No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
وہ اسے دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا ۔۔۔۔
شاید تھکا ہوا تھا روح ایکدم اٹھی اور اسکے آگے ہاتھ ہلایا مگر وہ نیند میں تھا وہ ایکدم مسکرا دی
اسنے اپنے بال سمیٹے اور کیچر بالوں میں لگا کر احتیاط سے اسکے نیچے سے اپنا موبائل کھینچا اور دبے پاوں وہ دروازے تک آ گئ ایک تو اندازہ نہیں تھا دروازہ کہاں ہے اسنے ہر اس جگہ پر ہاتھ مارا جہاں سے دروازہ کھلنے کا پورا اندیشہ تھا اور بالآخر وہ کامیاب ہو گئ ۔
دروازہ کھلا تو بے آواز ہی تھا وہ جلدی سے باہر نکلی اور بھاگتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ اسکا ان ہیلر اسکے پاس نہیں اسنے اپنی سب سے اہم چیز کو بھی نظر انداز کیا اور باہر کی جانب بڑھی لیکن اسے چھپنا پڑا کیونکہ سامنے ہی گارڈ کھڑا تھا اور اپنی سرخ آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔
وہ منہ بنا گئ اسکا پہلا مقصد یہاں سے بھاگ جانا تھا جبکہ وہ اب تک یہ بات سمجھ نہیں پائی کہ اسکی زندگی کو خطرہ تھا اسے لگ رہا تھا یہ سب بہزاد کی وجہ سے اسکے ساتھ ہو رہا تھا وہاں اسکے ساتھ مار پیٹ کا ہونا ہاسپٹل میں پانی گرنا یہ سب بہزاد کی وجہ سے تھا وہ کریمنل تھا اور اب وہ مزید شجر کی وجہ سے کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی اسے اپنی جان بہت عزیز تھی وہ کافی دیر اس گارڈ کو دیکھتی رہی جو کہ چوکنا کھڑا تھا روح کو غصہ آیا اور اسنے اردگرد دیکھا اسے ایک ڈنڈی نظر آئی اور اسنے گارڈن کے دوسری طرف وہ ڈنڈی پھینک دی
اور جیسے ہی ہلکی سی حرکت ہوئی وہ گارڈ متوجہ ہوتا وہاں چلا گیا ۔
ہوتے تو یہاں کئ گارڈ تھے مگر کچھ دنوں سے نہیں تھے وہ گارڈ کے ہٹتے ہی دروازے کے نزدیک دوڑ کر آئ اور دروازہ کھولنا چاہا مگر ہر چیز اتنی مسٹری سے بھری ہوئی تھی کہ کوئی لاک دیکھائی نہیں دیا لیکن اگر وہ گارڈ واپس آ جاتا تو وہ کبھی نہ نکل پاتی اسنے پورا دروازہ جھنجھوڑ دیا اور اسی دوران سانس الگ پھول گئے تھے بے ساختہ اسکا ہاتھ ایک بٹن پر لگا اور دروازہ کھل گیا
وہ اس جرت پر حیران ہوئی اور دروازے سے باہر نکل گئ اور اتنی تیزی سے بھاگی تھی کہ اسنے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا
گارڈ دروازہ کھلنے کی آواز پر دوڑ کر اس طرف آیا اور اسنے باہر نکل کر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا لیکن اسے شک ہوا کہ کوئی جا چکا ہے وہ اندر ایا ۔۔اور اسنے باقی سب سے پوچھا کہ باہر کون نکلا ہے مگر کوئی نہیں تھا بہزاد کے کمرے کا آدھا کھلا دروازہ دیکھ کر ان سب کو روح پر شک ہو چکا تھا
جبکہ دوسری طرف روح درخت سے ٹیک لگائے مسکرانے لگی
ہممم بہزاد علی شاہ مجھے قید کر لینا اتنا بھی آسان نہیں تھا اسنے سر جھٹکا مگر اسکا ان ہیلر ۔۔۔۔۔ وہ پریشان ہوئی لیکن کچھ دیر درخت کے ساتھ بیٹھ گئ
