No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ڈاکٹر پلوشہ اپکا ہاتھ ” ڈاکٹر اسد نے اسکا ہاتھ فورا پکڑ لیا
آپ پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں پیشنٹس “
نہیں اپکو چوٹ لگی ہے ڈاکٹر امبر پلیز آپ اس پیشنٹ کو دیکھیں ” وہ اسے لے کر کیمپ میں آ گیا اور اسکے ہاتھ پر پٹی کرنے لگا
آپ پلیز پیشنٹس کو دیکھیں ” پلوشہ شرمندہ سی ہو رہی تھی
ڈاکٹر پلوشہ ہم بھی انسان ہیں ان پیشنٹس کیطرح اور ہمیں بھی کسی کی کئیر کی ضرورت “
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ شجر نے اسد کا ہاتھ جکڑ لیا اور اسکا ہاتھ جکڑا وہ اسوقت مکمل فوجی یونیفارم میں تھا اسنے اپنے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا اور اسی ہاتھ میں گن بھی تھی اسد نے میجر شجر عباس کو دیکھا اور کچھ پریشان سا ہوا
کئیر کرنے کے لیے یہاں میں موجود ہوں اپ اپنے کام پر توجہ دیں ” وہ ذرا سختی سے بولا تھا پلوشہ نے بھی سر اٹھا کر شجر کی طرف دیکھا اسکا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا ۔
اسد نے پلوشہ کو دیکھا
اور پلوشہ نے ہاتھ کھینچ لیا ڈاکٹر اسد پلیز آپ یہ مکمل کریں پھر ہم باہر چلتے ہیں ” پلوشہ نے کہا تو چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ا گئ شجر نے دانت پیس کر دیکھا ۔
جبکہ اسد خوش ہو گیا اور شجر کے سامنے اسنے اسکے ہاتھ پر پٹی باندھی اور پلوشہ کھڑی ہو گئ ۔
مجھے آپکی ضرورت نہیں ” وہ اہستگی سے کہہ کر باہر نکل گئ جبکہ شجر نے بس گردن گھوما کر دیکھا تھا وہ سر کو جنبش دے گیا اور باہر نکل کر دوسری طرف چلا گیا
انھیں تقریبا رات ہو گئ تھی ریسکیو کرتے کرتے اور تقریبا لوگوں کی جانیں وہ بچا چکے تھے کچھ شہید ہوئے تھے تو انکے لواحقین تک انکی ڈیڈ باڈیز پہنچانے کے لیے شجر ایمبلینسیز کا انتظام کرا رہا تھا کیونکہ بہت ساری ہونے کے باوجود بھی ضرورت تھی انکے کیمپس وہیں لگے تھے ۔۔۔
شفٹ بدل رہی تھی ٹیم کھانا کھا رہی تھیں
سر آپ بھی کچھ کھا لیں ” ڈاکٹر امبر اسکے پاس کھانا لے آئی
اسنے سامنے دیکھا وہ اسد سے کوئ بات کر رہی تھی اور کھانا بھی کھا رہی تھی ۔۔۔
نو تھینکس ” اسنے بس اتنا ہی کہا اور ڈاکٹر امبر پلوشہ کے پاس اگئیں
یار کتنا کھڑوس ہے یہ بندہ صبح سے ایک پاوں پر کھڑا ہے جیسے قسم کھا لی ہو کچھ نہیں کھاؤ گا ” امبر نے پلیٹ میں سے کھاتے شجر کی جانب دیکھا جو ایک بوڑھی عورت کی مدد کر رہا تھا ان تینوں نے ہی دیکھا تھا
آآآ ہی از سو کائینڈ یار”
میرا تو دل ہی ا گیا ” امبر دل ہر ہاتھ رکھتی مزے سے بولی پلوشہ نے سر جھٹکا
کبھی بھی کسی بھی کتاب کو اسکے کور پیج سے جج نہیں کرنا چاہیے امبر ہو سکتا ہے جیسا دیکھ رہا ہو ویسا ہو نہ تو پلیز ” اسنے کہا تو امبر برا سا منہ بنا گئ
تمھیں پتہ ہے اسپر اس وقت پوری ٹیم فدا ہے لڑکیاں تو کیا مرد بھی تعریف کر رہے ہیں ایک تم ہو ” امبر نے گھورا تو وہ سر جھٹک گئ
یہ دیکھاوا ہے جو کہ مجھے نظر ا رہا ہے تم دل پھینکنا چاہتی ہو شوق سے پھینکو ” وہ کھڑی ہو گئ اور پیشنٹس کے پاس ا گئ
