No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
بہزاد کی گاڑی اندر آئی اور بلیک شیشوں کے اندر سے ہی بہزاد نے روح کا بھیگا ہوا وجود دیکھا اور وہ اتنی گیلی ہوئ کھڑی تھی کہ کیا چیز تھی جو چھپ رہی تھی وہ مکمل ایکسپوز تھی
اور گارڈز مالی جینزی اور باقی ملازم بھی کھڑے تھے جبکہ دوسری طرف روح نے گاڑی دیکھتے ہی پائیپ پھینکا جینزی کیطرف جینزی نا چاہتے ہوئے بھی پائیپ پکڑ چکی تھی
بہزاد گاڑی سے باہر نکلا اور روح ایکطرف کھڑی ہو گئ
آنکھیں پٹپٹاتی وہ بہزاد کو ہی دیکھ رہی تھی بلکہ ماحول ایسا تھا کہ اس وقت سب ہی بہزاد کو دیکھ رہے تھے کہ وہ کیا کرنے والا ہے
اسنے ہاتھ کے اشارے سے گارڈز کو وہاں سے جانے کا کہا وہ بے چارے اپنی بندوقیں سائیڈ پر رکھ کر یونیفارم بدلنے چلے گئے تھے جبکہ مالی بھی چلا گیا
دوسری طرف سے مہروز بھی مصروف سا اندر ایا اور روح کو دیکھ کر اسنے ایک زبردست سی سیٹی ماری تھی
بیوٹی آف دا یونیورس کا ایوارڈ کسی کو ملنا چاہیے تو وہ صرف تم ہو ” وہ بولا بہزاد نے دانت پیس کر مڑ کر دیکھا تھا
سوری سوری برو ” وہ ہنستا ہوا اندر بھاگ گیا
یہ ۔۔۔ یہ میں نے نہیں کیا یہ جینزی نے کیا ہے دیکھیں اسکے ہاتھ میں ہے پائیپ ” روح نے فورا ہمیشہ کیطرح دوسروں پر الزام لگا دیا جبکہ جینزی بے چاری سر جھکا گئ
سر وہ میں ” وہ اب کیا کہتی بہزاد نے اسے بھی وہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا
دیکھیں مجھے تو چھنکیں بھی آ رہی ہیں آ۔۔آ۔۔آ چ۔۔۔چھو ” وہ اپنی اداکاری کے عروج پر تھی بہزاد نے لب دبا لیے
کیا ہے یہ سب ” وہ گھور کر سنجیدگی سے بولا تھا
ہاں میں بھی جینزی سے پوچھ کر آتی ہوں بہت بدتمیز ہو گئ ہیں مجھے بھگو ہی دیا ” ۔وہ کھسیانی سی ہنستی اندر جانے لگی کہ بہزاد نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
اسکی کلائ بہزاد کی گرفت میں تھی روح کو وہ لمس کافی سخت اور گرم لگا تھا کافی طاقت سے اسنے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ۔
روح نے اپنی کلائ چھڑانی چاہی لیکن بہزاد نے ہاتھ نہ چھوڑا اور وہ اسکی کلائ پکڑتا اندر بڑھا روح منہ بنا کر اسکے پیچھے پیچھے تھی وہ کمرے کے قریب آیا اور ایک مخصوص بٹن دبایا دروازہ کھلا اور وہ اسے لیے اندر داخل ہو گیا ۔ روح کنفیوز سی ہونے لگی
اسنے اپنی کلائ آزاد کرائ اور آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر بہزاد کی نگاہوں کی تپش کو محسوس کر گئ اسنے فورا سے اپنے بازو آگے باندھ لیے
بے شرم بے حیا انسان ہیں اپ تو ” وہ گھور کر بولی
بے شرم بھی میں ہی ہوں اب” وہ سر جھٹک گیا
ہاں تو اور کون ہے اپ مجھے گھور رہے تھے”” وہ ائ برو اچکا کر اسکے پیچھے پیچھے تھی جبکہ وہ وارڈ روب سے کچھ نکال رہا تھا
