No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
1
یہ پکڑ ۔۔۔” اسنے ایک ڈبہ اسکی جانب اچھالا اور شجر نے پرجوشی سے وہ ڈبہ کیچ کیا اور جلدی سے کھول کر سیگریٹ لبوں میں لگا لیا ۔۔۔
تیرے باپ نے دیکھا نہیں ” وہ کچھ تشویشی لہجے میں بولا
ابے یار برگیڈیر علی شاہ کو سوائے اپنی زندگی میں ملک کی خدمت کے کچھ سجھائی نہیں دیتا تو میں بھی اسی کی اولاد ہوں کان کے نیچے سے نکل آیا “
ناک کے نیچے سے ہوتا ہے ” شجر اسکی کہاوتوں سے شدید تنگ تھا جو اب بیڈ پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے جوتے سمیت لیٹ گیا اتنی چھوٹی سی عمر میں ہیLSD کا نشہ کرتا تھا وہ ایسا نشہ تھا جو حقیقت کو تبدیل کر دے دنیا میں سب سے کم مقدار میں استعمال کیے جانے والے نشہ جس کی قیمت بھی تقریبا “2000$” فی گرام تھی لیکن باپ کے پیسے پر عیاشی کے علاوہ اسکے پاس اور کوئی مشغلہ نہیں تھا
شجر اور بہزاد دونوں بہت گھیرے دوست تھے
شجر ایک میڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا اور بہت زیادہ حب الوطن تھا اپنے شوق اور جنوں میں وہ آرمی کو جوائن کر چکا تھا ۔
شجر کی فیملی کے بارے میں بہزاد نے نہ کبھی پوچھا تھا اور نہ جاننے کی کوشش کی تھی
جبکہ بہزاد علی شاہ کون اسے نہیں جانتا تھا وہ اپنے باپ کی وجہ سے یہاں ایک قیدی کی حیثیت سے تھا
21 سال کی عمر میں ہی ٹھرک کا اسکے اندر لیول الگ تھا
لیکن آج تک شجر نے اسے کسی لڑکی کو کس کرتے نہیں پایا تھا
حالانکہ وہ اتنا بولڈ اور اتنا ہی لاپرواہ تھا ہر چیز سے لیکن پھر بھی کبھی ایسا نہیں کیا اسکی وجہ ایک بار پوچھنے پر بس اتنا ہی بتائی تھی “اسے لڑکیوں کے منہ سے سمیل آتی ہے “
اور شجر کا منہ بنا اور قہقہہ چھت پھاڑ تھا
اسکی تھیوری الگ ہی تھی ہر معاملے میں ۔۔۔۔
پھر شجر عباس بھی کوئی بہت معصوم انسان نہیں تھا اور کچھ اسکے ساتھ رہ کر بگڑ گیا تھا
بہزاد کو دنیا میں صرف علی شاہ سے ڈر لگتا تھا ۔
لیکن وہ اتنی ہی محبت ان سے کرتا تھا شجر ان دونوں باپ بیٹوں کو لاڈ اٹھاتے ایک دوسرے کے ۔۔۔ دیکھتا تو اسے اپنے بابا کی بہت یاد آتی لیکن انکا انتقال اسکے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔
بہزاد اچھا لڑکا تھا لیکن اتنا ہی کمینہ تھا اور شجر اسکے ساتھ ساتھ رک کر ہو گیا تھا
دونوں ہی اس وقت سکون سے اپنے کام میں مگن تھے ۔۔
شجر وہ نشہ نہیں کرتا تھا جو بہزاد کرتا تھا ۔
کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا مقصد بہزاد کیطرح نہیں اسکا باپ بہزاد کیطرح امیر نہیں نہ ہی وہ اپنے باپ کی اکلوتی اولاد تھا جیسے بہزاد تھا ۔
چل یار باہر چلتے ہیں ” بہزاد سیدھا ہوا ۔۔ اسکی آنکھوں میں معلوم نہیں کس چیز کی معصومیت تھی ہرے رنگ جو ہر روشنی میں چمک اٹھتے تھے ۔