کچھ دیر وہ اپنے کام میں مگن رہی اور ہلکا سا مسکراتی ہوئی وہ باہر نکلی تھی کیونکہ وہ عورت اپنے بیٹے کے رشتے کے بارے میں بات کر رہی تھی اس سے بے ساختہ اسے ہنسی ا گئ اور وہ باہر ا گی جبکہ وہ باہر ا گئ تو اسکی نگاہ سیدھا شجر پر گئ جو کہ اپنے ہاتھ پر خود سے پٹی باندھ رہا تھا اسکے اردگرد دو کمانڈرز کھڑے تھے مگر کوئی آگے نہیں بڑھا تھا
بلاوجہ ہی سب اسے اتنی اہمیت دے رہے تھے وہ آگے بڑھی اور اسکے پاس آ گئ
سر ہم ہیلپ کر دیتے ہیں اپکی ” ایک کمانڈر بولا جبکہ اسنے توجہ نہ دی
پلوشہ نے صرف انسانیت کے ناطے اس کمانڈر کے ہاتھ سے فرسٹ ایڈ بکس لیا اور اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئ ۔
اسنے غصے سے اسکا ہاتھ دور کیا تھا سنجیدگی سے اسکی طرف بنا دیکھے اسکی پٹی کھول کر وہ اسکا زخم دیکھنے لگی کیونکہ یہاں ملبہ بہت تھا یقینا کوئی سیریز اسکے ہاتھ پر لگی اور گھیرہ زخم چھوڑ گئ ۔
شجر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔
اور اسنے دیکھتے ہی دیکھتے اسکے ہاتھ پر پٹی باندھ دی وہ جھک کر پھونک مار رہی تھی کہ اسکے ریشمی بالوں کی چوٹیاں آگے کو ڈھلک آئی
اور شجر کی نگاہ اسکے بالوں کے بلوں میں پھنسے لگی دل کیا ان بالوں کی نرمی کو چھو کر دیکھے
لیکن آگ بگولہ بنی رہتی تھی ہر وقت وہ لڑکی بھلا کیسے وہ کچھ کر سکتا تھا لیکن اپنے دماغ میں تو وہ بھی بڑا شاطر پلین بنائے بیٹھا تھا
اسنے اپنی لٹوں کو کانوں کے پیچھے کیا اور پٹی باندھ کر کھڑی ہو گئ اتنی سائلینٹ مہربانی کی ضرورت نہیں تھی یہاں بہت ڈاکٹرز ہیں” شجر نے اپنی مسکراہٹ روک کر کہا
بلکل ہیں لیکن بدقسمتی سے میری نگاہ آپ پر پڑ گئ آپکی جگہ یہاں کوئی بھی ہوتا میں اسکی یوں ہی مدد کر دیتی ” اسنے بڑے روکھے لہجے میں کہا شجر لب دبا گیا اور پلوشہ آگے بڑھ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے اپنی ساری ٹیم کو اکٹھا کیا اور انھیں کچھ ضروری معلومات دینے لگا
ساری لیڈی ڈاکٹرز وہاں اوپر والے کیمپس میں سو سکتی ہیں لیکن ون بائے ون ۔۔۔
مجھے خطرہ ہے اور اب میں نہیں چاہتا کہ ہم پر دشمن کسی بھی طرح ہاوی ہو اس بس کی چیکنگ کے بعد اس بس کے ٹائرز کی پیکس ا گئ ہیں میرے پاس اس بس کے ٹائر جان بوجھ کر پنچر کیے گئے ہیں احتیاط چاروں طرف ہم نے کرنی ہے ۔۔۔۔
آپ سب ” اسنے تمام لڑکوں کو دیکھا الرٹ رہیں گے نو سلیپر نو فوڈ ” وہ بولا سب کے منہ سے اترے لیکن یک زبان یس سر بولے تھے وہ
گڈ ۔۔۔ اسکے علاوہ کچھ ضروری معلومات بھی دینی ہے تاکہ آپ لوگ اس بات کا بھی خیال رکھیں “
وہ بالوں میں ہاتھ پھیر گیا اور سب اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگے سوائے پلوشہ کے جو اردگرد زیادہ دیکھ رہی تھیں
مجھے آپ سب لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ ” وہ روکا سب متجسس ہوئے وہ پلوشہ کو دیکھ رہا تھا مگر اسکا دھیان نہیں تھا جو پانی کی بوتل لبوں سے لگا لی
ڈاکٹر پلوشہ کے ساتھ احتیاط سے رہا کریں میجر شجر عباس کی منکوحہ ہیں خاص کر آپ ڈاکٹر اسد ” ذرا دانت پیس کر وہ جو بات ریویل کر گیا تھا پلوشہ کے منہ سے سارا پانی باہر نکل آیا آنکھیں پھٹ سے گئیں اور وہ حیرانگی سے شجر کو دیکھنے لگی جبکہ سب بھی حیران و پریشان پلوشہ کو دیکھنے لگے
جبکہ شجر ہلکے سے شانے اچکا گیا جبکہ پلوشہ کا بس نہیں چلا اسے اس کھائی سے نیچے پھینک دے
