One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 36
Rate this Novel
One Wheeling Episode 36
One Wheeling by Umme Hani
کچن میں کھانے کے شوپر شلف پر رکھتے ہی نیلو نے سب سے پہلے شوپر کھول کر کلیوں اور گلاب کے گجرے نکالے تھے ۔۔۔۔پہلے اسکی دلفریب خوشبوں سے اپنی سانسوں کو معطر کیا ۔۔۔۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں پہن لئے ۔۔۔۔۔
رباب بھی کچن میں آ چکی تھی وہ کھانا لگانے میں نیلو فر کی ہیلپ کرنے کے ارادے سے آئی تھی مگر اسکے ہاتھوں میں کلیوں کے گجرے دیک کر خوشی اسکے ہاتھ تھام لئے
“ہائے نیلو آپی کتنے خوبصورت اور پیارے ہیں “اسکا یوں خوشی سے چہکنا دیکھ کر نیلو نے رباب سے پوچھ ہی لیا
“تمہیں پسند ہیں “
“بے انتہا ۔۔۔لیکن امی پہنے سے منع کرتی ہیں کہتی ہیں شادی سے پہلے لڑکیوں کو یہ سب پہنا جچتا نہیں ہے” ۔۔۔۔۔٫وہ منہ بسور کر بولی
“کچھ نہیں ہوتا تم پہن لو “نیلو اترنے لگی لیکن رباب نے منع کر دیا
“نہیں نیلو آپی ابھی نہیں ہاں لیکن آپکی اور آپاں کی مہندی پر ضرور پہنوں گی “یہ کہہ کر وہ شوپرکھول کر دیکھنے لگی کہ کیا کیا باسم ڈنر کے لئے لیکر آیا ہے
“ہائے اللہ باسم بھائی اتنا کچھ لائے ہیں میری پسندیدہ بریانی بھی ۔۔۔۔”
“چلو اب جلدی سے مجھے بتاؤ کے باول سر ڈشز کہاں ہیں میں کھانا نکالوں ابھی گرم گرم ہے بعد میں ٹھنڈا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔نیلو اب کھانے کے بکسز نکالنے لگی رباب اسے باول اور ڈشز نکال کر پکڑانے لگی ۔۔۔۔۔
کھانا سب نے صحن میں دسترخواہ بچھا کر ہی نوش فرمایا تھا ۔۔۔نیلو رائمہ کو بھی زبردستی باہر لے آئی تھی ۔۔۔۔۔
کھانے کے دوران ان چاروں کی بس نظریں تھیں جو کچھ میٹھے میٹھے پیغامات کا تبادلہ کر رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
کھانا کھاتے ہی رائمہ اور نیلو کچن میں چائے بنانے گھس گئیں ۔۔۔۔
رابعہ بیگم نے عشا نہیں پڑھیں تھی وہ عشا کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئیں رباب کاصبح ٹیسٹ تھاوہ معذرت کرتے ہوئے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔۔۔۔ چائے ابھی بن ہی رہی تھی جب باسم کچن میں داخل ہوا
“دو دو خواتین کچن میں موجود ہیں اور چائے ابھی تک نہیں بنی ۔۔۔حیرت ہے بھئ ۔۔۔”باسم کی نظر نیلو کے ہاتھوں میں پہنے گجروں کی طرف تھی
“بن چکی ہے بس ذرا کپوں میں ڈال دوں تو لے جانا اندر “رائمہ نے کیتلی اٹھا کر کپوں میں۔ چائے انڈلتے ہوئے کہا پھر دو کپ شیے کی ٹرے میں رکھ کر باسم کو پکڑنے چاہے مگر وہ ہاتھ باندھے کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے بڑے مطمین انداز سے کھڑا رہا رائمہ نے اسے یوں اطمینان سے کھڑا دیکھ کر گھرکا
“پکڑوبھی باسم”
“جی نہیں جاؤ اور جا کر خود اپنے میاں کو چائے دے کر آؤں میں نے نوکری نہیں کی ہوئی پہلے ہی تمہاری خاطر موصوف کو اسکے گھر سے اٹھا کر لایا ہوں بس اتنا ہی سر چڑھاسکتا ہوں اس سے ذیادہ نہیں ۔۔۔۔”
باسم میں نے کب کہا تھا کہ تم انہیں بھی ساتھ لے آؤں “رائمہ جی بھر کے زچ ہونے لگی تھی
“جانتا ہوں میں ۔۔۔۔لیکن اب تو وہ آچکا ہے ۔۔۔جاوں جا کر چائے تو سرف کرواں اسے۔۔۔ بری بات ہے اتنی اخلاقیات تو دیکھاسکتی ہو تم “
“باسم میں نہیں جاؤں گی “رحمہ نے صاف انکار کیا
“ارے اسی وعدے کے ساتھ ہی تووہ آنے کو تیار ہوا تھا کہ چائے بیگم کے ساتھ پیوں گا “
“تم پاگل ہو گئے ہو گیا ۔۔۔۔کیا کیا الٹے سیدھے وعدے کر کے لائے ہوتم انہیں ۔۔۔ امی نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گی میرے بارے میں “رائمہ خفگی سے بولی
“کچھ نہیں سوچتی ۔۔۔تم جاؤں اب ٹھنڈی چائے دو گی بیچارے کو “رائمہ نے بے بسی سے باسم کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھا
“بڑے نا ہوتے مجھ سے تو سر پھاڑ دیتی تمہارا “رائمہ کی بات پر باسم بے ساختہ کھلکھلا کر ہنسا تھا رائمہ اسے گھورتے ہوئے وہاں سے چلی گئ نیلو جو اب تک دونوں بہن بھائیوں کو لڑتے دیکھ رہی تھی اب خود کو وہاں باسم کی موجودگی میں اکیلا پا کر اپنا کپ اٹھا کر کچن سے نکلنے لگی کہ باسم فوراسے سامنے استاذہ کیے کھڑا ہو گیا
“آپ کہاں جا رہی ہیں “
جی ۔۔۔وہ ۔۔۔رائمہ کے ۔۔۔پاس “جلد بازی میں جو منہ میں آیا بول گئ
“کیوں ۔۔۔شرم نہیں آئے میاں بیوی درمیان بیٹھ کر انکی باتیں سنتے ہوئے “