تیرا باپ اس گنے کی مشین میں دونوں کو ڈال کر جوس نکال دے گا ” شجر نے نفی کی اور بیڈ پر الٹا گیرا
بہزاد نے ایک نظر دیکھا اور کھینچ کر اسکے کمرے پر لات ماری میں ۔۔
” جا رہا ہوں انا ہو تو ا جانا ” وہ اٹھا جیکٹ پہنی اس علاقے میں سردی سارا سال ہی رہتی تھی موسم کبھی ٹھنڈا کبھی میٹھا سا ہو جاتا لیکن گرم موسم میدانی علاقوں کیطرح بلکل نہیں تھا
وہ سیگریٹ منہ میں دبائے باہر نکلا شکاری نگاہوں سے چاروں سمت دیکھا سب سو رہے تھے آخر کو رات کا 1 بج رہا تھا
صبح 4 بجے وہ اٹھ جاتے تھے اب اسکے پاس تین گھنٹے عیاشی کے تھے وہ آگے چلنے لگا کی شجر کے قدموں کی آواز پر مسکرایا
مسکراتے ہی دو حسین گڑھے اسکے چہرے پر پڑے تو کمال منظر سا ابھرا لیکن وہ تقریبا لاپرواہ تھا خود سے ۔۔۔
” یہ کیا بات ہے اج کی چاندنی میں
کہ ہم کہو گئے رات کی راگنی میں
یہ بانہوں میں بانہیں یہ بہکی نگاہیں
لو آنے لگا ہے زندگی کا مزاہ “
یہ اسکا پسندیدہ گانا تھا شجر نے اکثر گاتے سنا تھا اسے اور وہ اتنا کمال گاتا تھا کہ اگر وہ فوج میں نہ ہوتا تو یقینا مشہور سنگر ہوتا ۔
” یہ راتیں یہ موسم ندی کا کنارہ یہ چنچل ہوا “
سگریٹ کو لبوں میں دبائے وہ ٹارچ اس دروازے پر مارتا مسکرایا جہاں سے ان دونوں نے بھاگنا تھا
شجر بھی مسکرایا تو اسکی بھوری آنکھیں چمک گئیں
کم اون ون ٹو تھری ” دونوں نے دروازے پر اپنا کندھا ایک ساتھ مارا اور ایک تیز آواز پر وہ دروازہ کھلا
کون ہے کون ہے وہاں “
حمید چچا اٹھ گئے اسی طرف آنے لگے وہ دونوں باہر نکلے اور جلدی سے دروازہ دوبارہ لگا دیا ۔
اس جگہ کوئی بلب نہیں تھا تبھی دروازے پر سے ہٹی ہوئی گرد انھیں دیکھائی نہیں دے سکتی تھی وہ دونوں وہاں سے فرار ہو گئے ۔۔
بھاگتے ہوئے دونوں کے قہقہے گونجے اور بہزاد اپنی گاڑی میں سوار ہوا
شجر بھی بیٹھا اور زن سے گاڑی بھگا لے گیا
اب اتنا بدتمیز ہو چکا ہے بہزاد کے اسے اتنا بھی ڈر نہیں لگتا کہ اسکا باپ اسکے سارے کرتوت دیکھ رہا ہے ” انکے کانوں میں ایک نرم سی آواز ابھری ۔۔۔۔
وہ انکی دوسری بیوی تھیں بہزاد کو پسند نہیں کرتی تھیں کبھی علی شاہ نے چاہا ہی نہیں کہ بہزاد کے معاملے میں وہ بولیں
اسکے باپ نے کون سا کسی کی سنی ہے کبھی ۔۔۔ خیر آنے دو دیکھتا ہوں” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنی چئیر پر بیٹھ گئے وہ رولنگ چئیر تھی وہ اس عمر میں بھی اتنے گریس فل اور اتنے ہینڈسم تھے کہ کوئی بھی انھیں دیکھتا تو دیکھتا رہ جاتا ۔
بہزاد کو سمجھائیں علی وہ بچہ ہے اگے جا کر آپکی طرح کا جذبہ اس میں نہیں دیکھتا مجھے ” انیسا اسکے گٹھنے پر بیٹھتی اسکی گردن میں بازو حائل کرتی بولیں