جس کی وجہ سے اسکی سانسیں نارمل ہوئیں اور پھر اسنے کال گھمائی اسنے شجر کو کال ملائ تھی
کال دوسری طرف سے اٹینڈ ہو گئ
کہاں ہو تم روح “
میں بہزاد کے گھر کے باہر “
ار یو میڈ تم کیوں نکلی باہر ” شجر نے ذرا غصے سے کہا
تو کیا اسکے ساتھ رہتی میں پاگل ہوں مجھے آپ واپس بھیج دیں بس مجھے نہیں کرنا کچھ بھی “
تم واپس چلی جاؤ روح تمھاری جان کو خطرہ ہے اس طرح باہر نہ پھیرو “
میری جان کو خطرہ بہزاد کے ساتھ رہنے میں ہے اپ مجھے لے جا رہے ہیں یہ میں خود اوں ” وہ ناراضگی سے بولی شجر بستر چھوڑ کر اٹھ گیا
وہ جانتا تھا بہزاد اسے پاتال میں سے بھی نکال لے گا لیکن روح کے پیچھے کوئی تھا اور جس کا اسے شک تھا وہ خطرناک ترین آدمی تھا کہ شجر خود سنبھل کر چلنے پر مجبور تھا ۔
وہ فورا اپنی شرٹ اٹھا کر روح کو وہیں رہنے کا کہہ کر وہاں سے باہر نکلا
شجر کا ایسے ہی فون بند کر دینا روح کو بہت برا لگا تھا وہ اٹھی اور دوسری سمت چلنے لگی
چل چل کر اسکی بس ہو چکی تھی اور بہت محنت سے سانس وہ کھینچ پا رہی تھی ۔
وہ چلتی چلتی بہت دور نکل آئی تھی
میں تو آزاد ہوں سب سے میں کسی کے ساتھ کس لیے رہو اور اور یہ شجر عباس میں ہی پاگل تھی جو اسکی باتوں میں ا گئ ورنہ تو یہ سب مل کر مجھے مار دیں گے ” وہ خود سے ہی بولتی جا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ انیسا کو ڈاکٹر کے پاس سے واپس لا رہا تھا ۔
مام اپکو پتہ ہے ڈیڈ غصے ہوں گے بہت آپ خود کو سنبھالیں آپ کیوں اتنا ڈرنے لگ گئ ہیں ” وہ انیسا سے بول رہا تھا جو خاموش بیٹھی تھی
اسنے جان بوجھ کر کہا تھا کہ وہ سائیکلجسٹ کے پاس جا رہی ہے شاید واقعی اسے بہزاد کا وہم ہو گیا ہے تو ہارون نے بھی اس بات کی تعید کی کہ وہ ٹھیک کر رہی ہے اور کچھ دنوں کے لیے وہ ملک سے باہر گیا ہوا تھا اور انیسا کے پاس اچھا موقع تھا روح کو ڈھونڈ لینے کا اور وہ بار بار جا جا کر روح کا پوچھ رہی تھی اس کی گاڑی روڈ پر مستعدی سے چل رہی تھی کہ سامنے سے انھیں ایک لڑکی آتے ہوئے دیکھائی دی جو اپنا موبائل جھلا رہی تھی اور سکون سے آدھی رات کو ادھر سے ادھر دیکھ رہی تھی جیسے راتیں تو اسکی اپنی تھیں اور رات میں کوئی اسے نقصان نہیں دے سکتا تھا
گاڑی روکو حمزہ ” انیسا نے جلدی سے کہا تو عین روح کے پاس گاڑی رکی گئ
وہ ایکدم ڈر کر دور ہوئی اور انیسا کو دیکھ کر روح کی آنکھیں دنگ رہ گئیں وہ ساکت کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
جب انیسا اسے اس یتیم خانے میں چھوڑ گئ تھی تب وہ صرف 8 سال کی تھی
اور آج وہ پچیس سال کی تھی وہ اپنی ماں کا چہرہ بخوبی پہچانتی تھی وہ ساکت کھڑی تھی اسنے تھوک حلق میں نگلا اور پیچھے پلٹ کر دیکھا روڈ سنسان تھا ۔
روح ” انیسا گاڑی کھول کر باہر نکلی روح دو قدم دور ہوئی
مام کون ہے یہ “حمزہ بھی گاڑی سے نکلا
روح ۔۔ حمزہ یہ روح ہے ” انیسا بیٹے کو خوشی سے بتا رہی تھی حمزہ تو کیا سب ہی جانتے تھے انیسا کی بیٹی کے بارے میں حمزہ روح کو حیرانگی سے دیکھنے لگا بلکل نازک کسی گلابی گڑیا کیطرح سی لڑکی تھی روح پیچھے ہوتی جا رہی تھی روح میرے جان میری بیٹی میری بات ” روح نے مڑ کر دیکھا ۔
روح میری بات سنو ۔۔۔
بہزاد ” اسکے لب پھڑپھرائے
اور اچانک ہونے والی فائرنگ پر حمزہ نیچے بیٹھ گیا
مام گاڑی میں بیٹھیں فائرنگ کی آواز کافی تیز تھی
نہیں روح میری ساتھ چلو روح میں تمھیں ہی ڈھونڈ رہی تھی میری بچی مجھے معاف کر دو پلیز مجھے معاف کر دو میری ساتھ چلو روح ” وہ آگے بڑھ کر اسکا چہرہ تھام گئ
روح اب بھی ساکت کھڑی تھی جبکہ فائرنگ کی آواز قریب آتی جا رہی تھی حمزہ نے ماں کا ہاتھ پکڑا ہو تھا مام چلیں یہاں سے “
روح میرے ساتھ چلو روح ہم بات کریں گے بیٹھ کر میں ۔۔ مجھے معاف کر دو پلیز چلو ” وہ ایک سانس بولے جا رہی تھی یہاں تک کے روڈ پر دور سے چلتے بہزاد علی شاہ کے قدموں کی آہٹ پر انیسا ایکدم خود ہی پیچھے ہٹی تھی
بہزاد ” اسکے لب خوف سے جم گئے
وہ گاڑی میں سوار ہو گئ اور حمزہ نے گاڑی کو ریورس کیا
اور بہزاد کے پہنچنے سے پہلے وہ دونوں گاڑی بھگا لے گئے جبکہ روح مڑی وہ پیچھے سینے پر بازو سمیٹے کھڑا تھا اگر اج وہ انیسا کو یہاں دیکھ لیتا تو شاید انیسا کے ساتھ ساتھ روح کو بھی مار دیتا کیونکہ وہ اتنی نفرت کرتا تھا انیسا سے ۔۔۔ تو اسکی بیٹی کا جان کر کتنی نہ کرتا ۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے روح کو دیکھ رہا تھا البتہ روح نا سمجھی سے کبھی اس گاڑی اور پیچھے کھڑے بہزاد کو دیکھ رہی تھی آج اتنے عرصے بعد ماں کو دیکھ کر اسکا دل گھٹ گیا اسے وہ آٹھ سال کی روح یاد ا گئ جسے اسکی ماں نے ہارون بیگ کے لیے چھوڑ دیا اور اسکا باپ وہ بھی مر گیا اسے یقین تھا اسے بھی ہارون نے مارا روح نے ایک قدم بہزاد کی جانب بڑھایا اور پھر بھاگتے ہوئ اسکے سینے میں سما گئ
بہزاد پہلی بار چونک گیا
وہ سختی سے بہزاد کو سینے سے لگائے ہوئے تھی اتنی شاکڈ اتنی شاکڈ کہ اسے خود بھی خبر نہیں تھی کیا کر رہی ہے
بہزاد نے اسے خود میں بھینچا اور پلٹا وہ آنکھیں بند کر گئ
تم مرنا چاہ رہی ہو “
آپ نے کہا تھا باہر گھمانے لے جائیں گے اور پھر آپ سو گئے ” روح نے بہت قریب سے اسے دیکھا
بہزاد اس معصومیت پر فدا ہو سکتا تھا اور ہو رہا تھا
اسکا مطلب یہ ہے کہ تم گھر سے بھاگو ” وہ سختی سے بولا
میرا موڈ نہیں ہے ڈانٹ کھانے کا ” وہ پھر سے اسکے سینے سے لگ گئ
جبکہ بہزاد نے اپنے اردگرد کھڑے گارڈز کو ہاتھ کے اشارے سے چلے جانے کا کہا تھا
اب تم دور ہو گی ” وہ اسے دور کرتا بولا ۔۔
وہ تھوڑا شرمندہ سی ہو کر الگ ہو گئ ۔
بہزاد کی گھوری سے سر جھکا گیا
دل تو کر رہا ہے ” اسنے ہاتھ گھمایا مگر ہاتھ روح کو نہیں لگا روح دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھ گئ اور بڑی بڑی سبز آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
اگلی بار یہ تھپڑ پڑے گا اگر تم گھر سے نکلی “
آپ نے مجھے مارا ” اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
کب مارا ” وہ حیرانگی سے بولا
ابھی ابھی “
میں ۔۔۔۔۔ میں نے ہاتھ اٹھایا مگر مارا نہیں ” وہ بلاوجہ وضاحت دینے لگا
آپ اپ نے مجھے مارا پیار کرنے والے اپنے اتنے پیارے اتنے خوبصورت پیار کو مارتے ہیں لیکن آپ نے مجھے مارا آپ اپ مجھے ماریں گے ” وہ روڈ پر ہی بیٹھ گئ
بہزاد کو ذہنی مریض لگ رہی تھی وہ ائ برو اچکا کر اسے دیکھنے لگا
ہائے اللّٰہ جی ۔۔ یہ ادمی کہتا ہے مجھے سے پیار کرتا ہے لیکن اسنے مجھے مارا ہے اب میں کہاں جاؤ کیا کرو “
شیٹ اپ ” وہ برہمی سے بولتا اسکا ہاتھ گھسیٹ کر کھڑا کر گیا اسے جبکہ وہ تو ضدی ہو گئ اٹھنے کا نام نہیں لیا تو بہزاد نے جھک کر اسے اٹھایا اور اسے گھر لے جانے لگا
میں نہیں جاؤں گی اپکے قید خانے میں زہر لگتا ہے مجھے اپکا گھر ہٹیں چھوڑیں مجھے بہزاد آپ دنیا کے سب سے برے آدمی ہیں ہائے اللّٰہ جی کہاں پھنس گی میری روح ۔۔ میں یتیم خانے کی پرنسز تھی آپ نے مجھے قیدی بنا رکھا ہے ” وہ پورے روڈ پر چلا رہی تھی انیسا کی گاڑی کچھ فاصلے پر ہی تھی یہ سب سن اور سمجھ رہی تھی وہ
یہ بہزاد علی شاہ ہے ” حمزہ نے ماں کو دیکھا جو سر ہلانے لگی
تو روح اسکے اتنے کلوز “
شوہر ہے اسکا ” انیسا سنجیدگی سے بولی
ائ سی ” حمزہ نے شانے اچکائے
کافی ہینڈسم ہے ” حمزہ بولا اور گاڑی اگے بڑھا لی
دشمن ہے تمھارے باپ کا مارنا چاہتا ہے یہ ناسور اسے کاش کاش اسکے باپ کے ساتھ ساتھ میں اسے بھی مار دیتی تو اج ۔۔۔ اج مجھے اتنا خوف نہ ہوتا ” وہ بے دھیانی میں ہذیان سی ہوتی چلائی حمزہ دنگ نظروں سے ماں کو دیکھنے لگا
مام ” اسکی پکار پر انیسا ہوش میں ائ
حمزہ مجھے گھر لے چلو ایسا لگ رہا ہے مجھے کچھ ہو رہا ہے ” اس سے روح اور بہزاد کی یہ کلوزنیس برداشت نہیں ہو رہی تھی جبکہ جس وقت شجر عباس وہاں پہنچا تھا تو اسنے صرف انیسا کی گاڑی کو وہاں سے گزرتے دیکھا باقی کوئی نہیں تھا اور آج اسکا شک یقین میں بدل گیا کہ انیسا روح کی ماں ہے اگر یہ بات بہزاد کو پتہ چل جاتی تو روح پر جتنی جان چھڑک رہا تھا آج اسکا گلہ اپنے ہاتھوں سے دبا دیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجمل کو ڈرنک کرتا دیکھ بہزاد نے اپنی بندوق سیدھی کی
دل تو کرتا تھا اسکے وجود میں گولیاں ایسے اتارے کہ بس سوچتا ہی رہ جائے وہ ۔۔
اچانک کھٹ پٹ پر وہ چونکا اور ضیاء اندر ا گیا
بہزاد کو دیکھا مگر بہزاد نے توجہ نہیں دی
کیا ہوا پرانا یارانہ نکل آیا ” ضیا نے اسکا مذاق بنایا تھا
بہزاد کے چہرے پر معمولی مسکراہٹ تھی ۔
اجمل نے بھی توجہ سے اسے دیکھا
کیا ہوا بہزاد علی شاہ اتنا سا کام نہیں ہو سکا تم سے ” اجمل کی بات پر بہزاد نے سر ہلایا
سر کے افس میں سفید صوفے پر سرخ لاش ہے ” وہ صوفہ بھی خراب کر رہی ہے اور فرش بھی ۔۔۔۔
جائیں جا کر دیکھ لیں لاش کس کی ہے ” ضیاء ایکدم کرسی چھوڑ کر اٹھا تھا
و۔۔واٹ تم ۔۔۔ تم نے شجر عباس کو مار دیا ” وہ حق و دق تھا
کیوں کسی اور کو بھی مارنا ہے ” وہ سفاکیت سے مسکرایا
میں مانتا ہی نہیں ” ضیاء الٹے قدموں پلٹا تھا جبکہ اجمل ہنسنے لگا اور بہزاد بھی وہاں سے اٹھ گیا
ضیاء کی پیشانی پر پسینہ تھا وہ فورا اپنے افس پہنچا تھا اور سب سے پہلے وہ شجر کے کمرے میں داخل ہوا وہاں شجر عباس نہیں تھا ۔
ضیا کے اوسان مزید خطا ہوئے کیا ایسا ممکن تھا کہ شجر عباس کو بہزاد مار دیتا ۔
وہ اپنے کیبن میں آیا اور صوفے پر لاش دیکھ کر وہ فورا اس لاش کے نزدیک آیا اور اسنے لاش کے چہرے پر سے کپڑا الٹا اس لاش کا چہرہ بڑی طرح مسک تھا ۔
وہ گھبرا کر دور ہوا اور کرسی سے ٹکرایا اور موڑا تو مسکراتے ہوئے بہزاد کو دیکھ کر ایکدم سیدھا ہو گیا
کیا مذاق ہے یہ ” وہ دھاڑا کیونکہ وہ اچھا خاصا ڈر گیا تھا
کیا ہوا پسند نہیں آیا ” وہ بولا اور بندوق کو سیدھا کر کے دیکھنے لگا
تم یہاں کیوں آئے ہو نکلو یہاں سے مجھے ۔۔ مجھے پتہ ہے یہ سب تم ڈرامے بازی کر رہے ہو تم ہم سب کو مارنا چاہتے ہو اور وہ مبین ۔۔۔ مبین خان تمھارے ساتھ ملا ہوا ہے ورنہ تم یہاں تک کبھی نہ پہنچ پاتے “
براووو ” بہزاد کے ڈیمپل مسکرائے تھے
تمھیں تو میرے بارے میں سب پتہ ہے ” وہ مسکرایا
لیکن ایک مسلہ ہے مجھے بس انیسا چاہیے ” اسنے بندوق لوڈ کی
میں ۔۔۔ میں تمھیں بتاؤ گا انیسا کہاں ہے
ت۔۔۔ تم ٹھیک سمجھتے ہو تمھارے باپ کو انیس۔۔انیسا نے مارا ہے میں تمھیں سب سچ بتاو گی وہ ۔۔۔ وہ علی شاہ وہ جان گیا تھا سب ۔۔۔۔
وہ جان گیا تھا انیسا کے بارے میں کہ وہ ہارون سے محبت کرتی ہے اور ۔
اور کراچی میں ہونے والے دھماکے اور 1300 لوگوں کی جانیں ہارون نے لیں ہیں صرف اسلحے کے ایوز باہر سے ایکسپرٹ ہونے والے اسلحے کا ٹیسٹ کیا تھا اور صرف اس ٹیسٹ کے لیے 1300 جانیں چلی گئیں وہ سب جان گیا
ایکدم ضیاء کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
اسے لگتا نہیں تھا اسے یقین تھا کہ یہ سب ہو چکا ہے وہ جانتا تھا یہ سب اسے مزید جان کاری کی ضرورت نہیں تھی پیشانی میں تین فائر چلے تھے
اور ضیا کی آنکھیں ویسے ہی کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ زمین بوس ہوا
بہزاد کے قدموں میں ۔۔۔۔
اوپر جاؤ تمھارا سفر تمام ہوا ضیاء ” وہ مسکرا کر باہر نکلا اور سیدھا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا اور اسے شجر عباس نے دیکھ لیا تھا
بہزاد نے البتہ اسے نہیں دیکھا تھا ۔
شجر نے اسکے ہاتھ میں گن بھی دیکھی تھی لیکن وہ سمجھ نہیں پایا کہ وہ کہاں سے نکلا یقینا مبین خان کے پاس آیا ہو گا
اچانک اسکے موبائل پر رینگ ہونے لگی اسنے نمبر دیکھا اور مسکرایا
زہے نصیب ۔۔۔ قسمت کا ستارہ بلند ہے میرا جو آپ نے فون کیا “
میں اپ سے ملنا چاہتی ہوں ” اسکے لہجے میں پریشانی تھی
ابھی ا جاوں “
ج۔۔جی مگر مگر آپ فضول باتیں نہیں کریں گے “
مائے بیلیوڈ ائ ایم آ جنٹل مین ابھی آیا میں ” اسنے موبائل بند کیا اور اپنی جیپ کی جانب بڑھ گیا ۔۔
لبوں پر مسکان تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات سے اسے نیند نہیں آئی تھی یہ سوچ سوچ کر کہ بہزاد شجر کو مارنے کا سوچ رہا ہے
ہاں وہ شجر سے نفرت کرتی تھی اور اس سے اسے فرق نہیں پڑتا تھا پھر بھی متفکر ہو رہی تھی وہ اپنی کیفیت سے خود بھی واقف نہیں تھی اور پورا دن خود سے لڑنے کے بعد اسنے فیصلہ کیا تھا کہ وہ شجر کو بتا دے باقی اپنی جان بچا سکتا ہے تو بچا لے نہیں کر سکتا تو نہ کرے
وہ ہاسپٹل کے باہر کھڑی اسکی منتظر تھی
اور اسکی گاڑی دیکھائی دی تو وہ گاڑی میں سوار ہو گئ اور شجر کی مسکراہٹ سے نظریں بچانے لگی
وہ بار بار مسکرا رہا تھا یہاں تک کے پلوشہ نے دانت پیس کر اسکی جانب دیکھا تو وہ ایکدم سنجیدہ ہوا
کسی بھی پاس کے ریسٹورنٹ میں چل لیں ڈیوٹی چھوڑ کر آئی ہو زیادہ وقت نہیں میرے پاس ” اسنے اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا تو
شجر سر خم کر گیا پلوشہ نے ذرا نگاہیں گھمائی کر اسکی جانب دیکھا اور سر جھٹک دیا جبکہ شجر نے مسکرا کر گاڑی کی سپیڈ بڑھا لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روح بوریت سے بیٹھی باہر مگارڈن میں مالی کو دیکھ رہی تھی جو پودوں کو پانی دے رہا تھا
وہ رات والا قصہ یاد نہیں کرنا چاہتی تھی
کیونکہ وہ اپنی ماں سے نہ ملنا چاہتی تھی نہ اسے دیکھنا چاہتی تھی اسکے لیے ایک آنسو بھی بہانا نہیں چاہتی تھی اور اسے اسی وجہ سے بہزاد زیادہ بہتر لگا وہ اٹھی اور لون میں آ کر کھڑی ہو گئ
مالی انکل میں پانی دیتی ہوں اپ ہٹیں بیٹھ جائیں ” اسنے زبردستی اس سے پائیپ کھینچ لیا جبکہ مالی پریشانی سے اس سے دوبارہ پائپ لینا چاہتا تھا مگر روح نے ان پر پانی کی دھار اچھال دی
ارے بیٹا ۔۔۔ وہ کھلکھلا دی جبکہ وہ بے چارہ خود کو بچاتا ادھر سے ادھر ہوا اور روح نے شیطانی نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا پانی کی دھار تیز کی اور ان فوجی یونیفارم میں کھڑے گارڈز کو بھی بھگتی چلی گئ
جینزی بھی دوڑ کر باہر ائ جبکہ وہ اب اچھل اچھل کر خود پر پانی گیرہ رہی تھی اور اتنی بے ڈھنگی تھی
کہ مکمل گیلی ہو کر وہ آفت لگ رہی تھی
جبکہ باہر کا دروازہ کھلا اور بہزاد کی گاڑی اندر ا گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
