Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

روح کے لیے اسکے سامنے کھڑے رہنا اس وقت سب سے زیادہ غصے کی بات تھی اور اسکی بات پر وہ سٹپٹا الگ گئ تھی جب اسنے کہا بیوقوف بنا لیتی تھی کچھ پل وہ اسے گھورتا رہا روح ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔
اوکے فائن لیٹ سٹارٹ دا ٹیسٹ” اسنے سیگریٹ کو ایش ٹرے میں مکمل بھجوایا اور اسکی سمت دیکھنے لگا
روح کچھ کنفیوز سی دیکھ رہی تھی اور بہزاد کسی گھاک شکاری کیطرح ۔۔۔۔۔
وہ سڑھیاں دیکھ رہی ہو ” اسنے 25 /30 سیڑھیوں کی جانب اشارہ کیا روح گردن موڑ کر دیکھنے لگی ۔۔۔
میرے پانچ تک گننے پر تم پہلی سیڑھی پر ہو ” ۔
کم اون فاسٹ ” وہ بولا جبکہ روح ان 30 سیڑھیوں کو دیکھنے لگی اگر وہ دوڑ کر جاتی تو سانس بھول جاتی ۔۔
وہ پاگل تھا یہ کیسا ٹیسٹ تھا جو وہ لے رہا تھا
آپ کیا چاہ رہے ہیں میں مر جاؤں ” روح نے ذرا بگڑ کر اسکی سمت دیکھا
بلکل نہیں تمھیں بتا رہا ہوں میرے ساتھ کام کرنے والے کتنے شارپ ہیں “
آہ آپکے پانچ تک گننے پر کوئی لڑکی وہاں ان پچیس سیڑھیوں کو طے نہیں کر سکتی ” اسنے ناک پر سے مکھی اڑائی۔ ۔
جینزی “
بہزاد کی پکار پر ایک لڑکی اندر داخل ہوئی وہ سرونٹ یونیفارم میں تھی بہزاد کے بس ایک اشارے پر وہ دوڑ کر اوپر تک پہنچ گئ
اور اسکا ایک بھی سانس نہ پھولا انسان تھی یہ باندری ایسے پلک جھپکنے میں پہنچ گئ روح کی تو سانس اسے دیکھ کر ہی الجھنے لگی ۔۔۔
اتنا ڈیمو کافی ہے یہ مزید چاہیے” بہزاد سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا ۔
روح نے حلق میں گھونٹ اتارا بس شجر عباس کی وجہ سے وہ یہ سب کر رہی تھی ورنہ کب کا بھاگ جاتی اسکے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگے بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ پھیکا سا مسکرائی اسکی پیشانی پر پسینہ اترنے لگا تھا ایسا نہیں تھا وہ کوشش نہیں کر سکتی تھی لیکن وہ اپنی موت کو دعوت دیتی ۔۔
اور وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسے سانس کا مسلہ ہے اسکی کیفیت سے مزاہ لے رہا تھا یقینا
وہ بہت ڈھیٹ آدمی تھا ۔۔
روح نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ڈاکٹر نے اسے سیڑھیاں چڑھنے سے سختی سے روکا تھا وہ بھی اس سپیڈ سے جو وہ کہہ رہا تھا ۔۔
رکو ” اسکی آواز پر وہ پلٹی شاید اسنے ترس کھا لیا تھا
تمھارے پاس دوسرا آپشن بھی ہے “
ہاں میں دوسرا ٹیسٹ کر لوں گی ” وہ جلدی سے پیچھے آئی اور اسکے سامنے کھڑی ہو گئ ۔
بہزاد مے سر ہلایا اسکی ایکسائٹمنٹ دیکھ کر ۔۔۔
اسنے اپنے لبوں سے سیگریٹ نکالا اور ٹیبل پر رکھ کر ایک انگلی کی مدد سے وہ ادھورا سیگریٹ اسکی جانب کھسکا دیا
سموک ایٹ ” اسنے سرسراتی لہجے میں کہتے اسکی جانب نگاہ کو اٹھایا اسکے چہرے کے اڑتے رنگ بہزاد کے ڈیمپل کو واضح کر گئے لیکن وہ لمہوں میں عنابی لب دبا گیا ۔
آپ پاگل ہیں ” وہ اگ بگولہ سی لگی
