No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
کیا مسلہ ہے اپکے ساتھ آپ لے کر تو اسی لیے گئے تھے نہ مجھے ۔۔۔ میں بھی یہ سوچ رہی تھی کہ مجھے کیوں لے کر جا رہے ہیں تاکہ وہ مجھے دیکھ کر اپکے ساتھ ڈیلینگ کر لیں اسنے مجھے اتنا انسلٹ کیا آپ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا بہزاد “
وہ بھپر اٹھی تھی کسی شیرنی کیطرح اسے شاید خود علم نہیں تھا وہ اتنا کیوں بھپری ایک غیر شخص پر لیکن شاید کبھی کہیں کوئی ڈور بندھی تھی اسی ڈور کی مضبوطی تھی یہ ۔۔۔
سب خاموشی سے دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے کیونکہ بہزاد خاموش تھا
روح کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا سبز آنکھوں میں انسو تیر رہے تھے گال بھی آنسو سے بھر رہے تھے وہ مٹھیاں بھینچے کھڑی تھی ۔۔۔
ریلکس “
میں خاک ریلکس کروں ۔۔ گی”
اسکے ایک لفظ پر روح نے دیوار میں مارا تھا ساتھ پڑا واس اٹھا کر ۔۔۔
آپکی وجہ سے ہوا ہے یہ ورنہ منہ نوچ لوں میں ہر اس شخص کا جو لڑکی پر میلی نگاہ رکھے اور آپ جیسے مردوں کا بھی جو کچھ نہیں کر سکتے “
اور وہ باہر نکل گئ جبکہ بہزاد اسکے پیچھے نکلا حسین سا منظر تھا جو ان سب نے دیکھا کہ بہزاد علی شاہ بے رحم سنگ دل شخص اسکے پیچھے نکلا تھا وہ آگے بڑھا روح کی کلائی جکڑی اور
اسے لے کر باہر گاڑی تک لے ایا اسکے پیچھے 7 گاڑیاں نکلی تھیں
کیا مسلہ ہے آپکے ساتھ اب کہاں لے جا رہے ہیں مجھے ” وہ بھڑکی لیکن بہزاد کچھ نہیں بولا
روح کا غصہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا وہ دوبارہ سے اسی جگہ پر لے آیا اسے ۔۔۔۔
اور اس کے گھر میں وہ کسی ایسی مافیا کیطرح گھسے تھے جس کی لیڈر لڑکی ہو ۔۔
روح اسکے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔ اور بہزاد رک گیا
روح کا بس نہیں چلا اس بڈھے کا منہ توڑ دے ۔۔۔
وہ اسے کال گرل سمجھ رہا تھا ۔۔
بہزاد چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔۔
اور روح کی جانب دیکھنے لگا وہ آدمی کھڑا ہو گیا اس وقت وہ تنہا اپنے دو آدمیوں کے ساتھ کمرے میں نشہ کر رہا تھا ۔۔ اسکے دونوں گارڈز کچھ نہ کر سکے کیونکہ بہزاد کے ساتھ اتنا بندہ تھا ۔
روح نے اس بڈھے کا گریبان جکڑا ۔۔
ایک نظر بہزاد کو دیکھا تھا
جس نے سر کے اشارے سے اسے بس وہ کرنے کے لیے کہا جو وہ کرنا چاہتی تھی ۔
اور بس روح نے اپنے کوٹ شوز میں سے گن نکالی اور اسکی کنپٹی پر رکھ دی
بہزاد کے لب اوو کی شیپ میں تبدیل ہوئے مہروز کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی مسکرائے تھے جو اس سے پہلے کا منظر دیکھ چکے تھے ۔۔۔
یہ سب کیا ہے بہزاد ” وہ آدمی کانپا ۔۔۔
مجھ سے پوچھو میں تمھیں بتاتی ہوں ” اور روح نے اسے دور دھکیلا
