One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 34

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 34

One Wheeling by Umme Hani

نمیرہ کچن میں برتن دھو رہی تھی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ آنسوں بہا رہی تھی جب شازمہ کچن میں پہنچی ۔۔۔۔میٹھائی کا خالی ڈبہ کچرے کے ڈبے میں ڈالا اور ہاتھ میں پکڑا آخری گلاب جامن۔ نمیرہ کے منہ کے قریب کیا ۔۔۔۔

“سیفی اور جمی نے بھی قسم سے بھوکے پن مظاہرہ کیا ہے ۔۔۔۔بس یہی ایک بچا ہے لو کھاؤں اسے “شازمہ اپنی ہی دھن میں بول رہی تھی اس بات سے انجان کہ نمیرہ کے دل پر کیا گزر رہی ہے ۔۔۔۔۔

“مجھے نہیں کھانی آپی آپ کھا لیں ۔۔۔۔نمیرہ نے آنسوں ضبط کرتے ہوئے کہا اور سنک کی طرف ذراسا جھک گی تا کہ شازمہ اسکے آنسوں نا دیکھ سکے ۔۔شازمہ نے دیکھے بھی نہیں تھے کندھے اچکا کر میٹھائی کھانے لگی

“مرضی ہے تمہاری ویسے تھے بڑے مزے کے نمی لگتا ہے۔ بڑی مہنگی بیکری سے لایا تھا ۔۔۔خوش بھی بہت لگ رہا تھا بات بات پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے نمی ضرور پسند کی جگہ رشتہ طے ہوا ہو گا “شازمہ کی قیاس آرائی پر نمی نے سنک کے نل سے آنکھوں پر چھینٹے مارے ۔۔۔۔برتن دھو چکی تھی ۔۔۔۔آنسوں کو ظاہر نا کرنے کا یہی ایک آسان طریقہ تھا ۔۔۔۔۔۔

ڈوپٹے سے منہ صاف کیا اور کچن سے باہر نکلنے لگی

“ارے تم کہاں منہ بنائے جا رہی ہو ۔۔۔بات تو سنو “

“شازی آپی مجھے نیند آ رہی ہے ” نمیرہ یہ کہہ کر کمرے میں چلی گئ کچھ دیر میں شازمہ بھی بیڈ پر آ کر لیٹ گئ اور سو بھی گئں مگر نمیرہ آنسوں سے تکیہ ہی بھگو رہی تھی ۔۔۔۔رات کے ایک بجے کا وقت تھا ۔۔۔۔جب موبائل ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔اور کمرے کے اندھیرے کونے میں بیٹھ گئ ۔۔۔باسم۔کا نمبر اس نے سیو کر رکھا تھا جب شاہزیب اسکے گھر رکا تھا اور دوسرے دن باسم نے ہی اسکی خیریت کی اطلاع اسے دی تھی ۔۔۔۔۔ایک امید تھی کہ شاید نمی کا اظہار اسے اسکے فیصلے سے پیچھے ہٹا دے جیسا کہ اکثر کہانیوں میں ہو جاتا ہے ہیروئن کا اظہار ہیرو کے فیصلے بدل دیتا ہے ۔۔۔۔ نا وقت دیکھا نا یہ کہ اب یہ بات کتنی غیر اہم رہ گئ ہے اور فون باسم کے نمبر پر کر دیا ۔۔۔۔

باسم گہری نیند میں تھا ۔۔۔۔ پھر اسوقت کبھی کسی کی کال آئی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ بند آنکھوں سے موبائل کو کان سے لگایا ۔۔۔ خوابیدہ لہجے سے ہیلو کہا آگے کسی لڑکی کا ہیلو سن کر حیرت کی ہلکی سی لکیر پیشانی پر پڑی ۔۔۔۔فری کا خیال سب سے پہلے آیا تھا ۔۔۔۔

“جی کون۔ “باسم نے پھر بھی تصدیق کرنا ضروری

سمجھا

“میں نمی “یہ نام باسم کے لئے نیا تھا اس نے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا کہ زمان صاحب کی بیٹیوں کے نام کیا ہیں

“نمی کون”باسم کے انجان بننے پر نمیرہ کے آنسوں میں تیزی آئی تھی ۔۔۔۔ مطلب باسم کو اسکا نام تک نہیں پتہ تھا اور وہ اسکے لئے رو رو کے ہلکان ہو رہی تھی

“نمی ۔۔۔مطلب نمیرہ ” نمیرہ نے پھر اپنی ہمت باندھے کہا ۔۔۔باسم نے فون کان سے ہٹایا کچھ دیر نام پر غور بھی کیا مگر ایک تو گہری نیند کے باعث ذہن سوچنے سے قاصر تھا ۔۔۔پھر پہلیاں بوجھنا سخت کوفت میں ڈال رہا تھا فون دوبارہ کان پر لگایا

“جی سمجھ آ گیا مجھے ۔۔۔آپ نمیرہ ہیں اور نمی شاید آپ کا نیگ نیم ہو گا ۔۔۔۔لیکن سسٹر آپ نے شاید غلط نمبر پر فون کیا ہے ۔۔۔میں کسی نمیرہ کو بھی نہیں جانتا “باسم نے نہایت مودبانہ انداز میں کہا مگر سسٹر سن کر نمی کی آنکھیں پھیلیں تھیں

“جی نہیں میں نے بلکل ٹھیک جگہ فون کیا ہے ۔۔اور

میں آپکی سسٹر بھی بلکل نہیں ہوں ۔۔۔۔آپکے سر کی بیٹی ہوں ۔۔۔۔۔ نمیرہ زمان اور ۔۔۔۔آپ کو بہت پسند بھی کرتی ہوں بس آپ ہی کو کبھی احساس نہیں ہوا ۔۔۔۔ ۔۔۔” زمان صاحب کے نام پر باسم کسی کرنٹ کی مانند اٹھ کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔

سر زمان کی یہ کون سی بیٹی تھی ۔۔۔۔جو رات کے اس پہر اسکی نیند کو اپنی باتوں سے اڑن چھو کر چکی تھی۔۔۔۔۔کچھ دیر تو باسم کادماغ سائیں سائیں کرنے لگا ۔۔۔۔۔ یہ تو اسکے گمان میں بھی نہیں تھا کہ سر زمان کی بیٹی اسکے لئے ایسے بھی جذبات رکھ سکتی ہے ۔۔۔۔پھر یاد آنے لگا کہ عاصم کو پڑھانے کے دوران اسے خود پر کسی کی نظریں محسوس ہوتی تھیں ۔۔۔جسے وہ وہم سمجھتا رہا وہ وہم نہیں تھا۔۔۔۔۔لیکن اب سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ بات کیا کرے اور کیا نہیں ۔۔۔۔

“آپ چپ کیوں ہیں ۔۔۔۔۔”نمیرہ نے طویل خاموشی پا کر پوچھا

“کیا بولو میں ۔۔۔۔آپ نے مجھے بولنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا ہے ۔۔۔۔سر زمان کی بیٹی ہیں آپ۔۔۔اور اس قسم کی گفتگوں ۔۔۔ آپکو شاید اندازہ نہیں ہے کہ سر میرے لئے بہت قابل احترام ہیں ۔۔۔۔اسی ناطے انکی فیملی کی ایک خاص رسپکٹ ہے میرے دل میں۔۔۔۔ میں نے تو کبھی نظر تک اٹھا کر انکی کسی بھی بیٹی کی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔دیکھ سکتا بھی نہیں ہوں کجا ایسا سوچنا تو دور کی بات ہے ۔۔۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ میں expect ہی نہیں کر پا رہا ہوں آپ مجھے اسوقت کال کر سکتی ہیں ۔۔۔۔رات کے ایک بجے ۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔آپ کی غیر مہذب گفتگوں کا مجھے کیا جواب دینا چاہیے مس نمیرہ “باسم کا لہجہ دھیمہ تھا مگر لفظ سامنے والے تو شرمندگی سے پانی پانی کر دینے والے تھے وہ واقع یہ امید زمان صاحب کی بیٹی سے ہر گز نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔ انکی تربیت اپنے شاگردوں کے ساتھ اولاد کی طرح تھی ۔۔۔۔غیر مہذب قسم کی گفتگوں وہ کسی شاگرد کو کرنے نہیں دیتے تھے وہ تو پھر انکی بیٹی تھی ۔۔۔یوں کسی اجنبی سے اس طرح کی بات کرنا کہاں زیب دیتا تھا اسے ۔۔۔۔۔باسم نے نمیرہ کے جواب کا چند ثانیے ہی انتظار کیا مگر جب وہ کچھ نہیں بولی تو گہری سانس کھنچ کر بولا

“میں امید کرتا ہوں آئندہ آپ مجھے کال نہیں کریں گی ۔۔۔۔۔ “یہ کہہ کر فون باسم نے بند کر دیا ۔۔۔۔۔

نمیرہ چپ کی چپ رہ گئ تھی اپنے فون کرنے پر جی بھر کر افسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ناتو وہ کسی کہانی کا ہیرو تھا نا نمیرہ کوئی ہیروئن ۔۔۔۔۔یہ ایک حقیقی زندگی تھی ۔۔۔۔۔جہاں ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا انسان سوچتا یا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک بھرم تھا ۔۔۔ایک عزت تھی جو وہ اپنی بیوقوفی کی وجہ سے باسم کی نظر میں کھو۔ چکی تھی

******…….

شاہزیب سر پکڑے بیڈ پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔ تمام تر توجہ نیناں کی طرف تھی ۔۔۔۔۔ کوئی اور موقع ہوتا،تو بھاگ کر پہنچ جاتا اسکے پاس مگر اب وعدے نے جھکڑ رکھا تھا

“نیناں کہاں چھپا لوں تمہیں ۔۔۔۔ کہاں لے جاؤں جہاں کوئی بھی تمہیں دیکھ نا سکے۔۔کیسے تمہیں سب کی آنکھوں سے اوجھل کر دوں ۔۔۔۔جہاں نا تواسٹیٹس کی دیواریں ہوں ۔۔۔۔ نا ہی وعدے کے پاسداری کی پابندی ۔۔۔۔۔یہ جہان محبت کرنے والوں کے لئے ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ سب کے سب انا کی دوڑ میں بھاگتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ نہیں سمجھتے کہ انکی انا کی تسکین کی خاطر کون کون اپنی زندگی ہار بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔ کہاں سے لاؤں تمہیں ۔۔۔۔ کیسے سمجھاوں دل کو تم اب میری دسترس سے بہت دور ہو ۔۔۔۔۔ اتنا دور کہ ۔۔۔۔۔۔شاید تمہیں کبھی دیکھ نا پاؤں۔۔۔۔۔اپنی آنکھیں بند کیے وہ یہی سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔

پھر نا جانے دل میں کیا خیال ایاجواٹھ کر وضو کرنے چلا گیا اچھی طرح سے وضو کیا پھر باہر آ کر جائے نماز بچھایا دو نفل ادا کیے ۔۔۔۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے

” میرے اللہ دنیا کے لیے بہت سے امر ممکن بھی ہے اور ناممکن بھی مگر تو رب ہے تیراایک کن ہر نا ممکن کوممکن بنانے کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔میں نیک نہیں ہوں نا ہی بہت عبادت گزار ہوں۔۔۔کوئی نیک عمل بھی میرے پاس نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کر کے تجھ سے اپنے لئے نیناں کو مانگ لوں ۔۔۔۔لیکن بس ایک محبت سچی کی ہے میں نے ۔۔۔۔ اس میں کوئی کھوٹ شامل نہیں۔۔۔۔نا کوئی ملاوٹ نا ہوس ۔۔۔۔ہاں بس یہ چاہ ضرور ہے کہ وہ میری ہو جائے ۔۔۔یہ چاہت سب محبت کرنے والے کرتے ہیں ۔۔۔۔ اگر میری محبت میں ذراسی بھی سچائی ہے تو ۔۔تو ہر رکاوٹ کو دور کر دے ۔۔۔۔ تو نے دل ملائے ہیں تو نصیب بھی ملا دے میرے مالک ۔۔۔۔۔”آنکھوں سے آنسوں جاری تھے ۔۔۔۔۔بند آنکھیں کیے وہ آج اندر کا غبار آنسوں سے بہا رہا تھا ۔۔۔۔

