No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
روح اسے لے کر گھر لوٹ آئ تھی وہ تمام راستہ پیدل چلتا گیا اور وہ گھر لے ائی تو مبین خان کی پارٹی میں بہزاد جا نہ سکا
وہ مسکرا مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ بہت خوش تھی اب وہ کسی کو نہیں مارے گا اسے اس بات کی خوشی تھی اور بہزاد اسکی بات مان کر خوش تھا جبکہ اسطرح اسے بہت نقصان ہوا تھا اسے تو کیا مبین خان کو بھی نقصان ہوا تھا کافی ۔۔۔
بہزاد نے انھیں کال کرنے کی کوشش بھی کی لیکن بے سود کے مبین خان نے اسکا فون نہیں اٹھایا پوری رات وہ سیگریٹ پیتا رہا ایک نشہ اسے LSD پسند تھا ایک نشہ وہ اسکی آنکھوں سے کر آیا تھا جو ساری عمر نہیں اترنا تھا اسکے دل نے یہ بات مان لی تھی ۔۔
وہ کافی حد تک سیگریٹ جلا کر خود کو بھی جلا چکا تھا یہاں تک کے دن نکل آیا
اسنے سیگریٹ بھجائی اور اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا جبکہ واپس آیا تو مہروز اسکے کمرے میں تھا بہزاد نے نظر انداز کر دیا ۔۔۔
ہماری ضرورت تھی ان لوگوں کو 13 لوگ مر گئے بہزاد ۔۔
تم عاشقی کرتے رہے وہ تیرہ لوگ تمھارے منتظر تھے
یہ تمھارا کام ہے میں تمھیں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں اس بات پر حیران ہوں کہ ایک وہ لڑکی جو تمھیں کھلے عام بیوقوف بنا رہی ہے تم نے اسے سر پر بیٹھانے کی ٹھان لی ہے شجر تمھارا دشمن ہے “
شجر اسے استعمال کر رہا ہے یار ” بہزاد نے سرخ نظروں سے مہروز کو دیکھا
بکواس ہمیں فرق نہیں پڑتا کہ کون اسے استعمال کرتا ہے کون نہیں پہلے بس مجھے تمھارا شغل میلہ لگا تھا لیکن اب مجھے لگ رہا ہے کہ تم سب تباہ کرنے کا ارادہ بنا چکے ہو ” مہروز کافی غصے میں تھا بہزاد خاموش رہا ۔
اور اسنے بالوں کو ڈرائیر کرنا شروع کیا
میں تمھیں کہہ رہا ہوں کہ اب تم بات نہیں کرو گے اس سے ” وہ ذرا دانت پیس کر بولا
یار ایسا نہ کہہ چڑیا ہے ناراض ہو سکتی ہے ” وہ اسے چھڑانے کو آنکھ دبا کر بولا تھا
خون پی جاوں گا میں بہزاد تمھارا 13 لوگ مر گئے
تمھاری اس چڑیا کی وجہ سے مجال ہے تمھارے کان پر جوں بھی رینگی ہو ” مہروز کی برہمی پر وہ مسکراتا رہا کیونکہ مان چکا تھا کہ محبت دل کے دروازے کھول کر اسکے دل میں ا بیٹھی ہے اور حق رکھتا تھا وہ اس سے محبت کرنے کا مکمل اسکی سانسیں بھی بہزاد کی تھیں اتنا حق رکھتا تھا وہ ۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر باہر نکلا تو روح ناشتے کی ٹیبل پر تھی مسکرا کر ان دونوں کو دیکھنے لگی مہروز نے تو سختی سے گھورا تھا اتنا ہی الٹا روح نے بھی اسے گھورا جبکہ بہزاد خاموشی سے بیٹھ گیا
گڈ مارننگ ” روح بولی مگر بہزاد نے جواب نہیں دیا روح کو عجیب سا لگا
آپ کو پتہ ہے اج آپکی روح نے کیا کیا ہے وہ سارے میرے نوڈلز کھا گئ
