Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

وہ صرف ہاسپٹل کی جنرل ریکوائرمنٹس پوری کرنے اٹھا تھا اور زیادہ سکیورٹی یہ کوئی احتیاطی تدابیر اس لیے نہیں کی کیونکہ وہ خود یہاں موجود تھا لمہے بھر کے لیے بھی تو نہیں ہلا تھا وہ گھیری نیند میں تھی اور وہ تھوڑا سا کام کرنے کے لیے اٹھا اور پیچھے سے کوئی اسپر اٹیک کر گیا ۔
جب نرس دوڑتی ہوئی ڈاکٹر کے پاس ائی تو ابھی اسکے منہ سے الفاظ بھی پورے نہیں نکلے تھے کہ وہ سب چھوڑتا وہاں سے بھاگا اور روح کے پاس آیا وہ بے دم پڑی تھی اسکے ہاتھ بندھے ہوئے تھی ایک مظبوط رسی سے اور اسکا وجود بیڈ سب چیز بھیگی ہوئی تھی ڈاکٹرز بھی فورا اسکے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے تھے فوری طور پر روح کو آکسیجن دیا گیا اور نیند کے انجیکشن لگا دیے گئے وہ بھی بہزاد کے کہنے پر اور جیسے ہی روح کو نیند کا انجیکشن دیا گیا وہ جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کراہ رہی تھی وہ کراہنا بھی بند ہو گیا اور اسکے بعد بہزاد بے پورا ہاسپٹل سر پر اٹھا لیا ۔
افکورس آرمی ہاسپٹل تھا یہاں کوئی بھی ایسے ہی منہ اٹھا کر داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔
پھر کیسے کوئی ا گیا اور اسکے اوپر پانی ۔۔۔
کیا یہ ممکن تھا کہ کوئی آئے اور اتنا پانی اسپر گیرائے یقینا کوئی پہلے سے شام تھا اسکی ریکی کی جا رہی تھی کہ کب بہزاد اسکے اس سے اٹھتا ہے اور کب وہ اپنا کام کرتے ہیں
اسکے ڈاکٹرز کو بڑی طرح سنا ڈالی ۔
مجھے صرف سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی ہے اینڈ ائ تھنک سو یو ڈونٹ کریٹ اینی میس ” اسنے مٹھیاں بھینچ کر ٹیبل پر ہاتھ مارا اور کافی غضب ناکی سے کہا ۔
جتنی روح کے معاملے میں گنجائش وہ ختم کر رہا تھا اتنی ہی محبت عروج پر چڑھ رہی تھی
سر وئی آر رئیلی سوری ہم اپنی سکیورٹی مزید بڑھا دیں گے بٹ یہ ڈیٹا آپ کو نہیں دے سکتے یہ بہت پرسنل ڈیٹا ” بہزاد نے گن نکالی اور اسکی پیشانی پر داغ دی
جس طرح میری بیوی پر ہونے والے حملے کو سیریس لیے بنا تم وئی آر سوری کہہ رہے ہو بلکل اسی طرح میں تمھاری کھوپڑی میں تین فائر اتار کر ایم سوری کہہ دوں گا ” کافی بے رحمی تھی اسکے انداز میں ڈاکٹر گھگھیا سا گیا
س۔۔۔سر لیکن میں مجبور ” بہزاد نے گن لوڈ کی
سر پلیز آپ میری بات سمھ۔۔۔۔۔
اور وہ ڈاکٹر چلا اٹھا کیونکہ عین اسکے کان کے قریب سے گن گزری تھی ۔
میں ۔۔۔ میں دیکھاتا ہوں وہ فوٹیج ” وہ جلدی سے مان گیا بہزاد نے سر جھٹکا اور اس کمرے میں آ گیا جہاں ہر کسی کو آنا الاؤ تھا ہی نہیں ۔۔۔
اسنے اس لڑکے کو وہاں سے کھینچ کر اٹھایا اور خود اسکی جگہ بیٹھ کر اب سے کچھ دیر پہلے کی فوٹیج دیکھنے لگا
اسنے چاروں اطراف میں دیکھا تھا
روح کے کمرے میں اب سے ایک گھنٹہ پہلے کیا ہوا وہ یہ بھی دیکھنا چاہتا تھا بھلے اس کی برداشت سے اس وقت سب کچھ باہر تھا لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ دیکھے اور جیسے ہی اسنے وہ فوٹیج کھولی وہ جو بھی تھا کیمرے سب سے پہلے بند کر چکا تھا