دیکھنے والی چیز کو سب ہی دیکھتے ہیں اور اگر چیز بھی دیکھنے لائق ہو تو دیکھنا عام بات ہے ” اسنے ایک ڈریس اسکے سامنے کیا
روح کن انکھیوں سے گھورنے لگی ۔
اور صوفے پر بیٹھ گئ
جبکہ بہزاد نے اسکے لیے ڈریس نکالا اور اسکے سامنے کیا
خود پہنو گئ یہ میں زحمت کروں” ۔ وہ بولا تو وہ غصے سے اٹھی
کیوں میرے پاس ہاتھ نہیں ہیں کیا ” ۔ وہ تڑخ کر بولی
زبان بھی بہت تیز ہے” وہ بڑبڑایا اور روح واشروم میں چلی گئ
تقریبا آدھا گھنٹہ وہ واشروم میں پانی سے کھیلتی رہی تھی جبکہ بہزاد نے باہر بیٹھ کر اسکا ویٹ کیا تھا
اور جب وہ باہر ائ تو اسکے دماغ میں کوئ اور سکیم تھی اب وہ ساری زندگی تو اس آدمی کے ساتھ رہنے والی نہیں تھی تبھی اسنے بہزاد سے باہر جانے کی فرمائش کر لی
مجھے نہیں لگتا تمھیں ضرورت ہے باہر جانے کی آرام کرو میں ایک ڈیڈ گھنٹے تک واپس آتا ہوں اور تم یہاں سے کہیں نہیں جاو گی”
وہ بولا اور اٹھ گیا
میں پاگل ہوں میں یہاں کیا کروں مجھے باہر لے کر چلیں مجھے نہیں پتہ ” ۔وہ کسی روٹھے ہوئے بچے کیطرح منہ بسور کر کھڑی ہو گئ جبکہ بہزاد کا ڈیمپل ہلکا سا نمایا ہوا
ہم پھر کبھی چل لیں گے ” ۔
مجھے ابھی جانا ہے سوچ لیں بھاگ جاوں گی پھر میں یہاں سے” وہ انگلی اٹھا کر آنکھیں دیکھتی دھمکی دینے لگی
ہاں ڈر گیا میں تمھاری اس پدی سی دھمکی سے بتاو کہاں جانا ہے” اسنے اسکی انگلی جھٹکی اور بولا جبکہ روح خوش ہو گئ مجھے سمندر دیکھنا ہے بہزاد مجھے بہت شوق ہے سمندر دیکھنے کا ” ۔
وہ اچھلی جبکہ پھر سنبھلی کہ اسکی سانسیں پھولنے لگ جاتی
پنڈی میں سمندر کہاں سے آیا ” ۔ وہ ذرا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا
اوہ ائ سی مجھے یاد آیا تم تو انڈیا سے ہو پھر تو پنڈی میں سمندر ہو سکتا ہے’ ۔
وہ سر جھٹک کر باہر نکلا
آپ دوسروں کا مذاق بناتے ہیں شرم کیوں نہیں آتی اپکو ” روح اسکے قدموں کے ساتھ قدم ملانے لگی جبکہ گیلے بال بکھرے ہوئے تھے وہ بلیو جینز اور بلیک پینٹ میں تھی جبکہ گیلے بال ہلکے ہلکے سوکھنے لگے تھے اور وہ گلابی گلابی سی لڑکی اس سے ہر بات پر الجھ رہی تھی
میں صرف تمھارا مذاق بناتا ہوں ورنہ لوگوں سے بات کرنا میری عادت نہیں ” وہ گھر سے باہر نکلا
ہاں گولیاں جو چلتی ہیں اپکی دہشت گرد کہیں کے” وہ گاڑی میں سوار ہو گئ بہزاد نے گھیرہ سانس بھرا
بہزاد ” مہروز نے پکارہ تھا جبکہ بہزاد نے اسے وہیں رکنے کا کہا روح اسے منہ چیڑا گئ خوش جو ہو گئ تھی کہ اسنے اسے روک دیا
اسنے مہروز کو ایک ٹیکسٹ کیا تھا جبکہ مہروز نے غصے والے ایموجی بھیجے کے انکا ہر کام روح سے زیادہ اہم تھا ۔ مگر وہ روح کو ہر کام پر فوقیت دے رہا تھا ۔
کتنا مزاہ آتا ہے نہ جب کوئ جلتا ہے” وہ بازو پھیلا کر بولی
ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں بہزاد اوہو یاد آیا
