھیں بند کیں

“تم بھی آنکھیں کرو نیناں ہم اپنے دل میں تین بار گنتی گنیں گئے اور ایک ساتھ بتائیں گئے ۔۔۔۔نیناں کو اسکا مشورہ اچھا لگا تھا ۔۔۔۔۔اس نے بھی جھٹ سے آنکھیں بند کر لیں۔۔ دل میں تین تک گنتی گنیں اور بیک وقت بولے

“ایڈونچر “پھر آنکھیں کھولیں ۔۔۔ایک دوسرے کو پہلے حیرت سے دیکھا پھر ہسنے لگے ۔۔۔۔۔

“چلو آؤں آج کا دن ایڈونچر کے نام “شاہزیب نیچے رکھے پھتروں پر اتر گیا

“کیا مطلب “

بتاتا ہوں تمہیں “شاہزیب نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے ساتھ لئے پتھروں سے نیچے اتر کر اپنے جوگر اتار کر وہیں ایک سائیڈ پر رکھے ۔نیناں نے بھی اپنے جوگر اتارے اور شاہزیب کے جوتوں کے برابر رکھ دیے ۔۔۔۔۔دونوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور سمندر کی لہروں کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔۔وہ تیزی سے لہروں کی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

*******……..

خرم جمی اور سیفی کو شاہزیب نے بہانے سے لائیبریری میں اپنا بیگ دیا اور کہا کہ تم نوٹس بناؤ میں بس ابھی کینٹین سے آیا یہ کہہ کر ۔۔۔۔شاہزیب نیناں کے پاس پہنچ گیا تھا وہ تینوں کافی دیر نوٹس پر سر کھپاتے رہے ۔۔۔جب شاہ زیب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی نہیں آیا تو وہ تینوں بھی کینٹین۔ کی پرفچللڑے مگر کینٹن میں بھی شاہزیب۔ انہیں نظر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔کافی دیر وہ اسے یونیورسٹی میں ڈھونتے رہے مگر وہ نظر ہی نہیں آیا ۔۔اس لئے چھٹی پر اس کا بیگ خرم نے اپنے پاس رکھ لیا کہ گھر جا کر شاہزیب مب جو دیدے گا ۔۔۔۔سپ ے گھر میں جانے کے بجائے اس نگ شاہزیب کے گھر کا دروازہ بجایا ۔۔

،کون “اندر سے نمیرہ کہ آواز آئی

“نمی شاہو کو بلاؤ “

“وہ گھر پر نہیں آئے “

ابھی تک واپس نہیں آیا “خرم نے تعجب سے کہا کیونکہ یونی سے تو وہ بہت پہلے ہی نکل چکا تھا

“کہاں گیا ہے وہ “خرم نے دوسرا سوال کیا

“میرا بھائی لائق فائق ہے چیٹنگ کر کے پاس نہیں ہوتا اس لئے پڑھنے کے لئے بھی یونیورسٹی جاتا ہے “یہ طنز نمیرہ نے خرم پر کیا تھا وہ اچھی طرح جانتا تھا

“ہاں جبھی اپنا بیگ چھوڑ کر یونی سے بھاگ گیا تمہارا پڑھا لکھا بھائی ۔۔۔۔۔جیسی بہن پڑھنے کی چور ویسا بھائی بھی پڑھائی سے بھاگنے والا”خرم کے تپے ہوئے جواب پر دروازہ کھلا تو نمیرہ کمر پر ہاتھ رکھے خطرناک تیور لیے اسے دیکھنے لگی

‘”ضروری نہیں ہے کہ شکل اچھی نا ہو تو انسان بات بھی اچھی نا کرے “نمیرہ نےبتن کر کہا

“شکل تو ماشاللہ سے بہت اچھی ہے ۔۔۔۔اور سچ تو ویسے بھی کڑوا ہی لگتا ہے ۔۔۔۔لو پکڑواپنے بھائی کا بیگ “خرم نے بھی تلملاتے ہوئے جواب دیا اور جیسے ہی بیگ نمیرہ کی طرف بڑھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔

نمیرہ نے غور سے خرم کی طرف دیکھا

“کالا کوا ” کہہ کر دروازہ دھاڑ سے بند کر دیا ۔۔۔اگر خرم کا ہاتھ ذرا سا بھی آگے ہوتا تو دروازے کے بیچ میں ضرور آ جاتا ۔۔۔۔۔خرم زچ ہوتا ہوا واپس اپنے فلیٹ میں چلا گیا ۔۔۔۔۔کچھ دیر میں دروازے پر پھر سے دستک ہوئی

“خرم کالے کوے دفع ہو جاؤں یہاں سے شاہو بھائی آئیں گئے تو آنا اب اگر دروازہ پیٹا تو منہ توڑ دونگی تمہارا ۔۔۔۔”نمیرہ نے غصے سے کہا اگلی بار ڈور بیل ہوئی ۔۔۔۔

“یہ کمینہ باز نہیں آئے گا ۔۔۔نمیرہ نے ذرا سا دروازہ کھولا اور بنا دیکھے ہی اپنا ہاتھ باہر نکالا

“لاو دو بیگ “

باہر اسوقت باسم کھڑا تھا ۔۔۔۔عاصم کو ٹیوشن پڑھانے آیا تھا ۔۔۔۔پہلی دستک پر نمیرہ کی گل فشانی سن چکا تھا ۔۔۔اس لئے دوسری بار ڈور بیل دی تھی مگر ایک زمانہ ہاتھ باہر دیکھ کر ذرا سا پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔ باسم نے گلہ صاف کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا

“اب کیا ہڈی پھنس گئ ہے گلے میں ۔۔۔بیگ دینا ہے تو دو ورنہ نکلو یہاں سے “نمیرہ ہر بات سے انجان بس بولنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔

“عاصم ہے تو پلیز اسے بلا دیں “مجبورا باسم ۔کو بولنا ہی پڑا ۔۔۔۔باسم کی آواز سن کر نمیرہ کی آنکھیں پھٹی تھی ۔۔۔جلدی سے تصدیق کے لئے دروازہ کھول کر سامنے دیکھا تو باسم نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

“ہائے اللہ جی ۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔”نمیرہ کی جان پر بنی تھی ۔۔انجانے میں اپنا آپریشن باسم کے سامنے برا بنا بیٹھی تھی ۔۔۔۔”

“سوری۔۔۔میں سمجھی کوئی اور ہے “

“اٹس او کے ۔۔۔اگر آپ کو زحمت نا جو تو آپ اندر آنے کی جگہ دیں گیں “باسم نے بس ایک سرسری سی نظر ہی اس ڈالی تھی ۔۔۔۔

“جی ۔۔۔جی جی ۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔۔ آئیے ۔۔۔’نمیرہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئ وہ سیدھا نظریں جھکائے ڈرائینگ روم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔عاصم پہلے ہی وہاں اپنی کتابیں کھولے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔نمیرہ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر مارا دل میں خود کو جی بھر کر کوسنے لگی ۔۔۔۔۔کیا ضرورت تھی بنا دیکھے اتنا کچھ سنانے کی ۔۔۔۔مجھے پہلے دیکھنا چاہیے تھا ۔۔۔کیا سوچتے ہوں گئے وہ میرے بارے میں اتنی گز لمبی زبان ہے میری ۔۔۔۔توبہ توبہ نمی تمہاری لو اسٹوری تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم جائے گی۔۔۔۔۔نمیرہ منہ انگلی دبائے پریشان حال ابھی تک بیرونی دروازے پر کھڑی تھی ۔۔جب شازمہ روتی ہی ہوئی کمرے سے نکلی ۔۔۔۔نمیرہ اپنی فکر چھوڑ شازمہ کے پاس آگئں۔وہ سامنے رکھے ٹیبل کی کرسی کھنچ کر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے رونے لگی عاتقہ بیگم اس وقت گھر نہیں تھیں پڑوس میں گئیں تھیں

“شازی آپی کیوں رو رہیں ہیں کیا ہوا ہے “

“کچھ نہیں نمی شازل بات نہیں کر رہا مجھ سے ۔۔۔میرا فون تک نہیں اٹھا رہا ۔۔۔۔۔کیسے مناوں اسے ۔۔میرا قصور کیا تھا ۔۔۔۔۔”نمیرہ کو بہن پر ترس آنے لگا اس نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کیے سامنے رکھے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر اسے پانی پلانے لگی

“مان جائیں گئے شازل بھائی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔”

“نہیں نمی اس بار نہیں مانے گا ۔۔۔۔۔کافی دن سے اسے فون کر رہی ہوں ۔۔۔وہ فون نہیں اٹھا رہا ۔۔۔۔۔

“اچھا آپ چپ تو کریں …کب تک ناراض رہیں گئے ۔۔۔مسن ہی جائیں گئے نا “نمی نے شازمہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیکر کہا ۔۔۔۔

“میں چائے بناتی ہوں آپ کے لئے ۔۔۔رو رو کر آنکھیں کتنی سوج گئیں ہیں آپ کی ۔۔سر میں درد بھی ہو رہا ہو گا “نمیرہ اٹھ کر کچن میں چلی گئ۔۔۔۔۔

******………

شاہزیب نیناں کا ہاتھ پکڑے سمندر کے پانی میں آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔پانی پہلے ٹخنوں سے اونچا ہوا پھر پنڈلیوں سے ۔۔۔جب گھٹنوں سے اوپر ہونے لگا تو نیناں رک گئ ۔۔۔۔شاہزیب کے ہاتھ پر اسکی گرفت بھی مضبوط ہونے لگی ۔۔۔

“بس شاہزیب اس سے آگے نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔”

“کیوں ۔۔۔۔۔بس اتنی ہی ہمت ہے ۔۔۔چلو نا نیناں کچھ نہیں ہو گا تمہیں ۔۔۔میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا ہے نا ۔۔۔نہیں گرو گی ۔۔۔۔”شاہزیب اسے کچھ اور آگے لے گیا مگر اب نیناں ڈرنے لگی تھی ہوا کا زور پھر پانی کا زور نیچے سے پھسلتی ریت سے پاؤں بھی جمانا مشکل ہو رہا تھا

“نہیں شاہزیب بس اس سے آگے نہیں ۔۔۔”

“او کے ۔۔۔اب میں تمہارا ہاتھ چھوڑنء لگا ہوں ۔۔۔بی کیر فل بس تم آنکھیں بند کرنا اور دونوں ہاتھ ہوایں پھیلا کر پیچھے کو قدم بڑھانا ۔۔۔تمہیں لگا گا تم ہواؤں میں پرواز کر رہی ہو ۔۔۔بہت مزا آئے ۔۔۔”اپنی بات ختم کرتے ہی شاہزیب نے جھکے سے نیناں کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے جدا کیا تھا ۔۔۔۔۔

“شاہزیب میرا ہاتھ پکڑیں میں گر جاؤں گی ۔۔۔۔ہوا بہت تیز چل رہی تھی نیناں کے قدم ڈگمگانے لگے ۔۔۔۔۔۔”

“نہیں نیناں ۔۔۔۔ اصل ایڈونچر تو اب شروع ہو گا ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کرو اپنی دونوں بازوں کو پھیلاؤ اور اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔”شاہزیب کے چہرے کی چمک سے لگ رہا تھا کہ ایسا وہ پہلے بہت بار کر چکا ہو

“نہیں ۔ نا ۔۔۔شاہزیب میں گر جاؤں گی بیلنس نہیں کر پاؤں گی ۔pleace hold my hand “نیناں نے اپنا ہاتھ شاہزیب کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔۔وہ دو قدم۔اور پیچھے ہٹ گیا جہاں وہ اب نیناں کی پہنچ سے دور تھا

“No meena ….focus on keeping your. feet balance …dear …you can do it “

شاہزیب کے صاف انکار پر نیناں کو غصہ بھی آ رہا تھا

“شاہزیب میں گر جاؤں گی آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں “

“نیناں پلیز یار نہیں گرو گی ۔۔آنکھیں بند کرو اپنی ۔۔۔۔”مرتا کیا نا کرتاوالی مثال اسوقت نیناں کو خود پر بلکل فٹ لگ رہی تھی یوں بیچ سمندر میں شاہزیب اس کے ساتھ یہ ایڈونچر کرنے والا ہے اگر نیناں کو ذرا سا بھی اندازہ ہوتا تو کبھی آتی ہی نا اسکے ساتھ ۔۔۔نیناں نے اپنی آنکھیں بند کیں دونوں بازوں کو بھی ہوا میں پھیلا دیا ۔۔۔۔۔۔ اب وہ اپنے قدموں کو جمانے کی کوشش کرنے لگی جو ہوا کے زور سے ڈگمگا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ پانی کے وزن سے وہ قدم تک نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔۔۔مگر پھر ہمت کر کے اپنے قدم پیچھے کو بڑھانے لگی مگر دوسرے ہی قدم پر اس کا پیر ڈگمگایا اور وہ اپنا بیلنس قائم نہیں رکھ پائی ایک چیخ کے ساتھ وہ پیچھے کی طرف گرنے لگی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ گرتی کسی کے ہاتھوں نے اسے

بازوں سے مضبوطی سے تھام کر گرنے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔نیناں نے پلٹ کر پیچھے دیکھا وہ اسکے بلکل پیچھے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا تھا

