One Wheeling by Umme Hani NovelR50409

One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 38

491.3K
42

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

One Wheeling Episode 38

One Wheeling by Umme Hani

باسم اپنی اور رائمہ کی شادی کا کارڈ دینے زمان صاحب کے گھر آیا تو دروازہ نمیرہ نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔۔

“زمان سر “نمیرہ کو دیکھ کر وہ نظریں جھکا کر ہوچھنے لگا

“وہ نہیں ہیں ” نمیرہ نے خفگی سے تیوری چڑھائے جواب دیا

“آنٹی کو بلا دیں “

“گھر پر میرے علاؤہ اور کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔سب لوگ بازار گئے ہیں ۔۔۔۔جی کہیے “نمیرہ کا لہجہ سخت تھا ٹھکرائے جانے کا احساس بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور نمیرہ اسی تکلیف سے دوچار تھی

“یہ کارڈ رکھ لیں ۔۔۔زمان سر کو دے دیجیے گا ۔۔۔۔ایک ماہ بعد میری شادی ہے ۔۔۔۔عاصم کے فائنل ایگزیم بھی ہو چکے ہیں اس لئے میں اب پڑھانے نہیں آ سکتا سر سے کہہ دیجیے گا ۔۔۔۔۔”

“جی کہہ دونگی “یہ کہہ کر نمیرہ نے اس سے کارڈ لیا اور زور سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔اپنے غصے کا اظہار وہ ایسے ہی کر سکتی تھی۔۔۔۔شازمہ کی شادی کے سلسلے میں سب ہی بازار گئے تھے سوائے نمیرہ کے ۔۔۔۔اس لئے دروازہ بند کر کے وہ سیدھا اپنے کمرے پر اوندھے منہ لیٹ کر رونے لگی ۔۔۔ دل کا غبار آنکھوں سے چھلکا کر جب دل ہلکا ہو گیا تو خرم پر غصہ آنے لگا ۔۔۔۔۔جب سے بات طے ہوئی تھی ایک بار بھی اس نے نمیرہ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔نمیرہ اٹھ کر بیٹھ گئ اپنا موبائل پکڑا خرم کا نمبر ڈائل کیا وہ اسوقت اپنے ابا کی دوکان پر کام میں مصروف تھا فون اٹھا کر عجلت میں بولا ۔۔۔۔

“کون ہے “

“اب تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کون ہوں “نمیرہ کی بھرائی ہوئی آواز پر وہ گھبرا سا گیا

“نمی۔۔۔ رو رہی ہو تم ۔۔۔کیا ہوا ہے “بس خرم کا یہ پوچھنا تھا کہ نمیرہ کا رونا اسٹاٹ ہو چکا تھا

“او گاڈ کیا ہوا ہے نمیرہ سب ٹھیک تو کے نا ۔۔۔۔ “خرم پریشان سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔

“تم ۔۔۔۔تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ۔۔۔۔تمہیں میری کوئی پروا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔میں جیو یا مرو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔”نمیرہ باسم کا غصہ اس پر نکال رہی تھی خرم ملازم سے دوکان کو دیکھنے کا کہہ کر دوکان سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

“یہ کیا اول فول بولے جا رہی ہو ۔۔۔۔ہوش میں تو ہو نا “

“اب آئی ہوں ہوش میں ۔۔۔۔بہت بڑی غلطی کر دی میں نے جو شاہوں بھائی کی باتوں میں آ کر تمہارے لئے ہاں کر دی ۔۔۔نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ حالانکہ تم اچھے خاصے کالے ہو لیکن پھر بھی میں نے دل کو سمجھا لیا ۔”۔۔۔نمیرہ کی اس بات پر ۔خرم نے فون کان سے ہٹا کر فون کو گھور کر دیکھا تھا ۔۔۔۔لیکن ضبط سے پھر فون کان پر لگا لیا

“مجھے لگا تم مجھ سے بات کیا کرو گئے ۔۔۔۔ اپنی خوش نصیبی پر میرا شکریہ ادا کرو گئے ۔۔۔۔ لیکن نہیں تمہیں تو میری پروا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ روز میں تمہارے فون کا انتظار کرتی ہوں لیکن نہیں تم ہو ہی بے حس اگر تمہارے دل میرے لئے ایسا کوئی جذبہ تھا ہی نہیں تو کیوں کی تھی مجھ سے منگنی ۔۔۔۔پتہ ہے جب شازل بھائی شازی آپی سے بات کرتے ہیں کتنا گلٹ فیل ہوتا ہے مجھے ۔۔۔۔ لیکن میں ہوں ہی بد نصیب میری قسمت میں محبت ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے مسلسل بولے جا رہی تھی

“نمیرہ ۔۔۔چپ ہو جاؤں “خرم سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا چاہ رہی ہے اس سے ۔۔۔۔یہ تو واقع اسے خیال نہیں آیا کہ جو لڑکی اسے منسوب ہو چکی ہے ۔۔۔۔ وہ خواب کچھ الگ سے دیکھتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر کہانی پڑھتے وقت خود کو اسکی ہیروئن کی جگہ رکھ کر سوچتی ہے ۔۔۔۔ اس لئے ایسی بہت سی توقعات وہ اپنے منگتر سے توضرور رکھتی ہو گئ ۔۔۔۔

“کیوں چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔مجھے تو اب ساری زندگی تمہاری بے رخی کے سامنے ایسے ہی رونا پڑے گا ۔۔۔اور تم بس لاپروائی سے بیٹھے یا تو کھانے میں مصروف رہو گئے یا پھر جمی اور سیفی کے ساتھ باہر نکل جایا کرو گئے “

“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ دیکھوں اس وقت بھی اپنی دوکان ملازم کے رحم وکرم پر چھوڑ کر تم سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔بلکہ صرف سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔”

“بس تم بس سنا ہی کرو گئے ۔۔۔اور پھر دوسرے کان سے اڑا بھی دیا کرو گئے ۔۔۔ایسے ہی ہو تم “

“نہیں بہت کچھ کہہ بھی دیا کرو گا ۔۔۔۔۔ تم بہت اچھی ہو نمی ۔۔۔مجھ سے بہت سے ذیادہ خوبصورت ہو ۔۔۔۔۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے اتنی خوبصورت سی لڑکی ملی ہے ۔۔۔۔جس کا دل بھی اس کی طرح نازک اور خوبصورت سا ہے ۔۔۔۔ جسے میں اب محبت بھی کرنے لگا ہوں ۔۔۔۔ پتہ ہے شاہو۔ کی کتنی منتیں کی ہیں میں نے کہ وہ تمہیں میرے لئے راضی کرے ۔۔۔۔۔ “خرم وہ سب بول رہا تھا جو وہ سننا چاہتی تھی

“سچی “نمیرہ اب چپ ہو چکی تھی کچھ بے یقین بھی تھی

“بلکل سچی ۔۔۔۔ اور میں نے تو تمہارے لئے تین چار ناول بھی خرید کے رکھیں ہیں آج امی کے ہاتھ بھجوا دوں گا ۔۔۔۔۔” خرم کی اس بات پر نمیرہ نے اپنے بہتے ہوئے آنسوں پونچے

“واقع ۔۔۔۔تم سچ کہہ رہے ہو “

“بلکل ۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے تو پھر اتنے دن سے کیوں نہیں کہا “ایک اور شکوہ نمیرہ کو یاد آنے لگا

“اس لئے نمی کیونکہ تم پہلے ہر وقت مجھ سے لڑتی رہتی تھی مجھے لگا تم سے کہو گا تو پتہ نہیں تمہارا

ریایکشن کیسا ہو ۔۔۔۔ “

“تم ڈرتے بھی ہو مجھ سے ” نمیرہ کا لہجہ اب دھیمہ ہو چکا تھا

“ہاں ظاہر ہے ۔۔۔۔تبھی تو یہ سب کہا نہیں “

“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ اب نہیں لڑو گی تم سے “

“اچھی بات ہے ۔۔۔اب تو ناراض۔ نہیں ہو نا “

“نہیں ۔۔۔۔ کب واپس آو گئے تم ” نمیرہ نے برجستہ پوچھا

“کیوں “

“وہ مجھے ناول کا کریز ہو رہا ہے کون سے لئے ہیں “

“وہ پتہ نہیں میں نے شاپ کیپر سے کہا تھا جو بھی نیو ایڈیشن آئے ہیں وہ پیک کر دے “خرم اب چلتے ہوئے ایک بک شاپ کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔تا کہ نمیرہ کے لئے کچھ ناول خرید سکے “

