Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episodes 27

روح میں مجبور تھی میں ۔۔۔۔ میں محبت کے ہاتھوں مجبور ہو گئ تھی ” انیسا نے اپنے نہ دیکھتے آنسو صاف کیے
محبت کے اگے مجبور ہو کر آپ نے میرے باپ کا خون کرا دیا ” وہ دھاڑی آج بس نہیں چلا کہ اسکو ہی شوٹ کر دے
ن۔۔۔نہیں روح تمھارا باپ طبی موت مرا تھا اور میں نے تو ایک جائز رشتے میں بندھنے کا سوچا اور میں بندھ گئ روح میں تو بس “
تم تم جانتی ہو نہ وہ بیمار تھے “
لیکن وہ مرنے والے نہیں تھے ” وہ حیرانگی سے انھیں دیکھنے لگی اسے تو اج تک یہ ہی لگا تھا اسکے باپ کو ہارون نے مارا ہے
نہیں تم ادھورا سچ جانتی ہو درحقیقت صفدر کو کینسر ہو گیا تھا اور جب ڈائگنوز ہوا تو آخری سٹیج تھی
جھوٹ میں نہیں مانتی ” وہ بگڑی
یہ دیکھو یہ دیکھو روح میں جانتی تھی تم میرا اعتبار نہیں کرو گی یہ وہ رپورٹس ہیں ” انیسا نے اسکے ہاتھ میں رپورٹس پکڑائیں
روح پر شاید آج انکشافات کا دن تھا وہ پتھر کئ سی رہ گئ
ہاں یہ میرا جرم ہے کہ میں نے تمھیں ہارون سے ڈر کر یتیم خانے بھیج دیا کیونکہ میں شاید خود غرض ہو گئ تھی تم مجھے معاف کر دو اپنی ماں کو ایک موقع دو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے روح تم مجھے ایک موقع دو تم دل بڑا کر کے مجھے معاف کر دو گی تو اللّٰہ تعالٰی تمھارے لیے آسانی کرے گا اور وہ تو معاف کر دینے والوں کو بہت پسند کرتا ہے تم مجھے معاف کر دو روح میں خود غرض ہو گئ تھی لیکن اب نہیں اب میں تمھاری حق تلفی نہیں ہونے دوں گی میں تم سے پہلے بھی بہت پیار کرتی تھی اور اب بھی بہت کرتی ہوں “
پیار کرنے والے خود غرض نہیں ہوتے ” وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اسکے علم میں نہیں تھا صفدر کو کینسر بھی تھا
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن میں شرمندہ ہوں تم مجھے معاف کر دو ہو سکتا ہے تمھیں بھی کوئی تمھاری خطا پر معاف کر دے ” وہ اسے ایمرجنسی پھنسا رہی تھی روح کے اندر جو گلٹ تھا وہ اسے اسی کے حساب سے ٹریپ کر رہی تھی ۔
جبکہ روح اپنی نادانی میں یہ سمجھ ہی نہ سکی کہ انیسا ڈاکٹر ہے اسکے لیے ایک جالی رپورٹ بنانا کہاں مشکل ہے
وہ پریشانی سے اپنے بال جکڑتی وہیں بیٹھتی چلی گی اسے شدت سے رونا ا رہا تھا
اور علی شاہ ” اسنے جیسے یاد آنے پر سر اٹھایا
علی شاہ کو کیوں مارا “
اب قدم انیسا کے نکلے تھے اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شجر اسے علی شاہ اور اسکی شادی کا بھی بتا دے گا اول تو اسے شجر پر تپ چڑھی جبکہ وہ وہاں اسکا ہاتھ تھام گئ
وہ غدار تھا ۔۔۔۔۔
سب کہتے ہیں آپ نے مارا ہے انھیں جب آپ کو ہارون بیگ سے محبت تھی تو اس سے شادی کیوں کی “
کیونکہ یہ میرا ملک کے لیے ضروری تھا ۔
