Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

شاپنگ کے دوران چیپس کے پیکٹس اور کولڈ کافی پیتے ہوئے وہ ہر دوکان پر جا کر اپنی پسند کی چیزیں خرید رہی تھی ۔
اور اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کتنا بل کٹے گا اور بل بھرنے والے کی اتنی پھسلی ہے بھی کہ وہ اتنا پیسہ اسپر لٹا سکے ۔۔۔۔
لیکن وہ پھر بھی خرید رہی تھی ۔۔۔
جبکہ اسی مال میں اسے پلوشہ بھی دیکھی جو جینز شرٹ دیکھ رہی تھی وہ بل پے کر کے اسکے پاس ا گئ
ہائے ڈاکٹر کیسی ہیں اپ ” اسنے پلوشہ کا شانہ تھپتھپایا ۔۔۔
یہ جانے بنا کہ اسے کوئی توجہ سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔
پلوشہ مڑی اور اسکی خوبصورت سبز آنکھوں میں دیکھا ۔
روح ” وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگی وہی ہیل شوز اور وہ ہی مخصوص حلیہ جس میں وہ بہزاد کو ایمپریس کر گئ تھی
تمھاری طبعیت کیسی ہے ” پلوشہ نے سنبھل کر پوچھا ۔
فٹ ” وہ مزے سے بولی
آئیں ہم کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں” روح نے سے افر دی جبکہ چیپس بھی اسکے آگے کر دی ۔۔ پلوشہ نے نفی میں سر ہلایا
نہیں تھینکیو مجھے جانا ہے ” پلوشہ اہستگی سے بولی اسکا دل روح کو دیکھ کر گھبرا اٹھا تھا ایسا لگا اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں کہ بہزاد اسے پسند کرے جبکہ روح کی سبز انکھوں میں ہی دیکھ کر کوئی اسپر فدا ہو سکتا تھا معلوم نہیں وہ اسکی طرح دیکھ بھی سکے گی یہ نہیں ۔۔۔۔
اوہ اچھا چلو دوکان کے باہر تک تو ساتھ چلتے ہیں ” وہ مسکرائی تو پلوشہ بھی مسکرا دی
تمھیں پتہ ہے میرے فیونسی نے مجھے کہا ہے کہ میں شاپنگ کروں تبھی میں اچھے سے ڈریسز لینے ائی ہوں “
روح اٹھلاتی ہوئی بولی پلوشہ نے حیرانگی سے اسکیطرف دیکھا
فیونسی؟؟؟؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
ہمم شجر عباس ” نام لیتے ہوئے ہی اسکا لہجہ بہت نرم اور بہت خوبصورت ہو گیا تھا۔۔۔۔
پلوشہ کی پیشانی پر دو بل ڈلے اور وہ سر ہلا گئ
تم نے دیکھے تو ہیں ” وہ ہاتھ جھاڑتی چیپس کا پیکٹ وہیں پھینکتی اسے یہ دلانے لگی ۔
ہے ہیلو یہ پیکٹ اٹھاو یہاں سے ” ایک شاپ کیپر ذرا غصے سے بولا باہر نکل کر ۔۔۔۔
اوو ہیلو تمھیں پتہ ہے میں کون ہوں ” وہ لڑنے کو تیار ہوئی تھی ۔۔۔
پرائمنیسٹر کی بیٹی بھی ہو تب بھی میری دوکان میں کوڑا نہیں کر سکتی اٹھاو اسے ” وہ بھڑکا
ایک منٹ میں اٹھا لیتی ہوں ” پلوشہ کو وہ جھگڑا بلاوجہ لگا تبھی وہ جھکی جبکہ روح سینے پر ہاتھ باندھے اسے دوکاندار کو گھورنے لگی جو بڑبڑاتا ہوا اندر چلا گیا
آئیوی تم ڈر گئ ایسو کو تو میں لڑوں اور گھسوں سے ٹھیک کر دوں ” وہ ہوا میں مکے چلاتی کھلکھلا دی ۔۔ جبکہ پلوشہ اسکی ہنسی کے ترنگ میں حیرانگی سے کھو گئ
وہ اتنی خوبصورت پھر اتنی لمبی کیسے ہو سکتی تھی ۔۔
ہمم سہی ” اسنے بس اتنا ہی کہا ڈاکٹر آپ کم بولتی ہیں ” روح بدمزاج ہوتی بولی
شاید پروفیشن کی ڈیمانڈ ہے ویسے تم کیا کرتی ہو ” اسنے سوال کیا
میں ۔۔ مجھے کسی سے بہت محبت ہے بے شمار ہائے ” وہ دل پر ہاتھ رکھ گئ جبکہ پلوشہ نے اسکی جانب دیکھا
شجر عباس ” اسنے کہا تو روح کافی کا سیپ لیتی سر ہلا گئ ۔
اچھا ۔۔۔
میرے فیونسی نے بھی مجھے شاپنگ کے لیے ہی بھیجا ہے ” کچھ چیڑتے ہوئے اسنے بھی اپنی ہینڈ کیریز دیکھائی
واو ۔۔۔” ۔۔ روح کو دیکھ کر کافی خوشی ہوئی تھی اور وہ تو ہر بات پر ہی خوش ہو جاتی تھی ۔
ویسے تمھارے فیانسی کا نام کیا یے؟؟ اسکے سوال پر پلوشہ نے بھی اسی طرح اترا کر کہا تھا
بہزاد علی شاہ ” اسکا نام لیتے ہوئے کچھ جھجھک بھی آئی کہ وہ جھوٹ بول رہی تھی لیکن وہ بول گئ
روح البتہ رک گئ
وہ تمھارے فیونسی ہیں ” وہ حیران ہوتی اہستگی سے سوال کرنے لگا
ہ۔۔ہاں کیوں ؟؟؟
پلوشہ کچھ کنفیوز سی ہوئی جبکہ روح نے ادھر ادھر دیکھا راز داری سے اسکی سمت جھکی
پلوشہ ” وہ اسکا ہاتھ تھام گئ
وہ تو اچھے آدمی نہیں ہیں تم ان سے منگنی توڑ دو وہ گندے ہیں ” وہ کافی فکری سے بتا رہی تھی
گندے کیسے وہ بہت اچھے ہیں یہ بات میں جانتی ہوں ” پلوشہ نے ذرا غصے کا اظہار کیا کہ وہ بہزاد کے بارے میں یہ کیونکر کہہ رہی تھی
ن۔۔۔نہیں وہ اچھے نہیں ہیں وہ تمھیں بیوقوف بنا رہے ہیں انھوں نے مجھے “
روح کے ابھی الفاظ پورے بھی نہیں ہوئے تھے کہ اچانک فائرنگ شروع ہو گئ
دونوں کا رنگ اڑ گیا روح پیچھے ہٹنے لگی ۔
کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھا اسکے سامنے گن تانے کھڑا تھا حالانکہ وہاں پلوشہ بھی تھی لوگوں کی بھگدڑ مچ گئ فائرنگ کی وجہ سے لوگ بھاگ رہے تھے ۔۔ پلوشہ روح کو وہیں تنہا چھوڑ پیچھے کی جانب بھاگی اور سب ادھر ادھر چھپ گئے سوائے روح کہ خوف زدہ سی نگاہوں سے وہ دل پر ہاتھ رکھے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسکے سامنے کھڑا تھا اسپر گن تان رکھی تھی اسنے روح کے سامنے گن لوڈ کی اور روح کی سانسیں الجھ گئیں ۔
وہ لمبے لمبے سانس کھینچ کر اپنی آکسیجن کو پورا کرنا چاہ رہی تھی لیکن بے سود اچانک ہی مقابل شخص کا ہاتھ کسی نے جھٹکا اور موڑا اور گردن جکڑ لی ۔۔۔
روح البتہ سانس لینا بھول چکی تھی وہ نیچے فرش پر جا کر پڑی ۔۔