“وہ تو آئے گی ۔۔۔ ٹھیک ہے پھر اوپر چلی جاتی ہوں آپ پلیز راستہ دیں مجھے “نیلو نے نروس ہوتے ہوئے کہا
“چائے پی کر چلی جائے گا ۔۔۔فری کچھ دیر باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ سے اگر آپ اجازت دیں تو ۔۔۔۔”
“وہ ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔”نیلوفر گھبرائی تھی
“بیفکر رہیں مجھے رومانوی قسم کی گفتگوں ذیادہ نہیں آتی ۔۔۔سیدھا سادا سا بندہ ہوں ۔۔۔۔میری باتیں آپ کو پریشان نہیں کریں گئیں ۔۔۔اب صحن میں بیٹھ کر بات کرلیں “
“جی “نیلو نظریں جھکائی۔ باسم کی تقلد میں چلتے ہوئےصحن کے تخت پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔چائے کاایک کپ باسم کی سمت کھسکا دیا ۔۔۔۔ کچھ دیر تو دونوں کے درمیان خاموشی ہی رہی پھرباسم نے ہی بات کی ابتدا کی
“فری کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے بی اے کے بعد تعلیم کیوں ادھوری چھوڑ دی “یہ ایساسوال تھا جو نیلو اسوقت تواس سے اکسپکٹ نہیں کر رہی تھی
“آپ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔کیا میرا کم تعلیم یافتہ ہونا ۔۔۔۔آپکی نظر میں میرا عیب ہے “وہ کچھ سبکی سے بولی
“نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔۔یہ کیوں سوچا آپ نے ۔۔۔۔۔بس میں نے اس لئے پوچھا کہ وجہ کیا تھی آگے نا پڑھنے کی وہی آپکی پھپوں کے طعنوں کی وجہ سے جو وہ اکثر آپ کو دیا کرتی تھیں “چائے کا کپ وہ اٹھا چکا تھا اب گھونٹ گھونٹ چائے پیتے ہوئے پوچھنے لگا
“جی بلکل ۔۔۔۔یونیورسٹی میں لڑکے لڑکیاں ساتھ جو پڑھتے ہیں ۔۔۔۔پھپو نے بابا سے کہہ کر منع کروادیاتھا “
“چلیں پھپو تواب جاچکیں اب کیارادہ ہے؟ ۔۔۔۔”
“کیا مطلب “نیلو نا فہم سی سے دیکھنے لگی
“میرا مطلب ہے ۔۔۔۔اب تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔۔۔۔میرے خیال سے آپکو آگے پڑھنا چاہیے “
“تو پھر شادی ؟,بے ساختہ نیلو کے منہ سے دل کی بات نکلی تھی
“شادی بیچ میں کہاں سے آ گئ “باسم سمجھ کر بھی انجام بن گیا
“آپ نے بابا سے شادی کے لئے کیوں کہا ۔۔۔۔اگر آپکی یہ سب شرطیں تھیں تو ۔۔۔۔ میں خواہمخواہ ہی خوش ہو رہی تھی ۔۔۔۔”روانی میں نیلو بول تو گئ لیکن بات کی نویت باسم کے ہسنے پر سمجھ کر خفت سے اپنے ہونٹ کاٹنے لگی
“آپ خواہمخواہ میں خوش نہیں ہوئیں ۔۔۔۔۔سچ میں خوش ہوئیں ہیں میں نے کب شادی سے انکار کیا ہے ا یہ کہاں طے ہے کہ شادی کے بعد لڑکیاں مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکتیں “باسم نے رسانیت سے کہا
“مطلب آپ مجھے یونیورسٹی میں داخل کروادیا گئے “نیلو نے پریشانی کے عالم میں پوچھا
“جی ہاں بلکل “
“لیکن مجھے بی اے کیے ہوئے تین سال گزر کئے ہیں ۔۔۔اسکے بعد تو کتاب کو ہاتھ تک نہیں لگایا میں کیسے پر پاؤں گی “نیلو باسم کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ تو پچھلا بھی سارا بھولے بیٹھی تھی ۔۔۔پھر دوبارہ سے نئے سرے سے پڑھائی ۔۔۔وہ بھی یونیورسٹی میں
“میں کس مرض کی دوا ہوں ۔۔۔۔میں پڑھا دونگا آپ کو “باسم نے اسکی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا
“مطلب شادی کے بعد مجھے آپ سے ٹیوشن لینا پڑے گا ” وہ ملتجی انداز سے پوچھنے لگی
“جی بلکل ۔۔۔۔اور میں بہت سخت ارستاد ہوں “
“مجھے آگے نہیں پڑھنا باسم پلیز “
“کیوں فری “
“نہیں پڑھ پاوں گی پھر لڑکوں کے ساتھ انکے سامنے میرے ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں۔۔۔۔کلاس میں اتنے لڑکے لڑکیاں ہوں گئے ۔۔۔۔مجھ سے اگر کسی پروفیسر نے کچھ پوچھ لیا تو ۔میں تو گھبراہٹ کے مارے بول ہی نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔سب کے سامنے مزاق بن کر رہ جاؤں گی ۔۔۔نہیں مجھ سے یہ سب نہیں ہو گا ۔۔۔”
“توساری زندگی یوں گھبرا گھبرا کر ڈر ڈر کر گزاریں گی ۔۔۔۔۔کیسے مقابلہ کریں گی لوگوں کا “
“آپ ہیں نا ۔۔۔۔۔٫”
“مطلب مجھ پر تکیہ کیے بیٹھیں ہیں آپ “
“فری میں یہ تو جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں۔۔۔۔بہت محبت کرتی ہیں۔۔۔۔اس لئے اسے میری اولین خواہش سمجھ لیں ۔۔۔میں آپ کو بااعتماد دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔میری بیوی ہمیشہ میرے ساتھ اعتماد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے یہ میری دلی خواہش ہے ۔۔۔۔۔کیااب بھی میں یہ سمجھوں کہ آپ خود کو میرے لئے نہیں بدلیں گئیں “