نن آف یور بیزنیس ” دو بول میں انھوں نے بات ختم کر دی
جاؤ سو جاؤ ” انھوں نے کہا اور انیسا دانت پیس کر اٹھ گئ وہ محبت محبت کرنے والا انسان تھا لیکن وہ حد درجے میں محبت صرف اپنے بیٹے سے کرتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری رات وہ دونوں سڑکوں پر مارے مارے پھیرے تھے
یار چار بجنے میں دس منٹ ہیں بہزاد اگر دس منٹ میں ہم واپس نہ پہنچے تو تیرا باپ دونوں کو نکال کر ساری عمر کے لیے عیاشی کے لیے چھوڑ دے گا “
اچھا ہے نہ کم از کم یہ فالتو کے کام تو نہیں کرنے پڑیں گے ” وہ مزے سے بولا ۔
بیٹے تیری زندگی کا کوئی مقصد نہیں میری زندگی کا اولین مقصد تیرا باپ بننا ہے ” وہ بولا بہزاد کا قہقہہ ہوا کے دوش پر گونجا
واہ اچھا مقصد ہے “
مطلب تیرے باپ کیطرح ” شجر نے تصحیح کی اور بہزاد سر جھٹک گیا
” بنا مقصد کے زندگی جینی ہے مجھے بس “
وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا اور چار بجنے میں پوری ایک منٹ پہلے وہ گاڑی سے نکلے دوڑ کر دونوں اس دروازے تک پہنچے اور وہ دروازہ ابھی دھکا مار کے کھولتے دروازہ کھل گیا اور زبردست بات تو یہ تھی ان دو تین گھنٹوں میں اس دروازے پر اسکے باپ نے شاندار روشنیاں کرا کر استقبال کے طور پر لگوا دی تھی دروازہ کھلا اور پورے چار بجے وہ میس میں تھے
سامنے علی شاہ کو دیکھ کر ۔۔ شجر تو گھبرا گیا وہ جتنا اچھا تھا اتنا سخت اور اصول پسند بھی تھا ۔
بہزاد البتہ اپنے ڈیمپلز دیکھاتا باپ سے نظریں بچانے لگا ۔
میرے آفس میں آؤ ” بیل کی آواز پورے میس میں گونجنے لگی اور علی شاہ گھڑی دیکھ کر کہہ کر اندر چلے گئے
تیری وجہ سے ہوا ہے یہ ” شجر نے اسے ٹھونگا مارا
میری جان تو تو بچ جائے گا میرا باپ میرا ٹیسٹ ہی نہ کرا لے ” وہ بولا ۔
کتے نشہ اتر جائے ذرا تجھ ہر شے پھر دیکھتا ہوں کیسے تیری یہ بتیسی نکلتی ہے “
تبھی تو تجھے بھی کہتا ہوں نشہ کیا کر ۔۔ دنیا سے دور ہو جاتا ہے انسان
شیٹ اپ ” شجر اندر داخل ہوا
پیچھے بہزاد بھی تھا اسنے رومال منہ پر باندھ کر ہنسی روک لی تھی بلاوجہ ہنسی ا رہی تھی البتہ شجر کا منہ اترا ہوا تھا
سوری سر آئندہ خیال “
ٹو ہنڈرڈ پوشپس
گیٹ آوٹ اینڈ ون موت تھینک شجر عباس تمھاری زندگی میں جتنی بھی گول ہیں انھیں اچیو کرنا چاہتے ہو تو اس لڑکے سے دور رہو ” وہ برہمی سے بولے تھے بہزاد کی ہنسی چھوٹ گئ ۔
علی شاہ نے اسے گھورا وہ لب دبا گیا
یس سر سوری سر”
ایک اچھا آفیسر کبھی معافی نہیں مانگتا نہ کسی کے آگے جھکتا اسکے اپنے اصول اپنے خیالات ہوتا ہیں “
ناو گو ” وہ کافی سنجیدگی سے بولے تھے شجر کے لیے آئیڈیل تھے وہ سر ہلا کر نکلا بہزاد نے اسے دیکھا آنکھ دبائی شجر نفی میں سر ہلایا چلا گیا ۔
علی شاہ نے اسکی جانب دیکھا
