One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 10

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 10

One Wheeling by Umme Hani

رائمہ کے سسرال والوں نے ایک نیا۔ شوشا یہ چھوڑا کہ نکاح رخصتی سے ایک ہفتہ پہلے کریں گئے ۔۔۔۔رابعہ بیگم کو انکی روز روز کی ۔۔کی جانے والے فرمائشیں بری لگنے لگی تھیں ۔۔۔

“باسم یہ بھلا کیا بات ہوئی ایک ہفتہ پہلے نکاح کرنے کی کون سی تک ہے ۔۔۔یعنی کے ایک مزید اور فنگشن اور خرچہ الگ ۔۔۔۔میں تو مہندی کرنے کے بھی حق میں نہیں تھی اور یہ اب نکاح کا بول رہے ہیں ۔۔۔ارے ۔ کیا پیسے درختوں سے توڑ کر لائیں گئے ہم ۔۔۔تم منع کر دو بیٹا “‘رابعہ بیگ پریشان سی ہونے لگیں تھیں

“امی کیسے منع کر دوں ۔۔۔۔رائمہ کا رشتہ طے ہونے کی خبر ہر جگہ پھیل گئ ہے ۔۔۔۔ساری تیاریاں ہو چکیں ہیں کئ جگہ تو کارڈ تک بھیجے جا چکے ہیں ۔۔۔نکاح سے منع کرنے پر اگر انہوں نے شادی سے انکار کر دیا تو سوچیں کتنی بدنامی ہو گی ہماری ۔۔۔۔۔۔”باسم خود بھی پریشان تھا ۔۔۔شادی پر اس کا اچھا خاصا بجٹ آؤٹ ہو چکا تھا ۔۔۔۔رائمہ اور نیلو فر اندر کمرے میں بیٹھیں مہندی پر پہنے والے دوپٹے پر گوٹا ٹانک رہیں تھیں ۔۔۔۔اندر رابعہ بیگم اور باسم کی آوازیں صاف سنائی دے رہی۔ تھی ۔۔۔

“افففف”رائمہ کی انگلی پر سوئی چھبی تو بے اختیار منہ سے نکلا ۔۔۔”

“کیا ہوا رائمہ ۔۔۔”نیلو فر نے ڈوپٹہ چھوڑ کر رائمہ کا ہاتھ پکڑ کر دیکھا جہاں شہادت کی انگلی پر خون کا قطرہ نمودار ہو چکا تھا ۔۔۔۔

“تم رہنے دو ۔۔۔گوٹا میں لگادیتی ہوں ۔۔۔”نیلو فر سمجھ گئ تھی کہ رائمہ اپنے سسرال کی نئ فرمائش پر پریشان ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔نیلو فر نے رائمہ کے ہاتھ سے ڈوپٹہ اور سوئی پکڑی ۔۔رائمہ کے ۔انسوں چھلک کر نیلو فر کے کے ہاتھ کی پشت پر گرے ۔۔۔”

“رائمہ تم رو رہی ہو ۔۔۔”نیلو فر نے اپنے ہاتھ سے رائمہ کا چہرا اوپر کیا ۔۔۔۔چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

“ہم بیٹیاں بھی کتنی بے بس اور مجبور ہوتی ہیں نا نیلو ۔۔۔۔خاص طور پر سفید پوش لوگوں کے گھر پیدا ہونے والی بیٹیاں ۔۔۔۔جن کے باپ بھائی کاخون خشک ہو جاتا انکا جہیز بناتے بناتے ۔۔۔۔لڑکے والوں کی نت نئ فرمائشیں پوری کرتے کرتے ۔۔۔۔۔۔جانتی ہو نیلو باسم پہلے ایسا نہیں تھا ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا تھا ۔گھر میں ہر وقت اسکے شرارتیں اور قہقے گونجتے تھے ۔۔۔لیکن بابا کے انتقال کے بعد اسے چپ سی لگ گئ تھی ۔۔۔۔۔پہلے پہلے مجھے لگا بابا کے انتقال نے اسے اتنا سنجیدہ اور خاموش کر دیا وقت گزرنے پر ٹھیک کو جائے گا ۔۔۔۔لیکن اب سمجھی ہوں۔۔۔ اسے تو میرے اور رباب کے جہیز اور شادی کی فکر نے اتنا مصروف کر دیا کہ ہسنا تک بھول چکا ہے ہر وقت بس ایک ہی دھن سوار رہتی ہے اسے ۔۔۔رائمہ کے لئے کروکری مہنگی والی ہونی چائیے فرنیچر اچھا ہو ۔۔۔۔کپڑے رائمہ کی پسند کے ہونے چاہیے ۔۔۔امی آپ رائمہ کی پسند کو اہمیت دیجیے گا قیمت کی فکر مت کیجیے گا ۔۔۔میری بہن کو کسی چیز کی کمی نہیں محسوس ہونی چاہیے ۔۔۔باسم کہ سوچ بس میرے اور رباب تک محدود ہے اس کے نزدیک ہماری پسند اور خواہش کی اہمیت ہے ۔۔۔۔تمہیں۔ پتہ ہے نیلو ۔۔۔۔جب سے میری بات پکی ہوئی ہے ۔۔۔باسم نے دو ٹیوشن مزید پڑھانے ،شروع کر دیے ہیں ۔۔۔رات کے گیارہ بجے واپس آتا ہے صرف اس لئے کہ میں” ۔۔۔۔۔رائمہ رونے لگی تھی بلکنے لگی ۔۔۔۔نیلو اسے تسلی دیتے ہوئے خود بھی آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔۔

“تمہیں پتہ ہے ۔۔۔سسرال والے جہیز میں آئے والے کانچ کے برتن کو توڑنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ دینے والے کا کتنا خون پسینہ ایک ہوا ہو گا ۔۔۔۔اب بھی باسم کچھ بھی کرے گا نیلو۔۔۔۔ چاہےخود کو گروی ہی کیوں نا رکھوانا پڑے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا نکاح لڑکے والوں کی خواہش پر ہی کرے گا تا کہ مجھے کل کو کوئی طعنہ نا سننا پڑے لیکن پھر بھی مجھے ہر بات پر سنایا اور جتایا جائے گا کہ جو میں لائی ہوں اسکی کوالٹی پائیدار نہیں ہے ۔۔۔ہلکی ہے۔۔۔ سستی ہے جو کھانا بارات اور نکاح پر دیا گیا اسکا ذائقہ اتنا اچھا نہیں تھا سستے پکوان سے بنوایا گیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔”رائمہ مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ اپنے دل کے خدشات بھی ظاہر کر رہی تھی ۔۔۔۔

“اچھا چپ بھی کرو رائمہ ۔۔۔۔پندرہ دن بعد تمہاری شادی ہے اور رنگ دیکھوں کیسے زرد ہو رہا ہے تمہارا ۔۔۔جیسے جسم میں خون ہی نا ہو ۔۔۔۔”نیلو فر نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں لیکر پیار سے کہا پھر اسکے آنسوں پونچنے لگی

*******………

شاہزیب اڑی ہوئی رنگت کے ساتھ گھر لوٹا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب کی باتوں نے اسے حواس باختہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔گھر کی ڈور بیل مسلسل نون اسٹاپ ہو رہی تھی ۔۔۔نمیرہ نے دروازہ کھولا شاہ زیب پسینے سے شرابور گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا شازمہ سامنے ڈائنگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی۔۔۔

شاہزیب کو یوں بد حواس دیکھ کر کچھ حیران سی ہوئی شاہزیب آتے ہی صوفے پر ڈھے گیا ۔۔۔

“نمی پانی پلاو ۔۔ٹھنڈا…. یخ ۔۔۔”شاہ زیب نے پھولے ہوئے سانس سے کہا اور شرٹ کی آستین سے پسینہ صاف کرنے لگا پنکھا بھی تیز کیا پوری شرٹ پسنے سے گیلی ہو رہی تھی ۔۔۔شازمہ نے ٹیبل سے جگ لیا اور ایک گلاس میں پانی ڈال کر شاہ زیب کے پاس آ گئ

“یہ لو پیو پانی “شاہزیب نے گلاس پکڑااور ایک ہی سانس میں گٹاگٹ پانی پی گیا ۔۔۔

“ایک گلاس اور دو “شاہزیب نے گلاس واپس شازمہ کو تھمایا۔۔۔۔

شازمہ نے ایک گلاس اسے اور دیا وہ بھی اس نے ایک گھونٹ میں پیا جب تیسری بار بھی اس نے پانی کا گلاس مانگا تو شازمہ کو کچھ تشویش سی ہونے لگی ۔۔۔

“کیا بات ہے ۔۔۔شہنشاہ عالم ۔۔۔۔ ملکہ نے ڈیٹ پر مہنگی ڈشیز منگوا لیں تھی جس کا بل بھرنے کے کے لئے ظلے الہی کے۔ خزانے کم پڑ گئے تھے ۔۔۔اس لئے پورے ریسٹورنٹ کے برتن مانجتے ہوئے آئے ہو جو یوں پانی۔ چڑھا رہے ہو گدھوں کی طرح ۔۔۔۔۔۔”شازمہ نے اپنے بدلہ پورا کیا

“بکو کم .۔۔۔سمجھی ۔۔۔…نمی پانی کا جگ دو مجھے “شاہزیب کو اسوقت ہر چیز اور ہر بات بری لگ رہی تھی ۔۔۔۔نمیرہ نے اٹھ کر ٹیبل سے پانی کا جگ پکڑا اور شاہزیب کو پکڑا دیا شاہ زیب نے مزید دو گلاس اور پانی کے پیے۔۔۔۔۔