مجھے تو بتانے کی زحمت نہ کی تم نے ” امبر کا دل کرچی کرچی ہوا
سب شجر کو اٹھ اٹھ کر مبارک باد دے رہے تھے اسد بھی پلوشہ کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا
نہیں وہ میں ” وہ تو بھکلا گئ تھی جبکہ شجر اپنا کام کر چکا تھا
اسد ناراضگی کا اظہار کرتا اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا اور امبر بھی اسکے پہلو سے اٹھ گئ ۔۔
شجر البتہ اس سے ڈر کر جان بچاتا خود دوسری طرف چلا گیا جبکہ پلوشہ کو اتنا غصہ تھا سیدھا اسکے پیچھے پیچھے ہو لی
سب انھیں ہنس ہنس کر دیکھنے لگے اور شجر اتنا مصروف ظاہر کرنے لگا گویا اس سے زیادہ اہم کوئی کام نہیں
مجھے آپ سے بات کرنی ہے ” وہ غرائی
شجر نے سب کو دیکھا کیونکہ سب کی نظروں میں وہ دونوں ا چکے تھے
ریلکس میں کر لیتا ہوں تم سے بات وہاں ویٹ کرو میرا ” وہ مسکراتا ہوا اسکے گال چھو گیا پلوشہ ہاتھ جھٹک گئ
یہ پاگل آدمی اسے بھی پاگل کرنا چاہتا تھا وہ مٹھیاں بھینچے نہ چاہتے ہوئے اس کیپ میں چلی گئ
پورے ڈیڈ گھنٹے کے انتظار کے بعد شجر اسی کیمپ میں آیا اور کیمپ کو زیپ سے بند کر گیا ۔
یہ یہ کیوں بند کیا ہے آپ نے اپ خود کو سمجھتے کیا ہیں ” وہ دھاڑی
جبکہ شجر سکون سے میٹرس پر گیرا وہ بری طرح تھک گیا تھا
تمھاری زندگی کا ہیرو ویلن اور میجر ” وہ آنکھیں دبا گیا اور تھکا تھکا سا آنکھیں بند کر گیا ۔
شجر عباس مجھے آپ سے سخت نفرت ہے کیا ضرورت تھی یہ بات کھولنے کی ۔۔
تمھیں کس نے کہا تھا اسد سے چپک جاؤ جب میرے سینے میں آگ لگاو گی تو میں تمھیں چین سے بیٹھنے بھی نہ دوں ” وہ سختی سے دیکھنے لگا
آپ کے سینے میں کیوں اگ لگی ” وہ مٹھیاں بھینچ گئ
شجر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔
کیونکہ تم میری بیوی ہو پلوشہ مجھ سے بحث نہ کرو جب تم یہ سب کرو گی تو میں تم پر حق جتاؤ گا اور بس ” وہ جوتا جھلاتا سکون سے بولا تھا پلوشہ کا سکون تو البتہ سارا برباد ہو گیا تھا اسکی آنکھیں بھرا گئیں اور وہ باہر نکلنے لگی کہ شجر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا وہ اب اسکے مقابل کھڑا تھا
ہاتھ چھوڑیں میرا “
میں تمھیں صرف ایک سچ بار بار بتانا چاہ رہا ہوں صرف ایک بار میری بات سن لو میں نے نہیں مارا نانو کو “
بس کریں اور ۔۔ اور کتنا گیروں گئے آپ میری نظروں میں کتنا شجر عباس اپ نے زندگی برباد کر دی ایک جیتے جاگتے ہنستے مسکراتے انسان کی اس سے اسکا باپ چھن گیا آپ جیسا منافق دوست اسکی نانو اسکی ماں اور پھر دو چھوٹے بچے ۔۔۔۔
آپ نے اس سے سب چھین لیا شجر آپ کس منہ سے کھڑے ہوتے ہوں گے سب کے سامنے ۔۔ اور میں ایک قاتل کو اپنا شوہر نہیں مانو گی بھلے میں یوں ہی مر جاؤں ” اسکے ہاتھ جھٹکتی وہ دھاڑی تھی پلوشہ کی انکھوں میں انسو دیکھ کر شجر نے اسکا چہرہ دونوں ہتھیلیوں میں بھر لیے ۔۔۔۔