******………

ڈاکٹر بے حد پریشان تھے آکسیجن ماسک پہنے بھی وہ سانس کھنچ کر لے رہی تھی ۔۔۔ڈاکٹر ایک کے بعد ایک انجکشن اسے لگا رہے تھے ڈرپ کی رفتار کو مزید بڑھا دیا گیا تھا ۔۔۔آدھے گھنٹے کی تگ و دو کے بعد وہ

اب کچھ سنبھلی تھی ۔۔۔۔۔ دھڑکنوں کی رفتار کچھ اعتدال پر آئی تھی۔۔۔۔۔ اب خطرے سے باہر تھی ۔۔۔۔مگر بے ہوش تھی ۔۔۔۔ڈاکٹروں نے بھی شکر کا کلمہ پڑھا تھا ۔۔۔۔۔

باہر بختیار صاحب کو جب یہ خوشخبری ملی تو انکی جان میں جان آئی تھی مگر جب اسکی بے ہوشی طویل ہو گئ تو ڈاکٹروں یہ وہم ہونے لگا کہ کہیں کومہ میں نا چلی جائے ۔۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نیناں سے ملنے بھی جا چکے تھے وہ بے سود بے ہوش لیٹی تھی ۔۔۔۔بار بار اسکا ہاتھ تھامے اسے پکارتے رہے روتے رہے واسطے بھی دیتے رہے مگر اسے ہوش ہی کب تھا ۔۔۔۔۔آخر تھک ہار کر آئی سی یو سے باہر نکل کر ڈالر کے روم میں چلے گئے ۔۔۔۔۔اس سے نیناں کی بے ہوشی کی وجہ دریافت کرنے لگے

“بختیار صاحب آپکی بیٹی خطرے سے باہر ہے لیکن ہوش ابھی تک نہیں آ رہا حالانکہ ہم اپنی ہر کوشش کر چکے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ لیکن شاید وہ ذہنی طور پر بھی بہت ڈپریس تھیں ابھی بھی اسی ٹینشن میں مبتلہ ہیں ۔۔۔کیونکہ جب انہیں چند لمحے کے لئے ہوش آیا تھا تو کسی شاہزیب کو پکار رہیں تھی ۔۔۔کون ہے یہ بختیار صاحب “ڈاکٹر اپنے روم میں بیٹھا تھا سامنے بختیار صاحب کرسی پر بیٹھے پیشانی پر سلوٹیں ڈالے نظریں جھکا گئے تھے ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے نیناں کی سامنے رکھی کھلی فائل بند کی

“ایسے کیس کی اکثر وجہ محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔ جب ماں باپ بچوں کے سامنے دیوار بن جاتے ہیں تو بچے اسے اقدامات کی اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔ اب یہ تو آپ ہی بہتر جاتے ہیں کہ یہ شاہزیب نامی شخص آپکی بیٹی کے لائق ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن اسوقت وہ آپکی بیٹی کو نئ زندگی ضرور دے سکتا ہے ۔۔۔۔ ورنہ اگر انہیں آج رات تک ہوش نہیں آیا تو ہو سکتا ہے کومہ میں چلی جائیں ۔۔۔پھر کب ہوش میں آتی ہیں کب نہیں کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔ یہ بے ہوشی سالوں پر بھی محیط ہو سکتی ہے بختیار صاحب ۔۔۔۔صرف چند گھنٹے ہیں آپکے پاس اچھی طرح سوچ لیں ۔۔۔۔ “ڈاکٹر یہ کہہ کر اپنا اسٹیتھو سکوپ اٹھا کر گلے میں ڈال کر باہر نکل گیا اور بختیار صاحب کو ایک نئے امتحان میں ڈال گیا تھا ۔۔۔۔۔۔مرے مرے قدموں سے وہ باہر نکلے تھے جھکا ہوا سر مضمحل سی چال مضطرب چہرہ ۔۔۔۔۔ حیدر انہیں کے انتظار میں بیٹھا تھا انہیں دیکھ کر نیناں کے بارےی پوچھنے لگا بختیار صاحب نے ساری بات حیدر کو ٹوٹے ہوئے لہجے میں بتائی تھی ۔۔۔چند لمحے تو وہ بھی سن کر۔خاموش رہا

“انکل جو کچھ ہم شاہزیب کے ساتھ کر چکے ہیں ۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ ایک فون کال سے وہ نیناں کے پاس آئے گا ۔۔۔۔۔ آپ کو ہی ڈرائیور کے ساتھ اسکے گھر جانا پڑے گا ۔۔۔حیدر کی بات پر بے اختیار غصے سے بختیار صاحب نے حیدر کو دیکھا

“میں جاؤں گا ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔تم چاہتے ہو میں جھکوں اس شخص کے سامنے جس کی میرے سامنے کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔۔۔۔جسے میں سب سے زیادہ نفرت کرتا ہوں جس کا وجود مجھے ظلمت کی اتھا گہرائیوں میں پھنک دیتا ہے ۔۔۔۔اسکے سامنے جا کر ہاتھ پھیلاؤں۔ ۔۔۔بھیک مانگوں ۔۔۔۔ہر گز بھی نہیں “بختیار صاحب کا لہجہ تو ٹوٹا ہوا تھا ۔مگر گھنڈ اپنی جگہ قائم تھا