“تمہارے پیچھے ہی ہوں میں بیفکر رہوں میں تمہیں گرنے نہیں دونگا ۔۔۔۔

Know close your eyes and do it

شاہزیب نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسکے بازو چھوڑ دیے ۔۔۔۔۔نیناں اب مطمئن تھی ۔۔۔۔اس لئے اب سامنے لہروں کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں اب اسے گرنے کا ڈر نہیں تھا اس لئے سارا فوکس اب وہ اپنے قدموں کو کی طرف کر چکی تھی پیروں کو جماتے ہوئے ہاتھ پھیلائے اب وہ پیچھے کو قدم بڑھانے لگی ۔۔۔چند قدموں بعد اسے واقع یہ محسوس ہونے لگا کہ ہوا میں پرواز کر رہی ہے اب وہ بہت آرام سے چل رہی تھی پانی اب اسکی پنڈلیوں سے بھی نیچے تک آچکا تھا وہ اب بہت آرام سے چل پا رہی تھی ۔۔۔جب اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔تو شاہزیب اسکے سامنے کھڑا اپنے موبائل پر اس کی مووی بنا رہا تھا ۔۔۔۔نینان کی آنکھیں کھلی دیکھ کر شاہزیب۔ نے موبائل بند کیا اور جیب میں رکھ لیا ۔۔۔۔۔۔اور نیناں کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔

“میں نے کہا تھا نا تم کر سکتی ہو۔۔۔ نہیں گرو گی ۔۔۔۔۔۔”

“مجھے لگا آپ میرے پیچھے ہی کھڑے ہو ۔گروگی تو مجھے سنبھال لیں گئے ۔۔۔”وہ خفگی سے بولی

“نہیں میں تو فورا سے ہٹ گیا تھا اس لئے کہ مجھے یقین تھا کہ تم یہ کر لو گی میں تو کب سے تمہیں اپنے موبائل میں قید کر رہا ہوں ۔۔۔”اب وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کی نظروں سے نیناں کچھ گڑگڑائیں تھی

“شاہزیب مجھے واپس کالج چھوڑ دیں کچھ ہی دیر میں ڈرائیور مجھے رسیو کرنے آیا اور میں وہاں نہیں ملی تو پوپس بہت ناراض ہوں گئے “شاہزیب نے دوبارہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا

“کال کر دو اپنے پوپس کو کہہ دو تم دوستوں کے ساتھ ہو ۔۔۔۔آج کا دن ہم ایک ساتھ گزاریں گئے نیناں ۔۔۔۔۔۔اور بلیو می تمہیں یہ دن ہمیشہ یاد رہے گا ۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر وہ کچھ تذبذب کا شکار ہوئی تھی شاہزیب سے دوبارہ التجائیہ انداز سے بولی

“شاہزیب ” شاہزیب نے نیناں نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروادیا

“میں نے کہہ دیا نا آج ہم ساتھ رہیں گئے ۔۔۔۔۔چلو جلدی سے فون کرو اپنے پوپس کو ۔۔۔۔” نیناں نے اسکی طرف بے بسی سے دیکھا ۔۔۔پھر بختیار صاحب کو کال کر کے کہنے لگی کہ آج وہ اپنی دوستوں کے ساتھ ہے شام۔کو ہی گھر لوٹے گی ۔۔۔۔بختیار صاحب نے بھی ذیادہ اعتراض نہیں کیا کافی دن سے وہ کچھ چپ چپ سی تھی پھر دوستوں کے ساتھ بھی نہیں گئ تھی ۔۔۔۔۔۔اجازت ملتے ہی اب وہ کچھ ریلکس ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر وہ سمندر پر ہی چہل قدمی کرتے رہے ۔۔۔۔

“نیناں تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے پوپس مان جائیں گئے ؟شاہزیب کے سوال پر نیناں کے چہرے پر خوف اترا تھا

“کیا آپکے ابو مانے گئے ؟ڈر تو نیناں کی طرح شاہزیب کے دل بھی یہی تھا

“نیناں نے الٹا اسی سے پوچھا کچھ دیر وہ نیچے گیلی ریت کو اپنے جوگر سے کریدتے ہوئے چلتا رہا ۔۔۔

“پہلے تو صاف انکار کر دیں گئے۔۔۔بہت ڈانٹ بھی پڑے گی لیکن پھر بھی مجھے لگتا ہے مان جائیں گئے ۔۔۔محبت تو کرتے ہیں۔ مجھ سے یہ تو کنفرم سی بات ہے “شاہزیب نے نیناں کے ساتھ ساتھ اپنے دل کو بھی تسلی دی تھی

