Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

اسکے شانے سے رسنے والے خون سے اسکی شرٹ اسکے بازو بھی بھر گئے تھے خون اب بھی تیزی سے بہتا جا رہا تھا اور وہ ایسے لوٹی تھی جیسے لٹ گئ ہو ۔۔۔
اسکی آنکھیں رونے کے باعث سرخی مائل ہو چکی تھیں اور انپر ہلکی ہلکی سوجھن کافی سج رہی تھی ۔۔
اسکی سبز آنکھوں میں خوف تھا وہ اندر ائ اور دیوار سے لگ کر بیٹھ گئ ۔۔
اسے کچھ یاد ا رہا تھا ۔۔
کچھ بہت خوفناک اسکے ہاتھ پاوں بری طرح کانپ رہے تھے
یہاں تک کے اسکے لبوں سے بار بار ان ہیلر کانپتا اور وہ بار بار اس ان ہیلر کو لبوں سے لگا لیتی ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ ہچکیاں بھرتی رو دی ۔۔۔
اسکی ہچکیوں کی آواز پر شجر جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا وہ تیزی سے اندر ایا اور روح کو ان ہیلر لبوں سے لگائے پسینے سے شرابور دیکھ کر وہ پریشانی سے اسکی جانب جھکا
کیا ہوا ہے تمھیں ” اسنے اسکا خون دیکھا
روح نے اسکی جانب نگاہ اٹھائی اور اسکے دونوں ہاتھ تھام لیے ۔۔۔
اسکا ان ہیلر گر گیا تھا
ریلکس ۔۔ کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے اتنا خون کیسے بہہ رہا ہے ” وہ وہ “۔۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی اگر وہ جان گیا تو وہ اس سے نفرت کرنے لگ جائے گا وہ اس سے محبت کرتی تھی اور اسے کسی اور نے چھوا وہ بہزاد کو کبھی چھونا نہیں چاہتی تھی لیکن اگر ایسا نہ کرتی تو وہ سانسیں کیسے لیتی اسنے اسکا ان ہیلر پھینک دیا تھا
اسکا کانپنا شجر کو بھی پریشان کر گیا روح تمھارا خون بہہ رہا ہے اٹھو ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ” وہ اسکی باتوں کو اگنور کرتا بولا
نہیں میں ٹھیک ہوں ” وہ ہچکیاں لیتی بری طرح رو دی ۔
اٹھو یہاں سے “
میں میں کچھ نہیں ۔۔ میں نے کیا “۔۔۔وہ سانسیں لینے کے لیے ہلکان ہو رہی تھی شجر نے اسکا ان ہیلر اسکے لبوں سے لگایا دیا ۔۔۔
روح آنکھیں بند کر گئ ۔۔اسے اسکے خون کی بھی فکر تھی اور جیب سے موبائل نکال کر اسنے ڈاکٹر کو کال ملا دی ۔۔۔
اسے فورا آنے کا کہہ کر وہ روح کی جانب متوجہ ہوا اسکی آنکھوں سے پانی متواتر گر رہا تھا ۔
سانس لو ریلکس ہو جاؤ ” ۔۔ وہ اسے نرمی سے بولا
نہیں جانتا تھا ہوا کیا ہے لیکن اسکی حالات گواہ تھی کہ کچھ تو ایسا ہوا ہے جسے وہ سنبھال نہیں پا رہی ۔
میں نے کچ۔۔کچھ نہیں کیا ” وہ جیسے ہر چیز بھول کر اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ بے قصور ہے
اچھا ٹھیک ہے مجھے پتہ ہے ۔۔۔ ریلکس ہو جاؤ “
شجر اسے نارمل کرنے کو بولا تو روح نے اپنے گال صاف کیے اور رونا بند کیا تو اسکی سانسوں میں کچھ ہمواری سی پیدا ہوئی اور شجر اس سے دور ہو گیا
روح کچھ دیر سر جھکائے بیٹھی رہی جیسے وہ مجرم ہو اور شجر سے نگاہ نہ ملا پا رہی ہو شجر اسے گھیری نظروں سے دیکھنے لگا جیسے جاننا چاہ رہا ہو ۔۔ہوا کیا تھا ۔۔