“نیناں کو کھونے کا حوصلہ ہے آپ میں ۔۔۔ “حیدر کی اگلی بات پر وہ تڑپ کر بولے

“نہیں حیدر ۔۔۔۔ اسے نہیں کھو سکتا “

“اس وقت یہ اہم نہیں ہے کہ شاہزیب آپ کے لئے کیا ہے۔اسوقت اہم یہ ہے کہ وہ نین کے لئے کیااہمیت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔ پلیز انکل جائیں اسکے پاس نین کے بارے میں سن کر ۔۔۔رہ تو وہ بھی نہیں پائے گا ۔۔۔وہ نین سے کتنی بے تحاشہ محبت کرتا ہے وہ مجھ سے یا آپ سے ڈھکی چھپی تو نہیں۔ ہے ۔۔۔۔میں بھی بہت چاہتا ہوں۔ نین کو مگر اونسٹلی جو کچھ نین کی محبت میں شاہزیب نے اپنی جان پر سہہ لیا میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ پلیز انکل جائیں ۔۔۔۔۔ نین کی ساری خوشیاں صرف شاہزیب سے مشروط ہیں ۔۔۔۔ میرے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتی ہے ۔۔۔۔۔ “بختیار صاحب خاموش تھے سچ ہی تھا جو حیدر تسلیم کر چکا تھا مگر بختیار صاحب تسلیم نہیں کر پا رہے تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اس وقت تو نیناں کی جان بچانا اہم تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے فون کوٹ کی جیب سے نکالا اور ڈرائیور کو کال کی

“گاڑی پارکنگ سے ہٹا کر ہاسپٹل کے گیٹ کے سامنے لیکر آؤں ” ڈرائیور کو آڈر دے کو وہ کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔

*****……..

شاہزیب صبح جلدی ہی اٹھ گیا تھا رات بھر بھی چین سے سویا نہیں تھا ۔۔عاتقہ بیگم بھی شاہزیب کو جگتا دیکھ کر لاونج میں اسکے پاس آ گئیں ۔۔۔۔

“اتنی جلدی کیوں اٹھ گئے میری جان ۔۔۔کچھ دیر اور سوئے رہتے “شاہزیب کے پاس بیٹھ کر اسکے چہرے پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں

“بس امی یونہی نیند نہیں آ رہی تھی “

“اچھا چلو پھر ناشتہ بنا دیتی ہوں تمہیں ۔۔۔۔”

“امی پلیز دودھ مت دیجیے گا ۔۔۔۔چائے بنا دیں ۔۔۔۔”

“چائے بھی پی لینا لیکن دودھ کا گلاس تو ہر حال میں پینا پڑے گا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم اٹھ کر کچن میں جانے لگیں

“امی پلیز نہیں پینا نا یار رات کو بھی تو پیا تھا “شاہزیب نے اکتائے ہوئے کہا پتہ تھا کہ ماں اب ہر گھنٹے بعد دودھ کا گلاس پینے کے لئے ہاتھ میں تھما دے گی ۔۔۔

“کچھ نہیں سنو گی شاہزیب حالت دیکھو اپنی ۔۔۔۔دودھ لا رہی ہوں شرافت سے پی لینا “عاتقہ بیگم فریج سے دودھ کا پیک نکالتے ہوئے بولیں

زمان صاحب بھی اس وقت تک باہرآ چکے تھے ۔۔۔۔۔

شاہزیب نے منہ بسورتے ہوئے ریموڈ پکڑا اور ٹی وی آن کیا ۔۔۔۔نیوز چینلز پر اب لائیو ریمانڈ کی دھوم مچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ میڈیا کی گرما گرم گفتگوں جاری تھی اکمل صاحب کی پھرتیاں بھی عروج پر تھیں ۔۔۔وارث کے ہاتھ پیچھے کو کر کے باندھے گئے تھے ۔۔۔۔۔

“انصاف ابھی زندہ ہے “کے نعرے بلند ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔پہلا ڈنڈا اکمل صاحب نے ورث خانزادہ کی کمر پر مارا تھا اسکی چیخ بلند ہوئی تھی ۔۔۔شاہزیب کو اپنا وقت یاد آنے لگا ۔۔۔۔۔ پھر دل میں ایک تشکر بھری اطمینان کی لہر دوڑ گئی اللہ بھی مکافات عمل کا پہیہ اسےتیزی سے گھماتے ہیں کہ دنوں میں نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔زماں صاحب بھی اپنا چشمہ درست کرتے ہوئے وہیں شازیب کے برابر میں بیٹھ گئے شاید پہلا اتفاق تھا کہ یوں باپ بیٹا اکھٹے بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ورنہ شاہزیب وہاں سے ہمیشہ بیٹھنے سے کتراتا تھا جہاں زمان صاحب ہوتے تھے وجہ انکی سخت گیر طعبیت تھی ۔۔۔مگر پچھلے چند دن سے جس زمان صاحب سے وہ متعارف ہوا تھا وہ بہت محبت کرنے والے اور شفقت سے پیش آنے والے والد تھے ۔۔۔۔۔ زمان صاحب کی پوری توجہ ٹی وی پر مرکوز تھی اور شاہزیب کی انکے چہرے کی طرف ۔۔۔۔۔

کیسے اپنے وعدے سے انحراف کر لوں ۔۔۔۔کتنے مان سے مجھ سے کچھ مانگا ہے ابو نے ۔۔۔۔۔ اب اگر نیناں کے پاس چلا گیا تو ۔۔۔۔۔ کتنا ٹوٹ کر رہ جائیں گئے پہلے ہی اپنی وجہ سے بہت اذیت دے چکا ہوں ۔۔۔دل پر جبر کر لینا ہی بہتر ہے شاہزیب ۔۔۔۔اس عمر میں کیوں اپنے باپ کو نئ آزمائش سے گزاروں ۔۔۔۔۔ شاہزیب جو رات کو یہ مصصم ارادہ کیے ہوئے تھا کہ صبح کسی بہانے سے نیناں کے گھر جا کر صورت الحال جاننے کی کوشش کرے گا ۔۔۔۔زمان صاحب کو دیکھ کر پسپا ہونے لگا ۔۔۔۔۔۔

سوچوں کا تسلسل عاتقہ بیگم کی پکار پر ٹوٹا جو شاہزیب کی طرف دودھ کا گلاس بڑھاتے ہوئے اسے پکارا رہیں تھیں شاہزیب نے دودھ کا گلاس ہاتھ میں لیا اور پینے لگا ۔۔۔۔

“زمان ناشتہ کریں گئے آپ “عاتقہ بیگم اب زمان صاحب سے پوچھنے لگیں “

“ہاں ہاں بناؤں “زمان صاحب کی ساری توجہ اس وقت ٹی وی پر تھی ۔۔۔۔۔۔۔اس لئے مدافعانہ انداز اپنایا تھا ۔۔۔عاتقہ بیگم کچن میں چلی گئیں شاہزیب نے دونوں ٹانگیں سامنے رکھے ٹیبل پر پسار لیں ۔۔۔۔۔

