One Wheeling by Umme Hani NovelR50409 One Wheeling Episode 32
Rate this Novel
One Wheeling Episode 32
One Wheeling by Umme Hani
وارث کے جسم پر لرزہ طاری ہونے لگا سانس بلکل بند ہو چکا تھا بامشکل اپنے لزرتے ہاتھ جوڑ کر شاہزیب کے سامنے کیے آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔۔شاہزیب نے اس کا گلہ چھوڑ دیا ۔۔۔۔وہ۔ بری طرح سے کھانسنے لگا ۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے پانی جاری تھا ۔۔۔۔۔ پسینے سے شرابور تھا موت کی اذیت چند لمحے کی سہی تھی مگر ہواس معطل ہو چکے تھے
” آئندہ کسی بھی شریف انسان کی غیرت مت للکارنا ۔۔۔۔۔جس دن اس نے اپنا احتساب تم لوگوں سے خود لینا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔کہیں کے نہیں رہو گئے ۔۔۔۔
“شاہزیب یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گیا وارث دہرا ہو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ سامنے والا نا ڈر پوک تھا نا کمزور ۔۔۔۔۔ چند لمحوں میں موت کا مزہ چکھانا اچھی طرح جانتا تھا ۔یہ بات وارث سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے اس کا سانس۔ بحال ہوا تھا پہلی بار شاہزیب سے اسے خوف محسوس ہوا تھا ۔۔۔اسے کچھ بھی کہے بنا اور جیل سے نکلا کھلی جیل۔ چھوڑ کر بدحواسوں کی طرح تیزی سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔جیل کا دروازہ شاہزیب نے خود بند کیا اور دوبارہ سے اسی کونے میں بیٹھ گیا جہاں پہلے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ دل نیناں کی وجہ سے پریشان تھا ۔۔۔۔۔جس طرح سے وہ چپ تھی شاہزیب کی تکلیف پر بے چین تھی ۔۔۔۔ نکاح کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔ جو شاہزیب نہیں چاہتا تھا ایک وہی تھی جس کی وجہ سے وہ بختیار صاحب کا گھمنڈ توڑ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
******………
وارث بدحواس سا اپنے آفس میں پہنچا تھا شاہزیب کے اس سخت ردعمل نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا تھا بس چند سکینڈ اگر وہ اور اسکا گلہ دباتا تو وہ مر چکا ہوتا ۔۔۔۔۔سامنے ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ کو اس نے منہ لگا کر اندر انڈیلا ۔۔۔۔۔۔۔ ٹشو بکس سے کئ ٹشو نکال کر اپنا پسینہ پونچا پنکھے کے نیچے کھڑے ہو کر لمبے لمبے سانس بھرنے لگا مگر یہ مہلت بھی چند ساعتوں پر محیط تھی
کچھ ہی دیر میں پولیس اسٹیشن سے باہر رش ہی لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب ون ویلنگ کے باعث اپنی یونیورسٹی میں کافی فیمس تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے جیسے بی یہ خبر سب کو ملی بہت سے اسٹوڈنٹ ساتھ چلنے کو تیار ہو گئے ۔۔۔۔۔ جمی کاکزن بھی اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔۔ کیمرہ آن تھا لائیو شو شروع تھا ۔۔۔۔
شاہو شاہوں کے نعرے بلند ہوئے پہلا پتھر جمی نے پولیس اسٹیشن کے اندر پھنکا تھا ۔۔۔۔ پھر سب اسٹوڈنٹ کا شور غل اور پتھراوں نے پولیس والوں کے چھکے چھڑانے شروع کر دیے تھے ۔۔۔۔۔
دو اہل کار حواس باختہ وارث کے کمرے میں داخل ہوئے باہر کا شور اب اندر کی طرف بڑھنے لگا تھا ۔۔۔۔
ورث خود بڑی مشکل سے ابھی سنبھلا ہی تھا ۔۔۔۔۔