بہزاد علی شاہ اپکو کافی عیاشی اور چھٹی منانے کا شوق ہیں میں آپکو دو ماہ کی چھٹی دیتا ہوں سکون سے چھٹی منائیں ” انھوں نے ایک پیپر اٹھایا
ہیں واقعی ” وہ چلایا علی شاہ نے اسکی صورت دیکھی
سوری سر ایم ویسی سیڈ بٹ آپ کی یہ سزا مجھے قبول کرنی ہی ہے ہر صورت ایسا ہی ہے نہ بس جلدی سے سائیں کر دیں اینڈ تھینکیو ” وہ کہہ کر سٹریٹ کھڑا ہو گیا
علی شاہ نے گھیری سانس بھری اور سر پکڑ لیا
ڈیڈ دس از ناٹ فئیر پلیز سگنیچر کر دیں یار ” وہ اب پاوں پٹخنے لگا
صرف اکیس سال کے ہو تم اور تمھارا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا ہے ۔۔ کیا ہے یہ ” انھوں نے اسکے منہ پر وہ نشہ آور سیگریٹ ماری اوپس ” وہ لب دبا گیا ۔
بتاو مجھے ” وہ بھڑکے
تمھیں کوئی بھی سزا دینا نہایت بے فضول کام ہے کیونکہ تم نے ہر سزا کو دل و جان سے قبول کرنا ہے ضمیر پر تو تمھارے کچھ لگتا نہیں اور تم اتنا پیسہ اس چیز پر خرچ کر رہے ہو بہزاد “
وہ مٹھیاں بھینچتے کھڑے ہوئے اسکے سامنے ا گئے وہ ٹیبل پر ناخن سے لکیر کھیچنے لگا ۔
جس سے ٹیبل پر پڑنے والے سکریچیز علی شاہ کو غصہ دلا رہے تھے ۔۔۔
آج سے تم حمید چچا کی ڈیوٹی پر ہو سب کو صبح چار بجے اٹھانا اور پی ٹی سے لے کر ہر چیز کی ذمہ داری تمھاری ہے “
واٹ واٹ دا ہیل ” وہ بگڑا
دس از دا ہیل آف علی شاہ مائے ہینڈسم سن ناو گیٹ اوٹ ” وہ دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے
بہزاد نے مٹھیاں بھینچ لیں
دیکھ لوں گا اپکو میں “
سنیر آفیسر بریگیڈیئر علی شاہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر تمھیں کچن میں دو دن پورے میس کے لیے کھانا بنانا ہے ” ۔
ناٹ آگین ڈیڈ “
سر” وہ تیوری چڑھا کر بولے
وہ کچھ بول نہیں پایا ورنہ دوبارہ چارج لگا دیتے ۔۔۔
منہ بسور کر باہر نکلا اور علی شاہ نے گھیرہ سانس بھرا جتنا وہ اسے سدھرنے چاہتے تھے اتنا بگڑتا تھا وہ ۔۔۔۔
وہ باہر نکلا شجر صاحب تو اپنی مزدوری میں لگ گئے تھے بہزاد غصے سے لال ہونے لگا ۔۔
کتنی فضول سزا دیتے تھے اسے ۔۔۔ جس دن وہ یہاں سے بھاگ گیا
اس دن پتہ چلے گا سب کو ۔۔۔۔
سوچتے ہوئے وہ اپنا لباس تبدیل کرنے چلا گیا کیونکہ یہ سب اسے اب ہر صورت کرنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری ساری رات جاگنا اسکے لیے نہایت عام بات تھی اب حمید چچا تو سکون کی نیند سو رہے تھے وہ انکی ڈیوٹی دے رہا تھا صبح چار بجے اسے سب کو اٹھانا تھا شجر جیسے دوست اگر دنیا میں کسی کو مل جائیں تو انھیں مار دینا چاہیے سکون کی نیند سو رہا تھا وہ ۔۔۔
چار کے قریب سوئیں جیسے جیسے جا رہی تھی اسکا دماغ حرکت میں اتا چلا گیا ۔
