One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 25
Rate this Novel
One Wheeling Episode 25
One Wheeling by Umme Hani
“باسم ک رنگ اڑا تھا ۔۔۔دل بھی تھما تھا سامنے زمان صاحب کی پیشانی کے بل مزید گہرے ہوئے تھے ۔۔۔
“باسم میاں سب خیر تو ہے نا “
“نو سر خیر نہیں ہے مجھے ابھی گھر جانا ہے ایک ایمرجنسی ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔۔”باسم کا بس نہیں چل رہا تھا فورا سے بنا کوئی بات کئے وہاں سے چلاجائے ایک منٹ کا بھی وقت ضائع نا کرے ایک ایک منٹ
قیمتی تھا ورنہ اس کی ذرا سی تاخیر ایک نیا طوفان بھرپا کر دیتی ۔۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے کہیں تمہاری والدہ کی طعبیت تو خراب نہیں ہو گئ “زمان صاحب جانتے تھے کہ باسم اپنی والدہ کے معاملے میں بہت حساس ہے ۔۔۔۔۔
“نوسر کچھ اور مسلہ ہے میں کل بتاؤں گا ابھی مجھے اجازت دیں “باسم نے خود پر قابو پا کر کہا ۔۔۔۔
“میں ساتھ چلو تمہارے ۔۔۔تم وجہ بھی نہیں بتا رہے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے “۔۔۔۔۔۔۔زمان صاحب باسم کی خاموشی پر گھبرا گئے تھے
“ایسی بڑی بات نہیں ہے میری امی کے کسی عزیز کی ڈیتھ ہو گئ ہے ۔۔۔بس ۔۔۔۔اور کچھ نہیں وہ بہت پریشان ہیں “باسم نے بہانہ بنایا جس سے زمان صاحب کو تسلی ہو جائے ورنہ اگر وہ بھی ساتھ چلے آتے تو واقع خون خرابہ ہی ہو جاتا ۔۔۔۔۔
“اوہو اللہ رحم کرے تم جاؤں جلدی سے اپنی والدہ تو تسلی دو جا کر “باسم کو بس اجازت ہی طلب تھی جلدی سے انکے کمرے سے نکلا تو سامنے سوجی ہوئی آنکھیں لئے عاتقہ بیگم کھڑی تھیں
“اسلام علیکم آنٹی ‘”مروتا باسم کو رکنا پڑا
“واعلیکم اسلام جیتوں رہو بیٹا میں تو تمہارا احساس نہیں اتار سکتی ۔۔۔۔تم نے کس مشکل گھڑی میں ساتھ دیا ہے ہمارا ۔۔۔۔”
“نہیں آنٹی میں نے کچھ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔”
“بیٹا اب کیسا ہے وہ زخموں سے خون تو نہیں بہہ رہا رات ٹھیک سے سو گیا تھا نا ۔۔۔۔درد سے کراہ تو نہیں رہا تھا ۔۔۔۔دودھ تو پیاتھا اس نے سونے سے پہلے ہ
۔۔کھانا پیٹ بھر کر کھایا تھا کہ نہیں “کتنے سوال تھے عاتقہ بیگم کے پاس شاہزیب کے لئے ۔چہرے پر ے چینی اضطراب تھا ۔۔۔باسم نے غور سے انکے ستے ہوئے چہرے کو دیکھا ۔۔۔
“جی وہ ٹھیک ہے زخم بھی ٹھیک ہو رہے ہیں ۔۔۔۔رات میری امی نے خود اسے گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر دی تھی ۔۔۔۔کھانا بھی اس نے کھا لیا تھا ۔۔۔۔آپ کیوں فکر کرتی ہیں ۔۔۔”باسم کو دکھ پہ ہونے لگا اپنی دو دن کی محبت کی خاطر ماں کو کس امتحان سے گزار رہا تھا
“فکر تو ہو گی نا بیٹا ۔۔۔۔میرے دل کا ٹکڑا ہے میرا شاہزیب ۔۔۔۔کل سے اسکی فکر ستائیے جا رہی ہے ۔۔۔۔اللہ تمہیں خوش رکھے آباد رکھے بس کسی طرح سے سمجھاؤں اسے کے اپنی ضد چھوڑ دے اور معافی مانگ لے اپنے باپ سے “عاتقہ بیگم کے آنسوں خشک نہیں ہو رہے تھے
“جی میں سمجھاؤں گا آنٹی مجھے کہیں ضروری پہنچنا ہے ۔۔۔میں جاؤں “باسم نے گھڑی دیکھتے ہوئے پوچھا جان تو اسکی اٹکی ہوئی تھی
“ہاں ہاں جاؤں ۔۔۔اگر ہو سکے تو میری رات کو شاہزیب سے بات کروادینا کل سے اسکی آواز نہیں سنی ہے “٫وہ سسکتے ہوئے گویا ہوئیں تھیں
“جی کیوں نہیں میں پہنچتے ہی بات کروادونگا ۔۔۔۔۔۔ “باسم نے انہیں تسلی دی اور تیز قدموں سے باہر نکل گیا
*******……..
نیناں خاموشی سے بیٹھی روتی رہی۔۔۔۔
شاہزیب نے سیفی کو فون کر کے باسم کے گھر پتہ سمجھایا ۔۔۔۔ نیناں کی سسکیوں نے شاہزیب کو بے چین کرنا شروع کر دیا تھا کافی دیر چپ رہا گاہے بگاہے اسے دیکھتا رہا مگر جب وہ بتدریج روتی رہی تو زچ سا ہونے لگا گا
“,یہ رونا بند کرو سمجھی ۔۔۔۔ورنہ گلہ دبا دوں گا تمہارا “شاہزیب نے سختی سے کہا نیناں کا رونا اور بھی تیز ہو گیا
“مجھ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔میرے گھر جانا ہے ۔۔۔”نیناں بے تحاشہ روتے ہوئے بولی
“ہاں تو چلی جانا میں کون سا تمہیں اپنے پاس بیٹھائے رکھوں گا ۔۔۔بس نکاح ہونے دو ایک بار خود چھوڑ کر آؤں تمہیں پوپس کے پاس “
“شاہزیب ۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑنے لگی
“مجھے نہیں کرنا نکاح “شاہزیب کے لہجے میں ذرا سی نرمی پا کر نیناں نے التجا کی
“۔نیناں میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ سوچ کر میرے ساتھ چلنا ۔۔۔۔ کیونکہ اگر میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔۔۔۔۔ نکاح تو تمہیں کرنا پڑے گا چاہے خوشی سے کرو یا یوں روتے دھوتے ۔۔۔۔”شاہزیب کے حتمی لہجے پر نیناں نے دھیرے سے کہا
“میں انکار کر دو گی “
“میں جان لے لوں گا تمہاری اگر ذرا سا بھی کوئی ڈرامہ کیا تو ۔۔۔۔”شاہزیب کی گھرکی پر اسے آنکھوں سے پھر برسات بہنے لگی
“صاحب جی اب کہاں جاوں “ڈرائیور نے بیچ میں مداخلت کی
“تم تو چپ رہو کہا ہے نا سیدھا سیدھا چلو “شاہزیب کی جھاڑ کر وہ خاموش ہوگیا
“سن رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں تم سے”
“”شاہزیب ۔۔آپ سمجھتے کیوں نہیں میں نہیں کر سکتی “”
“صاحب جی وہ سامنے “ڈرائیور پھر سے بولا تو شاہزب بھڑک اٹھا
“ابے چپ ہو جا میرے باپ یا تو میں اسکا رونا سن سکتا یوں یا پھر تیرا “شاہزیب زچ ہوا تھا
“پہلے میرا سن لیں ورنہ ہم تینوں کی کوئی سننے والا نہیں رہےگا “
“کیا مطلب “نیناں نے نا فہم انداز سے ڈرائیور سے پوچھا
“صاحب سیدھا سیدھا جاتے جاتے سارے راستے ہی ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔۔آگے دیور آ گئ ہے ۔۔۔کہیں تو گاڑی دائیں۔ جانب موڑ لوں یا پھر سیدھی دیور پر ٹھوک دوں ۔۔۔۔”ڈرائیور بھی اکتایا ہوا تھا اس لئے اسی لہجے میں بولا
“گاڑی رکو “شاہزیب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا نیناں کے رونے دھونے نے یہ تک بھلا دیا کہ ڈائیور کو راستہ بھی بتانا تھا ۔۔۔۔شاہزیب نے اسے راستہ سمجھایا باقی کا راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔۔
******
خرم کو جب جمی نے ساری صورت الحال سے آگاہ کیا تو وہ پریشان سا ہو گیا ۔۔۔
“شاہوں کو ضرورت کیا تھی یہ سب کرنے کی اس لڑکی کا باپ گھات لگائے بیٹھا کہ کب موقع
ملے تو شاہوں پر دو دو ہاتھ کرے ۔۔۔بڑی مشکل سے وہاں بات سنبھالی تھی ہم نے لیکن سب بیڑا غرق کر دیا شاہوں نے ۔۔۔اب جو اس ۔نے کیا ہے ۔۔۔۔مروائے گا اپنے ساتھ ہمہیں بھی ۔۔۔۔”خرم سر ہر ہاتھ مارے پریشان تھا ہو رہا تھا
“اب بتا نکاح خواہ کا کیا کروں “سیفی کو پڑی تھی
“تو چل میرے ساتھ میں سمجھاتا ہوں اسے “
“نہیں بھئ میں ایسے نہیں جا رہا ۔۔۔اگر نکاح خواہ کے بغیر گیے تو وہ ہمہیں ہی مولوی بنا کر ہم سے ہی اپنا نکاح پڑھوائے گا اور مجھے تو پورے چھ کلمے بھی یاد نہیں ہیں “سیفی کی بے تکی ہانکنے ہرخرم مزید تپا تھا لیکن بات اسکی بھی ٹھیک تھی شاہزیب غصے میں سنتا ہی کب تھا کسی کی
“یہ اپنی مسجد کا ہی پکڑ لیتے ہیں “جمی نے مشورہ دیا اس وقت تینوں اپنے اپاٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے
‘ہاں تا کہ شاہزیب کے باپ کو پتہ چل جائے جمی تو تو منہ بند ہی رکھا کر اپنا ۔۔۔۔”خرم نے سنجیدگی سے جمی کو ڈپٹا
“اچھا چلو تو راستے سے پکڑ لیں گئے کسی کو “سیفی نے خرم کے خطرناک تاثرات دیکھ کر بات کو رفع دفع کیا۔۔۔۔
******……..
سب لوگ تقریبا ایک ہی ٹائم پر باسم کے گھر آگے پیچھے پہنچے تھے ۔۔۔۔شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے اتارا اسی وقت جمی اور خرم کی بائیک وہاں رکی تھی جمی کے پیچھے ایک بزرگ سا نکاح۔ خواہ بیٹھا تھا جو اتنا عمر رسیدہ تھا کہ کمر پوری جھکی ہوئی تھی ۔۔خرم کے ساتھ بائیک پر سیفی بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔بائیک رکتے ہی سیفی جلدی سے اترا اور بزرگ نکاح خواہ کو سہارے سے نیچے اتارا ۔۔۔سفید دھوتی کے اوپر سفید کرتا سفید ہی ٹوپی پاؤں میں ہوائی چپل جھکی ہوئی کمر کانپتے ہاتھ اور جسم جیسے لرزا طاری تھا بڑھاپے کی وجہ سے ۔۔۔۔نیںناں اپنا رونا دھونا بھول کر انہیں حیرت سے دیکھنے لگی جو تقریبا پاؤں قبر میں رکھنے والے لگ رہے تھے ۔۔۔شاہزیب بھی انہیں دیکھ کرحیران ہوا تھا ۔۔۔۔شاید انکی نظر بھی کافی کمزور تھی ۔۔۔۔۔ادھر ادھر جانے کیا دیکھ رہے تھے
“او بچوں کس کا نکاح پڑھوانا ہے ۔۔۔۔یہاں تو کوئی ڈول ٹمکا ہی نہیں ہو رہا ۔۔۔نا کوئی کناتئیں لگیں ہیں نا مہمان نظر آ رہے ہیں “بزرگ نے پوری گلی کو آخر تک دیکھ کر پوچھا
“سب کچھ ہے بابا جی ۔۔آپکی نظر کی عینک گھر رہ گئ ہے اس لئے نظر نہیں آ رہا آپ کو “جمی کی بات پر انہیں جیسے تسلی نہیں ہوئی تھی
“چلو رہ گئ ہو گی پر کان تے کھلے ہیں میرے واجے وجوں کی آواز تو آتی ۔۔۔۔”بزرگ نے کانوں کو مزید کھنچ کر کھول کر کچھ سننے کی کوشش کی
“یہ کیا اٹھا لائے ہو تم لوگ “شازیب نے انکا حلیہ دیکھ کر پوچھا
“بھئ شکر کر یہ بھی مل گیا ہے نکاح کرنے والا ورنہ اتنی ایمرجنسی میں کوئی مولوی تیار نہیں ہورہا تھا ۔۔۔۔سو سو سوال پوچھ رہے تھے
“کیا گارنٹی کے کہ نکاح سے پہلے تک یہ زندہ بچ جائے گا ۔۔۔اپنے پیروں پر کھڑا تو ہو نہیں پا رہا یہ ۔۔۔۔”
شازیب اب بھی اس نیم مردہ بزرگ کو دیکھ رہا تھا جو سارا بوجھ جمی اور سیفی کے کندھوں پر ڈالے کھڑا تھا
“فی الحال تو یہیں ہے کرنا ہے تو کر ورنہ خود جا کر لے آ”سیفی نے بزرگ کا آدھا وزن اپنے کندھے پر لاد رکھا تھا اس لئے زچ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
‘اچھا اچھا ٹھیک ہے “شاہزیب نے گھر کا دروازہ پورے زوروشور سے بنایا ۔۔۔۔رائمہ کچن میں برتن دھو رہی تھی دروازے پر آندھی طوفان کی طرح درواز،ہ بجنے پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تیزی سے دروازے کی طرف لپکی ۔۔۔۔
باسم نے تو کبھی دروازہ یوں نہیں بجایا تھا ۔۔۔۔۔
دروازے کے اتنی زور سے بجنے پر رائمہ نے بنا پوچھے ہی دروازہ کھول دیا ۔۔۔سامنے شاہزیب کے ساتھ اسکی پوری فوج دیکھ کر رائمہ پریشان ہوئی تھی شاہزیب نے ایک لڑکی کا ہاتھ زور سے پکڑ رکھا تھا جو اس سے روتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔پیچھے ایک سفید لباس میں ضعیف سے بزرگ تھے جنہیں دونوں نوجوانوں نے اپنے کندھوں کے سہارے پکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔۔اور اسکے علاؤہ دو لڑکے اور تھے ان میں سے ایک نے ٹوپی پہن رکھی تھی ۔۔۔۔
رائمہ کو یوں پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھور کر دیکھتے ہوئے اور دروازے پر ایستادہ کیے دیکھ کر شاہزیب نے اسے پیچھے ہٹنے کے لئے کہا
“آپ پیچھے ہٹنے کی زحمت کریں گی “رائمہ شاہزیب کی پکار پر چونکہ تھی فورا سے پیچھے ہٹ گی شاہزیب سمیت پوری پلٹن اندر داخل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔دروازے کے شور سے رابعہ بیگم اور رباب بھی صحن میں پہنچ گئیں تھیں شاہزیب کے ساتھ سب انجان سے لوگوں کو دیکھ کر وہ پریشان سے ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔
جمی اور سیفی نے با مشکل بزرگ سمیت خود کو گھسٹ کر تخت تک لائے اور انہیں تخت پر پٹخا ۔۔۔پھر ہاتھ جھاڑ کر ایسے لمبے لمبے گہرے سانس بھرے جیسے کوئی معارکہ سر کیا ہو ۔۔۔۔پھر ہاتھ اپنی کمر پر رکھ کر اسے سیدھا کیا جو بزرگ کے بھاری وجود کو اٹھانے سے اکڑ گئیں تھیں
“بس دیکھنے ہی بڈا ہے سالا وزن تو من دو من کا ہے اس کے اندر دو منٹ میں جان ہلکان کر دی میری “سیفی منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔نیناں شاہزیب کے ہاتھ اپنی کلائی چھڑوانے کے لئے پھر سے مچلی تھی
“شاہزیب میرا ہاتھ چھوڑیں ۔۔۔۔۔کہاں لیکر آئیں ہیں مجھے “ایک پرانا سارا محلہ اور سمنٹ کے فرش دیکھ وہ پریشان ہوئی تھی اسے لگا تھا شاہزیب اسے اپنے گھر لیکر جائے گا ۔۔۔۔
“چپ رہو دو منٹ “شاہزیب نے اسے آنکھیں دیکھائیں ۔۔۔پریشان تو وہ نکاح خواں کو دیکھ کر ہو رہا تھا تخت تک گود میں آنے کے باوجود بری طرح ہانپ اور کھانس رہا تھا ۔۔۔۔
“صاحب جی اگر مناسب سمجھیں تو پیٹرول کے پیسے ہی دیدیں ۔۔۔۔کرایہ بے شک رہنے دیں ۔۔۔۔میری گاڑی بامشکل پیٹرول پمپ تک ہی پہنچے گی ۔۔۔۔ “ڈرائیور نے ملتجی لہجے میں کہا
“اچھا اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔خرم اسے کرایہ دے کر فارغ کر “شاہزیب نے مدافعانہ انداز سے کہا اور نیناں کو سیدھا باسم کے کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔۔رابعہ بیگم کو اپنا ہی گھر اجنبی لگ رہا تھا ہو کیا رہا تھا یہ سب انہیں نے متعب سی نظروں سے رائمہ کو دیکھاوہ بھی نا فہم انداز سے ماں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔رباب بھی چپ تھی ۔۔۔۔۔ سب انہیں نظر انداز کیے بس آپس میں ہی محو گفتگوں تھے جیسے وہ لوگ اپنے ہی گھر میں مہمان ہوں
بزرگ کا کھانسی کا دورا ختم ہوا تو دومنٹ تک انہوں نے اپنے گلے کو کھنکھار کر صاف کیا ۔۔۔پھر سیفی کا ہاتھ کھینچا
“او پتر۔۔۔۔۔منہ خشک سا ہو گیا ہے ۔۔کوئی بوتل شوتل ہی منگوا لے “بزرگ کی فرمائش پر سیفی تلملا سا گیا تھا
“کھانسی کا شربت نا منگوا دوں ۔۔۔۔۔سانس نکل نہیں رہا ۔۔۔۔اور منہ کے چسکے سارے پورے کرنے ہیں “سیفی کے کندھے میں ابھی بھی درد ہو رہا تھا اس نے حیرت میں ڈوبی ہوئی رابعہ بیگم کو مخاطب کیا
“آنٹی پانی وانی ہو گا آپکے گھر “
“ج۔۔جی بیٹا ۔۔۔روبی سب کو پانی پلاو “رابعہ بیگم گھبرائیں ۔۔۔ رباب جو کچن کے پاس ہی کھڑی تھی فورا سے اندر چلی گی
“او بارات پہنچ گئ ہے “بزرگ نے پورے صحن کو آنکھیں پھاڑے پھاڑ کر بارات ڈھونڈنے کی کوشش کی
جمی نے کھا جانے والی نظروں سے بزرگ کو دیکھا۔۔۔۔
“او جی مجھے تو پیسے دے کر فارغ کرو “ڈرائیور نے پھر سے دہائی ڈالی خرم نے اسے زچ ہوتے ہوئے دیکھا
“کتنے پیسے بنے ہیں تیرے “خرم نے جیب سے بٹوا نکال کر اس سے پوچھا
“یہی کوئی تین ہزار “خرم کی آنکھیں پھٹی تھیں
“ہیں ۔۔۔تین ہزا۔۔۔۔ر۔۔۔ ابے کیا پورا کراچی گھما کے لایا ہے “,خرم کی کرایہ سن کر حلق سے چیخ نکلی تھی
“ہاں جی سیدھا سیدھا کہہ کے کراچی کی آخری دیوار پر جا کرگاڑی روکوائی تھی میری ۔۔۔۔پھر وہاں سے یہاں تک کے اتنے ہی بنتے ہیں “ڈرائیور بھی ناگواری سے بولا
“اور نکاح کب پڑھوانا ہے ۔۔۔۔۔کھانے میں۔ بریانی قورمہ تو ملے گا نا ۔۔۔۔دیکھوں جی میں بڈا بندہ کتنا کھا سکتا ہوں بس دو چار نان سے میرا پیٹ بھر جاتا ہے ۔۔۔۔اس سے زیادہ کھا لوں تو بدہضمی ہو جاتی ہے ۔۔۔باقی کا کھانا مجھے شوہر میں ڈال کے دینا ۔۔۔۔۔”بزرگ کی بے تکی باتوں سے سب ہی تنگ اور عاجز آ چکے تھے ۔۔۔۔
“آپ کو سب کچھ ملے گا بس ذرا چپ ہو کر بیٹھ جائیں “خرم نے دور سے ہی انہیں ٹوکتے ہوئے کہا ۔۔۔
“او جی مجھے تو فارغ کریں “ڈرائیور پھر سے بولا خرم نے کھا جانے والے انداز سے اسے دیکھا پھر بٹوے سے سو پچاس اور دس بیس والے نوٹ ایک ایک کر کے نکال کر اسے پکڑانے شروع کیے
“گنتے رہو کتنے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔”ڈرائیور نے نوٹ گننے شروع کیے جو پانچ سو پر جا کر رک گئے ۔۔۔۔
“باقی “ڈرائیور نے چند نوٹوں کے بعد جب بٹوا بند ہوتے دیکھا تو پوچھا
” تمہیں پیٹرول کے پیسے دیے ہے نا بس اتنے ہی تھے میرے پاس ۔۔۔چلو اب چھٹی کرو “ڈرائیور منہ بناتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
“کون ہیں آپ لوگ ۔۔۔۔اور یہاں کیوں جمع ہیں “رائمہ نے ہی کچھ ہمت جتائی اور خرم سے مخاطب ہوئی فی الحال تو اسے وہی معقول لگا تھا سب میں
“کیوں آپکو نہیں پتہ ۔۔۔۔”خرم نے تپے ہوئے جواب دیا
“نہیں “
“واہ بھئ کیا کہنے ہیں آپکی کی لاعلمی کے ۔۔۔۔۔محترمہ آپ کے گھر میں ابھی کچھ دیر میں نکاح کا فریضہ ادا ہونے والا ہے “خرم نے حیرت سے اسے دیکھ کر کہا
“نکاح “تینوں ماں بیٹیوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا ۔۔۔۔رباب کا ہاتھ بزرگ کو پانی دیتے ہوئے وہیں رک گیا
*****…….
شاہزیب نے نیناں کو کمرے
میں لے جا کر سیدھا اسے بیڈ پر پٹخا تھا پھر کمرے کادروازہ بند کر کے لوک کرنے لگا ۔۔۔نیناں فٹافٹ سے اٹھ کر اسکے پاس پہنچی تھی
“شاہزیب “ڈرتے ہوئے اسے پکارا
شاہزیب چٹکنی لگا کر پلٹا تو نیناں سامنے ہی کھڑی تھی ۔۔۔۔اس ہی پکار رہی تھی
“اب کیا تکلیف ہے تمہیں “وہ غصے سے بولا نیناں کے آنسوں میں تیزی آئی
” آپ یہ سب مت کریں پوپس زندہ نہیں۔ جوڑیں گئے آپ کو “نیناں نے منمناتے ہوئے کہا اندر سے یہ خوف بھی کھائے جا رہا تھا بختیار صاحب کا ردعمل جان لیوا ہی ہو گا ۔۔۔۔
“بڑی فکر ہو رہی ہے تمہیں میری۔۔۔۔ کیوں نیناں ۔۔۔۔ مرنے دو مجھے اپنے باپ کے ہاتھوں پھر کر لینا اس چھچھوندر سے شادی ۔۔۔۔۔ “شاہزیب کی بات پر تڑپ کر نیناں نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔چہرے پر زخموں کے علاؤہ کئ جگہ چہرا نیلا ہو رہا تھا ۔۔۔نیناں کا دل مغموم ہوا ۔۔۔۔کیا تھا یہ شخص اتنی مار کھانے کے بعد گھر سے بے گھر ہوتے ہوئے یہ سوچے سمجھے بنا کہ اس کے اس اقدام کا انجام کیا ہو گا اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا نکاح پر بھی باضد تھا سارے انتظامات بھی کر چکا تھا ۔۔۔۔میں کبھی اسے سمجھ نہیں سکتی ۔۔۔نیناں کی محبت نے پھر سے جوش مارا تھا ۔۔۔۔۔بے اختیار ہی شاہزیب کے زخموں پر ہاتھ رکھنے لگی مگر اگلے ہی لمحے ہاتھ پیچھے جھٹکا گیا تو ہوش میں آئی تھی
“میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔کچھ دیر میں آتا ہوں اندر نینان مجھے اب انکار نہیں چاہیے چپ چاپ شرافت سے سائن کر دینا “یہ کہہ کر شاہزیب نے دروازہ کھولا اور باہر نکلتے ہی باہر سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔
باہر رابعہ بیگم رائمہ اور رباب تو ہونقوں کی تصویر بنی ہوئی۔ تھیں شاہزیب کے صحن میں آتے ہی رابعہ بیگم اس کے قریب آئیں
“یہ سب کیا ہے بیٹا تم اس لڑکی کو زبردستی اس کے گھر سے اٹھا کر نکاح کرنے کے لئے لائے ہو “۔۔۔۔۔رابعہ بیگم ابھی بھی بے یقین تھیں
“اٹھا کر اور بھاگا کر نہیں لایا ۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔شادی بھی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔بس ہمارے گھر والوں کو اعتراض تھا باسم عبدالرحمان جانتا ہے سب کچھ اور مجھے وہ اسی وعدے کے ساتھ اپنے ساتھ لایا تھا کہ میری شادی نیناں سے کروا دے گا ۔۔۔۔” شاہزیب کی بات سن کر رابعہ بیگم کا ہاتھ سینے پر گیا تھا رائمہ پریشانی سے انکی طرف بڑھی ہے
“امی آپ ٹھیک تو ہیں “رابعہ بیگم کویقین نہیں آ رہا تھا کہ باسم نے اتنی بڑی بات ان سے چھپائی تھی یہ تو سیدھا سیدھا پولیس کیس تھا ۔۔۔۔
“باسم کو فون کر کے بلاؤں رائمہ “رابعہ بیگم کو اب بھی یقین نہیں تھا کہ انکا فرما بردار ہونہار بیٹا ایسی اوچھی حرکت بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔
“مینوں وی کجھ دسوں مسلہ کی ہے ۔۔۔۔۔”نکاح خواں سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“خرم ان سے نکاح کے کاغذات فل کرواں “شاہزیب کی بات پر رائمہ غصے سے تلملاتی ہوئی اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
“دیکھوں مسٹر جب تک باسم نہیں آ جاتا تم کچھ نہیں کرو گئے ۔۔۔۔”شاہزیب نے بڑی حیرت سے اسے دیکھا
“کیوں جی باسم اگر رات کے بارہ بجے آئے گا توآپ کاکیا خیال ہے میں بیٹھا رہوں گا یہاں ….مجھے نکاح کے بعد نیناں کو اسکے گھر۔ بھی چھوڑنے جانا ہے ۔۔۔۔ٹائم نہیں ہے میرے پاس “شاہزیب نے بھی تن کر جواب دیا رائمہ اسے تجلی نظروں سے دیکھا کیسا ڈھیٹ اور نڈر تھا وہ لڑکا ذرا جو لحاظ مروت ہو اس میں ۔۔رایمہ دانت بیچے اور غصے سے بولی
“تو برائے کرم آپ یہاں سے تشریف لے جائیں کوئی نکاح نہیں ہو گا یہاں ۔۔۔۔۔پولیس تو ہم پر کیس بنا دے گی محلےمیں بری عزت ہے ہماری جیسے آپ دو کوڑی کا کرنے پر تلے ہوئے ہیں “
“یہ بات آپ باسم سے پوچھیے گا ۔۔۔۔میرے پاس اتنا بھیجا نہیں ہے کہ آپکے فضول سوالوں کا جواب دوں ۔۔۔۔”شاہزیب نے مدافعانہ انداز سے کہا پھر خرم سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔
“تم کیا شکل دیکھ رہے ہو خرم جلدی کرو جو کرنا ہے ۔۔۔۔یہ نا ہو نیناں کا باپ ڈھونڈتا ہوا یہان آن پہنچے “خرم جو رائمہ کی گل فشانیاں سننے میں مصروف تھا شاہزیب کے ٹوکنے پر جلدی سے برزگ کے پاس آگیا
“نکاح نامہ کہا ہے بزرگو”بزرگ کو جیسے کچھ یاد آیا
“اوئے ہوئے شاید گھر نا رہ گیا ہوئے ۔۔۔۔”وہ بزرگ اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کچھ ڈھونڈنے لگا شاہزیب نے سیفی کو یوں گھورا جیسے اس کا سر پھاڑ دے گا
“کہاں سے اٹھا کر لائے ہو انہیں ۔۔۔۔اور کوئی نہیں ملا تھا تمہیں ۔۔۔۔۔۔”شاہزیب ضبط کرتے ہوئے بولا
“مل گیا نکاح نامہ”جیب میں سے تہہ شدہ پرچا ہوا میں لہراتے ہوئے بزرگ یوں خوش تھا جیسے انعام جیت گیا ہو
پھر اسے کھول کر رباب کی طرف دیکھ کر بولا
“پتر پین ہے تیرے پاس “
“جی “
“جا لیکر لے آ پھر میرا گھر رہ گیا ہے “بزرگ کے کہنے پر رباب جانے لگی تو رائمہ نے اسے روک دیا
“روبی تم کہیں نہیں جاؤں گی “رائمہ نے رباب کو روک دیا
شاہزیب نے ایک غصیلی نظر رائمہ پر ڈالی سیفی نے اپنی جیب سے پین نکال کر بزرگ کے کانپتے ہاتھ میں پکڑایا
“میں ابھی فون کرتی ہوں باسم کو ‘”رائمہ کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا
“ہاں ہاں جلدی کریں تا کہ سنبھالے آپ کو آ کر ہماری تو بس کی نہیں ہیں آپ ۔۔۔۔ویسے ۔کچھ اپنے بھائی سے ہی سیکھ لینا تھا ۔۔۔۔۔”شاہزیب کا انداز اب بھی لا پروا تھا رائمہ نے تاسف سے اسے دیکھا اور اندر چلی گی
وہ بزرگ اب پرچے کھولے سیفی کے دیے ہوئے پین سے لکھنے لگا
“لڑکے کا نام ؟
“شاہزیب “
“اچھا اچھا ۔۔۔۔شین الف شا ۔۔۔۔۔۔” بزرگ کی حرف تہجی سن کر شاہزیب کا خون ابلنے کی حد تک کھولنے لگا تھا
“جمی تم لکھوں یار یہ تو لکھنے میں صبح لگا دیں گئے ۔۔شاہزیب جتنی جلدی چاہ رہا تھا اتنی ہی دیر لگ رہی تھی ۔۔۔۔جمی نے نکاح نامہ لیا اور شاہزیب سے پوچھ پوچھ کر فل بھی کر دیا ۔۔۔۔
“حق مہر میں کیا لکھوں “جمی نے پوچھا کچھ توقف کے بعد شاہزیب نے جواب دیا
“پچیس ہزار لکھ دو بس اتنی ہی سیونگ ہے میرے پاس “
نکاح نامے پرسائن کرونے کے لئے ۔شاہزیب نے وہ پرچہ لیا اور اندر لے گیا پہلے نیناں کے دستخط کروانے تھے نیناں اب بھی بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی شاہزیب نے دروازہ بند کیا تو سیدھی ہو کر بیٹھ گئ شاہزیب کافی سنجیدہ تھا پیر اور پین بیڈ پر رکھے خود بھی اسکے قریب بیٹھ گیا
“سائن کرو نیناں “نیناں کچھ پیچھے کو کھسکی
“نہیں شاہزیب ۔۔۔میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔۔۔اتنا بڑا دکھ پوپس برداشت نہیں کریں گئے “بھرائی ہوئی آواز سے بولی
“نیناں جلدی کرو وقت ضائع مت کرو ۔۔۔۔۔”شاہزیب کا لہجہ سخت ہوا
“دیکھوں نکاح کیے بغیر تمہیں تمہارے گھر نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔۔۔بیٹھی رہوں رہوں رات بھر یہاں ۔۔۔۔۔”شاہزیب نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی
“شاہزیب پلیز مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی “
دیکھو جو ڈرامہ تم ریسٹورنٹ میں رچا رہی تھی ۔۔۔۔وہ اب میرے سامنے مت دوہراوں ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر نیناں کا ایک رنگ آ کر گزرا تھا
“کونسا ڈرامہ “
“یہی کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتی “شاہزیب کے منہ سے سچ سن کر نظریں بدل رہی تھی
“یہ سچ ہے “نیناں کی آواز میں دم نہیں تھا
“جھوٹ ہے “اور شاہزیب اب بھی پر یقین تھا
“ن۔ن۔نہیں۔ شاہزیب یہی سچ ہے “
“سچ ہےیہ ۔۔۔۔ چلو پھر میری آنکھوں میں دیکھ کر یہ سچ بولو ابھی چھوڑ آؤں گا تمہیں واپس بنا نکاح کیے “عجیت سا اعتماد تھا اسکی آنکھوں میں نیناں کے لئے یہ سب سے مشکل امر تھا نیناں ۔۔۔۔ یہ بھی بڑی آزمائش ہی تھی ۔۔۔نیناں نے اپنی آنکھیں بند کیے اپنی ہمت مجتمع کی اور شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں اسکی محبت کا جہان آباد تھا ۔۔۔۔دل کی دھڑکنوں نے بھی اسکی محبت کی تصدیق اپنی تیز رفتار سے دینی شروع کی
“ٹل می ناؤ نیناں وہ بولو جو مجھ سے تمہاری آنکھیں کہہ رہیں ہیں “شاہزیب کو اپنی جیت اسکی آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی
“شاہزیب میں آپ سے ۔۔۔۔۔۔۔”لبوں نے جھوٹ بولنے سے انکار کیا تھا ۔۔۔۔لفظ جیسے گم سے ہو گئے تھے شاہزیب کی آنکھوں میں اسکے لئے وارفتگی تھی محبت تھی جنون تھا ۔۔۔۔۔جتنی دلجمعی سے وہ دیکھ رہا تھا نیناں کو لگا کہ کچھ دیر یونہی دیکھے گا تو وہ کھو سی جائے گی ان میں ۔۔۔۔۔
“تم مجھ سے کیا “لہجے میں ۔حبت گھلی دی نیناں کا دل تھما تھا لہجہ لکھڑانے لگا تھا
“م۔۔میں ۔۔۔آآپ سے ۔۔۔۔۔”گلے میں گرہیں پڑیں تھیں لفظ چاہ کر بھی ادا نہیں ہو رہے آنکھوں سے آنسوں رواں تھے
“نیناں کیوں جھوٹ بول رہی تھی سچ کہو مجھ سے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے دل لگی تو نہیں کر رہی تھی دل لگی کرنے والوں کی آنکھیں یوں نہیں بہتیں۔۔۔۔ ریسٹورنٹ میں تمہارا گھبرانا نروس ہونا پیچھے چھپنا مجھ سے کترانا ۔۔۔میں سمجھ گیا تھا کہ ضرور کچھ ہوا ہے۔۔۔۔ تمہاری یہ آنکھیں مجھ سے جھوٹ نہیں بولتیں اور ان میں صرف میں ہوں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔ کیوں مجھے جان سے مارو یار ۔۔۔کیوں نہیں سمجھتی کہ تمہیں ہوا بھی چھو کر گزرے تو مجھے وہ میری فریق لگتی ہے تمہارا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیکھ کر چھریاں چلنے لگی تھیں میرے دل پر کیوں مجھ غریب پر ظلم ڈھا رہی ہو ۔۔۔۔کس بات کا خوف ہے تمہیں اپنے پوپس کا ۔۔۔۔۔ڈر گئ تھی کیا ۔”نیناں کسی ٹرانس کے زیر اثر تھی اثبات میں سر ہلانے لگی
“بہت ڈر گئ ہوں شاہزیب ۔۔۔۔”وہ سسکیاں لینے لگی تھی شاہزیب کا ہاتھ زور سے اپنے سرد ہاتھ میں تھام لیا خوف کے سارے رنگ اسکے چہرے پر عیاں تھے
“کوئی نہیں مانے گا شاہزیب سب کو اپنی اپنی انا کی جنگ جیتنی ہے اس جنگ کی خاطر ہماری جان ہی کیوں نا قربان کرنی پڑے یہ لوگ کر دیں گئے ۔۔۔۔پوپس میری شادی حیدر سے کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔میں نے بہت منع کیا انہیں مگر وہ نہیں مانتے ۔۔۔کہتے ہیں مجھے تو کچھ نہیں کہیں گئے لیکن آپکو نہیں چھوڑیں گئے شاہزیب میں خود پر جبر سہہ سکتی ہوں لیکن آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔پھر آپکے ابو نے بھی تو آپکو بہت مارا ہے وہ بھی نہیں مانے گئے مجھے کبھی قبول نہیں کریں گئے نکاح مسلے کا حل نہیں ہے “وہ روتے ہوئے اسے کہہ رہی تھی
“یہ کس نے کہا تم سے کہ مجھے ابو سے مار پڑی ہے “شاہزیب کو اپنی کہانی اسکی زبان سے سن کر جھٹکا سا لگا تھا ۔۔۔زمان صاحب سے وہ پٹا تھا یہ بات نیناں کو کیسے معلوم ہوئی تھی نیناں بھی یک دم چپ ہوئی تھی روانی میں بہت کچھ بتا گئ تھی ۔۔۔۔اب غلطی کااحساس ہوا تھا اپنی نظریں بدل گئ ۔۔۔سامنے بیٹھے شخص کی آنکھیں صرف آنکھیں نہیں تھیں اسکے ہر راز کی آئینہ دار تھیں کچھ بھی پوشیدہ نہیں رکھ سکتی تھی اس سے چاہ کر بھی نہیں ۔۔۔۔ وہ ہوش میں کہاں رہتی تھی ان میں کھو کر لگتا تھا کوئی جادو چل گیا ہے کہنا کچھ اور تھا کہہ کچھ اور گئ تھی چاہ کر بھی جھوٹ نہیں بول پائی تھی اب سمجھ نہیں پارہی تھی کیا کرے وہ تو سچ جاننے بنا اسکی جان نہیں چھوڑتا
“نیناں کس نے بتایا تمہیں کہ مجھے ابو سے مار پڑی ہے “شاہزیب کی آنکھوں کے ڈورے سرخی مائل ہوئے تھے نیناں کا حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“کسی نے نہیں وہ ۔۔۔وہ آپکے چہرے پر چوٹ کے نشان دیکھ کر مجھے لگا “
“تمہیں الہام نہیں ہوتے سمجھی ۔۔۔کس نے بتایا ۔۔۔۔”شاہزیب کے اٹل لہجے پر وہ یار مانتے ہوئے بولی
“میں نے فون کیا تھا آپکے موبائل پر تو میری بات آپ کی بہن سے ہوئی تھی ۔۔۔پھر وہ گھر پر بھی آئیں تھیں ۔۔۔۔”
“واٹ تمہارے آئی تھیں ۔۔۔نمی نہیں تو نہیں کر سکتی یہ سب ۔۔۔۔شازی آئی تھی ؟
“جی ۔۔۔۔”
“کیا کہا اس نے “شاہزیب نے کرخت لہجے میں پوچھا
“یہی کہ آپ کو میری وجہ سے مار پڑی ہے ۔۔۔گھر سے نکال دیا ہے میں پیچھے نہیں ہٹیں تو آپکے ابو آپ کو کبھی قبول نہیں کریں گئے “
“ہمم اس لئے تم نے یہ سب ڈرامہ رچایا تھا “
“شاہزیب میں آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔اگر ایک میرے دور جانے سے آپکی زندگی میں سب ٹھیک ہو سکتا ہے تو ۔۔۔۔۔”
“شپ اپ نیناں ۔۔۔تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کیا کرنے جا رہی تھی ۔۔۔۔نینان کب سمجھوں گی تم ۔۔۔مار کھا کر بھی اگر میں اپنی بات پر قائم رہا تھا اس کا کیا مطلب ہے ۔؟۔۔۔میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔بس یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لو ۔۔۔یہ سب ہونا تھا ۔۔۔میں نے کہا تھا تم سے کہ بہت اختلافات ہوں گئے ۔۔۔۔ یہ کوئی نئ بات تو نہیں ہے ۔۔ سب کا ریایکشن ایسا ہی ہونا تھا میں جانتا تھا تم بھی جانتی تھی پھر کیوں باتوں میں آ گئ ۔۔۔اور ۔شازی کو تو چھوڑو گا نہیں میں ۔۔۔ہوتی کون ہے وہ یہ سب کرنے والی “شاہزیب نے غصے سے کہا
“نہیں شاہزیب آپ ایسا کچھ نہیں کہیں گئے انہوں نے مجھے واسطہ دیا تھا ۔۔۔۔”
” مائے فٹ اس کاواسطہ ۔۔۔۔اور تم۔۔۔تم بھی مان گئ ۔۔۔۔چلو سائن کرو فٹافٹ اس پر پھر میں دیکھتا ہوں کون کیا بگاڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔نکاح کے بعد میں خود تمہیں چھوڑ کر آؤں گا تمہارے گھر ۔۔۔۔پھر کیس کروں گا ۔۔۔۔عدالت کے ذریعے تمہیں حاصل کرنا مشکل نہیں کے میرے لئے پھر نکاح پر نکاح تو کبھی نہیں کروا سکتے تمہارے پوپس “شاہزیب بھی اب گھبرا گیا تھا دونوں طرف ہی جنگی ماحول شروع ہو چکا تھا پھر وہ لڑکی تھی مجبور اور بے بس آسانی سے ہو سکتی تھی
“شاہزیب میں پھر بھی نکاح نہیں کر سکتی ۔۔۔۔یہ دھوکہ ہو گا میں دھوکا نہیں دے سکتی ۔۔۔۔لیکن مجھ پر بھروسہ رکھیں آپکے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کرو گی بس مجھے میرے گھر کے قریب چھوڑ دیں “نیناں نے پھر سے منت کی
“نہیں۔۔۔یہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ سائن کرو نیناں ۔۔۔اب تو بلکل بھی رسک نہیں لے سکتا میں۔۔۔۔ اتنا کچھ ہو گیا ہے نہیں اب نہیں تمہارے پوپس ڈرا دھمکا کر تمہاری شادی اس چھچھوندر سے کردیں گئے اور میں اسکی جان لے لوں گا۔۔۔۔۔سچ کہہ رہا ہوں میں مار ڈالو گا اسے ۔۔۔۔”شاہزیب کے تیور پھر سے جارحانہ ہوئے تھے
“آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہے ۔”نیناں نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا
“ایک منٹ کا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔تم شازی کی باتوں میں آکر جب میرے ساتھ ڈرامے بازی کر سکتی ہو تو کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔۔۔نیناں کیوں نہیں سمجھ رہی ہوں یار ۔۔۔۔نکاح کارشتہ بہت مضبوط ہوتا ہے ۔۔۔کوئی تمہاری مرضی کے بنا نہیں توڑ سکتا ۔۔۔۔۔میرے ضبط کا اور امتحان مت لومجھ سے “شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا
“مجھے اپنے پوپس سے بھی بہت محبت ہے۔۔۔ میں چھپ کر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی شاہزیب اب نہیں آؤں گی کسی کی باتوں میں ۔میراوعدہ ہے آپ سے ۔۔۔ “
“میں کیسے یقین کر لوں “شاہزیب کی آنکھوں میں کچھ کھونے کاڈر تھا
“مجھے میرے پوپس کی قسم ہے۔۔۔۔ نیناں اگر شادی کرے گی توصرف شاہزیب سے ۔۔۔۔۔ورنہ ساری زندگی یونہی گزار دے گی ۔۔۔۔اب تو یقین کر لیں اتنی بڑی قسم کھائی ہے میں نے “نیناں کی بات پر اب شاہزیب کا تنا ہوا چہرہ دھلا پڑنے لگا تھا
“ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔پھر تمہیں چھوڑ آتا ہوں تمہارے گھر “شازیب نکاح نامہ لیے باہر نکا تو سامنے باسم اسے خشمگین نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔شاہزیب نے نظریں چرائیں
“جب میں نے کہا تھا کہ میں سر سے بات کروں گا تمہارے لئے ۔۔۔تو یہ سب کیا ہے شاہزیب ۔۔۔۔کب کہا تھا میں نے کہ یوں زبردستی تمہارا نکاح پڑھواں گا اس لڑکی سے ۔۔۔۔کوئی نکاح نہیں ہو گا یہاں ۔۔۔کہاں ہے وہ لڑکی باہر بلاؤں اسے “باسم بھی سخت اور بلند لہجے سے بات کر رہا تھا شاہزیب کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح بنا باسم کو جواب دیے آگے بڑھ گیا ۔۔نکاح نامہ اس بوڑھے نکاح خواں کی گود میں پھنک دیا
“سیفی انہیں واپس چھوٹ آؤں ۔۔۔۔”
“کیوں “شاہزیب کی بات پر وہ اچھل کر بولا
“خرم اپنی بائیک کی چابی دو نیناں کو اسکے گھر چھوڑ آؤں “خرم نے چابی شاہزیب کو دی ۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے شاہو “جمی نے پوچھا
“کچھ نہیں نینان نہیں مان رہی ۔۔۔۔”یہ کہہ کر شاہزیب نے وہیں سے نیناں کو پکارا وہ کچھ ہی پل میں باہر نکل آئی ۔۔۔۔
“چلو آؤں “شاہزیب کے کہنے پر وہ اسکے ساتھ باہر نکل گئ ۔۔۔خرم نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔
“شکر ہے جان چھوٹی “
“او پتر سائن کر دیے دلہن نے ہو گیا نکاح “بزدل نے چائے کا کپ سے چائے کی چسکی بھرتے ہوئے پوچھا
“جی ہو گیا ہے ۔۔۔دلہادلہن اپنے گھر گئے ہیں بزرگوں سے دعائیں لینے” سیفی نے تپ کر کہا اتنا ڈرامہ کریٹ کرنے کے بعد شاہزیب کے یوں ہاتھ جھاڑنے پر سیفی کو غصہ ا رہا تھا
“چلو شکر ہے منہ بھی میٹھا نہیں کروایا چل خیر ہے میٹھی چاہ سے ہی کام چلا لیا ہے میں نے ۔۔۔ایسا کرو کھانا ساتھ باندھ دو گھر جاکے کھا لوں گا ۔۔۔۔”وہ بزرگ اب کمر پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کرنے لگے سیفی اور جمی نے سہارا دیا اور انہیں واپس چھوڑنے چلے گئے خرم بھی انکے ساتھ ہی نکل گیا ۔۔۔۔باسم سامنے تخت پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
“باسم اب یہ لڑکا مجھے اس گھر میں نظر نا آئے “رائمہ غصے سے بولی
“او پلیز رائمہ چپ ہو جاؤ کچھ دیر ۔۔۔۔میں پہلے ہی بہت اپ سیٹ ہوں ۔۔۔۔۔”باسم نے سختی سے کہا تو رائمہ چپ ہو گئ
“رباب جاؤں بھائی کے لئے چائے بنا کر لاؤ “رابعہ بیگم نے باسم کا تھکا تھکا چہرا دیکھ کر رباب سے کہا
*******………
حیدر نے گھر آ کر ساری بات بختیار صاحب کے گوش گزار کر دی تھی انکے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے ۔۔۔۔انہیں معلوم تھا کہ نیناں کس مقصد کے لئے گئ تھی وہ ساری بات سن چکے تھے ۔۔۔انہیں لگا آج شاہزیب کا قصہ تمام ہو جائے گا ۔۔۔مگر جو وہ سن رہے تھے وہ توانکی توقع کے بر خلاف تھا ۔۔۔۔۔
انہوں نے ڈی آئی جی کو کال کی تھی شاہزیب کی تصویر بھی بھیج چکے تھے
“دیکھوں اکمل جہاں یہ لڑکا نظر آئے شوٹ کر دینا اسے بنا کچھ سوچے سمجھے “غصے سے پھنکسر کر بولے تھے فون بند کر کے
اب جلے پاوں۔ کی بلی بنے لاونج میں ٹہل رہے تھے سگریٹ ہے سگریٹ پیے جا رہے تھے ۔۔۔۔دل کسی بند پنجرے میں مچلتے پنچھی کی طرح پھٹپھڑا رہا تھا وسوسے اندشے انہیں پل پل دہلا رہے تھے غصے سے آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔حیدر بھی سامنے صوفے پر پریشان بیٹھاتھا عجیب سی سچویشن ہو چکی تھی مسلہ مزید خراب ہو چکا تھا بات اب گھر سے نکل کر تھانے تک پہنچ گئ تھی باہر کی ڈور بیل پر حیدر کے ساتھ بختار صاحب بھی باہر کی طرف لپکے تھے ۔۔۔۔۔
“صاحب جی بے بی آگیا ہے “چوکیدار کی آواز پر دونوں کے قدم تیزی سے دروازے کی طرف بڑھے تھے