بہزاد ” وہ آدمی دور جا گیرہ اور بہزاد اب بھی بلکل ویسے ہی بیٹھا تھا جیسے اس وقت بیٹھا تھا بس دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا جس کی ہیل کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھے کسی میوزک کیطرح
سالے بڈھے قبر میں تیرے پاوں لٹک رہے ہیں اور مجھ پر لائن ماری تو نے تیری تو ” روح نے اسکے بال نوچ لیے
بہزاد بے ساختہ ہنس پڑا اس زنانہ انداز پر ۔۔۔
لیکن کچھ بولا نہیں تھا مہروز کے ساتھ ساتھ اسکے گارڈز بھی ہنسنے لگے تھے
میں تمھیں سزا دوں گی ” روح سوچنے لگی ۔۔۔۔
میں تجھے جان سے مار دوں گا ” وہ چلایا اور اٹھتا کہ چھتیس گنز ریڈی تھیں اسے مار دینے لے لیے ۔۔۔
بہزاد تم اپنا نقصان چاہتے ہو تو اس چھوکری کو روکو ” م
وہ نہیں بولے گا وہ گونگا ہے ” روح سینے پر ہاتھ باندھ کر بولی بہزاد نے ائ برو اچکائ
میں ڈیل کینسل کر دوں گا ” وہ بہزاد کو دیکھتا بھڑکا
فلحال تم وہ کرو جو تمھیں یہ کرنے کا کہہ رہی ہے اگر تم نے وہ نہ کیا تو تمھاری زندگی کی ڈیل کینسل ہو جائے گی ” وہ سیگریٹ سلگا کر اسے دیکھنے لگا
روح کی تو خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ رہا
تم ناچ کر دیکھاؤ مجھے بہت تمھیں ایکسٹرا چارج دینے کا شوق ہے بہزاد مجھے لگتا ہے یہ لڑکیوں کو تنگ کرتا ہو گا ۔۔ اسکی تو ” اسنے اپنی ہیل اسکے پاوں پر ماری فیروز چلانے لگا تھا بہزاد بس سر ہلا گیا ۔
ناچو ورنہ دونوں پاؤں توڑ دوں گی” وہ اگ بگولہ ہوئی
روح کوئی پنجابی گانا ہونا چاہیے مجرہ کرتا ہوا اچھا تو لگے ” یہ مہروز کا مشورہ تھا
۔۔
جھنجھر دی پاوں چھنکار ” ۔۔۔۔۔۔
نیناں وچ ڈولدا خمار ۔۔۔۔۔۔
اچانک روح شروع ہوئی اور اسکی آواز میں بہزاد نے یہ گانہ برسوں بعد سنا تھا کبھی وہ گاتا تھا اتنی ہی لاپرواہی اور آوارگی سے جیسے وہ آج گا رہی تھی وہ اسے دیکھتا رہا ۔۔
تم ناچتے ہو یہ تمھیں لگاوں میں “
روح نے ڈنڈا اٹھا کر مارا اور وہ بے چارہ ناچنے لگا
بہزاد انجوائے کرتا سر ہلا رہا تھا ۔۔اسکی آواز خوبصورت تھی
جبکہ مہروز تو روح کے ساتھ اپنی بے سری آواز لگا رہا تھا باقی اسکے گارڈز سکون سے یہ منظر انجوائے کر رہے تھے ۔۔۔
اور پھر جب تک روح کا دل کیا وہ سب یوں ہی بیٹھے رہے اور فیروز ناچتا رہا
اور پھر روح نے فیروز کا گریبان جکڑا آئندہ اگر مجھے میلی نگاہ سے دیکھا نہ ابھی تو انٹرنیٹ پر لگاو گی تمھاری یہ ویڈیو ۔۔۔
پھر لوگوں کے گھروں میں کراو گی یہ مجرا تم سے سمجھے “
وہ غرائی اور ڈنڈا وہیں پھینک کر وہ آگے بڑھی کہ فیروز نے غصے سے کھولتے گن نکال کر روح پر فائر کرتا کہ بہزاد کی گولی سے تین فائر نکلے اور فیروز کی پیشانی پر تین فائر بڑی ہی خوبصورتی سے سج گئے ۔۔
دی اینڈ ” وہ شانے اچکا گیا
روح کا وجود ساکت ہوا گیا لمہوں میں اسے ایسا نہیں چاہیں تھا
وہ پتھر کی بنی فیروز اور پھر اسکے گارڈز کی لاشیں دیکھنے لگی ۔۔
جو کہ بہزاد کے گارڈز کی فائرنگ کی نظر ہو گئے تھے اب بہزاد روح کی کلائی دوبارہ جکڑے آگے بڑھا وہ اسکے ساتھ کھینچتی چلی گئ وہ بلکل کسی کو مار دینے کے حق میں نہیں تھی