“سر بہت سے لڑکے لڑکیاں باہر کھڑے احتجاج کر رہے ہیں۔ “
“ک۔کیا مطلب کیسااحتجاج “وارث کے ہوش اڑے تھے دل تو اس کا پہلے ہی اس وہم میں مبتلہ تھا جب سے سیفی خرم لوگوں سے ملا تھا ۔۔۔۔
“وہی شاہزیب والا مسلہ سر ۔۔۔”
“تو تم میری شکل کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔جاوں جا کر بند کرواں یہ سب ۔۔۔۔”وارث خانزادہ چلا کر بولا ۔۔۔۔
“سر انہوں نے پتھراؤ شروع کر دیا ہے ۔۔۔۔پولیس کی اور نفری بلانی پڑے گی انہیں روکنا ہمارے بس کی بات نہیں رہی ۔۔۔۔
“او شٹ ۔۔۔۔۔میں کرتا ہوں کچھ “
وارث کی بدحواسی میں اضافہ ہوا جس کا ڈر تھا وہی سب شروع ہو چکا تھا ۔۔۔۔
سب سے پہلی کال بختیار صاحب کو وارث خانزادہ نے کی ۔۔۔۔ساری سچویش انکے گوش گزار کی
“دیکھوں وارث کچھ بھی ہو جائے جب تک نیناں کا نکاح نہیں ہو جاتا شاہزیب باہر نہیں آنا چاہیے “
“سر میری نوکری کا سوال ہے بنا ایف آئی آر کے میں کیسے یہ سب کر سکتا ہوں پھر آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بھی سامنے نا آئے ۔۔۔۔میڈیا کو میں کیا جواب دو گا ۔۔۔۔سب باہر کھڑے ہیں لوگوں کو سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے
“کچھ بھی کرو لیکن میرا نام تمہارے منہ نہیں آنا چاہیے اسی بات کے قیمت اٹھائی ہیں تم نے وہ بھی منہ مانگی “بختیار صاحب نے جتایا
“لیکن سر میں اپنی نوکری تو خطرے
میں نہیں ڈال سکتا “وارث کا لہجہ دھیمہ ہوا اور ملتجی۔ بھی
“او یو بلڈی باسٹڈ ۔۔۔۔ تم میرا نام نہیں لو گئے “یہ کہہ کر بختیار صاحب نے فون ڈسکنکٹ کیا اور ڈی آئی جی اکمل کو کال کی
“اپنے آفیسر کو خود سمجھاؤں اکمل میرا نام میڈیا پر نہیں آنا چاہیے میں نے منہ مانگی رقم ادا کی ہے تم سب کو ۔۔۔۔”بختیار صاحب نے پوری بات بتا کر حتمی لہجے سے کہا ۔۔۔۔۔
“بے فکر رہیں بختیار صاحب وہ منہ نہیں کھولے گا میں خود جا کر سب ہینڈل کرتا ہوں “
“اور ایک بات اور شاہزیب نیناں کے نکاح سے پہلے رہا نہیں ہونا چاہیے ‘
“دیکھیں میں کوشش کرو گا ۔۔۔لیکن آپ نکاح جلدی کر دیں تو بہتر ہے ۔۔۔۔ اب ہم مزید شاید اسے جیل میں نا رکھ سکیں ۔۔۔۔”فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب کے ہوش اڑانے لگے تھے ۔۔۔۔اگر شاہزیب آزاد ہو جاتا تو سیدھا یہیں آتا ۔۔۔۔ پتہ نہیں نیناں کاریاکشن کیا ہوتا۔۔۔۔ ابھی تو چپ تھی کیونکہ جانتی ہے کہ وہ جیل میں بند ہے لیکن شاہزیب کو سامنے دیکھ کر اپنی بات سے بدل بھی سکتی تھی اور وہ نڈر شخص ڈرتا ہی کب تھا کسی سے ۔۔۔۔بختیار صاحب اب اپنے قریبی دوستوں کو کال کر کے وقت مقررہ سے پہلے ہی بلانے لگے ۔۔۔۔۔۔
نیناں کو رامین ہی تیار کرنے کے لئے ان کے گھر پر آئی تھی ۔۔۔۔۔نیناں خاموش تھی بلکل بے تاثر چہرہ لئے ۔بیٹھی تھی ۔۔۔رامین اسکاحال دل جانتی تھی اس لئے چپ چاپ اسے تیار کرتی رہی ۔۔۔۔۔
“نیناں تم وعدہ کیا تھا قسم کھائی تھی ۔۔۔۔۔۔نیناں کیپ یور پرومس “شاہزیب کی آوازیں اب بھی نیناں کی سماعتوں میں گونج رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
کمرے کی دستک پر رامین نے ہی دروازہ کھولا تھا سامنے بختیار صاحب پریشان حال کھڑے تھے
“بس دس منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی ریڈی کرو نیناں کو “رامین پر حکم جاری کر کے وہ وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔۔۔