******……..

نیناں کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے کافی دیر بیٹھی وہ یونہی آنسوں بہاتی رہی ۔ٹی وی بند کیا اور آنسوں پونچ کر ۔۔۔۔عاتقہ بیگم سے فون پر بات کرنے لگی ۔۔۔۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی ۔۔اس کے بعد باتوں باتوں میں اپنے سارے خدشات دور کر رہی تھی جیسے جیسے حقیقت سے آگہی ہو رہی تھی نیناں کا غصہ برھتا جا رہا تھا ۔۔۔۔عاتقہ بیگم کی باتیں سن کر نیناں نے فون رکھ دیا ۔۔۔۔

شاہزیب جس دن اسلام آباد سے لوٹا تھا ۔۔۔۔

اسی رات اس نے نیناں کو کال کی تھی مگر خلاف توقع کال ریسیو نہیں ہوئی تھی حالانکہ اسے یقین تھا کہ نیناں اسی کی کال کی منتظر ہو گی ۔۔۔۔

دو تین بار کال کرنے کے بعد جب نیناں نے فون نہیں اٹھایا تو شاہزیب نے واٹس اپ پر میسج کیا کہ

” نیناں کال اٹینڈ کرو “

میسج فورا پڑھ لیا گیا تھا اور وہ آن لائن بھی تھی۔۔۔۔۔مگر اسکے باوجود اس کا فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

“نیناں کیا مزاق ہے یہ۔۔۔۔ کال کیوں اٹینڈ نہیں کر رہی ہو پک اپ دا فون “

میسج پھر سے فورا سے پڑھ لیا گیا تھا مگر فون پھر بھی اٹینڈ نہیں کیا گیا تھا

شاہزیب کو حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آنے لگا تھا ہر میسج کے بعد وہ نیناں کو کال کر رہا تھا مگر نو رسپونس

“ناراض ہو مجھ سے۔۔ مگر کیوں ۔۔۔نیناں میں تمہیں بتا کر اسلام آباد گیا تھا۔۔۔ بزی رہوں گا فون پر بات نہیں کر پاؤں گا یہ بھی تمہیں کہہ کر گیا تھا ۔۔۔۔ پھر کیا وجہ ہے ۔بات کرو مجھ سے ۔۔۔ “میسج کا نا کوئی جواب آیا تھا نا ہی فون وہ اٹھا رہی تھی بس اسکے سارے میسجز پڑھ ضرور رہی تھی ۔۔۔شاہزیب کو بھی غصہ آنے لگا

“او کے مت کرو بات ۔۔۔میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ ۔۔۔۔اتنے نخرے نہیں اٹھاؤں گا تمہارے ۔۔۔”یہ میسج دے کر شاہزیب نے غصے سے فوں سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔

تھکا ہوا آیا تھا اس لئے فوراسے سو گیا تھا اسے لگا صبح تک خود ہی ٹھیک ہو جائے گی مگر جب دو تین دن تک نینان نے یہی رویہ اختیار رکھا تو تلملا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔

نیناں بھی اپنی جگہ غصے سے بھپری پڑی تھی ۔۔۔جان بوجھ کر اس کی کال ریسیو نہیں کر رہی تھی ۔۔ میسج بھی دیکھ رہی تھی لیکن غصے کے مارے جواب نہیں دے رہی تھی دو دن شاہزیب کے متواتر میسج اور کال آتیں رہیں مگر نیناں نے ایک بار بھی بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔

اگلے روز جب نیناں چھٹی کے وقت کالج سے باہر نکلی تو سامنے شاہزیب بائیک پر بیٹھا خطرناک تیوروں اسے ہی گھورتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔نیناں نظریں چرا کر تیز قدم اٹھاتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگی مگر بائیک اسکے پاس آ کر رکی

“بیٹھوں نیناں “شاہزیب نے سخت لہجے میں کہا

مگر وہ نظر انداز کیے آگے بڑھ گئ

“شازیب نے اس بار اسے بازو سے پکڑ لیا

“کچھ کہہ رہا ہوں تم سے چپ چاپ بیٹھ جاؤں نیناں ورنہ ۔۔۔۔۔”

“ورنہ کیا ۔۔۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا شاہزیب “وہ بھی سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی نیناں کے اس قسم کے رویے کی وجہ وہ جان نہیں پا رہا تھا ۔۔۔ اسے گھورنے لگا

“میں نے کہا۔۔۔۔ چپ چاپ سے۔۔۔۔ بیٹھوں نیناں آخری بار کہہ رہا ہوں تم سے ۔۔۔۔ ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گئ “شاہزیب نے نیناں کا بازو چھوڑ دیا ۔۔۔مگر اس بار نیناں خاموش کھڑی رہی ۔۔۔۔ پھر چپ چاپ اسکے پیچھے بیٹھ گئ ۔۔۔۔کک مارتے ہی بائیک ہواؤں سے باتیں کرنے لگی تھی ۔۔۔۔نیناں کو اندازہ نہیں تھا کہ بیٹھتے ہی وہ موت کے کنوئیں میں بائیک کا سفر شروع کر دے گی ۔۔۔اتنا سوچنے کا اسے موقع ہی نہیں ملا تھا ۔۔۔۔جلدی سے اس نے شاہزیب کو کندھوں سے پوری قوت سے پکڑا تھاورنہ تو گر چکی ہوتی ۔۔۔۔۔

جس قدر شاہزیب بائیک تیر چلا سکتا تھا چلا رہا تھا ۔شاید وہ بائیک کی اسپیڈ کی آخری حد تھی جس پر بائیک چل رہی تھی۔۔۔۔ آس پاس کےنظارے نیناں کو کسی ٹرین کی طرح گزرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔تیز ہوا کے تھپیڑے اسکی سوجھ بوجھ لے گئے تھے ۔۔۔نیناں کی جان پر بنی ہوئی تھی کچھ دیر تو اپنے خوف کو دل میں دباتی رہی مگر پھر بلا آخر بول پڑی

“شاہزیب بائیک آہستہ چلائیں ۔۔۔۔”نیناں کی خوف سے جان نکل رہی تھی ۔۔۔مگر شاہزیب پر مطلق ہر بات بے اثر تھی نا تو بائیک کی اسپیڈ میں فرق آیا تھا نا شاہزیب کے غصے میں ۔۔۔۔

“شاہزیب پلیز بائیک آہستہ چلیں میں گر جاؤں گی “۔۔۔۔نیناں نے بہت مضبوطی سے اسکے کندھے پکڑ رکھے تھے مگر پھر بھی خوف سے جان نکل رہی تھی تیز ہوا چہرے سے ٹکرانے سے اسے اپنی آنکھیں کھولنا مشکل ہو رہا تھا مگر وہ ایسے تھا جیسے سن ہی نا رہا ہو

“شاہزیب پلیز “

۔۔۔۔وہ۔سمندر کی خالی سڑکوں پر اندھا دھن بائیک چلا رہا تھا نیناں اب رونے لگی تھی ۔۔۔

“شاہزیب پلیز ۔۔۔۔اسٹوپ دا بائیک “وہ چلا کر بولنے لگی مگر بائیک ویسے ہی چلتی رہی ۔۔۔۔ تقریبا آدھا گھنٹہ ایک ہی اسپیڈ سے بائیک چلانے کے بعد شاہزیب نے بائیک روکی تھی ۔اور آدھا گھنٹہ نیناں نے روتے ہوئے شاہزیب کی منتیں ہی کیں تھیں کہ بائیک روک دے ۔۔۔ نیناں کی ہوائیں اڑی ہوئیں تھیں فورا سے بائیک سے نیچے اتر گئ ۔۔۔۔۔بائیک کھڑی کر کے شاہزیب بھی نیچے اتر گیا ۔۔۔۔۔۔ نیناں اب بھی رو رہی تھی کینہ توز نظروں سے شاہزیب کو دیکھ رہی تھی وہ بھی اس کے پاس آ کر ۔۔۔۔غور سے اس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھنے لگا

” آدھا گھنٹہ۔۔۔۔ آدھا گھنٹہ میں نے تمہارے ہوش اڑائیں ہیں اور تم یوں رو رہی ہو میری مینا۔۔۔۔ برداشت نہیں ہوا نا تم سے کیسے جان پر بن گئ ہے تمہارے ۔۔۔۔آدھا گھنٹہ بھی تم سے برداشت نہیں ہوا ۔۔۔ اور پچھلے تین دن سے تم نے میرے ہوش بھی ایسے ہی اڑائے ہوئے ہیں وہ بھی بنا کسی وجہ کے ۔۔۔۔ اب بتاؤں کیا مصیبت آن پڑی تھی تم پر ۔۔۔۔کیا تکلیف تھی جو فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔بولو ۔۔ “وہ چلا کر پوچھنے لگا ۔۔۔۔ نیناں آنکھیں نیچے کیے روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔کچھ نہیں بولی ایک شاہزیب کی وجہ سے دوسرا بائیک کے دل دھلا جانے والے سفر سے وہ روئے جا رہی تھی ۔۔۔شاہزیب اسے بے تحاشہ روتے دیکھ کر کچھ دیر تو وہ اپنے غصے پر قابو پانے لگا ۔۔۔۔پھرکچھ نرمی سے بولا

