No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
بلنکیٹ میں بیٹھی وہ اس وقت یہ سوچ رہی تھی کہ اسے نیند کیوں نہیں آ رہی اسنے موبائل اٹھا کر دیکھا شجر نے کوئ میسیج نہیں کیا تھا وہ تھا تو ایسا ہی ۔۔ لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی جو سنبھالنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔۔
اسے فوجی بچپن سے ہی بہت پسند تھے لیکن ایک یتیم خانے میں رہنے والی لڑکی کی بھلا ولیو ہو سکتی تھی کوئ پھر اس کی دکھ بھری زندگی میں اچانک شجر ا گیا ۔
وہ ہفتے بھر میں اسے چاہنے لگی ہاں سننے میں کافی عجیب تھا یہ کہ اب وہ اسے چاہتی ہے لیکن کتنا مزے دار بھی تھا کہ بس ایک ہفتے میں کسی کو دیوانہ بنا لیا تھا اسنے ۔۔ وہ ہینڈسم سا فوجی معلوم نہیں اسکے بارے میں کیسے جانتا تھا اسے پرواہ نہیں تھی بس ۔ وہ ایا اور زندگی تبدیل ہو گئ اسے اسکی خواہش کے مطابق چیزیں ملنے لگیں اور پھر اسنے اسکے سامنے ایک نام لیا معلوم نہیں یہ نام جانا پہچانا سا لگا لیکن یادداشت اتنی مظبوط کبھی نہیں تھی کہ وہ یاد کر پاتی اور طبعیت میں لاپرواہی اتنی تھی کہ اسنے صرف سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا سوچا سمھجا اور بس پسند کر لیا
اسنے جیسے شاپینگ چاہی شجر نے اسے ویسی شاپینگ کرائ اور پھر یہاں لے ایا
مہنگا موبائل ہاتھ میں دلایا جس میں وہ ہزاروں تصویریں لے سکتی تھی اور پھر اسنے اسے ایک مقصد بتایا
بہزاد علی شاہ ۔۔۔
اور پھر روح کو شجر نے ۔۔ ایک سیکریٹ کام میں لگا دیا ۔۔
اور روح بہزاد کے بارے سب سن کر بہت زیادہ غصے میں اگئ کیسا انسان تھا جو انسانیت کو ختم کر رہا تھا
اسے پتہ چلا کہ ملک میں ہنگامہ آرائی کے پیچھے صرف ایک شخص ہے اور وہ بہزاد علی شاہ ہے روح کے دل میں اسکے لیے نفرت یقینی عمل تھا ۔
کہ کوئ بھی شخص کسی بھی دہشت گرد سے نفرت کرنے کے لیے تیار رہتا ہے شجر نے اسے سب سمھجایا اور دو ہفتوں میں وہ سب سیکھ اور سمھجہ گئ اور شجر سے بھی پیار کرنے لگی جس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئ تھی
شجر نے اسے آنکھیں پہاڑ کر دیکھا تھا جب روح نے سیدھا ائ لو یو اسکے منہ پر مارا ۔
وہ ایک لفظ بھی بول نہ سکا لیکن اسے کھیل کھیلنے آ گئے تھے شاید
۔
اسے گرین سگنل دیکھا کر اسنے روح سے کام کرانے کی ٹھان لی تھی ۔
روح کو لگا تھا وہ اس سے محبت کرنے لگ جائے گا ۔
وہ بیزار سی ہوےی تھوڑا سا ان ہیل کرتی اٹھی آج ڈارک گرین نائیٹی میں تھی جو بلکل ہلکی سی تھی اور اسکی تھائی پر آ کر رک جاتی تھی سفید دودھیا ٹانگیں کس کا ایمان خراب نہیں کر سکتی تھیں وہ چاند کی حسین روشنی کو محسوس کرتی باہر نکلی
اور ایک دم چونکی وہ شاید کرسی پر بیٹھا تھا اسکے ہاتھ میں کوئ چیز تھی اور اسنے وہ لبوں سے لگائ اور اسکے بعد ایک سحر بھری جادوئی سے بے حد حسین دھن چاروں اطراف میں پھیلنے لگی
وہ مدہوش سی کھڑی اس دھن کو سننے لگی
دل کیا ساری عمر لگ جائے وہ اس دھن کے شور سے کبھی آزاد نہ ہو ۔۔
دھن آدھی رات اور چاندنی میں اسکا دل دھڑکا رہی تھی
وہ آنکھیں بند کر گیا اور بلکل کل کیطرح گال کے نیچے ہاتھ رکھ کر وہ ٹانگیں سکیڑ کر کھڑی تھی