دل تو کیا کاٹ کر پھینک ” ابھی بقیہ الفاظ منہ میں ہی تھے بہزاد نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا
وہ چپ ہو گئ ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے نہیں چھیڑتی آپکی روح کو لیکن یہ کیا وہ کھا جاتی ہے سب کچھ ” بہزاد نے کوئی جواب نہ دیا مہروز بھی خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا روح نے ذرا اسے چونک کر دیکھا ایسا تو کبھی نہیں ہوتا تھا وہ اسے جواب نہ دے
وہ دونوں ناشتہ کرنے لگے اور روح بھی کنفلکس میں چمچ چلانے لگی
ان دونوں نے اسے مکمل نظر انداز کیا ہوا تھا
جینزی سے میں نے موبائل مانگا اسنے مجھے موبائل نہیں دیا ” وہ اسے شکایت لگا رہی تھی بہزاد اب بھی کچھ نہ بولا اور روح کی انکھوں میں انسو بھر گئے
بہزاد نے اسکی آنکھوں میں سرسری سا دیکھا اور سامنے دیکھنے لگا ۔
روح نے آنکھیں جھکائیں تو ایک قطرہ کنفلیکس کے باول میں جا گیرہ بہزاد نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کر مہروز کو دیکھا
چلو ہم نے جانا ہے ” وہ ذرا سختی سے بولا
اسے سمجھ نہیں آیا کہ آخر وہ اسکی مان کیوں رہا ہے
پلیز میرا موبائل تو مجھے دے دیں ” وہ پیچھے پیچھے ہوئی لیکن بہزاد نے توجہ نہیں دی
بہزاد ” وہ پکار اٹھی وہ رک جاتا کہ اب کھلے عام محبت مان چکا تھا لیکن مہروز اسے گھسیٹ کر باہر لے گیا
روح کو اسکا نظر انداز کرنا اچھا نہیں لگا
کل رات وہ کس طرح اسکی مان رہا تھا سب دیکھ رہے تھے وہ خوش ہوئی تھی کیونکہ وہ ایک مافیا گینگسٹر وہ کیسے اسکے آگے جھکا
کیا وہ اسے پسند کرتا ہے ” وہ ایکدم سوچنے لگی تو دل دھڑکا ۔
کیا واقعی ” اسنے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
لیکن یہ کیا وہ تو شجر کو پسند کرتی ہے ” وہ اداس ہوئی
لیکن بہزاد تو بہت یینڈسم ہے شجر سے زیادہ “
اوپر سے گانا بھی کتنا اچھا گاتا ہے ” وہ سوچنے لگی
لیکن اسنے اگنور کیوں کیا ” وہ اداسی سے اندر ا گئ
کئی سوال تھے جو اسکے زہن میں اسوقت گڈ مڈ تھے وہ بار بار پلٹ پلٹ کر دیکھتی کہ وہ شاید آ جائے واپس ۔۔۔
بہزاد نے اپنے موبائل پر یہ سب دیکھا تھا اسنے مہروز کو غصے سے دیکھا جس پر مہروز نے اسکا موبائل کھینچ کر ڈیش بورڈ پر رکھا ہمارے لیے ضروری ہے مبین خان سے ملنا چلو ۔۔۔
وہ بولا تو بہزاد بھی سمجھتا تھا وہ اپنی کوتاہی کہ وجہ سے 13 لوگوں کا ذمہ ہو چکا تھا اسنے گاڑی سٹارٹ کر لی
اور بہزاد گاڑی سے باہر جھانکنے لگا
برسوں بعد مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا دماغ ماوف تھا انیسا روح کی ماں ہے کیسے کیوں ؟
انیسا ہارون بیگ ۔۔۔
وہ جانتا تھا انیسا نے علی شاہ کے انتقال کے دو سال بعد ہارون بیگ یعنی علی شاہ کے دوست سے شادی کر لی تھی تو انیسا کی بیٹی روح کیسے تھی جبکہ بہزاد علی شاہ کا بیٹا تھا اور انیسا کو علی شاہ سے کوئی اولاد نہیں تھی پھر روح کون تھی