“کس بات پر ناراض ہو مجھ سے ۔۔۔کیا کیا کے میں نے نیناں ۔۔۔۔”شاہزیب نے دربارہ پوچھا

“جھوٹ بولا ہے مجھ سے ۔۔۔دھوکے میں رکھا ہے ۔۔۔۔۔”نینان نے روتے ھوئے کہا

“کیا جھوٹ بولا ہے ۔۔۔۔کیا دھوکادیا ہے تمہیں ۔۔۔۔” شاہزیب براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا نیناں نے آنسوں پونچے

“کیا جاب کرتے ہیں آپ ۔۔۔۔” نیناں کے سوال پر گڑبڑا کر سنبھلا تھا

“تمہیں بتا چکا ہوں کمپوٹر مینجمنٹ ڈپاپمنٹ میں ہوں ۔۔۔۔”

“یہ ایک اور جھوٹ ہے ۔۔۔۔”نیناں نے اپنے بیگ سے موبائل نکال کر ایک ویڈیو لگا کر اپنا موبائل شاہزیب کے ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔۔ویڈیو دیکھ کر شاہزیب کا ایک رنگ بدلہ تھا

“کون ہے یہ”نیناں نے سختی سے پوچھا

“”میں نہیں جانتا ہو گا کوئی “شاہزیب نے نظریں چرائیں

“میں جانتی ہوں یہ کون ہے ۔۔۔۔یہ آپ ہیں شاہزیب “نیناں کی بات پر وہ غصے سے بھپر کر بولا

“بکو مت ۔۔۔ کہہ جو دیا میں نہیں ہوں ۔۔۔کچھ بھی سمجھوں گی اور بول دوگی تم ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے سختی سے کہا

” شاہزیب میں ہزاروں میں پہچان سکتی ہوں آپکو۔۔۔۔کیا لگتا ہے آپکو میں جھوٹ بول رہی ہوں “لہجہ نیناں کا بھی تلخ تھا

“میں نے یہ نہیں کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو ۔۔۔۔لیکن تم سمجھ غلط رہی ہو یہ میں نہیں ہوں ۔۔۔۔ “

” اچھا تو اتنے پیسے کہاں سے آ رہے ہیں آپکے پاس ایسی کون سی جاب کر رہے ہیں شاہزیب آپ ۔۔۔۔جس کی انکم لاکھوں میں ہے “نیناں آج سارے حساب بے باک کرنے پر تلی ہوئی تھی

” کیا اول فول بولے جا رہی ہو کہاں ہیں میرے پاس پیسے ۔۔۔۔کس نے کہہ دیا کہ لاکھوں کما رہا ہوں میں ” شاہزیب اب بھڑکنے لگا تھا

“میری منگنی کا جوڑا آپ ہی نے بھیجا تھا نا ۔۔۔۔۔ کتنے کا آیا تھا ۔۔۔۔یہ رنگ بھی آپ لائے تھے کیا قیمت ہے اسکی “نیناں نے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی شاہزیب کی طرف بڑھا کر پوچھا

” ہو گا چار پانچ ہزار کا جوڑا ۔۔۔۔امی لائیں تھیں مجھے نہیں معلوم انگوٹھی بھی امی نے ہی اپنی کچھ جیولری بیچ کر بنائی تھی ۔۔۔۔”شاہزیب نے نظروں کازاویہ بدلہ تھا ۔۔۔۔۔اسے مطمئن کرنے کی نا کام سی کوشش کی تھی

“٫یہ بھی جھوٹ ہے ۔۔۔۔۔کیونکہ آنٹی نے مجھے کوئی جوڑا نہیں بھیجا انہیں تو یہ لگ رہا ہے کہ جوڑا میں نے خود خریدا تھا انگوٹھی آپ نے میرے لئے خریدی تھی انہوں نے کچھ نہیں بیچا ۔۔۔۔میں ڈائمنڈ پہنتی ہو شاہزیب اس لئے اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ رنگ کتنے کی ہے ۔۔۔۔ اتنی مہنگی ڈائمنڈ کی رنگ ہزاروں کی تو ہر گز نہیں آتی شاہزیب ۔۔۔ لاکھوں کی آتی ہے ۔۔۔۔۔میرا جوڑا بھی چار پانچ ہزار کا ہر گز نہیں تھا پچاس ہزار تک کا تھا ۔۔۔ انگجمنٹ ہال کا بل بھی ہزاروں کا نہیں تھا لاکھوں کا تھا جو آپ نے ہے کیا ہے ۔۔۔۔۔ میں سب کچھ جان چکی ہوں شاہزیب مجھ سے مزید جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو “۔۔۔۔۔ نیناں بتدریج رو رہی تھی شاہزیب اس بار کچھ نہیں بولا بس چپ چاپ سنتا رہا ۔۔۔۔۔ بھول گیا تھا کہ وہ نیناں ہے جیسے ۔ بیوقوف بنانا اتنا بھی آسان نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ بچپن سے ایسا سب کچھ پہنتی اوڑھتی آ رہی ہے اس لئے اس کے لئے یہ سب جاننا مشکل نہیں تھا ۔۔۔۔۔

“چپ کیوں ہیں جواب دیں مجھے “نیناں نے جب اسے پہلو بدلتے دیکھا تو اسکا بازو پر کر جھنجوڑ کر پوچھا

“ہاں یہ سب میں نے کیا ہے ۔۔۔۔ اور یہ ویڈیو بھی میری ہے ۔۔۔۔ اسلام آباد بھی میں ون ویلنگ کے سلسلے میں گیا تھاوہیں سے کما رہا ہوں اتنا پیسہ ۔۔۔۔۔سن لیاسچ ۔۔۔ہو گئ تسلی ۔۔۔۔مل گیا تمہیں سکون ۔۔۔۔ ناؤ فورگیٹڈ ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے موضوع چند جملوں میں ختم کیا تھا اور اپنے بازو سے نیناں کا ہاتھ بھی ہٹا دیا

“ہاو کین یو ڈو دس “وہ اب بھی غصے سے بھپری ہوئی تھی ۔۔۔۔نیناں کی آنکھوں میں بے شمار شکوے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب نے گہری سانس لی پھر متوازن لہجے میں بولا

” اس لئے کہ تم یہ ڈیزو کرتی ہو ۔۔۔۔۔کیونکہ میری مینا بہت قیمتی ہے ۔۔۔میں نہیں چاہتا تھا ۔۔۔کہ تمہیں دیکھ کر کوئی یہ کہے کہ نیناں کے سسرال سے آنے والا جوڑا اسکے پہنے کے لائق نہیں ہے ۔۔۔۔ یا اسکے منگیتر کی پہنائی ہوئی رنگ نیناں کی ہاتھ کی خوبصورتی کو ماند کرتی ہے ۔۔۔۔”شاہزیب اب رسانیت سے اسے سمجھا رہا تھا

“شاہزیب مجھے کسی کی پروا نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے کوئی قیمتی چیزیں نہیں چاہیں۔۔۔۔۔ بس اب آپ ویلنگ نہیں کریں گئے “نیناں ایک مصصم ارادہ شاید کر کے آئی تھی اس لئے شاہزیب کی کسی بات کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھی

” کیوں نہیں کرو گا ضرور کروں گا ۔۔۔۔ابھی تو شروعات ہے ۔۔۔دیکھوں تمہارا شاہو کیا کیا تمہارے قدموں میں نہیں رکھ دیتا ہے “شاہزیب۔ بھی اپنی دھن کا پکا تھا

“شاہزیب یہ سب جان لیوا ہے ۔۔۔مجھے صرف آپکی ضرورت ہے مجھے نہیں چاہیے کوئی بھی قیمتی چیز ” نیناں جھنجھلا کر بولی