ہم خود غرض نہیں ہو سکتے روح ہم لوگ عام انسان نہیں ہے جان ہتھیلی پر رکھ کر گھومتے ہیں اور جہاں ملک کو ضرورت پڑے وہاں کام آتے ہیں میرے پاس علی شاہ کو مار دینے کے سارے لیگل نوٹس تھے
اور آج بھی ہیں تم گھر چلو میں تمھیں دیکھا دیتی ہوں اگر میرا ملک مجھے نہ کہتا تو میں کیوں لیتی کسی کی جان ” وہ اسکا اچھے سے برین واش کر چکی تھی روح سمجھ ہی نہ سکی کہ وہ کیا کرے کس بات کو سچ مانے ۔۔۔۔
لیکن بہزاد تو غدار نہیں ہے وہ آئی ایس آئی آفیسر ہے مام اپ روکیں نہ سب کو اسکو کوئی نہ مارے آپ ۔۔ اپ کی بیٹی اس سے بہت پیار کرتی ہے بہت زیادہ اور ان چند گھنٹوں میں مجھے احساس جرم ہو رہا ہے احساس ندامت سے میں مر رہی ہوں میں نے کتنا غلط کیا ہے ایک ایسا انسان کے ساتھ جو ملک کا غدار نہیں باپ کے غدار ہونے کا مطلب بیٹے کا غدار ہونا تو نہیں ہوتا نہ پلیز مام آپ کچھ کریں ” وہ اسکے ہاتھ سختی سے تھامتے بولی جبکہ انیسا کو یہ سب باتیں جو بہزاد سے منسلک تھیں بہت بری تو لگیں لیکن وہ مسکرا گئ روح اسکے جال میں پھنس گئ تھی اسنے روح کو سینے سے لگا لیا
روح مجھے معاف کر دو میں وعدہ کرتی ہوں میں سب ٹھیک کر دوں گی ” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی بولی جبکہ روح روتی رہی یہاں تک کہ اسے ان ہیلر لگانا پڑا انیسا نے اسے پیار کی اور اسے ساتھ چلنے کا کہا اور وہ بھی مان گئ
اور انیسا کے ساتھ وہاں سے چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو لوکیشن ٹریس ہو گئ ہے لوکیشن جلدی جاؤ جہاں جا سکتے ہو تم سب لوگ ” وہ سنجیدگی سے بولا اپنا ضروری سامان ایک بیگ میں رکھا اور کیپ سر پر لے کر وہ جیسے جانے کے لیے تیار ہو گیا تھا مہروز کی چوٹیں بہتر تو نہیں ہوئی تھیں لیکن حالات ایسے تھے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا اپنے لیے تبھی اسے ان چوٹوں کو پس پشت ڈال کر اٹھنا ہی پڑا
ہماری ساری پراپرٹیز سیلڈ ہو گی ہے بہزاد ” مہروز نے اسے اسی کے گھر پر لگے بڑے بڑے سیلڈ کے بینرز دیکھائے جسے اگنور کر کے وہ جانے کے لیے کھڑا تھا
کہاں جا رہے ہو تم ” مہروز کو غصہ چڑھا
میرے ساتھ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں خالی ہاتھ ہوں نہ تم لوگوں کو کھلا پیلا سکتا ہوں اسوقت اور نہ تمھارے کام کے پیسے دے سکتا ہوں سو یو شلڈ جوائن سم ون ایلز گڈ لک ” وہ پلٹا مہروز نے غصے سے اسے موڑا
ہارون بیگ کو کتے کی موت دینی ہے ہم سب نے مل کر ہارون بیگ نے ہمارے آدمیوں کو ہمارے سولجر کو مار دیا تم اس بکواس کے بجائے پلین بتا سکتے ہو مجھے ” مہروز بگڑ کر بولا تھا
نہیں میرے پاس کوئی پلین نہیں اور نہ میں چاہتا تم ایک دہشت گرد کے ساتھ مل کر اپنی جانیں گنوا دو “
سرد مہری سے کہتا وہ اپنا بیگ شانے پر لے ہر وہاں سے نکل گیا