اسنے ٹیبل پر ہاتھ مارا اور پیچھے ہو گیا زور زور سے رولنگ چئیر ہلانے لگا اسے وہ نہیں ملا تھا جو وہ چاہتا تھا
سوری سر اب ایسی شکایت نہیں ہو گی اپکو ” ڈاکٹر نے کہا جبکہ بہزاد نے جھٹک کر اسے دھکیلتا وہاں سے نکلا ان فوٹیجز کی بھی اسے ضرورت نہیں تھی وہ بخوبی جانتا تھا یہ سب کون کرا رہا ہے
وہ روح کے پاس آیا اور مدہوش پڑا اسکا وجود اپنی بانہوں میں اٹھا لی اور سیدھا وہ ہاسپٹل سے نکلنے لگا
ڈاکٹر کے لاکھ روکنے کے باوجود وہ روح کو وہاں لے کر اب رک ہی نہیں سکتا تھا اور ٹرسٹ تو سے اپنے سائے پر بھی نہیں تھا اسے ۔۔
اس کے گارڈز باہر ہی تھے بہزاد گاڑی میں سوار ہوا
اور سیاہ شیشے لگا دیے کہ کسی کو باہر سے اندر نہ دیکھے
روح اسکی بانہوں میں تھی اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ بھاری سانسیں بھر رہی تھی جبکہ وجود گیلا تھا
بہزاد اسے مزید خود میں قید کر چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن ہی ریسیپشن پر روح کی معلومات لینے کو انیسا پہنچی تھی اسے علم ہوا تھا کہ وہ اس ہاسپٹل میں ہے درحقیقت اسکی ایک دوست تھی یہاں جو اسکے اور روح کے بارے میں ہر بات سے واقف تھی اور روح کو یہاں دیکھ کر اسکے دماغ میں انیسا آئی تھی اسنے اسے اطلاع دی اور وہ دوڑی چلی ائ اسے یقین ہی نہیں آیا تھا روح اس سے اتنا قریب ہے
سوری میم انھیں رات ہی ڈسچارج کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔
ڈسچارج کر دیا لیکن کیوں اسکی طبعیت “
انکے شوہر انھیں لے جا چکے ہیں میم ” وہ ریسپشنسٹ بے زار سی ہوتی بولی
انیسا کا دل ایکدم شوہر لفظ پر ڈوب گیا
کون تھا اسکا شوہر ؟ اور یہاں اس علاقے میں ۔۔۔
وہ پریشان سی ہوئی اور اپنی فرینڈ کے افس میں جا کر بیٹھ گئ
اور اس سے مزید معملات ڈسکس کیے
تم ہارون کی طبعیت سے واقف ہو اسے تمھارے اردگرد تمھارے ماضی کی کوئی بھی بات اور یاد بہت بری لگتی ہے وہ ان سب چیزوں کو جان سے بھی مار دے گا
تم اپنی توجہ اپنی سابقہ بیٹی سے ہٹا کر اس سائیکو آدمی پر ڈالو
مجھے روح یاد آتی ہے نوشین ” وہ بے بسی سے بولی
کافی عرصے بعد یاد ائی ہے ” نوشی نے بھی بھرپور طنز کیا تو وہ شرمندہ رہ گئ
کیا تم میری مزید مدد کر دو گی ” انیسا اسکی ٹیبل پر جھکی اور اسے کچھ بتانے لگی
میں کوشش کروں گی لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتی
بہز۔۔۔۔
ابھی اسنے نام مکمل نہیں کیا تھا کہ اسکا فون بجنے لگا وہ ذرا غصے سے بولی اور فون کاٹ دیا
ہاں تم کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔
میں بس یہ بتانا چاہتی ہوں تمھیں اسکا شوہر ایک سر پھیرا آدمی ہے میں کوشش کروں گی یقین سے نہیں کہہ سکتی ۔۔۔
پلیز تم کوشش تو کرو ” وہ بولی تو نوشین نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