ہوا سے اسکے بال اڑ رہے تھے لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی اور ۔۔۔
وہ اس دھن کو اپنے دل میں اترتا محسوس کر رہی تھی
پھر چاند کی روشنی اسکے چہرے پر پڑتی اسکے حسن کو چار چاند لگ رہی تھی
روز بہزاد کے سامنے قیامت سا روپ لیے کھڑی ہو جاتی تھی
اچانک دھن رک گئ
وہ چند لمہے اس دھن کے سحر میں جکڑ رہی اور پھر اسنے آنکھیں کھولیں تو عین بہزاد کی انکھوں سے جا کر ملیں
اسکی سبز آنکھیں میں خوف سا اترا اور جلدی سے چلا کر وہ سیدھی ہوئ ۔۔۔
بہزاد سنجیدگی سے اسے سمٹ کی دیوار کو پکڑے ذرا جھک کر اسے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا
منظر دیکھنے لائق ہو تو کون نہیں دیکھتا
روح اسکی نظروں سے پریشان ہو گئ ایک منٹ کے لیے پیچھے دیکھا اور پھر اسے یاد ایا اسکا کام بہزاد کو بہکانہ اسکے گھر تک اترنا تھا ۔
اپنے اندر کے کانفیڈینس کو اسنے ہر ممکنہ طریقے سے اکھٹا کیا اور
عین اسکے سامنے ا گئ
اب بس ان دونوں کے درمیان بیچ کی گلی کا فرق تھا
روح نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی نائیٹی کا گاؤں ہلکا سا ہٹایا کہ اسکے شانے صاف دیکھائ دینے لگے اور بالوں کو ایکطرف کر لے اسنے ۔۔۔ بہزاد کی جانب دیکھا بہزاد کی نگاہ اسکے ہر عمل کے ساتھ اسکے وجود پر پورے حق سے منڈلا رہی تھی
روح کا دل اندر ہی اندر کانپ رہا تھا لیکن لبوں پر وہ بے فضول کی مسکان سجانا چاہتی تھی ۔۔
اسکی اس حرکت پر بہزاد نے آنکھوں کو ایک دلکش سی جنبش دی ۔اور سر ہلایا
اس گفتگو میں الفاظ کے علاوہ باقی سب کچھ تھا ۔
وہ اسے بہکانے کے ارادے باندھے کھڑی تھی اب معلوم نہیں سامنے والا بہکنا چاہتا تھا یہ نہیں ۔
بہزاد نے ایک گھیرہ سانس بھرا ۔ اور اپنی پیشانی کو اسنے انگوٹھے اور انگلی مدد سے دبایا تھا روح کو لگا وہ کامیاب ہو گی یے اب وہ اسے بس انگلی کے اشارے سے اپنے پاس بلا لے گا ۔
اسکا پہلا مقصد اسکے گھر میں اترنا جو تھا وہ مسکرا رہی تھی
اور اچانک پمہوں میں اسکی مسکراہٹ دم توڑ گئ جب بہزاد نے اپنے ٹرواز میں سے اپنی گن نکالی اور بنا ہچھ سوچے سمجھے اسنے روح کے بازو پر گولی چلا دی
اسکی چیخ اس حسین منظر میں گونجی اور ۔
وہ ٹرپ اٹھی ۔
بہزاد نے گن پھینکی اور وہں سے چلا گیا ۔
وہ وہ پی شانہ تھا جو وہ نکال کر اسے دیکھانے کے چکروں میں تھی وہ بالکونی میں پڑی تڑپ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ سرد مہری سے وہاں سے جا چکا تھا ۔۔
روح بڑی طرح رو دی اسے تکلیف ہو رہی تھی بہت زیادہ زندگی کی پہلی گولی کھائ تھی ۔۔
کیسے ممکن تھا کہ اس جیسی لڑکی اس گولی کو ہضم کر پاتی ۔۔۔
وہ تو بس اسے لالچ دے رہی تھی اپنا اور اسنے گولی ہی چلا دی ۔۔
اسکو سا سیں نہیں ا رہی تھی اچانک سنے اپنے گھر میں
کچھ لوگوں کو اترتے دیکھا اور شاید سانسیں بند ہونے سے پہلے کچھ لوگوں نے اسے ایک سٹریچر نما چیز پر ڈالا تھا اور اسکے بعد اسے کچھ خبر نہیں تھی یہ ملاقات روح خو کافی مہنگی ثابت ہوئ تھی کہ جس درد سے آشنائی نہیں تھی وہ بھی مل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ سر” ۔ شجر نے اندر داخل ہو کر ان دونوں کو سلوٹ کیا اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔
ٹھیک ہو تم” ۔ ہارون نے اس سے سوال کیا
وی سر ہلا گیا ۔۔۔
ہارون نے ایک سانس کھینچا اور ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارا
بہزاد زندہ ہے” ۔
وہ جیسے ایک ایک لفظ پر زور سے کر سوال کر رہا تھا
جی سر” ۔ شجر سنجیدگی سے بولا
تم نے کہا تھا وہ مڑ گیا ہے” ۔ضیا نے دانت پیسے اور گھورتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔
شجر کی انکھوں میں دیکھا ۔
شجر کی انکھون میں کچھ نہیں تھا
سر مجھے ایس کیوں لگ رہا ہے اپ لوگ پرسنل گرج پر اتر گئے ہیں بہزاد علی شاہ سے” ۔
تو غدار کو سینے سے لگائیں” ہارون دھاڑا
شجر کچھ نہیں بولا
مجھے بہزاد کی لاش چاہیے شجر ۔۔ میں اپنے ملک ہو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا ” ۔
ہارون نے مٹھیاں بھینچ کر کہا
شجر نے سر ہلایا
آپ فکر نہ کریں بہزاد علی شاہ زندہ نہیں بچے گا ۔
کیونکہ پہلے اسکے پیچھے آپ دونوں تھے اب اسکے پیچھے اسی کا سایہ ہے ” ۔
شجر کی بات میں جو گھیرا تھی ہارون نے سر ہلایا
۔جسے یقین ہے تم اپنے ملک کے لیے کچھ بھی کرو گے ور ہمیں تمھارے جیسے نوجوانوں کی ہی ضرورت ہے خیر ۔۔۔
ضیا اور میں کچھ دنوں کی چھٹیوں پر ہیں ائ ہوپ تم سب سمبھال لو گے” ۔
ہارون نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا تو ۔۔ شجر نے سر ہلایا
سر آج تک بھی اپکو شکایت کو موقع نہیں دی آئندہ بھی نہیں دوں گا ” ۔
دیٹس لائک میجر شجر عباس” ۔
ہارون بولا ضیا بھی مسکرا دیا
شجر بنا کچھ کہے ایک قدم پیچھے لے گیا اور وہاں سے نکل گیا
جبکہ دوسری طرف ہارون اور ضیا نے ایک دوسرے کو دیکھا
بہزاد کو مرنا ہو گا ۔ اور اسے مارنا ہی ہو گا خطرہ ٹلا نہیں ابھی” ۔ہارون سر پکڑ کر بیٹھ گیا جبکہ ضیا نے غصے سے سکی جانب دیکھا
لیکن بنا بولے وہ وہاں سے نکل گیا تھا
دوسری طرف مبین خان پر سارا پریشر تھا کہ وہ اتنے حساس ایریے میں کسی ایرے غیرے کق کیسی رہنے کی اجازت دی جا سکتی تھی ۔
مبین خان نے ہارون کی طرف دیکھا
سر آپ نے کہا تھا تم اپنے فیصلے خود لو اپنی اپنی رائٹارمنٹ کو انجوائے کریں یہ فیصلے مجھ پر چھوڑ دیں” ۔
سنجیدگی سے کہا کر مبین خان نے ہارون کو سراسر اگنور کر دیا جبکہ ہارون اسے دیکھتا رہ گیا
اسک یہ دیکھنا عام بات نہیں تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
نام کیا ہے تمھارا ” پلوشہ نے ۔ اسکے جانب دیکھا جس نے رو رو کر پورے ہاسپٹل کی نام میں دم دے دیا تھا
روح” ناک ٹشو سے صاف کرتی وہ ہچکی بھرتی بولی
پورا نام” ۔
ہلوشہ نے اسکے رونے کو سراسر اگنور کیا
روح خالی روح ” ۔
وہ چیڑ کر بولی
عجیب نام ہے خالی روح” ۔
پلوشہ نے اسکی جانب دیکھا
مذاق اپکو سنجیدگی رہا ہو گا ڈاکٹر صاحبہ میرے درد ہو رہا ہے میں میں جان سے مار دوں گی اس بہزاد کو ” ۔
پلوشہ نے چونک کر سر اٹھایا
بہزاد” ۔اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔
یہ گولی تمھیں بہزاد نے ماری ہے” ۔
وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی
نہیں مجھے مزاہ ا رہا تھا خود اپنے مار لی میں نے” ۔
اسنے ٹشو پھینکا
پلوشہ کی پیشانی پر فکرمند سی لکیریں تھیں
کیوں مارا ” ۔
یقینا تم کچھ کر رہی ہو گی” ۔
پلوشہ وثوق سے بولی
جی نہیں مجھے بللل شوق نہیں ہے اسے اپنی باڈی دیکھانے کا “” ۔
