Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

پورے چاند کی چاندنی میں شب کے آخری حصے میں وہ زندگی بھر رہا تھا ۔۔۔
اچانک ایک حسین دل فریب سی دھن پر وہ اٹھ بیٹھی ۔
وہ دھن اتنی حسین تھی کہ وہ خود کو بستر سے اٹھنے پر مجبور کر گئ اسنے پرپل کلر کی کچھ بولڈ سی نائیٹی کی دونوں ڈگریوں کو اپنے خوبصورت ہاتھوں کی پتلی سی مومی انگلیوں سے باندھا اور بالوں کو گردن پر سے سمیٹ کر وہ آواز کے تعاقب میں چلتی اپنی بالکنی میں ا گئ ۔۔۔
یہ صرف ایک دھن تھی ایک ” جادوئی دھن ” روح نے چاند کی جانب دیکھا پھر اس چاند کی چاندنی میں بیٹھے شخص کو ۔۔ اس گھر کی ہر دیوار سفید تھی بلکل بے داغ اور یقینا وہ مافیا میں تھا وہ میوزک انسٹرومنٹس بجاتا تھا ۔۔ اسکا دل ایکدم دھڑکا
کتنا عجیب پر اسرار سا انسان تھا ۔
رات کا آخری پہر تھا ہوا کافی دلکش تھا جیسے اسکے چہرے کو چھو کر لوٹتے ہوئے وہ روح کے چہرے کو بھی چھوتی ہے
اسکی پرپل بائیٹی گھٹنوں سے کچھ اونچی تھی وہ ٹانگوں کو سمیٹے ٹھنڈی گرل پر کہونیاں رکھے اسپر ہاتھ رکھ گئ اور آنکھیں بند کر لیں اس سے زیادہ سکون بھرا میوزک اسنے کبھی سنا ہی نہیں تھا وہ گٹار پر دھن بجانے ہوئے پلٹا اور سامنے کا منظر دیکھ کر ٹہر گیا ۔۔
وہ جو بھی تھی … چاندنی رات میں خوشبو بکھیرتی ہوا سی لگ رہی تھی جسے بہزاد دیکھ کر ٹہر گیا وہ مسکرا رہی تھی ۔۔
اس کی مسکراہٹ — جیسے صبحِ صادق کی پہلی کرن، نرم، روشن، اور دل کو چھو لینے والی اس کے بال — جیسے سیاہ راتوں میں بادلوں کا رقص، ہر لٹ میں ایک کہانی ، چال میں وہ ٹھہراؤ، جیسے وقت خود رک گیا ہو اُس کے گزرنے کے انتظار میں۔۔۔۔ لبوں پر جیسے دعا ہو، اور آواز میں وہ تاثیر جیسے کوئی پرانا ساز چھیڑ دیا ہو دل کے کونے میں ۔۔۔۔
مگر سب سے خوبصورت اس کی وہ آنکھیں تھیں جو بند تھیں
جنھیں دیکھنے کی تمنا سی ہوئی یہ دس سالوں میں پہلی تمنا تھی جو اسکے دل نے کی تھی …
اور پل میں مقابل نے اسکی یہ خواہش پوری کی تھی اسنے اپنی آنکھیں کھولیں
اسکی آنکھیں — گہری، خاموش جھیلوں کی مانند — ہری رنگ کی تھیں جن میں کوئی ایک بار ڈوب جائے تو واپس لوٹنے کا دل نہ کرے جو صرف دیکھتی نہیں تھیں بلکہ محسوس کراتی تھیں کہ تم اہم ہو، تم خاص ہو۔۔۔۔۔
وہ بلکل اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ بہزاد کا ہاتھ رک گیا ۔۔۔
وہ کسی خواب کی سی کیفیت میں کھڑی بہزاد کو دیکھ رہی تھی جبکہ بہزاد کی بھی نگاہ اسی پر تھی
اسکی آدھی دیکھتی پنڈلیاں اور آدھے وجود کو بمشکل چھپائے پرپل کلر کی نائیٹی وہ آفت لگ رہی تھی اسکا حسن آدھی شبیر کسی بھی مرد کو پاگل کر دیتا
بہزاد علی شاہ نے اوپر سے نیچے تک اسے دیکھا اور گٹار ایکطرف رکھ دی
وہ لڑکی بھی جیسے اس کیفیت سے باہر نکلی اور ایکدم سیدھی ہوئی اسنے قدم پیچھے لیے جبکہ بہزاد نے قدم آگے لیے ۔۔۔۔