بہزاد ” مہروز پیچھے ہی چلایا لیکن وہ سنے بنا وہاں سے نکل گیا اور دوسری طرف مہروز نے سب کو نکلنے کے لیے کہا تھا کیونکہ وہ کہہ کر گیا تھا یہاں ریڈ پڑ رہی ہے وہ لوگ بھی اس جگہ کو خالی کر چکے تھے
شجر جب وہاں پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا وہ ہتھیلی پر مکہ مارتا کر رہ گیا
آخر کب تک بہزاد تم مجھ سے بچو گے ” وہ دانت پیس کر اس گھر کے اندر ایک ایک چیز تلاش کر چکا تھا اسکا ذاتی سامان تھا لیکن کوئی ضروری کاغذ نہیں تھا جب کہ دوسرے گھر میں اتنا میسٹیریس ماحول تھا کہ وہ اب تک اسکے ذاتی کمرے تک پہنچ ہی نہیں سکا تھا ۔۔۔ اور یہاں بھی اسے کچھ نہیں ملا اور وہ غصے کے مارے اسکی گٹار کے ٹکڑے کر گیا اور وہاں سے نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون نے اسکا بہت شکریہ ادا کیا شجر مسکرا دیا تھا
میں چاہتا ہوں اب تم بھی آگے آؤ بس یہ مبین خان بیچ میں نہ ہوتا تو بہت کچھ اچھا ہو جاتا اور اب بھی ہم بہزاد پر ہاتھ اسکی غیر موجودگی پر ہی ڈال سکتے ہیں
یہ شکر ادا کرو کہ وہ باہر گیا ہوا ہے
اچھا خیر میں دیکھتا ہوں تمھارے رینک وینک بڑھاتے ہیں بھئی تمھارا حق بنتا ہے “
تھینکس الوٹ سر روح اپکے پاس ا گئ ہے “
ہاں ۔۔۔ ہاں اپنی ماں کے پاس ہو گی میرا کیا کام ہے بھلا ان باتوں میں میں نے نیشا کی وجہ سے ہی کہا تھا اچھا چلو کوشش کرو کہ جلد از جلد بہزاد کا پتہ صاف کرو
اسکے بعد آسانی ہو جائے گی ” اسنے سکون سے کہا اور مسکرا کر کال کاٹ دی جبکہ وہ سکون سے گھر میں داخل ہو گیا
ہر چیز اس وقت اسکے انڈر کنٹرول میں تھی وہ ایا اور صوفے پر تقریبا لیٹ ہی گیا
کچھ دیر آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا اور پھر وہ اٹھا تو اسے پلوشہ کا خیال آیا اسنے دروازہ کھولنا چاہا دروازہ کھلا پڑا تھا
وہ سمجھ گیا روح نے کھولا ہو گا وہ اندر داخل ہوا تو وہ جیسے ادموئ سی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی پورا دن گزر گیا تھا اسنے اب تک کچھ بھی نہیں کھایا تھا
وہ اسکے نزدیک آیا اور اسکی جانب ہاتھ بڑھایا
اٹھو ” وہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھا تھا
پلوشہ نے آنکھیں کھولیں اس وقت اسکا دماغ سن تھا اسے اشد کچھ کھانے پینے کی ضرورت تھی وہ اسکا ہاتھ تو کیا پکڑتی خود ہی اٹھ گئ
وہ اٹھ کر باہر ا گئ شجر مسکراتا ہوا اسکے پیچھے تھا اور اسنے
کچھ کھانے کی چیزیں فریج سے نکالیں
اور پلوشہ کے سامنے رکھ دیں پلوشہ نے جوش سے کھانا کھایا شاید یہ سوچ کر کہ ل اگر بھوک سے موت ا رہی ہو تو حرام بھی حلال بن جاتا ہے شجر البتہ خوش تھا کافی ۔۔۔
کہ وہ اسکے سامنے بیٹھی کھا رہی ہے وہ سکون سے اسکے سامنے بیٹھ کر اسکو دیکھے جا رہا تھا پلوشہ کو لگا اسکے چہرے پر چونٹیاں سی رینگ گئ ہوں گی وہ چپ چاپ کھا رہی تھی