انیسا کا روح سے کیوں تھا تعلق ؟ وہ سر تھامے بیٹھا تھا اپنے افس میں کہ دروازہ بجا اسنے سر اٹھایا ہارون بیگ کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ کھڑا ہو گیا آج سلوٹ نہیں مارا کیونکہ دل نہیں کیا اسے معمہ لگ رہا تھا اب ۔۔۔۔
ہارون نے نظر انداز کیا
برخوردار ویری گڈ کافی کامیابی سے تم نے ان سارے پسنجر کو بچایا مجھے تمھارا یہ ہی پیشن بہت پسند ہے کہ تم یہ تو جان لے لو گے یہ جان دے دو ائ لائیک ایٹ ” مسکراتے ہوئے وہ چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئے ۔
شجر کچھ نہیں بولا خود بھی بیٹھ گیا
مجھے تم سے ایک اہم کام ہے شجر ” ہارون نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
شجر نے آنکھیں اٹھائیں
میں چاہتا ہوں انیسا کو پروٹیکیشن دو مجھے نہیں علم کے اسے بہزاد کا بخار کیوں چڑھ گیا ہے لیکن بہزاد پر حملہ اگر ممکن نہیں تو انیسا کی پروٹیکشن تو ہو سکتی ہے تو انیسا کو پروٹیکٹ کرو اسکو سکیورٹی تم دو گے
اسکے علاوہ ” وہ کچھ رازداری سے جھکا
میں جاننا چاہتا ہوں وہ کہاں کہاں جاتی ہے کیا کرتی ہے ” وہ بولے تو شجر انھیں خاموشی سے دیکھتا رہا ائی نو تم اپنی ڈیوٹیز بیسٹ وے میں کرتے ہو ۔۔۔
وہ اسکا شانہ تھپتھپا کر اٹھے اور باہر نکلنے لگا
کیوں اپکو آپنی بیوی پر ٹرسٹ نہیں ” اسکے سوال پر ہارون پلٹا پہلے تو حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا اور پھر ہلکا سا مسکرایا کھل کر ہنسا
شادی کر لو پھر میں تم سے پوچھو گا کہ بیویاں بھروسے کی لائیک ہوتی ہیں ” وہ سر جھٹک کر بولتے بات ہنسی میں اڑاتے نکلنے لگا کہ پھر وہ ٹوک گیا
میم انیسا بہت زبردست خاتون ہیں انکے بارے میں ایسے سن کر حیرانگی ہے “
” خوبصورت عورت اور مرد کی جیب کا پیسہ اعتبار کے قابل نہیں
کسی اور کے ہاتھوں میں جانا اسکا مقدر ہے ” وہ مسکرائے اور چلے گئے ۔
سر وہ آدمی پھر سے آیا ہے کہتا ہے ہارون سر سے کہیں کہ ملنا ہے “
انتظار کراؤ ” وہ بولے
سر ایک مہینے سے بے چارہ انتظار کی سولی پر “
اگر اتنا تجھے بے چارہ لگ رہا ہے تو تجھے بھی بے چارہ بنا دوں ” وہ بولے تو بلکل نہیں لگا کہ یہ جرنل ہیں اور مقابل جھجھک کر رک گیا اور شجر یہ سب سن سکتا تھا
دس سالوں میں اسنے یہ سب نہیں دیکھا یہ پھر اسنے دس سالوں میں ان معملات پر توجہ نہیں دی تھی
وہ پھنس گیا تھا الجھ گیا تھا اسکی سمجھ سے سب کچھ باہر تھا اسنے فائل کھولی اور ان تیرہ مظلوموں کو دیکھنے لگا جو کہ مر گئے تھے اسنے مکہ ٹیبل پر مارا
بہزاد علی شاہ تمھاری موت میری ایک ہی گولی ہے ” کہہ کر جھٹکے سے وہ اٹھ کر وہاں سے نکل گیا