آپ مجھے پلیز چھوڑ دیں مجھے ڈر لگتا یے میں آپکی قید میں ہوں” وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی ڈرامے بازی کرنے لگی جبکہ بہزاد نے گردن موڑ کر دیکھا
اگر تم زیادہ بولی تو میں تمھیں گاڑی سے باہر پھینک کر چلا جاو گا ” ۔
لو کوئ اپنی محبت سے ایسے بات کرتا ہے بدعا لگ جاتی ہے محبوب کو ناراض نہیں کرتے ” ۔
اسنے اپنی طرف سے درس دیا تھا
ہاں تمھیں تو محبت میں تمغے ملے ہوئے ہیں” ۔
وہ سر جھٹک کر بولا
میں بہت محبت کرتی ہوں پتہ بھی ہے اپکو ” ۔
کس سے” ۔ وہ تیوری چڑھا کر بولا
شجر سے اور کس سے” وہ شانے اچکا گی
ہممم شجر عباس جو ڈیٹ پر ہے اس وقت ” ۔
کیا” ۔ وہ چلا اٹھی جبکہ بہزاد نے گھیرہ سانس بھر کر گاڑی کو موڑا تھا
ش۔۔شج۔۔جر کس کے ساتھ ڈیٹ پر ہیں وہ “
پلوشہ کے ساتھ” ۔ وہ سکون سے بولا جبکہ اسکی آنکھیں مزید پھیل گئیں اور ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئ
اپ۔۔آپ کی پلوشہ” وہ حیرانگی سے آنکھیں پھیلے مدھم آواز میں بول رہی تھی
بہزاد شانے اچکا گیا
یعنی یہ دونوں مل کر ہم دونوں کو چیٹ کر رہے ہیں” وہ ہتھیلی پر مکہ مارتا غصے سے بولی
بہزاد نے ایک نگاہ اسپر ڈالی اور سر نفی میں ہلانے لگا ۔
تو اب ہم دونوں کیا کریں ” ۔وہ ایکدم سیدھی ہوئ
ہم بھی اب ان دونوں کو چیٹ کرتے ہیں” وہ سنجیدگی سے بولا
اچھا آئیڈیا ہے کیا کریں پھر ” ۔وہ جاسوسوں کی طرح پوچھ رہی تھی
ہوٹل چلتے ہیں ایک اچھی سی نائیٹ سپین کرتے ہیں پھر اسکی گندی گندی پیکس لے کر ۔ ان دونوں کو سینڈ کر دیں گے سیمپل’ ” ۔اسنے مشورہ دیا روح اسی پوزیشن میں اسے دیکھنے لگی
استغفراللہ ” ۔
اسنے کانوں پر ہاتھ رکھا جبکہ بہزاد نے مسکراہٹ ضبط کی
یہ لڑکی کسی کا بھی موڈ آف اور موڈ اچھا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی
لاحول ولا شرم تو مجھے پتہ ہے آپکے پاس نہیں ہے لیکن پھر بھی شرم کر لیں کچھ” وہ بولی جبکہ بہزاد مسکراتا رہا ۔
میں چھوڑو گی نہیں ان دونوں کو انکی ماں کی” ۔ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ گئ
بہزاد مسکراتا رہا اور اسکی تہذیب بھری گالیاں سنتا رہا
آپ نہ اب مجھے بس اپنے کام میں شامل کر لیں اس شجر اور پلوشہ کو گولیاں ماروں گی سب سے پہلے ائے بڑے سستے عاشق” ۔
ہاں تا کہ گولی مارنے کے بعد تم سانسیں بھول جاو ” بہزاد نے اسے تنگ کرنے کی ٹھانی ہوئ تھی اسنے بہزاد کے بازو پر مکے برسانے دیے جبکہ وہ بے ساختہ مسکرا دیا
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ نے اسے ساری بات بتا دی تھی اور وہ کھڑی ہو گئ
اب اپکا جو دل کرے وہ کر لیں میں نے اپکو بتا دیا ہے ” ۔
اسنے کہا
جبکہ شجر اب بھی مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا
اگر تمھیں میرا اتنا خیال آ جاتا یے تو بہزاد کو مجھے مار دینا چاہیے” ۔
پلوشہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔
آپکے گھر میں ماں بہنیں نہیں ہیں” پلوشہ غصے سے بولی تھی
ہیں تمھیں لے جاوں گا منوانے فکر نہ کرو لیکن تم ملی تو تھی بس بات یہ ہے کہ دس سال پہلے” ۔
مجھے اپکے گھر والوں سے ملنے میں کوئ دلچسپی نہیں ہے میں اپکو بتا چکی ہوں اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو بچا لیں ” وہ بولی اور جانے لگی ابھی شجر اسے روکتا کہ اسکا سیل فون رینگ کرنے لگا اسنے کال اٹینڈ کی ابھی وہ مقابل کو جھاڑ دیتا کہ آج دل نہیں تھا اسے نگاہوں سے یہاں کا اور یہ کم بخت فون ۔۔۔
لیکن دوسری طرف جو خبر سنی اسکے قدموں تلے زمین کھسکی تھی
واٹ” وہ دنگ سا رہ گیا
اور الٹے قدموں بھاگا تھا پلوشہ بھی حیرانگی سے دیکھنے لگی
وہ ایکدم مڑا اسکے نزدیک آیا اور اسکی کلائ پکڑ کر وہ اپنی جیپ کی جانب بڑھا
کیا مسلہ ” ۔
کرنل ضیا کی ڈیتھ ہو گئ ہے تم ڈاکٹر ہو
تھوڑا تو اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کرو ” ۔
میں مریضوں کو ٹھیک کرتی ہوں مرے ہوئے لوگوں کو نہیں ” ۔
کوئ مر گیا ہے پلوشہ ” ۔
شجر غصے سے بھڑکا پلوشہ خاموشی ہو گئ وہ ضیا کو جانتی نہیں تھی شجر کافی رش ڈرائیونگ کر کے واپس لوٹا ضیا کی لاش دیکھ کر ایکدم اسکی آنکھوں میں ایا اندر ا گیا
بہزاد علی شاہ” وہ دھاڑ اٹھا پلوشہ جبکہ ایکدم ڈر گئ تھی شجر نے دیوار میں مکہ مارا
وہ کمرے میں چلا گیا جبکہ وہاں انوسٹیگیشن جاری تھیں
رپورٹ لکھو بہزاد علی شاہ کے خلاف” اسنے آرڈرز پاس کیے
ابھی کے ابھی ایف ائ آر کالج جانی چاہیے سمھجے تم”
وہ انسپکٹر سے بولا تھا
لیکن ایف ائ آر تو کٹ چکی ہے سر” وہ انسپکٹر بولا تو شجر نے چونک کر دیکھا
کس کے خلاف ” ۔
انیسا شاہ یہ گن انیسا شاہ کی لائسینس گن یے سر” ۔
انسپکٹر نے کہا جبکہ شجر نے پلوشہ کی جانب حیرانگی سے دیکھا
یعنی یہ گیم تھی اور اس میں پلوشہ بھی شامل تھی اسے پتہ تھا کہ شجر اگر وقت پر اس تک پہنچا تو وہ یقینا اسکے خلاف ہی جائے گا تبھی پلوشہ کو سہارا بنایا تھا تاکہ ڈسٹرکٹ ہو جائے
پلوشہ اسے سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی جبکہ شجر کے سر پر اس چال بازی پر خون سا سوار ہوا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ اپنے ہاتھ خون سے مت رنگیں ” ۔
پلوشہ نے اسکی جانب دیکھا ۔
میرے ہاتھوں میں خون ہے پلوشہ میری فکر نہ کرو ” ۔
وہ سنجیدگی سے بولا
کاش اس سارے کام میں میں ا پکی مدد کر پاتی” وہ بہزاد کی جانب دیکھ کر گھیرہ سانس بھر گئ
تم کر سکتی ہو اگر میرا چھوٹا سا کام کر دو ” اسنے وہ تصویر جو پلوشہ دیکھ کر ڈر گئ تھی ۔ اسکی جانب بڑھا دی