“کوشش کرو گی “نیلو فر سے اس بار انکار نہیں ہوا تھا
“گریٹ ۔۔۔ بس یہ کوشش رکنی نہیں چاہیے “
******……..
رائمہ ڈرائنگ روم میں چائے لیکر گئ تو رامس صوفے پر ڈھلے ڈھالے انداز سے بیٹھا تھا رائمہ کو دیکھ کر چونک سا گیا کہاں تووہ دروازہ کھولتے ہی اسے دیکھ کر بھاگ گئ تھی اور اب یوں چائے لیکر ہی پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔ چائے کی ٹرے رکھ کر رائمہ نے شوگر پوٹ سے ایک چمچ چینی نکالی اور رامس کے کچھ میں ڈال کر ہلانے لگی
” میں چینی دو چمچ پسند کرتا ہوں “٫رامس رائمہ کے تیکھے تیکھے تیور دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔۔
“لیکن جو لوگ میرے ساتھ چائے پینے کے شوقین ہیں انہیں میں چائے اپنی مرضی کی ہی پلاتی ہوں ویسے بھی ذیادہ شوگر نقصان دہ ہوتی ہے “چائے کا کپ رامس کے سامنے بڑھاتے ہوئے وہ ایک ابرو چڑھا کر بولی وہ بیچارہ کہاں واقف تھا کہ باسم نے کیا کہانی سنا کر رائمہ کو بھیجا ہے وہ اس کی غیر متوقع آمد پر ہی حیران تھا کجا اسکا رویہ دیکھ کر چپ چاپ سے چاہے کا کپ پکڑ کر پینے لگا رائمہ بھی سامنے صوفے پر نروٹھے انداز سے بیٹھ کر چائے پینے لگی ۔۔رامس کے لئے ۔یہ ایک اور حیران کن بات تھی ۔۔۔۔اسے لگا کہ رائمہ چائے اسے دے کر چلتی بنے گی مگر اسکا یوں رامس کے سامنے دھڑلے بیٹھنا وہ بے چارا نظریں جھکائے ہی گرم گرم چائے اندر انڈلنے لگا
“خاموشی جب طول پکڑنے لگی تو تنگ آ کر دائمہ نے ہی بات شروع کی
“اب اگر اتنی شرائط رکھ کر مجھ سے ملنے ا ہی گئے تو چپ چاپ کیوں بیٹھیں ہیں “رائمہ کی بات سن کر وہ حواس باختہ ہوا تھا
“ج۔۔۔جی ۔۔۔۔۔میں سمجھا نہیں رائمہ کون سی شرائط “رامس نا فہم انداز سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔
“اب آپ میرے سامنے انجان بننے کا ناٹک مت کریں باسم نے سب بتا دیا ہے مجھے “رائمہ کی اس بات پر رامس سمجھ گیا کہ ضرور باسم کی ہی شرارت ہو گئ ۔۔۔۔۔۔اس لئے سوچ میں پڑ گیا تھا کہ اب بات کیا کرے
“چائے بہت اچھی بنائی ہے آپ نے ” رامس کو لگا تعریف ٹھیک رہے گی
“میں نہیں بنائی نیلو نے بنائی ہے “رائمہ کا انداز تیکھا تھا
“او ۔۔۔۔اچھا مجھے لگا آپ نے بنائی ہے ۔۔۔۔۔ویسے کھانا بھی بہت مزے کا تھا ۔۔۔۔۔ “یہ دوسری کوشش تھی
“وہ بھی بازار سے آیا تھا ۔۔۔”جسے رائمہ نے پھر سے ناکام بنا دیا تھا
“ہاں یاد آیا باسم نے بتایا تھا “رامس اب سوچ رہا تھا کہ اب کیا بات کرے
” آپ ۔۔۔۔۔آپ اس ڈریس میں بہت اچھی لگ رہیں ہیں بے شک آپ نے یہ رباب یا نیلو سے مانگ کر ہی کیوں نا پہنا ہو “رامس کو لگا یہ تعریف تو ضرور رائمہ کو اچھی لگے گی مگر وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئ تھی
“کیا مطلب ہے آپ کا میں آپکو ایسی لگتی ہوں کہ کپڑے بھی دوسروں سے مانگ کر پہنوں گی ۔۔۔۔۔۔”رائمہ صوفے کھڑی ہو گی رامس تو بوکھلا سا گیا تھا ۔۔۔۔۔
“رائمہ پلیز میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔۔بس سمجھ نہیں پا رہا تھا آپکی تعریف کیسے کروں اسی کوشش میں۔۔۔۔۔ایم سوری “وہ فورا سے معزرت پر اتر آیا
” یوں تو تعریف نہیں ہوتی ۔۔۔کہہ دیتے کہ یہ رنگ مجھ پر اچھا لگ رہا ہے ۔۔۔۔یا میں اس سوٹ میں بہت الگ سی لگ رہی ہوں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔”
“آپ مجھے ہر رنگ میں اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔کسی نوخیز کھلتے گلاب کی طرح ۔۔۔۔ یا پھر چمکتے ستاروں کی مانند۔ یا چودویں کے چاند کی طرح روشن روشن ۔۔۔۔۔۔اب تو ٹھیک ہے نا رائمہ ۔۔۔۔۔”اپنے تہی وہ پوری کوشش کر چکا تھا ۔۔۔۔رائمہ کے چہرے پر پھیلی صبیح سی مسکراہٹ اسبات کی گواہی دے رہی تھی یہ تعریف اسے قابل قبول ہے
*****…….
“عاتقہ بیگم نے جب سے یہ سنا تھا کہ بختیار صاحب نے انہیں نیناں کے رشتے کے لئے بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔ان کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے تھے الماری سے سارے ہنگ شدہ جوڑے وہ بیڈ پر پھیلائے شازمہ اور نمیرہ سے مشورے مانگ رہی تھیں کہ کون سا پہن کر جائیں ۔۔جب شاہزیب اندر داخل ہوا کپڑوں کا بازار دیکھ کر تینوں کو حیرت سے دیکھنے لگا
“امی یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔کسی کی شادی کا دعوت نامہ ملا ہے ۔۔۔۔”ایک سے ایک فینسی اور قیمتی جوڑے بیڈ پر پھیلے دیکھ کر وہ بھی وہیں بیڈ پر کپڑے ہٹا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“ارے نہیں بھئ ۔۔۔۔نیناں کے ابا نے بلایا ہے رشتے کی بات کرنے کے لئے ۔۔۔۔اب اتنے امیر لوگ ہیں وہ تو ۔۔۔ان کے حساب سے ہی دیکھنا پڑے گا نا
“کیوں امی انکے حساب سے کیوں دیکھنا پڑے گا ۔۔۔ کارٹن کے سمپل سے سوٹ میں بھی آپ مس والڈ لگیں گئیں ٹینشن مت لیں۔۔۔ ابو تو دیکھتے ہی رہ جائیں گئے اپنی مینا کماری کو “شاہزیب نے ماں کے گال محبت سے کھنچ کر کہا آگے سے عاتقہ بیگم نے اسے تھپکی لگائی ۔