کیا حلال ہو گیا ہے میرا کھانا ” وہ اسے دیکھنے لگا اور ذرا شرارتی لہجے میں بولا
نہیں حرام موت نہیں مرنا چاہتی تبھی حرام کھا رہی ہوں “
نہیں یہ حرام نہیں ہے میری محنت کی کمائی ہے
محنت کی کمائی نہیں ہے مارا ہے اپ نے اور اسکے بعد یہ سب حاصل کیا ہے “
ناجائز نہیں مارا کسی کو “
اپکو کیسے خبر کے جائز مارا ہے سب کو ” وہ سپاٹ تیوروں میں بول رہی تھی
میں میجر ہوں ” وہ ذرا چیڑ گیا اسکی گفتگو سے
پلوشہ نے غصے سے اسکی طرف دیکھا
میجر پر حلال نہیں ہے ہر چیز لیکن آپ انشاءاللہ انشاءاللہ میری دعا ہے سکون کی سانس نہیں لیں گے اور کبھی نہیں لیں گے اور محبت تو آپ کبھی پا ہی نہیں سکتے ” وہ چلائی جبکہ شجر نے اسکی کلائی جکڑی اور اسے اپنی سمت کھینچا پلوشہ اسکے بے ساختہ نزدیک ہو گئ ۔
مجھے بدعا دینے سے بہتر ہے میرے ساتھ رہنا سیکھ لو ” وہ اہستگی سے بولا
میرا اپکے ساتھ رہنا موت ہے میں اپکو چین نہیں لینے دوں گی یاد رکھیے گا ” وہ اپنی کلائی زبردستی چھڑاتی کمرے کی سمت بڑھ گئ اور اسنے دروازہ بھی لاک کر دیا جبکہ شجر نے وہ پلیٹ کھینچ کر ماری تھی
لیکن تسلی یہ تھی وہ اسکے پاس تھی اسکے ساتھ تھی وہ اسے پا لے گا اسے یقین تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون روح کے سامنے نہیں آیا تھا روح البتہ اپنی ماں کے بچوں سے مل کر کمرے میں ا گئ تھی وہ اسکا کافی خیال رکھ رہی تھی
روح کو فلحال فکر بہزاد کی تھی وہ چاہتی تھی وہ اس سے ملے
وہ اسکے پاؤں میں بیٹھ کر معافی مانگے لیکن وہ یہاں ا گئ تھی وہ اتنی کنفیوز تھی کہ اسے سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا کون صحیح ہے اسکے باپ کو اسکی ماں نے نہیں مارا
اسکے باپ کو کینسر تھا لیکن کب کیسے ؟ وہ سر تھام گئ
اور اچانک اسکے کمرے کا دروازہ کھولنے کی جیسے کسی نے کوشش کی روح نے اچانک مڑ کر دیکھا اس وقت وہ گرین شرٹ وائیٹ آنر شرٹ اور وائیٹ ہی جینز میں سرخ آنکھیں لیے بے پناہ حسین لگ رہی تھی اسکے کھلے بال ہلکے براؤن اور اسکی سبز آنکھیں وہ کسی کو بھی لمہوں میں اپنا بنا سکتی تھی
اچانک سک دروازہ کھل روح کو لگا تھا انیسا ہے
کیونکہ حمزہ اور ماہ نور کو تو اسے دیکھ کر کچھ خاص خوشی نہیں ہوئی تھی وہ مڑی جبکہ کمرے میں ہارون بیگ داخل ہوا
ہارون بیگ اسے دیکھ کر جیسے ساکت رہ گیا
روح اسے دیکھ رہی تھی اسنے مٹھیاں بھینچ لیں
اسے ہارون کو دیکھ کبھی ڈر نہیں لگا تھا
وہ کافی غصے سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ اسکے پیچھے انیسا بھی ا گئ
روح ہارون سے ملو ” انیسا نے کہا تو روح بس سر ہلا گئ
ہارون ایک ٹک اسکے گلابی گالوں گلابی ہونٹوں اور سبز آنکھوں کے ساتھ بھرے بھرے جسم پر توجہ تھی
جبکہ دوسری طرف روح دانت پیس رہی تھی
ہارون روح اب ہمارے ساتھ رہے گی ” یہ خوشی کی بات ہے بلکہ روح کو چاہیے اپنی سٹدیز پر فوکس کرے