پلوشہ نے وہاں مہروز کو دیکھا جو اس آدمی کو زبردستی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اور زمین پر تڑپ تڑپ کر سانسوں کی محتاج بنی روح کو دیکھا ۔۔۔۔
وہ خود غرضی دیکھا کر وہاں سے چلی جانا چاہتی تھی ۔۔
روح مر جاتی ۔۔۔ کتنا اچھا ہو جاتا بہزاد پھر بس اسکا رہتا ۔۔ اسنے اگنور کر کے قدم باہر کیطرف اٹھائے ۔۔
مہروز اس آدمی کے ساتھ گتھم گتھا تھا معلوم نہیں وہ اتنی دیر بعد کیوں آیا جبکہ وہ آئی اسی کے ساتھ تھی ۔۔۔
اس آدمی نے مہروز کو بڑی مشکل سے دھکا دیا ایک ویگن سامنے ا کر رکی اور وہ دوڑ کر اسپر سوار ہو گیا
سوار ہوتے ہی مہروز اسکے پیچھے بھاگا ضرور لیکن وہ فرار ہو چکا تھا ۔
مہروز نے پلٹ کر روح کی جانب دیکھا جس کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے
تم پاگل ہو وہ مر رہی ہے ۔۔” مہروز بت بنی پلوشہ پر دھاڑا تھا ۔۔
پلوشہ حوش میں آئی شاید اسکے دھاڑنے سے اسکے اندر کی لڑکی نے دم توڑا اور اسے محسوس ہوا کہ وہ ڈاکٹر بھی ہے ۔۔
مہروز نے اکثر اسکے پاس ان ہیلر دیکھا تھا
اسنے اسکا بیگ زمین پر الٹ دیا اور ان ہیلر اسکے لبوں سے لگا دیا
لیکن صد افسوس کے وہ اس جنگ میں بے ہوش ہو گئ تھی ۔۔
مہروز نے پلوشہ کی سمت دیکھا جو شرمندگی سے اب بھیگی انکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی مہروز نے روح کو اٹھایا اور وہ اسے وہاں سے لے کر نکلا پلوشہ بھی ساتھ ہی تھی ۔
اور اسنے اسے ایمرجنسی میں چلنے کے لیے کہا ۔۔۔
مہروز خاموش رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروز نے اسکے سامنے ایک بریسلیٹ رکھا جس پر H بنا ہوا تھا اور وہ اسے آج ہوئے واقعے کی اطلاع دینے لگا ۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ شخص روح کو مارنا کیوں چاہتا تھا
روح پر حملہ ہوا وہ خوفزدہ ہو کر سانس لینا بھول گئ اور اسکی طبعیت کافی خراب ہو گئ اگر وقت پر نہ پہنچتا تو اج ” وہ رک گیا
بہزاد کی مٹھیاں بھینچتی ہوئی اسنے دیکھی تھی بڑی واضح ۔۔۔
اسنے وہ بریسلیٹ دیکھا پھر اسکے ساتھ ایک دراز سے بریسلیٹ نکال کر رکھ دیا
اس کہانی میں کچھ ایسا ضرور ہے جس کی خبر مجھے نہیں ہے ” وہ ان دو بریسلیٹس کو دیکھتا بڑبڑایا تھا
جبکہ مہروز نے اسکی سمت دیکھا
بہزاد ۔۔۔ شجر سامنے رہتا ہے ” بہزاد نے سر اٹھایا ۔۔
یہ بات میں تمھیں بتانا چاہ رہا تھا لیکن بتا نہیں سکا ۔
کچھ ہم اپنے معملات میں پھنسے ہوئے تھے وہ کچھ دنوں سے روح کے ساتھ رہ رہا ہے ” بہزاد نے ٹیبل پر لات ماری اور کھڑا ہو گیا اسنے مہروز کو جان لیوا نگاہوں سے دیکھا اور سیدھا چلنے لگا
بہزاد رکو ” مہروز جلدی سے اسکے پیچھے لپکا