“لیکن مجھے اب سب کچھ چاہیے “وہ ضدی اور حتمی لہجہ پر اتر آیا تھا

“شاہزیب آپ یہ سب نہیں کریں گئے “

“کیوں نہیں کرو گا ضرور کرونگا ۔۔۔۔ “

“آپکو کیا لگتا ہے مجھے یہ سب آسائشیں چاہیے شاہزیب ۔۔۔۔ بلکل نہیں ۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔آپ اب ایسا کچھ نہیں کریں ۔۔۔۔بہت مشکل سے پہلے سب کچھ ٹھیک ہوا ہے ۔۔۔۔کیا کیا برداشت نہیں کیا ہے میں نے ۔۔۔۔آپ کی وجہ سے اپنے پوپس کی ناراضگی تک کی پروا نہیں کی ۔۔۔ آپ کی خاطر اپنی جان بھی دینے سے گریز نہیں کی شاہزیب ۔۔۔۔ اس لئے نہیں کی یہ موت کا کھیل کھیلنے دوں گی آپ کو “نیناں بھی اس بار ہار ماننے کو تیار نہیں تھی شاہزیب نے تاسف سے نیناں کی طرف دیکھا پھر استزائیہ لہجے سے بولا

“ہاں ساری قربانیاں تو صرف تم نے دیں ہیں۔۔۔۔میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا مینا ۔۔۔ تم تو مجھے بڑے آرام سے سونے کی طشتری میں پیش کی گئی تھی ۔۔۔۔ میں نے تو کچھ سہا ہی نہیں ہے ۔۔۔ہے نا ۔۔۔۔ قربانی کی اعلی مثال تو تمہیں نے قائم کی ہے ۔۔۔۔۔ ذرا کھاتی نا پولیس والوں کے ڈنڈے پھر پتہ چلتا تمہیں ۔۔۔۔بات کرتی ہو محبت میں قربانی کی ۔۔۔۔” شاہزیب غصے سے تلملایا تھا

“میں نے کب کہا کہ آپ نے کچھ نہیں برادشت کیا ۔۔۔۔بہت کچھ سہ کر ہم نے ایک دوسرے کو پایا ہے شاہزیب ۔۔۔۔

اس لئے کہہ رہی ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”شاہزیب نیناں کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ چکا تھا اسے مزید بولنے سے روکنے کا یہی ایک طریقہ تھا

“کچھ مت کہو بھول جاؤں سب اور بس بھروسہ رکھوں اپنے شاہو پر ۔۔۔۔اب جب کے تم سب جان چکی ہو تو اس لئے تمہیں بتا رہا ہوں ۔۔۔۔ نیناں شاید میں بیس بائیس دن تک آؤٹ آف کنٹری چلا جاؤں ۔۔۔۔۔ بس سلیکشن کا آخری مرحلہ رہ گیا ہے ۔۔۔۔مجھے یقین ہے میرا نام بھی ضرور آئے گا “نیناں کو خاموش پا کر شاہزیب نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا

“میرا پاکستان سے باہر یہ پہلا مقابلہ ہے ۔۔۔۔ شاہزیب تمہیں اب ٹی وی پر ہی نظر آیا کرے گا ۔۔۔بڑے فخر سے اپنی دوستوں کو بتایا کرنا کہ وہ دیکھوں وہ جو لڑکا ہے ۔۔۔۔جو جیت کی ٹرافی پکڑے ہوئے ہے وہ ہے میرا شاہزیب ہے ۔۔۔۔ تمہاری ساری دوستیں تمہیں رشک سے دیکھا کریں گی۔۔۔۔

“کہاں جائیں گئے آپ “نیناں کی بیچینی میں ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا

“سب سے پہلے تو سری لنکا جانا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ سفر کی ابتدا ہو گی ۔۔۔۔۔ لیکن ابھی تمہارے علاؤہ کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔۔۔میں ابھی بتانا بھی نہیں چاہتا بس ایک بار باہر جا کر کچھ کر دیکھاوں پھر تو سب کو معلوم ہو ہی جائے گا ۔۔۔۔”شاہزیب اپنا اگلا لائحہ عمل بتا رہا تھا

“میں بھی آپکے ساتھ جاؤں گی “‘نیناں کی نئ فرمائش پر شاہزیب نے اسے کن انکھیوں سے دیکھا تھا

“کس حثیت سے ؟ اور کیوں؟ “

“میں جا سکتی ہوں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے ۔۔۔۔ میرے ذاتی اکاؤنٹ میں اتنے پیسے ہیں کہ میں سب کچھ افورڈ کر سکتی ہوں “نیناں کا لہجہ اٹل تھا

‘”لیکن ۔میں کبھی یہ نہیں چاہوں گا کہ تم میرے ساتھ جاؤں ۔۔۔۔۔نہیں نیناں تم بس یہیں میرا انتظار کرنا “

“مجھے بھی جانا ہے شاہزیب ” وہ ضد پر اتر آئی تھی

۔”نہیں جانا کہیں بھی “

“کیوں “

“اس لئے کہ بہت ننھا منا سا دل ہے تمہارا ۔۔۔۔۔تم کبھی بھی وہ سب دیکھ نہیں پاؤں گی جو میں کرنے جا رہا ہوں ۔۔۔تمہارا کیا بھروسہ نیناں ڈر کر وہاں شاہزیب شاہزب پکارنے لگو تو ۔۔۔۔۔میں تو بن موت ہی مر جاؤں گا ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر نیناں نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا تھا

“اتنے شور میں میری آواز سن لیں۔ گئے “

“جب تم مجھے ہیلمنٹ میں پہچان سکتی ہو تو میں تمہیں کیوں نہیں سن سکتا لوگوں کے شور سے مجھے فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر تم نے پکار لیا تو ممکن ہی نہیں کہ میں پلٹ کر نا دیکھوں ۔۔۔۔۔سب گڑبڑ ہو جائے گی مینا ۔۔۔۔اس لئے تم نہیں جاؤں گی “

نیناں کا دل پھر خوف کی دیواروں سے ٹکرایا تھا جو نظارے وہ شاہزیب کے بائیک پر دیکھ چکی تھی پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئ تھی

“شاہزیب چھوڑ کیوں نہیں دیتے یہ سب کچھ”نیناں کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے تھے ۔۔۔۔انداز میں بیقراری تھی

“یار کیسے سمجھاؤں تمہیں ۔۔۔۔ بس اب ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گئے او کے ۔۔۔۔” نیناں کے رخسار پر گرنے والے آنسوں شاہزیب نے اپنے ہاتھوں سے چنے تھے

“کتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے “مگر نیناں کی تو جیسے جان اٹکی ہوئی تھی ہر صورت وہ شاہزیب کو منانا چاہتی تھی روکنا چاہتی تھی

“اچھا تو اظہار سننا چاہتی ہو مجھ سے تم بتاؤں کتنی محبت کرو تم سے ۔۔۔۔”۔شاہزیب بار بار بات کا رخ بدل رہا تھا

“بس میرے لئے ون ویلنگ چھوڑ دیں “نیناں اب بھی اپنے موقف پر قائم تھی

“نیناں ۔۔۔۔بہت ہو چکا ۔ہاں ۔۔۔میں نے کہا نا اب اس موضوع پر مزید بات نہیں ہو گی “شاہزیب نے نرمی سے کہا

“شاہزیب آج آپ ایک فیصلہ کر لیں ۔۔۔میں۔ یا ویلنگ “نیناں کے بے تاثر چہرے پر صرف سنجیدگی تھی اور لہجہ اٹل

“نیناں دس از ٹو مچ۔۔۔ بہت بول۔ چکی ہو تم ۔۔۔۔ بہت دیر سے تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔۔۔۔ ناو اٹس انف ۔۔۔۔ “شاہزیب کے لہجے میں اب سختی در آئی تھی “۔”میں یا ویلنگ ” نیناں اپنی بات پر ڈٹی رہی

“ویلنگ میں بہت پہلے سے کرتا تھا یہ تم مجھ سے محبت کرنے سے پہلے بھی جانتی تھی ۔۔۔اگر یاداشت قائم دائم ہے تو مجھے ویلنگ کرتے ہوئے دیکھ کر ہی تم مجھ پر لٹو ہوئی تھی ۔۔۔۔ یاد ہے ۔۔۔۔ اب کیا ڈرامے کر رہی ہو “

“مجھے صرف آپ کاایک جواب چاہیے

“ویلنگ ۔۔۔یا میں ۔۔۔۔آج کسی ایک کو چن لیں “نیناں ایک انچ بھی اپنی بات سے نہیں ہلی تھی

“اوہ اچھا تو یہ بات ہے “شاہزیب اسکے سامنے بہت قریب آ کر بولا

“پہلے میری ایک بات کا جواب دو ۔۔۔۔رہ لو میرے بغیر “

“نہیں مر جاؤں گئ”شاہزیب کے سوال کا برجستہ جواب ملا تھا

۔”تو پھر کیا تکلیف ہے تمہیں جو ایسی شرطیں رکھ رہی ہو ۔۔۔میرے دل میں تمہارا ایک الگ مقام ہے تم جانتی ہو کتنا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ لیکن ویلنگ میرا جنون ہے ۔۔۔۔پیشن ہے میرا اسے کبھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔نتھنگ ۔۔۔”۔”