نہیں شکریہ مجھے ایسا کچھ نہیں کرنا میں بس آپ لوگوں سے کچھ بیسک چیزیں چاہتی ہوں مجھے گاڑی چاہیے ” اسنے کافی مضبوطی سے کہا تھا
بلکل بلکل کیوں نہیں بیٹا انجوائے کرو کن چکروں میں پڑ گئ ہو ” ہارون نے اسکے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن روح دور ہو گئ
تھینکس مام اپ مجھے اگر گاڑی کی چابی دے دیں تو اچھا ہو گا ” وہ انیسا سے بولی انیسا نے ایک نظر روح کو دیکھا پھر ہارون کو ہارون نے گاڑی کی چابی اسے دیں دی اور روح نے تشکر سے اس گاڑی کو دیکھا
اور کچھ دیر انیسا اس سے بات کرتی رہی جس پر وہ بس ہوں ہاں کر رہی تھی انیسا بھی وہاں سے چلی گئ اور ہارون بھی جبکہ دوسری طرف روح بستر پر بیٹھ گئ وہ بہت بے چین تھی اپنی بے چینی کا سبب وہ جانتی تھی ۔۔۔
وہ پیار کرنے لگی تھی اس سے اور اسکا اظہار بہت ضروری تھا وہ بے وفا نہیں تھی وہ اسے بتانا چاہتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت دبے پاوں گزر رہا تھا
بہزاد علی شاہ کہاں تھا کوئی نہیں جانتا تھا کسی کو خبر نہیں تھی مہروز اور اسکے گارڈز واپس اسی گھر پر آ گئے تھے انکے گھر کا حال برا تھا
لیکن انکے پاس اس کے علاوہ رہنے کا ٹھکانہ کوئی نہیں تھا لیکن بہزاد نہیں آیا تھا اور نہ ہی اس سے کسی کا رابطہ تھا موبائل تو استعمال کرنے میں وہ پچھلے دس سالوں سے ہی چور تھا
کئی بار روح بھی آئی تھی مہروز نے باقاعدہ اسے دھکے دے کر نکالا
جبکہ روح کو اسکے اس رویے پر کافی رونا آیا تھا وہ ایک دوستانہ ماحول میں رہی تھی اسکے ساتھ اور اب اسنے جس طرح روح کو جھٹکا تھا روح جیسے اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی
وہ کہاں ڈھونڈتی بہزاد کو ایک بار وہ مل تو جائے وہ اسکے قدموں میں بیٹھ کر معافی مانگے وہ اسے کہتی کہ وہ اپنی بیوقوفی میں سب غلط کر گئ
لیکن وہ سب سدھار دے گی سنوار دے گی وہ اس سے محبت کرے گی اسے کبھی دھوکا نہیں دے گی یہ اسکی نادانی تھی کہ وہ سچے کو سچا نہیں سمجھ سکی یہ اسکی آنکھوں پر پٹی ایسے پہنائی گئ تھی اور اب بھی پٹی تو اسکی آنکھوں پر ایسے ہی پہنائے جا رہی تھی
اور اب بھی وہ اسی نگاہ سے سب کچھ دیکھ رہی تھی
روح مردہ قدموں سے واپس لوٹی اور اپنے کمرے میں چلی گئ
ہارون بیگ اور انیسا کے بچے کچھ پارٹی یہ کچھ انجوائمنٹ کر رہے تھے
جس میں وہ میاں بیوی بھی شامل تھے روح کو کوئی رتی برابر بھی دلچسپی نہیں تھی اس کام میں ۔۔
تبھی وہ اوپر ا گئ اور آنکھیں بند کر کے لیٹ گئ اسکی آنکھوں سے بنا آواز کے آنسو بہہ رہے تھے سانسیں بے ساختہ تیز ہوئیں تو اس نے ان ہیلر لگا لیا
اسنے آنکھیں صاف کی اور سر اٹھا کر دیکھا انیسا کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی
کیا ہوا ہے تم اتنی اداس کیوں رہے ہو “
مجھے بہزاد چاہیے ” وہ بچوں کیطرح بولی انیسا کے تو خون میں انگاروں کیطرح یہ بات لگی تھی اسنے روح کو برہمی سے دیکھا
غدار سے محبت کرتی ہو تم “
وہ غدار نہیں ہے ” وہ چیخی
ائی ایس آئی آفیسر ہے ” وہ جتاتے لہجے میں بولی
بکواس جھوٹ آج تک مجھے تو نظر نہیں آیا ایسا کچھ ہم سب اسی جگہ کا اسی چیز کا اپنے ملک کی آرمی کا حصہ ہیں ہم سب لوگوں کو جانتے ہیں پھر وہ بیٹھے بیٹھائے ائی ایس آئی کا بندہ کیسے ہو گیا اور ائ ایس آئی ایک غدار کے بیٹے کو اپنے ساتھ کام کرائے گی یہ تو تم روح بہت زیادہ بیوقوف ہو یہ تم کچھ سمجھنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔
تم ریلکس کرو مجھے تمھاری طبعیت نہیں ٹھیک لگ رہی ۔۔۔
میں کھانا بنواتی ہوں کھا لینا ” وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کر چلی گئ اور روح بچوں کیطرح رو دی
وہ کیا سچ مانے کیا جھوٹا کہتی یہ سب کیا تھا کیا ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ کسی بات کو سچ مانتی تو کوئی ا کر اسے جھٹلا جاتا وہ کسی اور بار کو سچ مانتی تو کوئی اور اختلاف کھڑا ہو جاتا
وہ کیا کرے کہاں جائے ۔۔۔
ہر شخص اسے نئے دھرائے پر کھڑا کر دیتا تھا جیسے انیسا اب اسے یہ سب کہہ کر حیران کر گئ تھی اور وہ ایک اور بار پھر حیرانگی سے سوچنے پر مجبور تھی
وہ کچھ نہیں جانتی وہ بس اتنا جانتی تھی کہ فلحال اسے بہزاد چاہیے تھا اور بس وہ اس سے محبت کرتی ہے فلحال اس سے آگے وہ نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔۔
اسنے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑا اور بری طرح رونے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فریب دینے کو داستان بڑھا لیں گے
مگر ہمیں خبر ہے
کہانی میں ہم نے مرنا ہے “
اسنے ہارون بیگ کے افس کی جانب دیکھا اور کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا پھر وہ اندر داخل ہوا بلا خوف خطر وہ آفس حکومتی نہیں تھا یہ پرائیویٹ تھا
جہاں وہ اپنے باقی کام کرتا تھا
وہ جانتا یہ تو وہ مر جائے گا یہ سب کو مار دے گا لیکن فلحال سب کو مارنا اسکا مقصد نہیں تھا۔۔۔۔
وہ تو اسکے رائیٹ ہینڈ کو ختم کرنے آیا تھا جو اسکا الیگل کام سنبھالے بیٹھا تھا جو شجر کو بھی نہیں پتا تھا
اسنے دروازہ کھولا اس وقت آفس میں وہ اکیلا تھا
دروازہ کھولتے ہی بنا کوئی سوال کے بہزاد نے اسکے ماتھے پر تین فائر کیے اور وہ چئیر سے نیچے گیرا
اور اسکا ڈیٹا بہزاد سکون سے سیگریٹ لبوں میں دبا کر دیکھنے لگا
اسے یہاں سے بہت کچھ ملا تھا جو اسنے ایک لیپ ٹاپ میں ٹرانسفر کیا اور ایک نظر اس بے بس پڑے وجود پر ڈال کر وہ سیٹی پر ایک حسین دھن گنگناتا وہاں سے نکل گیا
بلکل اس خالی وجود کیطرح جس کے پاس نہ کچھ بچا ہو نہ کوئی بات بس ایک مقصد اور بات ختم ۔۔