No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
وہ ہوش میں آئی تو لگا ارد گرد بہت اندھیرا ہے جبکہ کمرے میں نائیٹ بلب اون تھا
آنکھ کھلی تو ایک اذیت بھرا آنسو انکھ سے نکلا اور گال پر پھسلتا چلا گیا
اسکا دل کو وہ خود کو ختم کر لے یہ تو وہ بہت کمزور تھی یہ لوگوں پر ٹرسٹ بہت جلدی کر لیتی تھی اسے لگ رہا تھا کہ وہ ہارون سے خود کو بچا سکتی ہے ایک جھٹکے سے وہ قیامت سا منظر یاد کرتی وہ بیڈ چھوڑ کر اٹھی اسنے نہیں دیکھا وہ کس چیز سے ٹکرائی کیا ہوا کیا نہیں وہ اٹھی اور واشروم میں بند ہو گئ
اسنے اپنے ہونٹ رگڑ دیے لیکن وہ گند تو لگ گیا تھا سے جو عرصے پہلے بھی یوں ہی لگا گیا تھا ۔
وہ ہچکیاں لے رہی تھی اسے خود پر اپنی کمزوری پر اپنی سانسوں پر غصہ ا رہا تھا اتنی غصہ جو جنوں بن رہا تھا اسنے شیلف پر اپنے بازو زور زور سے دے مارے واشروم میں موجود سامان اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا اور منہ پر ہاتھ رکھے وہیں روتی چلی گئ
وہ تو کہیں بھی سیو نہیں تھی
اسکی سانسیں کوئی بھی شخص اپنے قبضے میں کر سکتا تھا اسے کوئی بھی بیوقوف بنا سکتا تھا ۔
وہ چلا اٹھی اور اسکی درد ناک چیخ پورے گھر میں گونجی ایکدم انیسا چونکی
وہ دوڑی اپنے کمرے سے رات سے ہارون سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی وہ جبکہ ہارون اسے بار بار سمجھا چکا تھا کہ اس میں غلطی روح کی تھی اسکی نہیں اسکے بھاگنے پر ہارون کو یقین ہو چلا کہ وہ اسکی بات پر یقین نہیں کر رہی
انیسا روح کے کمرے میں آئی اور یہ بھیانک چیخ سن کر حمزہ جو رات ہی آیا تھا اور ماہ نور باپ کے پاس آ گئے
کیا ہوا ہے روح چیخ کیوں رہی ہے ” ان دونوں کے سوال پر ہارون نے ان دونوں کو پیار کیا
کچھ نہیں ہوا تم لوگ تو جانتے ہو وہ سائیکو سی لڑکی ہے ریسٹ کرو دونوں جا کر ” وہ انھیں پیار کرتا ہوا بولا تو کچھ دیر میں وہ دونوں وہاں سے چلے گئے اور دوسری طرف روح کی واشروم میں حالت دیکھ کر انیسا کا دل پھٹنے کو تھا
روح ” وہ اسکی جانب بڑھتی کہ وہ حلق کے بل چیخی
دور رہیں مجھ سے ” انیسا کے قدم وہیں رک گئے
آج بھی آپ میرا یقین نہیں کریں گی کیونکہ اپ خود ایک گندی عورت ہیں
آپ ایک قاتلہ ہیں آپ کو فرق نہیں پڑتا اپکا شوہر مجھے حراس کرتا ہے یہ نہیں کرتا آج سے بہت سال پہلے بھی یہ ہی ہوا تھا اور یقین نہیں کیا تھا آپ نے میرا ۔۔۔
مجھے آپ کی ضرورت کبھی نہیں تھی مام کبھی بھی نہیں ۔۔۔
پلیز چلی جائیں یہاں سے ” وہ چلا نہیں رہی تھی لیکن اسکی آواز میں ایک درد ناک چیخ تھی جسے وہ اپنے ہی اندر دبانا چاہ رہی تھی
تمھارا ان ہیلر ٹوٹ گیا تھا
ہارون تمھاری مدد “
مام ” وہ دھاڑی
مجھے لگا تھا آپ میرے ساتھ ہوں گی لیکن ۔۔۔ اسکی ہچکیوں نے اسے روک دیا
