Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

بہزاد کو اپنی پراپرٹی واپس مل گئ تھی اور وہ اپنے گھر بھی لوٹ آیا تھا
کچھ ہلکا پھلکا سا اسنے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا تھا مبین خان نے اسے اپنے پاس بلایا تھا لیکن وہ اسکے پاس نہیں جا رہا تھا انکے بار بار بلانے پر بھی ۔۔۔
روح بستر سے اٹھی اور اسکی جانب دیکھنے لگی جو آئینے میں تیار ہو رہا تھا معلوم نہیں کہاں جانے کے لیے ۔۔۔۔
اب ہر وقت اسکے چہرے پر ایک نا محسوس سی مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔
تم اٹھ گئ ” اسنے مڑ کر دیکھا جبکہ روح بھی مسکرا گئ سکے چہرے پر ہلکی سی شرمیلی مسکان تھی
بہار اسکی جانب مڑا اور اسکے نزدیک جھک کر اسکے گال پر اپنا انگوٹھا پھیرا ۔
وہ جھجھکی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
مجھے اب سمجھ آ گیا میرے وجود پر تمھارا نام کیوں ہے کیونکہ تم میری روح میں رفتا رفتا سمانے والی تھی یہ بات پہلے سے ہی میری تقدیر میں لکھی دی گئی تھی ” وہ جھک کر اسکا گال چوم گیا روح نے ایک لمبا سانس کھینچا
آپ کہاں جا رہے ہیں “
بہت دنوں سے ایک کام پینڈنگ میں ہے وہ پورا کرنا ہے بس وہ کر لوں
مہروز نے رابطہ کیا تھا وہ تمھیں اور ماہ نور کو شاپنگ پر لے کر جانا چاہتا ہے تیار ہو کر چلی جانا اور ڈاکٹر سے اپوائنٹ ہے اسکے لیے بھی ریڈی رہنا ” وہ اسے کہہ رہا تھا جبکہ روح اسے مسکرا کر دیکھتی سر ہلانے لگی ۔
ہارون والے واقعے کو دو ماہ گزر گئے تھے بہزاد ان دو ماہ میں بہت مختلف دیکھنے لگا تھا ۔
وہ اس سے حد سے زیادہ محبت کرتا تھا اسکا خیال رکھتا تھا اسکے ارد گرد رہتا تھا یہاں تک کے روح اسکے پاس سے بھاگنے کی کوشش بھی کرتی تب بھی وہ اسکے ساتھ ساتھ رہتا یہاں تک کہ وہ غصے سے کہہ بھی دیتی
بہزاد میں تھک گئ ہوں ” وہ لاپرواہی سے بولتا
مجھے فرق نہیں پڑتا میں نہیں تھکا “
اور روح رونے والا منہ بنا لیتی اور اس دو ماہ میں اسے یہ بھی یقین ہو گیا تھا کہ وہ اگر سنگر بننا چاہے تو بہت زبردست سنگر بن سکتا ہے لیکن وہ ایسی کوئی کوشش روح کے لاکھ بار کہنے کے باوجود بھی نہیں کرنا چاہتا تھا
جبکہ روح کو بہت اچھا لگتا تھا جب وہ اسکے لیے گاتا تھا وہ دونوں کافی خوش تھے مطمئین تھے
روح اپنی جگہ سے اٹھی اور اسکا بازو پکڑ لیا
آپ مہروز کو روکیں یہ کیا بات ہوئی وہ ماہنور سے شادی کر رہا ہے مجھے نہیں پسند ا رہی یہ بات ” روح نے منہ بسور کر کہا جبکہ بہزاد نے گھیرہ سانس بھرا
کسی نہ کسی لڑکی سے اسنے شادی کرنی ہی تھی وہ ماہ نور سہی تمھیں کیوں مسلہ ہو رہا ہے “
ماہنور بھی یہاں ا جائے گی مجھے نہیں پسند وہ وہ ویسے ہی آپ پر بھی فلیٹ ہے “
تو یہ مسلہ ہے ” وہ اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسے خود سے نزدیک کر گیا
ہاں تو یہ بہت بڑا مسلہ ہے میں نہیں چاہتی وہ یہاں رہے اس گھر میں اور آپ سے باتیں کرے اور مجھے چھڑانے کو تو آپ جان بوجھ کر اس سے باتیں کریں گے “
اوہ شیٹ اپ روح میں ایسا لگتا ہوں تمھیں “
جی ہاں بلکل ” وہ اسے پیچھے دھکیل کر واشروم میں چلی گئ جبکہ بہزاد نفی میں سر ہلا باہر نکلتا کہ مہروز سے ٹکرا گیا
تم اندھوں کیطرح کیوں دوڑ لگا رہے ہو “