“میں آپ کے لئے سب کچھ۔ چھوڑنے کو تیار ہوں ایک بار آزما کر دیکھ لیں ۔۔۔جان دینے سے اب بھی پیچھے نہیں ہٹوں گی ۔۔۔۔لیکن آپ میرے لئے صرف ویلنگ چھوڑ دیں”

“نیناں پلیز ” شاہزیب نے التجائی نظروں سے دیکھ کر کہا تھا

“میں آخری بار پوچھ رہی ہوں شاہزیب ۔۔۔۔میں یاویلنگ “۔۔۔۔اب کی بار شاہزیب چپ تھا ۔۔۔۔ بہت بڑے امتحان میں نیناں اسے ڈال چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

*******………

چند ماہ پہلے شاہزیب جب پہلی بار قیوم صاحب سے ملنے گیا تو اسوقت وہ بھی اسی کے منتظر تھے ۔۔۔

انکے سامنے بیٹھ کر وہ کچھ تذبذب کا شکار تھا ۔۔۔کافی دیر توقیوم صابر اپنی زریک نظروں سے اس کا جائزہ لیتے رہے ۔۔۔۔

“کیا لو گئے ۔۔۔چائے یا کافی”۔قیوم صابر نے انٹر کام اٹھا کر شاہزیب سے پوچھا

“نہیں کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ آپ تکلف مت کریں ۔۔۔۔”

“چلو پھر کولڈرنک پی لو ۔۔۔۔”شاہزیب سے کہہ کر انہوں نے دو کولڈرنک منگوا لیں کچھ ہی دیر ایک ملازم دو کولڈرنک رکھ کر چلا گیا

“ہاں تو پھر کیا سوچا تم نے شاہزیب زمان اپنے شوق کو ایک نئ راہ پر لانے کے بارے میں ۔۔۔”

“میں اسی لئے یہاں حاظر ہوا ہوں ۔۔۔۔۔میرے خیال سے اس میں کچھ حرج نہیں ہے ۔۔۔ “

“یہ تو اچھی بات ہے دیکھوں پہلے تو میں تمہیں دیکھنا چاہوں گا کہ تم کتنے پانی میں ہو ۔۔۔۔اور صرف چند اسٹیپ ہی کافی نہیں رہیں گئے اب بہت کچھ کرنا پڑے گا جو خطروں سے خالی نہیں ہو گا ۔۔۔۔ اگر آگے بڑھنا چاہتے ہو تو ۔۔۔۔”

“میں جانتا ہوں ۔۔۔۔آپ جب چاہیں ٹرائے لے سکتے ہیں “۔۔۔۔۔ٹھیک ہے کل آ جانا ۔۔۔میں تمہیں ایک گرونڈ میں بلاؤں گا ۔۔۔۔ باقی باتیں تمہاری ویلنگ دیکھنے کے بعد طے کریں گئے ۔۔۔۔” قیوم صابر نے بات ختم کر دی

“جی ٹھیک ہے “شاہزیب قیوم صابر سے ہاتھ ملا کر چلا گیا دوسرے روز وہ اس گراؤنڈ میں پہنچ گیا تھا جہاں اسے قیوم صابر نے بلایا تھا ۔۔۔۔

سارا گراؤنڈ خالی تھا کافی وسیع میدان تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔چاروں طرف بانڈری وال لگے تھے ۔۔۔۔شاہزیب بائیک اندر لے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔مگر اس وقت قیوم صابر کے علاؤہ وہاں دوسرا کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔

شاہزیب کے چہرے پر ذرا سی بھی پریشانی کی رمق نہیں تھی منہ میں ببل چباتے ہوئے اس نے بائیک پر کک ماری ۔۔۔۔۔اور اس بڑے سے گراؤنڈ کا ایک راؤنڈ لیتے ہی اس نے بائیک کو ایک ویل پر کھڑی کر کے چلانی شروع کر دی ۔۔۔۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے شاہزیب نے دونوں پاؤں اٹھا کر سامنے کی جانب اسٹینڈ پر رکھ دیے ۔۔۔۔۔کبھی وہ زک زیک کرتے ہوئے چلانے لگتا کبھی ایک ہاتھ سے بائیک کو کنٹرول کیے باقی کے دوسرے بازو اور ٹانگ کو ہوا میں لہرانے لگتا گوکہ جس جس طرح وہ چلا سکتا تھاچلا رہا تھا ۔۔۔۔ایک گھنٹہ قیوم صابر اپنی آنکھیں جھپکنا بھول گیا تھا ۔۔۔۔۔شایزیب نے بائیک کھڑی کی تو وہ بھی ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا ۔۔۔۔۔

“فنٹسٹک مائے بوائے ۔۔۔۔بریلینٹ “شاہزیب کے پاس آتے ہی اس نے شاہزیب کی کمر تھپتھپائی۔۔۔۔۔۔

“تھنک یو سر “شاہزیب نے موبانہ انداز میں کہا

“چلو آؤں ایک اچھی سی جگہ لنچ کرتے ہیں اور بات بھی کر لیں گئے ۔۔۔۔گرونڈ سے باہر نکلتے ہی قیوم صابر نے شاہزیب کو اپنی گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

بائیک کوسائیڈ پر لگا کر وہ قیوم صابر کی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ ڈرائیور نے ایک قریبی رسٹورنٹ میں گاڑی کھڑی کر دی۔۔۔شایزیب قیوم صابر کے ساتھ رسٹورنٹ میں بیٹھ گیا ۔۔۔مینو کارڈ قیوم صابر نے شاہزیب کی طرف بڑھایا

“ینگ مین آج کے لنچ کے حقدار تم جو آڈر تم کرو “قیوم صابر کی دریا دلی کا سمندر بلا وجہ ہی ٹھاٹھے نہیں مار رہا تھا ۔۔۔۔۔

شاہزیب نے مینو کارڈ لیا اور کھانے کااڈر دے کر اطمینان سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔قیوم صابر کی جانچتی نظریں شاہزیب کی آنکھوں میں الگ ہی چمک دیکھ رہی تھی عمر گزری تھی اسکی ایسے لڑکوں کے درمیان ۔۔۔۔۔

“میں کچھ کلو تمہیں اور بھی دونگا ۔۔۔۔۔۔کچھ ویڈیو کے شارٹ کلپس بھیجوں گا تمہارے فون پر مجھے لگتا ہے تم جلد فالو کر لو گئے ۔۔۔

“جی کیوں نہیں ۔۔۔۔۔لیکن میں پہلے کچھ باتیں آپ سے کھل کے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔بات جتنی جلدی واضع ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے ۔۔۔”کھانا ٹیبل پر لگ چکا تھا

“ہاں کہو ینگ مین ۔۔۔۔”قیوم صابر نے چاول اپنی پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا

” کیا سوچا آپ نے میرے بارے میں ۔۔۔۔”

مجھے تو ابھی سے تم سے بہت سی امیدیں وابسطہ ہو چکی ہیں ۔۔۔۔تم میں آگے بڑھے کا بہت جذبہ ہے جنون ہے اور یہ جنون ہی تمہیں کامیابیوں کی بلندیوں پر لے جائے گا

“شکریہ ۔۔۔۔”

دیکھوں تم جتنی پریکٹس میں رہوں گئے اتنا ہی جلدی یوز ٹو ہوتے چلے جاؤں گئے ۔۔۔۔تمہارا بائیک پر کنٹرول بہت کمال کا ہے ۔۔۔۔اٹس امیزنگ ۔۔۔۔۔ کل اسی گراؤنڈ میں چار بجے آ جانا تمہیں ایک ہیوی بائیک مل جائے گی ۔۔۔۔ اور چند لڑکے اور بھی ہوں گئے جو تمہاری ہیلپ کریں گئے ۔۔۔۔۔ اس ماہ کے آخر میں کراچی کی مختلف کمپنیاں ہیں جو پراویٹلی تم جیسے لڑکوں کو سپورٹ کرتی ہیں ۔۔۔۔ہم سب ان کے اس اس ہنر کو صیحیح معنوں میں بروئے کار لاتے ہیں ۔۔۔ہم سب کمپنی کے مالکان مل کر مقابلے بھی رکھواتے ہیں ۔۔۔۔شائقین جسے ذیادہ پسند کرتے ہیں انہیں اول انعام بھی دیا جاتا ہے ۔۔۔۔میں چاہتا ہوں تم ایک ماہ بعد اس مقابلے میں ضرور حصہ لو ۔۔۔۔

“کتنے پیسے ملتے ہیں انعام میں “شاہزیب نے کھانا کھاتے ہوئے عام سے انداز سے پوچھا ۔۔۔

“یہی کوئی دو لاکھ کیش ۔۔۔۔ایک شو کا “شاہزیب کی چمچ رکی تھی ۔۔۔۔۔

ایک شو سے کیا مراد ہے کیا بہت سارے شو دیکھائے جاتے ہیں “

“ہاں ۔۔۔۔کچھ بائیک ریس میں حصہ لیتے ہیں کچھ ہیوی بائیک کو نت نئے انداز سے چلانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔۔۔۔بس شائقین کا جن پر دل آ جائے تم کوشش کی جاری رکھو

“Practice makes a man perfect”

قیوم صابر میں شاہزیب کی آنکھوں میں ایک نئے امنگ کی جوت جلتی ہوئی دیکھی تھی

“ٹھیک ہے میں ضرور حصہ لوں گا ۔۔۔۔”

ایک ماہ شاہزیب نے دن رات نہیں دیکھے تھے گھر کی چابی وہ ڈبلیو کیٹ بنا چکا تھا۔۔۔۔رات سب کے سوتے ہیں وہ خاموشی سے سڑکوں پر نکل جاتا ایک جنون تھا جو شاہزیب کو بے چین کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔نت نئے طریقے سے وہ بائیک چلانے لگا تھا ہیوی بائیک پر بہت جلد اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا ۔۔۔۔جو لڑکے اس فیلڈ میں پرانے تھے۔۔۔۔۔ انہیں شاہزیب پر ذیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی ۔۔۔۔۔بہت جلد وہ بہت سے سکل سیکھ چکا تھا ۔۔۔۔زمان صاحب سے یہ کہہ دیا کہ اسکی جاب لگ گئ ہے ۔۔۔۔۔

رات کو چار بجے وہ لوٹتا تھا اسکے بعد یونی سے سیدھا گراؤنڈ پر ۔۔۔۔ایک ماہ بعد جب فائنل لڑکوں کو چننے کے لئے قیوم صابر نے آخری ٹیسٹ لیا تو شاہزیب کی کارکردگی دیکھ کر انکی آنکھیں چندھیا گئیں تھیں بائیک ریس سے لیکر ہیوی بائیک پر نت نئے کرتب وہ ایسے دیکھا رہا تھا جیسے کئ سال سے اس میں ماسٹر رہ چکا ہوں ۔۔۔۔قیوم صابر دل سے اسکی اس خوبی کو سراہا کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی آنکھوں میں خوشی کی ایسی چمک تھی کہ بیان سے باہر تھی بہت عرصے بعد کوئی ایسا لڑکا انکے ہاتھ لگا جو انہیں دن دونگی اور چار چگنی ترقی دینے والا تھا ۔۔۔۔۔

شاہزیب کے جسم میں بلا کی لچک تھی بہت جلدی ہی وہ ہر انداز سے بائیک کو یوں نچاتا تھا جیسے اس کام میں عبور حاصل کر چکا ہوں سے بڑی بات جو اسکی شخصیت کا حصہ تھی وہ تھی اسکی۔ بے خوفی ۔۔۔۔۔وہ خطرناک سے خطرناک اسٹپ بھی نڈر انداز میں بڑے آرام سے کر لیتا تھا ۔۔۔۔

قیوم صابر نے کھڑے ہو کر مسلسل تالیوں سے اسے سراہا تھا ۔۔۔

پچاس ہزار کا چیک فورا اسے انعام کے طور پر دیا تھا ۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آگے چل کو وہ اس لڑکے سے لاکھوں کڑوروں کما لے گا ۔۔۔۔

“میں بہت خوش ہوں تم سے ۔۔۔۔تم میری توقع سے بڑھ کر ہو لڑکے “

“تھنک یو سر “پچاس ہزار کے چیک نے شاہزیب کی تھکن دور کر دی تھی پہلی بار اپنے شوق کی قیمت وصول کی تھی اس نے ۔۔۔۔

تمہارا نام کس کیٹاگری میں لکھوا دوں ۔۔۔۔”

” میں تین سے چار مقابلوں میں حصہ لینا چاہوں گا بائیک ریس اور ہیوی بائیک پر ون ویلنگ کے علاوہ ون ویلنگ کی ریس میں بھی “

“شاہزیب یہ مشکل امر ہے “قیوم صابر نے حیرت سے کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد اس سے کہا

“کیوں کیا مجھے ایک سے زیادہ میں حصہ نہیں مل سکتا “

“مل تو سکتا ہے لیکن یہ سب ایک کے بعد ایک ہیں ۔۔۔بہت ذیادہ اسٹمنا کی ضرورت پڑے گی تم کیا ۔۔۔کوئی سالوں کا تجربہ کار بھی اتنا بڑا رسک نہیں لیتا تم تو پہلی بار میدان میں اترو گئے “قیوم صابر نے صاف گوئی سے کام لیا تھا

“لیکن مجھے لینا ہے ۔میں جانتا ہوں خود کو ۔۔آئی ول دو اٹ “

“میری بات کو سمجھو “قیوم صابر نے اسے سمجھانا چاہا

“سر مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے ۔۔۔۔میں کر لو گا ۔۔۔پلیز آپ میرا نام لکھوا دیں “قیوم صابر خاموش ہو گیا

مقابلے کا دن بھی آن پہنچا تھا

۔۔۔۔مقابلے میں سب سے پہلے ایک ہیلمنٹ سر پر پہنا جس سے اس کا چہرا تک چھپ چکا تھا پہلا مقابلہ بائیک ریس کا تھا ۔۔۔۔۔ہاتھوں میں بلیک دستانے بلیک ہی پیٹ شرٹ پہنے ۔۔۔۔۔ سٹی کی آواز پر سب کی بائیکیں زوم سے چلیں تھیں ۔۔۔۔۔۔ صاف شفاف روڈ پر بائیک تیزی سے رواں دواں تھیں ۔۔۔۔۔شایزیب کا پورا فوکس روڈ کی طرف ہی تھا اسپیڈ وہ بڑھاتا ہوا کافی حد تک بڑھا چکا تھا ۔۔۔۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ سب کو پیچھے چھوڑ چلا گیا ۔۔۔۔۔پوری ریس میں اس نے رک زیک بائیک چلاتے ہوئے کسی کو بھی آگے نہیں بڑھنے دیا تھا ۔۔۔۔۔نتجہ جیت کی صورت

میں نکلا تھا جیسے شاہزیب کی بائیک نے ربن توڑتے ہوئےجیت کی نوید سنائی تھی قیوم صابر اپنی کرسی سے اٹھ کر تیاں بجانے لگے تھے ۔۔۔۔

“لوگوں کی تالیوں کی گونج رک نہیں رہی تھی وہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے پہنچا تھا ۔۔۔۔۔

باقی کمپنی کے سیٹھوں کی پیشانیوں پر تیوری سی چڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔

آنا اور چھا جانے والی مثال اس وقت شاہزیب پر فٹ تھی ۔۔۔۔۔

اگلا مقابلہ ون ویلنگ پر ریس کا تھا ۔۔۔۔۔اور یہ شاہزیب پہلے بھی بہت دفع کر چکا تھا ۔۔۔اور مسلسل ایک ماہ سے پریکٹس میں تھا ۔۔۔۔

اس لئے وہ مقابلہ کی جیت بھی اسی کا مقدر بنی تھی ۔۔۔۔۔ہیوی بائیک پر نت نئے طریقے سے کرتب دیکھاتا ہوا وہ سب شائقین کو مہبوت کر چکا تھا ۔۔۔۔۔لیکن تھک بھی بہت چکا تھا ۔۔۔۔۔مسلسل یہ تیسرا مقابلہ تھا جو وہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن ہمت ہارنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔ خوشی کی انتہا اسے اس وقت ہوئی جب اس پر بھی جیت اس کا مقدر بنی ۔۔۔۔۔

وقت ختم ہوتے ہی جب اس نے بائیک روکی وہ بری طرح ہانپ رہا تھا مگر شائقین تو بس اسکی ایک جھلک دیکھنے کے متوالے ہوئے جا رہے تھے ۔۔۔۔۔ چند چینل کے صحافی بھی وہاں موجود تھے گراؤنڈ سے باہر نکلتے ہی ایک ہجوم تھا جو اس نئے لڑکے کے گرد بھنبھنا رہا تھا ۔۔۔۔

“ہم نے سنا ہے آپ نے پہلی بار ان مقابلوں میں حصہ لیا ہے “

“جی ٹھیک سنا ہے “شاہزیب نے مدافعانہ انداز ۔ہں جواب دیا اس وقت تو اس کی حالت یہ تھی کہ کسی سے بات کیے۔ بنا ہی وہاں سے چلا جائے مگر پوچھنے والے کے پاس سوالات کا انبار تھا

“ایک ساتھ تین مقابلے اور تینوں میں کامیابی ۔۔۔۔لوگوں کے دل آپ نے اپنے ایک ہی شو میں گرویدہ بنا دیے ہیں ۔۔۔لیکن وہ اپنے اس ہیرو کے نام سے نا واقف ہیں ۔۔۔۔

“ہیلمنٹ بوائے “کا ٹائٹل لگا دیں میں نام ابھی شو نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔”شاہزیب نے برجستہ جواب دیا

“آپ کے چاہنے والے آپ کو ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں

٫ابھی نہیں ۔۔۔میں فی الحال خود کو شو نہیں کرنا چاہتا لیکن اپنے چاہنے والوں کو مایوس نہیں کرونگا ۔۔۔۔ لیکن اپنا چہرہ اس وقت دیکھاوں گا ۔۔۔۔جب ایک خاص مقام حاصل کر لوں گا جو میرا اصل مقصد ہے ۔۔۔۔پلیز نو مور کوسچنز “شاہزیب یہ کہہ کر لوگوں کو ہٹاتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر گیا تھا

“پہلی بار شاہوں کے بجائے ہیلمنٹ بوائے کے نعرے لگے تھے ۔۔۔۔ تالیوں کی گونج بہت دیر تک شاہزیب نے سنی تھی ۔۔۔۔۔ اندر ایک بہت بڑے ہال نما کمرے میں وہ داخل ہوا سنے رکھی کرسی پر بیٹھ کر اپنے کندھوں کو دبانے لگا ۔۔۔ سب لڑکے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے جہنوں نے حصہ لیا تھا ۔۔۔۔ان میں جو لڑکے قیوم صابر کے ساتھ منسلک تھے سب نے ہی شاہزیب کو سراہا تھا ۔۔۔۔لیکن دوسری کمپنیوں کے لڑکے اس نئے آنے والے ہیلمنٹ بوائے کو کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔جو نام وہ سالوں میں کما نہیں پائے تھے وہ اس لڑکے نے ایک دن میں حاصل کر لیا تھا ۔۔۔۔۔

باہر قیوم صابر بڑے فخر سے سب کو یہ بتا رہا تھا کہ ہیلمنٹ بوائے اس کی کمپنی سے تعلق رکھتا ہے ۔۔۔۔۔ سٹے میں لگے کڑروں روپے قیوم صابر کے پاس آ چکے تھے ۔۔۔۔۔آج تو قیوم صابر کا دل شادمانی سے جھوم رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسے اب آگے کامیابیاں ہی دیکھ رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔ایک سونے کے انڈے دینے والی مرغی اسکے ہاتھ لگی تھی ۔۔۔۔۔ جس کی بھوک بس چند گندم کے دانے تھے ۔۔۔۔باقی سونے کے انڈے کا حقدار قیوم صابر تھا ۔۔۔۔۔ اخباری نمائندوں اور نیوز چینلز کے پے در پے سوالات پر قیوم صابر خوشی سے پھولے نہیں سما پا رہا تھا اسکی کمپنی بس ایک عام سی کمپنی تھی اسکے انڈر میں کام کرنے والے لڑکے کبھی بھی اول پوزیشن پر نہیں آئے تھے بس تیسری چوتھے نمبر پر آ جاتے تھے ۔۔۔۔ اس لئے پیسے بھی ذیادہ نہیں ملتے تھے ۔۔۔۔ لیکن جو چاند آج قیوم صابر کے نام پر چودیں کی طرح پورے آب وتاب سے روشن ہوا تھا ۔۔۔۔اس نے قیوم صابر کو سب کی نظروں کا تارا بنا دیا تھا ۔۔۔تقریبا ڈیر گھنٹے بعد قیوم صابر ہال میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔شاہزیب اب بھی وہاں موجود تھا قیوم صابر نے آتے ہی شاہزیب کو سینے سے بینچ کر گلے لگایا تھا ۔۔۔۔

“مائے بوائے ۔۔۔یو آر سچ آ بریلنٹ ۔۔۔۔۔ سب کے دل ایک ہی بار میں جیت چکے ہو تم ۔۔۔۔۔ “

“تھنک یو سر “شاہزیب نے مسکرا کر جواب دیا

“شاہزیب کے چہرے پر اب تھکن کے آثار تھے “

“ینگ مین مجھے بس ایک بات سمجھ نہیں آئی اپنا نام اور چہرہ کیوں دیکھانے سے انکار کیا تم نے ۔۔۔۔یہ تو تمہاری اصل پہچان بن سکتا ہے “

“ابھی نہیں ۔۔۔۔ بس ابھی میں خود کو میڈیا کے سامنے لانا نہیں چاہتا ۔۔۔۔کچھ ذاتی وجوہات ہیں ۔۔۔۔”شاہزیب نے جواب دیا

“اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔تم۔کافی تھک چکے ہو ون ویک کی لیو لے لو ۔۔۔۔”

“وہ تو مجھے چاہیے ہی آفڑ ون ویک میری انگیجمنٹ ہے “شاہزیب نے مسکرا کر کہا

“اووہ ۔۔۔واٹ آ سرپرائز مائے چائلڈ ۔۔۔۔۔”قیوم صابر نے شفقت سے اسکے بال بکھیر کر کہا

“سر مجھے خوشی ہو گی اگر آپ آئیں گئے تو “

“آفکورس آؤں گا “قیوم صابر نے فورا سے ہامی بھری شاہزیب کچھ جھجک کر بولا

“سر اف یو ڈونٹ ماینڈ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے ۔۔۔اسی وجہ سے میں نے تین مقابلوں میں حصہ لیا تھا “

“اووہ ۔۔۔۔سوری ۔۔۔میں بھول ہی گیا “قیوم صابر نے جیب سے ایک چیک بک نکالی ۔۔۔۔۔چھ کی جگہ سات لاکھ کا چیک بنا کر اسکے حوالے کیا ۔۔۔۔۔

“انجوائے یور سیلف ۔۔۔۔چھ لاکھ تمہاری محنت کے اور ایک لاکھ میری طرف سے انعام ہے “قیوم صابر نے دانہ تو ڈالنا ہی تھا ۔۔۔۔۔ تا کہ سونے دینے والی مرغی کو کوئی اور ہی نا اچک لے …..

شاہزیب نے چیک کو ایک بار غور سے دیکھا ۔۔۔جسم تھکن سے چور چور ہو رہا تھا ۔۔۔۔چیک جیب میں ڈال کر وہ وہاں سے نکل گیا

*****=……

دو دن تو اس نے سو کر ہی گزارے تھے ۔۔۔۔پھر چیک کیش کروا کر سب سے پہلے نیناں کی شاپنگ کی تھی ۔۔۔۔کڈی چیز کی وہ کمی نہیں چاہتا تھا اس لئے ہر چیز اسکی شایان شان لے رہا تھا ۔۔۔۔۔ اپنی پچھلی ساری زندگی پیسہ سوچ سوچ کر کی خرچ کیا تھا لیکن آج بے دریغ خرچ کر رہا مگر اپنے لئے نہیں ۔۔۔۔ نیناں کے لئے ۔۔۔جیولر کے پاس جا کر اس نے ڈائمنڈ کی رنگ کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔۔ جو خاصی مہنگی تھی ۔۔۔۔ عاصم اور عروہ بیگم کے لئے کپڑے خریدے ۔۔۔۔۔باقی کے پیسے اپنے اکاؤنٹ میں رکھوادیے ۔۔۔۔۔

منگنی سے پہلے وہ قیوم صابر سے کہہ چکا تھا وہ اپنے والد سے انکی ملاقات کروانا چاہتا ہے ۔۔۔۔لیلن وہ اسے یہ کہیں کہ اس انکے آفس میں جاب کرتا ہے ۔۔۔کچھ دیر توقیوم صابر شاہزیب کو دیکھتے رہے سوچتے رہے کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔۔۔لوگ خود شو اف کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے اور یہ چھپا رہا ہے ۔۔۔پھر سوچا کہ مجھے کیا لگے ۔۔۔ میر کی۔ بگڑتا ہے ۔۔۔۔مجھےبتو اس سے فائدہ ہی پہنچ رہا ہے اس لئے ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔منگنی ہر شاہزیب نے زمان صاحب سے قیوم صابر کی ملاقات یہ کہہ کر کروائی کہ وہ انکے آفس میں جاب کرتا ہے ۔۔۔۔۔

شاہزیب زمان صاحب کو مطمئن کرنا چاہتا تھا اور یہ کام قیوم صاحب نے بہت اچھے سے سنبھال لیا تھا۔۔۔۔ ایک ماہ بعد ایسا ہی ایک مقابلہ اور کراچی میں منعقد ہوا ۔۔۔۔۔لوگ کی بھیڑ اس بار پہلے سے زیادہ تھی اس “ہیلمنٹ بوائے” پر اس بار قیمت دگنی لگی تھی ۔۔۔۔۔۔

قیوم صابر کی تواس بار شان ہی الگ تھی ۔۔۔۔ نعرے کی گونج تھی کے شاہزیب کے گراؤنڈ میں آتے ہی سیٹیوں کی آوازیں گونج گئ تھیں

اس بات بار شاہزیب نے بائیک ہوا ہوا میں معلق کرنا تھا ۔۔۔۔ گو کہ پریکٹس وہ کر چکا تھا ۔۔۔۔لیکن یہ پہلی بار کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔ ٹریک بھی ایسا ہی ترتیب دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔ صاف شفاف سیدھی سڑک پر ایک میل کے فاصلے کے بعد ہی روانڈ میں ٹریک بنایا گیا تھا ۔۔۔۔ جہاں اسے بائیک چلاتے ہوئے آخر میں ہوا میں بائیک کو معلق رکھتے ہوئے نیچے لانا تھا ۔۔۔۔۔۔

ہاتھوں میں دستانے۔ چھڑہاتے ہوئے وہ لا پروا انداز میں بائیک پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔ پورے گراؤنڈ میں اس قدر شور تھا ۔۔۔۔ لوگوں کی سیٹیاں تالیوں کی گونج تھی کہ پولیس اہلکار بھی سنبھال نہیں پارہے تھے ۔۔۔۔۔

شاہزیب کی بائیک کی زوم پر شور کا زور ٹوٹا تھا ۔۔۔۔۔اس وقت وہ اکیلا ہی پورے گراؤنڈ میں موجود تھا ۔۔۔۔ایک میل کی ریس کے دوران وہ اسپیڈ اتنی بڑھا چکا تھا کہ راؤنڈ تک پہنچتے ہی بائیک پر اس کا پورا کنٹرول تھا آڑے ٹہرے ٹریک پر اسے بنا سپیڈ کم کیے بس فوکس ہی کرنا تھا اس وقت پورےہال میں سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔صرف شاہزیب کی بائیک کی آواز گونج رہی تھی ٹریک ختم ہوتے ہی پوری قوت سے شاہزیب نے بائیک کواٹھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ہوا میں بائیک چند لمحے ہی رکی تھی ۔۔۔اور دیکھنے والوں کی سانسیں بھی جیسے تھم گئیں تھیں ۔۔۔۔۔ لوگ بنا آنکھ چھپکے اس موت کے کھلاڑی پر نظریں جمائے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ لوگوں کے دل سینے کے مقام سے ہٹ کر کانوں میں ڈھڑک رہے تھے ۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے بائیں نیچے کو آ رہی تھی لوگوں کے دل پسلیوں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھے ۔۔۔۔۔ ڈھم کی آواز سے بائیک سڑک بلکل سیدھی رک کر چلی تھی۔ ۔۔۔۔پورے ہال میں سب سے پہلے ہائے کی آواز گونجی تھی جیسے سب نے شکر سانس لیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔پھر زوردار تالیاں ۔۔۔۔ہیلمنٹ بوائے کے نعرے لگنے لگے ۔۔۔۔۔

اس بار گراؤنڈ سے نکلتے ہی وہ خود کو لوگوں سے بچا نہیں پایا تھا ۔۔۔۔ایک بھیڑ تھی جو اس سے ملنے کے لئے لپک رہی تھی ۔۔۔۔۔۔کیا پولیس کیا میڈیا کسی کو آگے نکلنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی ۔۔۔۔ اب لوگ شاہزیب کو گود میں میں اٹھا چکے تھے یہ سب تو اسکی توقع سے بھی اوپر تھا ۔۔۔۔۔

بڑی مشکل سے وہ نیچے اتر پایا تھا ۔۔۔۔

لوگ اس سے ہاتھ ملانے بات کرنے کو بے تاب سے نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔۔پولیس بڑی مشکل سے اسکے قریب پہنچی تھی ۔۔۔۔۔ ڈنڈا پکڑے وارث خانزادہ سب کو پیچھے ہٹا رہا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن اپنا حلیہ کچھ بدل چکا تھا چہرے پر شیور بڑھی ہوئی تھی ۔۔ ۔بالوں کا اسٹائل بھی چینج تھا ۔۔۔۔۔۔ مطلب ڈیوٹی جوائن کر چکا تھا ۔۔۔۔۔ لوگوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کے لئے اپنا حلیہ بدل لیا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کو ہیلمٹ میں پہچان نہیں پایا تھا ۔۔۔۔۔ لوگوں کو شاہزیب کے راستے سے ہٹانے لگا ۔۔۔۔پھر راستہ ہموار کر کے اس کے پاس پہنچ کر اس کے گرد اپناگھیرا بڑھا دیا

“سر پلیز آپ آئیں ۔۔۔۔ “شاہزیب سے یہ کہہ کر پھر سے آگے بڑھنے والی بھیڑ کو دھکیلنے لگا ۔”

“واہ میرے مولی پیسے میں کتنی طاقت رکھی ہے تو نے ۔۔۔۔کل تک یہ شخص مجھے ڈنڈے مار رہا تھا آج میرے ہی بچاؤں کے لئے لوگوں کے دھکے لگا کر میرا رستہ ہموار کرنے میں مگن ہے اگر اسے خبر ہو جائے کہ میں کون ہوں تو ۔۔۔۔سر سر کہتے لب اسکے سل کر رہ جائیں ۔۔۔۔۔سارا مایہ کا کھیل ہے ۔۔۔۔جس کی لاٹھی اسکی بھنس والی مثال ہے ہمارے ملک کی ۔۔۔۔۔شاہزیب تیز قدم بڑھاتا ہوا وہاں سے نکل کر اندر ہال نما کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

اس بار اسے ایک شو کے پانچ لاکھ ملا تھا ۔۔۔۔ جو قیوم صاحب کی کے لمحے گئے کروں کے مقابلے ۔ہں آٹے میں نمک کے برابر تھا ۔۔۔۔۔

اگلے مقابلے کے لئے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کے سب لڑکے اکھٹے ہو رہے تھے یہ سب ایک بڑے پیمانے ہونے منعقد ہونے والا شو تھا ۔۔۔۔۔

لاہور ۔۔۔ کراچی ۔۔۔۔ملتان ۔۔۔فیصل آباد ۔۔۔۔ پنڈی ۔۔۔۔اسلام آباد سب جگہ سے لڑکے اکھٹے ہو رہے تھے ۔۔۔۔ اور اس بار کا شو لائیو اسپوٹ چینل پر دیکھایا جانا تھا کراچی سے ہیلمنٹ بوائے کے نام سے شاہزیب سرفہرست تھا ۔۔۔۔۔قیوم صاحب کے تو پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔۔۔۔

کب سوچا تھا انہوں نے کہ یوں پزیرائی ملے گی ۔۔۔۔۔قیوم صابر خود شاہزیب کے ساتھ اسلام آباد گئے تھے

اور اس بار بھی شاہزیب کا ستارہ عروج پر تھا ۔۔۔۔۔ سب مقابلوں میں شاہزیب جیت چکا تھا ۔۔۔۔۔سامنے اسٹیج پر ٹرافی لیتے ہوئے ۔۔۔۔۔ شاہزیب کی ہیلمنٹ کے ساتھ تصاویر لیں گئیں تھیں وہیں بیرونے ممالک سے آئے اسی فیلڈ سے منسلک لوگوں کو شاہزیب کی کارکردگی پسند آئی تھی ۔۔۔۔۔ دس لاکھ کا چیک دیکھ کر شاہزیب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔

******……..

نیناں پہلی بار منگنی کا جوڑا دیکھ کر ٹھٹکی تھی ۔۔۔۔اسکے بعد انگوٹی دیکھ کر سب دوستوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سراہا تھا

“نیناں بہت پیاری رنگ ہے ۔۔۔۔ رابی کی آنکھیں چمکیں تھیں

“سونے کی لگتی ہے مگر نگ زرقون کا ہو گا “دوسری دوست نے رائے دی

“نہیں اسٹوپٹ ۔۔۔۔دائمنڈ ہے ۔۔۔۔صاف۔ نظر آ رہا ہے”رابی نے دوسری لڑکی کی ترید کرتے ہوئے کہا

“نیناں نے کو شک تو ہوا تھا لیکن رابی کی بات پر دوبارہ سے غور سے رنگ دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

پھر ہوٹل کے بل پر بختیار صاحب کی بحث پر بھی چپ تھی ۔۔۔مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔

کہ قصہ کیا ہے لیکن