ڈیمپلز کی نمائش کرتا وہ اٹھا اسنے گارڈن میں پانی دینے والے بڑے سارے پائیپ کو اٹھایا ۔۔ اور پانی کھول کر وہ چار پر سوئیں جاتے ہی حمید چچا کی طرح ہر کمرے کی جانب گیا اور دروازہ کھولتے ہی اسنے پانی کی دھار انکے منوں پر ماری
کم اون کم اون گیٹ اپ “
وہ بھاگتا ہوا بولا کہ پورا میس بہزاد بہزاد چلنے لگا
آخر شجر کے کمرے کے سامنے آتے ہی اسکا بس نہیں چلا اسکی گردن دبوچ لے اسنے پانی کی دھاڑ ایک لمہے کے لیے بھی اسپر سے نہ ہٹائی اور شجر بھکلا اٹھا اسکا بستر اسکی کتابیں وہ خود بھیگ چکا تھا ۔
بہزاد کمینے ” وہ اسپر جھپٹا اور بہزاد کو بھی تپ چڑھی تھی وہ دونوں گتھم گتھا ہو گئے ۔
یہاں تک کے ہاسٹل میں پانی پانی ہو گیا اور اس پانی میں وہ دونوں ایک دوسرے پر چڑھے ایک دوسرے کو مار دینے کے ارادے بنا چکے تھے
حمید چچا بھاگے تو سب سے پہلے علی شاہ ہی دوڑ کر آئے باقی آفیسر بھی ا گئے وہ لوگ ایکدم سیدھے ہوئے گیلے کپڑوں سے سلوٹ مارا ۔
گڈ ۔۔۔گڈ مارننگ سر ” وہ بولے ۔
پورے دو ہفتے کے لیے سسپینڈ ہیں یہ دونوں جسٹ گیٹ اوٹ ” علی شاہ کے بولنے سے پہلے
کیپٹن افتخار بولے بہزاد کی آنکھیں چمکیں
حالانکہ اسکا باپ بڑی پوسٹ پر تھا لیکن وہ کسی کے فیصلے کے خلاف بات نہیں کرتا تھا تبھی اسکی اتنی عزت تھی ۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے منہ پر دکھ سجائے وہ یس سر دونوں کہتے وہاں سے چلے گئے اور ۔۔ باقی سب بھی
یس ” دونوں نے بھنگڑا ڈالنا شروع کر دیا ۔
تبھی دروازہ کھلا علی شاہ تھے شجر شرمندہ ہو گیا
گلی کے کتوں کیطرح ساری رات سڑکوں پر پھیرنا بہزاد علی شاہ تمھارا سٹینڈرڈ نہیں ہے آنے والے وقت کے بہت قابل افسر ہو تم اس سزا کے خلاف صرف اس لیے نہیں بولا کہ جب تک تمھارے دماغ سے چھٹیوں کا بھوت نہیں اترے گا تم یہ ہی سب کرتے رہو گے ۔۔
اپنی نانی کے ہاں چلے جانا “
میں ” وہ بولنے لگا
نو ایکسکیوزیز ” وہ سختی سے بولے ۔
اوکے ” وہ منہ بنا کر سر ہلا گیا انھوں نے کیپ اتاری ۔۔
شجر ان دنوں کو ہی دیکھ رہا تھا
ائ مس یو جلدی واپس آنا ” وہ اب ایک باپ کی حیثیت سے اسکا شانا تھپتھپا رہے تھے ۔
میں نہیں جاتا ڈیڈ “
بہزاد کو انکی آنکھوں میں عجیب سی بات لگی
آ ہاں انجوائے کرو ” وہ گال تھپتھپا گئے وہ مسکرا دیا ۔
اب کی بار او گے تو بہت کچھ بدل چکا ہو گا ۔۔ اور میرے سامنے دوبارہ سے کوئی فضول حرکت پر میں تھیں کمنڈر ایریا میں بھیج دوں گا “
اوکے اوکے اس سے زیادہ سخت سزائیں نہ بتائیں مجھے دو ہفتے کی بات ہے یوں گیا یوں آیا ” وہ انکھ دبا گیا اور علی شاہ نے سر ہلایا
وہ انکے سینے سے لگ گیا
ائ لو یو ڈیڈ ” وہ بولا
ائ لو یو ٹو ۔۔ ” وہ اسکی پیشانی چوم گئے شجر مسکرا رہا تھا ۔
انھوں نے ایک بیگ اسکے ہاتھ میں دیا
وہ یقینا پیسوں سے بھرا ہوا تھا ۔
بہزاد نے دو انگلیاں پیشانی پر لے جا کر انھیں خوشی سے سلوٹ مارا اور وہ شانا تھپتھپا کر چلے گئے