اور جیسے اچانک اسے احساس ہوا کہ وہ مافیا ہے لوگوں کو مار دینا اسکے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی اور روح کی آنکھیں سہم گئیں ۔
وہ اسکے ساتھ کھینچتی جا رہی تھی وہ اسے گاڑی میں ڈال کر وہاں سے لمہوں میں نکلا ۔۔
جبکہ روح کے کان میں اب بھی وہ تین فائر گونج رہے تھے ۔
وہ پتھر بنی بیٹھی تھی ۔۔ بہزاد گھر پہنچا اور روح اسکی گاڑی سے بھاگنے لگی لیکن بہزاد نے گاڑی کا دروازہ نہیں کھولا
روح نے آنکھیں گھمائیں اسکی آنکھوں میں واضح خوف تھا بہزاد ہاتھ کے اشارے سے اس سے پوچھنے لگا
کیا؟؟؟؟؟؟
کیوں ڈر رہی ہو جب میرے گھر میں گھس کر غصے اور جنون میں واس توڑے تب نہیں پتہ تھا میں کون ہوں ؟
اور روح اسنے مرنا ہی تھا تم کیوں فکر لے رہی ہو ” اسکے سرخ لیپسٹک سے سجے ہونٹوں پر ہلکا سا انگوٹھا پھیر کر اسنے اپنے ہونٹوں پر وہ انگوٹھا پھیر لیا
لو تمھارے نام سے بھی ایک خون کا رنگ لگ گیا مجھ پر ” وہ پر سکون تھا
دروا۔۔۔زہ کھولیں
پ۔۔۔پلیز مجھے سف۔۔۔سفوکیشن ہو رہی ہے مجھ۔۔مجھے س۔۔سانس نہیں ا رہا بہزاد ” وہ اپنے سینے پر ہاتھ مارنے لگی تھی
اور نہ کھولوں تو تم مر جاو گی ۔۔پتہ ہے روح موت تو سب کو آنی ہے اور جانے والا واپس کبھی نہیں لوٹتا تم ان چیزوں پر دھیان مت دو جو تمھارے لیے نہیں “
کہتے ساتھ ہی اسنے روح کے بال اسکے سر کے پچھلے حصے سے جکڑے اور اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لے ایا وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل تھے گاڑی میں پُراسرار سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی روح کی سانسوں کی آواز تھی بے چین سانسیں جو کھل کر بحال ہونا چاہتی تھیں مگر بے بس تھیں وہ اپنی سانسوں سے تنگ ہوتی سر کو جھٹک کر بہزاد سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی جبکہ بہزاد نے اسے ذرا بھی دور نہ ہونے دیا اسکی سانسوں کی دلچسپ آواز کو وہ سن سکتا تھا لیکن وہ ضدی لڑکی آج آگے نہیں بڑھی آج اسنے اسے خود سے چھوا نہیں ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور بہزاد کو اسپر ترس آ گیا اسنے بڑی سستی سے اسکے ہونٹوں و چھوا تھا روح دور ہونے کے لیے مچلی ۔۔
بہزاد نے اسکی گرد جکڑ لی
سانس لو ” یہ حکم تھا جو وہ اسے دے رہا تھا
ن۔۔۔نہیں ” وہ ضدی بنی اب بھی ہٹنا چاہتی تھی بہزاد نے اسکی گردن دبائی اور روح کو لگا اب وہ مزید نہیں جی پائے گی اسکے ہونٹوں کے درمیان خود ہی فاصلہ بنا اور وہ بہزاد کی خواہش کے عین مطابق اسکی سانسوں میں سانسیں لینے لگی وہ جیسے پر سکون سا ہو گیا
روح کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا وہ مر جاتی اگر اسے سانس نہ ملتا ۔۔۔ وہ بے بسی سے انکھوں سے انسو بہانے لگے تھے وہ چاہ کر بھی اس سے دور نہیں ہو پا رہی تھی البتہ بہزاد آنکھیں بند کیے ان نرم ہونٹوں کی آہستہ آہستہ حرکت کو محسوس کر رہا تھا
اور روح تھکنے لگی بے دم سی ہوتی دور ہونے کی سعی کر رہی تھی کہ بہزاد نے اسے پھر پکڑ لیا
اب باری اسکی تھی
یہ کس لمبی نہیں ہوتی بس ایک لمحہ مگر اُس لمحے میں کئی سالوں کی تنہائی، درد، خوف اور قربت جمع تھی
روح نے آنکھیں بند کر لیں اس کے ہونٹ ہلکے سے لرزش تھے وہ اب بھی رو رہی تھی
شاید یہ لمحہ وہ ہی ہے جو مجھے انسان رکھے ہوئے ہے ” ۔۔۔
اسنے اسکے گالوں سے انسو اپنی ہونٹوں پر چنے اور دور ہو گیا روح چہرے پر ہاتھ رکھ گئ
دروازہ کھولیں ” ذرا غصے سے بولی تھی
اب بھی غصہ ہو ؟ وہ تھک کر پوچھنے لگا کتنی ٹہڑی تھی ۔
کیا مطلب ہے اب بھی ۔۔ مجھے آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا اور یہ جو اپ میری مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں نہ جب میں یہاں سے چلی جاو گی تو پھر تنگ کر لیجیے گا جس کو دل کرے کم از کم وہ اپکے ساتھ اسی طرح رہے گی جس طرح اپ رکھنا چاہتے ہیں لیکن میرے لیے ایسے خیالات کو نکال بھر کریں ” وہ اگ بگولہ سی بھڑکی
میں تو تمھاری مدد کرتا ہوں ” روح کا دل کیا اپنے بال نوچ لے اسقدر معصومیت سے اور بے چارگی سے اسنے کہا تھا کہ روح نے اسکی گاڑی کی سیٹ میں اپنے بلی جیسے ناخن پھنسا کر ساری سیٹ پھاڑ دی
اوپس ” بہزاد نے ذرا ناگواری سے دیکھا تھا
میں جان لے لوں گی دروازہ کھولیں ” وہ دھاڑی
بہزاد نے دروازہ کھول دیا ۔۔
نقصان پر نقصان ” بہزاد نے گاڑی کی سیٹ کو دیکھا اور پھر سامنے دیکھا جس نے اپنی ہیلز اتار کر اسکی گاڑی کے شیشے پر ماری تھی
معلوم نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو میری سانسوں کے پیچھے پڑے ہیں ” وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے گھر میں گھس گئ جبکہ بہزاد علی شاہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ ایونیگ ٹیم ” شجر نے ایک نگاہ پلوشہ کو دیکھا اور پھر باقی ٹیم کو دو دن سے وہ یہاں تھے لیکن وہ بلکل ایک پروفیشنل ڈاکٹر کیطرح بیہیو کرنا رہی تھی اسنے شجر کی جانب دیکھا تک نہیں تھا
شجر کچھ ضروری معملات ان سب سے ڈسکس کرتا رہا کچھ ضروری چیزیں سمجھاتا رہا ۔۔۔۔
سب نے یس سر کہا
ہمارے پاس کسی سامان کی کمی تو نہیں ڈاکٹر پلوشہ ” اسنے پلوشہ کی جانب دیکھا
کیپٹن رضا ہمارے پاس سب چیزیں موجود ہیں کسی بھی ہنگامی کروائی کے لیے ہم بلکل تیاری ہیں
آپ ٹینشن نہ لیں ” اسنے شجر کو جواب دینے کے بجائے رضا کو جواب دیا اور پھر سکون سے کھڑی ہو گئ شجر نے معمولی سا سر ہلایا
اوکے ویل کل ملتے ہیں ” اسنے کہا اور سب پیچھے ہٹ گئے
کھانا لگ گیا تھا اب ان سب نے کھانا کھانا تھا پلوشہ بنا کھائے وہاں سے چلی گئ اور شجر نے اسے نوٹ کیا تھا وہ اپن کھانا لے کر اسی کے روم کے باہر ا گیا
کیونکہ سب کھانا کھا رہے تھے تبھی اس حصے میں کوئی نہیں تھا اسکے دروازے پر ہاتھ رکھا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ اندر ا گیا وہ اپنے موبائل کو بار بار ٹرائے کر رہی تھی کہ وہ چل جائے
یہاں یہ موبائل یوز ہو گا کس سے بات کرنی ہے تم نے ” اسنے پلوشہ کی جانب اپنا موبائل بڑھایا اور کھانا ٹیبل پر رکھا
مجھے ضرورت نہیں شکریہ ” روکھے لہجے میں کہہ کر وہ اپنے کپڑے دیکھنے لگی معلوم نہیں کیوں آیا تھا وہ یہاں ۔۔۔
اگر تم تھوڑا ٹھنڈے دماغ “
مجھے سوچنا ہی نہیں شجر عباس اپکے بارے میں آپ دنیا کے آخری مرد بھی ہونگے تب بھی مجھے آپ میں دلچسپی نہیں تو بہتر ہے آپ یہ جو اچھے بننے کا ناٹک کر رہے ہیں نہ کریں ” وہ نفرت سے پھنکاری
کیوں ۔۔۔ کیوں کر رہی ہو مجھ سے اتنی نفرت ” وہ اسکی کلائی جکڑ گیا
نفرت کی وجہ ہونا ضروری ہے اور میرے پاس اپکے لیے ہر وجوہات ہیں ” وہ اپنی کلائی چھڑانے لگی لیکن شجر کے ہاتھ سے کلائی نہ چھوڑی اسکی
چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے ” وہ غصے سے بولی جو تم سمجھتی ہو ویسا کچھ نہیں ہے میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں “
وہ بولا جبکہ پلوشہ کے سر پر اتنا غصہ سوار تھا کہ اسنے دوسرا ہاتھ اٹھایا اور اسکے منہ پر مار دیا شجر کے ہاتھ سے اسکی کلائی چھوٹ گئ
آنکھوں دیکھا غلط نہیں ہو سکتا نانو کے قاتل ہیں اپ دو معصوم بچوں کو مارا ہے اپ نے اپ نے بہزاد کو مردہ بنایا ہے آپ کو تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے شجر عباس ” وہ دھاڑی
اینف ” شجر کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا
اینف از اینف ۔۔۔ جب کہا ہے کہ میں نے نہیں مارا تو نہیں مارا ” وہ اسکے دونوں بازو جکڑ کر اسے دیوار سے چپکا گیا
پلوشہ اسکی آنکھوں میں غصہ دیکھتی کچھ لمہے کے لیے رکی تھی ۔۔ ڈر لگا تھا لیکن پھر بھی وہ خاموشی سے کھڑی رہی
جو مرضی کریں آپ ۔۔ میری غرض نہیں
اور آئندہ مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ” وہ نفرت سے پھنکاری جبکہ شجر نے دانت پیس کر اسکو دوبارہ دیوار سے لگا دیا یہاں تک کے اسکی دونوں کلائیاں جکڑ کر دیوار سے لگائی
شوہر ہوں تمھارا قانونی طور پر شرعی طور پر ۔۔۔۔
چاہو تو تمھیں لمہوں میں احساس دلا دوں کہ میں کیا ہوں ” وہ غرایا جبکہ پلوشہ اسے دیکھنے لگی ۔۔
اسکی آنکھوں میں کوئی لچک نہ تھی وہ نفرت اور غصے سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی دوسری طرف شجر نے اسکی کلائیاں چھوڑ دیں
چند لمہے سکون سے مجھے سن لو گی تو کچھ نہیں جائے گا تمھارا “
جائیں آپ یہاں سے ” وہ بھپر سی رہی تھی
پلوشہ ” اسنے شجر کی بات نہ سنی اور کمرے سے نکلنے لگی کہ شجر نے روک دیا
ٹھیک ہے میں جا رہا ہوں ” وہ وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ پلوشہ نے کھینچ کر دروازہ بند کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی مشکلوں سے اسنے جان چھڑائی تھی انیسا کی ۔۔۔ انیسا معلوم نہیں کیوں اتنی خوفزدہ رہتی تھی بہزاد سے کہ اسکی ساری صلاحیتیں مسک ہو جاتی تھیں
اسکی بیٹی اسکے پاس ائی
مام کیسی طبعیت ہے اب اپکی” اسنے سوال کیا
ٹھیک ہوں تم ایک کام کرو اپنے بابا کو فون کرو بہت دیر ہو گئ وہ آئے نہیں” انیسا کو رات ہوتے ہی ڈر لگتا لگتا تھا تبھی وہ اپنی بیٹی سے بولی تو اسکی بیٹی فون ملاتے ملاتے باہر نکل گئ
وہ تھوڑی دیر بعد اندر آئی اور بولی میں سکندر کے ساتھ جا رہی ہوں اپ اپنا خیال رکھیے گا وہ اسکی پیشانی چومتی وہاں سے نکل گئ اور
انیسا پریشانی سے اٹھی
اسنے ہارون کو کئ کالز کیں مگر بے سود معلوم نہیں وہ کہاں مصروف تھا
اسنے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور گھیرہ سانس بھر کر بستر سے اٹھی تاکہ اچھا محسوس کر سکے ۔
اور وہ نیچے آئی تو سرونٹس بھی دیکھائی نہ دیے گھر کی خاموشی میں ایک ہو کا سا عالم تھا وہ سرونٹس کو تلاش رہی تھی کہ اچانک محسوس ہوا جیسے کوئی ہے جو اسکے اردگرد ہے وہ دوبارہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی ۔
تین سیڑھیاں ہی چڑھی تھی اسنے مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا
وہ جلدی سے چار سیڑھیاں چڑھی ابھی پیچھے مڑی ہی تھی کہ پیچھے اسے کوئی بھاگتے ہوا اسکی سمت آتا دیکھائی دیا وہ چیخنے لگی اور تیزی سے اوپر بھاگی وہ اسکے پیچھے تھا وہ مکمل فوجی لباس میں تھا اور منہ پر ایک ہارر سا ماسک لگا رکھا تھا وہ اسکے پیچھے اپنی گن لے کر آتا
وہ دوڑ کر اپنے کمرے میں جانے لگی کہ انیسا کا دل باہر ا جاتا وہ کون تھا اسکے پیچھے تھا
اچانک لائٹس بھی آف ہو گئیں جبکہ انکے گھر میں کبھی لائٹس آف نہیں ہوئی تھیں وہ رونے لگی لوہ جو بھی تھا اسکے سامنے تھا اونچا لمبا اسکی شکل پر ماسک تھا وہ اسکے سامنے اپنی ٹانگوں کے بل بیٹھ گیا اسنلے دیکھتا رہا انیسا کی آنکھوں کا خوف ایسا تھا کہ اسکی دونوں آنکھیں پھٹ کر باہر نکل آئیں گی ۔۔۔ وہ ہنسنے لگا
تم مل گئ مجھے ” وہ اٹھا اور انیسا بھاگ کر کمرے میں بند ہو گئ
اسکے کانوں میں دل دھڑکا رہا تھا وہ موبائل اٹھا گئ
ہارون ہارون ” وہ چیخنے لگی اور پھر گھوم کر بستر میں جا کر گیری تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمرجنسی صورتحال تھی
وہ بھاگ دوڑ رہے تھے ایک بس کا ایکسیڈنٹ ہو چکا تھا جس میں باہر کے ممالک کے کچھ سٹوڈنٹس تھے
کافی نقصان ہوا تھا اور شجر اپنی ڈیوٹی پر جہاں اس بس میں باقی زندہ لوگوں کی مدد کر رہا تھا
پلوشہ کا اچانک ہاتھ لگا تھا گرل پر اور ہاتھ پھٹ گیا ۔
اسکی کلائی سے تیزی سے خون نکلنے لگا کسی نے جان بوجھ کر اسے دھکا دیا تھا شاید بھاگ دوڑ کی وجہ سے شجر نے دور سے یہ منظر دیکھا اور ۔۔۔
چاہ کر بھی اسکے پاس نہ ا سکا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