شازمہ اسے حیرت سے دیکھتی ہوئی اس کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔

“تم تو بڑے پھنے خان اور شیخ چلی بن کر گئے تھے۔۔اس لڑکی سے ملنے اور اب وہاں سے آئے ہوں یوں بھیگی بلی بن کے ۔۔ کیا ہوا کیا سچی میں برتن مانجے ہیں ہوٹل کے “شازمہ نے اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مزاق اڑانے والے انداز سے بھائی کو تپانا چاہا

“ہاں مانجے ہیں۔ برتن تمہارے شہزادہ سلیم عرف “شازل جیدی “نے ۔۔۔۔۔جاوں جا کر شکل دفان کرو میرے سامنے سے اپنی “وہ پہلے سے ہی تپا ہوا تھا پھر شازمہ کے طنز ہر ہتھے سے اکھڑ گیا

“نمی امی اور ابو نظر نہیں آ رہے کہاں ہیں “شاہزیب نے غیر معمولی خاموشی دیکھی تو پوچھنے لگا

“وہ اپنے کسی دوست سے ملنے گئے ہیں ۔۔امی اور عاصم بھی ساتھ ہی گئے ہیں “

” یہ امی ابو کے ساتھ عاصم کا جانا فرض ہے کیا ۔۔۔کبھی تو میاں بیوی کو الگ بھی جانے دیا کرے ۔۔اور مجھے سمجھ نہیں آتا ابو کی وسپا میں امی کے علاؤہ عاصم کی جگہ نکل کیسے آتی ہے ۔۔۔”شازیب اب کچھ ریلکس ہوا تھا ۔۔۔اس لئے نارمل انداز سے بات کرنے لگا

“شاہو بھائی ابو کہاں لیکر جاتے ہیں اس چشماٹو کو ۔۔۔وہ تو بس امی کا لاڈلا بنا رہتا ہے ہر وقت ۔۔۔ابو نے تو صرف امی سے کہاں کہ ساتھ چلو ۔۔۔عاصم۔کا اترا ہوا منہ دیکھ کر امی سے رہا نہیں گیا اس لئے اسے بھی ساتھ لے گئیں “نمیرہ نے تفصیل بتائی

“تم امی کی چھوڑو اپنی سناو۔۔۔۔۔کیا کیا باتیں کیں اسکی امیر زادی سے ۔”شازمہ کی سوئی نیناں ہر ہی اٹکی ہوئی تھی

“جو بھی کی ہیں تمہارے پیٹ میں کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔۔۔ میں تمہیں کیوں بتاؤں ۔۔۔کیا میں نے کبھی تم سے پوچھا ہے کہ شازل سے کیا کیا باتیں کرتی ہو ۔۔۔”شاہزیب نے جتانے کی کوشش کی اب کیا بتاتا کہ کیا کیا سن کر اور دیکھ کر آ رہا ہے

۔”وہ میرا منگتر ہے اور کزن بھی ہے ۔۔۔لیکن وہ لڑکی تمہاری کچھ نہیں لگتی ۔۔۔۔دیکھو۔۔اسے صاف منع کر دینا تھا کہ دوبارہ یہاں قدم نا رکھے ورنہ ابو کے غصے کو تم جانتے ہو “شازمہ نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ انداز سے کہا شاہ زیب نے اسکی انگلی کو اپنی انگلی میں لیکر مڑور کر چھوڑا ۔۔۔۔شازمہ نے مکا اسے کے بازو پر مارا

“ہاں ہاں یہی کہہ کر آیا ہوں اب تو خواب میں بھی یہاں آنے کا نہیں سوچے گی ۔۔۔۔”شاہزیب نے مدافعانہ انداز سے کہا اور اپنے پھٹے جوگر اتار کر سائیڈ پر رکھنے لگا

“چلو شکر ہے جان چھٹی اس امیر بلا سے ۔۔۔کھانا لگا رہی ہوں کھا کر فارغ ہو جاؤں۔تم بھی “شازمہ کچن میں جانے لگی

“مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔اتنا کچھ کھایا ہے کہ اب تودیکھنے کو بھی دل نہیں چاہ رہا “شاہزیب۔ نےمنع کر دیا شازمہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔نمی اٹھ کر شاہزیب کے پاس بیٹھ گئ اور دلچسپی سے پوچھنے لگی

“کیا کیا کھایا ہے شاہو بھائی ۔۔۔۔۔”شاہزیب کے سامنے نیناں کے گھر مختلف لوازمات سے سجی سامنے نظر آنے لگی گی اسکا خوبصورت بنگلہ اسکی آسائشیں سب کچھ خواب جیسا ہی تھا

“مت پوچھو۔۔۔۔نمی یہ بڑا سا بنگلہ تھا اس کا ۔۔۔میرے کمرے جتنا تو صرف باتھ روم ہی تھا ۔۔۔۔دس قسم کے منہ دھونے کے لئے فیس واش تھے ۔۔۔۔دیکھو ابھی تک میرے ہاتھوں سے ان کی مہک نہیں جا رہی “شاہزیب نے اپنے ہاتھ نمی کی ناک کے قریب کیے ۔۔۔اس فوراسے منہ پیچھے کیا اور ناک۔ چڑھا کر بولی

“ہاں آ تو رہی لیکن آپکے پسینے کی ۔۔پیچھیں کریں ہاتھ ۔۔۔بس مجھے یہ بتائیں کھا کر کیا آ رہے ہیں “

“بہت کچھ تھا یار ۔۔۔کیا فش تھی منہ رکھتے ہی گھلنے لگی تھی ۔۔۔اور چکن تھا ۔۔۔نگٹس ۔۔شامی کباب نولڈلز کیک اور نا جانے کیا کیا

“واہ پھر تو بہت مزہ آیا ہو گا آپ کو نمیرہ نے للچائے ہوئے پوچھا ۔۔

“نہیں مزہ بلکل نہیں آیا ۔۔۔۔مجھے کون ساوہ سب ہمیشہ مل سکتا ہے ۔۔۔میں تو بات ختم کرنے گیا تھا ۔۔۔بس ختم کر کے آ گیا ۔۔۔۔۔تم چھوڑو یہ سب ۔۔۔۔یہ بتاؤں ابو کا غصہ کچھ کم ہوا “شاہزیب نے فکرمندی سے پوچھا

“ہاں غصہ تو کم ہے مگر آج کل ہیں بہت سنجیدہ سے ۔۔۔”

“چلو ہو جائیں گئے کچھ دنوں میں ٹھیک “

*******………

“پوپس یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔”نیناں روتے ہوئے بختیار صاحب کے پاس آکر بولی ۔۔۔۔

“تم رو رہی ہو لٹل فرینڈ ۔۔۔تم نے ہی کہا تھا یہ لڑکا تمہیں تنگ کر رہا ہے ۔۔۔”بختیار صاحب۔ نے اسا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوئے کہا

“وہ یہ نہیں تھا پوپس وہ راحیل تھا ۔۔۔یہ شاہزیب ہے ۔۔۔۔”

“واٹ ایور بچے ۔۔۔۔مجھے۔تو یہ بھی آوارہ ٹائپ کا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔کوئی یوں آتا ہے کسی کے گھر چائے پینے اچھا ہی ہوا جو ہوا ۔۔۔۔”بختیار صاحب مطمئن تھے

“آوارہ نہیں وہ پوپس ۔۔۔۔بہت اچھا ہے بس میری غلطی کی وجہ سے جان بوجھ کر ایسا بن کر آیا تھا ۔۔۔مجھے میری غلطی کا احساس دلانے “نیناں اب آنسوں بہاتے ہوئے بولی

“کون سی غلطی ۔۔”بختیار صاحب نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ سامنے ٹیبل پر رکھی اور ٹشو بکس سے ٹشو نکال کر ہاتھ صاف کرنے لگے ۔۔۔۔”

“پوپس ۔۔۔یہ وہی ون ویلنگ والا لڑکا ہے ۔۔۔ مجھے اسے دوستی کرنی تھی لیکن وہ میری بات بھی سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔اس لئے میں “نیناں خاموش ہو کر نظریں چرا گئ بختیار صاحب سے پوچھے بغیر وہ پہلی بار کہیں گئ تھی وہ بھی شاہزیب کے گھر ورنہ کہیں بھی جانے سے پہلے بختیار صاحب کو ضرور بتاتی تھی

“پھر “بختیار صاحب اب بلکل اسپاٹ انداز سے اسے دیکھ رہے تھے

“پوپس میں اسکے گھر اس سے ملنے چلی گئ ۔۔۔۔”

“نیناں “بختیار صاحب کا لہجہ ترش ہوا ۔۔۔۔ غصے میں ہی وہ نیناں کو س کے نام سے پکارتے تھے ۔۔

“میں نے آج تک تم پر پابندی تو کبھی نہیں لگائی پھر مجھے بتائے بغیر جانے کا مطلب ۔۔۔۔بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے “بختیار صاحب کو غصے کے ساتھ ساتھ نیناں کی حرکت پر افسوس بھی ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

“پوپس ایم سوری آئندہ نہیں جاؤں گی ۔۔۔”نیناں نادم سی ہو گئ

“تم اب بھی کیوں گئ نیناں ۔۔۔۔تم جانتی ہی کتنا ہو اس لڑکے کو ۔۔۔۔یوں منہ اٹھائے کسی کے گھر تک پہنچ جانا ۔۔۔۔کس قدر غیر مناسب حرکت ہے ۔۔۔۔ اوپر سے وہ بھی اس قسم کے آوارہ لڑکے کے گھر “

“پوپس وہ آوارہ نہیں ہے ۔۔۔۔بہت اچھا ہے ۔۔۔بس اس کے فادر کو میرا یوں آنا پسند نہیں آیا تھا اس لئے اسے ان سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی تھی ۔۔۔اس لئے وہ مجھے مزا چکھانے کے لئے آپ کے سامنے خود کو برا شو کر رہا تھا ۔۔۔ہی از آ نائیس گائز پوپس “۔۔۔

“لیکن مجھے پھر بھی یہ بات اچھی نہیں لگی ۔۔۔۔آج کے بعد تم کسی کے بھی گھر مجھ سے پوچھے بغیر نہیں جاؤں گی “بختیار صاحب کی پیشانی پر پڑے بل اور گہری سوچ پر نیناں نے بس سر ہلایاتھا ۔۔۔

“پوپس ۔۔۔۔”

“نو مور کوسچن۔۔۔۔”باپ کے غصے کو بھانپتے ہوئے نیناں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔

“رحمت بی بی “بختیار صاحب نے گھر کی ملازمہ کو آواز دی اور سگریٹ نکال کر منہ لیا

“جی بڑے صاحب “رحمت بی بی مودبانہ انداز میں سر جھکائے کھڑی ہو گئ

“باہر سے ڈرائیور کو اندر بھیجو “

“جی بڑے صاحب “رحمت بی بی باہر سے ڈرائیور کو بلا لائی وہ بھی بختیار صاحب کے سامنے نہایت مہذب طریقے سے کھڑا ہو گیا

“یس سر “

“میں نے تم سے کہا تھا نا کہ بے بی اکیلی کہیں نہیں جائے گئ ۔۔۔۔”

“سر وہ ضد کر رہیں تھی ۔۔۔”ڈرائیور کو لگا کہ نیناں آج سمندر پر اکیلی خود ڈرائیو کر کے گئ تھی ۔۔۔بختیار صاحب اس لئے اس پر غصہ ہیں

“اوشٹ اپ یو ڈیمٹ ۔۔۔۔۔کتنی بار کہو گا تم سے کہ جب وہ اکیلی جائے۔۔۔ تم دوسری گاڑی میں اس کا پیچھا کرو گئے ۔۔۔اور مجھے پل پل کی رپورٹ دو گئے ۔۔۔۔۔کون تھا یہ لڑکا جو آج آیا تھا “وہ غصے سے غرا کر پوچھ رہے تھے مگر لہجہ دھیمہ تھا تا کہ آواز نیناں کے کمرے تک نا جائے

“سر میں نہیں جانتا ۔۔۔۔کچھ دن پہلے بے بی مال سے شاپنگ کر کے نکلی تھیں تو مجھ سے کہا کہ اسکی بائیک کا پیچھا کرو میں نے وجہ پوچھی پر بے بی ناراض ہونے لگیں ۔۔۔اس لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی مجھے لگا بے بی کی دوست ہے شاید اس لئے پیچھا کر رہیں ہیں ۔۔۔لیکن اسکے اپاٹمنٹ کے سامنے بائیک کھڑے ہوتے ہی بے بی نے کہا واپس گھر چلو ۔۔۔اور کل میرے ساتھ ہی دوبارہ وہاں گئیں تھیں لیکن میں ملازم بندہ ہوں ان سے سوال جواب نہیں کر سکتا مجھے لگا اس لڑکی سے ملنے گئیں ہیں جو بائیک میں اس لڑکے کے پیچھے بیٹھی تھی “

“اتنا سب کچھ ہو گیا اور تم نے مجھے بتانے کی بھی زحمت نہیں کی ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنی بیٹی کے لئے کسی اور کا نظام کرنا پڑے گا ۔۔۔”لال انگارہ آنکھیں لئے بختیار صاحب کا بس نہیں۔ چل رہا تھا کہ ڈرائیور کو گولی سے اڑا دیں اتنی لاپروائی وہ بھی نیناں کے لئے

“نو سر یوں مت کریں ۔۔۔۔میں آپ کو بتا دیتا لیکن بے بی نے سختی سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ خود آپ کو بتائیں گی ۔۔۔”ڈرائیور پریشان ہونے لگا ۔۔۔گھبراہٹ سے اسکے پسینے چھوٹے لگے

“تم میرے ملازم ہو ۔۔۔تنخواہ بھی مجھ سے لیتے ہو ۔۔۔۔۔بہتر ہو گا بات بھی میری مانا کرو ۔۔۔میری صرف ایک ہی بیٹی ہے جس میں میری جان بستی ہے ۔۔۔وہ کب کہاں جاتی ہے کس سے ملتی ہے ۔۔۔اسکی نالج میں لائے بغیر تم مجھے بتاؤں گئے ورنہ اپنا کہیں اور انتظام کر لینا ۔۔۔”بختیار صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا

“جی بہتر آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا سر “ڈرائیور کا حلق تک خشک ہو چکا تھا ۔۔۔بختیار صاحب بات دھمے لہجے میں کر رہے تھے مگر سختی سے دانت بیچ کر سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ جیسے اپنا شدید غصہ ضبط کر رہے ہوں “

“اب یہ بتاؤں کہ کس علاقے میں۔ تھا اس لڑکے کا گھر “وہ دھیرے سے مگر غضب ناک لہجے سے پوچھنے لگے

“سر ناظمہ آباد کا علاقہ تھا اپاٹمنٹ میں رہتا ہے وہ ۔۔بلڈنگ مجھے یاد ہے پر فلور کا پتہ نہیں “

“ہمم ۔۔۔گارڈ سے کہو مجھے وہ ویڈو فوٹیج دیکھائے اس لڑکے کی جب وہ بنگلے میں انٹر ہوا تھا اسکی تصویر مجھے میرے نمبر پر صرف چند منٹ میں چاہیے ۔۔۔ناو گیٹ لوس “ڈرائیور تیزی سے باہر نکل گیا ۔۔۔بختار صاحب پریشانی سے سگریٹ کے کش لگانے لگے ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ نیناں بنا بتائے کسی کے گھر اسےملنے گئ تھی ۔۔۔ورنہ دوستوں کے ساتھ باہر جانے کی اسے اجازت تھی ۔۔۔اگر وہ ضد بھی کرتی کہ اسے اکیلے جانا ہے تو بختیار صاحب نے کبھی اسے منع نہیں کیا تھا لیکن ڈرائیور کو خاص تنبیہ کی جاتی تھی وہ فاصلہ رکھ کر نیناں کا خیال رکھےاسکا پیچھا کرے ۔۔۔۔۔اور کبھی ایسا بھی نہیں ہوا تھا نیناں نے اپنے کسی دوست کے بارے میں چھپانے کی کوشش کی ہو ۔۔۔۔چند منٹ میں ہی انکے موبائل پر شاہزیب کی تصویر آ چکی تھی جسے انہوں نے ایک نمبر پر سینٹ کیا پھر اس کا نام اور ایڈریس سینٹ کیا ۔۔۔اسمے بعد کا کی

“ہاں تصویر مل گئ تمہیں ۔۔۔۔اب آگے سنو مجھے اس لڑکے کی ساری انفارمیشن کل اپنے آفس کے ٹیبل پر مل جانی چاہیے “اپنا پیغام دے کر بختیار صاحب۔ نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔

******……..

باہر کی ڈور بیل پر دروازہ نمیرہ نے کھولا تھا وہ بھی بنا پوچھے ۔۔ لیکن سامنے دیکھ کر کچھ دیر فریز ہوئی تھی ۔۔ایک اسمارٹ سا لڑکا اپنی ڈیشنگ پرسنیلٹی لئے پینٹ شرٹ پہنے نہایت مہذب انداز سے کھڑا تھا ۔۔۔

“جی سر زمان ہیں ” نمیرہ نے اسکی بات سنی ہی لب تھی وہ تو اسے دیکھتے ہی ناول کی دنیا میں کھو چکی تھی ۔۔۔ اس ناول جیسے ہیرو کو سامنے دیکھ کر ہی دم بخود رہ گئ تھی ۔۔۔

“ہائے اللہ یہ تو بلکل سالار سکندر جیسا ہے ۔۔۔۔کیا قد ہے کیا پرسنیلٹی ہے ۔۔۔۔۔ میں کون سا کم ہوں بلکل امامہ جیسی ہی دیکھتی ہوں بس بال ہی ذرا سے گھنگرالے ہیں ۔۔۔۔نمیرہ باسم کو سامنے دیکھ اپنے خیالوں میں کھو گئ تھی ۔۔وہ بیچارہ نظریں جھکائے اسکے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔

“جی سر زمان “آخر باسم نے دوبارہ سے پوچھا ایک اچٹتی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر ڈالی جو بے خود اسے دیکھ رہی تھی پھر جلدی سے نظریں ہٹا لیں ۔۔۔

“کون ہے نمی “شاہزیب نے مین گیٹ کھولا تو ایک نظر آنے والے پر ڈالی جو نظریں ۔ جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔ بلیک پینٹ اور اسکن شرٹ پہنے ہلکی سی شیو میں بہت اٹریک کر رہا تھا ۔۔۔پھر دوسری نظر نمیرہ پر ڈالی جو شاہزیب کی آمد سے بے خبر باسم کو ہی دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔شاہزیب کو غصہ آیا

“نمی اندر جاؤ”شاہزیب کے بارعب لہجے پر نمیرہ چونکی ۔۔۔پھر بڑبڑاتی ہوئی اندر چلی گئ ۔۔باسم نے شاہزیب کو دیکھ کر دوبارہ زمان صاحب کا دریافت کرنے لگا

“سر زمان ہیں “

“جی ہیں آپ کون “اپنے آبرو چڑھائے اس نے سخت لہجے میں دریافت کیا

“ان سے کہیں کہ باسم عبدالرحمان آیا ہے “

“ٹھیک ہے میں پوچھتا ہوں “شاہزیب نے زمان صاحب کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا

“کون ہے اندر آ جاؤ”زمان صاحب کی آواز، پر شاہزیب۔ نے دروازہ کھولا

“ابو کوئی باسم عبدالرحمان آیا ہےآپ سے ملنے “

“ارے باسم آیا ہے بھیجوں اسے میرے پاس۔۔۔۔”زمان صاحب کا۔ چہرہ باسم کے نام پر کھل سا گیا تھا ۔۔۔شاہزیب باسم کوزمان صاحب کے کمرے میں لے گیا

“ارے آؤں آؤں باسم میاں ۔۔۔۔اندر آؤں …شاہزیب۔ شازمہ سے کہو کچھ ٹھنڈا بھیجے “شاہزیب باپ کی خوشی اور نرم لہجہ دیکھ کر حیران تھا ۔۔۔بازم کو دیکھ کر انکی خوشی قابل دید تھی شاہزیب۔ کمرے سے باہر آ گیا ۔۔۔شازمہ کے ہاتھ سے کولڈرنک کا گلاس لیکر خود اندر گیا ۔۔۔

“باسم یہ بیٹا کے میرا شاہزیب ۔۔۔ماشاللہ سے ایم کام کر رہا ہے ۔۔۔بہت ذہین ہے تمہاری طرح “زمان صاحب کے منہ سے اپنی تعریف سن کر شاہزیب کو لگا کہ ابھی بے ہوش ہو کر گر جائے گا ۔۔۔۔باسم نے کولڈرنک کا گلاس لیکر شاہزیب کو مسکرا کر دیکھا

“ماشاللہ سے سر آپ کا بیٹا بلکل آپ سے ملتا ہے ۔۔۔۔اور ظاہر ہے ذہانت تو ورثے سے ہی ملی ہو گی انہیں ۔۔۔۔”باسم نے تعریف کی

“بلکل پڑھائی کے ساتھ ساتھ بہت سے کمپوٹر کورس بھی کیے ہیں اس نے ۔۔بس ذرا پڑھائی سے فارغ ہو جائے تو بہت کچھ سوچا ہے اس کے لئے ۔۔۔۔”زمان صاحب کی غیر متوقع باتوں پر

شاہزیب کا دل لڈیاں ڈالنے کو کر رہا تھا۔۔۔باسم نے خوشگوار تعجب کا اظہار کیا ۔۔۔۔ شاہزیب کمرے سے جانے لگا

“بیٹا ذرا نمی سے کہو اچھی سی چائے بنا دے “

“ارے سر چائے نہیں پیو گا ۔۔۔بس یہ ٹھنڈا کافی ہے “

“نہیں نہیں تم بہت عرصے بعد ہاتھ لگے ہو چائے پیے بغیر تو نہیں جا سکتے “زمان صاحب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ باسم سے کیسے اپنی خوشی کا اظہار کریں ۔۔۔شاہزیب نے باہر بیٹھی شامہ سے چائے کا کہا

“میں بنا دیتی ہوں ویسے بھی ابو کو میرے ہاتھ کی چائے ذیادہ پسند ہے “نمیرہ فورا سے اٹھ کر کچن میں چلی گئ

“******………..

“تم یقین نہیں کرو گئے تمہیں دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے ۔۔۔۔”

“سر میں بھی بہت خوش ہوں کہ آپ مجھے ملے تو صحیح ۔۔۔۔ بابا کے بعد آپ کی کمی بہت ذیادہ محسوس کی ہے میں نے ۔۔۔کالج میں جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تھی ۔۔۔میں آپ سے کہہ دیتا تھا ۔۔۔اور یقین جانیے آپ کے مشورے پر عمل کر کے کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھا میں نے ۔۔۔۔آپ کو جب سے بک شاپ پر دیکھا مجھ سے رہا نہیں گیا اس لئے آج فرصت ملتے ہی آپ کے پاس آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔”باسم نے دلی مسرت سے کہا

“اور سناؤں گھر میں تو سب ٹھیک ہے نا “زمان صاحب نے پوچھا

“جی سب ٹھیک ہیں ۔۔۔بہن کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوں “

“ماشاللہ ۔۔۔ماشاللہ ۔۔۔اللہ تمہیں اس فرض سے عزت سے سبکدوش کرے ۔۔۔”

“آمین۔۔۔سر آپ نے کالج سے ڈرانسفر کیوں کروا لیا حالانکہ آپ بہت عرصے سے وہاں تھے ۔۔۔”باسم نے لہجے میں تشویش تھی زمان صاحب کے چہرے پر استزائیہ مسکراہٹ پر سمجھ گیا کہ کچھ نا کچھ تو ضرور ہوا ہو گا

“بس ڈانسفر تو ہم جیسے اساتذہ کی قسمت میں اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے جب ہم بڑے بڑے ویڑروں کی بگڑے ہوئے بیٹوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے ان بچوں کے ساتھ امتحانی پرچوں میں زیاتی نہیں کرتے جنہوں نے سال بھر محنت کی ہو ۔۔۔۔”زمان صاحب نے تاسف سے کہا۔۔۔۔

“سر آپکا اشارہ واصف کی طرف ہے کیا اس کی وجہ سے “باسم کو حیرت ہوئی تھی ۔۔۔۔کیونہںاسکی کلس میں وہی ایک بگڑا ہوا وڈیرہ تھا ۔۔سر پھیرا اور نکما

“ہمم ٹھیک سمجھے ہو ۔۔۔واصف نے دھمکی دی تھی کہ تمہارے پرچے میں اس کے نام پر منشن کر دوں تا کہ تمہاری محنت کا پھل اسے مل سکے ۔۔۔میرے انکار کا تو یہی جواب مجھے ملنا تھا پر شکر ہے باسم تمہارے رزلٹ پر میں نے آنچ نہیں آنے دی “باسم پڑھائی میں بہت اچھا تھا اس لئے کچھ وڈیروں کے لڑکےباسم سے خار کھاتے تھے لیکن باسم کو یہ اندازہ نہیں تھا اسکی وجہ سے زمان صاحب نے اتنی بڑی قربانی دی تھی

“سر آپ نے میرے لئے اتنا بڑا رسک کیوں لیا ۔۔۔۔اگر وہ آپ کی جان کے دشمن بن جاتے تو ۔۔۔”

“ارے نہیں انکی پہنچ بس یہیں تک تھی ۔۔۔۔مجھے اس ٹرانسفر کا کوئی افسوس نہیں میر کام تو علم کی شمع روشن کرنا ہے ۔۔۔۔جگہ کوئی بھی ہو اسے ۔جھء فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔میں یہاں بھی خوش ہوں ۔۔۔۔”بھی وہ لوگ باتوں میں ہی مصروف تھے جب عاصم چائے کی ٹرے اندر لیکر آیا ۔۔۔۔

اور باسم کو سلام کیا

“باسم بھئ یہ میرا چھوٹا شہزادہ ہے ۔۔۔۔بس پڑھنے میں تھوڑا کمزور ہے “زمان صاحب نے کی کمر سہلاتے ہوئے اسے چشم سے متعارف کروایا ۔

“اچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو بھئ “باسم نے عاصم سے پوچھا اور۔ آئے کا کپ بھی اٹھا لیا

“نائتھ میں “

“ہمم ۔۔۔اپنے بھائی سے پڑھ لیا کرو وہ تو بہت جینیس ہے “

“شاہو بھائی مجھے ٹائم نہیں دیتے انکے اپنی بہت سی ایکٹوٹیز ہیں “

“باسم مجھے اسکی بہت فکر رہتی ہے اگر تمہیں کچھ فرصت ہو تو اسے پڑھا دیا کرو “

“آپ کے لئے تو فرصت نا بھی کوئی تو ضرور نکال لوں گا ۔سر ۔۔۔آپ یہ میں کہا کریں کہ اگر فرصت ہو تو کر دینا ۔۔۔بس یہ کہیں کہ باسم تم نے پڑھانا ہے ۔۔۔مجھے حکم دیا کریں سر ۔۔۔میرا مان بڑھ جائے گا ۔۔۔ میں کل شام سے ہی آ جاؤں گا ۔۔۔۔اچھا ابھی تو فی الحال میں یہ کارڈ دینے آیا تھا رائمہ کی شادی کا ۔۔۔اور جمعے کو نکاح بھی ہے اس کا سر۔۔۔ آپ آ کر اس کے سر پر اپنی شفقت کاہاتھ رکھیں گئے تو مجھے خوشی ہوگی “

“کیوں نہیں میں ضرور آؤں گا “زمان صاحب کارڈ کھول کر دیکھنے لگے زمان صاحب کی پوری فیملی کا انوٹیشن تھا ۔۔۔۔

“اچھا سر میں اب چلو گا “بسم نے خالی کپ ٹرے میں رکھا اور اجازت مانگی