“ہٹ بدمعاش ۔۔۔شرم تو بیچ کھائی ہے تم نے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم اس عمر میں بھی ایسی بات پر شرم سے نظریں بدل گئیں تھیں اور شازمہ اور نمیرہ کی ہنسی بند نہیں ہورہی تھی
“نمی شازی بند کرو اپنی کھی کھی اور بتاؤ۔ کیا پہنوں ۔۔۔لگے تو سہی کہ لڑکے کی ماں آئی ہے “عاتقہ بیگم تھوڑا اترا کر بولیں
“امی آپ یہ سب نہیں پہنے گی ابھی دو دن ہیں۔ ایک سوٹ میری طرف سے ڈیو ہے آپ کا وہی۔ پہن کر جائیے گا ۔۔۔۔”شاہزیب نے کالر اٹھا کر اترا کر کہا خوش تو وہ خود بھی بہت تھا
“او ہیلو ہم دونوں بھی جائیں گئیں “شازی نے چٹکی بجا کر شاہزیب کو متوجہ کیا
“جی ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔ صرف امی ابو جائیں گئے “شاہزیب کے اٹل انداز پر شازمہ اور نمیرہ کے چہرے بجھے تھے
“کیوں یہ دونوں کیوں نہیں جائیں گئیں انہوں نے پوری فیملی کو دعوت دی ہے ۔۔۔۔تمہیں بھی ساتھ بلایا ہے “
“کیوں رانا صاحب کیا بیٹی کو اتوار کو ہی رخصت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو میرا بلاوا ضروری ہے “
“کیا مطلب ہے تمہارا “
“امی میں صرف ایک بار ہی انکے گھر جاؤں گا جس دن نیناں سے میری شادی ہو گئ ۔۔۔۔ بس اسکے علاؤہ میرا انکے منہ لگنے کا کوئی خاص ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔”شاہزیب کی بے رخی پر تینوں حیران تھیں
“شاہزیب یہ بھلا کیا بات ہوئی انہوں خود کہا کہ تم بھی ساتھ ضرور آؤں سب گھر والوں کو بلایا ہے ۔۔۔۔٫”امی کل کو نمی کے لئے رشتہ لیکر کوئی آئے اور یہ کہے کہ لڑکا بھی ساتھ آئے گا آپ بلا لیں گئ اسے “۔۔۔۔
“ہر گز نہیں یہ طور طریقے کہاں پسند کیے جاتے ہیں ہمارے گھروں میں ۔۔۔سیدھا لڑکے کے سامنے ہی اپنی بیٹی کو بیٹھا دوں “عاتقہ بیگم نے فورا تردید کی
“تو بس ہم اپنے طریقے اور روایات کو لیکر چلیں گئے ۔۔۔۔ “شاہزیب اپنی بات سمجھا چکا تھا
“بیٹاوہ لوگ کھلے ماحول کے ہیں”
“لیکن ہم نہیں ہیں ہم اپنے حساب سے چلیں گئے ۔۔۔۔ بس میں کچھ نہیں سنو گا ۔۔۔۔۔آپ اور ابو جائیں گئے ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم چپ ہو گئیں
“شازی جلدی سے کھانا لگاؤں بھوک لگ رہی ہے “شاہزیب اپنی طرف سے بات ختم کر چکا تھا ۔۔۔
کوئی اور خوش تھا کہ نہیں لیکن شازمہ بھائی کی بات پر بہت خوش تھی کم از کم وہ بختیار صاحب کی دولت سے مرعوب نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔
******…….
رات کو نیناں کو کال شاہزیب نے خود کی تھی کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شاہزیب اصل مقصد پر بات کرنے لگا
“نیناں میں چاہتا ہوں تم کل وہ سوٹ پہنا جو میں نے تمہیں پہلی بار مال سے لیکر دیا تھا ۔۔۔اس میں تم بہت پیاری لگتی ہو میری امی ابو کو بھی پیاری لگو گی
“لیکن شاہزیب میں نے تو بوتیک سے آڈر پر سوٹ بنوایا تھا آج ہی آیا ہے ۔۔۔۔پوپس نے کہا تھا کہ وہی پہنا ہے “
“وہ پھر کبھی پہن لینا آج میری پسند کا پہنو “
“او کے پہن لوں گی ۔۔۔۔۔آپ کیا پہن کر آئیں گئے “نیناں نے ذیادہ بحث نہیں کی تھی
“میں نہیں آؤں گا ۔۔۔۔بس امی ابو ہی آئیں گئے “
“آپ کیوں نہیں آئیں گئے “نیناں نے کچھ خفا ہوتے ہعئت پوچھا
“بس ایک ہی بار آؤں تمہیں لینے “
“شاہزیب دس از ناٹ فیر ۔۔۔۔کتنے دن سے ہم نہیں ملے “
“تو میری بلبل اداس ہے ۔۔۔۔۔مجھ سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔ابھی آ جاتا ہوں تمہارے گھر کے گیٹ پر تم آ جانا باہر ۔۔۔۔بائیک پر لونگ ڈرائیور کریں گئے ” شاہزیب نے اسکی اداس سی آواز سن کر محبت سے گھر
گھمگیر لہجے سے کہا
“شاہزیب میں مزاق نہیں کر رہی ۔۔”
“میں بھی مزاق نہیں کر رہا تم کہہ کر دیکھوں ابھی بیس منٹ میں تمہارے گھر کے سامنے ملو گا تمہیں “لفظ اور انداز ایسا تھا کہ بس نیناں ہاں کہہ دے اور وہ پہنچ ہی جائے اس کے پاس
“نہیں یوں نہیں ۔۔۔۔”
“تو پھر صبر کروں ۔۔۔۔۔ اچھا دیکھو اب کچھ کچن کی طرف بھی توجہ دو کل اگر امی نے پوچھا کیا کہ نیناں تم نے اپنے ہاتھ سے کیا بنایا ہے تو کیا کہوں گی ۔۔۔۔کہ صرف آپکے بیٹے کو بیوقوف “شاہزیب کی بات پر وہ کھلکھلا اٹھی تھی
“ایسی بھی بات نہیں ہے میں سیکھ رہی ہوں رحمت بی بی سے کچھ کچھ ۔۔۔۔شادی تک سیکھ جاؤں گی ۔۔۔۔”
“ہاو سوئٹ ۔۔۔۔اچھا سنو اب میں جیسا تم سے کہو تم ویسے ہی امی ابو کے سامنے جاؤں گی غور سے سننا میری مینا ” نیناں اسکی ہر بات کو واقع غور سے سنتی رہی ۔۔۔۔آخر میں شاہزیب نے فون رکھنے سے پہلے اس سے کہا
۔۔۔”۔ وش یو گڈ لک اینڈ گڈ بائے صبح مجھے جلدی اٹھنا ہے ۔۔۔۔یونیورسٹی بھی جانا ہے ۔۔۔۔کافی دن سے نہیں گیا “
“او کے بائے “نیناں نے بھی فون رکھ دیا
*****……
بختیار صاحب اتوار کو پورے چھ بجے تیار تھے ۔۔۔۔۔زمان صاحب سے بھی کہہ چکے تھے کہ وقت پر ہی پہنچیں ۔۔۔مگرپچھلے آدھے گھنٹے کے انتظار نے انہیں کوفت میں مبتلہ کر دیا تھا ۔۔۔بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