میرا یقین کرو میں نے نہیں مارا اس دن میں بھی حیران تھا کہ یہ سب کیا ہوا ۔۔ اور میں نہیں جانتا میں سچ کہہ رہا ہوں میں واقعی نہیں جانتا ہاں جہاں تک بہزاد کا سوال ہے تو میں نے بہزاد کو مارنے کی کوشش کی تھی ایک بار نہیں دو بار میں نے اس دن بھی مارنے کی کوشش کی تھی لیکن بہزاد تک نہیں پہنچ سکا اور مجھے اس بات کو لے کر کوئی شرمندگی کوئی افسوس نہیں وہ ملک کا غدار ہے اسنے کتنی جانیں تباہ کر دیں کتنی جوان زندگیوں کو نسلوں کو تباہ کر رہا ہے وہ میں اس سے سر عام نفرت کرتا ہوں اور ایک دن وہ میری گولی کا شکار بھی ہو گا لیکن میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے کسی کو نہیں مارا ” وہ بولا جبکہ پلوشہ اسے نفرت سے دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کی نفرت گویا تھی کہ وہ کسی بات پر یقین نہیں کر رہی
یہ جو کہانی آپ نے سنائی ہے نہ سب کو مجھ سے اگر کسی نے اس موضوع پر بات کی تو زہر کا ٹیکا بھر کر ٹھونک دوں گی اسکے سینے میں میجر صاحب پھر ملک کو سنبھالتے پھیرنا ” وہ اگ بگولہ سی بولتی وہ زیپ کھول گئ شجر ہنس پڑا
ڈاکٹر ہو ہتھیار بھی ویسا ہی رکھا لیکن میجر کی بیوی ہو اسکا استعمال بھی سیکھ لو کوئی بات کرے سیدھا گولی مارنا ” اسنے سکون سے اسے اپنی گن دیکھائی اور پلوشہ کو تو اتنا زہر لگ رہا تھا کہ وہ برداشت کرتی وہاں سے باہر نکل گیا شجر البتہ مسکراہٹ سمیٹ گیا
یہ معمہ اسکے لیے اج بھی تھا کہ اس رات وہ گیا ضرور تھا لیکن اسنے صرف بہزاد پر حملہ کرنے کا سوچا تھا اور بہزاد پر بھی نہ کر سکا کیونکہ وہ گھر میں ہونے والا دھماکا اسے بھی ہلا گیا تھا اور جب ہارون بیگ نے اس سے پوچھا تو وہ اقرار کر گیا کہ اسنے مار دیا سب کو جبکہ وہ خود آج تک یہ معمہ سلجھا نہ سکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر کو تو اتنے سارے دن ہو گئے اب میں کیا کروں ” وہ بریڈ کھاتی ہوئی سوچ رپی تھی
وہ آئے گا تو یہ ہی پوچھے گا بہزاد کو پٹا لیا لو بھلا میں پٹاو اس گندے انسان کو چیپکتا رہتا ہے ہر وقت ایک تو میں پاگل ہو جاؤں ” ۔
ایک دم اسکی زبان رک گئ
سانس جہاں تھا وہیں رہ گیا
بلکل مکمل سیاہ لباس میں کوئی آنکھیں بھی چھپائے اسپر بندوق تانے کھڑا تھا ۔
روح اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی لیکن اسے دیکھائی پھر بھی نہ دے رہا تھا ۔
روح کی آنکھیں سرخی مائل تھیں جیسے ابھی ابل جائیں گے
۔۔ اسکے وجود پر کپکپا طاری تھا اور اسنے ایک سٹپ پیچھے جہاں لیا وہیں ایک سٹپ اس شخص نے آگے لیا ۔
روح سانس حلق میں اتار کر پھر ایک سٹپ دور کر گئ اسنے اردگرد دیکھا تھا
اسکا سانس لینا محال ہو گیا وہ پیچھے ان ہیلر کی جانب بھاگی جبکہ وہ جو بھی شخص تھا اسکے ان ہیلر کو اچک گیا
گویا اسے تڑپا کر مزاہ ا رہا ہو اسے ۔۔۔۔۔
روح سینے پر ہاتھ رکھ گئ اسکی سانسیں الجھ رہی تھیں وہ پسینے میں شرابور تھی وہ جو بھی تھا اسنے ان ہیلر کو زمین پر پھینکا اور اسپر بوٹ رکھ کر دبا دیا ان ہیلر ٹوٹ گیا اور روح زمین پر گرتی چلی گئ
وہ جو بھی تھا اسنے روح پر پھر سے بندوق تانی اور گن لوڈ کر لی
اسکی سانسوں کی آواز چارو طرف تھی بے بس سی آواز اور ایکدم گن چلی ۔۔۔
اور وہ جو بھی تھا ایکدم منہ کے بل زمین پر گیرا اور روح نے صرف آنکھیں بند ہونے سے پہلے بہزاد علی شاہ کو دیکھا تھا چہرے پر بے پناہ سختی اور غصہ اشتعال لیے ہوئے تھا ایک اور شخص کو اس نے مار دیا اور روح بے ہوش ہو گئ