*****……..
باسم اور زمان صاحب وکیل کے ساتھ جب پولیس اسٹیشن پہنچے تو ایک بھگڑ سی مچی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔لڑکے لڑکیاں “شاہزیب کو رہا کرو ” کے نعرے لگا رہے تھے میڈیا اور کیمرہ مین انکی رائے جاننے کے منتظر نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔ پولیس ہاتھوں میں ڈنڈے سنبھالے سب کو پولیس اسٹیشن کے اندر جانے سے روک رہے تھے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ نعروں اور پتھراوں میں سیفی جمی اور خرم پیش پیش نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔۔زمان صاحب حیران پریشان یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔یہی حالت باسم کی بھی تھی ۔۔۔۔۔سب کو پیچھے ہٹاتے ہوئے جب وہ پولیس اسٹیشن کے گیٹ تک پہنچے تو جمی کا نعرہ بلند ہوا ۔۔۔۔
“یہ ہیں شاہزیب کے والد “بس یہ سننے کی دیر تھی مائیک پکڑے دو لڑکے اور تین لڑکیاں ان کو گھیر کر کھڑے ہو گئے کیمرہ مین بھی اپنے اپنے کیمرے لئے زمان صاحب کے پاس پہنچ گئے ایک لڑکی مائیک لئے بولی
“۔۔۔۔۔۔دیکھیں ۔ ناظرین یہ ہے وہ مجبور اور بے بس باپ جس کے بیٹے کو یہاں بنا کسی جرم کے بند کیا گیا ہے ۔۔۔۔آخر یہ ظلم کب تک چلے گا ۔۔۔۔اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ آخر قصہ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔اس لڑکی نے مائیک انکی طرف بڑھا ادھر کیمرے نے زمان صاحب کا چہرہ فوکس کیا ادھر زمرد بیگم کے ہاتھ سے چائے کا کپ تھرتھریا ۔۔۔۔جیدی صاحب نے بے یقینی سے ٹی وی کو گھورا چشمے کو ناک کے آخری حصے تک ٹکایا تا کہ صاف طور پر دیکھ سکیں۔۔۔۔نیوز چینل سرچ کرتے ہوئے جب انکی نظر اس ہنگامے پر پڑی تو ریموڈ کے بٹن وہیں رکے ۔۔۔۔۔
“جیدی یہ تواپنا زمان ہے ۔۔۔۔”زمرد بیگم نے کپ سامنے ٹیبل۔پر رکھا اور پوری توجہ ٹی وی پر مرکوز کی
“ہاں شکل تو اسی مل رہی ہے ۔۔۔۔”جیدی صاحب نے بھی چشمے سے غور سے دیکھا
“ارے غور سے دیکھوں زمان ہی ہے اور لڑکے لڑکیاں بھی اپنے شاہزیب کے نام کے نعرے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔کیاالیکشن میں کھڑا ہو گیا ہے تمہارا بھتجا “زمرد بیگم کے اندشے شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
“یہی لگ رہا ہے ۔۔۔۔
“مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا یہ لڑکا ضرور ہمارے باپ دادا کا روشن کرے گا ہمیشہ رزلٹ بھی تو شاندار لاتا ہے ۔۔۔۔۔ “جیدی صاحب نے پوری خبر نا پڑی نا سنی اور سینہ چوڑا کر کے فخریہ انداز میں شاہزیب کو داد دی
“دیکھیں ہمہیں ابھی اندر جانے دیں ۔۔۔میں کچھ بھی کہنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔پلیز ہمہیں جگہ دیں “زمان صاحب نے انہیں پیچھے ہٹنے کے لئے کہا
“آئے ہائے دیکھ رہے ہو جیدی بیٹا مشہور کیا ہوا باپ کے نخرے تو چیک کرو ۔۔۔۔میڈیا کو۔ بی ٹھنگا دیکھا رہا ہے اپنا زمان “زمرد بیگم کا دل جلا تھا کہ شاہزیب شاید حکومت کے کسی عہدے پر جا پہنچا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے ٹی وی پر زمان صاحب نخرے دیکھا رہے ہیں