پھر چوکیدار نے اطلاع دی کہ ایک بڑی عمر کا شخص ایک خاتوں کے ساتھ ویسپا پر آئے ہیں اور کہہ رہے کہ شاہزیب کے والد ہیں “یہ سن کر تو بختیار صاحب کا چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کو جی چاہ رہا تھا ۔۔۔ایک اکلوتی نازوں سے پلی بیٹی کو وہ اس طرح کے لوگوں میں دیں گئے انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اندر بلاوں انہیں”کس ضبط سے بختیار صاحب نے کہا یہ وہی جانتے تھے ۔۔۔۔۔
“تواب ان کم بختوں کو جہیز میں گاڑی اور بنگلہ بھی دینا پڑے گا ۔۔۔۔۔” نخوت سے سے منہ میں بربڑا کر رہ گئے ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں کلف شدہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب اپنی بیگم کے ہمراہ ملازم کی رہنمائی میں لاونج میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔عاتقہ بیگم ہونقوں کی طرح اس شیش محل کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہیں تھیں البتہ زمان صاحب بس سرسری سا ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔بختیار صاحب استزائیہ انداز سے مسکرائے
“کبھی خواب میں بھی ایسا بنگلہ نہیں دیکھا ہو گا ان کنگلوں نے” ۔۔۔۔بڑی رعونیت سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر وہ بیٹھے رہے ۔۔۔۔زمان صاحب نے ہی آگے بڑھ کر ان سے مصافحہ کیا ۔۔۔
“جی جی تشریف رکھیے “بختیار صاحب نے فورا سے اپنا ہاتھ زمان صاحب کے ہاتھ سے کھنچ لیا ۔۔۔۔۔اور خوش اخلاقی دیکھاتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
“گھر تو آرام سے مل گیا تھا نا آپ کو ذیادہ دکت تو نہیں ہوئی “بختیار صاحب نے زمان صاحب کو جیب سے رومال نکال کر پسینہ پونچھتے دیکھ کر پوچھا
“نہیں دکت کیسی رستہ آسان ہی تھا “زمان صاحب سامنصوفےبپر بیٹھتے ہوئے بولے ۔
“جی ہاں میرے گھر کا راستہ تو آپ لوگوں کے لئے واقع۔ بڑا آسان ثابت ہوا “طنز میں ڈوبی لہجہ تھا ۔۔۔۔زمان صاحب ذرا ساٹھٹکے تھے بختیار صاحب نے چہرے پر بناوٹی مسکراہٹ سجائی
“مجھ سے کہہ دیتے میں ڈرائیور بھیج دیتا آپ لوگوں کو آنے میں سہولت ہو جاتی “جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکال کر انہوں نے سگریٹ منہ ڈال کر جلایا ۔۔۔۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ہم با آسانی ہی پہنچے ہیں “زمان صاحب نے جواب دیا عاتقہ بیگم اب بھی لاونج کی ایک ایک چیز کو ستائش بھری۔ نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
“رحمت بی بی ٹیبل سجائیں بھئ ۔۔۔۔چائے کا انتظام کیجیے اور انتظام کافی شاندار ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔نیناں سے بھی کہہ دیں کہ اگر تیار ہو گئ ہے تو باہر آ جائے ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کی انداز مدافعانہ تھا ۔۔۔۔
“جی صاحب جی “ادب سے سر جھکائے رحمت بی بی پہلے نیناں کے کمرے میں گئیں تھیں پھر کچن میں کچھ ہی دیر میں جب نیناں کمرے سے نکلتی تو سگریٹ کا کش لگے ہوئے بختیار صاب کے اچھو لگا تھا ۔۔۔سادے سے سی گرین کارٹن کا جوڑا زیب تن کیے سر پر اچھی طرح سے ڈوپٹہ جمائے پاؤں میں عام سے سلیپر پہنے میک اپ سے مبرا چہرے کے ساتھ وہ باہر آئی تھی۔۔۔۔جو ڈریس بختیار صاحب نے اس کے لئے آڈر ہر بنوایا تھا وہ اچھا خاصا مہنگا اور اسٹالیش تھا ۔۔۔وہ زمان صاحب جو احساس دلانا چاہتے تھے کہ انکی بیٹی کس عیش سے باپ کے گھر میں رہتی ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ وہ لباس تو نہیں تھا جو اس نے پہنا تھا ۔۔۔۔۔وہ جھکے ہوئے سر کے ساتھ وہاں پہنچی تھی ۔۔۔۔با آواز بلند مشترکہ سب کو سلام کیا ۔۔۔۔زمان صاحب اور عاتقہ بیگم اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے نیناں دھیرے سے چلتی ہوئی پہلے زمان صاحب کے سامنے جا کر رکی
زمان صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی
“جیتی رہو بیٹا سدا خوش رہو ۔۔۔”زمان صاحب کو کہیں سے بھی وہ پہلے والی نیناں نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔پینٹ شرٹ گلے میں مفلر ۔۔۔۔کھلے بال ۔۔۔۔یہ نیناں توانہیں نمی اور شازمہ جیسی ہی لگی تھی ۔۔۔۔ اتنے امیر رئیس باپ کی بیٹی لیکن اتنی ہی سادگی میں انکے سامنے آئی تھی ۔۔جیسے کہ انکے طبقے کی لڑکیاں ایسے موقع پر آتی ہیں ۔۔۔عاتقہ بیگم تو اس سے گلے ملیں تھیں
“خوش رہو بیٹا ۔۔سدا آباد رہو ۔۔۔۔”عاتقہ بیگم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا مسکرائی شرمائی ہوئی وہ لڑکی انکے دل میں اتر گئ تھی عاتقہ بیگم نے اسے اپنے ساتھ ہی بیٹھا لیا ۔۔۔۔۔
“یہاں میرے پاس بیٹھوں ماشاللہ سے کتنی معصوم اور پیاری ہو تم”عاتقہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے سینے سے ہی لگائے رکھیں ۔۔۔۔انکے بیٹے کی محبت واقع قابل محبت تھی ۔۔۔۔۔پھر جو جوہر وہ دونوں اپنی محبت کے اپنے ماں باپ کو دیکھا چکے تھے ۔۔۔۔ دل میں کسی بھی کدورت کی گنجائش نہیں رہی تھی لیکن بختیار صاحب کو سب ڈرامے بازی ہی لگ رہی تھی