باہر کی ڈور بیل پر زمان صاحب نے گھڑی کی طرف نظر ڈالی صبح کے نو بج رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ کافی دن سے وہ شاہزیب کی وجہ سے اپنے کالج بھی نہیں جا پا رہے تھے ۔۔۔۔۔ ناہی عاصم اور نمیرہ اپنے اسکول کالج جا رہے تھے ۔۔۔۔۔اسوقت بھی باقی سب سو ہی رہے تھے ۔۔۔۔ زمان صاحب اٹھنے لگے مگر شاہزیب نے انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں روک دیا

“ابو آپ بیٹھیں میں دیکھتا ہوں “وہ دودھ کا خالی گلاس ٹیبل پر رکھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ددوازے کی بیل دوبارہ سے بجی ۔۔۔۔۔۔

شاہزیب نے دروازہ کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں تھیں ۔۔۔۔۔

مگر اس بار نا ہاتھ میں سگریٹ تھی ۔۔۔۔۔ نا غرور سے اکڑی ہوئی گردن نا ہی نخوت سے ڈوبی ہوئی آنکھیں چہرے پر تھکن اور کرب کے آثار بڑے واضع تھے ۔۔۔۔۔

“کیا میں ۔۔۔۔۔اندر ۔۔۔آ سکتا ہوں “جھکی ہوئی نظروں سے اجازت طلب کی گئ ۔۔۔۔شاہزیب ابھی حیرت میں مبتلہ تھا آنکھیں دل بے یقین سے تھے ۔۔۔۔دو قدم پیچھے ہٹ کر اندر آنے کا راستہ دیا

“تشریف لائے رانا صاحب۔۔۔۔۔۔” شاہزیب کی آواز ویسے ہی تھی بارعب بلند کسی بھی ظلم اور ذیادتی نے اسکی آواز کو رانا بختیار کے سامنے پست نہیں کیا تھا وہی بے خوف آنکھیں جنہیں دیکھ کر بختیار صاحب کی رگوں میں خون فشار ابلنے کی حد تک بڑھنے لگتا تھا ۔۔۔۔۔ اعصاب چٹخنے لگتے تھے ۔۔۔۔۔جتنی نفرت انہوں نے ان چند ماہ میں سامنے کھڑے لڑکے سے کی تھی اپنی گزشتہ زندگی میں کسی سے نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن بے بسی کی حد تھی کہ آج اسی سے مدد مانگنے پر مجبور تھے ۔۔۔۔۔۔اپنے ہی قدم من من بھاری لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔ جھکے سر کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔۔۔

زمان صاحب بختیار صاحب کو دیکھ کر یکلخت صوفے سے اٹھے تھے ۔۔۔۔رنگت پل میں اڑی تھی نا جانے اب شاہزیب پر کون سا نیا ظلم ڈھانے آئے تھے ۔۔۔۔

“آ۔ آپ “زمان صاحب گھبراہٹ سے ہچکچائے تھے

“اگر اجازت ہو تو یہاں بیٹھ سکتا ہوں کچھ بات کرنی ہے شاہزیب سے “بختیار صاحب نے دھیرے سے کہا زمان صاحب تیزی سے انکے قریب آئے بیچینی سے بولے

“شاہزیب سے ۔۔۔نہیں۔۔۔۔ مجھ سے کریں بات ۔۔۔۔۔دیکھیں بختیار صاحب میں سمجھا چکا ہوں اپنے بیٹے کو وعدہ لے چکا ہوں اب کبھی نہیں ملے گا آپکی بیٹی سے ۔۔۔۔خدارا اب چھوڑ دیں اسے میں دوبارہ سے ہاتھ جوڑ کر آپکی منت کرتا ہوں ” زمان صاحب کے ہاتھ بے ساختہ ہی بختیار صاحب کے سامنے جڑے تھے ۔۔۔۔۔۔ باپ کے جڑے ہاتھ اور جھکیں نظریں گرتے آنسوں نے آگ سی لگادی تھی شاہزیب کے تن بدن میں ۔۔۔۔۔وہ تیز قدم بڑھاتا ہوا زمان صاحب کے پاس آیا انکے ہاتھ پیچھے کیے

“کیوں ہاتھ جوڑ رہیں انکے سامنے ابو ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں منت کر رہے انکی ۔۔۔۔اور دوبارہ کا کیا مطلب ہے ۔۔۔۔آپ نے ہاتھ پہلے بھی ہاتھ جوڑے ہیں انکے سامنے میرے لئے ۔۔۔مگر کیوں “شاہزیب نے تاسف سے زمان صاحب کی طرف دیکھا

“کیوں ہاتھ جوڑے تھے ۔۔۔۔۔ کیون جھکے تھے کسی کے سامنے ابو ۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو تنگ سے تنگ حالات میں بھی کسی کے سامنے نا ہاتھ پھیلاتے دیکھا ہے نا ہاتھ جوڑتے ۔۔۔۔۔ پھر اب کیوں آپ نے ایسا کیا ۔۔۔۔وہ بھی میرے لئے ۔۔۔۔۔ “شاہزیب سلگ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ زمان صاحب سے جیل میں ہونے والی ملاقات یاد آ گئ ۔۔۔۔ تبھی اتنے ٹوٹے ہوئے تھے ۔۔۔۔یقینا تبھی ہاتھ جوڑے ہوں گئے ۔۔۔۔۔

“اس سے بہتر تھا کہ میں مر ہی جاتا اس جیل میں سسک سسک کر ۔۔۔۔۔” اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسکی وجہ سے اسکا خود مختار اور خود دار باپ یوں بختیار صاحب کے سامنے خود کو گرا دے گا ۔۔۔۔زمان صاحب یہ بات کبھی بھی شاہزیب کو بتانا نہیں چاہتے تھے ۔۔۔۔۔ کبھی لب نا کھولتے اگر بختیار صاحب دوبارہ سے یوں انکے سامنے نا آتے ۔۔۔۔۔۔اب شاہزیب سے نظریں چرا رہے تھے شاہزیب نے پلٹ کر بختیار صاحب کو دیکھا جن آنکھوں میں خفت کااثر تھا ۔۔۔۔۔