“دیکھیں ناظرین یہ ہے وہ بے بس باپ جس کو یقینا دھمکیوں سے چپ رہنے پر آمادہ کیا گیا ہے ۔۔۔۔یہاں پر کھڑے سب ہی اسٹوڈنٹ اس وقت یہ ٹھان کر بیٹھیں ہیں کہ اپنے دوست شاہزیب زمان کی بے گناہی ثابت کرکے اپنے ساتھ واپس لیکر ہی جائیں گئے اور پولیس کی نا اہلی پر انہیں مزہ بھی ضرور چکھایا جائے گا۔۔۔۔آپ لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ ہمہیں بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہے کھلہ بدمعاشی کی جارہی ہے ۔۔۔۔۔سب لوگ اس بات پر باضد ہیں کہ انہیں شاہزیب زمان کے ناکردہ جرم کی ایف آئی آر دیکھائی جائے ۔۔۔۔۔۔ لیکن پولیس ہم سے کاپریٹ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔۔اگر کچھ ہی دیر میں ان لوگوں کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو یہ لوگ زبردستی اندر داخل ہو جائیں گئے جہاں بے گناہ شاہزیب کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔۔۔کیمرہ مین عاطف کے ساتھ سارہ چوہدری آپ کو ہر خبر پر نظر کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتی رہے گی شکریہ ۔۔۔۔۔
زمرد بیگم کا ہاتھ سینے پر گیا
“ہائے میں مر گی جیدی ۔۔۔۔۔شاہزیب جیل میں بند ہے ۔۔۔۔اور دیکھوں ذرا ہم سگے ہو کر بھی ہر بات سے انجان ہیں ۔۔۔۔ارے میں تو کہتی ہوں ہم سے تو موا یہ ٹی ہی بہتر ہے جو حقیقت سے با خبر تو ہے ۔۔۔۔۔”زمرد بیگم کی بات پر جیدی صاحب نے تیوری چڑھائی ۔۔۔شاہزیب کا سن کو پریشان تو وہ بھی ہو گئے تھے
“تم تو چپ رہو یعنی کہ حد ہی گئ ہے ۔۔۔۔میں بات کرتا ہوں زمان سے ۔۔۔۔”
*****…….
زمان صاحب کو وکیل کے ساتھ ہی اندر جانے کی اجازت ملی تھی باسم بھی انکے ساتھ اندر وارث خانزادہ کے کمرے میں پہنچ گئے ۔۔جہاں وہ اڑے ہوئے رنگ کے ساتھ بدحوس سا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
وکیل نے اپنا کارڈ دیکھایا ۔۔۔اور کچھ ضروری کاغذات سامنے رکھے ۔۔۔۔
“میں اپنے موکل کی ایف آئی آر اور ارسٹ وارنٹ دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔”وکیل کو دیکھ ہی وارث خانزادہ کے پسینے چھوٹ گئے تھے
وہ اپنی فائلیں بے مقصد کھول کر کچھ ڈھونڈنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔۔۔
“یہی تو تھی نا جانے کہاں گئ
“دیکھیں بند کریں یہ ڈرامے بازی ۔۔۔۔ آپ نے جب اسے گرفتار کیا تھا تب بھی بنا کسی ارسٹ وارنٹ کے کیا تھا ۔۔۔۔۔اس کے والد نے کئ بار آپ سے ایف آئی آر مانگ چکے ہیں مگر آپ نے نہیں دی ۔۔۔۔۔اچھا چلیں یہی بتا دیں کس جرم میں گرفتار کیا ہے اسے ۔۔۔یااس شخص کا نام بتائیں جس کے کہنے پر آپ نے ایف آئی آر کاٹی تھی ۔۔۔۔”وکیل کے کسی سوال کا جواب دینے کااسے حکم نہیں تھا نا ہی وہ بھول سکتا تھا ۔۔۔۔
“م مم میں دیکھتا ہوں سب پیپر ۔۔۔۔۔ی۔۔یہیں تو تھے “وارث شاہ کی بدحواسی عروج پر تھی