آج اسکے بھیجے میں یہ گولیاں اتار کر اسے اس دنیا سے رخصت کر کے سارے کھیلوں کا مزاہ چکھا دوں گا میں “
ریلکس بہزاد رک جاو ہم اس وقت کسی اور مشن پر ہیں” مہروز نے اسے جھنجھوڑا
ہٹو یہاں سے ” بہزاد اسے جھٹک گیا ۔
بہزاد میں تمھیں نہیں جانے دوں گا منزل منہ پر آ گئ تو تم یہ حرکتیں کرو گے دس سال کا سفر ہے بہزاد اسے ایک لمہے کے لیے برباد نہ کرو تم نے ہمیشہ دماغ کا استعمال کیا ہے یہ دل بیچ میں کہاں سے آ گیا ” ۔۔۔۔۔
مہروز نے اسے جھنجھوڑ دیا بہزاد ایسے رکا جیسے طوفان ایکدم تھم گیا ہو پلوشہ بھی چھپ کر یہ منظر دیکھ رہی تھی اسے ڈر تھا بہزاد اسپر غصہ کرے گا بہزاد نے مہروز کی سمت دیکھا اور مہروز نے اسکا بازو تھپتھپایا
بس چند دن اور اسکے بعد ایسا دھمکا ہو گا ۔۔
کہ یہ سب کتے کی موت ماریں گے ” مہروز نے اسے تسلی دی جبکہ بہزاد بازو جھٹک کر اندر چلا گیا
پلوشہ بہت شرمندہ تھی آج جو اسنے کیا وہ بہت غلط تھا اسنے روح کو مارنے کی کوشش کی تھی اسے یقین ہو گیا تھا یہ روح وہی ہے
جو بہزاد کے بازو پر ایک نام کی صورت عرصے سے ہے تبھی بہزاد اسکیطرف کھینچ رہا ہے
اسکی اٹریکشن بہزاد کو آج جذباتی کر گئ جو پچھلے دس سال سے جذبات سے دور تھا ۔
پلوشہ کے پاس افسوس کرنے کے لیے کافی کچھ تھا
لیکن ہمت نہیں ہاری تھی روح تو شجر سے محبت کرتی تھی ۔۔۔
وہ کچھ سوچنے لگی تھی اگر وہ روح سے یہ بات کرے تو یقینا کچھ ہو سکتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آئے روز تم اپنی طبعیت کا یہ حال رکھ کر روز ہار کر گھر لوٹ آؤ گی تو میرا مشن سالہ سال بھی پورا نہیں ہو گا ۔
تمھارے اندر وہ ٹیلینٹ ہی نہیں ہے جو ایک آرمی لیڈی میں ہونا چاہیے ۔۔۔
مجھے لگتا ہے میرا انتخاب نہایت فضول تھا ” وہ اسپر بھڑک رہا تھا روح کی انکھوں میں پانی کی لکیر سی بن گئ
ڈونٹ ٹرائے ٹو کرائے روح یہ چیزیں مجھ پر اثر نہیں کریں گی ” وہ برہمی سے بولا
روح نے آنسو جلدی سے صاف کر لیے
مجھے کچھ علم نہیں روح تمھاری طبعیت ٹھیک ہوتی ہے یہ نہیں کل مجھے تم اسکے پاس چاہیے ہو اور میں جا رہا ہوں یہاں سے مجھے کچھ اہم کام ہیں
کچھ دنوں تک میں لوٹو تو خالی ہاتھ یہ اپنی سانسیں ہی سنبھلتی ہوئی نہ دیکھنا مجھے ورنہ ” وہ گھورنے لگا روح نے سر ہلا دیا ۔
جبکہ شجر کو کچھ یاد آیا
یہ سب کیا ہے روح تم نے پانچ لکھ کی شاپنگ کی ہے دیکھو بات سنو میری ۔۔۔۔
ہاں میں تم سے کام کراتا ہوں اور تمھیں اپنا کارڈ بھی دیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں حرام کا پیسہ ہے میرا ۔۔
میرا کارڈ مجھے واپس کرو اور اس شاپنگ کو کل واپس کرا دینا “