یار تمھاری بیوی کے نکھری آسمان کو پہنچے ہوئے ہیں کب سے میں اور ماہ نور ویٹ کر رہے ہیں نواب زادہ بن گئ ہے یہ بھی ” وہ اگ بگولہ ہوا ۔
ہاں تو کچھ نکھرے تم اٹھا لو جب تم بہن مان چکے ہو اسے اپنی “
بہزاد نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے کہا کہاں جا رہے ہو ” مہروز نے ائ برو اچکائ
مبین خان کے پاس ” وہ بس اتنا کہہ کر باہر نکل گیا
بہزاد کہیں تم ” وہ رک گیا
ہاں میں وہ ہی کرنے جا رہا ہوں ” وہ جان گیا تھا وہ اسکا مقصد سمجھ چکا ہے وہ آگے چلا گیا جبکہ مہروز اسے چاہ کر بھی روک نہیں سکا کہ وہ وہ نہ کرے
اگر وہ ائی ایس ائی کا حصہ بن کر کام کر بھی لے گا تو اس میں کوئی نقصان نہیں لیکن شاید وہ بہت بدظن تھا
دوسری طرف بہزاد بیس سے پچیس منٹ میں مبین خان کے پاس تھا وہ اندر داخل ہوا تو مبین خان شجر سے کچھ بات کر رہے تھے بہزاد نے شجر کی جانب نہیں دیکھا ہاتھ ملا کر چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
ان سب کے لیے ہارون کی موت کو چھپا کر بہزاد کو کلئیر کر دینا مشکل نہیں تھا اور یہ سب کلئیر کرنا اب شجر کی مجبوری تھی بہزاد کو علم تھا تبھی وہ ہر چیز سے کلئیر تھا اور بنا خوف و خطر پھیرتا تھا
دوسری طرف بس حمزہ نے اپنے باپ کی گمشدگی پر روز کا واویلا ڈالا ہوا تھا لیکن فلحال اسے کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا
اور اسکے کیس پر بار بار تاریخیں شجر ڈلوا دیتا تھا کہ ایک دن وہ تھک کر خود ہی پیچھے ہٹ جائے گا
شجر کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا جبکہ بہزاد اسکے بیٹھے ہوئے ایک لفظ نہیں بولا وہ کچھ دیر بعد اٹھ کر چلا گیا تو اسکا تناو کچھ کم ہوا
وہ شرمندہ ہے اپنی غلطیوں پر تم چاہو تو معاف کر سکتے ہو اسے “
میں نہیں چاہتا ” اسنے مختصر بات کی تھی
درحقیقت میری یہاں آنے کی وجہ یہ لیٹر ہے میں نے جس مقصد کے لیے ائی ایس ائی کو جوائن کیا وہ مکمل ہو گیا ہے اور مزید نہ مجھے آپ لوگوں کی ضرورت ہے اور نہ آپ لوگوں کو میری میں اپنی یہ پراپرٹی بھی بیچنا چاہتا ہوں لیکن ابھی نہیں ارادہ ضرور کیا ہے ائی ہوپ کے آپ مجھے کسی بات پر فورس نہیں کریں گے ” وہ سنجیدگی سے وہ لیٹر انکی جانب بڑھا گیا
بہزاد میں یہ لیٹر ایکسیپٹ نہیں کروں گا ائی ایس ائی میں تمھیں شامل کرنا بھی میرا کام تھا اور اب تمھیں وہاں رکھنا بھی تم کیوں چھوڑنا چاہتے ہو بہترین پیشہ ہے اور تم کامیاب ہو “
یہ صرف ایک سیاست ہے سر اور میں زیادہ دیر آپ جیسے لوگوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتا “
بہزاد ” وہ تلخی سے اسے ٹوک گئے
ممکن تھا اپکو برا لگتا لیکن میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتا شکریہ۔” کہہ کر وہ اٹھ کر جانے لگا
کیا تم سوچنا بھی نہیں چاہتے “
نہیں ” سختی سے کہہ کر وہ وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ مبین خان اسی لیٹر کو دیکھ کر رہ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر آیا شجر اسی کا ویٹ کر رہا تھا
کیوں کر رہے ہو یہ سب تم کیا تم میری وجہ سے ” بہزاد نے گلاسز لگائے ہلکا سا مسکرایا اور آگے چلنے لگا
بہزاد “