اس بات کا جواب روح دے سکتی تھی کہ انیسا کا اس سے کیا تعلق ہے ” اسنے روح کو کال ملائی تو فون بہزاد کی میٹنگ کے دوران بجنے لگا اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا باقی سب اسکے ہاتھ میں پنک موبائل دیکھ کر ششدر تھے جبکہ وہ شخص کا نمبر دیکھ رہا تھا جس پر کس والے ایموجیز لگے ہوئے تھے اسنے ہاتھ کے اشارے سے اس میٹنگ کو روک دیا
مہروز مٹھیاں بھینچ گیا
بہزاد اس وقت اہم ڈیلینگ کر رہے ہیں ” مہروز نے کہا جبکہ بہزاد نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا فون مسلسل بلنک ہو رہا تھا
وہ مٹھیاں بھینچے بیٹھا کام کی جانب متوجہ ہو گیا
تقریبا دس منٹ میں اسنے وائینڈ اپ کہا اور روح کا موبائل پاور آف کر دیا جبکہ مہروز اسکی یہ بے تابی دیکھ کر گھیرہ سانس بھر گیا
کمال ہے بیوی تمھاری ہے محبت اس سے کرتی ہے
اور غضب تو یہ ہے کہ بیوی اسکی ہے محبت تم سے کرتی ہے ان حرکتوں پر تم دونوں مردوں کو ڈوب مر جانا چاہیے “
منہ بند رکھو اپنا “
بہزاد کو حیرانگی نہیں ہوئی تھی کہ اسے کیسے اندازہ ہوا
وہ اپنے طور طریقوں سےثبوت دے چکا تھا اور اسکے جسم پر نام گواہ تھا کہ یہ روح اسکی ہے
وہ باہر نکلا اور رخ مبین خان کی جانب کر لیا
مہروز کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی تبھی وہ باہر ہی رک گیا
لیکن قسمت نے معلوم نہیں کیا لکھا تھا کسی نے اسے دیکھا اور اسکی تصاویر لے لیں
جس کا اسے اندازہ نہ ہوا اور مسکرا کر ہارون بیگ کے افس کی جانب بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ گھر میں داخل ہوئی تو بری طرح تھکی ہوئی تھی لوٹنے کے بعد بھی وہ ڈیوٹی پر رہی تو اب اسکا جسم ٹوٹ رہا تھا وہ ائ اور سامنے روح کو دانت نکلتے دیکھ اسکے دماغ پر جھٹکا لگا تھا
ہائے پلوشہ تھینک گاڈ تم ا گئ یار ” وہ اچھلی اور اسکے پاس آ گئ
پلوشہ کی زبان تالو کو لگ گئ تھی
روح نے اسے گول گول گھما دیا
ابھی میں جینزی کا دماغ کھا رہی تھی اب تمھارا کھاو گی ویسے تم تھکی تھکی لگ رہی ہو ۔۔ ” وہ ذرا فکرمندی سے بولی
ایک کام کرتے ہیں تم فریش ہو جاؤ میں تمھارے لیے مزے دار سے نوڈلز بناتی ہوں سپایسی سے اور سپایسی چیزیں کھا کر تو تھکان ہی اتر جاتی ہے “
وہ مزے لے کر بولی جبکہ پلوشہ نے اسکے ہاتھ سے ہاتھ نکال لیا
تم یہاں کیوں آئی ہو”
تمھارا اپنا گھر نہیں ہے ۔۔۔ میں اسے پسند کرتی ہوں
تمھیں یہ بات کیوں نہیں سمجھ آتی ؟
میں کیا کروں میں تمھیں کیسے سمجھاؤ روح کیسے ؟
میں ایک زندگی سے اسکا انتظار کر رہی ہوں
اور جب مجھے لگتا ہے وہ میرا ہو جائے گا تب تم تمھارا نام جو اسکے وجود پر لکھا ہے میری آنکھوں کے سامنے ا جاتا ہے تمھیں پتہ ہے مجھے کسی سے نفرت نہیں ہے نہ مجھے کسی کو دیکھ کر تکلیف ہوتی
لیکن جب جب میں تمھیں دیکھتی ہوں مجھے لگتا ہے میں اذیت میں ہوں
تم جاو یہاں سے تم جاؤ نکلو ” اسنے آنسو صاف کیے سامان پھینکا اور اسے باہر دھکیل دیا
روح ساکت کھڑی تھی جینزی آنکھیں پھاڑے پلوشہ کو دیکھنے لگی
میم ۔۔۔ میم سر بہت خفا ہوں گے ” جینزی نے اسے روکنا چاہا
چپ رہو تم ” پلوشہ جیسے اپنے اختیار سے باہر تھی
روح کی آنکھیں بھیگ گئیں وہ کنفیوز تھی بہت زیادہ کنفیوز ۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو میں تمھارے منگیتر کو پسند نہیں کرتی تم ۔۔ تم ایسے بات مت کرو مجھ سے ” وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ پلوشہ نے اسکی جانب دیکھا انداز میں نقاہت تھی
لیکن وہ تو تم سے محبت کرتا ہے نہ ۔۔۔
جب تک تم یہاں رہو گی وہ مجھے نہیں دیکھے گا اور تم تمھیں شرم کیوں نہیں اتی تم دوسرے کے دل اجاڑ رہی ہو نکلو ” اسنے اسے دھکیلا روح نے دروازہ تھام لیا
م۔۔میرا ان ہیلر ” وہ سانس بھرتی جینزی سے بے بسی سے بولی جینزی پیچھے بھاگی اور اسے ان ہیلر دیا
جاؤ روح پلیز جاؤ ” وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئ جبکہ روح پیچھے قدم لینے لگی
آپ ایسا نہیں کر سکتی بہزاد سر بہت غصہ ہوں گے ” جینزی نے بہت روکنا چاہا
لیکن پلوشہ نے ایک نہ سنی ۔۔۔
میم آپ کہیں نہیں جا سکتی۔” گارڈز نے سختی سے کہا
یہ میرا حکم ہے جانے دو اسے یہاں سے ” پلوشہ کا بس نہیں چلا سب پر چلائے
روح نے پلٹ کر دروازہ کھولنا چاہا وہ ہر لمہے کے بعد ان ہیلر لبوں سے لگا رہی تھی اس کی سانسوں کی آواز میں بے بسی کی آمیزش تھی اور گارڈ پر فورس کر کے روح نے دروازہ کھلوا لیا
پلوشہ نے اپنے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا تھا
اور اسنے آنکھیں بند کر لیں وہ جانتی تھی وہ غلط کر رہی ہے لیکن وہ کیا کرے وہ مجبور تھی اپنی محبت کے ہاتھوں وہ اندر ا گئ جینزی اسے دیکھتی رہی
بہزاد کو نہیں بتانا ” وہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ
جبکہ جینزی پریشان تھی وہ کیا کرتی وہ بہزاد کو بتا دیتی یہ پھر کچھ اور کرے لیکن بہزاد تو بہت اہم میٹنگ میں مصروف تھا اور آج سے پہلے اسنے ایسا کیا بھی نہیں تھا ۔۔
لیکن جینزی بہت پریشان تھی اسنے پلوشہ سے چھپ کر گارڈ کو روح کے پیچھے بھگایا لیکن گارڈ کچھ ہی دیر بعد لوٹ آیا کہ وہ اسے اردگرد کے ایریے میں نہیں ملی اور اس وقت اسکے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو وہ اس گھر کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا
پلوشہ فریش ہو کر آئی تو جائے نماز بچھا لی وہ دیکھ سکتی تھی جینزی پریشان ہے اور وقت تو بڑی تیزی سے گزر رہا تھا مغرب اور پھر عشاء بھی ہو گئ
اسے احساس تھا اسنے غلط کیا ہے لیکن وہ خود غرض ہو گئ تھی کچھ دیر کے لیے ہی سہی ۔۔۔
وہ کیا کرتی اگر روح کو نہ بھیجتی تو بہزاد اسکا کبھی نہ ہوتا وہ اسے گھر میں لے آیا تھا تو دل میں بسا لیا تھا اور دل میں بسا لیا تھا تو یقینا کمرے میں بھی لے جاتا