دیکھتے ہیں کتنے دیے ہیں ” وہ جلدی سے پیسے دیکھنے بیٹھ گیا
شجر ان پیسوں کو دیکھ کر حیران تھا جبکہ بہزاد منہ بنا گیا
بس اتنے سے “
حد ہے ناشکری پر بھی ” شجر نے سر جھٹکا
یار نانی کے گھر ” وہ گھیرہ سانس بھر کر شانے اچکاتا ۔۔
لباس تبدیل کرنے چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں وہاں پہنچے تو نانی کا گھر بھی شاہی محل تھا اور شجر کو اندازہ ہوا کہ وہ اپنی پشتوں سے امیر ہیں۔۔۔۔۔۔
شجر اندر ایا اور بہزاد بھی دو سٹیپ چڑھا
کون آیا ہے ” نانی کی آواز پر بہزاد نے اہستگی سے بیگ صوفے ر رکھا
نانی کی آنکھیں کام نہیں کرتی لیکن کان بہت شدید کام کرتے ہیں ” بہزاد کی بکواس پر وہ گھورنے لگا اور بہزاد ایکدم انپر دھمک گیا
یا اللّٰہ مدد اللّٰہ خیر کون ا گیا ارے پلوشہ ۔۔۔۔
میں ہوں بہزاد علی شاہ ” وہ ہنستے ہوئے انکو خود میں بھینچ گیا
ہیں میرا بہزاد آیا ہے ۔۔ اللّٰہ میری آنکھوں کو ٹھیک کر دے میری آنکھوں کا نور آیا ہے ہے میرا بچہ میری جان اتنے دن لگا دیے نانی انتظار کرتے کرتی مر جاتی “
ایسے کیوں کہہ رہی ہیں اپکو کیا لگتا ہے میں ٹک جاتا آپکے بنا وہاں ۔ جینا حرام کر دیا علی شاہ کا میں نے ” وہ بتاتے ہوئے ہنس رہا تھا شجر بھی دوڑ کھڑا مسکرا رہا تھا
وہ خوش قسمت تھا اس سے ہر دوسرا شخص بے پناہ محبت کرتا تھا یہاں تک کے کوئی اس سے ملتا تو اسکا ہو جاتا خیر اسکے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوا تھا وہ لمہوں میں اسکا دوست بن گیا تھا ۔۔
اللّٰہ سلامت رکھے اللّٰہ میرے بچے کو خوشیاں دے کتنے دن کے لیے آیا ہے بہزاد ” انھوں نے اپنا چشمہ نکال کر آنکھوں پر لگایا ۔۔
اور اسکا چہرہ چومنے لگی
ویسے تو صرف دو ہفتوں کے لیے لیکن جلد بہت سارے دنوں کے لیے بھی آؤ گا اچھا نانی بھوک لگی ہے یار مزے دار سی کوئی چیز کھلا دیں ” وہ سکون سے صوفے پر پھیل کر بیٹھ گیا شجر نے دانت پیسے اسکا تعارف بھی نہیں کرایا تھا اسنے
یہ کون ہے بیٹے ” ۔
ارے ہاں یہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے اور میں اسکا بیسٹیسٹ فرینڈ ہوں ” وہ بولا تو شجر نے آگے بڑھ کر نانی جان کو سلام کیا
آپکے ٹائپ کا ہے آپ دونوں کی ان دو ہفتوں میں کافی بن جائے گی ” اسنے آنکھوں دبائی تو نانی ہنس دیں شجر کو وہ کافی اچھی لگیں وہ بہت جلدی بہزاد کے ہر رشتے سے ایمپریس ہو جاتا تھا ۔
ارے پلوشہ کہاں جا سوئی بیٹا بچوں کے لیے پانی وغیرہ کچھ لے آ “
انھوں نے پکارا بہزاد بلکل فارمل بیٹھا تھا اسنے جیکٹ پھینک دی تھی کیونکہ یہاں گرمی تھی شجر نے بھی اتار دی تھی ۔۔
اور دونوں ہی فوجی ٹراوزر اور بلیک شرٹ میں تھے وہ ہری انکھوں والا تو وہ بھوری آنکھوں والا ۔۔
وہ لاپرواہ وہ کچھ سلجھا ہوا دونوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھا ۔
بہزاد موبائل استعمال کر رہا تھا میس میں موبائل وغیرہ کا استعمال بھی بمشکل ہی ہوتا تھا تبھی وہ چھٹیوں کو اتنا پسند کرتا تھا وہ سکون سے موبائل یوز کر رہا تھا جبکہ پلوشہ ٹرے میں جوس لیے باہر ا گئ
وہ نانی کی خاص تھی کچھ زیادہ ہی ویسے تو اسکے ماں باپ اکلوتے ہی تھے اسکی طرح لیکن نانی اپنے گھر لڑکیوں کا ہجوم رکھتی تھی اور پلوشہ کو بہزاد جانتا تھا ۔
وہ نانی کی کسی دوست کی پوتی تھی ۔
پلوشہ باہر آئی بہزاد نے تھینکیو کہہ کر گلاس لے لیا اور سکون سے پینے لگا جبکہ شجر تو اس لڑکی کو دیکھتا رہ گیا
وہ لڑکی کافی خوبصورت تھی خوبصورت بھی شاد چھوٹا سا ایک لفظ تھا اسکا چمکدار رنگ اسکا گھبرایا ہوا چہرہ اور اسپر حیا کی سرخیاں اور سب سے اہم اسکی گلابی ہونٹ ۔۔۔۔
وہ ایکدم سٹپٹا کر سیدھا ہوا کیونکہ وہ لڑکی اسکے یوں گھورنے پر اب رو دیتی ۔۔
تھوڑا شرمندہ ہوتا وہ گلاس ہاتھ میں تھام گیا ۔
ہاں مہروز ٹھیک ہے آتا ہوں ” وہ بولا ۔۔ اور گلاس ختم کر کے کھڑا ہو گیا
چل بھئ ا جا مزے کرتے ہیں ” وہ جو پلوشہ کو دیکھتے ابھی اپنے اندر ایک گھونٹ بھی اتار نہیں سکا تھا بہزاد نے اس سے گلاس چھین لیا ۔۔
ارے ارے بیٹا تھوڑی دیر تو بیٹھو ۔۔۔
رات میں آؤ گا نانی م آرام سے باتیں کریں گے میرے باپ نے صرف دو ہفتے ہی تو دیے ہیں مجھے یہ دو ہفتے پر لگا کر گزر جائیں گے ” وہ مظلومیت سے بولا اور انکے گال پر پیار کرتا وہاں سے فرار ہو گیا اور ساتھ شجر کو بھی گھسیٹ کر لے گیا تھا
ہوا کے دوش پر آیا تھا ایک نگاہ بھی اسکی جانب دیکھنا ضروری نہیں سمجھا وہ اہستگی سے مسکرا دی چلو آیا تو سہی معلوم نہیں کتنے وقت بعد اسے دیکھا تھا
پلوشہ میری بچی تو نے نہ بہزاد کی پسند کا کھانا بنانا ہیں ٹھیک ہے اور بس آتا ہے نہ رات تو بات کرتی ہوں اس بار تو نکاح کرا کر بھیجو گی سر پھرا ہے معلوم نہیں کب کیا کر دے نکاح کی زنجیر میں بندھ جائے گ تو یہ آوارگی بھی ختم کر دے گا ” انھوں نے اسے پیار کیا پلوشہ کے چہرے پر کھلنے والے گلال بہت حسین تھے وہ سر جھکا گئ اکثر بہزاد آتا تھا ۔۔ اس سے باتیں کرتا اسکے ساتھ بیٹھتا اٹھتا جب تک دل کرتا اور اسکے بعد وہ چلا جاتا وہ اپنی دوستوں سے اسکا ذکر کرتی تھی ۔۔ بتاتی تھی سب کو بہزاد ایسا ہے بہزاد ایسا ہے بہزاد کو یہ پسند ہے بہزاد بہت اچھا گاتا ہے بہزاد کے پاس بہت سارے میوزک انسٹرومنٹس ہیں
بہزاد پر ہر رنگ جچتا ہے وہ کتنا ذکر کرتی تھی اور اس ذکر میں ہی دل دھڑک دھڑک جاتا ۔
نانی جان یہ کہتی تھی کہ وہ بہزاد کی ہے بیس سالہ زندگی میں معلوم نہیں کتنی بار یہ سب سنا تھا اور اب دل سے مان لیا تھا وہ اسکی ہے مگر وہ ہمیشہ سے لاپرواہ ہی تھا ۔