وہ سختی سے غصہ کرتا بولا اور سائیڈ پر پڑا کارڈ اٹھا لیا
روح اسے دیکھتی رہی یہ سانسوں کی کمی اسے بے بسی لگی تھی اپنی سب سے بڑی ۔۔
اسنے یہ نہیں پوچھا تمھاری طبعیت کو ہوا کیا تھا ۔۔
مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی کسی نے ” روح اہستگی سے بولی وہ اپنے آنسو بار بار روک رہی تھی
آہ ” شجر ہنس پڑا
نہایت ڈرامے باز ہوتی جا رہی ہو تم جسے دنیا میں اور کوئی ہے ہی نہیں سوائے تمھارے جس پر حملہ کیا جائے تم پر حملہ کوئی کیونکر کرے گا ۔۔۔
وہ سر جھٹک کر باہر نکل گیا اسے روح کی بات فضول لگ رہی تھی جبکہ روح اسکی پشت دیکھتی رہ گئ
شاید وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اسے تو شجر کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا پھر اسپر وہ شخص گن تانے کیوں کھڑا تھا اور مہروز نہ اتا تو وہ اسے جان سے مار دیتا ۔
روح کی سمجھ سے سب باہر ہو گیا تھا لیکن شجر کے رویے پر دل دکھ سا گیا
اب وہ اسے خوش کرنے والے سارے کام کرے گی ۔۔ وہ سوچ چکی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ٹھیک ہونے میں پورے دو دن لگے اور دو دن بعد جب وہ تیار ہوئی تو اسنے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا
ناٹ بیڈ ” وہ قیمض شلوار میں تھی اسنے وہ دوپٹہ گلے میں لیا ہلکے بھورے بالوں کو سیٹ کر کے اسنے گاگلز ان بالوں میں اڑاتی اور ہیل شوز کی طرف بڑھی لیکن اسے اچھا نہیں لگا کہ وہ ہیل شوز شلوار سوٹ کے نیچے پہنے تبھی سیمپل جوتا پہنتی وہ وہ مطمئین سی گھر سے نکلی ۔۔
سامنے ہی تو جانا تھا اسنے سیدھا جا کر بہزاد شاہ کا دروازہ پیٹ ڈالا ۔۔۔۔
اسی چوکیدار نے کھڑی سے اپنی بے زار شکل دیکھائی
بہزاد علی شاہ سے کہیں روح آئی ہے ” وہ سکون سے بولی ۔۔
جبکہ چوکیدار نے اسکے لیے بنا کچھ کہے دروازہ کھول دیا وہ جو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی گرتی گرتی بچی
بدتمیز ” اسنے ذرا گھور کر کہا اور اندر آ گئ
وہ اینٹ اور بجری کی کھردری روش پر سے گزر کر دو سٹیپ چڑھ کر اندر داخل ہو گئ ۔
جی میم ” اس کے سامنے ایک پری سی لڑکی ا گئ ۔۔۔ اور سوال کرنے لگی
میرا نام روح ہے بہزاد “
اوہ روح میم ۔۔۔۔” اس لڑکی نے ایکدم چلا کر کہا اور جھکی اور اسکے پاوں چھونے لگی کہ روح چلا کر دور ہوئی کیونکہ وہ اسکے قدموں میں سے سفید بلی اٹھا چکی تھی
روح میم آپ پر سر خفا ہوں گے آپ نے کھانا کھایا ہے ” وہ بلی سے بات کر رہی تھی روح کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
روح ” وہ انگلی کے اشارے سے اس بلی کی جانب اشارہ کرنے لگی ۔۔۔