******…..
ڈی آئی جی اکمل کی گاڑی جیسے ہی پولیس اسٹیشن کے سامنے کھڑی ہوئی میڈیا کے کارکن وہاں جا پہنچے وہ کلف شدہ سفید شلوار قمیض پہنے گاڑی سے نیچے اترے
“سر آپکے محکمے میں دن دھاڑے آپ ہی کے آفیسر ایک شریف لڑکے کو بنا کسی ثبوت اور ارسٹ وارنٹ کے اسکے گھر سے گھسٹتے ہوئے اپنی جیل میں بند کر دیتے ہیں ۔۔۔۔اس کے ساتھ ریمانڈ کیا جاتا ہے ۔۔۔اور آپ لوگ چپ ہیں ۔۔۔۔”ایک لڑکے نے مائیک پکڑ کر سوال کیا
اکمل صاحب نے نافہم انداز اپنایا
“دیکھیں ہمہیں واقع ہی اس بات کی خبر نہیں تھی لیکن اگر ایسا سچ ہے تو میں ابھی ابھی اس آفیسر کو معطل کر دونگا اس اب بات کی سزا بھی اسے ملے گئ ۔۔۔۔لیکن دیکھیں آپ یہ رش پلیز یہاں سے ختم کریں اگر آفیسر کی نااہلی ثابت ہوئی تو میراوعدہ ہے آج کی رات وہ جیل میں گزارے گا “اکمل صاحب نے اشتعال میں آئے ہوئے لوگوں کو تسلی دی ۔۔۔۔۔
“آپ کی پولیس ہمہیں اندر جانے سے کیسے روک سکتی ہے ۔۔۔۔”اس بار وہ لڑکی جو اپنا نام سارہ بتا رہی تھی تن کر کھڑی ہو کر بولی
“دیکھیں ہر چیز کے کچھ ضوابط بھی ہوتے ہیں آپ میں سے بس ایک ہی سینئر صحافی میرے ساتھ اندر جا سکتا ہے ۔۔۔۔اور میں سب کو یہ بات ابھی اسی وقت ثابت کرو گا کہ بےجا ظلم کرنے والے کے خلاف ہم کیسا برتاو کرتے ہیں چاہے وہ ہمارا سینر آفیسر ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔۔”اکمل صاحب نے اپنے نمبر بڑھاتے ہوئے ۔۔۔وہی گھسے پٹے جمعلے دوہرائے جس سے انکی واہ واہ ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔
میڈیا کے صحافیوں نے چند منٹ میں فیصلہ کیا اور ایک لڑکا جو ان سب میں زرا سی اونچی پوسٹ پر تھا ۔۔۔۔وہ اکمل صاحب کے ساتھ ایک کیمرہ مین کو ہمراہ لئے ساتھ اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔اکمل صاحب کو دیکھ کر سب ہی اہل کار سلوٹ مار کر کھڑے ہوگئے وارث خانزادہ کے کمرے میں جاتے ہی اکمل صاحب کو دیکھ کر وارث نے سکون کا سانس بھرا کہ اب وہ معاملہ سنبھال لیں گئے ۔۔۔۔کیمرہ مین نے کیمرہ آن کیا ۔۔۔۔اکمل صاحب خشمگین۔ نظروں سے وارث خانزادہ کو دیکھتے ہوئے اسکی طرف بڑھے
“تم نے گرفتار کیا تھا شاہزیب زمان کو “وہ دھاڑتے ہوئے بولے
“ی۔یس سر آپ ہی کے کہنے ۔۔۔۔۔”وارث کی بات مکمل ہونے سے پہلے کاٹ دی گئ
“منہ بند کرو اپنا کہاں ہے ایف آئی آر کہاں ہے ارسٹ وارنٹ اپنی ذاتی دشمنی کی بنا پر تم کیسے اتنا بڑا ظلم کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔”اکمل صاحب نے آنکھیں دیکھائیں
“سر یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔”وارث خانزادہ نافہم سا انکا منہ تکنے لگا