پلوشہ جانتی تھی بہزاد کا پہلا دشمن شجر ہے لیکن پھر بھی وہ اسکے مارنے کے حق میں نہیں تھی اور وجہ شاید وہ خود بھی واقف نہیں تھی
میرا ایک کام کرو دو صرف شجر کو یہ بتا دو کہ بہزاد اسے مارنا چاہتا ہے اور یہ کام تم کس وقت اسے کال کرو گئ میں تمھیں بتاو گا ” ۔
لیکن میں اس شخص سے بات نہیں کرنا چاہتی ” ۔
پلوشہ نے ذرا ناراضگی سے کہا بہزاد چپ ہو گیا
جبکہ وہ اسکی بات کے خلاف جا ہی نہیں سکتی تھی اچھا ٹھیک ہے بتائیں ” ۔
وہ اسکے سامنے بیٹھ گئ اور بہزاد نے اسے سب سمھجایا
شجر اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جو خاموشی سے کھڑی اسے ہی دیکھ رپی تھی تبھی گاڑی میں اسکا ضیا کی موت پر نہ چوکنے کا تھا نہ ہی افسوسناک سرد سا انداز تھا
شجر غصے سے کھولتا اسکا منہ جکڑ گیا
تو تم نے ٹھان لی بہزاد علی شاہ کا ساتھ دینے کی” وہ دھاڑا
پلوشہ ہلکا سا مسکرائ
اور اندر داخل ہوتے ہارون بیگ کو دیکھا جو ارجنت فلائیٹ لے کر اس خبر پر تڑپ کر لوٹا تھا
جیسے عجیب حل چل سی پھیل رہی تھی مبین خان اور بھی سب لوگ ارد گرد جمع ہو گئے
ہارون بیگ مٹھیاں بھینچ گیا اسنے ایک نظر شجر کو دیکھا جو سرخ ہو رہا تھا اور وہاں سے چلا گیا جبکہ پلوشہ بھی چلی گئ
اسنے ایک ٹیکسٹ کیا تھا بہزاد کو
ویری گڈ ہاسپٹل چلی جاو مہروز تمھارے ارد گرد ہی ہو گا ” ۔
اسکی بات پر پلوشہ سر ہلاتی گاڑی میں سوار ہو گئ
بہزاد کی مدد کر کے اسے کافی خوشی ملی تھی جبکہ شجر کا غصہ دیکھ کر کافی ڈر گئ تھی
اگر وہ لوگ اسے ڈسٹرکٹ نہ کرتے تو شجر ایف ائ آر بہزاد کے خلاف کرواتا جبکہ ایف ائ آر بہزاد اپنی مرضی کے شخص کے نام پر کٹوانا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بہزاد علی شاہ نہیں سنبھل رہا تم سے”شجر عباس میرا یار میرا دوست مار دیا اسنے اور تمھاری ناک کے نیچے یہ سب ہو گیا” ہارون کا بس نہیں چلا اسکے منہ پر سب چیزیں پھینک کر مارے
اور انیسا کے نام ایف ائ آر کیوں کیسے کاٹ سکتی ہے” ۔
ہاں تم سے یہ کہا تھا انیسا کا خیال رکھو مگر تم
اگر تم میرے ساتھ غداری کا سوچ رہے ہو تو شجر’
ایسا کچھ نہیں ہے” وہ سنجیدگی سے بولا
مجھے بہزاد چاہیے شجر” وہ چلا رہا تھا اسکا لہجہ بتا رہا تھا اسے ضیا کی کتنی تکلیف ہے
کوئ بھی کمزوری کوئ بھی ایسی بات جو اسے کمزور کرے ڈھونڈو اور اسکی گردن دبا لو ” ۔
جانتا ہوں میں اسکی کمزوری ” وہ دانت پیس کر بولا اور ہارون سر تھام گیا
ان دونوں سے ہی یہ بات قبول نہیں ہو رہی تھی کہ ضیا مر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپکو پتہ ہے جب میں اپکے پاس سے چلی جاو گی میں شادی کر لوں گی” وہ سیٹ سے ٹیک لگائے کب سے بولے جا رہی تھی بہزاد صرف یہ سوچ رہا تھا کہ وہ تھکتی کیوں نہیں
تم مجھ سے شادی کر لو ” وہ بولا
آپ دہشت گرد ہیں ” وہ منہ بنا گئ
کوئ ثبوت ہے”
پتہ ہے مجھے ” وہ سیدھی ہو گئ
پھر میں اپنے ان کو بابو کہو گی ” وہ ایکساٹیڈ تھی
تمھارا بابو صرف میں بنو گا ” وہ وثوق سے بولا
آویں آپ نہایت بدتمیز نخریلے انسان ہیں” ۔
نخرے تو تم دیکھاتی ہو مجھے
اچھا مجھے تنگ نہ کریں بہت بولتے ہیں اپ جب سے بیٹھی ہوں بول بول کر سر کھا گئے ” وہ سر تھام گئ بہزاد کا منہ کھل گیا
مجھے بھوک لگ رہی ہے ” وہ بولی تو وہ خود کو بے چارہ محسوس کرتا سر ہلا گیا وہ کچھ دیر چپ رہی تو وہ تسلی میں آ گیا کہ اب بولے گی نہیں لیکن اسنے پھر سے اسکی جانب دیکھا
بہزاد ایک بات پوچھوں ” وہ بولی جبکہ۔وہ گھور گیا
نہیں” صاف ٹکا سا جواب دیا
پلیز ایک بس ایک ” ۔ وہ باضد ہوئ
ہممم” ۔وہ ہنکارہ بھرا گیا
اپکے بابا اور مما کہاں ہیں جو آپ بگڑ کر دہشت گرد بن گئے” ۔
وہ اینڈ میں منہ بنا گئ
اسنے اسکی جانب دیکھا اور سوچنے لگا وہ اسکے ساتھ آگے جا کر کیسے گزارا کرے گا
اول تو میں دہشت گرد نہیں ہوں” اسنے بات شروع کی
ہاں پتہ ہے پتہ ہے ہر چور کہتا ہے میں چور نہیں آگے بتائیں” ۔
وہ بولی تو بہزاد نے نفی میں سر ہلایا
میری مام کی ڈیتھ ہو گئ تھی ۔۔
پھر ڈیڈ نے ایک نیچ عورت سے دوسری شادی کر لی” ۔
اوہ” ۔
وہ افسوس کرنے لگی
اب میرے ڈیڈ کی بھی ڈیتھ ہو گئ ہے ” ۔
کتنا دکھ ہوتا ہے نہ جب کوئ اپنا مر جاتا ہے” وہ اہستگی سے بولی
ہممم ایسا ہی ہے ” ۔
آپکے ڈیڈ نے دوسری شادی کیوں کی’ ۔ وہ ذرا ناراضگی سے بولی
وہ شانے اچکا گیا
مجھے لگتا ہے عورت مرد کی ضرورت ہے تو انھوں نے بھی شادی کر لی” ۔ وہ بولا جبکہ روح کے سر پر سے بات گزر گئ
وہ کیسے ” ۔
اپنے اتنے چھوٹے دماغ کو پیدل نہ چلاو کچھ دیر سو جاو کیونکہ ہمیں سمندر تک پہنچتے پہنچتے بہت وقت لگ جائے گا ” ۔
اسنے کہا تو روح نے سر ہلایا اور اچھے بچوں کیطرح وہ
آنکھیں بند کر گئ
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ سو گئ
بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی سوتی ہوئ اور وہ واقعی کچھ دیر بعد بور ہو گیا
کیونکہ اسکا ٹیپ ریکارڈر اب اچھا لگ رہا تھا ایکدم وہ چپ ہو گئ تو ۔
وہ اداسی سی محسوس کرنے لگا
اسنے گاڑی روک لی
دل تھا معلوم نہیں کیوں اسے اپنی بانہوں میں بھر لے
اسکے حوش و حواس میں تو وہ ایسا کرتا تو وہ اسکا خون ہی کر دیتی
تبھی مدہوشی کا فائدہ اٹھاتے اسنے روح کو اپنی سیٹ پر احتیاط سے کھینچا اور اپنی گود میں بھر لیا
اسنے ایک۔انکھ کھول کر نیندوں میں بہزاد کو دیکھا
چھوڑو مجھے دہ۔دہشت گرد ” ۔
وہ بولی اور اسکی ہی گردن میں بازو ڈال کر سو گئ
بہزاد نے اپنی سیٹ پیچھے کی اور اسے اپنے دل سے لگا لیا
اگر زندگی میں اسکے لیے کچھ اہم تھا تو وہ روح تھی
اور اسکے لیے وہ کچھ بھی کر گزرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