جی یہ روح ہیں سر کی پالتو بلی
سر ان سے بہت پیار کرتے ہیں اپ اپنا نام بتا رہی تھی “
وہ لڑکی بلی کو پیار کرتی ہوئی بولی جبکہ روح منہ بنا گیا ایک تو اسے پالتو جانوروں سے کوئی خاص چیڑ تھی بلی کتے ۔۔ اسے ڈر لگتا تھا ان سب سے اوپر سے بلی کا نام روح تھا وہ اپنا بتاتی تو وہ لڑکی ہنس پڑتی
جی میم ” اس لڑکی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا
آ آ وہ میں ۔۔ میرا نام آہ ۔۔ شجر مسز شجر ” ۔
وہ کچھ سنبھل کر کانفیڈینٹ سے بولی کہ یہ اسکا خوابی نام تھا اور وہ لڑکی مسکرا دی
اوکے مسز شجر اپکو کس سے ملنا ہے “
ارے بھی بہزاد علی شاہ سے ” وہ لڑکی اسکے چیرنے پر حیران ہوئی
اس ۔۔ اس بلی کو تو اتاریں آپ مجھے گھن آتی ہے “
میم آپ ایسا نہیں کہہ سکتی روح میم اس گھر کی مالکن ہیں “
واہ” روح تالی بجا کر اس لڑکی کو ابھی سو باتیں سنتی کہ مہروز دیکھائی دیا
ارے روح تم یہاں اور وہ بھی دیسی سٹائل میں واہ بھئ لڑکی ہر جگہ کمال دیکھا دیتی ہو کیسی طبعیت ہے تمھاری اب ” اسنے چھٹتے ہی کئ سوال کر دیے
آپکا نام روح ہے ” وہ لڑکی ہنسنے لگی
روح مچل ہی گئ
روح انسانوں کا نام ہوتا ہے ان فضول جانوروں کا نہیں اور اور تم تم ایسے نہیں ہنس سکتی مجھ پر ” وہ پاوں پٹخ گئ
مہروز ہنسنے لگا ہاں ایلی ہماری مالکن کا نام بھی روح ہے “
تم بھی ہنس رہے ہو ” مہروز کو وہ بولی
اچھا دفع کرو تم مجھے یہ بتاو یہ کیا ہے “
سٹائل ” روح لمہوں میں بھل گئ
وہ تو دکھ رہا ہے نہ ہیل کی ٹک ٹک نہ ہی ۔۔۔ کچھ اور ۔۔۔
لگ نہیں رہا روح آئی ہے “
مہروز نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے کہا تو روح خوش ہو گئ
بال جھٹکے
کیسی لگ رہی ہوں ” وہ اسے گھوم گھوم کر دیکھانے لگی
پرفیکٹ ” مہروز بھی اسکی تعریفوں میں لگا ہوا تھا
یہ کیا ہو رہا ہے ” ایک کڑک آواز پر دونوں سیدھے ہو گئے
بہزاد نے آج اسے کسی اور حلیے میں دیکھا پیشانی پر لاتعداد بل پڑ گئے اور روح نے بھی اسے دیکھا
روح تم سے ملنے آئی ہے “
میری روح کو اوپر بھیجو اور اسکو باہر نکال دو ” وہ آپکی بلی کیطرف اشارہ کرتا بولا
روح اس بے عزتی پر مچل ہی گئ ۔۔
آپ نے مجھے بلایا تھا ” وہ نیچے سے ہی بولی
ہاں بلایا تھا لیکن دس گز کے لباس میں نہیں ” کہہ کر وہ اپنی بلی کو بازوں میں بھر کر اندر چلا گیا
جبکہ روح نے مہروز کو دیکھا جو قہقہہ روک رہا تھا اور بہزاد کے جاتے ہی وہ لوٹ پوٹ ہو گیا
گھٹیا گندی نظر کا ادمی ” روح پاوں پٹختی جانے لگی تبھی پلوشہ بھی ا گئ
تمھارا فینسی دوسروں کی بیویوں پر گندی نگاہ رکھتا ہے گندا اپنی ہے چھوڑ دو اسے ” وہ پلوشہ پر چیخی اور باہر نکل گئ