” ایسی محبت جو میرے باپ کو کسی کے سامنے جھکا دے مجھے نہیں نبھانی ۔۔۔۔رانا صاحب آپ چاہتے تھے نا کہ چھوڑ دوں آپکی بیٹی کا پیچھا ۔۔۔۔چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔۔جائیں جا کر کردیں اسکی شادی جس سے کرنی ہے کبھی نہیں آؤں گا اسکے سامنے ۔۔۔۔سمجھیں آج سے وہ مر گئ میرے لئے”شاہزیب نے دانت بیچ کر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا لیکن اسکے آخری جمعلے پر بختیار صاحب تڑپ ہی تو گئے تھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔۔۔۔۔

“مر ہی تو رہی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔ میری نیناں مر جائے گی ۔۔۔۔ کل سے ہاسپٹل میں ہے ۔۔۔۔۔ زہر کھا لیا ہے اس نے “الفاظ تھے یا کوئی موت کا مرثیہ جو وہ سنا رہے تھے ۔۔۔۔۔۔اسی وقت عاتقہ بیگم بھی کچن سے باہر آ چکیں تھیں چائے اور بسکٹ کی ٹرے ہاتھ میں لئے یہ بات سن کر وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔شاہزیب کے ساتھ ساتھ زمان صاحب کے بھی ہوش اڑے تھے ۔۔۔۔۔

“نیناں ہاسپٹل میں ہے ۔۔۔۔زہر ۔۔۔۔افف میرے خدایا ۔۔۔۔یہ کیا کیا تم نے نیناں “شاہزیب کے لب تک شل ہو گئے تھے ۔۔۔۔ بس دل تھا کہ تڑپ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔کچھ پل کے لئے لگا کسی نے روح اندر کھنچی ہو ۔۔۔۔۔

بے چینی ایسی تھی کہ پر لگا کر اڑ کر نیناں کو دیکھ لے مگر چپ چاپ کھڑا بختیار صاحب کو روتے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ اگر نیناں ہاسپٹل میں تھی تو یہ شخص یہاں کیا لینے آیا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب کی جان پر تو بن گئ تھی بختیار صاحب کی آمد کا مقصد سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ پھر سے بولنے لگے

“وہ بے ہوش ہے ۔۔۔۔ہوش نہیں آ رہا اسے ۔۔۔۔ ڈاکٹر کہہ رہا ہے کہ اگر رات تک ہوش نہیں آیاتو کومہ میں چلی جائے گی پھر نا جانے کب ہوش آئے ۔۔۔۔ آئے بھی یا یونہی سالوں گزر جائیں ۔۔۔۔ بس ایک بار ہی چند لمحوں کے لئے ہوش میں آئی تھی ۔۔۔۔ اور صرف تمہیں ہی پکار رہی تھی ۔۔۔۔۔۔” بختیار صاحب کی بات پر شاہزیب کے اندر ایک ٹھیس سی اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ دل میں درد کی لہر اٹھی تھی ۔۔۔نیم بے ہوشی ۔میں بھی وہ اسے پکار رہی تھی ۔۔۔۔

“اب چلو میرے ساتھ ۔۔۔تمہیں ہی لینے آیا ہوں ۔۔۔۔۔ جا کر بات کرو اس سے ہو سکتا ہے تمہارے پکارنے پر ہی ہوش میں آ جائے ۔۔۔۔” بختیار صاحب کے لہجے میں تحکم کی آمیزش تھی ۔۔۔۔یا شاید عادتا حکمیہ انداز سے التجا کی تھی ۔۔۔۔۔شاہزیب کی بیقرار نظر زمان صاحب کی طرف اٹھی تھی عاتقہ بیگم جو اب تک۔ چپ چاپ اس شخص کو روتے دیکھ رہیں تھیں جس کی وجہ سے ان کا بیٹا اب بھی اپنے زخموں کی تکلیف برداشت کر رہا تھا ۔۔۔ٹرے ڈائنگ پر رکھی اور شاہزیب کے پاس آکر شاہزیب کا ہاتھ پکڑ لیا

“کہیں نہیں جائے گا میرا بیٹا ۔۔۔۔۔ مرتی ہے تو مر جائے آپکی بیٹی ۔۔۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا آپ نے اسکے ساتھ بے قصور جیل میں بند کیا ۔۔۔۔ ظالموں کی طرح اسکے جسم کو زخمی کر کے رکھ دیا ۔۔۔۔۔ اس وقت توذرا ترس نہیں آیا آپ کو ۔۔۔اب بات اپنی بیٹی پر آئی تو آگئے میرے بیٹے کو لینے ۔۔۔۔۔ چلے جائیے یہاں سے آپ ۔۔۔۔نہیں جائے گا شاہزیب “عاتقہ بیگم غم اور غصے سے بول رہی۔ تھیں ۔۔لیکن بختیار صاحب کی نظریں صرف شاہزیب پر تھیں جس کے ہر انداز میں بیچنی تھی عاتقہ بیگم کو نظر انداز کیے وہ شاہزیب سے مخاطب ہوئے

” چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔”بختیار صاحب کی بات پر شاہزیب نے لفظ جما کر کہا

“آپ ۔۔۔نے شاید سنا نہیں ۔۔۔۔۔امی کہہ رہیں کہ میں نہیں جاؤں گا تو سمجھ لیں کہ ۔۔۔۔۔نہیں جاؤں گا “شاہزیب نے بڑے ضبط سے کہا تھا ورنہ دل تو ایک ہی ضد پکڑے بیٹھا تھا کہ کسی بھی طرح سے نیناں کے پاس پہنچ جائے ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھا تھا نا جانے کس بات کی آکڑ تھی اس لڑکے میں ۔۔۔۔ میں خود لینے آیا ہوں اسے اور یہ مجھے انکار کر رہا ہے ۔۔۔۔۔”دل تو چاہا کہ زبردستی اسے گھسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں مگر ممکن نہیں تھا