یہ اپکو کیسے پتہ چلا ؟؟” اسکے سنجیدگی سے پوچھنے پر روح غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مار گئ ۔۔۔
مجھے غصہ نہ دلائیں کام بتائیں ” وہ بولی جبکہ بہزاد نے سرد نگاہیں اٹھائیں روح ذرا ڈر گئ
میرا مطلب میں سموک نہیں کرتی ۔۔۔ وہ سنبھل کر بولی ۔۔۔
سموک تم نہیں کرتی سیڑھیاں اترنا تم نہیں سکتی تو کیا کرو گی میری گود میں بیٹھ کر نظارہ کرنا چاہتی ہو صرف ” وہ پاؤں جھولاتا اپنی سیگریٹ کو لبوں میں دبا گیا ۔
م۔۔میں کیوں آپکی گود میں بیٹھو ” وہ ذرا اٹک گئ ۔
میں نے بھی سوال ہی کیا ہے افر نہیں کی ” اسنے دھواں چھوڑا
یہ۔۔یہ کیسا کام ہوا بھلا سیڑھیاں چڑھنا سیگریٹ پیوں”
گولی مار لیتی ہو ” اسکے سوال پر روح نے اسکی جانب دیکھا
ہ۔۔ہاں” وہ اب سہم رہی تھی وہ نہایت سنجیدگی سے جو بول رہا تھا
ٹھیک ہے ” اسنے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔
جینزی اب بھی پیچھے کھڑی تھی صرف ایک اشارے سے جنیزی اسکے پاس ائ اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئ سر جھکا کر ۔۔۔۔
بہزاد نے اپنی گن نکالی اور ٹیبل پر پھینک دی ۔۔۔
Shot her “
اسکے دو الفاظوں پر روح کو لگا اسکے قدموں سے جان نکل گئ ہو وہ اپنے قدموں پر کانپ گئ ۔۔۔
میرے پاس بہت زیادہ وقت نہیں ہے ۔۔ میں پانچ تک گننوں گا “
د۔۔دس مطلب پچاس تک تو گنیں ” وہ روہانسی ہوئی
بہزاد کوفت زدہ سا اسے دیکھنے لگا
1۔۔۔۔۔
روح نے گن اٹھا لی ۔
2۔۔۔۔۔۔
اسنے بہزاد کو دیکھا ایسا لگ رہا تھا آخری وقت اسکا چل رہا ہے وہ وہ ایک انسان کو مار دے
یہ جو سامنے ٹانگیں پھیلائے شخص بیٹھا تھا اسکے لیے کہاں مشکل تھا کسی کو مار دینا ۔
وہ کانپتے ہاتھوں سے گن کو دیکھنے لگی اسکے ہاتھوں کی واضح کپکپاتی بہزاد بھی دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔۔ جسے اسنے بے دھیانی سے صاف کیا
3۔۔۔۔۔۔۔
روح نے پھر دیکھا وہ کتنا ظالم تھا ۔۔
ابھی وہ جینزی سے ملی تھی وہ کتنی پیاری تھی اور اسنے کیا کیا تھا جو وہ اسے مار دے ۔۔ ابھی وہ مسکرا کر اس سے ملی تھی اب وہ ایک بے قصور کو مار دے نہیں اس سے یہ نہیں ہو سکتا
مگر شجر ۔۔۔۔ بہزاد ۔۔
شجر کو کیا جواب دیتی ۔۔۔۔
4۔۔۔۔۔ اسنے چکراتے ذہن سے گن لوڈ کرنے کی کوشش کی ۔۔
اور خوف اسکے 5 بول دینے کا تھا اسے اور ایکدم دل ڈوبا سانسیں کھڑیں اور وہ چکرا کر نیچے گیری تھی
کسی لاش کیطرح جینزی نے سر اٹھایا
بہزاد گھیرہ سانس بھر گیا
” انکو انکے گھر پہنچا دو ” کہہ کر وہ سگریٹ لبوں میں دبائے باہر نکل گیا جبکہ جینزی اسے پکڑنے لگی لیکن وہ پسینے سے شرابور بے ہوش پڑی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انمول پارٹی ہے اج اور آج وہ یہ ٹاپ پہنا چاہتی تھی ۔۔
اسنے وہ بلیک ٹاپ دیکھا کچھ مسکرائی بلیک ہیلز بھی تھیں بلکل روح کیطرح وہ تیار ہوئی تو بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
لیکن نروس بھی تھی۔۔۔