اسنے پانی کے دو گھونٹ بھرے اور آنکھیں اٹھائیں
سبز آنکھیں آج غمگین سی تھیں
اب تم نے رونا ہے اور مجھے پریشان کرنا ہے صرف تم مجھے بتا سکتی ہو ہوا کیا ہے “
وہ چیڑ گیا ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ ڈاکٹر ا گئ ۔۔ وہ لیڈی ڈاکٹر تھی انھوں نے روح کی ڈریسنگ کی اور اسکے زخم پر دوبارہ پٹی باندھ دی ۔
روح اس سارے دورانیے میں رونے کے سوا کچھ نہیں کر رہی تھی جبکہ شجر لب بھینچے کھڑا تھا ایسا کیا ہوا تھا اسکے ساتھ کیا بہزاد نے پھر اسے ۔۔ مارنے کی کوشش کی تھی ۔۔
لیکن بہزاد ایسا نہیں تھا وہ اپنی ہی سوچوں میں مگن تھا ۔
انھیں بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے کم از کم 24 گھنٹے انھیں اٹھنے مت دیجیے گا سر ” ڈاکٹر نے کہا تو شجر نے سر ہلایا ۔۔
اور ڈاکٹر چلی گئ روح اب بھی رو رہی تھی
انف روح تمھیں بہادر لڑکی بننا ہے تم اس طرح روتی رہو گی تو ہم ایک قاتل کو کبھی نہیں پکڑیں گے ” شجر تھوڑا غصے میں لگا روح نے اسکی جانب دیکھا
اس۔۔اس قاتل نے۔۔ اس قاتل نے مجھے کس کیا ہے ” وہ بھیگے بھرائے ہوئے لہجے میں بولتی شجر کا چہرہ دیکھنے لگی جس کی پیشانی پر کچھ بل سے پڑے اور پھر بے ساختہ وہ ہنس دیا
بہزاد علی شاہ نے کس کیا ہے تمھیں ” وہ ہنس پڑا
سو فنی ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتا ہنستا چلا گیا
جبکہ روح اسکی بے حسی پر اپنے دل کے کئ ٹکڑے ہوتے دیکھ رپی تھی
میں سچ کہہ رہی ہوں ” اسکے لب پھڑپھڑائے
اگر کوئ اپسرا بھی ہے نہ سامنے میں تب بھی نہیں مانتا کہ بہزاد کس کر سکتا ہے کسی لڑکی کو ۔۔۔ ہی از سو مین “
وہ ان کس وس کے چکر میں کبھی نہیں پڑے گا ہاں آگے کی کوئی خبر نہیں تو مجھے بیوقوف بنانا بند کرو اور سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا ہے تمھیں ” اسنے اسکی بات کو ریجیکٹ کر دیا اور سنجیدگی سے اسے دیکھا
آپ میرا یقین کریں شجر انھوں نے میرا ان ہیلر گاڑی سے باہر پھینک دیا مجھے مجھے اس وقت سانس کی ضرورت تھی اور مجھے سانس نہ ملتی تو میں مر جاتی اور میں “
اوہ آئی سی تو یوں کہو نہ اپنی اس سانسوں کی بیماری کی وجہ سے تم نے اسے کس کیا نہ کہ اسنے تمھیں ۔۔۔۔
تو زخم اسنے کریدہ ہے تمھارا یہ سب تو ہونا ہی تھا تمھیں کہا تھا فزیکل ہونے کی اس سے کوشش مت کرنا “
آپ مجھے انسلٹ کر رہے ہیں شجر ۔۔ میں “
میں مانتا ہوں وہ میرا دشمن ہے اور تم یتیم خانے سے آئی ہو وہاں شاید تم نے بہت کچھ کیا ہو لیکن بہزاد ایک گریسفل پرسن ہے اس بات کا علم مجھے بخوبی ہے “
روح حق و دق دیکھ رہی تھی اسکو ۔۔۔ اسکا دل شجر کی ان باتوں سے بری طرح ٹوٹ گیا تھا اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی اسنے پرواہ نہ کی وہ اسے بری طرح بے عزتی کر چکا تھا اسنے اپنا گال صاف کیا اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئ
اسکے شانے کی تکلیف شجر کی بات سے زیادہ نہ تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے ہارون کو شک ہے ” مہروز نے ذرا پرسوچ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
بہزاد نے سر جھٹک دیا اور کھڑا ہو گیا ۔۔
اسے رتی بھی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون اسکے بارے میں کیا سوچتا ہے وہ اٹھا اور اپنے گھر کی بیسمنٹ کی جانب بڑھنے لگا تبھی اسکے کانوں میں ہیل کی ٹک ٹک کی آواز آئی وہ جھٹکے سے موڑا مہروز نے پہلے بار اسے کسی بات پر چونکتے دیکھا تھا
مہروز بھی اسکے ساتھ ہی موڑا اور پلوشہ کو ہیل والی شوز میں بمشکل چلتے دیکھ مہروز تو دل ہی ہار گیا دل پر ہاتھ رکھے وہ گھیرہ سانس بھر گیا ۔
بہزاد کی پیشانی پر البتہ بل تھے ۔۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسکی جانب بڑھا
یہ شوز پیارے ہیں نہ سوچ رہی ہوں آج رات کی پارٹی میں پہن جاوں ” وہ مسکرا کر بولی تھی بہزاد جھکا اور اسکے سفید پاوں میں وہ جوتی دیکھی جس کے سٹیٹس کافی سٹرونگلی بندھے ہوئے تھے اسنے ۔۔۔ وہ سٹیٹس دیکھے ضرور مگر مزہ نہیں آیا تھا ۔
اسنے اسکو اتارنے کا حکم دیا “
کیوں اچھا نہیں لگ رہا “
اتار دو تم پر سوٹ نہیں کر رہی “
کیا واقعی وہ حیران تھی اسے اچھی لگ رہی تھی جبکہ بہزاد کو الجھن ہو رہی تھی
وہ چاہتا تھا پلوشہ لمہوں میں وہ جوتی پاؤں سے نکال دے شاید اسے یہ ہرنی سی چال صرف اور صرف روح کی سمجھ ائی تھی
وہ پلوشہ کے پاؤں میں وہ شوز دیکھ کر بے چین تھا
اتار دو اسے ” اسنے تحمل سے پھر کہا اور پلوشہ اسکی سختی پر اتار گئ
بہزاد نے وہ جوتی اٹھائی اور وہاں سے چلا گیا جہاں وہ جا رہا تھا
مہروز حیران تھا جبکہ پلوشہ بھی اور اچانک پلوشہ کی آنکھوں میں روح ا گئ وہ ہی پہنتی تھی یہ جوتا وہ اسکی وجہ سے وہ اسکے پاوں سے وہ جوتی نکال کر لے گیا تھا جبکہ وہ مانتا ہی نہیں تھا کہ وہ ۔۔۔ وہ ہی روح ہے
پلوشہ افسوس سے اسے دیکھ کر رہ گئ ۔۔
میں تمھیں دلا دوں گا اداس کیوں ہو رہی ہو ” مہروز نے مسکرا کر کہا
نہیں شاید وہ ٹھیک کہہ رہے تھے میں کچھ اور پہن لیتی ہوں ” پلوشہ کہہ ہر اندر چلی گئ جبکہ مہروز بہزاد کے پیچھے آیا
تمھیں لڑکیوں کا دل نہیں رکھنا اتا” مہروز نے ذرا غصے سے پوچھا
تم رکھ لو ” وہ لاپرواہی سے کہہ گیا
جبکہ مہروز نے دانت پیسے اور خاموشی سے اسکے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا اسنے گاڑی میں وہ جوتے پھینکے اور اپنی منزل کی جانب نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ ارمز ڈیلینگ کرو گے تمھارے کام کی آواز بہت دور دور تک ہے میں تمھارے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں ” اسکے سامنے بیٹھا شخص بولا جبکہ بہزاد نے سیگریٹ کا کش بھر کر دھواں فضا میں چھوڑا
I have only one line
And you cross already ….
میری بندوقیں ہر شخص پر چلیں گی سوائے بچوں کے ۔۔۔
میں تمھارے ساتھ کام نہیں کروں گا کیونکہ تم میرے پسند کا کام نہیں کرتے کتوں کیطرح لوگوں کے پیچھے پڑنا تمھیں پسند ہو گا مجھے نہیں “
ہم تمھیں خوب پیسہ دیں گے ” وہ آدمی گھیرہ سانس بھر گیا
کتنا پیسہ ” وہ کافی پرسکون تھا ۔۔۔
بلنیک چیک ” بہزاد مسکرایا
اور اسنے گن نکالی کر سامنے بیٹھے شخص کے سر کا نشانہ بنایا
وہ شخص بے چینی سے کھڑا ہو گیا ۔۔
بہزاد ہم تمھارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں “
ارمز ڈیلینگ ” وہ یاد دہانی کرنے لگا
تم نے نہیں کرنا نہ کرو لیکن یہ “
ابھی اسکی بات مکمل ہوئی کہ بہزاد کے کوٹ پر ایک ریڈ ڈوٹ تیزی سے گھوما اور سائلینٹ پروف بولیٹ اسکے بازو میں گھپی ۔۔۔۔
اہ ” اسکی آواز پر مہروز نے بندوق ۔۔ نکلی اور بہزاد کے گارڈز نے بنا کچھ دیکھے سامنے کھڑے شخص کو بھون دیا
جبکہ اسکے گارڈز نے اسکے گارڈز پر حملہ کیا اور ایک عجیب ہی منظر دیکھنے لگا تھا ۔۔
مہروز نے بہزاد کو چھپنے کو کہا
جبکہ وہ کسی کے قابضے میں انے والا تھا نہیں وہ یہاں جو کرنے آیا تھا وہ کر کے جائے گا ۔۔ وہ باہر کیطرف نکلا تھا اور اسنے اس گودام کیطرف دوڑ لگائی
یکے بعد دیگرے کئی گاڑیاں روکی اور بڑی تیزی سے اترنے لگے تھے اس میں سے ضمان کے بندے جبکہ اندر ضمان آخری سانسیں لے رہا تھا
بہزاد کی بندوق ان پر چلی ۔۔ اور وہ گھوم کر گاڑی کے پیچھے چھپا اسکے کچھ فاصلے پر تھا وہ گودام ۔۔۔
جہاں کئی زندگیاں تھیں ۔۔
گولیوں کی آواز فضا میں تیزی سے پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔
کہ کوئی بھی ہلکے دل کا وحشت زدہ رہ جاتا وہ آگے بڑھا ۔۔
اسنے کئی گولیاں ان گارڈز کے اندر اتاریں اور اسکے گارڈز نے جلد ہی ان سب کو مار گرایا
اور بہزاد کی جانب بڑھے جس نے اس گودام کا بند دروازہ اپنی پوری طاقت سے کھولا ۔۔
وہ دروازہ کھولتے ہی اندر سے 4 سال 5 سال دس سال 8 سال کے بچے کسی سیلاب کی طرح چیختے چلاتے باہر نکلے تھے ۔۔
بہزاد وہیں کھڑا رہ گیا وہ بچی اسکے اردگرد جمع ہو گئے خوف و حراست ان سب کے چہروں پر تھے وہ بہزاد کے گرد تھے روتے ہوئے ۔۔
بہزاد نے سنجیدگی سے سب کو دیکھا ۔۔
اور پھر مہروز کی جانب جو مسکرا رہا تھا
اسکے گارڈز اور کچھ اور لوگ جو سیول یونیفارم میں تھے وہاں پہنچے تھے ۔
وہ ان بچوں کو لے جا رہے تھے بہزاد ہاتھ جھتکتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا
تم اچھے کام بھی کرتے ہو “
اچھا کام کیا ہوتے ہیں ” وہ لاعلمی سے پوچھنے لگا
یہ جو ابھی ہم نے ان بچوں کو بچایا ہے یہ اچھا کام ہی تو ہے “
میں اپنے کام سے مطلب رکھتا ہوں “
اسنے بیگ پیسوں کے گاڑی میں بھرتے دیکھایا مہروز کو ۔۔۔۔ مہروز سر تھام گیا اور پھر ہنسنے لگا
کچھ بھی ہے دس سال بعد تم نے اچھا کام تو کیا ہے مانو یہ نہ مانو ” بہزاد نے چیڑ کر اسے دیکھا اور ۔۔
مہروز ہنستا رہا
” تم اپنے دانت تڑوانا چاہتے ہو ” بہزاد زیچ ہوا
اچھا سوری یار ۔۔ ” وہ بولا اور بہزاد گاڑی میں سوار ہو گیا ۔۔
اسے آج ایک اور بات کا شک ہوا تھا ۔۔۔
جس کو محسوس کر کے وہ مسکرایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے چاند کا خاتمہ تھا اور اسکے پسندیدہ دنوں کا خاتمہ وہ ویسے ہی بالکنی میں گھوم رہا تھا ۔۔
پلوشہ آج ایک پارٹی میں جانے والی تھی جو کہ اسکے ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں نے اسے دی تھی لیکن وہ معلوم نہیں کیوں نہیں گئ ۔
بہزاد نے سوال نہیں کیا اور بالکنی میں گھومنے لگا اسکی سفید بلی اسکے سامنے ادھر ادھر پھیر رہی تھی
وہ کچھ دیر بعد اسکو کچھ کھانے کو دے دیتا
نگاہ لاشعوری طور پر سامنے تھی ۔۔
رات کا آخری پھیر اختتام کو تھا ۔۔
لیکن اسے سامنے کوئی نہیں دیکھا حیران کن تھا وہ لاشعوری طور پر اسکا منتظر تھا
اور جب سامنے سے کوئی بھی دیکھائی نہ دیا تو اسنے اپنی وائیٹ بلی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور گٹار اٹھا لی
اسنے ہلکی سی دھن بنائی اور آنکھیں بند کر لیں جیسے یقین ہو کہ جب وہ آنکھیں کھولے گا تو سامنے اسے وہی دو سبز آنکھیں دیکھیں گی
لیکن اسنے آنکھیں کھولی تو اب بھی سامنے کوئی نہیں تھا اسنے وہ گٹار رکھ دی ۔۔
اور کھڑا ہو گیا وہ کچھ دیر اس بالکنی کو دیکھتا رہا اور پھر وہ پلٹ گیا ۔۔
اچانک اسکے کانوں میں ایک خوبصورت سا میوزک بجنے لگا ۔۔
وہ میوزک یقینا کسی کے رونے کی آواز تھی ۔۔
ہلکی ہلکی ہچکیاں تھیں اور وہ ٹہر گیا ۔۔۔
اسنے پلٹ کر دیکھا اسے سامنے بالکنی میں کوئی عکس سا دیکھائی دیا
اسکی پیشانی پر بل پڑے ۔۔۔ اور وہ عکس اندر کی جانب جا رہا تھا ۔۔۔
بہزاد آگے بڑھا وہ بالکنی کے دروازے سے اندر داخل ہو گیا ۔۔
اور بہزاد کو دور سے لائیٹ جلتی ہوئی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جیسے کوئی لائیٹر چلانے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔۔ بہزاد نے ارد گرد دیکھا
وہ چاہتا تو اگنور کر سکتا تھا لیکن اس سے اگنور نہ ہوا اور ۔۔۔
وہ اپنی بلکنی سے اگلے لمہے میں روح کی بالکنی میں کود چکا تھا اسکا بھی بازو زخمی تھی
زخم گھیرہ تھا جیسے ہی وہ کودا ۔۔۔ اس آواز پر ایکدم جیسے اندر موجود شخص الرٹ ہوا اسنے منہ پر ماسک لگایا اور پیچھے ہٹنے لگا
روح بھی اس آواز پر اٹھی مگر اندھیرے کے باعث کچھ نہ دیکھ سکی
ک۔۔۔کون کون ہے یہاں ” وہ ذرا خوفزدہ سی پوچھنے لگی
اور بالکنی میں داخل ہوتے بہزاد علی شاہ کو وہ پہچاننا چاہ رہی تھی وہ دروازے میں اڑا کھڑا تھا نگاہ اندھیرے میں روح سے زیادہ اس شخص پر تھی جو تیسرا بھی یہاں موجود تھا ۔۔
اور روح اٹھی
وہ لائٹس کیطرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔
اچانک وہ سایہ جو دروازے میں کھڑا تھا آگے بڑھا اور جس سپیڈ سے بڑھا روح سہم کر چلا اٹھی
اور جو تیسرا شخص وہاں موجود تھا ۔
وہ بہزاد سے بمشکل اپنا بازو چھڑانا جھٹکے سے اسکے بھاری وجود کو دور دھکیل گیا
بہزاد نے لات ماری وہ کانچ کی ٹیبل پر گیرا جبکہ روح شور سے پھر چلائی
ک۔۔کون ہیں کیا۔۔کیا ہو رہا ہے یہ۔۔”
وہ ڈر گی تھی رو رو کر سر درد اسنے ایک طرف کر رکھا تھا اب وہ خوف سے ۔۔ تھرتھراہٹ رہی تھی لبوں پر ان ہیلر لگائے وہ اندھیرے میں کچھ دیکھنا کچھ سمجھنا چاہ رہی تھی لیکن بے سود ۔۔۔۔۔
اچانک اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اور جو تیسرا شخص تھا وہ وہاں سے بھاگا تھا
بہزاد کے ہاتھ میں اس شخص کی کوئی چیز تھی ۔۔ جس سے وہ پتہ تو کر لیتا کہ وہ کون تھا ۔۔۔ اسنے مڑ کر دیکھا
روح کو جو اندھیرے دیوار سے چپکی کھڑی تھی
روح نے کانپتے ہاتھوں سے لائٹس اون کر دیں
وہ سبز آنکھیں سرخی مائل اسکے سامنے تھیں کانپتے لبوں سے ان ہیلر لگا ہوا تھا
اور اسکا حلیہ بہزاد سکون سے دیکھنے لگا
یہ تو وہ لاپرواہ تھی یہ شوق سے پہنتی تھی یہ سب جو کسی کو بھی بہکانے پر مجبور کرے ۔۔
وہ بہزاد کو دیکھنے لگی ۔۔۔
اپ۔۔۔۔۔ کیوں یہاں میں شج۔۔جر ” وہ پھولتی سانسوں کو ہموار کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔
شجر ” کرسی گھسیٹ کر وہ عین اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔ وہ دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی
کہ شاید شجر ا جائے
کیا ہوا کسی کی منتظر ہو تم نے کہا تم میرے ساتھ کام کرنا چاہتی ہو میں نے تمھیں کہا تم شجر سے دور رہو “
اس سے زیادہ بتاؤ ہم دونوں کے بیچ کوئی بات ہوئی ” وہ سکون سے سوال کر رہا تھا
روح نے اپنے گال صاف کیے اور ان ہیلر مٹھی میں جکڑ لیا
گن چلانی آتی ہے مجھے ج۔۔۔جائیں یہاں سے کبھی مار۔۔مار دوں اپکو “
کیا ہوا تم تھک گئ اپنا مشن پورا نہیں کرو گی ” بہزاد افسوس سے سر ہلانے لگا
ک۔۔۔کون سا مش۔۔مشن ” وہ بھکلا گئ وہ سر ہل گیا
مطلب میرے مشن ” ۔۔۔ اسنے اپنی بات واضح کی روح نگاہ پھیر گئ
مجھے آپ کے ساتھ کوئ کام نہیں کرنا اب جائیں یہاں سے “
آہ ” بہزاد نے لمبا سانس کھینچا
شروعات تم نے کی ہے اختتام میری طرف سے ۔۔۔۔
کل صبح میرے آفس میں مجھ سے ملو ” وہ اسکے گال پر دو انگلیاں رکھتا بجاتا وہاں سے نکلنے لگا کہ روح نے اسکا ہاتھ جھٹکا
بہزاد نے اسکا رویہ مڑ کر دیکھا تھا ۔
کچھ لمہے دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے نکل گیا
اسنے روح کی بالکنی کا دروازہ بند کیا اور روح خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی
جبکہ بہزاد وہاں سے چلا گیا وہ آگے بڑھی اسے دیکھنے لگی لمہوں میں وہ غائب ہو گیا ۔
روح کو یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا یہ بچوں کا کھیل نہیں تھا
وہ کل صبح ہوتے ہی یہاں سے چلی جانا چاہتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر آئی اور شجر اس وقت ناشتہ کر رہا تھا
آؤ روح کیسی طبعیت ہے تمھاری “
ٹھیک ہوں ۔۔۔ میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں
مجھے ۔۔ مجھے یہاں کچھ سمجھ نہیں آتا ۔۔
میں شاید واقعی اس سب کے لیے نہیں بنی
یہ دنیا میری دنیا سے مختلف ہے میں یہ سب سہن نہیں کر پاوں گی ۔۔
اپکو میری بات پر یقین نہیں اور یہاں ہر کوئی دوسرے کو مارنا چاہتا ہے ۔۔
میں جا “
شجر اٹھا اور روح کے بازو تھام گیا
ایم سوری روح میں نے تمھیں غلط سمجھا ۔
میں شاید “
شاید میں غلط ہوں میں نے تمہاری بات پر یقین نہیں کیا یہ میری غلطی ہے اور تم جانا چاہتی ہو ٹھیک ہے چلی جاو لیکن ” وہ رک گیا
ل۔۔لیکن کیا ” وہ اسے دیکھنے لگی
کچھ نہیں مجھے لگا تھا ہم دونوں مل کر ان معصوم لوگوں کی جان بچا سکتے ہیں جو ان جیسے درندوں کی وجہ سے روز بے موت مارے جاتے ہیں
لوگ سڑکوں پر نہیں نکلتے کہیں ان جیسے چھپوا دہشت گرد انھیں ختم ہی نہ کر دیں ۔۔۔ لیکن میں غلط یوں تم ایک معصوم سی لڑکی ہو اور تمھارا واقعی میری دنیا سے تعلق نہیں جاؤ اور یہ سب ساتھ لے جاو ” وہ مسکرایا ۔
روح اسے دیکھتی ۔۔۔ وہیں بیٹھ گئ
آپ یہ تو بہت تیز دماغ کے ہیں یہ مجھے آپ سے محبت ہو گئ ہے” وہ منہ بنا کر بولی شجر نے سر تھام
اتنا منہ پھٹ نہیں ہوتے روح ” شجر نے اسے گھورا
پھر کیسے ہوتے ہیں اپ مجھے بتائیں میں ویسی ہو جاو گی ” وہ پر شوق نظروں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ شجر کو محسوس ہو گیا کہ وہ واقعی اسکے جال میں پھر سے ا گئ ہے ۔
لیکن یہ بات میں تمھیں کیوں بتاؤ ” شجر نے کہا تو روح اداس سی ہو گئ
اچھا پھر بھی آپ اپنی پسند کی لڑکی کو کیسے دیکھتے ہیں “
سیمپل ڈیس جو سادہ لباس پہنتی ہو جو سادگی کو اپنائے ” وہ پلوشہ کا عکس ذہن میں سوچتا بتانے لگا ۔۔
روح اسے دیکھ کر رہ گئ جبکہ شجر مسکرا دیا
تم جاؤ ” کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا
جبکہ روح کے دماغ میں ہر چیز ختم ہو کر ایک نیا کیڑا جنم لے چکا تھا جو کہ سادہ لباس تھا ۔
اسنے اپنی جینز شرٹ کو گھورا اور کھڑی ہو گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتا ہے تم اسکے ٹائپ کی نہیں ۔۔۔ ” مہروز نے پلوشہ کو چھیڑا پلوشہ نے ذرا گھور کر اسے دیکھا
تبھی اسنے تمھارے پاوں سے وہ جوتی نکلوا دی اسے شاید بولڈ ہاٹ لڑکیاں پسند ہیں” وہ بولا پلوشہ سرخ سی ہوئی
بے حیا ” وہ بولی
میں تو بلکل نہیں ہوں بے حیا ۔۔۔
اچھا سنو “
مجھے نہیں سننا ۔۔۔
لیکن کیا تم میرا ایک کام کرو گے “
ہاں بولو حکم کرو کس کو مارنا ہے ” وہ سکون سے بندوق دیکھاتا بولا
پلوشہ نے اسکی گن دیکھی اور مہروز گن چھپا گیا
سوری حکم کرو “
کیا تم مجھے شاپنگ پر لے جاو گے “
اوہ نو یار “
مہروز کا قہقہہ گونجا
اب تم خود کو اسکے رنگ میں اتارو گی “
بیوقوف خاتون کسی کے نکاح میں ہو ” مہروز نے کہا تو وہ سر جھٹک گئ
مجھے صرف بہزاد پسند ہے “
الو ہو تم “
ٹھیک ہے ” وہ اندر بھاگ گئ جبکہ مہروز نے شانے اچکائے پاگل لڑکی دس سال سے ایک ہی انسان سے سر ٹکرا رہی تھی جس کا فائدہ اب بھی نہیں ہونا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