“کہا ہے تم سے منہ بند رکھوں “وہ قہربھری نظریں۔ دیکھاتے ہوئے بولے
“ریمانڈ کے آڈر کس نے جاری کیے تھے لاؤ دیکھاوں مجھے “وارث خانزادہ کا دل چاہا کہ کہے تم نے ہی تو بکواس کی تھی مگر چپ کا اشارہ واضع طور پر مل چکا تھا ۔۔۔۔۔اس لئے خاموش رہا
“سر مجھ سے غلطی ہو گئ ۔۔۔۔٫وارث سمجھ گیا تھا الزام اب خود پر ہی لینا ہے ۔۔۔۔
“غلطی “ایک زور دار تھپڑ منہ پڑا تھا ۔۔۔۔کیمرہ مین نے فوکس کر کے سین اپنے کیمرے میں بند کیا اور لائیو ٹرانسمیش پر سب نے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
“سر۔مجھے معاف کر دیں” ڈرامے کا ڈراپ سین چلنے لگا تھا وارث خانزادہ نے ٹسوئے بہانے شروع کر دیے ۔۔اکمل صاحب نے اسکی وردی سے اسکی برسوں سے کمائی گئ رشوت اور بے ایمانی کے طمغے نوچ کر اتارے پھر اسے معطل کر دینے کی نوید سنائی ۔۔۔۔جس پر وارث کی دہائیاں عروج پر گئں منتیں ہاتھجوڑ کر کی گئیں ۔۔۔۔
اکمل صاحب کی ایک دھاڑ پر دو اہل کار کانپتے ہوئے وہاں پہنچے
“اسے ہتھ کڑی پہناؤں میں خود اسے گھسٹتے ہوئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرونگا ۔۔۔۔۔”اکمل صاحب کا آڈر جاری ہوا
باہر کھڑے سب لوگ اپنے موبائل پر یہ لائیو شو دیکھ رہے تھے سیٹیوں کی آوازیں گونجی اکمل صاحب کے نعرے گونجنے ۔۔۔۔اکمل صاحب کا سینہ چوڑا ہوا ۔۔۔۔۔۔ وارث خانزادہ کو ہتھ کڑی پہنائی گئ ۔۔۔۔اکمل صاحب خود اسے کندھے سے پکڑ کر جیل کی اسی کوٹھری ۔میں لے گئے جہاں شاہزیب بند تھا ۔۔۔۔۔ شود کی آواز پر شاہزیب اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔وارث خانزادہ کو ہتھ کڑی پہنے دیکھا کر متحیر سا ہو گیا ۔۔۔۔ایک شخص سول ڈریس میں شاید کوئ اس سے بھی بڑا افسر تھا جو اسے کندھے سے پکڑے لا رہا تھا تھا ایک کیمرہ مین ساتھ ساتھ موی بناتے ہوئے چل رہا رہا تھا۔۔۔ایک نوجوان لڑکا مائیک پر اس آفیسر کے ایمانداری پر قصیدے پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
“کون کہتا ہے ظلم کا بول بالا ہے اور انصاف اندھا ہے ۔۔۔نہیں میرے بھائیوں آج ڈی آئی جی صاحب نے دیکھا دیا کہ مظلوم کی آواز سنی جاتی ہے انصاف کسی کہڑے کا محتاج نہیں جہاں ایک بے گناہ کو رکھا گیا تھا ایک ذاتی دشمنی کی بنا پر وہاں آج وہ آفیسر خود دھکیلا جا رہا ہے “صحافی کی بات پر پورا جوش دیکھاتے ہوئے ۔۔۔۔اکمل صاحب نے وارث خانزادہ کو جیل کے اندر لے جا کر پھنکا
پھر شاہزیب کی جانب دیکھا اسکے پاس آئے