وہ سر جھٹک کر منہ پھلائے کر بیٹھ گئ
پلوشہ نے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلانے لگی
اور تم کیوں بہزاد کو اپنی باڈی دیکھا رہی تھی ” ۔ اب کہ سوال ذرا غصے سے کیا گیا تھا ۔۔۔
وہ” ۔
وہ ابھی بکر بکر بولتی کہ کمرے میں شجر عباس داخل ہو گیا ۔۔
اور روح کا رونا شروع ہو گیا
اسنے روح کی جانب پھر پلوشہ کی جانب دیکھا
پلوشہ اسے گھورنے لگی تھی ۔۔
اور روح محترمہ نکلوں پر ہاتھ رکھ گئ
ٹھیک ہو تم” ۔ اسنے روح سے پوچھا
نہیں بہت درد ہے” ۔
وہ بولی تو لہجہ کافی معصوم تھا پلوشہ ان دونوں کو دیکھنے لگی ۔۔۔
ڈاکٹر کب تک ٹھیک ہو جائیں گی روح” ۔
روح کی کثیر کر رہا تھا وہ آدھا دکھ تو ڈھل ہی گیا تھا وہ مسکرانے لگی پولشہ نے دانت پیس کر روح کو دیکھا
پتہ نہیں” ۔
وہ بے رخی سے کہہ کر ۔وہاں سے باہر نکل گئ
شجر بے ساختہ اسکے پیچھے بڑھا
پلوشہ” ۔
وہ آگے آگے تیز تیز قدم بھرنے لگی
پلوشہ” ۔ شجر نے اسکا ہاتھ تھام لیا
ہاتھ چھوڑیں میرا “
پلوشہ نے غصے سے اگ بگولہ ہوتے اپنا ہاتھ چھڑایا
اوکے ریلکس ” ۔
شجر ایک قدم دور ہوا
شیٹ اپ” ۔
وہ بھڑکی
اپنے کام سے کام رکھیں آپ ” ۔
آنکھیں نکال کر کہتی وہ وہاں سے جانے لگی
تم کیوں اکھڑ رہی ہو اتنا مجھ سے ۔۔ مانتا ہوں ہم دونوں خے دیاں دس سال حائل ہیں مگر میں اپنے کام میں”
واہ” ۔
پلوشہ طنزیہ مسکرائ
واہ شجر عباس اپکو یہ وہم ا رہے ہیں کہ میں منتظر ےھی آپکی اور آپ سے ناراض ہوں کہ آپ ہم دونوں کے بیچ دس سال کا عرصہ لے آئے جس میں کیا کچھ مہین ہوا تو میری جوتی کی ناک پر آپکی یہ ساری بکواس ” ۔
آپ ایک قاتل ہیں اور قاتل کے منہ لینا بھی پسند نہیں کرتی میں
نانی کو مار دیا اپ نے ۔ آپ نے بہزاد علی شاہ اپنے دوست کو تباہ کر دیا اور آپ کو یہ وہم ا رہا ہے بلکہ شکر یے آپ مجھے مل گئے
خلع کا کیس دائیر کر رہی ہوں پ پر بیٹھ ہو گا مجھے طلاق دے دیں ۔
تاکہ مین بہزاد سے شادی کر لوں کیونکہ یہ تو آپ جانتے ہیں بہزاد سے اندھا عشق” ۔
ابھی اسکی بات بھی مکمل نہیں ہوئ تھی کہ شجر کا ہاتھ اٹھا تھا اسپر ۔۔۔
آئندہ ۔۔ بہزاد سے عشق کی داستان نہ سنانا مجھے ۔۔
اور جو تم نہیں جانتی اسے لے کر جنگ نہ کھڑی کرو کیونکہ پیچھلے دس سال سے کسی ایک بھی جنگ کو نہیں یارا میں تو تمھیں کیسے ہار جاو گا ۔
اور بہزاد سے محبت وہ اس قابل ہے بھی غدار ۔۔۔ ہزاروں جانوں کا قتل ہے اسپر ۔۔۔۔
وہ اس سے کئ گناہ زیادہ ڈیزرو کرتا ہے مس پلوشہ شجر عباس اور تم میرے نام کی حقیقت کو یاد رکھو ۔۔
بلکہ تم کیا یاد رکھو گئ میں تمھیں چھے سے خود یاد دلا گا ” سختی سے کہتا وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا پلٹ گیا جبکہ پلوشہ کے چہرہ سن ہو گیا تھا اسکی آنکھوں سے پانی ٹپکنے لگا اور ۔۔
اسنے غصے سے ساری چیزیں وہیں پھینک دیں ۔
اسنے ایک گاڑی بک کی
اور سیدھا اسکی راہ بہزاد کا گھر تھا ۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیم پلوشہ آئیں ہیں” ۔
۔بہزاد نے سیگریٹ کی راخ ایش ٹرے میں میں چھڑک دی اور سامنے اپنے گارڈ کو دیکھا جو مکمل سیاہ لباس میں تھا بلیک جینز اور بلیک ہی ٹی شرٹ پر ماسک لگا کر گن ہاتھ میں تھامے وہ بہزاد کو دیکھ رہا تھا