تم فکرمند نہ ہو میں دیکھتی ہوں ” وہ بولی اور اسکے بعد نوشین نے کافی آرڈر کر دی جبکہ انیسا کا دھیان تو صرف روح پر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی انکھ کھلی تو ایسا لگا برسوں بعد اٹھی ہے اسکی انکھ بہزاد کے کمرے میں کھلی تھی اسنے تھوڑا سا منہ بنایا اور اٹھی تو ہاتھوں میں ڈریپس اور منہ پر ماسک تھا اسنے آکسیجن ہٹایا اور ڈریس کے سمیت انگڑائی لی زور سے اور گھیرہ سانس کھینچ کر بیٹھ گئ
اسنے اردگرد دیکھا ایک تو اسکے پاس موبائل نہیں تھا اور جب سے یہاں آئی تھی وہی پرانا حال ہو گیا تھا بیمار رہنے لگی گئ تھی اچھی بھلی شجر کے ساتھ رہتی تھی منحوس گھر ” وہ دانت پیس کر بولی
اور اندر جینزی ٹرالی گھسیٹ کر لے ائی
کیا ہوا میم نوڈلز نہیں کھائیں گی آج ” اسنے نوڈلز دیے تو روح نے کوئی ریسپونس نہیں کیا
بہزاد کہاں ہے ” اسکے سوال پر جینزی نے سر ہلایا
سر بس تھوڑی دیر کے لیے باہر گئے ہیں
ٹھیک ہے یہ ڈریپس اتارو مجھے بھی باہر جانا ہے ” وہ ڈریپس کو دیکھتی بولی
ام سوری میم سر نے سختی سے منع کیا ہے آپ گھر سے باہر تو کیا کمرے سے باہر نہیں جائیں گی “
کیوں میں اسکی غلام ہوں قیدی ہوں جو وہ مجھے ایسے رکھے گا ” وہ اکھڑی کافی غصے میں لگی
سوری میم لیکن آپکی جان کو خطرہ “
انف از انف میں جب سے یہاں آئی ہوں تب سے ہی خطرہ شروع ہو گیا ورنہ سکون سے وہاں بھی رہتی تھی مجھے تم لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا معلوم نہیں کیا چاہتے ہیں مجھ سے ” اسنے ڈریپس کھینچی اور اٹھی
میم ” جینزی اسکا غصہ دیکھ کر پریشان ہوئی
پلیز جینزی مجھے مت رکنا تمھارا مسلہ نہیں ہے یہ ” وہ اٹھی اور دیوار پر لات ماری یہ دیکھے بنا کہ سوئی نکالنے کے چکر میں اسکے ہاتھ سے خون بہہ رہا ہے
میں کھولتی ہوں ” جینزی نے ایک مخصوص جگہ پر ہاتھ رکھا دروازہ کھلا اور وہ باہر نکل گئ
تن فن کرتی ابھی وہ کسی کی مانے بنا نکلتی ہی کہ ایکدم گیر گئ
چکرا کر ہاتھ سے بہتا خون اور اسکی طبعیت ابھی یہ سب افوڈ کر ہی نہیں سکتی تھی کہ وہ اتنی اوور ایڈیٹنگ کرتی وہ بے ہوش ہو گئ اور جینزی اسے دیکھنے لگی
میم بہت ضدی ہے ” اسنے نفی میں سر ہلایا اور گارڈ کی مدد سے اسے دوبارہ اندر لے آئے اور بستر میں لیٹا دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر سے شجر اس گھیری سوچ میں تھا کہ روح پر حملہ کس نے کیا اور انیسا اور روح کا کیا تعلق ہے وہ اسکی ماں کی حیثیت سے وہاں گئ تھی تو ؟
اسکا باپ کون تھا کیا ہارون بیگ ؟
یہ پھر دشمن ؟ وہ میجر تھا اپنی پوری صلاحیتیں استعمال کر رہا تھا ۔۔۔
اسنے ایکدم چونکتے ہوئے فون اٹھایا اور کال گھمائی اورفن ہوم میں وہاں کی اونر سے اسنے کچھ معلومات لی ۔۔۔
سر وہ ہی وہ خاتون تھی وہ بلکل ویسی ہی دیکھتی تھی بس عمر کی وجہ سے کچھ بوڑھی لگ رہی تھیں “
کیا اپکو یقین ہے ” سو فیصد میں پچھلے چالیس سال سے یہاں ہوں ایک ایک کو بخوبی جانتی ہوں ” وہ بولی تو شجر نے سر ہلایا
کیا اسکے باپ کے بارے میں کچھ جانتی ہیں “
نہیں اسکی والدیت میں کوئی نام نہیں تبھی ہمیں کچھ اور ہی کھیل لگا لیکن روح کے منہ سے اکثر اسکے والد کا ذکر سنا ہے ۔
اور ایک بات ” وہ جیسے کچھ یاد آنے پر چونکی