وہ کسی کام سے نکلا تھا پورے دو دن ہو گئے تھے شاید دن کے بعد دیکھی نہیں تھی اور جب وہ اندر ایا تو دروازہ لاک دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کوئی گڑبڑ ہے کیونکہ روح دروازہ بند کر لے اتنی بھی عقل مند نہیں تھی ۔۔
اسنے سب سے پہلے شکی نظروں سے اس چوکیدار کو دیکھا جو اس سے خوفزدہ سا ہوا اور مہروز نے اس چوکیدار کی گردن جکڑ لی اور اسے اپنے ساتھ لے گیا جبکہ وہ اندر ایا اور سامنے کا منظر دیکھتے ہی اسنے گن نکالی اور تین نشانے بنائے جو کہ اس شخص کی کھوپڑی کے اگے سے نکل گئے ۔۔
روح بے ہوش ہو گئ تھی ۔
وہ بے ہوش پڑی روح کو دیکھنے کے بجائے اسے دیکھنے لگا اور اسکے ہاتھ میں بھی اسے وہ ہی بریسلیٹ ملا اور اب اسکا شک یقین میں بدل چکا تھا لیکن کیوں ؟ سوال یہ پیدا ہوتا تھا
کیوں وہ اسکے پیچھے پڑا تھا اس بات کا علم نہیں تھا اسے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے انیسا ؟
وہ مسلسل رو رہی تھی ہارون نے اسے ذرا چیڑ کر کے سوال کیا
مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ بہزاد ہی تھا وہ یہاں آ گیا ہے اوہ مجھ تک پہنچ “
تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے انیسا میں سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ چکا ہوں کچھ بھی نہیں ہے اس میں “
نہیں بلکل ایسا نہیں ہو سکتا ” وہ پاگلوں کیطرح چیخی تھی
انیسا پلیز یار کیا ہو گیا ہے تم ایسا ری ایکٹ کیوں کر رہی ہو
پلیز تم نارمل ہو جاو میں ۔۔۔
تم سے بہت پیار کرتا ہوں اور میں کچھ بھی ہونے نہیں دوں گا تمھیں ” وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے بولا
تم بس ڈر گئ ہو وہم پل رہی ہو ” ۔
وہ بہزاد ہی تھا ” وہ رو دی کوئی اسکی بات کا یقین نہیں کر رہا تھا
اچھا تم ریسٹ کرو ” اسنے اسکا سر تھپتھپائا اپنی بیٹی کی جانب دیکھا جو ماں کے پاس بیٹھ گئ اور خود باہر ا گیا
ضیا بھی اسی کے پاس تھا یہ سب دیکھ رہا تھا
بھابھی کو کسی دماغی ڈاکٹر کو دیکھاو ” وہ بولا تو ہارون نے غصے سے اسکی جانب دیکھا
وہ جو حرکتیں کر رہی ہیں ان سے صاف پتہ لگ رہا یثے کہ کسی ذہنی دباو میں ہیں “
اچھا اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو ” ضیا نے سر جھٹکا اور باہر نکل گیا وہ انیسا کی طبعیت کا جاننے ہی ایا تھا جبکہ ہارون صوفے پر بیٹھ گیا
وہ انیسا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا وہ شیرنی سی عورت تھی اور معلوم نہیں اب کیسا رویہ دے رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہوش آیا تو نہایت خوبصورت سے کمرے میں انکھیں کھلی تھی اسنے ۔
پہلے تو مسکرا دی پھر ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئ ۔
یہ وہ کہاں تھی اسنے سب سے پہلے یاد آتے ہی اپنے جسم کو چھوا ۔۔۔ مر تو نہیں گئ تھی کہیں سیدھا جنت میں آنکھ کھلی ہو ۔۔۔۔ وہ اٹھی
اور اسنے اپنی سینڈل کو ایک ریڈ کپڑے پر دیکھا
ہائے زندگی میں پرنسز ٹریٹمنٹ کے ارمان کتنے تھے میرے ۔۔ یہ میں کہاں ہو یا اللّٰہ ” وہ سوچتی ہوئی اپنی سینڈلز کو ہاتھ میں ا ٹھا گئ
یہ ۔۔۔ یہ کہیں بہزاد کا گھر تو نہیں “
وہ ایکدم ہوش میں آئی اور جلدی سے دروازہ تلاش کرنا چاہا مگر مجال ہے اسے دروازہ ملا اور اب یقین ہو گیا کہ یہ اسی کا گھر ہے اسنے ہر دیوار پر مکے دھکے مارے اور معلوم نہیں کہاں ہاتھ لگا کہ دیوار کھلتی چلی گئ اب اسے یقین تھا کہ یہ بہزاد کا گھر ہے