وہ باہر نکلی تو ہیل کی ٹک ٹک پر اسنے ایک آنکھ کھول کر پلوشہ کے سیدھا جوتے دیکھے تھے ۔۔۔
بڑی عجیب سی نگاہوں سے ۔۔
یہ جوتے اتار دو ” اسنے اسکی جانب نہیں دیکھا نگاہ اٹھی ہی نہیں بس پاؤں کو گھورتے وہ جوتوں کو اتارنے کا کہنے لگا ۔
پلوشہ نے ایک نظر جوتے دیکھے اور کچھ غصے میں ا گئ
اب اگر روح ہیل پہنتی تھی تو کیا پوری دنیا میں کسی لڑکی کو وہ پہنے نہیں دے گا اسنے اگنور کر دیا
پلوشہ ” اسکی تنبہی کرتی آواز پر وہ تحمل گئ اسنے نوٹس نہیں کیا اسنے کیا پہنا ہے اسنے نوٹس نہیں کیا وہ کسی دیکھ رہی ہے ۔۔
بس جوتوں کا کہا
اتار دو ” وہ پھر بولا
مجھے پسند ہے “
ٹھیک ہے پھر باہر جا کر پہنو میرے گھر میں یہ آواز نہ آئے اب ” وہ حتمی بولا تھا مہروز سامنے ہی بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائیپ کر رہا تھا ۔
اسنے مڑ کر پلوشہ کو دیکھا اور دل تھام گیا
واہ واہ واہ ۔۔
یہ روح سی کیوں لگ رہی ہو تم مجھے بہت خو بصورت لگ رہی ہو یار دل ہے کہ قابو سے باہر ہے”
اسنے لمہوں میں تعریفیں شروع کر دیں بہزاد نے اسکے منہ پر کشن مارا ۔۔
دیکھو بہزاد لڑکیوں کو تم اگنور کرتے ہو میں نہیں “
بکواس بند کرو اور مجھے بتاؤ ہوا ٹریپ ” ۔
وہ لیٹاپ پر جھکا پلوشہ کی انکھوں میں انسوں ا گئے
کیا فائدہ تھا اسکا سجنے کا سنوارنے کا وہ توجہ نہیں دیتا تھا جب وہ نہیں مانتی تھی کہ وہ شجر کی ہے تو وہ کیوں مانتا تھا کہ وہ شجر کی ہے اور دیکھنے کا حق صرف شجر کو ہے
وہ جوتے اتار کر باہر نکل گئ ۔۔۔۔
اور ذرا غصے سے گاڑی میں سوار ہوتی وہ ونیو پر پہنچی تو اج سے بلکل مختلف دیکھ کر سب ہی حیران ہوئے تھے جہاں وہاں اسکی تعریفوں کے پل باندھ دیے تھے ۔۔ سب سے وہ مسکرا کر تعریفیں وصول کر رکی تھی
پارٹی میں سب تھے لیکن اسے اندازہ نہیں تھا شجر عباس بھی ہو گا
اور جیسے ہی نگاہ شجر پر گئ وہ ایک منٹ کے لیے تھم گی
وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
پلوشہ نے نگاہ پھیر لی مگر گھبراہٹ یقینی تھی۔
شجر کو یوں لگا جیسے اسپر سے کسی نے لباس اتار دیا ہو ۔۔۔
اسے دنیا سماج اور معاشرے کی پرواہ نہ کی اور اسکا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر وہ اسے اپنی گاڑی تک لے ایا
چھوڑیں میرا ہاتھ ” اس سے اپنا ہاتھ چھڑاتی وہ غصے سے بولی
یہ لباس تم اتارو گی خود یہ میں اتاروں ” وہ پھنکارہ لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی ۔۔
آپ کون ہوتے ہیں مجھے یہ کہنے والے ” وہ مچل کر بولی اسکا ہاتھ درد کرنے لگ گیا تھا اسکی سخت گرفت پر ۔۔
شوہر نکاح نامہ ہے میرے پاس دیکھا دوں ” غصیلے لہجے میں بولتا وہ اسے باور کرا رہا تھا
وہ کمینا بہزاد تمھیں اپنے رنگ میں ڈھال رہا ہے میں تمھاری جان لے لوں گا “
دس سال سے کہاں تھے اپ قاتل ” وہ بھی چلا اٹھی پہلے ہی بہزاد کے رویے پر فرسٹریٹ ہو چکی تھی تبھی بھڑک اٹھی تھی ۔
میں قاتل نہیں ہوں وہ قاتل ہے جس سے محبت کا دم میرے ساتھ نکاح میں ہونے کے باوجود بھی کر رہی ہو “
دور رہیں مجھ سے ” وہ اسے دور دھکیلنے لگی
مجھے لگتا ہے تمھیں ایسے سمجھ نہیں آئے گی ” شجر نے گاڑی سے اسکی پشت ہٹائی اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا ۔
پلوشہ خوفزدہ سی رہ گئ ۔۔
دروازہ کھولتے ہی اسنے اسے اندر دھکیلا
نہیں چھوڑیں چھوڑیں مجھے ” وہ پاگل سی ہونے لگی یہ کیا کر رہا تھا وہ ۔۔۔۔
میں ۔۔۔ میں اتار دوں گی گ۔۔گھر جا کر ” وہ ہار مانتی بولی تھی
گڈ ” وہ مسکرا دیا
ایک لمہے میں پلوشہ منہ موڑ گئ
مجھ سے دور رہ کر بھی اس رشتے سے نہیں جان چھڑا سکتی ۔
میں “
آپ قاتل ہیں مجھ سے دور رہیں” وہ چلا اٹھی۔۔
آپ نے نانی جان کو مار دیا نانی جان جنھوں نے آپکی شادی کرائی انھیں مار دیا کیا بگڑا تھا انھوں نے اپکا ۔۔۔۔
یہ بہزاد نے کیا بگاڑا ہے علی شاہ نے کیا بگڑا تھا ۔
اپ وہ فوجی ہے جو قوم کو بچنے کی آڑ میں اپنے اندر کی احساس کمتری کی آگ کو بجھاتے ہیں اور یہ بات میں اچھے سے جانتی ہوں تو مجھ پر حکمرانی کا سوچیے گا بھی مت بہزاد مجھے قبول کرے یہ نہ کرے لیکن میں آپکی کبھی نہ ہوں نہ تھی اور نہ بنو گی “
وہ اسکو سن بیٹھا دیکھ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور اپنی گاڑی کیطرف بھاگ اٹھی شجر وہیں بیٹھا رہ گیا
میں نے نہیں مارا ” اسکے لب پھڑپھڑائے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دنیا کی سب سے پاگل لڑکی ہوں کھوتی ہوں میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میرا کیا جاتا میں مار ہی دیتی اسکے ملازم بھی تو اسی کے جیسے ہیں
اب میں شجر کو کیا جواب دوں گی اب کیا کروں ۔۔
یا اللّٰہ ۔۔ تو ہی کوئی راستہ دیکھا کل شجر ا جائیں گے اور جب وہ مجھ سے پوچھے گا تو کیا کہوں گی بے ہوش ہو گئ تھی
اف ” وہ غصے سے بستر پر مکے برساتی کمبل اور تکیے پھینک گئ ۔۔
اب کیا کروں ” وہ ہونٹ نکالتی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔
فریش ہوا کھانے وہ باہر نکلی اور ۔۔۔ ایک بھرپور انگڑائی لی
یا اللّٰہ میں اتنی خوبصورت ہو لیکن ذرا جو کوئی لڑکا مجھ سے پٹ جاتا ہو ” وہ اداسی سے سوچنے لگی
اوپس سوری سوری اللّٰہ جی !
لیکن ایک بات طے ہے اپ مجھے شجر دو گے “
پلیززززززززز” وہ ہاتھ جوڑتی بولی آسمان کیطرف دیکھتی وہ سکون سے باتیں کر رہی تھی اس بات سے انجان کے اسکے اوپر ایک ریڈ ڈوٹ تیزی سے حرکت کر رہا تھا
اسکی گردن چیسٹ پیٹ اور پھر ٹانگوں پر ریڈ ڈوٹ ناچ رہا تھا جیسے نشانہ لگانے والا کھیل رہا ہو ۔۔
اور پھر وہ ریڈ ڈوٹ دل پر آ کر رک گیا
جبکہ وہ آسمان کیطرف دیکھتی باتوں میں مگن تھی لائیٹ گرین کلر کی نائیٹی میں وہ بے حد حسین سی لڑکی لاپرواہ کھڑی تھی ۔۔۔
اور اچانک اسکے وجود پر بھاری بھرکم چیز ا کر لگی اور اسکی ہلکی سی آواز ابھری اور ۔۔۔ روح چلا اٹھی ۔۔
روح نے نیچے دیکھا وہ روح تھی وہ بہزاد کی روح تھی وہ مر گی اسکے گولی لگی تھی ۔۔۔
اسے کیا ہوا تھا ۔۔۔
روح نے آج تک جانوروں کو چھوا نہیں تھا جبکہ وہ اس وقت اس بلی کو کانپتے ہاتھوں میں تھامے کھڑی تھی اسے گولی لگی کسیے ۔۔۔۔ اسنے سر اٹھا کر دیکھا
وہ اپنی ٹیرس پر دانٹ بھینچے کھڑا تھا سمینت کی دیوار سختی سے پکڑی ہوئی تھی اسکی رگیں پورے بازوں کی پھول رہی تھی جبکہ اسکے چہرے پر موت کی سی سختی تھی روح کانپ گئ ۔
اسکی سانسیں پھولیں آنکھوں سے انسو بہنے لگے
میں “
یہ میں “
میں نے نہیں م۔۔مارا مجھے وہ کیسے مر گئ ” وہ بہزاد کی بلی کو سینے میں بھرے ہچکیاں بھرتی روئی تھی ۔
اسکی ہچکیاں اسکے سانسوں کی اکھاڑنے کی گواہ تھی وہ اٹھ کر اپنا ان ہیلر لینے کو اندر بھاگ گئ ۔۔۔
جبکہ لبوں سے ان ہیلر لگائے وہ اپنے آنسوؤں نہیں روک پائی
روح م۔۔مر گئ ۔۔
وہ سسک اٹھی وہ کسی مارنا نہیں چاہتی تھی بھلے وہ صرف ایک بلی ہی کیوں نہ ہوتی ۔۔۔
اسنے پلٹ کر دیکھا بہزاد دروازے میں کھڑا تھا
وہ مر گئ ۔۔۔ آپکی روح “
وہ اسے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ اچانک ہی ٹیرس پر آیا تھا اور سامنے اسے آسمان کی سمت باتیں کرتے دیکھ بھی وہ اس پاگل پن کو سمجھتا کہ ریڈ ڈوٹ اسکے جسم پر گھوم کر اسکے دل پر رکا ۔۔۔
اگر بہزاد اپنی بلی اسکے سینے پر نہ مانتا تو اس وقت وہ مر جاتی ۔۔۔
اسی وقت گولی بلی کے وجود میں گھپ گئ اور روح نیچے بیٹھ گئ
بہزاد نے اس سمت دیکھا جہاں اسے شک ہوا تھا لیکن بے سود کوئی ملنے والا نہیں تھا اس اندھیرے میں اسے ۔۔۔
تبھی وہ روح کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
کون تھا جو اسے مارنا چاہتا تھا یہ سب کیا تھا وہ خود حیران تھا ۔
لیکن اس وقت سامنے والے کی حالت اتنی قابل رحم تھی کہ اگر بہزاد اسے تھامتا نہ تو وہ زمین بوس ہو جاتی
آہ ۔۔۔۔ ” وہ سسکیاں بھرنے لگی
وہ مڑ گئ آپ نے اسے کیوں پھینکا اسے کس نے گولی ماری ۔
آہ ” اسکے سینے پر سر رکھے وہ بری طرح رو رہی تھی ۔۔
بہزاد لب بھینچے کھڑا تھا ۔
اور جب اسکا دل ہلکا ہوا تو وہ سر اٹھا کر کسمسا کر اسکے مظبوط بازوں سے نکلی
تمھارا ضروری ہے بے وقت باہر نکلنا۔۔ “بہزاد نے سختی سے پوچھا تھا ۔
میری ٹیرس ہے میں اللّٰہ جی سے باتیں کر رہی تھی ” وہ منہ بنا کر بولی
اس حلیے میں ” بہزاد نے اسکی برہنہ ٹانگوں پر نگاہ حق سے گھمائی تھی
آپ ۔۔۔ اپ جائیں یہاں سے ” وہ ایکدم جیسے سنبھل گئ
شوق سے نہیں یا نقصان کر دیا تم نے میرا “
م۔۔۔میں نے کیا کیا آپ نے اپنی بلی مجھے ماری اور وہ مر گئ قاتل ” ۔
اگر میری روح کی جان نہ جاتی تو تمھاری روح دوزخ میں چپلی کباب بن جاتی ” بہزاد نے ترچھی نگاہ اسپر ڈالی
روح نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
ک۔۔کوئ مجھ۔۔۔مجھے مارنا چاہتا ہے ” وہ خوفزدہ سی حلق میں سانس اتارتی بولی
سہمی سہمی سی وہ بے بسی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک لائیٹ بجھ گئ روح نے ڈر کر ادھر ادھر دیکھا
اور اسے بہزاد کے مظبوط بازو اپنی نازک سی کمر کے گرد گھیرتے محسوس ہوئے ۔
اسکے بازو کی ہلکی سی گرفت پر روح نے اسکی جانب دیکھا اسے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن لگ رہا تھا اسکا چہرہ اسکے بے حد نزدیک ہے
اسکی دھڑکن ایک لمہے کے لیے رکی
میرے ہوتے ہوئے تمھیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا ” زیادہ کچھ نہیں کیا تھا بس اسکا گال تھپتھپایا تھا
اندھیرے میں سو لیتی ہو یہ وہ بھی نہیں آتا ” وہ اب بھی اسے تھامے ہوئے تھا
روح سن کھڑی تھی اسکی خوشبو روح کو اپنے اردگرد محسوس ہو رہی تھی
چھوڑیں مجھے ” اسنے اسکا بازو ہٹایا
چھوڑ دوں ” وہ بولا
ہاں” روح کی اواز میں غصہ تھا
چھوڑ دیا “
اسنے ہاتھ جھاڑے اور سینے پر ہاتھ باندھ گیا تبھی لائیٹ آ گئ
روح کو لگا یہ کمبخت لائیٹ جان بوجھ کر گئ تھی
وہ زمین پر پڑی بہزاد کو دیکھنے لگی جو اسکے پاس بیٹھ گیا
اسکی خوبصورتی پر نگاہ بہک بہک کر جا رہی تھی وہ اتنی ہی لاپرواہ تھی اس وقت اپنی نائیٹی کے گھیرے گلے اور گلے کے حسین نظارے سے ۔۔۔۔
تم نے میرا 5 لاکھ کا نقصان کیا ہے وہ بلی 5 لاکھ کی تھی اب تم سیدھی طرح صبح میرے کیبن میں ا جانا کل میری ایک میٹنگ ہے ۔۔
امم اسنے پر سوچ نظروں سے اسکی جانب پھر دیکھا
ایک گروہ کو مارنا ہے جو میرے خلاف اٹھ رہا ہے
اور جو میرے خلاف ہے اسے دنیا میں رہنے کا حق نہیں کچھ دھماکے اور بس کچھ بلاسٹس ۔۔
کام بہت میرے پاس ۔۔۔ کل ذرا روٹی کھا کر انا تم بے ہوش ہوئی تو میں تمھیں زندہ قبر میں دبا دوں گا اور میں جو کہتا ہوں وہ اگر نہ کرتا ہوتا تو یہ شانے پر گولی نشان لیے نہ پھر رہی ہوتی ۔۔
سو بی ریڈی بیبی گرل “وہ مسکرایا
اور ڈیمپل اسکو دیکھاتا اسکے گال کو تھپتھپا کر اٹھ گیا
تمھارا کام بس اتنا ہی ہے کہ تم یہاں سے سامنے میرے پاس او گی اس کے علاوہ کہیں نہیں جاو گی “
وہ اسے یادہانی خراب رہا تھا جبکہ روح اب بھی ویسے ہی بیٹھی تھی
بہت موٹی ہو تم ” ذرا جھک کر وہ معنی خیزی سے اسے دیکھتا سیدھا ہوا اور روح ایکدم خود کو چھپا گئ ۔۔
بہزاد اسکا ڈور لاک کر کے باہر چلا گیا
جبکہ روح پریشانی سے ان ہیلر کو لبوں پر رکھ گئ تھی
وہ بہت خطرناک آدمی تھی بہت زیادہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو اس بہزاد کو مار دو ورنہ یہ ہم دونوں کو مار دے گا ” ضیاء نے ہارون کی جانب دیکھا
میں سوچ رہا ہوں اسے اپنے ساتھ شامل کر لوں ” ہارون پر سوچ نظروں سے اسے دیکھتا بولا
تمھارا دماغ خراب ہے تم نے اسکے باپ کو مارا ہے
وہ تمھاری جان لے گا بس “
وہ میری نہیں انیسا کی جان لینا چاہتا ہے ” ہارون مسکرایا
انیسا ” ضیاء نے اسکی جانب دیکھا ۔
ہاں انیسا لیکن اسے انیسا کا تھوک بھی نہیں ملے گا وہ صرف انیسا کو حاصل کرنے کے لیے خاموش بیٹھا یہ رنگ لگا رہا ہے ۔۔
لیکن اسے میری بیوی کی ۔۔ پرچھائی بھی نصیب نہیں ہو گی ۔۔
بھلے اسکے لیے وہ اپنی زندگی ہی کیوں نہ لگا دے “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