وہ خوشی سے اٹھی اور کچن میں گھس گئ
نانی جان پہلے بہزاد کا کمرہ ٹھیک کر آؤ “
ارے تم کیوں کرو گی ملازمتوں کی کمی تو نہیں ” وہ مسکرائیں جبکہ پلوشہ سر ہلا گئ اسے پسند تھا اسکے کام کرنا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا دن وہ لوگ ہلا گولہ مستی میں مشغول رہے علی شاہ نے کئی فون کالز کیں اسے محال ہو اسنے ایک بھی اٹھائی ہو ۔۔
اور جب رات دس بجے وہ گھر لوٹ تو دونوں کسی بات پر دل کھول کر ہنس رہے تھے ۔۔
پورے گھر میں خاموشی تھی
او تیری اب نانی ڈیڈ کو شکایت نہ لگا دیں “
تجھے کیا فرق پڑتا ہے وہ شکایت لگائیں یہ نہ لگائیں سر علی تجھ سے بلائینڈ محبت کرتے ہیں ” شجر کی بات پر وہ فخر سے مسکرایا اور ڈیڈ کو کال مل گئ ہیلو ڈیڈ “
کہاں تھے تم “
“آپ کے دل میں ” یارا دو ہفتے زندگی جینے کے دیے ہیں اپ نے اپ کے پیسے کو آگ لگا رہا تھا ” وہ سکون سے بولا شجر ہنس دیا نفی میں سر ہلا کر پلٹا تو پیچھے پلوشہ کھڑی تھی “
ہائے ” وہ تو اس اپسرا کو دیکھ کر پھر سے تھم گیا ۔
اسلام و علیکم ” پلوشہ نے سلام کیا وہ شرمندہ سا ہوتا پھر سے مسکرایا واسلام
نانی اور میں اپ دونوں کا انتظار کرتے تھک گئے کھانا ٹھنڈا ہو گیا نانی جان سو گئیں ” پلوشہ نے بہزاد کی پشت دیکھتے شجر سے کہا تو شجر دل پر ہاتھ رکھ گیا
حیران ہوں میں آپ نے میرا انتظار کیا “
جی اپ مہمان ہیں ہمارے ” پلوشہ کی پیشانی پر کچھ بل سے ڈال گئے
بہزاد نے دیر کر دی میں تو کب سے انا چاہ رہا تھا ” ۔۔
شجر دانت نکالتا بولا پلواشہ نے پھر سے بہزاد کو دیکھا وہ مگن تھا باتوں میں پلوشہ خاموشی سے پلٹ گئ
اوئے وہ ناراض ہو گئ تجھے کہا تھا جلدی گھر چل ” شجر نے غصے سے کہا
کون ناراض ہو گیا بھئ ” بہزاد نے کال بند کی اور شجر کیطرف دیکھا وہ پلوشہ ۔۔۔
ہوتی رہے ہمیں کیا چل کھانا کھاتے ہیں کھانا بہت اچھا بناتی ہے “
ویسے اس سے فلرٹ کیوں نہیں کیا تو نے ” شجر کو غصہ تو آیا اسکے رویے پر لیکن ویسے ہی سوال کر گیا
پلوشہ سے ” وہ ہنس دیا
شی از ٹو انوسینٹ اور میرے ساتھ ایسی لڑکی جچتی نہیں “
وہ سکون سے بولا پھر نانی کا دل ہے اس میں ۔۔۔ بتا دے نانی کو میرے کرتوت تو میں تو گیا نہ اور ویسے بھی میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں اسے اس نظر سے ” وہ شانے اچکاتا بیٹھ کر چمچ بجانے لگا پلوشہ یہ سب دروازے پر کھڑی سن چکی تھی اسکا دل بجھ گیا ہمیشہ یہ ہی کہتا تھا وہ ۔۔
وہ اندر آئی اور اسنے ان دونوں کو کھانا نکال کر دیا ۔۔
بہزاد ایک منٹ کے لیے بھی اسکی تعریف سے نہیں روکا تھا لیکن کیا کرتی وہ اس تعریف کا جو بے معنی لگ رہی تھی اسے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