وہ باہر نکلی غصے سے اور سیدھا اپنے گھر جانے لگی ۔۔
میم آپ کہاں جا رہی ہیں ” جینزی کی آواز پر وہ پلٹی
اپنے گھر ” وہ کہہ کر نکلی
لیکن میم ” وہ کچھ کہنا چاہتی تھی اسکے پیچھے پیچھے بھاگی
لیکن روح گھر سے باہر نکل گئ اور بہزاد کے گھر کے باہر ملبا صرف ملبا دیکھ کر اسکی آنکھیں دنگ رہ گئ وہ سانس لینا بھول گئ
کیونکہ وہ اسکا سارا گھر تڑوا چکا تھا روح تو چکرا ہی گئ
آنکھیں پٹپٹاتی وہ سامنے دیکھ رہی تھی
میں یہ ہی بتانا چاہ رہی تھی
بہزاد علی شاہ ” وہ دونوں پاوں پٹختی چیخی یہ کیسا انسان تھا اسکے پیچھے کس طرح پڑ گیا تھا ۔۔۔ وہ اندر بڑھی
کہاں ہے بہزاد ۔۔۔۔
بہزاد ” وہ چیخی
آرام سے روح من سنائی دیتا ہے مجھے بہرہ نہیں ہوں ” وہ اسکے پیچھے سے بولا تھا
آپ ۔۔۔ اپ نے “
آپ نے میرا گھر تباہ کر دیا ” وہ مٹھیاں بھینچتی بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا وہ تمھارا گھر تھا بھی نہیں یہ تمھارا گھر ہے تم آرام سے رہ سکتی ہو یہاں “
اسنے جتنے سکون سے کہا تھا روح کا دل کیا اسکی گردن اتار دے ہاں اگر اس میں اتنی ہمت ہوتی تو ۔۔۔۔
واہ ” اسنے غصے سے تالی بجائی
میں یہاں کبھی نہیں رہو گی میرے شجر کا گھر تھا وہ ” وہ برائے ہوئے لہجے میں بولی اور ابھی تک بہزاد جو نرمی سے بات کر رہا تھا ایکدم آئی برو اچکاتا گردن موڑ گیا ۔
روح ایکدم سنبھلی پھر احساس ہوا وہ اس سے ڈرے کیوں ؟
گن لوڈ کر کے دو مجھے ابھی اس کے وجود میں چار پانچ گولیاں اتاروں تو اسکی کھوپڑی میں سمجھ ا جائیں گی ساری باتیں ” وہ گن اپنے گارڈ سے لے گیا جس نے لوڈ بھی کر دی تھی بہزاد سے اچھی توقع تو کبھی بھی نہیں تھی شانے کا زخم اب تک گھیرہ تھا اسکا ۔۔۔
وہ دو قدم دور ہوئی ۔
بہزاد نے اسے گردن کو جنبش کرتے دیکھا
بتاؤ کیا کہہ رہی تھی “
م۔۔۔میں میں اپکے ساتھ نہیں رہو گی” وہ ڈرتی پیچھے ہٹی
نہیں ۔۔۔ نہیں اس سے پہلے کیا کہہ رہی تھی ” بہزاد کے بلیک جوتوں کی ٹک ٹک سے روح کا دل بیٹھ رہا تھا
م۔۔میں تو بس یہ۔۔یہ ہی کہہ رہی تھی “
ہمم ۔۔ ٹھیک ہے بیسمنٹ میں رہ لو پھر “
کیوں” وہ تڑخی بہزاد نے گھورا
دیکھیں بہزاد مجھے یہ بری بڑی بھوری آنکھوں سے ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے میں رہنا ہی نہیں چاہتی آپ کے جیسے خطرناک آدمی کے ساتھ ” وہ دانت پیس گئ ۔۔۔ اور اب اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھتے اسکی طرف قدم اٹھانے تھے اور بہزاد دو قدم دور کر گیا ۔
دیکھ لو سوچ لو شجر سے مشورہ کر لو ہو سکتا ہے اچھا مشورہ دے ” وہ اسکے گال پر گن بجا کر اوپر چلا گیا
روح نے سر ہلایا یہ بات ٹھیک تھی وہ شجر کو بتا دے گی سب کہ یہ پاگل سنکی آدمی ہے اور وہ اسکے پاس نہیں رہنا چاہتی وہ باہر لون میں ا گئ اور بہزاد اپنے کیمرے میں سے اسے ہی دیکھنے میں محو تھا ۔۔
اسنے شجر کو فون ملایا پہلے تو کال اٹینڈ ہی نہ ہوئی اور اسکے بعد جب ہوئی بھی تو لٹھ مار انداز میں سوال کیا گیا
ہممم ” روح نے اسے ایک ایک لفظ اسے بتا دیا ۔
یہاں تک کے وہ روتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کیطرح اسے شکایت لگانے لگی اور اسنے ہمارا گھر تڑوا دیا
اسنے بات کا خاتمہ کیا ۔۔۔
ار یو سیک ” روح وہ ذرا برہمی سے بولا
کیا تم پاگل ہو وہ تمھیں اتنی بڑی آفر دے رہا ہے اور تم ریجیکٹ کر رہی ہو تم اسکے گھر میں رہو گی تو ہی پتہ چلے گا کہ وہ کیا کر رہا ہے ” شجر نے کہا جبکہ روح گھیرہ سانس بھرتی سیڑھیوں پر بیٹھ گئ
وہ اچھا آدمی نہیں ہے وہ جھوٹا ہے ” وہ ذرا منہ بسور کر بولی
اور ۔۔۔۔ اور تمھیں فرق نہیں پڑتا اسنے تمھارا گھر تڑوا دیا “
وہ اسی کا تھا تم وہ کرو جو تمھیں کہا ہے میں نے ۔۔۔ تم بہزاد کے ساتھ رہو اور روح میں نے کہا ہے جب میں لوٹوں تو مجھے کچھ نہ کچھ چاہیے روح یہ میں کہہ چکا ہوں “
لیکن تمھیں اپنی بات کی پڑی ہے میں کچھ “
تمھیں میں نے اسی کام کے لیے رکھا ہے ” اسنے جیسے فورا یاد دلا دیا ۔
روح خاموش ہو گئ اسکے اکھڑے ہوئے رویے پر ۔۔۔۔
اچھا پھر بات ہو گی ” وہ کہہ گیا اور روح نے موبائل پٹخ دیا
مجھے پاگل بنا دیا ہے اچھا بھلا اپنے یتیم خانے میں زیادہ خوش تھی میں ” وہ مٹھیاں بھینچ کر اٹھی اور اندر چلی گئ
اسکے پاس رہنے کی جگہ ہی نہ تھی اسکے علاوہ کہ وہ اسکی بات پر ا جائے وہ اندر آئی اور جینزی نے اسے مسکرا کر دیکھا
یہ لیں میم یہ کمرہ اپکا ہے “
بہزاد کا کوئی چور دروازہ تو نہیں اس کمرے میں ” اسنے سوال کیا تو جینزی خاموش رہی روح نے کمرہ کھولا اور ایکدم چلا ہی اٹھی پورا کمرہ اسکی مرضی اور پسند کے عین مطابق تھا
وائیٹ اور پنک کے کنٹراسٹ میں اسنے جلدی سے بھالو اٹھا لیا
یہ تو خواب گاہ لگ رہی ہے “
وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی اور بالکنی میں آ گئ
بہت خوبصورت پلانٹس تھے وہاں ۔۔۔
اسنے دیکھا ساتھ والی بالکنی بہزاد کی تھی
اف ” وہ زیچ سی ہوئی میم آپ کچھ کھائیں گی “
ہاں بلکل نوڈلز فرائز اور ایک کوک کا کین دے دینا کیا تم برگر زنگر بن لیتی ہو “
جی میم سب بنا لیتی ہوں میں ابھی بنا کر دیتی ہوں اپ فریش ہو کر باہر ا جائیں ” وہ بولی
وہ سر ہلا گئ اور اپنی چیزیں دیکھنے لگی
اور پنک ائ فون دیکھ کر تو وہ اچھل ہی پڑی اسے یقین ہی نہ آیا کہ اسکے پاس ائ فون بھی ہو گا
وہ بھی پنک کلر میں ۔۔۔ وہ خوش ہو گئ تھی جلدی سے نہانے چلی گئ
سکن ٹراوزر اور ڈارک گرین شرٹ پہن کر وہ باہر نکلی اور ٹیبل پر بیٹھ گئ
جینزی کچھ تو دو یار بہت بھوک ہے ” اسنے ٹیبل بجانا شروع کر دی جینزی مسکراتی ہوئی اسکے نزدیک آئ اور اسے ٹرے دی جسے وہ سکون سے کھانے لگی
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ۔۔
ایک اور ملازمہ بھی اسکے پاس آگئی اور اسے گھورنے لگی
روح نے انکھ اٹھا کر دیکھا ۔
وہ سپینیش لینویج میں جینزی سے کچھ بولی
جینزی نے بھی اسے اسی لینویج میں جواب دیا ۔
اور روح بیوقوفانہ کیطرح دونوں کو دیکھتی رہی وہ لڑکی چلی گئ
اس نے کیا کہا ہے ” روح نے سوال کیا
کچھ نہیں ۔۔ میم یہ پاگل لڑکی ہے ” جینزی نے ٹالا مگر روح جان چھوڑنے والی تھی ہی نہ ۔۔۔
کیا پاگل پن کیا ہے اسنے “
درحقیقت یہ بہزاد سر کو پسند کرتی ہے اور انکے کام بھی بھاگ بھاگ کرتی ہے جب پلوشہ میم یہاں آتی ہے یہ تب بھی غصہ کرتی ہے اور اب آپ پر کر رہی ہے “