شجر میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا اور تمھاری وجہ سے میں اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ نہیں لوں گا اتنا بیوقوف نہیں ہوں تمھیں یہ غلامی مبارک ہو “
جانتے ہو اس سے تمھارے پیچھے بہت لوگ لگ جائیں گے “
لگ جائیں مجھے یقین ہے تم اپنا آپ مجھ پر ثابت کرنے کے چکر میں مجھے ہر بار بچا لو گے ” وہ ہلکا سا ہنسا اور اسکے پہلو سے نکل گیا
سوچ ہے تمھاری میں تمھارے باپ کا نوکر نہیں ہوں ” شجر بھڑکا وہ خود کو آخر سمجھ کیا رہا تھا ۔
بہزاد نے اسکا غصہ ناک پر بھی نہیں رکھا اور گاڑی میں سوار ہو گیا
شجر بھی البتہ غصے سے گھر کے لیے نکل گیا
دو ماہ میں اسکی زندگی میں ایک خوشگوار تبدیلی آئی تھی
اور وہ پلوشہ کا ساتھ تھا جو بہزاد کے خلاف تو کچھ بھی نہیں سنتی تھی لیکن وہ اس کے ساتھ ضرور ہوتی تھی ۔
اس سے محبت ضرور کرنے لگی تھی
وقت کی دھول ہر شے پر سے رفتہ رفتہ ہٹنے لگی تو سب کو سب کچھ صاف دیکھائی دینے لگا
پلوشہ کو بھی اعتبار ا گیا تھا کہ شجر نے نانی جان کو نہیں مارا اس دن وہ صرف بہزاد کو مارنے کے لیے آیا تھا جس پر وہ شرمندہ بھی تھا پشتا بھی رہا تھا
اور نانی جان کا حادثہ اسکے لیے خود شاکینگ تھا جو کہ ہارون نے کروایا تھا اور اسکا علم اسے خود بھی نہیں تھا
پلوشہ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی آج اسنے خود سے چھٹی کر لی تھی طبعیت کچھ خراب تھی
تم یہاں کیا کر رہی ہو رات سے تمھیں بخار ہے اور تم کچن میں ا گئ ہو ” شجر نے اسکی کمر میں پیچھے سے بازو ڈالے جبکہ پلوشہ نے گھیرہ سانس بھرا
مہروز اور روح مجھے لینے ا رہے ہیں میں نے سوچا پہلے آپکے لیے کھانا بنا دوں باہر جاوں گی تو فریش ہو جاؤ گی “
کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں جانے کی یہ روح کا شوہر پہلے ہی میرا دماغ خراب رکھتا ہے اور تمھارا موڈ صرف میرے ساتھ رہ کر ٹھیک ہو سکتا ہے ان لوگوں کے ساتھ نہیں ” وہ منہ بنا کر اسکے شانے پر ٹھوڑی رکھتا بولا پلوشہ ہلکا سا مسکرائی
کافی زیادہ خوش فہم ہیں اپ ” وہ اسکی جانب مڑی اور شانے اچکا دیے
میں خوش فہم نہیں ہوں مجھے علم ہے میرے ساتھ خوش ہو میرے لیے شاید دنیا کی یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ تمھیں مجھ پر اعتبار ا گیا ” وہ اسکے گال پر ہاتھ رکھتا نرمی سے سہلانے لگا
پلوشہ مسکرا دی اور کھانے کی جانب مڑا گئ
لیکن شجر نے چولہے کا بٹن آف کیا اور اسے اپنی سمت موڑ لیا
شجر ” وہ اسکے چہرے پر جھکا
اور اسکی سانسوں کی مہک میں سانس بھرنے لگا ۔۔۔ پلوشہ اسکے بازو تھام گئ ۔
کچھ دیر کے توقف سے وہ اپنی مرضی سے دور ہوا تو پلوشہ شرما کر کچھ فاصلے پر ہو گئ
شجر اسکے شرمیلے چہرے پر پھیلے کئی رنگ مسکرا کر دیکھا رہا تھا
آپ کھانا کھا لیں مجھے جانا ہے “
تم کہیں نہیں جا رہی “
وہ دونوں پھر اپ سے لڑیں گے پھر ایک لمبی بحث چھیڑ جائے گی ” پلوشہ عاجز سی بولی
میں نے گارڈ سے کہہ دینا ہے ان دنوں کو اندر ” اس سے پہلے وہ بات مکمل کرنا روح مہروز سمیت ماہ نور بھی اندر ا گئ ماہ نور تو کافی جھجھکی ہوئی سی رہتی تھی
روح اور مہروز ہی کافی تھے ۔۔
تم تیار نہیں ہوئی ” روح ایکدم چیخی
چونچیں لڑانا بند ہوں تو انسان کچھ اور کرے ” مہروز نے بھی طنز اچھالا