وہ بے باکی سے دیکھتا اس سمٹ کی دیوار کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا اسے دیکھنے لگا جبکہ روح کی پیشانی پر بل سے پڑے اور پھر اسے احساس ہوا کہ وہ اسکی برہنہ ٹانگوں کو گھور رہا تھا وہ ایک لمہے میں اندر بھاگ گئ جبکہ وہ اس جگہ کو گھورتا رہا ۔۔۔۔
روح ” اسکے لب پھڑپھڑائے اور وہ مڑ گیا
جبکہ روح کے دل میں ہلکی سی ہلچل ہوئی تھی جیسے تتلیاں سی اڑ رہی ہوں ۔۔۔
وہ نظریں بچانے کر آئی تھی ۔۔ لیکن ایسا کیوں وہ نگاہیں چرا کر اس سے چھپ کیوں گئ وہ تو اسے جانتی تک نہیں وہ اپنی بے ترتیب دھڑکن پر خود حیران تھی
اور پھر اسنے اسے محظوظ ایک اتفاق سمجھا ۔۔ اور سر جھٹک دیا وہ بستر پر اپنے وجود کو ڈھیلا چھوڑتی گیر گئ
ابھی بھی آنکھوں میں پورے چاند میں گٹار سے بجاتا وہ حسین دھن اسکی آنکھوں میں تھی ۔۔
وہ شانے اچکا کر کمبل میں چھپ گئ کیونکہ کل اسنے ایک اہم کام کرنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے دروازہ بجایا اور ایک کھڑکی کھلی اور سرد نظروں والے چوکیدار نے اسکی صورت دیکھی
ہاں بولو “
مجھے تمھارے صاحب سے ملنا ہے “
کیوں ” وہ کافی سرد لہجے میں پوچھا رہا تھا
یہ میں انھیں ہی بتاو گی بلاؤ انھیں “
وہ لڑکیوں سے نہیں ملتے “
کیوں وہ مرد نہیں ہیں ” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولی اور ابھی یہ بحث جاری تھی کہ پیچھے گاڑی ا رہی اور مہروز کی گاڑی دیکھ کر چوکیدار نے فورا دروازہ کھولا
مہروز گاڑی اندر لے کر جانے لگا تو اسنے مہروز کو ہائے کیا مہروز نے ارد گرد دیکھا کہیں سے بس بہزاد نہ دیکھ رہا ہو ۔۔۔
وہ روح کو مسکرا کر ہائے کر رہا تھا ۔۔
وہ اس وقت بلیک جینز اور بلیک ٹی شرٹ میں تھی جبکہ ہاتھ پر اسنے ایک چھوٹی سی پتلی سی جیکٹ ڈالی ہوئی تھی لیکن فلحال وہ اس بلیک جینز شارٹ میں کافی ہاٹ لگ رہی تھی کہ مہروز روک نہیں سکا خود کو ۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو “
میں تمھارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں “
وہ اسکی گاڑی میں جھکتی مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی
بہزاد سے کیوں ” مہروز فورا الرٹ ہوا اور اسکے دماغ میں بہزاد کی بات کلک کر گئ
جب اسنے کہا تھا شجر کا نیا مہرہ ” مہروز اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
سنا ہے بہزاد لڑکیوں سے نہیں ملتے کیوں ڈرتے ہیں ” وہ مسکرائی دلکشی سے
مہروز اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا اور پھر مسکرا دیا
چلو ملواتا ہوں تمھیں ” وہ گاڑی اندر لے ایا روح بھی اندر ا گئ اسنے چارو اطراف میں دیکھا اسے لگا یہ کوئی کانچ کا شیش محل ہے اتنا حسین نازک اور بے داغ ۔۔۔۔
اور بلکل سفید رنگ میں کہیں کہیں ریڈ کلر سے نقشوں نگار رہنے والے کی نفاست کو بیان کر رہا تھا
مہروز نے ذرا جھک کر اسے اندر چلنے کا کہا ۔۔ اور اسکی پشت پر مسکرا دیا
اسنے چلتے ہوئے جیکٹ پہنی مہروز دل تھام گیا
کیا بلا تھی ۔۔۔
وہ اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جبکہ شاہ ویلا میں ہیل کی ٹک ٹک گونج رہی تھی وہ اندر آئی اور یہ جگہ باہر سے بھی زیادہ شاندار تھی ۔۔
ہر چیز اپنی جگہ نفاست سے رکھی تھی وہ مڑ کر مہروز کو دیکھنے لگی ۔۔
اسنے لب دبائے اور آنکھیں اچکا کر اس سے پوچھنے لگی کہ وہ جس کی تلاش میں ہے وہ کہاں ہے ۔۔
جبکہ مہروز نے ۔۔ سر ہلایا اور اگے بڑھا اسنے کانچ کے فریم پر ہلکا سا کلک کیا تو روح ایکدم ڈر کر دو قدم دور ہوئی
کیونکہ پوری دیوار کھل گئ تھی ۔۔۔
اور اندر بہزاد علی شاہ ابھی اپنے بستر پر خواب خرگوش کے مزے لے کر جیسے شاور لے رہا تھا ۔۔ کیونکہ پانی کا شور صاف سنائی دے رہا تھا ۔۔ یہ سب بہت مسرمائز سا لگ رہا تھا ۔۔۔
بہزاد ” مہروز نے پکارہ تو وہ باتھ گاؤں کی ڈوریاں بند کرتا گیلے بال پیشانی پر سجائے باہر نکلا اور مہروز کے ساتھ ساتھ اسکی نگاہ دو حیران آنکھوں پر پڑیں رات کا منظر اچانک آنکھوں کے گرد گھوما اور وہ انجان ہو گیا ۔
اسنے مہروز کو کافی ناگواری سے دیکھا
محترمہ تم سے ملنے کی خواہشمند ہیں ” وہ شانے اچکا گیا ۔
بہزاد نے بنا کچھ بولے اسے باہر جانے کا کہا اور مہروز منہ بنا کر باہر نکلا اور بہزاد نے معلوم نہیں کس چیز پر ہاتھ مار کر بند کر دی تھی وہ دیوار اور اب یہ دیوار ایسی لگ رہی تھی جیسے اس میں کوئی پوشیدہ کمرہ ہی نہیں روح حیران تھی ساتھ ستھ ایمپریس بھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پچھلے دس منٹ سے چوکیدار کے ساتھ بیٹھی تھی نہایت مینرز لیس لوگ تھے یہ ۔۔
ملازم خاموشی سے ہر چمکتی ہوئی چیز کو بر بار چمکا رہے تھے اور وہ دس منٹ سے چوکیدار کی گھوری کا منتظر تھا لیکن اسے یہاں آ کر ایک بات ماننی پڑی تھی کہ یہاں کے مالک سے لے کر چوکیدار تک سب خوبصورت تھے
اچانک اسکا بلاوا ا گیا کہ اسے اندر بلایا جا رہا ہے وہ اٹھ کر اندر ا گئ وہ لاونج کے بیچ میں کھڑا تھا اور اسکے اردگرد کچھ ملازم اور مہروز بھی تھا ۔
بتاو کیا کام ہے تمھیں ” مہروز نے سوال کیا تو روح نے سر ہلایا
میں اپ لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں
میں جانتی ہوں اپ لوگ کون ہیں اور میرا بہت بڑا شوق ہے اپ کے ساتھ کام کرنے کا ” اسکی بات پر مہروز نے تو پیشانی پر بل ڈال لیے جبکہ اسکے ملازم بھی روح کو گھورنے لگے وہ پلٹا ۔
کیا کرتے ہیں ہم ” اسنے کافی سنجیدگی سے سوال کیا تھا اور اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا وہی کنفیوز کر دینے والی نگاہیں ۔۔۔
سمگلر ہیں اپ ڈرگ ڈیلر اور کچھ کچھ ۔۔ آرمی کے مخالف ۔۔ خیر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ کھوئے ہوئے پندرہ کمانڈر آپکے پاس ہیں “
نائیس ہیومر ” بہزاد نے سیگریٹ سلگائی اور اسکی جانب دیکھا
شاید بستر پر پڑی ایک بے جان لاش اور اس وقت اپنی جوبن کی جوانی لیے پچیس سالہ روح میں بڑا فرق تھا ۔
کون ہو تم ” مہروز نے بندوق اسپر تان لی جبکہ بہزاد اب بھی سیگریٹ کے کش بھر رہا تھا
روح ” وہ بنا ڈرے بولی ۔۔۔
تم یہ سب کیسے جانتی ہو ” مہروز کو خطرے کی بو آ رہی تھی
ریلکس ٹیک ایٹ ایزی ۔۔۔ “
اسے باہر پھینک دو ” بہزاد نے چند لفظوں میں بات ختم کر دی
نہیں آپ مجھے ایسے کیسے کہہ سکتے ہیں باہر پھینکنے کا ۔۔۔
میں ۔۔ میں آپکے بہت کام اوں گی ” وہ بولی جبکہ بہزاد نے ایک سننی بھی نہیں تھی اسکے ملازم روح کو گھسیٹ کر باہر پٹخ چکے تھے جبکہ روح ہتھیلی پر مکہ مار کر اس پتھر کی دیوار کو دیکھنے لگی ۔۔۔
اسنے پیشانی پر بل سجا لیے “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر” وہ ناک کرنے کی زحمت کیے بنا اندر داخل ہوئی اور شجر عباس جو ایک ضروری بات سن رہا تھا پاس کھڑے آفیسر نے گھیرہ سانس بھر کر اسکے چمکتے چہرے کو دیکھنے لگا جو اسے دیکھ کر کھل اٹھا تھا
گڈ مارننگ ” اسنے کہا
سر آپکی ہی اچھی مارننگ ہو گی میری تو اچھی نہیں ہوئی ۔
نہایت بدمزاج اور بداخلاقی قسم کا انسان ہے بہزاد علی شاہ لو بھلا اتنی خوبصورت لڑکی کو کوئی دیکھ کر اگنور کر سکتا ہے کیا اپ کریں گے ۔۔” وہ آنکھیں پٹپٹاتی سوال کر رہی تھی جبکہ شجر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
سوری سر ” اس کے کھڑوس انداز پر ہی تو دل اتا تھا اسکا ۔۔ لیکن اسکے رویے پر معذرت کر گئ ۔۔
روح مجھے ہر کنڈیشن میں یہ جاننا ہے کہ میرے 15 کمانڈرز کہاں ہیں اور اس نے انھیں کہاں چھپا کر رکھا ہے ۔۔ اسکے واپسی لوٹنے کی وجہ کیا ہے اور ایسا کیا راز ہے جو ہارون بیگ اور ضیاء مجھ سے چھپاتے ا رہے ہیں
تم کچھ بھی کرو لیکن تمھیں ہر صورت اسکے پاس جانا ہو گا “
ڈیفینیٹلی سر میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ وہ کریلے کیطرح کڑوا کیوں ہے اپکی طرح کیوں نہیں ہے ” وہ اسکو گھیری نگاہوں سے دیکھنے لگی اسکی ہر بات میں شجر تھا جبکہ شجر کو وہ اولین ٹھرکی لگتی تھی
وہ لبوں پر انگلی رکھتے اسے چپ ہونے کا کہنے لگا ۔۔ جبکہ روح پھر سے سیدھی ہوئی
وہ نشہ کرتا ہے ” شجر نے اسے ایک اور معلومات دی ویسے تو فائل میں سب درج تھا وہ چونک گئ کہ واقعی اسنے اس چیز پر توجہ نہیں دی ۔۔۔ LSD حقیقت کو بدل دینے والا نشہ ۔۔۔
تم جانتی ہو اس نشے کے بعد اتنی گھیری نیند آتی ہے کہ انسان نشے کی کیفیت میں کچھ بھی بول دے لیکن نکلوانے والا سامنے ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے “
اپنا کام اچھی طرح کرو تب ہی جا کر تمھارے بارے میں میں کچھ سوچوں گا ” شجر نے آنکھیں گھمائیں اور اسکے مطلب کی بات کی تو وہ چلا اٹھی
ہیں ۔۔۔۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں اپ میرے بارے میں سوچیں گے ” وہ جیسے بے حد خوش ہوئی تھی ۔
شجر نے اکتا کر سر ہلایا
بس پھر ٹھیک ہے میں کچھ بھی کروں گی سر ڈونٹ وری ” اسنے اسکے شانے پر ہاتھ مارا جبکہ شجر عباس نے گھور کر اسے دیکھا اس بے تکلفی پر
سو س ۔۔۔ سوری” وہ ذرا سنبھلی ۔
جاؤ اور مجھ سے کم ملنا “
لیکن ” وہ جیسے خلاف تھی اس بات کے ۔۔ ۔
میں نے کہا نہ مجھ سے کم ملنا ” اسنے ذرا غصے سے کہا تو وہ سر ہلا گئ کہ اسکے پاس شجر کی بات ماننے کے علاوہ کوی آپشن نہیں تھا ایک تو وہ اسے خود سے دور کر دیتا اور دوسرا وہ اس خوبصورت سی جگہ سے چلی جاتی ۔۔ پھر سے اسی یتیم خانے میں لیکن ویک میں ایک بار تو ملنے دیں ” وہ معصومیت سے بولی
جبکہ شجر نے ایک سانس کھینچا
تمھیں بات کم سمجھ آتی ہے شاید روح کہا ہے تمھیں جو کام تمھیں دیا ہے میں نے وہ کرو لیکن تم “۔۔۔ اسکی بات ادھوری رہ گئ ۔
اور تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور ۔۔ پلوشہ کمرے میں داخل ہوئی اسکے ساتھ دو اور ڈاکٹرز بھی تھیں
شجر ایکدم بستر چھوڑ کر کھڑا ہو گیا یہ اسکا دل جانتا تھا اس چہرے کو دیکھنے کی اسنے ہر ممکن کوشش کی تھی ۔۔ پلوشہ نے اسے بلکل معمولی نگاہ سے دیکھا تھا جیسے وہ اجنبی سے بھی زیادہ اجنبی ہو ۔۔
پلوشہ ” اسکے لب پھڑپھڑائے پلوشہ سپاٹ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
آئی تھنک یو فیل گڈ ۔۔ اپکو ڈسچارج کر دینا چاہیے ” اسنے سنجیدگی سے کہا
شجر نے روح کی جانب اور چپ چاپ کھڑے اس آفیسر کو دیکھا پھر دو ڈاکٹرز کو وہ ملی بھی تو کتنی بھیڑ میں ملی تھی اور اس وقت روح کو خود سے بدظن کرنے کا مطلب تھا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر چلی جاتی وہ چپ ہو گیا
اور بستر پر دوبارہ لیٹ گیا۔۔
اسکا ہاتھ زخمی ہوا تھا اور گولی ہاتھ کے پاس سے گوشت چیرتی ہوئی گزری تھی دس سالوں میں ایسے زخم تو کئ کھا چکا تھا تبھی بلکل نارمل تھا ۔
پلوشہ ڈاکٹرز کو انسٹرکشنز دے رہی تھی کہ وہ یہ کریں وہ کریں
شجر کا بس نہیں چلا ایک ایک بندے کو یہاں سے بھگا دے لیکن وہ مجبور لیٹا رہا اور وہ وہاں سے جانے لگی وہ روح کے پہلو سے گزری تھی اسنے غور سے اس لڑکی کو دیکھا
بلیک جینز اور بلیک ٹی شرٹ پر اوپر جیکٹ ڈالے وہ لڑکی اسے دیکھنے پر مجبور کر گئ تھی پھر اسکی سبز آنکھیں کسی یاقوت کیطرح چمک رہی تھیں جن میں بے حد معصومیت تھی اسکے گلابی ہونٹ ۔۔۔
پلوشہ کی پیشانی پر بل پڑے تھے لیکن وہ گزر گئ ۔۔
اور روح نے شجر کی طرف دیکھا جس نے اسے یہاں سے چلے جانے کا کہا تھا روح کمرے سے نکل گئ
اب اسکے دماغ میں بہزاد کے لیے مزید پلینیگ چل رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے سامنے والے گھر میں جھانکا وہاں کوئی ایک ذی روح بھی دیکھائی نہ دیا تھا ایک تو یہ عجیب ہی گھر تھا
یہاں آدھی رات کو وہ دھن بجانے نکل آتا تھا لیکن پورے دن دیکھائی نہیں دیتا تھا اسکا گھر بلکل سفید تھا بے داغ ۔۔
روح کو تو یہ بات بھی راز لگتی تھی اکثر اسنے اسے سفید سوٹ میں دیکھا تھا ۔۔۔
سفید رنگ پہننے کا مقصد تھا کوئی لیکن ابھی فلحال کچھ نہیں تھا اسکے پاس ایسا ۔۔
آہ ” اسنے گھیری سانس بھری اور اندر ا گئ
وہ اتنے بڑے گھر میں اکیلی تھی لیکن اسے ڈر نہیں لگا تھا
اسکی سانسیں تیزی سے اپنی مستی میں سیڑھیوں سے اترنے پر ذرا اٹک گئیں تو اسنے این ہیلر نکال کر لبوں سے لگایا اور دو چار سانسیں کھینچی ۔۔۔۔
اور دوبارہ ان ہیلر پٹخ کر وہ کچن میں آ گئ
ابھی وہ اپنے لیے نوڈلز بنا ہی رہی تھی کہ باہر کچھ گاڑیوں کے رکنے کی آواز پر وہ باہر بھاگی لیکن اسے این ہیلر کی ضرورت پڑ گئ تھی ذرا کوفت زدہ سی ہوتی ان ہیلر لبوں سے لگاتی وہ اپنے گھر کے گیٹ کی ہلکی سی جھیری میں سے جھانکنے لگی
بڑی بڑی سیاہ گاڑیوں میں سے کچھ لوگ اترے تھے ناک کیے بنا اندر لوگوں نے ایک مخصوص جگہ پر ہاتھ رکھا دروازہ کھلا وہ اندر چلے گئے اور پھر بہزاد علی شاہ کی گاڑی ائی جو کہ اندر چلی گئ
یہ لوگ کون ہیں ” وہ فورا اوپر بڑھی اور اسنے تیزی سے ٹیرس کہ دروازے کے پیچھے سے اسکے گھر میں جھانکا
وہ لوگ کون تھے ۔۔۔
انکے جوتوں کی بس ٹک ٹک کی آواز تھی اور وہ اندر کی جانب چلے گئے پھر بہزاد علی شاہ اندر بڑھا
وہی سفید سوٹ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہ سیگریٹ لبوں میں دبائے اندر بڑھتا بڑھتا رکا
بلکل اہستگی سے پلٹ کر اسنے عین روح کی انکھوں میں دیکھا
روح کو لگا جسم سے جان نکل گئ وہ لمہوں میں پیچھے ہٹی اور اسکے دل کی دھڑکن اس حد تک بڑھ گئ کہ وہ ان ہیلر لبوں سے لگا کر سانس لینے لگی
اسنے چپکے سے سانسیں سنبھال کر دوبارہ باہر جھانکا وہ اب بھی یہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ روح کے ہاتھ میں ان ہیلر کانپا اور گیر گیا ۔۔
اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور سانس کی آواز پھیلنے لگی
یہ تو وہ کانفیڈنس سے اسکو باتھ گاؤں میں دیکھ کر ائی تھی اور اب اتنا ڈر گئ تھی کہ ان ہیلر بھی گی گیا اسنے ان ہیلر اٹھا کر دوبارہ لبوں سے لگایا اور اب کہ دیکھا تو اب کوئی نہیں تھا وہاں ۔۔۔
وہ تیزی سے ٹیرس کے دروازے بند کر گئ
اور اسنے شجر کو میسیج کیا اسے بس اتنی ہی اجازت تھی کہ وہ میسج کر دے اور شجر اسے دیکھ کر جواب دے دے گا
اسنے شجر کو صورتحال بتائی
یہ وہ پندرہ کمانڈرز بھی ہو سکتے ہیں “
نہیں سر ۔۔۔۔ یہ لوگ کوئی اور لگ رہے ہیں “
ٹھیک ہے جا کر پتہ کرو “
اسنے آرڈرز دیے ۔۔۔ اور روح سر تھام گئ
بتانے کا مقصد اب یہ بھی نہیں تھا کہ میں ان سانڈھوں کے محل میں گھس جاوں ” چیڑ کر اسنے اسے مسیج کر دیا
جبکہ شرارتی آنکھیں مسکرا رہیں تھیں کہ وہ جانتی تھی وہ تپ دبا جائے گا جواب نہیں دے گا ۔۔
لیکن کام تو اسکا یہ ہی تھا ۔۔
جس کی وہ بھاری رقم بھی لے رہی تھی اور ایک یتیم خانے کے بجائے بہت اچھے گھر میں رہ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے