No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
وہ ہار مان گئ اور اسکے سامنے سر جھکا گئ اپنی محبت کے اظہار کے لیے شاید بہزاد نے ایک نگاہ اسے دیکھا ۔
اور اسکی شرٹ کی سمت ہاتھ بڑھائے روح سانس اندر کھینچ گئ
جبکہ نگاہوں کی لرزش بتا رہی تھی لمس جان لیوا ہونے والا ہے بہزاد نے اسکی شرٹ کا اوپری بٹن کھولا
اور اپنے انگوٹھے کی مدد سے اسکے دل کے مقام پر ایک پنچ لی اچانک سرخ سا نشان واد ہوا وہ مسکرا دیا
جبکہ روح بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
ایسا ہی ہوتا ہے دھوکا اور بے وفائی ہو جائے تو تکلیف یقینی ہے جو اس وقت تمھاری آنکھوں میں گھوم رہی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم تمھارے جذبات اس وقت سچے ہیں میری بے یقینی تمھیں مار رہی ہے لیکن میں کیا کروں میں کیا کر سکتا ہوں
تم نے اچھا نہیں کیا تم مجھے اب بھی دھوکا دے رہی ہو مجھے خبر نہیں تبھی تم پر یقین کرنا نہ ممکن ہے سچا پیار نہیں ضرورت ہی سہی ۔۔۔
تم میرے نزدیک ہو گی آج رات ” اسنے اسے اپنی سمت کھینچا اور اسکی کمر میں بازو سختی سے حائل کر دیا اسکا بھاری ورزشی بازو روح کی کمر پر جکڑ مظبوط کیے ہوئے تھا روح نے دکھے دل سے اس سے دور ہونا چاہا
کیا ہوا روح تم بھاگنا چاہتی ہو ” وہ اسے ٹریپ کرنے لگا روح نے کوشش ترک کر دی
ن۔۔۔نہیں ” وہ اہستگی سے بولی انداز میں بے بسی تھی اور اسکی بے رحمی پر دل شکستہ سی وہ اسکے بازوؤں میں ہی رہ گئ
م۔۔۔مجھے ان ہیلر یوز کرنا ہے ” وہ بولی تو بہزاد نے اسے آزاد کر لیا
اب میرے ہونٹ اس قابل بھی نہیں کہ ان سے سانس نہ لیا جائے ” وہ ہر بات کو غلط معنوں میں لے کر اسے گھوما چکا تھا
روح نے ایک نگاہ اسپر ڈالی اور پھر صوفے پر پڑے اپنے ان ہیلر
پر
مجھے سانس لینے میں مسلہ ہو رہا ہے ” وہ بولی جبکہ بہزاد نے اپنے لب وا کیے اور اسکے نزدیک کر دیے وہ کچھ نہیں بولا روح کی پلکیں جھجھک کر جھکنے لگی
بہزاد اسے اب بھی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا
روح کا منتظر تھا جبکہ روح نے ایک سانس کھینچی اور اسکے گال پر اپنا کانپتی انگلیاں رکھیں اور کچھ آگے بڑھی اسکے وجود پر
بہزاد کی قربت کا بوجھ بڑھ رہا تھا
اسکی آنکھوں کے پردوں پر ایک بھاری پن سا تھا جس کے باعث اسکی پلکوں کی چلمن غیر غیر جا رہی تھی تبھی وہ اسکی جانب دیکھ نہیں پا رہی تھی
اسکا کانپتا وجود گواہ تھا وہ اسکے لبوں کو چھوتے چھوتے مر ہی جائے گی تبھی وہ دور ہٹتی کہ بہزاد نے اسکے ہونٹوں کو اپنی قید میں لے لیا
نرم گداز لبوں کا لمس اسے دیوانہ کر رہا تھا دھڑکنوں کا ارتعاش بہت تھا روح پھر نرمی سے اسکی گردن میں اپنی غوری بانہیں حائل کر گئ جبکہ بہزاد کے ہاتھ اسکے وجود پر سستی سے حرکت کر رہے تھے
روح نے ایکدم اپنا چہرہ اس سے دور کیا اور بہزاد اسکی نازک گردن کی جلد پر جھک گیا ۔۔۔
اپنے دانتوں سے اسنے اسکی گردن پر ایک تکلیف دہ سا نشان بنایا تھا اور آنکھوں میں حکم بھرے اسے دیکھنے لگا جو لبوں کو دانتوں میں دبائے اسکے رحم و کرم پر تھی
وہ جانتا تھا وہ اپنی محبت کا ثبوت دے رہی ہے ۔
بہزاد نے اسکے گالوں کو چھوا اسکی گردن پر جا بجا پیار کیا اور اسکی شرٹ کو اسکے شولڈرز سے نیچے کر دیا
ب۔بہزاد ” روح کے وجود میں بے چینی سے رواں تھی ۔
کچھ یہی بے چینی جس کا مقابلہ شاید آج تک کوئی نہ کر سکا ہو
اسکا رواں رواں وجود کا بہزاد کی جانب متوجہ تھا اور بہزاد اسکی کشش میں بیگانہ سا اسے بازوں میں اٹھا گیا
یعنی وہ لمہے قریب تھے وہ لمحے ا گئے تھے جو دو وجودوں کو بے چین کرنے کی خود میں طاقت رکھتے تھے ۔
روح پریشان سی اسکے چہرے کی چٹان سی سنجیدگی کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسے کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہ ہو بہزاد نے اسے بیڈ پر لٹایا ایک گھیری خاموشی تھی چارو سو ہر طرف ایک طویل خاموشی اور ان کے دلوں کی دھڑکنوں کا شور روح کی بے ترتیب سی شرٹ اور اس میں سے چھلکتا اسکا نسوانی حسن وہ پاگل ہو جانے کے نزدیک تھا یہ وہ آج پاگل ہو رہا تھا اگر وہ آج اس عشق میں ڈوب نہ جاتا تو شاید ساری عمر نا مراد رہتا ۔۔۔۔
وہ آج اپنے دس سال کی تھکاوٹ کو اس ناتواں وجود سے دور کر دینا چاہتا تھا وہ قابل چاہت تھی وہ قابل عشق تھی وہ اسکے لیے خزانہ تھی اس وقت جسے چھو کر وہ امیر ہو جاتا ۔۔۔
جبکہ روح کی کیفیت قدرے مختلف تھی
اسے چھونے والا پہلا مرد تھا ایک لمس اسنے خوفناک کسی اور کا محسوس کیا تھا ایک مظبوط سا لمس اسنے بہزاد کا محسوس کیا تھا وہ جانے ان جانے میں ان لوگوں کے بیچ ا گئ تھی
لیکن دنیا میں اسکا بہزاد کے سوا کوئی نہیں تھا وہ شاید اسکی آخری حقیقت تھی جسے چھوڑنے کا تصور بھی نہیں تھا اسکے پاس
وہ تادیر ایک دوسرے کی انکھوں میں وہ ارتعاش دیکھتے رہے جو کہ دونوں کو جھلسا رہی تھی ۔
اور دونوں ہی جھلسنے کو تیار تھے ۔
بہزاد نے تکیے پر بازو رکھا اور اسکی شرٹ کو کھینچا تو اسکے وجود کی خوبصورتی کھلتی چلی گئیں
وہ بہکا بہکا سا جھکا اور اسپر کسی تیز موسلا دھاڑ بارش کی طرح برسنے لگا جس بارش میں محبت اور چاہت کی آمیزش تھی
اسکے بھیگے لب روح کو بے چین کر رہے تھے اسنے سختی سے تکیہ مٹھیوں میں جکڑا اور بہزاد سے دور ہو گئ
یہ سب ناقابل فہم سا تھا اسکے لیے کافی مشکل اسکی ناتواں جان اسکے بھاری وجود کا یہ بوجھ سہنے کو تیار نہ تھی
ب۔۔۔بس ۔۔ م۔مجھے ڈر لگ۔۔لگ رہا ہے “
پھر تو تمھیں وہ گانا گانا چاہیے
ہائے میں مر گئ
ہائے میں مر گئ
یہ دیوانہ مانے نہ مانے نہ “
انکھ دباتا وہ اچھے موڈ میں تھا اسکی سانسوں کی آواز کو انجوائے کر رہا تھا
آپ کافی بے شرم ہیں ” وہ اپنی شرٹ خود پر کرتی بولی جبکہ بہزاد لیٹ گیا
مرد بے شرم ہی ہوتا ہے عورت کتنا ہی شرما لے اسے سامنا تو ایک پیاسے مرد کا ہی کرنا پڑتا ہے ” اہستگی سے اسکے بازو پر انگلی سے ایک سطر کھینچتا وہ بولا جبکہ روح کے وجود کا رواں رواں کھڑا ہو گیا
وہ تھوڑا اور دور ہوئی آپ تھوڑا ۔۔۔ میرا مطلب ۔۔۔۔
بس بس اب سو جاتے ہیں ” وہ جلدی سے ارد گرد دیکھتی بولی
باہر موسم بھی خراب ہے “
خراب موسم میں یہی کام ہوتے ہیں بجلی کی کڑک میں کمرے کی گرج چمک کم سنائی دے گی ” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا جبکہ وہ سرخ ہو چکی تھی
بہزاد چ۔۔۔۔چپ ہو جائیں ۔۔۔۔
میرے ساتھ سہاگ رات منانے کو تو تڑپ رہی تھی صبح تک ” وہ بیڈ پر پھیل کر بیٹھ گیا
ج۔۔جی نہیں میں اتنی گندی نہیں ہوں مجھے لگا آپ بس۔۔ پ۔۔پیار کریں گئے آپ تو گندی حرکتیں کر رہے ہیں “
بات ایک ہی ہے تمھیں جو خواہش تھی وہ پوری تو کروں گا نہ “
اچھا چپ ” اسنے اپنی کلائی اسکے لبوں پر رکھ دی
اتنا قریب ا کر پیاس بھی نہ بھج پائے ” وہ بولا تو روح کو لگا وہ چکرا کر گیر جائے گی
ویسے ایسے مواقع میں لائیٹ چلی جانا یقینی ہے لیکن نہیں جا رہی ” بہزاد برا سا منہ بنا گیا اور اسنے موبائل اٹھا کر کان سے لگایا روح نے وہ موبائل کھینچا لیا
بہزاد نے انکھ کو دلکش سی جنبش دی اور اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسے اپنی سمت کھینچا لیا
روح اسکے بازوں میں تھی وہ سامنے کھڑکی سے اس پار پہاڑوں کو اور تیز ہوا کو دیکھ رہا تھا
مجھے علم نہیں کتنے پل سکون کے میں تمھیں دے سکتا ہوں اور اپنی زندگی کا مجھے بھروسہ نہیں “
ی۔۔۔یہ یہ کیسی بات کر رہے ہیں اپ ” وہ پریشانی سے اٹھ بیٹھی
ہمممم کچھ ایسا ہی ہے ” وہ مسکرا دیا
لیکن کیوں آپ تو آفیسر ہیں آپ کو کوئی چھو نہیں سکتا ” وہ ہنس دیا
میں صرف استعمال ہوا ہوں ہمیشہ اور میں ایک مہرہ ہوں ان لوگوں کے لیے یہ لوگ ہارون کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور بدقسمتی سے میرا مقصد بھی یہ ہی ہے
ایک آفیسر کو آگر اتنی اہمیت اوقات دینی ہوتی تو اسکی پراپرٹی جو فقط میری ہے صرف میری وہ سیل کر دی تمھیں لگتا ہے ان میں سے کوئی میرے ساتھ ہے ” وہ پہلی بار اسپر کھل رہا تھا اور روح کو پہلی بار لگا زندگی کے معملات سنجیدہ بھی ہیں
ہم کہیں دور چلے جائیں گے ملک سے باہر ” اسنے آپشن نکالا
مجھے جانے ہی نہیں دیا جائے گا ” وہ کافی حد تک ناامید تھا
ش۔۔۔شجر وہ وہ سب سچ جان چکے ہیں وہ آپکی مدد کریں گے ” اور روح نے اسکی پتھرائی ہوئی آنکھیں دیکھی
مجھے کسی کی مدد نہیں چاہیے ” وہ غصے سے بولا وہ خاموش ہو گئ
اپکو کچھ نہیں ہو گا میں اپکے ساتھ ہوں ” وہ اسکے بازوں میں سما گئ
بے وفا تو بھی نکلی ” وہ طعنہ مارنے کا ایک لمہہ بھی ضائع نہیں کر رہا تھا
ٹھیک ہے وہ ماضی تھی حال اس سے مختلف ہے ” وہ ہمت سے بولی
اگر حال بھی ویسا ہی ہوا تو ” وہ اسکی صورت دیکھنے لگا جو بے انتہا نزدیک تھی اسکے ۔۔۔
گردن پر چھری چلا دیجئے گا ” ایک وثوق سے بولی تھی وہ ۔۔۔
وہ مسکرا دیا ” مجھے گن چلانا پسند ہے “
ایک گولی تو مار ہی چکے ہیں تین اور مار مار دیجیے گا ” وہ اسکے سینے پر اہنا ہاتھ رکھ گئ بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا
بہت تھکاوٹ ہے میری تھکاوٹ اتار دوں شاید میں بھی نارمل ہو جاؤ ” وہ اسکے بازو میں سما گیا
روح کا بس نہیں چلا وہ اسپر کسی چھاوں کیطرح چھا جائے ایک انسان دس سال سے بس یہ ہی سب دیکھ رہا ہو تو اسکی تھکاوٹ یقینی تھی بہزاد نے اسکے لبوں کی چھوٹی چھوٹی نرمی اپنی گردن پر محسوس کی
وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنا چاہتا تھا لیکن روح نے اسکی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
بہزاد نے آنکھیں بند کر لیں اور روح نے تادیر اسکی گردن کو چھوا تھا اسکے گالوں کو یہاں تک کے اسکی انگلیاں بہزاد کے کسرتی بازوں پر ایک جادو رقم کر رہی تھیں جن کے سحر میں وہ سانس لے رہا تھا وہ اسکے سینے پر پیار کرنے لگی جبکہ اسکے دل کے مقام پر اسکے لبوں کی حرارت بہزاد کے اندر کا ضبط توڑ گئ
اسنے روح کو بازوں سے پکڑا اور کھڑا کر دیا
بہزاد ” وہ سمجھی نہیں وہ کہاں لے جا رہا ہے
او اس ہوا میں مہک چھوڑ دوں تمھاری اور اپنی “
ک۔۔۔کیا کیا مطلب ایک منٹ روکیں ” وہ ڈر گئ تھی جبکہ بہزاد اسے ہٹ سے باہر لے آیا
پورا چاند اپنی اب و تاب سے ان دونوں پر روشنیاں بکھیر گیا
ہوا کی سرمستی دونوں کے اندر گدگداہٹ سی بھر گی وہ ہٹ پہاڑ کی پگڈنڈی پر تھا
ایک موڑ سے راستہ نیچے کچے علاقے کیطرف اترتا تھا ۔
جبکہ انکی ہٹ قدرے اندھیرے میں تھی کہ یہاں دور دور تک بمشکل ہی کوئی تھا ہاں بس دور اونچی ہوٹل کی بلڈنگ نظر آتی تھی جس کی روشنیاں چاند کی روشنی کے ساتھ ملی ہوئی تھی لیکن اس وقت ہر طرف سکوت طاری تھا جس کو دونوں ہی وجود محسوس کر سکتے تھے
بہزاد اسے مزید اندھیرے کی جانب لے آیا روح کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئ
کیا ہے یہ سب ” میرا موڈ اس بستر پر تمھاری کمر توڑنے کا نہیں
شیٹ اپ ” وہ لال ہو گئ
یہاں کوئی بھی جائے گا ” وہ ہاتھ چھڑانے لگی
شرما کر خود ہی چلا جائے گا ” اسنے اسے کھینچا اور خود بھی اس گراس پر لیٹ گیا
بہزاد جن چمٹ جائیں گے ” وہ اسکے نزدیک ہوتی بولی اور دس سال بعد وہ کھل کر ہنسا
میں سچ کہہ رہی ہو ہمارے اورفن کے پیچھلے حصے میں ایک درخت تھا اسپر آسیب تھا
وہ بڑی بڑی آنکھوں کو گھما کر بولی
مجھ سے بڑا آسیب کوئی نہیں تمھارے لیے ” وہ اسکے بال بکھیر گیا ٹھنڈی ہوا بہت حسین لگ رہی تھی دونوں کے چہرے مستی میں چھو کر گزر جاتی جبکہ روح اب بھی ڈر رہی تھی بہزاد نے اسکی گردن پر سے بال ہٹائے اور اسکی گردن پر پھر سے جھکا
وہ چاہتا تھا یہ رات طویل ہو جائے دنیا کی سب سے لمبی رات جس کی کبھی صبح نہ ہو جہاں اسے جاگنا پڑے نہ ہی حقیقت کا منہ دیکھنا پڑے ۔۔۔
وہ رفتہ رفتہ اسکی شرٹ کے بٹن کھولتا جا رہا تھا رفتہ رفتہ وہ لڑکی اسکی خوشبو کسی نشے کیطرح اسکے اندر اتر رہی تھی روح سمٹ رہی تھی اسکے اندر جبکہ وہ اسے خود میں سمو لینا چاہتا تھا ۔
پلیز اندر ۔۔ اندر ” وہ اسکے پھیلنے پر سٹپٹا اٹھی ۔
بہزاد گھیرہ سانس لے کر اٹھا اور اسے پھر سے اندر لے آیا لیکن اب گنجائش نہیں تھی اسکی بے تابی اسکی آنکھوں سے عیاں تھی روح نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے بہزاد مسکرا کر اسکی سمت بڑھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حجاب و حدود کی منزلوں کو طے کرتا وہ اسکی نازک ناتواں سے جان کو مشکل میں ڈال چکا تھا
وہ تھکی تھکی سی اسکے بازوں میں سمٹی ہوئی تھی جبکہ وہ کسی گھیرے بادل کیطرح اسپر چھایا ہوا تھا
وہ اسے بار بار پیار کر کے اپنے ہونے کا احساس جتا رہا تھا جبکہ وہ کسمسا کر کبھی ادھر ہوتی کبھی ادھر جبکہ بہزاد مسکرا دیا ۔
اور اسے پکڑ کر خود کو سینے سے لگا لیا ۔
وہ اس رات سویا نہیں تھا کیونکہ دس سال بعد وہ خوش تھا
دل میں تمنا تھی وہ بھی گھیری نیند سو جائے اسکی طرح جس طرح وہ سوئی ہوئی تھی
لیکن اسے نیند نہیں آئی اور دن نکل آیا ۔
اسنے روح کیطرف دیکھا تو ایک منٹ کے لیے اپنا سر پیٹ ڈالا وہ لڑکی ہی تھی وہ اتنا پاگل کیسے ہو گیا تھا اسپر ۔۔۔۔
اسکے گالوں پر اسکی گردن پر اسکے شانوں پر اور مختلف جگہوں پر اپنا حق دیکھ کر وہ مسکرا بھی رہا تھا اور خوش بھی تھا سر جھٹک کر وہ اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا
جب فریش ہو کر آیا تو مہروز کو کال ملائی لیکن مہروز کال اٹینڈ نہیں کر رہا تھا
اچانک ہی اسکے ماتھے پر فکر کی لکیریں بنی وہ باہر نکل آیا اور اسنے پھر سے مہروز سے رابطہ کرنا چاہا لیکن بے سود اور پھر اسکی ٹینشن ریلیز ہوئی جب سامنے سے مہروز کو آتے دیکھا وہ ہاتھ ہلا رہا تھا بہزاد نے بھی ہاتھ اٹھا کر اسے اپنی سمت آنے کا کہا اسکی جانب اسنے بھی قدم اٹھائے تھے ۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کیطرف بڑھ رہے تھے مہروز کے چہرے پر زندگی رواں دواں تھی
مہروز نے دوسری سمت دیکھا اسے پلوشہ اور شجر بھی نظر آئے بہزاد نے پلوشہ کو تو دیکھا لیکن شجر کو نہیں مہروز اس سے پہلے اسکے نزدیک آتا کہ اچانک ہوا میں گولیوں کی بوچھاڑ سی ہو گئ
اور وہ نہیں جانتا تھا کہاں سے یہ گولیاں چل رہی ہیں
مہروز کے سینے میں گولی اتری تھی ۔
یوں لگا اسکے مسکراتے لب ساکت رہ گئے وہیں
پلوشہ کی چیخ اور دوسری سمت شجر کی جانب سے ہونے والی فائرنگ ۔۔۔
بہزاد پاگلوں کیطرح اسکی سمت بھاگا مہروز کسی مظبوط ڈال کیطرح گیرہ تھا جو ڈال درخت سے جدا ہو جائے ۔
وہ گیرا اور بہزاد اسکو سمٹ گیا اسنے پستول نکالی اور اسکے بعد اسنے دیکھا نہیں کون اسکے سامنے ہے دو گولیاں شجر کو چھو کر گزری تھیں
جبکہ دو آدمی وہ مار چکا تھا اسکے چہرے پر جنون تھا اتنا جنون کہ وہ چیڑ کر رکھ دے سب کو ۔۔۔۔
مہروز یار ” بہزاد نے اسکا گال تھپتھپایا شجر بھی اسکے نزدیک آیا
دور ہٹو “
بہزاد نے اسکے سینے میں لت ماری شجر بتانا چاہتا تھا کہ اسنے کچھ نہیں کیا
بہزاد الٹے قدموں سے بھاگا تھا پلوشہ بھی اسکے پیچھے بھاگتی کہ شجر کے لیے رک گئ
اٹھیں یہاں خطرہ ہے “
جاؤ تم ” وہ اپنے زخم پر ہاتھ رکھتا بولا
پلیز شجر اٹھیں ” اسکی بھرائی ہوئی آنکھیں دیکھی
شجر اور وہ لوگ وہاں سے بھاگ گئے ایک بار پھر سے غلطی کر کے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گولیوں کی آواز اسے سنائی دی تھی وہ گھبرا کر اٹھی لیکن اٹھتے ساتھ ہی جہاں اسنے بہزاد کا چہرہ دیکھنا تھا وہیں اسے ہارون بیگ کا چہرہ نظر آیا اور ہارون اس قدر حسن دیکھ کر اسکی آنکھیں چمک ہی اٹھیں
روح نے اپنا آپ اس سے چھپا لیا ۔
تم ۔۔۔ تم یہاں “
کیا ہوا روح اب تو میرے اور تمھارے درمیان کوئی بھی نہیں “
نہیں بہزاد ” روح اٹھ کر دروازے کی سمت بھاگتی اور ہارون نے اسکو اپنی بازوں میں جکڑ لیا
بہزاد ” وہ مچھلی کیطرح مچلی تھی
میں تمھیں جان سے مار دوں گی ” وہ غصے سے دھاڑی
میری چاندنی تو تو مجھے جان سے پہلے ہی مر گئ ہے اور اب یہ داغ تیرے وجود پر دیکھ کر دل کرتا ہے تجھے مکمل کھا جاؤ ” وہ ہنستا ہوا روح کو اپنے بازوں میں اٹھاتا باہر نکل گیا
جبکہ روح کو آج ڈر نہیں لگ رہا تھا اسکا غصے سے بھپرا ہوا وجود
ہارون سے سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا
وہ گاڑی میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں تھی جبکہ روح نے ہر ممکن کوشش کر لی
اب تمھیں بہزاد نہیں چھوڑے گا ” وہ اسکی جانب آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگی جبکہ ہارون نے گاڑی چلانا شروع کر دی روح کو لگا وہ بہزاد سے دور چلی جائے گی
اسنے اپنے بڑے بڑے ناخنوں کا استعمال کر کے ہارون کا منہ نوچ لیا
ہارون کے منہ کے اندر اترنے والے ناخنوں پر گاڑی نے توازن کھو دیا
سالی ” ہارون نے کھینچ کھینچ کر اسکے تھپڑ مر دیے
تیرا بہزاد بھی عدالت میں پیش ہو گا اور تیری آنکھوں کے سامنے پھانسی لگواو گا میں ” وہ بھڑکا روح اسکی صورت دیکھ کر رہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