“دیکھوں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ریکوسٹ کر رہا ہوں تم سے ۔۔۔اس وقت میرے ساتھ چلو ۔۔۔۔۔ “با مشکل اپنا لہجہ دھیمہ رکھ کر بختیار صاحب نے کہا شاہزیب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں

“اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں آپکے ساتھ جاؤں تو پہلے ۔۔۔ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں میرے باپ سے اپنے گزشتہ رویے کی “شاہزیب کے الفاظ تھے یا بختیار صاحب کی اونچی انا پر ہزمیت کا طمانچہ ۔۔۔۔۔معافی اور وہ بھی بختیار صاحب ۔۔۔۔ یہ لفظ تو اس شخص نے کبھی ادا ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔پھر کجا ہاتھ جوڑنا ۔۔۔۔۔ممکن ہی نہیں تھا ۔۔۔۔

“شاہزیب یہ کیا کہہ رہے ہو تم ۔۔۔۔۔مجھے نہیں منگوانی کسی سے معافی “زمان صاحب آ گئے بڑھ کر بولے ۔۔۔۔۔

“لیکن مجھے منگوانی ہے ابو ۔۔۔۔۔ جہاں تک بات مجھ تک محدود تھی ۔۔۔۔ تب تک خیر تھی ۔۔۔۔۔ میں نے انکے ہاتھ سے مار بھی کھا لی ان کے جھوٹے کھیل پر جیل بھی چلا گیا ۔۔۔۔بھوک پیاس ۔۔۔مار کو بھی برداشت کر لیا ۔۔۔۔مجھے اس بات کا ان سے کوئی گلہ نہیں ۔۔۔۔کیونکہ میں نے کوئی اور جرم کیا ہو یا نا کیا ہو لیکن انکی بیٹی سے محبت کا جرم توضرور کیا ہے ۔۔۔۔لیکن یہ ہوتے کون تھے آپ کو معافی منگوانے پر ۔مجبور کرنے والے ۔۔۔۔۔ رانا صاحب آپ کاوقت بہت قیمتی ہے ۔۔۔۔ آپکی بیٹی زندگی اور موت کی کشمش میں مجھے پکار رہی ہے ۔۔۔۔یہ دو ٹکے کا سڑک شاپ ۔۔۔۔اسوقت آپکی بیٹی کوزندگی کی نوید سنا سکتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے

Know come on Rana saab ….you apologized my father with folded hands۔”

بختیار صاحب کی زندگی کہ یہ لمحات نا قابل فراموش تھے ۔۔۔۔۔انہیں اسوقت واقع شاہزیب کی ضرورت تھی ۔۔۔۔اس لئے مرے مرے قدم اٹھاتے زمان صاحب کے سامنے پہنچ کر اپنے ہاتھ جوڑے مگر سر نہیں جھکایا

“مجھے ۔۔۔۔۔”ابھی لفظ ادا بھی نہیں ہوئے تھے کہ سبک لئے گئے تھے

“نہیں بختیار صاب اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔مجھے یوں شرمندہ نا کریں آپ اسوقت مہمان ہیں میرے۔۔۔۔ میرے گھر پر بڑی امید سے آئیں ہیں اس لئے خالی نہیں لوٹاوں گا آپکو ۔۔۔۔”زمان صاحب نے انکے جوڑے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام کر کہا

“شاہزیب تم جاؤ۔ انکے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ ” زمان صاحب نے شاہزیب سے کہا بختیار صاحب نے مشکور نظروں سے آنسوں بہاتے ہوئے زمان صاحب کو دیکھا تھا جنہوں نے انکی انا کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا تھا ۔۔۔۔۔

“دیکھ لیا آپ نے رانا صاحب ہم چھوٹے گھروں میں رہنے والے مہمانوں کو عزت کتنی دیتے ہیں انکا مان رکھا کیسے رکھتے ہیں ۔۔۔۔ چاہے آنے والا محلوں سے آیا ہوا دشمن ہی کیوں نا ہو ۔۔۔آپ جائیں میں پہنچ جاؤں گا “بختیار صاحب کو شرم سے پانی پانی کر کے اس نے کہا

“نہیں میرے ساتھ چلو تم ۔۔۔۔۔میرا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے “بختیار صاحب ہر صورت اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔

“آپ کی گاڑی میں ہر گز نہیں بیٹھوں گا ۔۔۔۔بیفکر رہیں وقت سے پہلے پہنچ جاؤں گا ۔۔۔۔کس ہاسپٹل میں ہے وہ “شاہزیب کا دل اب مچلنے لگا تھا ایک ایک لمحہ بھاری تو اس پر بھی تھا ۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔۔۔جلدی پہنچ جانا “زمان صاحب نے ہاسپٹل کا نام بتا کر کہا پھر وہ زمان صاحب کی طرف پلٹے

“نیناں جیسے ہی کچھ بہتر ہوئی ۔۔۔۔میں بلاؤں گا آپ کو اپنے گھر ۔۔۔۔۔ مجھے اب اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔ نیناں کی خوشی سے بڑھ کر میرے لئے اور کچھ بھی نہیں ہے “یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئے ۔۔۔۔۔زمان صاحب ہکا بکا انہیں دیکھتے رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔شاہزیب نے فوراسے سامنے دیوار کے کیل پر ٹنگی بائیک کی چابی ارتاری۔۔۔۔۔۔

پاؤں میں ہوائی چپل پہنے وہ گھر سے نکلنے ہی والا تھا جب عاتقہ بیگم نے پکارا “

“ناشتہ تو کر لو شاہزیب ۔۔۔۔دوا بھی کھانی ہے تم نے ۔۔۔۔”

“آ کر کر لوں گا امی “وہ کہاں رکنے والا تھا دل کسی پتنگے کی مانند ہوا میں اڑ رہا تھا اور قدم بھی اسی کی عکاسی کر رہے تھے ۔۔۔۔ سیڈیاں پھلانگتے ہوئے وہ چند سیکنڈ میں نیچے اترا تھا بختیار صاحب کی گاڑی اپاٹمنٹ سے نکل چکی تھی ۔۔۔۔۔ پورے راستے وہ یہی دعا کرتے رہے کہ اس بار نیناں کو ہوش آ جائے ۔۔۔اسکی خاطر اپنی انا کا۔بڑا سستا سودا کر کے آ رہے تھے ۔۔۔۔ ہاسپٹل پہنچ کر ۔تیز قدم اٹھاتے ہوئے آئی سی یو تک پہنچے جہاں حیدر باہر کرسی پر بیٹھا تھا