اسکا دم گھٹنے لگا روح کی فکر الگ ہو رہی تھی
بہزاد اب تک نہیں آیا تھا اور رات ڈھل رہی تھی وہ پریشان ہوتی نیچے آیا اور جینزی سے روح کا پوچھا
میں نے میم گارڈ کو بھیجا بھی لیکن روح میڈیم نہیں ہیں کہیں بھی ” جینزی اب رونے لگ گئ
پلوشہ نے ایک نظر اسکو دیکھا اور اب اسے پریشانی ہو رہی تھی
یہ سچ تھا کہ اسنے یہ غلطی کر دی تھی لیکن بہزاد کو کون سنبھالتا اب وہ خوف سے تھرتھرا رہی تھی
پریشانی سے اسنے کچھ دیر مزید بہزاد کا انتظار کیا اور جب وہ نہیں آیا تو نہ چاہتے ہوئے وہ شجر کو کال ملا گئ
کیونکہ اسد کو کرتی تو وہ بھی اتنی جلدی اسے ڈھونڈ نہ پاتا اور باقی وہ کسی کو جانتی نہیں تھی
زہے نصیب بلائیں لوں آپکی یہ پھر مٹھیاں بٹوا دوں پوری فورس میں ” وہ مسکرا کر بولا تھا جبکہ پلوشہ اتنا پریشان تھی کہ رو ہی پڑی
کیا ہوا ” شجر فائل چھوڑ کر سیدھا ہو گیا
وہ ” ۔۔
بتاو پلوشہ کیا ہوا ہے “
مجھے آپکی مدد چاہیے میری ۔۔۔ میری فرینڈ روح وہ میں نے اسے غصے سے گھر سے نکال دیا اور اور شام سے اب رات ہو گئ ہے ۔۔” ۔
وہ بتا گئ شجر کا دماغ دو سو کی سپیڈ سے حرکت میں ایا تھا اگلا لفظ سنے بنا ہی اسنے کال کاٹ دی ۔
پلوشہ پریشانی سے کافی زیادہ رو دی اسے بہزاد سے ڈر لگ رہا تھا اور جینزی اسے چپ کرانے لگی تھی ۔۔۔
شجر نے گاڑی کی چابی اٹھائ اور باہر نکلا وہ آرمی ایریے میں تھا اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور فکرمندی سے وہ دوڑتا ہوا نکلا تھا
انیسا کی بیٹی تھی وہ ابھی یہ معمہ کھلا تھا
اور آگے کیا کیا تھا یہ بات روح جانتی تھی روح کا کہیں بھی نکل جانا اسکے لیے نقصان تھا اور پھر کچھ ہمدردی بھی تھی کہ اسکی بیوقوفی سے واقف تھا اور سب سے اہم سانس کا مسلہ تھا
وہ سمجھ گیا تھا بہزاد کو ابھی یہ پتہ نہیں چلا اگر چل جاتا تو پلوشہ اسے فون نہ کرتی وہ گاڑی لے کر نکلا تھا
پندرہ منٹ کے اندر اندر بہزار کے گھر کے باہر تھا وہ اسنے پلوشہ کو کال کی
کیا تم میرے ساتھ آ رہی ہو ” اسنے پوچھا
نہیں ۔۔۔ ٹکا سا جواب دے دیا وہ اتنی پریشانی میں بھی لب دبا گیا
اور کال بند کر کے کے روح کو ڈھونڈنے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات مناسب ہے مجھے موقع ملا تو لاشیں بچھا دوں گا ” آخری بات کہہ کر اس سے ہاتھ ملا کر وہ وہاں سے نکلنے لگا
معاہدے کو یاد رکھنا اگلی بار تمھاری کوتاہی سے میرے ملک کے شریف شہریوں کا نقصان میں برداشت نہیں کروں گا “
میں اپنی غلطیوں مانتا ہوں ” وہ کہہ کر نکل گیا اور سیگریٹ لبوں میں دبا لی
نو سموکینگ ” مہروز نے بڑے بڑے درج ہوئے حروف دیکھائے اور وہ نفی میں سر ہلاتا سیگریٹ بجھا گیا
لاکھوں کا نقصان کیا ہے تم نے میرا اس وقت ” وہ بولا جبکہ مہروز نے گھیرہ سانس بھرا
یار ناراض ہو گی وہ ” وہ روح کے بارے میں سوچنے لگا
بہزاد تم واقعی اس سے محبت کرنے لگے ہو یہ پھر فلرٹ کا کیڑا دس سال بعد جنم لے چکا ہے۔”
بیویوں سے فلرٹ نہیں پکی عاشقی ہوتی ہے ” وہ بولا ڈیمپل ہلکا سا دیکھا اور اسکے قدم تیز ہو گئے
مہروز بھی مسکرا دیا روح کے آنے کے بعد وہ ہنسنے مسکرانے جو لگا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر پہنچے پلوشہ کو حال میں بیٹھے دیکھ مہروز تو خوش ہو گیا جبکہ بہزاد کا انداز بلکل نارمل تھا کچھ خاص نہیں تھا وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا
جبکہ مہروز اسکے پاس ا گیا
پیاری آنکھوں والی کس کا غم منا رہی ہو ” وہ فلرٹ کا موقع کبھی جانے نہیں دیتا تھا وہ بولا تو پلوشہ رونے لگی
کیا ہوا ” پاس کھڑی جینزی کو اسنے دیکھا اور پلوشہ اسے سب کو بتاتی چلی گئ
ار یو میڈ پلوشہ تم جانتی ہو وہ لڑکی وہ مریض ہے ایک طرح تم اپنے پروفیشن کے ساتھ کیسے ناانصافی کرسکتی ہو رئیلی ” وہ ذرا غصے میں آ گیا
پلوشہ شرمندہ تھی
بہزاد کو کچھ مت کہنا میں ڈھونڈتا ہوں ” وہ پیچھے بھاگا تھا
پلوشہ بہزاد کے خوف سے پتے کیطرح کانپ رہی تھی
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ نیچے آیا پورے حال میں دیکھا روح نہیں تھی اسنے جینزی کی جانب دیکھا جو نگاہ جھکا گئ
کیسی ہو تم تمھارا مشن کیسا رہا سنا تھا شجر عباس کے ساتھ تھی تم ” وہ نارمل پوچھنے لگا جبکہ پلوشہ سے بولا نہیں جا رہا تھا وہ نگاہ جھکا گئ
اچھا تھا “
گڈ ” وہ مسکرایا پلوشہ نے حیرانگی سے دیکھا وہ مسکرا رہا تھا سچ میں اتنا روح اثر کر گئ جو دس سال میں وہ نہیں کر پائی وہ روح نے کر دیکھایا
روح کہاں ہے ” اسنے سوال کر ہی لیا
جینزی کے لیے تو مشکل ہو گئ
وہ ۔۔وہ نہانے گئ ہے ابھی ہمارے ساتھ ہی تھی ” پلوشہ نے بات بنائی
اچھا ” وہ اہستگی سے بول گیا اسکا موبائل نکال کر رکھا اور جینزی نے کھانا اسکے آگے لگا دیا
مہروز کہاں گیا ہے ” اسنے پھر سے سوال کیا
وہ ” جس طرح جینزی سے سوال کرنے پر پلوشہ جواب دے رہی تھی چیڑ کر بہزاد نے چمچ پٹخ دیا
سر وہ روح میڈیم کو ڈھونڈنے گئے ہیں وہ ۔۔۔ وہ گھر سے چلی گئ ہیں ” وہ تقریبا سچ بتا گی
کہاں گئ ہے ” وہ فورا اٹھا
وہ ش۔۔شام میں چلی ۔۔۔۔
میں نے غصے سے نکال دیا اسے بہزاد میں بہت شرمندہ ہوں میں “
پلوشہ نے جینزی کی بات مکمل کر دی بہزاد نے اسے ایسی نگاہوں سے دیکھا تھا گویا کوئی لچک ہی نہیں
دعا کرو وہ مل جائے ۔۔۔ وہ میری بیوی اس گھر کی میری اور میرے کینڈم کی مالک ہے مائنڈ ایٹ پلوشہ شجر عباس ” پلیٹ پھینکتا وہ اسے بہت کچھ جتاتا وہاں سے چلا گیا اور پلوشہ نگاہیں جھکا گئ غصے ایکطرف اسے ایسا کرنا نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