اسکی سانسیں اکھاڑنے لگیں تھیں اسنے اپنے دل پر غصے سے کئی مکے مار دیے کہ پھر وہ ہی تماشہ شروع ہو گیا
اور انیسا اس بے بس لڑکی کے پاس آئ اسنے اسکے لیے ان ہیلر منگا لیا تھا اسکے لبوں سے لگا دیا
مجھے اب مر جانا چاہیے ” اسنے ان ہیلر ہٹا دیا
روح یہ سب ایک برا حادثہ سمجھ کر بھول جاؤ ” وہ اسے پکارنے لگی یعنی ہارون پر بھروسہ کرتی تھی روح کی آنکھیں ویران سی ہو گئیں اسکا لباس گیلا ہو گیا تھا وہ فرش پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
انیسا نے اسے اٹھایا ۔۔۔۔۔
وہ اسکے ساتھ اٹھی اور اپنی کمزوری جو اسے بے بس کر دیتی تھی اسنے اپنے کانپتے ہاتھوں میں اپنی کمزوری تھام لی
شاید دنیا میں اپنی ہی کمزوری سے کسی کو اتنی نفرت نہیں تھی جتنی نفرت اسے ہوئی تھی وہ بیڈ پر بیٹھ گئ
انیسا نے اسکا لباس تبدیل کرانا چاہا لیکن اسنے اسے روک دیا اور یوں ہی بیٹھی رہی
ان ہیلر البتہ لبوں سے لگا تھا
تم پریشان نہ ہو ایسا ہو جاتا ہے وہ بس تمھاری مدد کر رہا تھا ” اسنے کہا تو روح کی انکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گیرنے لگے جنھیں اسنے صاف کیے مگر روح اسکے بعد ایک لفظ بھی نہیں بولی
انیسا اسے ناشتہ لانے کا کہہ کر نیچے ا گئ
نیچے وہ تینوں ہی ناشتہ کر رہے تھے انیسا نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا روح کے لیے ناشتہ بنانے لگی
ابھی وہ ناشتہ بنا رہی تھی کہ اچانک روح باہر آئی وہ ہی بے ترتیب حلیہ غمزدہ سی حالت اور چہرے پر برسوں کی تھکان لیے وہ الجھی بکھری سی گھر سے نکلنے لگی
روح ” ماہ نور اٹھ کر اسکی جانب بڑھی
یہ کیا حال بنایا ہوا ہے کیا ہوا ہے ” ماہ نور نے کہا تو روح نے اسے جواب نہیں دیا حمزہ بھی حیران ہوا تھا لیکن ہارون نے روک دیا
روح بنا سنے صرف وہ موبائل جو بہزاد نے اسے دلایا تھا لے کر اپنے ساتھ وہاں سے نکل گئ جبکہ ماہنور نے اسے لاکھ روکا تھا
انیسا کو جب یہ پتہ چلا تو وہ کچن سے دوڑ کر نکلی اور روح کے پیچھے بھاگی لیکن روح معلوم نہیں لمہوں میں کہاں چلی گئ تھی
ک۔۔۔کہاں گئ ہے روح ” ماہنور کو جھنجھوڑنے انیسا بری طرح رو دی
وہ اسطرف میں دیکھ ” وہ باہر نکلتی انیسا خود ہی باہر دوڑ لگاتا گئ
روح روح میری بیٹی کہاں ہو تم مجھے یقین ہے تمھاری بات کا روح ” وہ ادھر ادھر دیوانوں کیطرح دیکھنے لگی مگر روح کہیں بھی نہیں ملی وہ چکرا کر روڈ پر ہی غیر گئ
جبکہ وہاں کھڑے گارڈز بھی ہارون کے حکم کے غلام تھے کوئی اپنی جگہ سے ہلا نہیں تھا ماہ نور نے انیسا کے بے ہوش ہونے پر چیخ ماری تو ہارون اور حمزہ بھی ا گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو بہتر خوراک لینی چاہیے میں نے چارٹ بنا دیا ہے نرس اپکو پرووائیڈر کرتی رہے گی ” پلوشہ نرمی سے بولی