“بلا لیا ہے میں نے شاہزیب کو ابھی پہنچنے والا ہی ہو گا بختیار صاحب نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

“وہ پہنچ چکا ہے اور اس وقت آئی سی یو میں نیناں کے پاس ہے ۔۔۔۔”حیدر کی بات پر بختیار صاحب حیران ہوئے تھے وہ خود بھی فل اسپیڈ سے ہاسپٹل پہنچے تھے ۔۔۔۔لیکن وہ ان سے پہلے پہنچ بھی چکا تھا ۔۔۔۔اور اندر بھی جا چکا تھا ۔۔۔۔۔ بہرحال وہ کچھ پر سکون ہوئے تھے کہ شاید اب انکی بیٹی انہیں ہنستی مسکراتی نظر آ جائے ۔۔۔۔۔۔

*****……..

باسم صبح اٹھ کر آفس کے لئے تیار کھڑا تھا ۔۔۔رابعہ بیگم نے ناشتہ بنا کر تخت پر رکھ دیا باسم کا دماغ نمیرہ کی طرف ہی لگا ہوا تھا اب بھی اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ سر زمان کی بیٹی نے اس سے یہ سب کہا ہے ۔۔۔۔۔پھر جو لڑکی یہ جانتے ہوئے کہ باسم کی بات کہیں اور پکی ہو چکی ہے ۔۔۔۔اس طرح سے اظہار کرنے سے نہیں چونکی تو کیا خبر آگے کیا کر گزرے ۔۔۔۔۔

“امی مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے “باسم کوایک ہی حل نظر ا رہا تھا

“ہاں بولو “

“دیکھیں امی مجھے فری کے والد سے جہیز تو چاہیے نہیں ۔۔۔۔ نا ہی میں کسی دھوم دھڑکے کا قائل ہوں ۔۔۔۔شادی جب بھی کرتا ۔۔۔سادی سے ہی کرتا ۔۔۔۔آپ بات کریں فری کے والد سے منگنی کے بجائے میں شادی کرنا چاہوں گا میں فری سے ۔۔۔۔۔”صبح ہی۔صبح بیٹے کے منہ اپنی شادی کی بات سن کر رابعہ بیگم نے تعجب کا اظہار کیا ۔۔۔۔

“باسم ۔۔ایک ہی ایک بیٹے ہو تم میرے ۔۔۔۔میں نے بہت کچھ سوچ رکھا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔۔ مجھے کسی شہزادے کی طرح تمہاری شادی کرنی ہے ۔ بیٹا ۔۔۔۔”

“امی وہ رائمہ کی شادی پر بھی ہو سکتی ہے “

کیسے ہو سکتی ہے بہن کی شادی پر گھن چکر بننے رہوں گئے کاموں میں “

“امی بس مجھے کچھ نہیں سننا ہے ۔۔۔۔آپ بات کریں فری کے والد سے ورنہ رات کو میں کر لوں گا “باسم چائے کا آخری گھونٹ پیے باہر نکل گیا

“باولہ ہو گیا یہ لڑکا ۔۔۔۔۔” رابعہ بیگم کو باسم کی جلد بازی کے سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔

رائمہ ابھی سو کر اٹھکر ہی آئی تھی باسم کی باتوں کو سن نہیں پائی تھی لیکن رابعہ بیگم کی بڑ بڑاہٹ ضرور سن چکی تھی

“کیا ہوا امی کسے صبح صبح بڑابڑاتے ہوئے یاد کر رہی ہیں ۔۔۔۔

“باسم کی بات نے پریشان کر دیا ہے “

“کیا کہہ دیا اس نے “وہ تخت پر ماں کے پاس بیٹھ گئ

“ارے کہہ رہا ہے رائمہ کے ساتھ ہی میری بھی شادی کر دیں “رائمہ کی موندی موندی آنکھیں کھل گئیں تھیں

“واقع امی یہ تو اچھی بات ہے “رائمہ کی بات پر رابعہ۔ بیگم نے غصے سے بیٹی کو دیکھا

“خاک اچھی بات ہے ۔۔۔۔میں نے تو بہت کچھ سوچ رکھا تھا ۔۔۔پھر تمہاری شادی پر پہلے اتنا قرض لے چکا ہے اپنی کے لئے اور قرض اٹھائے گا تو بھرے گا کب “

“ہو جائے گا سب کچھ ۔۔۔اچھا ہی ہے کہ نیلو بھی یہاں آ جائے۔۔۔ مجھے بھی آپ کی فکر نہیں ہو گی” ۔۔۔۔رابعہ بیگم نے گھور کر رائمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

“رائمہ تم بھی بھی ۔۔۔مجھے لگا تم سمجھاؤں گی اسے ۔۔”

“امی آپ سمجھیں نا ۔۔۔۔ اچھا ہے گھر میں رونق لگ جائے گی ۔۔۔۔۔باسم کو میں نے بابا کی وفات کے بعد کبھی ایسے کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جتناوہ نیلو کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہنستا مسکراتا ہے۔۔۔۔۔ چلیں نا امی ابھی تو نیلو کے بابا گھر پر ہی ہوں گئے ۔۔۔”رائ۔ہ کی جلد بازی پر رابعہ بیگم ہار ماننے لگیں

رائمہ اتنی صبح صبح ۔۔۔تم تو بھائی سے ذیادہ پاگل ہو ۔۔۔ہٹو پیچھے اور چائے بناؤں میرے لئے ۔۔۔۔شام کو جائیں گئے رائمہ جو مان کے ساتھ لگی دونوں بانہیں انکے گلے میں ڈالے منا رہی تھی خوشی سے جھوم اٹھی تھی ۔۔۔۔۔

“ابھی بنا کر لاتی ہوں “وہ کچن میں چلی گئ ابھی تو یہ خوشخبری نیلو کو بھی سنانی تھی