شجر بھی متوجہ ہوا
مجھے ایسا یاد پڑتا ہے کہ جب میں نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں سے ہیں تو انکا پاکستان میں کوئی ریلیٹو نہیں تھا
یقینا وہ اس فائل میں درج ہو گا جس میں ہم ڈیٹا رکھتے ہیں کہ روح کہاں سے تھی ” وہ چونک کر خود ہی اٹھیں
پلیز مجھے جلدی دیکھ کر بتائیں ” سوری سر یہ کام اتنی جلدی نہیں ہو سکتا پرانی فائل کھولنی ہیں میں اپکو کل یہ پرسوں بتاو گی ” شجر نے سر ہلایا اور فون بند کر دیا
روح میں ہی عجیب راز نظر ا رہے تھے اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ اتنی مسٹری رکھتی ہے
انیسا کا ذکر نہ ہوتا تو روح کے ماضی سے اسے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ اٹھا اور باہر نکلا رات ہو چکی تھی اچھا ٹھنڈا موسم تھا اسنے اپنے اپکو فوجی یونیفارم میں ایک نظر دیکھا اور پھر کیپ پہنتا سر پر اپنی جیپ میں سوار ہو گیا
ہاسپٹل کے آگے گاڑی روکی تو اسے اندر سے یہ پتہ چلا کی اسکا شوہر اسے لے جا چکا ہے شجر پلٹتا کہ اسکی نظر اپنی بیوی پر پڑی وہ آگے بڑھا اور اسکے سامنے جا کھڑا ہوا
پلوشہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور وجہ جاننی چاہی تھی کہ وہ کیوں اسکے سامنے کھڑا تھا
اپکا بیمار ہوں تھوڑی دیر کے لیے علاج مل سکتا ہے ” وہ جھک کر بڑی شوخ نگاہوں سے بولا پلوشہ حیران ہوتی کہ ساتھ کھڑی ڈاکٹر مسکرا کر چلی گئ اور پلوشہ دانت پیس گئ
یہاں کیا لینے آئے ہیں ” وہ غصے سے اپنے کیبن میں جانے لگی
بیمار ہوں کہہ تو رہا ہوں “
کہاں درد ہے ” وہ بھڑکی
آپ ایسے علاج کرتی ہیں اپنے پیشنٹس کا ” شجر کچھ بولتا کہ سینئر ڈاکٹر اچانک ہی اسے گئیں اور شجر نے اپنی ہنسی روکی
ن۔۔نو میم میں تو بس ” وہ شرمندہ ہوئی
کیا بس اپکا پیشنٹ اوہ میجر شجر عباس ہاؤ آر یو ینگ بوائے کیسے ہو “
ینگ بوائے ” پلوشہ نے میم کی جانب دیکھا اچھا خاصا 31 سالہ مرد تھا وہ ۔۔۔ وہ نگاہ پھیر گئ
ایم فائین ڈاکٹر کرن آپ کیسی ہیں “
میں بھی ٹھیک آپ یہاں خیریت “
جی بس کچھ طبعیت ناساز تھی کچھ انکے رویے نہ کر دی ” وہ جان بوجھ کر میسنہ بنا تھا پلوشہ ایکدم سیدھی ہوئی
پلوشہ میں دیکھ رہی ہوں تم دن با دن بدتمیز ہو رہی ہو “
سوری میم ” وہ فورا بولی
ہمم شجر عباس کا اچھے سے خیال رکھنا ہمارے میجر صاحب کو شکایت نہ ہو ” وہ اسکا شانہ تھپتھپا کر بولی جبکہ پلوشہ تو اس کرم نوازی پر ششدر تھی
دوسری طرف شجر کے دانت ہی نہیں اندر جا رہے تھے کرن باہر چلی گئ اور شجر نے کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھی اور بازو فولڈ کر کے بیٹھ گیا
ہمم تو شکایت نہیں ہونی چاہیے مجھے یاد ہے نہ “
بھاڑ میں جائیں ڈاکٹر کرن اور بھاڑ میں گئے آپ ۔۔ میرا وقت ضائع نہ کریں اور جائیں ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی تھی
ویسے تمھیں اتنا غصہ کیوں آتا ہے تمھارے اوپر کوئی قرضہ ہے؟ وہ اسے سکون سے دیکھتا بولا
آپ مجھے زیچ کر رہے ہیں شجر ” ۔
میں تمھیں تنگ کرنا چاہتا ہوں پلوشہ مگر تم موقع ہی نہیں دیتی ” وہ اسکے نزدیک کھڑا ہو گیا
یہاں تک کے پلوشہ کی پشت تھی اور شجر بلکل اسکے پیچھے اسکی پشت سے چپکا کھڑا تھا
اسکے بھاری وجود کا نا معلوم سا وزن پلوشہ کے ناتواں وجود پر تھا
وہ مڑنا چاہتی تھی لیکن مڑی نہیں کیونکہ پیچھے کھڑے شخص نے مڑنے ہی نہ دیا
آپ ۔۔۔ اپ یہ کیا کر رہے ہیں ” وہ بولی تو شجر نے اسکا رخ اپنی جانب موڑ لیا
میں چاہتا ہوں تم میرے پاس میرے گھر میں رہو ” وہ کافی گھمبیر لہجے میں بولا تھا
دس سال بعد ” وہ تلخ بات کرنے سے چوکی نہیں
میں نہیں جانتا تھا تم کہاں تھی “
آپ مجھے صرف اس بات کا جواب دیں نانی کو مروانے کا مقصد بہزاد کو لاوارث کر دینے کا کیا مقصد تھا
جب ۔۔۔ جب میں آپکی حقیقت سوچتی ہوں مجھے نفرت ہوتی ہے اپ سے ” وہ بھڑکتی ہوئی بولی اور اسے دور کرنے لگی
تمھیں میری ایک بات سمجھ نہیں آتی شاید ۔۔ میں کہہ چکا ہوں کہ میں نے کسی کو نہیں مارا اور بہزاد کی جہاں تک بات ہے وہ اسی لائق ہے اسنے جو کچھ کیا ہے وہ کیا تم نہیں جانتی یہ میں سمجھاؤ ۔۔۔
ڈاکٹرنی اسکے ساتھ لوگوں کو مارنے میں شامل ہے ” وہ بھی غصے سے پیچھے ہوا اور ٹیبل سے ٹیک لگا لی
میرا تو دل بھی نہیں کرتا اپکو صفائی دوں ” وہ جانے لگی کہ شجر نے ہاتھ پکڑ کر پیچھے کھینچی اور وہ اسکے سینے سے ا لگی
میں سچ بول رہا ہوں میں نہیں جانتا کس نے لگائی تھی اگ اس گھر میں ۔۔۔
میں صرف بہزاد کو مارنے آیا تھا کیونکہ یہ ہی اصول ہے غداری کرنے والے کا خاندان کے ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن میں پھر بھی صرف بہزاد کو مارنے آیا تھا لیکن اسے بھی نہیں مار سکا اور مجھے پشتاوا ہے میری چوک ہے یہ جس دن میرے ہاتھ چڑھے گا جان سے مار دوں گا ” وہ پھنکارہ پلوشہ نے اسکی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی
اس دن سے بچیں جس دن آپکی آنکھیں ہی نہ کھل جائیں اور اگر گھوم پھر کر غلطی آپ پر ا کر رک گئ اور غلط صرف آپ ثابت ہوئے تو آپ صرف پشتائیں گے ” وہ جھٹکے سے دور ہوئی اور جانے لگی
میں تمھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں ” شجر سنجیدگی سے بولا
اپنے خوابوں میں ” وہ سر جھٹک گئ
جبکہ شجر اسکے اس رویے پر ہلکا سا مسکرا دیا اور گھیرہ سانس بھر گیا معلوم نہیں کب دال گلنے والی تھی اسکی ۔۔۔
کب وہ یقین کرتی اس بات پر اسے خود خبر نہیں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر کچھ نہیں کھا رہی ہیں پلوشہ میم نے بھی بہت فورس کیا ہے منہ بنا کر بیٹھیں ہیں مجھے تو بہت ہی تنگ کر دیا ” جینزی کے الفاظ وہیں رک گئے
کیونکہ اس نے ایسی نظروں سے دیکھا تھا
آپ لوگ یہاں اسی کام کے لیے ہیں وہ آپ لوگوں سے جس طرح چاہے نکھرے اٹھائے مجھے کسی کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں چاہیے ” وہ سنجیدگی سے بولا
واہ واہ واہ جی میں تو آتا ہے اکثر روح میں ہوتا تمھارے سینے پر میرا نام کندا ہوتا کتنی لکی ہوتی نہ میں ” مہروز سیب کھاتا ہوا بولا جبکہ بہزاد سر جھٹک گیا اسکی بکواس تو صبح شام کی تھی جبکہ جینزی نے سر ہلا دیا
وہ کمرے کی جانب آیا سارا کمرہ گندا ہو رہا تھا مہروز کو کھانسی چڑھ گئ کمرے کی حالت دیکھ کر جگہ جگہ ٹشو پیپر اور تکیے اور کھانے کا کباڑا پڑا تھا ۔
اسنے بھی سیب کھا کر وہیں پھینک دیا
میں کیا کروں اگر کباڑ خانہ بنا ہوا ہے تو یہ ” وہ دانت نکال کر بولا
پلوشہ بھی وہیں آ گئی تھی اب تک بہزاد نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی روح البتہ منہ پر تکیہ رکھے لیٹی ہوئی تھی
آپ سب جائیں یہاں سے ” اسنے آہستگی سے کہا
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ مہروز تو سکون سے کہتا نکل گیا پلوشہ کا دل البتہ دھکڑ پکڑ میں آ گیا تھا
وہ خود کو کنٹرول کرتی باہر ا گئ اور جینزی بھی باہر نکل گی تھی وہ آگے بڑھا اور اسکے چہرے پر سے تکیہ ہٹا دیا
روح آنکھیں زور سے بھینچ گئ
مجھے لگتا ہے آکسیجن کی کمی ہے ایک لڑکی میں ڈوز کی ضرورت ہے ” وہ اسکے نزدیک بیٹھ گیا اسکے بیٹھتے ہی روح نے آنکھیں کھول دیں پٹ سے اور سامنے بہزاد کو اور اردگرد کسی کو نہ دیکھ کر گھبرا کر اٹھ بیٹھی
ن۔۔نہیں مجھے تو سانس ٹھیک ا رہا ہے ” اسنے اسے سانس لے کر دیکھایا تھا بہزاد نے سر ہلایا
گڈ ویری گڈ تم تو ٹھیک ہو گئ ہو ” وہ اپنے ڈیمپل کو دیکھانے لگا جبکہ روح کی سبز انکھون میں تھوڑا سا ڈر تھا اسکے اتنے قریب بیٹھنے پر ۔۔۔
ہاں میں بلکل ٹھیک ہوں ” وہ سکون سے بولی
ویلنڈن کھڑی ہو جاؤ پھر ” وہ سختی سے بولا جبکہ روح حیرانگی سے اسکی شکل دیکھنے لگی
Stand up little sparrow۔
وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑا کر گیا روح کھڑی ہو گی
پورا کمرہ صاف کرو میں فریش ہو کر ا رہا ہوں “
میں کیوں کروں ” وہ غصے سے بولی
گندا کس نے کیا ہے “
مجھے کیا پتہ ” وہ فورا بولی
جھوٹ ” بہزاد نے گھورا
آپ ہوتے کون ہیں مجھے قید ” اور بہزاد نے اچانک اسکی گردن میں اپنی ہتھیلی پھنسائی اور جھٹکے سے اسکو اپنے نزدیک کھینچتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھکا اور اسکے نیچے لب کو دبا لیا
روح کی آنکھیں یکدم کھلیں بہزاد کو اچھا لگا
اور تبھی دوسرا ہاتھ پوکٹ سے نکالتا وہ اسکی گردن میں حائل کر گیا اور رفتہ رفتہ اسنے اسکی سانسوں میں نا ہمواری اور بھاری پن بھرا دیا
روح کے پورے وجود پر چیونٹیاں سی رینگ گئ ۔
اسکی آنکھیں بھاری ہونے لگیں جبکہ وہ نا چاہتے ہوئے اسکے مسکلر بازو میں اپنے ناخن گاڑھا گئ اور بہزاد نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر پھینکا
کمرہ صاف کرو آتا ہوں میں “
و۔۔و۔اٹ۔۔واٹ یہ یہ مجھے کس حق سے اتنے دھڑلے سے منہ اٹھا کر کس کر دیتے ہیں ‘
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ گئ اور وہ کتنی کتنی گھٹیا تھی کیسے مزے لے رہی تھی اسنے خود کو ہی تھپڑ مارا اور گن اٹھا لی اسکی
آج بہزاد علی شاہ مرے گا اسے کس حق سے چھوتا تھا وہ اور روح کو اسکا چھونا گناہ کیوں نہیں لگتا تھا وہ کمرہ تو کیا صاف کرتی خود میں اسے مارنے کی طاقت بھرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