“میں بہت معزرت خواہ ہوں کہ تم پر بے جا ظلم ہوا ۔۔۔۔۔ ایسے ناسور ہی ہمارے محکمے کو بدنام کر رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن جب تک میں زندہ ہوں ۔۔۔۔مظلوموں کی آواز ضرور سنی جائے گی “شاہزیب بڑی حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ کانسٹبل سے سن چکا تھا کہ اسکی گرفتاری کے آڈر اوپر سے آئیں ہیں تو ظاہرسی بات تھی وہ کیسے انجان ہو سکتے تھے پھر شاہزیب کی وارث سے ذاتی دشمنی تو کچھ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔
اکمل صاحب نے شاہزیب کے ہاتھوں سے رسی کھولی پھر اس کا ہاتھ تھاما اور اسے باہر وارث کے آفس میں لے گئے ۔۔۔۔۔ جہاں زمان صاحب اور باسم ایک وکیل کے ساتھ کھڑے تھے ۔۔۔۔شاہزیب کودیکھ کر زمان صاحب بے اختیار اسکے گلے لگ گئے ۔۔۔۔
“دیکھیں ہم اس آفیسر کے ساتھ سخت سے سخت کاروائی کریں گئے ۔۔۔۔”اکمل صاحب نے اب الوادعیہ جمعلے ذہن میں ترتیب دینے ۔شروع کیے ۔۔۔لیکن شاہزیب نے انکے ڈرامے جو حقیر کا رنگ بھرنے کی کوشش کی
“آپ ہماری قوم کا فخر ہیں سر ۔۔۔۔۔مجںے بہت خوشی ہو گی کہ آپ میڈیا کے سامنے اپنی سخت کاروائی کا بھی اگر کوئی تحریر نامہ لکھ دیں تو “شاہزیب نے زمان صاحب کو ساتھ لگائے ہوئے میڈیا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا اکمل صاحب ہچکچائے تھے
“ہ ہاں ہاں کیوں نہیں ضرور “اب تک کی دھواں دھار تقریر وہ بلا تامل کر چکے تھے لیکن تحیر نامہ جاری کرتے ہوئے ایک رنگ آ کر گزرا تھا
ایک پیر وکیل نے نکال کر ان کے سامنے رکھا
“لکھیں کہ ریمانڈ کے نام پرجیسا تشدد مجھ سے کیا گیاوہ اس انسپکٹر کے ساتھ کیا جائے گا اور لائیو دیکھایا جائے گا اسکے زخموں پر ویسے ہی نمک پاشی کی جائے گی جیسا کہ میرے ساتھ کی گئ ۔۔۔۔ یہ سب میڈیا کی مدد سے پوری عوام دیکھے گی تا کہ دوبارہ کوئی آفسر ایسی غلطی نا دہرائے ۔۔۔۔۔”شاہزیب کی بات پر باہر سے پھرسیٹیوں کی آوازیں گونجی شاہوں کے نعرے بلند ہوئے ۔۔۔۔اکمل صاحب کا ہاتھ رکا لیکن کیمرے کی آنکھ پر دوبارہ رواں ہوا ۔۔۔۔۔۔”وہ تو ایک دلاسا دے کر عوام کو۔ بیوقوف بنانا چاہ رہے تھے جیسے ہی بات ائیگئ ہوتی ۔۔۔۔۔ وارث خانزادہ جیل سے باہر ہوتا ۔۔۔۔شاہزیب نے باسم سے ہاتھ ملایا جو وکیل کے ساتھ کھڑا تھا تھا پھر وکیل سے ۔۔۔۔باسم نے توفیفی نظر سے اس لڑکے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب پر اسے فخر سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔زمان صاحب کا پرتو تھا وہ لڑکا نہیں شاید ان سے بھی بہت آگے کے جذبات رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بدلہ بہت سہولت سے لے چکا تھا ۔۔۔۔
باہر نکلتے ہی خرم سیفی جمی نے اسے گلے لگایا تھا
“افف آرام سے یار ۔۔۔۔۔” زخموں پر پر سے ٹھیس اٹھی تھی ۔۔۔نیناں کا خیال دل میں آیا تھا ۔۔۔۔۔۔دل بے چین سا ہوا تھا
******…….
نیناں دلہن بنی بے جان وجود کے ساتھ وہ لاونج میں رامین اور اپنی چند دوستوں کے ہمراہ چلتی ہوئی حیدر کے ساتھ بیٹھ گئ قدموں میں اب بھی لڑکھڑاہٹ تھی ۔۔۔۔۔۔ بختیار صاحب نے فون کان سے ہٹا کر بیٹی کو دلہن کے روپ میں بھی بجھا بجھا دیکھا تھا ۔۔۔۔۔فون پر اکمل انہیں اپناکارنامہ بتا چکا تھا شاہزیب کی آزادی کی خبر بھی دے چکا تھا ۔۔۔۔بختیار صاحب کی پیشانی پر شکنیں بڑھی تھیں ۔۔۔۔فورا سے نیناں کی طرف بڑھے تھے اس کے پاس بیٹھ گئے نکاح خواہ کے ساتھ چند بختیار صاحب کے دوست بھی وہیں برجمان تھے ۔۔۔
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں “بختیار صاحب کی بے چینی بڑھ رہی تھی
“ایک منٹ ۔۔۔۔”نیناں نے لزرتے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا
“پوپس ۔۔۔۔ پہلے فون کریں۔۔۔۔ اس۔۔۔۔آفیسر سے بولیں کہ شاہزیب کو چھوڑ دے “وہ بامشکل ایک ایک لفظ بول رہی تھی بار بار اپنی بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ “
“پہلے نکاح ہونے دو نیناں “
“نہیں۔ پوپس پہلے فون کریں ۔۔۔۔میرے سامنے اور کہیں کہ شاہزیب کو چھوڑ دیں ۔۔۔۔”سب کے سامنے نیناں کا یوں شاہزیب کا نام لیکر اس قسم کی بات کرنا بختیار صاحب کو اپنے معزز مہمانوں کے سامنے شرمندہ کر گیا تھا ۔۔۔۔۔انہوں نے فون یونہی کان پر لگایا اور کہا کہ شاہزیب کو چھوڑ دو “یہ سن کر نیناں نے ایک اطمینان بھری سانس لی تھی
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں بختیار صاحب بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔جیسے پتہ نہیں کس بات کا خوف ہو نکاح خواہ نے خطبہ شروع کیا ۔۔۔۔ نیناں بار بار اپنی بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے دبا کر جیسے خود کو بیٹھنے پر مجبور کر رہی تھی
“نیناں بنت بختیار آپ کا نکاح حیدر والد رؤف سے بحق مہر پچاس ہزار کے کیا جا رہا ہے آپ کو قبول ہے ۔۔۔۔۔
نیناں کی ساری کوششیں اب دم توڑ چکیں تھیں ۔۔۔۔وہ ساتھ بیٹھے حیدر کے کندھے پر گری تھی ۔۔۔۔وہ بوکھلا سا گیا تھا
“نین “نیناں کو سنبھالنے لگا وہ اب اسکے بازوں میں گر چکی تھی منہ سے جھاگ نکلنے لگیں چہرے کی رکنے نیلی ہونے لگی تھی بختیار صاحب کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔
“نیناں ۔۔۔نیناں ۔۔۔میری جان ۔۔۔میری بچی “بختیار صاحب چلانے لگے نیناں کو ہلانےجلانے لگے مگر وہ ہوش کھو چکی تھی سب ہی اس وقت اسے بے جان پڑا دیکھ کر پریشان ہونے لگے مگر سب سے بتی حالت بختیار صاحب کی تھی