“میرے پوپس بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔ش شاید ۔۔۔پہلے وہ ۔۔۔۔بھی ۔۔۔۔۔۔”نیناں کی زبان لڑکھڑائی تھی حیدر کا خیال بھی آنے لگا جو اس وقت ایک نئے رشتے کی حیثیت سے اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔نیناں کہ ادھوری بات شاہزیب نے مکمل کی تھی

“وہ بھی مان ہی جائیں گئے نیناں ۔۔۔مجھے معلوم ہے ۔۔۔۔۔سب ماں باپ ایسے ہی ہوتے ہیں باہر سے سخت اندر سے نرم ۔۔۔تم فکر مت کرو ۔۔۔۔”شاہزیب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

“نیناں کیا تمہارے فرینڈز گروپ میں لڑکے بھی شامل ہیں”؟ “

“یس ۔۔۔۔پر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں “

“اس لئے کہ تم جس کلاس سے تعلق رکھتی ہو وہاں یہ سب عام سی بات سمجھی جاتی ہے پر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔۔اب جب کے میں تمہارے لئے سیریسلی سوچنے لگا ہوں تو یہ تو کبھی نہیں چاہوں گا کہ میرے علاؤہ تمہارا کوئی میل فرینڈ ہو ۔۔۔”شاہزیب۔ نے صاف گوئی سے پوچھا

“آپ کو نہیں پسند تو آج سے چھوڑ دوں گی سب کو “نیناں فورا سے مان گئ تھی شاہزیب کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔۔۔”

“ہاں میرے علاوہ تم کسی کے ساتھ بھی مجھے نظر نا آؤں ۔۔۔۔تا کہ جب میں تمہاری بات اپنے ابو سے کروں تو یہ ایشو انکے سامنے نا آئے ۔۔۔یہ بات ابو کو سخت نا پسند ہے ۔۔۔”شاہزیب اب اسے اصل بات کی طرف لا رہا تھا

“کچھ پکانا وکانا بھی آتا ہے تمہیں کہ نہیں “یہ دوسرا سوال تھا

“نہیں ۔۔۔مجھے کچھ نہیں آتا ۔۔۔سب کچھ رحمت بی بی ہی بناتی ہیں “

“تو کچھ سکھوں نا یار ۔۔۔۔میری امی تم سے اور کچھ کروائیں یا نا کروائی۔ کھانا ضرور پکوائیں گئیں “

“یہ مشکل ہے شاہزیب پوپس مجھے کچن میں گھسنے بھی نہیں دیتے ۔۔۔۔بہت دانٹتے ہیں

“وہ کیوں۔ “

“بس کہتے ہیں مجھے یہ سب سیکھنے ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”

“چلو کوئی بات نہیں مت سیکھو ۔۔۔شادی کے بعد امی سے سیکھ لینا ۔۔۔ “شاہزیب یوں بات کر رہا ہے جیسے سب طے ہو چکا ہو۔۔۔۔مسلہ بس ککنگ کا ہی بچا ہو ۔۔۔

“تم یہیں رکو میں ابھی آیا ۔۔۔”یہ کہہ کر شاہزیب چٹکی بجاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا نیناں بس اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ بائیک اسے آتے ہوئے نظر آیا ۔۔۔۔۔بائیک اس کے سامنے کھڑی کر کے نیچے اترا ۔۔جہاں وہ دونوں موجود تھے وہاں رش بلکل نہیں تھا دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

“بائیک چلانا سیکھوں گی “

“وہ مجھے آتی ہے “نیناں نے مسکرا کر جواب دیا شاہزیب نے تعجب کا اظہار کیا

” تمہیں بائیک چلانا آتی ہے ۔۔۔سیریسلی؟”

“ہاں میں کئی بار چلائی ہے یہیں قریب قریب ۔۔پوپس ذیادہ دور تک نہیں جانے دیتے تھے “

“واو ۔۔۔چلو پھر چلا کر دیکھا “شاہزیب نے چابی نیناں کی طرف بڑھا دی ۔۔۔نیناں نے بائیک اسٹاٹ کی اور چلا کر ایک راؤنڈ سمندر پر لگایا شاہزیب اسے بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔نیناں نے بائیک اس کے پاس جا کر روک دی ۔۔۔

“تم تو کمال کی لڑکی ہو تمہاری میری بہت جمنے والی ہے ۔۔۔۔”اس سے پہلے کے نیناں نیچے اترتی شاہ زیب اسکے پیچھے بائیک پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔

“ناؤ کے اسٹاٹ یور نیکسٹ ایڈونچر “یہ کہہ کر اس نے نیناں کو مزید بولنے کا موقع نہیں دیا تھا ۔۔۔اپنے ہاتھ نیناں کے ہاتھ پر رکھے بائیک اسٹاٹ کی اور خالی سمندر پر فل اسپیڈ سے بائیک چلاتے ہوئے ۔۔۔بہت جلد ہی پہلا ٹائر اٹھا لیا ۔۔۔۔یہاں تک تو نیناں چپ رہی لیکن سب وہ ون ویلنگ پر بائیک کو شیک زیک کی طرح چلانے لگا ۔۔۔۔نیناں کی خوف سے چیخیں نکلیں۔۔تھیں ۔۔۔

“شاہزیب اسٹوپ دا بائیک پلیز “بائیک کا ویل یک دم ہی نیچے ہوا تھا ۔۔۔۔۔بائیک کی اسپیڈ بھی ہلکی ہو گئ ۔۔۔۔

“آج کےلئے اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔۔۔لیکن شاہو کا وعدہ ہے ۔۔اپنے ساتھ ساتھ تمہیں بھی ہواؤں کی سیر کرواں گا ۔۔۔۔”

“مجھے نہیں کرنی ۔۔۔پلیز بائیک روکیں “کی خوف سے جان نکلی تھی ابھی تک حواس بحال نہیں ہو پا رہے تھے ۔۔۔۔

“نیناں جی ۔۔۔مجھے سے محبت کرنی ہے تو میری ون ویلنگ سے بھی محبت کرنی پڑے گی ۔۔۔کیونکہ شاہو کبھی بھی اس میں کامپرومائز نہیں کر سکتا ۔۔۔نیور ایور۔۔۔۔”بائیک اب تک چکی تھی شاہزیب نے سامنے ریس سے نیناں کے ہاتھ چھوڑ دیے تھے ۔۔خود بھی بائیک سے اتر چکا تھا اور نیناں بھی ۔۔۔۔کچھ دیر بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔

“میں دوبارہ آپ کے ساتھ یوں ویلنگ کرتے ہوئے نہیں بیٹھوں گی “

“یہ تو میں ڈسائیڈ کرو گا ۔۔۔۔میری مینا تمہارے دل کے ساتھ ساتھ زندگی ڈور بھی اب میرے ساتھ جڑ چکی ہے اس لئے دل کو بہت مضبوط کر لو ۔۔۔۔”شاہزیب کی آنکھوں میں محبت کے ساتھ ساتھ ۔۔عجیب سا استحقاق سا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ اس پر پورا حق رکھتا ہے ۔۔۔۔نیناں کچھ نروس سی ہوئی تھی ۔۔۔۔بسحجک چلانا یا اسکے پیچھے بیٹھ کر سفر کرنا تو ٹھیک تھا مگر ون ویلنگ میں اس کا ساتھ دینا ایک مشکل مرحلہ تھا ۔۔۔۔

“بھوک لگی ہے تمہیں “شاہزیب۔ نے اگلا سوال کیا

“ہاں لگ تو رہی ہے ۔۔۔ “

“چلو آؤں کچھ کھاتے ہیں ۔۔۔”شاہزیب اسے اپنے ساتھ لئے ایک ایسے علاقے میں لے گیا جو خاصا پرانہ سا تھا کافی عمارتیں اتنی خستہ حال اور پرانے طرز کی بنی ہوئی تھیں کہ پاکستان بننے سے پہلے کی تعمیر شدہ ہوں ۔۔۔نیناں ذیادہ تر ڈیفنس میں ہی رہی تھی اس لئے وہاں کے ماحول کی عادی تھی باقی کراچی کے علاقوں سے نا واقف تھی ۔۔۔ماحول بھی عجیب سا تھا اور لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے بولنے کے انداز بھی الگ تھے ۔۔۔ نیناں نے ہمیشہ اچھے ہوٹل یا رسٹورنٹ میں کھایا تھا مگر اس طرح کی جگہ پر کبھی نہیں آئی تھی بائیک ایک چاٹ والے ٹھیلے کے پاس کھڑی کر ہوئی ۔۔۔۔سامنے بڑی سی گول اسٹیل کی ڈش میں چنے رکھے تے جس پر باریک سفید ممل۔کا کپڑا رکھا تھا اور اس کپڑے کے اوپر بے تحاشہ مکھیاں بھنبھنا رہیں تھیں ۔۔۔۔ایک سائیڈ پر مٹی کا روغنی مٹکا رکھا ہوا تھا جو مٹی کے ڈھکن سے ہی ڈھکا ہوا تھا ۔۔۔ایک اسٹیل کے باول میں ابلے ہوئے آلو رکھے تھے۔۔۔باقی کھلے مسلے اور چٹناں یونہی کھلی ہوئی تھیں ۔۔ اس ٹھیلے کا جائزہ نیناں نے ناپسندیدہ انداز سے لیا پھر اپنا رخ بدل دیا ۔۔۔۔۔

“چاچا دو پلیٹ اسپیشل چاٹ مسلہ اور کھٹا اکسڑا ڈال کر دینا ۔۔۔۔”شاہ زیب بائیک سے اتر چکا تھا ۔۔۔اس لئے نیناں کو بھی اترنا پڑا شاہزیب کا آڈر سن کر وہ برجستہ بولی

“نہیں شاہزیب مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔ “وہ اس قسم کی جگہ پر اس قسم کا کھانا تو ہر گز نہیں کھا سکتی تھی

“کیوں نہیں ہے ۔۔دوپہر کے تین بج رہے ہیں ۔۔۔”

“شاہزیب میں ۔۔۔میں یہ نہیں لگا سکتی۔۔”نیناں نے ناک چڑھائی تھی

“کیوں “

“اتنی تیز اسپائس مجھے عادت نہیں ہے “ایک بہانہ بنایا

“اچھا تو کم ڈلوا دیتا ہوں

“چاچا ایک پلیٹ میں مسلہ ذرا سا کم ڈال دینا “

“اچھا ٹھیک ہے “اس سامنے میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ کھڑا شخص جو منہ میں پان دبائے بامشکل ہی بول پا رہا تھا ۔۔۔۔اس نے ہاتھ سے سب سے پہلے اس چنے کی ڈش سے مکھیاں اڑائیں ۔۔۔۔پھر برابر میں رکھی میلی کچلی بالٹی سے جس کا پانی بھی گندلا سا تھا ۔۔اس میں دو پلٹیں نکال کر ایک گندے سے کپڑے سے صاف کی پھر اس میں چنے آلو اور باقی کی چیزیں ڈالنے لگا چوں کہ دوپہر کا وقت تھا اس لئے اس کے چہرے پر پسینہ بھی بہت رہا تھا جیسے وہ اپنی آستینوں سے صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔نیناں کا یہ سب دیکھ کے جی متلیا تھا ۔۔۔۔اس نے بے بسی سے شاہزیب کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اپنی پسند سے نا جانے اور کیا کیا ڈلوا رہا تھا کچھ ہی دیر میں پلٹیں تیار ہو چکیں تھیں ۔۔۔ نیناں نے ایک نظر اس پلیٹ پر ڈالی جہاں مکھیاں اپنا حصہ لینے فوراسے پہنچ چکی تھیں

“میں ۔۔۔مجھے ۔۔۔۔شاہزیب میں یہ سب نہیں کھاتی ہوں “نیناں سمجھ نہیں پا رہی کہ شاہزیب کو منع کیسے کرے

“کیا مطلب نہیں کھاتی ۔۔۔۔کھا کر دیکھوں بہت مزے کی ہے”وہ اپنی پلیٹ میں سب کچھ مکس کرتے ہوئے بولا

“ہم کہیں اور چلتے ہیں شاہزیب ۔۔۔۔کسی اچھے سے رسٹورنٹ میں “شاہ زیب نے چمچ منہ ڈالتے ہوئے نیناں کو غور سے دیکھا جس کے چہرے پر ناگورای اور کوفت کے آثار تھے ۔۔۔

“برنس روڈ کی سب سے مشہور چاٹ ہے یہ۔۔۔۔ لوگ خاص طور پر اسے کھانے آتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک تم ہو کہ ایسے منہ بنا رہی ہو کہ جیسے میں تمہیں چیچوں کی ملیاں لے آیا ہوں ۔۔۔اب نخرے کم کرو اور جلدی سے کھاؤ اسے ۔۔۔نمی ۔۔ شازی اور عاصم منتیں کرتے ہیں میری۔۔۔۔ یہاں کی بات کھانے کے لئے ۔۔۔”شاہزیب یوں فخر سے کہہ رہا تھا جیسے وہ چاٹ کوئی خاص سوغات ہو ۔۔۔۔نیناں نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کو دوبارہ دیکھا ۔۔۔۔پھر بے بسی سے شاہزیب کو دیکھا ۔۔۔جو اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔پھر مجبورا چمچ پکڑ کر اوپر ڈلے پیاز پر چمچ ہلانے کر اسے مکس کرنے لگی مگر ٹھیک سے کر نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔نیناں کی زندگی کا یہ پہلا تجربہ تھا ۔۔۔۔ایک چمچ با مشکل ہی اس نے منہ میں لیا تھا ۔۔۔تیز مرچوں نے اسے کے ہوش ٹھکانے لگا دیے تھے ۔۔۔۔