کب تک تم مجھے بچوں کیطرح ٹریٹ کرو گی صرف ایک گولی ہی تو تھی اور مجھے لگتا ہے میں اب ٹھیک ہوں “
ہائے ایسے برے برے دن ہماری زندگی میں بھی آئیں ایسا عاشقانہ ماحول تو ہم بھی ڈیزرو کرتے ہیں ” پلوشہ کو انکھ مارتا وہ بولا اور بہزاد کے بیڈ پر چڑھ گیا
بہزاد کو یہ سب وقت کا ضائع لگ رہے تھے مگر پلوشہ یہاں سے ہلنے ہی نہیں دے رہی تھی ۔
بہزاد گولی آپکی ہڈی کو ڈیمیج کر کے گئ ہے تبھی اس ٹانگ کو ابھی ضرورت ہے ریسٹ کی ” پلوشہ بولی تو بہزاد گھیرہ سانس بھر گیا
تبھی دروازہ کھلا اور روح دروازے میں کھڑی ہو گئ ۔
بہزاد ایکدم سیدھا ہوا اور مہروز بھی کھڑا ہو گیا
پلوشہ بھی پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔ اسکی حالت پر ۔۔۔۔
روح “
مہروز آگے بڑھا بہزاد نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اسے ریلائز ہو کہ واقعی اسکی ہڈی ڈیمیج تھی کہ وہ کھڑا نہیں ہو سکا دوسری طرف پلوشہ بھی اسکی جانب بڑھی تھی
روح البتہ بہزاد کو دیکھ رہی تھی
کیا ہوا ہوا ہے یہ کیا حالت ” وہ سب لوگ شاید بے لوث تھے اسنے ان کو دھوکہ دیا لیکن وہ اس وقت اسکے لیے کتنا پریشان تھے
اسنے ایک ہچکی بھری اور بہزاد کو لگا اسکا سانس اسی ہچکی میں ہی رک گیا
اسنے پرواہ نہیں کی اسکے بعد زبردستی خود کو گھسیٹ کر وہ درد سے اٹھا تھا
بہزاد ” پلوشہ نے اسے پکارہ مگر بہزاد نے پرواہ نہیں کی مہروز بھی پریشان ہوا اسکی انجری سیریس تھی ۔۔۔۔
روح آگے بڑھی اور بجلی سے اسکی بانہوں میں سما گئ
اور اسطرح تڑپ کر روئی کہ مہروز پلوشہ بھی شاکڈ رہ گئے وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے رو رہی تھی
وہ لب بھینچے کھڑا تھا وہ تادیر اسکے سینے سے لگی روتی رہی تھی ۔
م۔۔۔۔مجھے مجھے معاف کر دیں بہزاد ” اسنے اپنے نازک ہاتھ اسکے آگے جوڑ دیے بہزاد نے ان ہاتھوں کے زخموں کو دیکھا
وہ اب بھی خاموش تھا وہ لمہوں میں بات کی تہہ تک پہنچ جانے والا شخص تھا اور معملہ کچھ کچھ اسکی عقل کو لگ رہا تھا خیر روح کی حالت دیکھ پلوشہ اور مہروز کو بھی لگ رہا تھا
میں ۔۔۔ میں اپکو دھوکا نہیں دینا چاہتی تھی لیکن مجھے بتایا ہی سب ویسے گیا میں نے اپکو مجرم سمجھ لیا
مجھے معاف کر ۔۔۔کر دیں میں وہ فائل نہیں لا ۔۔پائی ” وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔
ل۔۔لیکن میں سچ میں سچی والی محبت کرتی ہوں اپ سے ” اہستگی سے بڑی معصومیت سے وہ اظہار کر رہی تھی
اسنے بہزاد کا کوئی ریسپونس نہ پا کر ایک قدم پیچھے لیا ۔
اور وہاں سے جانے لگی مہروز کے وجود میں ہلچل ہوئی شاید وہ ایسا انسان تھا ہی نہیں کہ لوگوں کو اتنی طویل سزا دیتا
پلوشہ نے بھی بہزاد کی جانب دیکھا روح البتہ نکل گئ ۔
وہ ٹوٹے ہوئے قدموں شکستہ دل اور آنکھوں کے بوجھ کو لیے ہاتھ میں ان ہیلر اور ایک ہاتھ میں موبائل لیے وہاں سے جانے لگی لوگ اسے مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے
اسکی حالت اسکا حلیہ ہی ایسا تھا
بہزاد نے مہروز کی جانب سرخ نظروں سے دیکھا
پکڑو اسے ” وہ بس اتنا ہی بولا اور مہروز باہر بھاگا
اسکی اجازت کے بنا تو وہ نہیں کر سکتا تھا یہ کام وہ باہر نکلا روح جا رہی تھیں مہروز اسکے سامنے ا گیا
روح نے آنسو صاف کیے اور اس کے اگے بھی ہاتھ جوڑ دیے
جنھیں مہروز نے تھام لیا
کیا ہو گیا ہے تمھیں لڑکی بھیگتی اچھی لگتی ہو تم ایسے کیوں کر رہی ہو اور ہم تمھاری جان اس معافی پر نہیں چھوڑنے والے تم وہ فائل لا کر دو گی ہمیں ” وہ ہلکا سا مسکرایا
ن۔۔نہیں میں اب ۔۔ اب نہیں جاوں گی ہارون بیگ کے گھر میں ۔۔۔ میں بہت عام سی لڑکی ہوں یہ میری کمزوری ہے سب سے بری میں پھنس گئ
میں سب کے کہنے میں ا گئ میں ایسی نہیں ہوں اپ ۔۔ آپ سب بڑے لوگ ہو میرے پاس آپ لوگوں جیسی ذہانت نہیں نہ حوصلہ میں کچھ بھی نہیں ہوں میں کسی کی مدد نہیں کر سکتی ” وہ جلدی جلدی بولی اور پھر جانے لگی
کیا ہوا ہے ” مہروز سنجیدگی سے بولا
ک۔۔کچھ نہیں ” وہ اپنے آنسو حلق میں دبانا چاہ رہی تھی لیکن اس سے ہو ہی نہیں رہا تھا
مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے اور مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے جو ہو گیا سو ہو گیا ” مہروز نے نرمی سے کہا
تو روح کو یہ نرم لہجہ شدت سے رونے پر اکسا رہا تھا
کیوں رو رہی ہو یار مجھے بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے ” وہ بولا تو روح روتے روتے نیچے بیٹھتی چلی گئ
م۔۔میں بہت کمزور ہوں میں اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی ہا۔۔ہارون بیگ نے مجھے ” وہ تھم گئ
اور مہروز کی آنکھیں کھل گئیں
دل میں گمان بھی آیا کہ وہ کہیں پھر سے ان لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا رہی لیکن اسکی حالت گواہ تھی
کیا کیا ہے اسنے ” وہ لب بھینچ گیا اسکے اندر غصے کا طوفان اٹھ رہا تھا
روح نے سے سارا ماجرا بتا دیا اور وہ تڑپ تڑپ کر رو دیں گندی ہو گئ ہوں میں بہزاد کے ساتھ رہنے لائق نہیں ہوں ” اسنے ان ہیلر سے سانس کھینچا اور آہستگی سے بولی رو رو کر آنکھیں سوجھا لیں تھیں ۔۔۔
مہروز کے اندر کافی اشتعال تھا
تم یہ بات بہزاد کو تو نہیں بتاؤ گے نہ وہ ۔۔
وہ مجھے پھر سے دھوکے باز سمجھیں گے مجھے جانے دو ” وہ اٹھ کر وہاں سے فرار ہونے لگی تھی
بہت عقل ہے نہ تمھارے پاس جس کا مزید استعمال کرنا چاہ رہی ہو ” مہروز نے اسکا بازو جکڑا اور پلوشہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھے
تم فکر نہ کرو روح ہم تمھارے ساتھ ہیں آؤ میں تمھاری ڈریسنگ کر دیتی ہوں ” اسنے شاید سب سن لیا تھا
روح ان لوگوں کو دیکھ کر حیران تھی وہ نہ ہی خود غرض تھے نہ ہی اس سے نفرت کر رہے تھے اسکی انکھ سے ایک منٹ کے لیے بھی آنسو بند نہیں ہوا لیکن وہ بہزاد کا سامنا کرنے کی خواہ نہیں تھی جبکہ وہ اندر سلگ رہا تھا کہ وہ تینوں باہر ہی مر گئے تھے اندر کیوں نہیں ا رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر عباس کہاں ہو تم “
کہیں نہیں سر بس یہیں ہوں جی بتائیں آپ ” وہ ایڈیٹ مرتضی ایک ادمی کو مار نہیں سکا الٹا اپنے آدمی ہی ماروا لیے ” ہارون بولا تو شجر نے کوئی جواب نہیں دیا
اچھا یہ فائل لو یہ علی شاہ کی فیکٹری فائل ہے جو ہمیں بہزاد کے گھر سے ملی ہے اور یہ اوریجنل فائل ہے ان دونوں کو کورٹ میں سمنٹ کرا دو “
کب تک بہزاد علی شاہ فرار رہے گا آخر کو اسکی موت اسکی منتظر ہے “
جی سر ” شجر نے کہتے ساتھ ساتھ سے فائل تھام لی
ہارون مسکرا کر اسکا شانہ تھپتھپا کر وہاں سے نکلا تو شجر نے ان دونوں فائلوں کو کھول لیا دونوں فائلیں بلکل مختلف تھیں اور اسنے دونوں فائلز بند کر دیں
اچانک اسکا موبائل رینگ کرنے لگا اور مبین خان کی کال دیکھ کر اسے لگا اس میں زندگی ا گئ ہو فورا کال اٹھا کر اسنے کان سے موبائل لگا لیا اور اپنا روم لاک کر لیا
بہت گتھیاں تھیں جو سلجھنی ضروری تھی اگر نہ سلجھتی تو شاید وہ پاگل ہو جاتا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح کو پلوشہ نے اپنے کیبن میں ہی ناشتہ کرایا تھا
بار بار پوچھ رہا ہے وہ ۔۔۔ روح تمھیں اسکے پاس جانا پڑے گا اور اسے یہ بات بھی بتا دینی چاہیے وہ بچہ نہیں ہے ” مہروز بولا تو روح ایکدم ڈر گئ
وہ مجھ سے نفرت کریں گے ” ۔
ہاں پہلے بڑی محبتوں کے جھنڈے گاڑھ رکھے ہیں اسنے بس کرو اور جاؤ ہم لوگ یہیں ہیں”
نہیں ” وہ ڈر کر وہیں بیٹھ گئ
مہروز ” پلوشہ نے اسے روکا تو وہ لب بھینچ گیا
ٹھیک ہے میں نہیں جا رہا پھر اب اسکے پاس ۔۔۔ وہ بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گیا
پلوشہ نے روح کو نرمی سے دیکھا اور ہاتھ تھپتھپایا
اور اسکی ڈریسنگ کرنے لگی جبکہ وہ ناشتہ بھی آرڈر کر چکے تھے ۔۔۔۔
پورا دن وہ پلوشہ کے روم میں رہی اور پورا دن مہروز سے یہ ساری رہی تھی کہ وہ اسے بلا رہا ہے لیکن اسکی ہمت نہیں جڑ رہی تھی وہ اسے بتائے پہلے اسنے اسے دھوکا دے دیا اب اسکی ہی چیز میں خیانت کر دی
وہ ہمت مجتمع نہیں کر پا رہی تھی اور دوسری طرف رات ہو گئ بہزاد کی ہمت جواب دے گئ
وہ کافی غصے میں تھا تبھی پلوشہ اور مہروز تو پٹخے بھی نہیں وہاں البتہ روح کو پتہ چل گیا تھا
رات بھی گھیری ہو گئ روح وہیں ٹیبل پر سر رکھے بیٹھی ہوئی تھی
اچانک دروازہ کھلا اور دروازے میں بہزاد علی شاہ کو دیکھ کر وہ ایکدم چییر چھوڑ کر اٹھی
وہ اندر ایا کچھ لنگڑا کر چل رہا تھا جو گواہ تھی بات اسے درد ہوا تھا اس تک پہنچنے میں روح کو شرمندگی سی ہوئی وہ اسکے پاس جا سکتی تھی
اپ ” یہ تو تم میرے پاس آ جاو ورنہ خدا کی قسم تمھیں شوٹ کر دوں گا ” وہ غرایا اور پلٹ گیا
دیوار کا سہارا لیتے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ روح کو پھر سے رونا انے لگا اور وہ واقعی اسے شوٹ کر دیتا اسی خوف سے وہ
اسکے پیچھے پیچھے اسکے روم میں ہو لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی جبکہ بہزاد بیڈ پر بیٹھا تھا
کیا ہوا ہے ” اسنے سختی سے پوچھا
کچھ نہیں ” وہ اہستگی سے منمنائی
بہزاد نے غصے سے سائیڈ ٹیبل پر پڑی چیز اسکے پاوں میں دے ماری
روح کی چیخ نکلی وہ شاید ڈریپ تھی اسکے پاوں کے قریب پھٹی اسے نقصان تو نہیں ہوا لیکن وہ ڈر کر بہزاد کو دیکھنے لگی
ادھر آؤ ” اسنے برہمی سے اسے اپنے نزدیک بلایا اور وہ سانس حلق میں اتارتی اسکے نزدیک ا گئ
بہزاد نے اسکا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑا
روح اسے کیا بتاتی وہ اسکی صورت دیکھنے لگی
بتاؤ مجھے ہارون نے تمھیں تنگ کیا ہے ” اسنے اسکی مشکل خود ہی آسان کر لی جبکہ روح کی کلائی پر اسکے ہاتھ کی سخت گرفت گواہ تھی کہ وہ پھٹنے کو بے تاب ہے
روح نگاہیں نیچے کیے سر ہلا گئ “
کیا کیا ہے اسنے ” وہ اسے جھنجھوڑ گیا ۔۔۔
اور روح ڈر گئ
ک۔۔کچھ “
شیٹ اپ تمھیں اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہو ہاں پاگل ہوں میں جو تمھارے پیچھے پڑا ہوا ہوں
اور میں تمھارے پیچھے ہوش کے ناخن لو محترمہ میرا مقصد ایک ہے ہارون تمھیں چھیڑے یہ کوئی تیسرا مجھے فرق نہیں پڑے گا دفع ہو جاؤ یہاں سے ” وہ اسپر بے جا زلزلہ اتارنے لگا روح بے ساختہ رو دی
دھوکے باز لڑکی ہو تم دوبارہ کوئی تماشہ کر رہی ہو ” وہ بیڈ پر لیٹ گیا اسکے دل پر جیسے جلتا کوئلہ رکھ دیا تھا کسی نے اور دوسرا اسکی ٹانگ چلنے کا نام نہیں لے رہی تھی اگر چل پڑتی تو وہ ہارون کو بیچ میں سے چیڑ دیتا وہ سننا ہی نہیں چاہتا تھا جو روح بتانا نہیں چاہتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیسا کو ہوش آیا تو وہ فورا ہارون کا گریبان جکڑ گی
تم نے میری بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے ہارون بیگ تم نے یہ بہت غلط کیا ہے تمھیں یہ لگ رہا تھا کہ میں یہ سب نہیں دیکھو گی تم تمھیں کیا لگتا ہے میرے پاس کوئ راز نہیں تمھارا تم نے میری بیٹی کو چھونے کی کوشش بھی کیسے کی ؟ انیسا دھڑی ہارون نے اسے حیرانگی سے دیکھا
راز؟؟؟؟؟؟؟
بس یہ الفاظ کہیں پھنس گیا اور ہارون بیگ اپنے راز کھلنے دے اور اس فضول سی روح کے لیے وہ خود کو مشکل میں ڈال لے ۔۔۔
اسنے انیسا کو دور کیا
تمھیں غلط فہمی ہے پہلے وقت سے کہہ رہا ہوں “
تم نے پہلے بھی کیا تھا یہ سب تم تم مجھے پاگل کر دو گے ہارون تم نے ہی مجھے علی شاہ کو مارنے کے لیے کہا تم نے صفدر کو مار دیا تمھاری وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کو یتیم خانے پھینک دیا اور تم نیچ انسان ۔۔۔۔
تم نے میری بیٹی پر گندی نظر رکھی میں چاہو تو عدالت میں جا کر تمھارا سارا کچا چٹھا کھول دوں میری بیٹی سے معافی مانگو اور آئندہ ہارون اسپر میلی نگاہ رکھی تم نے میں تمھاری آنکھیں نکال لوں گی ” وہ دھاڑ رہی تھی
جبکہ ہارون اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا
انیسا اس سے دور ہوئی اور روح کو کال ملانے لگی ہارون نے ایک نگاہ کمرے کے دروازے کو دیکھا اور پھر اسنے دوسری نگاہ وقت پر ڈالی
رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے
اگر کسی کی زندگی ساڑھے بارہ پر ہی ختم ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اس وقت اسکے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا
اسنے ایک تار نما چیز اٹھائی جو کہ ایسے ہی ڈریسنگ پر پڑی تھی شاید وہ اسکے بیگ کی سٹریپ تھی یہ پھر وہ کوئی اور چیز تھی وہ تار ہی تھی وہ ڈبل کر کے اسنے انیسا کی گردن میں ایکدم ڈالی اور زور سے دبا دی
انیسا کی آنکھیں باہر نکل آئیں
مجھے دھمکی دے گی تیری اتنی جرت تیرے لیے تو میں نے دن نہ دیکھا نہ رات دیکھی اور تو مجھے اس لنگڑی لولی لڑکی کے لیے باتیں سنا رہی ہے کہ تو میرے راز کھولے گی
تیری اوقات ہے اتنی ” انیسا اس تار کو اپنی گردن سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی اسکے ہاتھ سے موبائل چھٹ گیا
اور دوسری طرف کال اٹینڈ ہو گئ تھی یہ بات ہارون کو نہیں پتہ تھی
تو میرے راز کھولے گی تو ہے کون ۔۔۔۔ میں نے تجھے سر پر کیا بیٹھایا تو میرے سر پر ناچنے لگی ۔۔۔۔
نہیں نہیں انیسا بی بی اگر میں نے تجھ سے محبت میں دو قتل کیے تو میں اپنے لیے تیرا قتل کر سکتا ہوں “
انیسا کا چہرہ نیل پڑ گیا وہ رفتہ رفتہ مزید تنگ کر رہا تھا اسکی گردن پر تار اور انیسا کی یہاں تک کے گردن کی رگوں سے خون نکلنے لگا اسکا منہ آدھا کھلا رہ گیا
جبکہ ایک اور زندگی ہارون نے ختم کر دی ۔۔۔
اسنے آخری ہچکی میں بس اپنی بیٹی کو یاد کیا تھا
ہارون نے اسے دور دھکیل دیا اسکی پیشانی پر پسینہ تھا انیسا کی حالت دیکھ کر اسکی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے
مجھے معاف کر دینا لیکن تمھیں مجھے دھمکانا نہیں چاہیے تھا ” وہ اسکی پیشانی پر پیار کر کے اسکی آنکھیں اور منہ ایک کپڑے سے سختی سے باندھ گیا
اور گھیرہ سانس لے کر اسنے ہر قسم کے افسوس کو خود سے دور کیا اور وہ کمرہ لاک کر کے وہاں سے باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