مہروز ہنس رہا تھا جبکہ پلوشہ خاموشی سے روح کو اس لباس میں بھی حسین دیکھ سکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں بعد وہ اپنا غصہ کم کرتی پرانے حلیے میں اسکی دہلیز پر تھی
ہیل کی ٹک ٹک پر مہروز کے ساتھ نیچے اترتے بہزاد نے اسکی جانب دیکھا ۔
اور بلیو پینٹ اور بلیو ہی شرٹ میں وہ بلکل حسین سفید گلابی سے رنگ کی لڑکی اسے خود کو دیکھنے پر مجبور کر گئ تھی اسکے دودھیا پاؤں ہیل میں جتنے حسین لگ رہے تھے اتنے تو اج تک کسی کے نہیں لگے ۔۔۔۔
وہ اسکے گھورتے رہنے پر چیڑ کر منہ پھیر گئ
مہروز مسکراہٹ ضبط کرتا وہاں سے چلا گیا اور رفتہ رفتہ حال خالی ہو گیا کہ وہاں کے ملازم بھی نکل گئے اور مہروز بھی صرف روح رہ گئ تھی
اتنی نکھرا کس بات کا ہے کام کرنے آئ ہو اور نکھرا تمھارا ڈالر سے بھی زیادہ مہنگا ہے ” وہ سیگریٹ کا کش لیتا بولا اور سیڑھیاں اترتا نیچے آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا ذرا پھیل کر روح اسکو سینے پر ہاتھ باندھے دیکھ رہی تھی
اتنا غصہ “
بہزاد نے سیگریٹ لبوں سے نکال کر ایش ٹرے پر چھڑکیں
آپ ادھر ادھر کی ساری فضول باتیں کرتے ہیں سوائے کام کی مجھے کام کیا کرنا ہے ” وہ مدعے پر ائی
اوکے کام کی بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے کچھ پرابلمز ہیں وہ سولو کر لیں ” وہ دوبارہ کش بھرتا ایش ٹرے میں راکھ چھڑک گیا
روح سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی
میرے ساتھ کم کرنے کے لیے تمھارے کچھ ٹیسٹ ہوں گے اگر ان میں کامیاب ہو گی تو ہم تمھیں غدار نہیں سمجھیں گے ورنہ تم زندہ یہاں سے نہیں لوٹو گی ” اسنے بندوق نکال کر اسکے سامنے رکھ دی
روح کا چہرہ پھیکا پڑنے لگا
ک۔۔۔۔کیسے ٹیسٹ ” وہ سمجھی نہیں تھی ۔
سہم زیادہ گئ تھی ۔۔
سمپل ہیں ” وہ سکون سے اسکی پریشان نگاہیں دیکھنے لگا
اگر میں انکار کر دوں گی تو یہ بزدل سمجھے گا مجھے اگر غصہ کر کے چلی جاؤں تو شجر کو کیا رپورٹ دوں گی جبکہ اس طرح کی کئ سوچیں اسکے ذہن میں گھوم رہیں تھیں لیکن وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی
ٹیسٹ بتائیں “
اللّٰہ کا نام لے کر اسنے کہہ دیا بہزاد سر ہلانے لگا
کیا کر لیتی ہو “
سب کچھ “
اچھا ” اسکا ڈیمپل نمایاں ہوا روح کو غصہ چڑھ رہا تھا
بیوقوف اچھا بناتی ہو ” اسنے کہا جبکہ روح سٹپٹا گئ
کیا مطلب میں نے کس کو بیوقوف بنایا ہے ” وہ بگڑی
بہزاد کا ڈیمپل پھر سے دیکھنے لگا جبکہ روح کے لیے اس وقت اسکے سامنے کھڑا رہنا سب سے بڑی غصے کی بات تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