فٹے منہ قاتل کو پسند کرتی ہے ارے بھئی رکھے اپنے پاس اس قاتل کو مجھے کیا ” وہ سر جھٹک کر بولی جینزی ہلکا سا مسکرائی
اچھا یہ بتاو اسکا کمرہ جو ہے اس میں کون کون جاتا ہے۔۔۔۔ روح نے ادھر ادھر دیکھتے سوال کیا
مہروز سر کے علاؤہ دوسرا کوئی بھی نہیں یہ ایک بار آپ گئ تھی ۔
اوہ ” اسنے سر ہلایا
اور تم “
جی نہیں ۔۔۔ ٹھیک ہے
اچھا وہ کب سوتا ہے ” روح نے نوڈلز کی بائیٹ لی
معلوم نہیں میم پورے چاند میں تو ساری رات جاگتے ہیں باقی دنوں کا اندازہ نہیں ” جینزی نے شانے اچکائے
کیوں جن کی نسل سے ہے جو پورے چاند میں جاگتا ہے اوہ ہاں یاد آیا سنگینگ کرتا ہے رائیٹ ” وہ بولی تو جینزی اپنی ہنسی ضبط کرتی سر ہلا گئ
کیا تم مجھے ایک اور بات بتا سکتی ہو “
جی میم ” جینزی نے سر ہلایا
کیا اسکا کوئی پرسنل روم ہے ” جینزی لب دبا گئ
سوری میم سر نے منع کیا ہے اپکو اپکے ذہن سے زیادہ معلومات نہیں دینی “
مطلب ” وہ دھار اٹھی
میں کم عقل ہوں ہاں تم ہی کھا لو حد ہو گئ بدتمیزی پر ” وہ بھڑکی اور اٹھ گئ
میم پلیز کچھ کھا لیں “
نہیں کھانا بھئ جاؤ تم ” وہ ادھر سے ادھر گھومنے لگی اسنے ایک نظر مکمل پورے گھر پر گھمائی اور پھر وہ گھر کے پچھلے لون میں ا گئ جگہ اسکی بہت خوبصورت تھی ۔۔۔۔
بہزاد علی شاہ میں تمھیں اب بتاؤ گی کہ میں کرتی کیا ہوں لیکن وہ سامنے والا گھر بہزاد کا کیسے تھا ” وہ کچھ لمہے کے لیے پر سوچ ہوئی لیکن زیادہ دیر وہ کام کی باتیں سوچ لیتی تو بہت کچھ اچھا ہو جاتا ۔۔۔
آج تک اسنے اس بات پر غور کرنے کی زحمت نہ کی تھی کہ اسے کوئی مارنا چاہتا ہے وہ وہاں سے اندر آئی تو لاونج میں لگی تصویریں دیکھنے لگی اور ایک تصویر پر اسکی نگاہ ایکدم جم گئ ۔۔
اس تصویر کو وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی
ی۔۔۔یہ ۔۔۔یہ کون ہے ” وہ بولی مگر اردگرد کوئی نہیں تھا
وہ تصویر علی شاہ کی تھی
جینزی جینزی “
ارے بھئی چلا کیوں رہی ہو ” مہروز اندر آیا روح کو دیکھ کر بولا
مہروز یہ کون ہے ” روح پریشانی سے پوچھنے لگی
علی شاہ بہزاد کے فادر برگیڈیر علی شاہ آرمی کے ہائیسٹ رینک پر تھے ۔۔
اور اور یہ قتل ہو گئے ” وہ حق دق بولی مہروز جیسے تھم گیا
کیا مطلب ۔۔۔ تم کیسے جانتی یو یہ قتل ہوئے “
مہروز نے ائ برو سکیڑی روح پلٹ کر پھر سے اس تصویر کو دیکھنے لگی
انھوں نے کہا تھا وہ جلد مارے جائیں گے ” وہ بے حد اہستگی سے منمنائی تھی ۔۔
اتنی شاکڈ تھی کہ اپنے تاثرات سنبھال نہیں پا رہی تھی وہ لپکی مہروز چکنا ہوا تھا
روح تم کیسے جانتی ہو علی شاہ کو ” مہروز نے اسکا بازو جکڑ لیا
چھوڑو میرا ہاتھ ” وہ آگ
[5/13, 5:37 PM] Jerry: وہ آگ بگولہ سی ہو گئ ۔۔
جو سوال کیا ہے وہ بتاؤ تمھیں شجر نے بتایا ہے ” مہروز نے آنکھیں نکالیں
آ۔۔۔آہاں شاید ” وہ بولی تو مہروز کا تناؤ کچھ کم ہوا
اوکے “
پلیز ہاتھ چھوڑو میرا ” روح نے کہا اور کمرے میں بھاگ گئ جبکہ روح کے جاتے ہی بہزاد بھی اندر داخل ہوا تھا کافی عجلت میں تھا
تم تیار نہیں ہوئے ” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
ہاں وہیں جا رہا تھا ” مہروز نے سے کچھ بھی نہیں بتایا اور کمرے میں چلا گیا
بہزاد کو کافی عجلت تھی تبھی وہ روح کے پاس نہیں گیا کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