‘”ہنہ ایسے ڈرامے انہیں لوگوں پر جچتے ہیں ۔۔۔۔جب میری بیٹی ہاسپٹل میں زندگی موت کی جنگ لڑ رہی تھی تو بیٹے کے سامنے دیوار بنی کھڑی تھیں یہ عورت کہ تم نہیں جاؤں گئے انکی بیٹی کو بچانے ۔۔۔۔۔اور اب۔۔۔۔ سب ڈھکوسلے ہیں ۔۔۔۔۔دولت جو ملنے والی ہے چاند جیسی لڑکی کے ساتھ ساتھ “بختیار صاحب کی سوچ دقیانوسی عوتوں کے طرز پر محور تھی
کچھ ہی دیر میں ٹیبل مختلف انواع قسام کے بھر چکا تھا ۔۔۔۔
نیناں خود انہیں سرف کروارہی تھی ۔۔۔ چائے کے بعد ہی بختیار صاحب نے نیناں کو کمرے میں جانے کے عندیہ سنا دیا
“نیناں بیٹا اب تم جاوں کچھ باتیں ہم بڑے بیٹھ کر ہے کر لیں “
“جی پوپس “نیناں اٹھنے لگی توعاتقہ بیگم نے اسے روک لیا
“ایک منٹ بیٹا میں ذرا تمہیں سلامی تو ڈال دوں “
“کیا مطلب کیسی سلامی “بختیار صاحب تعجب سے بولے
“جی یہ ہمارے ہاں ہوتا ہے لڑکی جب پسند آجائے تو شگن کے طور پر ہم۔کچھ پیسے ڈالتے ہیں تا کہ بات پکی سمجھی جائے ۔۔۔۔اگر آپ اجازت دیں تو”عاتقہ بیگم نے اس گھمنڈی شخص کو بتایا
“جی ۔۔۔جی ضرور ۔۔۔کیجیے اپنے شگن پورے “بختیار صاحب کا کا انداز ہنوز ہی تھا ۔۔۔۔طنز سے ڈوبا ہوا
“عاتقہ بیگم نے پرس سے پانچ پانچ ہزار کے کئی نوٹ نکالے اور نیناں کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔۔وہ مسکرا کر اٹھ کر چلی گئ لیکن اپنے کمرے کا دروازہ بند نہیں کیا ذرا سا کھلا رہنے دیا ۔۔۔۔۔تا کہ ان کے بیچ ہونے والی گفتگوں سن سکے
“دیکھیں زمان صاحب میں بہت ہی صاف گو بندہ ہوں بات گھما کر بات کرنے کی میری عادت نہیں ہے ۔۔۔۔یہ سب رسمیں میرے نزدیک اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔۔”بختیار صاحب کا لہجہ ترش سا تھا
“ٹھیک ہے آپ نے یہاں آ کر اپنی خوشی پوری کی ۔۔۔۔میں نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔لیکن اب میں بھی آپ کے گھر آؤں اور ایسا ہی سب کچھ کروں تو یہ ایک مشکل امر ہے مطلب میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا ۔۔۔۔”بختیار صاحب کی بات ناگوار تو دونوں میاں بیوی کو لگی لیکن بولی عاتقہ بیگم
“یہ تو طریقے کار ہے بھائی صاحب “عاتقہ بیگم نے مداخلت کی
“لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ یہ شادی کوئی عام سی ارینج میرج نہیں ہے جو ایسے تکلفات کو اہمیت دی جائے ۔۔۔۔”بختیار صاحب اپنے موقف پر قائم ہی رہے
“جی کوئی بات نہیں بختیار صاحب ۔۔۔۔آپ جیسا مناسب سمجھیں “زمان صاحب کو انکا رویہ کچھ ہتھک آمیز سا لگا مگر چپ رہے ۔۔۔۔۔بات اگر اپنی ذات کی ہوتی تواٹھ کر چلے جاتے مگر بیٹے کی محبت کے سامنے تو وہ بھی مجبور تھے
“دیکھیں منگنی تو میں ایک دو مہنے تک کر دونگا مگر شادی نیناں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی دونگا ۔۔۔۔کم از کم بھی چار سے پانچ سال تک ۔۔۔۔۔تب تک شاہزیب بھی کچھ اسٹبلش ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔”اس بات پر زمان صاحب اور عاتقہ بیگم نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔اندر بیٹھی نیناں بھی بجھ سی گئ تھی
“جی یہ بات تو درست ہے آپکی لیکن پانچ سال بہت ذیادہ ہیں چار ماہ تک شاہزیب کا بی کام کمپلیٹ ہو جائے گا اور دو سال تک ایم بی اے۔۔۔۔ ایک جاب تو وہ کر رہا ہے مگر عارضی طور پر ۔۔۔۔اصل جاب تو اسکی میں بی کام کے بعد ہی شروع کروا دونگا میں اپنے جان پہچان والوں سے بات کر رکھی ہے ۔۔۔۔
” دیکھیں زمان صاحب ۔۔۔۔ میں شادی اسی وقت دونا جب شاہزیب میری بیٹی کی ایٹلیس ضروریات تو پوری کر سکے جس کی وہ بچپن سے عادی ہے ۔۔۔۔ “
“جی جی کیوں نہیں “زمان صاحب بختیار صاحب کے بے لچک لہجے پر چپ سے ہوگئے
“پھر ٹھیک ہے ۔۔۔میں اب چلتا ہوں مجھے اپنے ایک فارن کلائنٹ سے ملنے جانا ہے ۔۔۔۔بزنس ڈیل کے سلسلے میں ورنہ میں مزید آپ لوگوں کو ضرور وقت دیتا ۔۔۔۔”بختیار صاحب گھڑی دیکھتے ہوئے کھڑے ہو گئے
“جی جی ضرور جائیے ہم بھی بس اب جائیں گئے کافی لیٹ ہو چکے ہیں “زمان صاحب بھی ساتھ ہی کھڑے ہو گئے
” ٹھیک دو مہنے بعد کی منگنی کی ۔ ڈیٹ میری طرف سے فائنل سمجھیں “یہ کہہ وہ زمان صاحب سے ہاتھ ۔ملا کر چلے گئے۔۔۔عاتقہ بیگم اور زمان صاحب بھی انکے پیچھے ہی لاونج سے باہر نکل گئے نیناں سوچ میں پڑ گئ تھی چار پانچ سال ؟شاہزیب تو چند ماہ میں اسے لے جانے کی باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔اپنے باپ کی شرط پر دل تو اس کا بجھ کر رہ گیا تھا مگر خاموش ہی رہی ۔۔۔۔تعلیم تو بہرحال اسے بھی پوری کرنی ہی تھی ۔۔۔۔۔
شاہزیب کو جب بختیار صاحب کے خیالات معلوم ہوئے تو زمان صاحب کے سامنے تو وہ چپ رہا مگر رات کو نیناں کے سامنے ضرور بھڑک اٹھا تھا
“یہ کون سی نئی شرط ہے تمہارے باپ کی چاہتے ہیں رانا صاحب ۔۔۔۔”بنا سلام ہائے ہیلو کے ہی وہ سیدھا اپنے مدعے پر آیا تھا وہ بھی غصے سے نیناں اسکی آواز کی سختی سے گھبرا گئ تھی
“شاہزیب پلیز کول ڈاؤن “
“واٹ کول ڈاؤن ہاں ۔۔۔۔ کس بات کا ڈر ہے انہیں تمہیں بھوکا رکھو گا میں ۔۔۔۔ کھانے کو نہیں ملے گا تمہیں ہمارے گھر یا تمہاری چند ضروریات کے لئے انکے سامنے ہاتھ پھیلاؤں گا ۔۔۔۔” وہ چلا کر بولا
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔۔پوپس نے صرف میرےخاطر کہا ہے ۔۔۔میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔میں نے ہی ایسی خواہش ظاہر کی تھی “ساری بات نیناں نے خود پر لے لی تھی ۔۔۔کچھ دیر تو خاموشی چھائی رہی پھر شاہزیب کی آواز گونجی مگر اس بار لہجہ کچھ نرم پڑھ چکا تھا
” کیا ضرورت تھی تمہیں یہ سب کہنے کی ۔۔۔ کروں گی کیا اتنا پڑھ کر ۔۔۔میں نے کون سا تم سے کموا کر کھانا ہے مینا۔۔۔۔ ہاتھ پاؤں سلامت ہیں میرے فکر مت کرو محنت سے شاہوں کبھی گھبرایا نہیں ہے ۔۔۔۔بہت اچھا رکھو گا تمہیں بھروسہ کرو مجھ پر ۔۔۔۔”
“پھر بھی مجھے شوق ہے “نیناں نے بات بنائی باپ نے تو ذرا بھی لچک نہیں دیکھائی تھی مگر اسے تو شاہزیب سے کی نبھانی تھی ۔۔۔۔اس لئے اپنا نام آگے رکھ رہی تھی
“عجیب شوق ہے یار بی اے کر لو کافی ہے ۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا نیناں اپنے پوپس سے کہو دو سال سے زیادہ انتظار نہیں کرونگا میں ۔۔۔۔ بس یہاں میرا ایم بی اے کمپلیٹ ہو گا وہاں ۔میں تمہیں لینے پہنچ جاؤں گا “شاہزیب کے حتمی انداز پر وہ گھبرا سی گئ تھی
“ٹھیک ہے کہہ دونگی ۔۔۔بس “نیناں نے فوراسے ہامی بھر لی
“نہیں بس بلکل نہیں ۔۔۔۔کتنے دن ہو گئے یار تمہیں دیکھا نہیں ہے میں نے ۔۔۔کہیں ملتے ہیں بہت ساری باتیں کرنی ہے تم سے ” گھمبیر لہجے میں کہا گیا دل تو نیناں جس بھی ملنے کو مچل رہا تھا
“کل کالج کے باہر آ جائیے گا لیکن ذرا جلدی میں چھٹی ہونے سے پہلے کالج پر ہی آؤں گی “
“او کے ڈن ہے ۔۔۔۔”شاہزیب فورا سے مان گیا
“او کے بائے “
“اچھا سنو “اس سے پہلے کہ نیناں فون بند کرتی شاہزیب کی بات پر رک گئ
“جی “
“آئی لو یو “۔ شاہزیب کے برملا اظہار پر وہ مسکرائے بنا نہیں رہ پائی
“شاہزیب ۔۔۔۔”وہ مصنوعی خفگی سے مسکرا کر بولی شاہزیب کی ہنسی کی آواز گونجی تھی
“او کے بائے۔۔۔اینڈ ٹیک کیر ” نیناں نے فون بند کر دیا اور سکون کا لمبا گہرا سانس لیا ۔۔۔بات کو بڑی مشکل سے سنبھال پائی تھی ۔۔۔۔۔
******…….
شاہزیب نیناں کے کالج پر مقررہ وقت پر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ وہ کالج کر گیٹ پر کھڑی اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔شاہزیب کو دیکھ کر دلفریب سی مسکراہٹ نیناں کے چہرے پر سج گی تھی بائیک رکتے ہی وہ فورا سے اسکے پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے شاہزیب اسے سمندر پر ہی لیکر جاتا تھا جہاں پہلی بار نیناں نے اسے دیکھا تھا ہر وہ وہیں سمنٹ کی بنی شلف پر بیٹھ جاتے تھے اب بھی وہیں بیٹھے تھے سب سے پہلے سمندر کی لہروں کو دیکھتے رہے پہلی بار شاہزیب نے نیناں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا نیناں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔یقین کر لینے دو کہ اب ہمہیں کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔فاینلی نیناں اب۔ میری ہو جائے گی ۔۔۔۔۔” شاہزیب کی نظروں سے پہلی بار وہ نروس ہوئی تھی مسکرا کر دوبارہ سے سامنے سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگی
“زہر لگتی تم مجھے جب ایسے موقعے پر صرف مسکرا کر دامن بچاتی ہو ۔۔۔۔”شاہزیب نے اس کا ہاتھ زور سے دبا کر غصے سے کہا ۔۔۔۔
“شاہزیب “نیناں نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر وہ ہاتھ پکڑے صرف اسے دیکھ رہا تھا
“پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔”
“پہلے آئی لو یو کہو “
“نہیں بھئ مجھے نہیں کہنا ۔۔۔۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا”
“نیناں ۔۔۔۔ اب تم مار کھاؤں گی مجھ سے ۔۔۔۔ میں اتنی دور سے صرف سمندر کی آتی جاتی لہریں دیکھنے نہیں آیا ہوں ۔۔۔۔۔بہت کچھ سننے آیا ہوں تم سے “
“اب آپ کیا چاہتے ہیں یہاں چلا چلا کر کہوں کہ شاہزیب آئی لو یو ” وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
“واؤ ونڈرفل آئیڈیا۔۔۔زبردست یار ۔۔۔ چلو نا نیناں دونوں سمندر کی طرف دیکھ کر زور سے آئی لو یو کہتے ہیں ہماری آواز پورے سمندر میں گونجے گی ویسے بھی رش نہیں ہے اس وقت ۔۔۔”””۔صبح کے دس بجے کا ٹائم تھا ۔۔۔۔ رش واقع نہیں تھا اکا دکا لوگ ہی تھے ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے پھر اسٹاٹ کریں ۔۔۔لیکن آنکھیں بند کر کے ” نیناں کے فورا سے مان جانے پر پہلے تو شاہزیب کو یقین نہیں آیا لیکن پھر سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کیں اور پوری قوت سے آئی لو یو کی آواز گونجی مگر صرف شاہزیب کی ۔۔۔۔نینان اب بھی ہنس کر دامن۔ بچا گئ تھی ۔۔۔۔۔ شاہزیب۔ اسے بے تحاشہ ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
جو اسے یوں فول بنا کر ہنس رہی تھی ۔۔۔۔
“ہنسوں ہنسوں خوب ہنسو ۔۔۔۔۔ایک دن تمہیں بھی مجبور کر دو گا یہاں پر یوں اظہار کرنے پر ۔۔۔۔تب میں ۔ ہنسو گا تم پر ۔۔۔۔”وہ اسکی چھوٹی سے کھڑی ناک دبا کر بولا
“ہمم۔ خواب میں ۔۔۔۔ میں تو آپ کی طرح فول نہیں بنو گی “نیناں اب اترائی تھی ۔۔۔
“او کے دیکھا۔جائے گا ۔۔۔۔لیکن اس وقت مجھے تم سے اوربھی بہت کچھ کہنا ہے نیناں
“وہ کیا “اب وہ بھی سنجیدہ ہو گئ تھی
“دیکھوں ۔۔۔۔میں تمہیں منگنی پر نا تو بہت قیمتی جوڑا دے سکتا ہوں نا ہی بہت قیمتی انگوٹھی ۔۔۔۔۔بس سب کچھ مناسب ہی ہو گا ۔۔۔۔تمہارے شایان شان کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔لیکن
میراوعدہ ہے شادی پر پوری کوشش کرونگا کہ تمہاری بہت سے خواہشیں پوری کر سکوں ۔۔۔۔”
“شاہزیب آپ نے کیسے سوچ لیا کہ مجھے قیمتی لباس اور ہیرے جواہرات چاہیں ۔۔۔۔ میں وہ ضرور پہنوں گی جو آپ لائیں گئے ۔۔۔۔۔ میرے لئے وہ سب چیزیں بہت قیمتیں ہوں گئیں ۔۔۔۔”نیناں کی بات پر شاہزیب کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے رنگ میں اتنی جلدی ڈھل چکی تھی کہ کبھی کبھی شاہزیب کو حیرت ہوتی تھی ۔۔۔۔۔فون کی بیل پر شاہزیب نے جیب سے فون نکالا سامنے بختیار صاحب کا نمبر جگمگا رہا تھا
“افف ایک تو یہ شخص ولن بنکر میرے پیچھے پڑا رہتا ہے “شاہزیب نے دل میں سوچا ۔۔۔
“تمہارے باپ کو چین تو نہیں ہے۔۔۔مجال ہے جو دو گھڑی سکون سے بیٹھنے دے “
“پوپس کا فون ہے “نیناں گھبرا گئ تھی
“ہاں ۔۔۔۔خیر۔ چپ رہنا پوچھتا ہوں کیا کام ہے “شاہزیب نے کال اٹینڈ کی
“مجھے تم سے ملنا ہے ابھی اسی وقت میرے آفس پہنچوں ۔۔۔اپنے آفس کا ایڈریس میں تمہیں سنٹ کر چکا ہوں “بختیار صاف نے دو ٹاک بات کی تھی بنا کسی مروت کے
“ابھی بزی ہوں ۔۔۔۔ابھی نہیں آ سکتا “
“میں اچھی طرح جانتا ھوں کہ تم کہاں بزی ہو ۔۔۔۔۔نیناں کو گھر ڈراپ کرو اور میرے پاس پہنچوں ابھی اسی وقت بہت ضروری کام ہے تم سے “بختیار صاحب دانت کچکچا کر بولے
“اچھا آتا ہوں “شاہزیب نے فون بند کر دیا
“کیا ہوا کیا کہہ رہے تھے پوپس “
“اپنے آفس بلایا ہے مجھے ۔۔۔۔اور یہ بھی کہا ہے کہ نیناں کو گھر پر ڈروپ کر کے آنا ۔۔۔۔کتنا خیال ہے نا تمہارے باپ کو تمہارا سارے جاسوس اس نے تمہارے پیچھے ہی چھوڑے ہوئے ہیں ۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے شادی کے بعد بھی یہ شخص ہماری جان نہیں چھوڑے گا ‘” نیناں کا رنگ فق ہوا تھا یک دم ہی کھڑی ہو گئ
“شاہزیب ہمہیں نہیں ملنا چاہیے تھا ۔۔۔۔”
“او شٹ اپ ۔۔۔۔۔تمہارے باپ کے کہنے پر نہیں چل سکتا ہوں میں جب دل چاہے گا ملوں گا تم سے ۔۔۔۔چلو آؤں چھوڑ دوں تمہیں ۔۔۔۔اور پوچھوں جا کر رانا بختیار سے اب کیا چاہتے ہیں “
نینان چپ چاپ شاہزیب کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
******…….
شام کوشازیب دیر سے ہی گھر لوٹاتھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم نے وجہ پوچھی تو کہہ دیا کہ دوستوں کے ساتھ تھا ۔۔۔۔کھانے کو پوچھا تووہ بھی منع کر کے تھکن کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔۔۔بختیار صاحب کے ۔آفس سے واپسی پر ایک گھنٹہ بے مقصد ہی وہ بائیک سڑکوں پر گھماتا رہا اب بھی کافی سنجیدہ سا تھا بیڈ پر بیٹھ کر اپنا سر پکڑ کچھ سوچنے لگا پھر سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا کچھ ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔کافی چیزیں الٹ پلٹ کر کے اسے اپنا مطلوبہ کارڈ مل چکا تھا ۔۔۔۔۔اس نے موبائل پر نمبر ملایا ۔۔۔۔۔کافی بیل کے بات فون اٹھایا گیا
“ہیلو “
“کین آئی اسپیک مسٹر قیوم صابر “
“یس بول رہا ہوں ‘
“اسلام علیکم سر “
“یس کون “
“میں شاہزیب ہوں ۔۔۔۔۔میری آپ سے سی ویو پر ملاقات ہوئی تھی ۔۔۔۔ون ویلنگ کرتے ہوئے میں گر گیا تھا ۔۔۔۔آر یو ریممبر “شاہزیب نے یادہانی کرانے کی کوشش کی
“او یس یس۔۔۔ یو ینگ بوائے ۔۔۔۔۔میں نے بہت دن تک تمہاری کال کا ویٹ کیا لیکن تم نے بات نہیں کی ۔۔۔۔ اینی وئے آج کیسے یاد کر لیا “قیوم صابر کا لہجہ چہکا تھا
“بس یونہی مجھے لگا شاید آپ مجھے بھول گئے ہوں گئے
“نہیں یار تم بھولنے والی چیز نہیں ہو کچھ دن پہلے ٹی وی پر بھی تمہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ میری سوچ سے بہت اونچی چیز ہو تم مائے وائے ۔۔۔ مجھے اندازہ تو تھا کہ تم نڈر ہو مگر اسقدر یہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔ پولیس والوں کی زیادتیوں کا شکار کون نہیں ہوتا لیکن انہیں منہ توڑ جواب دینا ہر ایک کی بس کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔۔یو آر ریلی گریٹ “قیوم صابر کو یہ لڑکا کچھ الگ ہی لگتا تھا
“کیا ہم ملکر بات کر سکتے ہیں “شاہزیب نے بات آگے بڑھائی
“یا شیور کیوں نہیں ۔۔۔۔کب ملنا چاہتے ہو “قیوم صاحب کا اشتیاق قابل دید تھا
‘کل آپ مجھے اپنے آفس کا پتہ دیں ۔۔۔میں پہنچ جاؤں گا “
“بلکل تم وقت بتاؤں کب آؤں گئے میں تمہارا انتظار کروں گا “قیوم صاحب نے کہا شاہزیب نے چار بجے کاشوقت مقرر کیااور فون بند کر دیا