“پانی ۔۔۔۔”وہ چلائی تھی

“کیا ہوا “

“افف مرچیں بہت تیز ہیں اس میں ۔۔۔۔”اس چہرا یک دم ہی سرخ ہوا تھا ۔۔۔”

سامنے رکھے کولر سے پانی کا گلاس بھر کر شاہزیب نے نیناں کو دیا مرچیں اس قدر تیز تھیں کہ نیناں نے گلاس پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی فٹافٹ بس پانی پی کر منہ میں مرچوں سے لگی آگ کو ختم کرنے کی کوشش کرنے لگی آنکھوں سے پانی بہنے لگا ۔۔۔نیناں نے پرس سے ٹشو نکالا اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی شاہزیب اسی کو دیکھ رہا تھا

” پھر اسکی پلیٹ پکڑ کر دیکھی جسےاس نے ٹھیک سے مکس بھی نہیں کیا تھا اس لئے مسالے اوپر ہی موجود تھے

“تم بھی نا نیناں کیا بنے گا تمہارا تمہیں تو ٹھیک سے کھانا بھی نہیں آتا ۔۔۔۔”اب وہ اس کی پلیٹ کی سب اشیا کو مکس کرتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔۔

“لو اب کھاؤ ۔۔۔۔”نیناں نے پلیٹ دوبارہ پکڑی گہری سانس لی پھر سوچا کہ محبت میں نا جانے ایسی کتنی قربانیاں دینی پڑیں گئیں اور کھانے لگی مرچیں بے شک تیز تھیں مگر ٹیسٹ واقع بہت اچھا تھا ۔۔۔۔۔”مگر اتنے تیز اسپائس کھاتے ہوئے اس کا چہرہ تمتمانے لگا تھا ۔۔۔۔انکھڈں سے بار بار پانی نکل رہا تھا

اسکے بعد نیناں نے کسی چیز پر بھی اعتراض نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

سمجھ چکی تھی کہ وہ اسکی طرح اتنا مہنگا لنچ افوڈ نہیں کر سکتا اور ناہی اسکے پیسوں سے کچھ کھائے گا ۔۔۔اس لئے یہ سمجھوتا تو نینان کو ہی کرنا تھا وہ خاموشی سے کھاتی رہی مرچیں سب بھی اس کے لئے تیز ہی تھیں مگر اس بار اس نے ظاہر نہیں کیا ۔۔۔۔چاٹ کھانے کے بعد شاہزیب۔ ایک اور ٹھیلے پر اسے لے گیا ۔۔۔۔

“گنے کا رس پی لو مرچوں کی تیزی ختم ہو جائیں گی ۔۔۔”شاہزیب۔ نے بائیک پر بیٹھی نیناں کو پیچھے مڑ کر کہا پھر ایک گلاس بھی آڈر کیا ۔۔۔۔

“نہیں مرچیں تو نہیں لگ رہیں مجھے ۔۔۔”نیناں نے جھوٹ بولا تھا ورنہ منہ تو اب بھی جل رہا تھا ۔۔۔۔شاہزیب ہسنے لگا ۔۔۔۔

“اچھا تو چہرہ تمہارا شرم سے لال ہو رہا ہے ۔۔۔حالانکہ میں نے تو اسی کوئی بھی رومنٹک بات تم سے نہیں۔ کی ۔۔۔۔۔”شاہزیب کے کمنٹ پر وہ چھنپ سی گی۔۔۔ وہ بائیک پر بیٹھا پیچھلے پلٹ کر اسی کو دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔پھر سامنے ایک گلاس پکڑ کر اسکی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔نیناں گلاس پکڑ کر پینے لگی ۔۔۔۔واپس شاہزیب نے اسے اسکے گھر پر ہی اتارا تھا ۔۔۔۔۔۔سامںے اپنے ٹیرس پر کھڑے حیدر نے جب یہ نظارہ دیکھا تو حیرت سے دیکھتا ہی رہ گیا