وہ کہیں نہیں جا رہی جہاں تم لوگوں نے جانا ہے جاو ” شجر نے کہا
اور پلوشہ دوبارہ چولہا چلا گئ کیونکہ جانتی تھی یہ بحث طویل ہونے والی ہے
لو جی اب ان کی بھی سنو جب ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں تو آپکو مسلہ کیا ہے کچھ دیر بیوی کے پلو سے دور بھی رہتے ہیں “
یہ بات اپنے شوہر کو سیکھاؤ میں تو خیر سے کام پر جاتا ہوں ” اسنے بھی لگے ہاتھ سنا دی
روح کو کچھ شرمندگی سی ہوئی
دیکھو بھائی تمھارے منہ ہم لگنا ہی نہیں چاہتے پلوشہ تم تیار ہو کر جلدی آؤ ” مہروز نے صاف کہا اور پاس پڑا فروٹ اٹھا کر کھانے لگا
اچھا میں کھانا بنا لوں پھر چلتے ہیں بیٹھ جاؤ تم لوگ بھی “
ہاں یہ ٹھیک ہے ویسے بھی میرا دل صبح سے گھبرا رہا ہے ” مہروز دل پر ہاتھ رکھتے بیٹھ گیا
کہیں میں پریگنینٹ تو نہیں ” اسنے ماہ نور کی جانب دیکھا
استغفراللہ ” وہ سب یک زبان بولے جبکہ وہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگا تھا ۔
شجر نے پلوشہ کو گھورا جس نے بے چارگی سے معصوم سا منہ بنایا
وہ غصے سے اندر چلا گیا
کوئی جل گیا ہم لوگوں سے ” مہروز اور روح نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
دفع ہو جاؤ دو منٹ میں تم سب ” شجر بھڑکا
تم سن رہی ہو اور ہمیں سنوا رہی ہو کیسی بہن ہو تم یار ” روح نے پلوشہ کی جانب دیکھا تو پلوشہ نے شجر کی طرف ۔۔۔۔
اگر اپ نہ بھی لڑیں تو کیا ہو جائے گا “
ہاں اسکے وقت کا نقصان ہونے والا ہے اسکے صبر کا امتحان ہونے والا ہے اکیلا آدمی کمرے میں لیٹ کر لیا کرے اسکی بیوی کو تو ہم لے کر جانے والے ہیں ” مہروز نے اٹھلا کر کہا تو ماہ نور بے ساختہ اسکی حرکتوں پر ہنس دی جبکہ وہ اسکی سمت مڑا
ماشاءاللہ اللّٰہ نظر بد سے بچائے کیا کمال ہنستی ہو تم “
روح اور پلوشہ سر پیٹ گئیں جبکہ شجر کا تو بس نہیں چلا گن نکال کر ایک ایک کو اڑا دے ماہ نور ذرا گھبرائی اور مہروز اسکا ہاتھ تھام گیا
اب تم دونوں ا رہی ہو یہ میں جاؤ ” وہ ہاتھ جھاڑتا بولا
کھانا تو کھا لو ” پلوشہ بولی
باہر کھا لیں گے یار ا جاو “
ہاں ٹھیک ہے کچھ باہر سے کھائیں گے ” روح بھی اٹھی ابھی اٹھی ہی تھی کہ چکر سا آیا اور دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئ
کیا ہوا روح ” پلوشہ نے اسکا ٹھنڈا پڑتا چہرہ چھوا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی
معلوم نہیں دو دن سے بلاوجہ چکر ا جاتا ہے ” وہ شانے اچکا کر دوبارہ کھڑی ہوئی تو چکر اب کہ شدید آیا اور گھوم کر صوفے پر پڑی سب پریشانی سے اسکی جانب برھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ نے اسے چیک کیا بہزاد کو مہروز نے بلا لیا تھا وہ پہلی بار شجر کے گھر آیا تھا اور لاکھ ضد کے باوجود پلوشہ نے اسے روح کو لے جانے نہیں دیا تھا
وہ پریشانی سے بیٹھا پلوشہ کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ گئ
ہوا کیا ہے۔” اسنے بیس منت میں ہزار بار یہ سوال کر لیا تھا
امم ممم مہروز چاچو بننے والا ہے “
اسمے مہروز کی جانب دیکھا جو سیب کھا رہا تھا ساتھ ماہ نور کو بھی کھل رہا تھا ایکدم اچھل پڑا
واٹ “
و۔۔۔واقعی سچ کہہ رہی ہو ” بے ساختہ ہر شخص کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی
افکورس بھی اب روح کا بہت خیال رکھنا ہے اور شاپنگ پر اسے لے جانا بند کرو اب ” پلوشہ نے کہا تو وہ خوشی کے مارے جھوم گیا
جبکہ بہزاد سنجیدگی سے روح کو اپنے بازوں میں اٹھا کر وہاں سے نکل گیا وہ سب اسے دیکھتے رہ گئے
اسکے دماغ کی کسی کو سمجھ نہیں آتی کب کیا سوچ رہا ہو ” مہروز بھی وہاں سے نکل گیا
اب وہ اور ماہنور اکیلے شاپینگ پر جا رہے تھے لیکن البتہ وہ خوش بہت تھا جبکہ شجر نے پلوشہ کو اندر کمرے میں کھینچ لیا
شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ہم دونوں کو تو ” شجر نے دروازہ بند کیا
پلوشہ کھلکھلا کر ہنس دی
اپ بہت جیلس ہوتے ہیں “
بات جیلسی کی ہی ہے ” وہ ناراضگی سے اسے بازوں میں اٹھا گیا
شجر ” پلوشہ نے پکارنا چاہا
آج کچھ نہیں بس منہ بند رکھو اپنا ” اسنے کہا اور اسے بستر پر پٹخ دیا جبکہ پلوشہ اپنا چہرہ چھپا گئ
۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد اسے گھر لایا تو اسکی انکھ کھلی گئ
بستر پر وہ لیٹی ہوئی تھی اسنے اٹھ کر اردگرد دیکھا
لیٹ جاؤ “
اہ مہروز اور باقی سب آپ نے مجھے جانے نہیں دیا ” وہ منہ بسور کر بولی
یو آر ایکسپیکٹیڈ اب تم اس بستر سے نہیں اترو گی میں نے میڈ سے کہہ دیا یے وہ تمھاری ایک آواز یہاں ہو گی ” وہ اسکا گال چھوتا بولا
م۔۔می ” اسے یقین نہیں آیا
یس یو ۔۔۔۔۔
ہم دونوں
ہاں ہم دونوں “
ل۔۔لیکن کیسے ” وہ حیرانگی سے انکھیں پھیلائے ہوئے بولی
محنت کم کی ہے ” وہ آنکھ دبا گیا
ریزلٹ تو آنا ہی تھا “
حد ہوتی یے شرمی کی بھی ” وہ جھجھک کر دور ہوئی اور بے ساختہ آنسو ا گئے اسکی آنکھوں میں ۔۔۔۔
ہم اپنے بے بی کا بہت سارا خیال رکھیں گے ” اسنے بتایا تو بہزاد مسکرا کر سر ہلا گیا
شاید پہلے پہل سے اچھا نہیں لگا یہ اسکے اندر کیا جذبات تھے وہ خود بھی سمجھ نہیں سکا لیکن رفتہ رفتہ یہ حساس اچھا لگنے لگا
بہزاد اپ سے ایک بات کہوں ” اسنے اسکا بازو پکڑ لیا
بہزاد اسکے پہلو میں بیٹھ گیا اور اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا
ہاں کہو ” وہ نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
ہم دونوں یہاں سے چلے جائیں
میں یہاں نہیں رہنا چاہتی پلیز ” وہ بولی تو اسنے جھک کر اسکی پیشانی چوم لی
ہم بہت جلد یہاں سے چلے جائیں گے
کسی پر سکون جگہ پر ” وہ مسکرا کر بولا تو روح خوش ہو گئ اور اسنے اسکے گلے میں بازو حائل کر لیے
میں نے اپکو گفٹ دیا ہے اب آپ مجھے کیا دیں گے “
محترمہ اس میں اپکا کمال کیا ہے ” وہ ذو معنی لہجے میں بولا
بہزاد ” وہ سرخ سی ہوئی جبکہ بہزاد ہنس دیا اور اسکا چہرہ تھام کر اسکے ہونٹوں پر نرمی سے پیار کیا
میں پورے کا پورا تمھارا ہوں اور حکم کرو کیا چاہیے تمھیں “
ہاں وہ تو ٹھیک ہے مگر وہ جو آپکے بازو پر روح لکھا ہے اسکو بلیک ٹیٹو سے واضح کروا لیں ” وہ جوش سے بولی
بس اتنا ہی ” بہزاد نفی میں سر ہلانے لگا
ہاں “
ٹھیک ہے پھر تم دل پر میرا نام لکھوا لو “
پکا “
میں خود لکھو گا ” وہ انکھ دبا گیا
ن۔۔نہیں اپ بہت بدتمیز ہیں ” روح چہرہ چھپاتی دور ہوئی جبکہ بہزاد اسے پھر سے اپنی سمت کھینچ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد