No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
وہ دونوں سو کر اٹھے بلیک کافی کا مگ لیے شجر سڑھیاں اترا اور سامنے صوفے پر بہزاد کو نانی کی گود میں لیٹا دیکھا جبکہ ۔
پلوشہ بھی پاس بیٹھی مسکرا رہی تھی
شجر اسے دیکھنے لگا
کافی معصوم تھی وہ ۔ اور سب سے اہم بات اسکے انداز میں جو حیا کا عنصر تھا وہ دل محو لینے والا تھا وہ پیچھے کھڑا کافی دیر سے ان تینوں کو دیکھ رہا تھا بہزاد اپنے کارنامے بتا رہا تھا جو وہ میس میں کرتا رہا تھا اور وہ دونوں خوش ہو رہی تھیں ۔
وہ کافی لکی تھا اسے چاہنے والے بہت تھے
شجر بھی وہیں آ گیا
اوہ یار تم اٹھ گئے مجھے لگا مر گئے ہو ” ۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا
اب تم دونوں پھر سے چلے جاو گے کوئ ضرورت نہیں آج بس تم نے اپنی نانی کے ساتھ رہنا ہے” ۔
نانی جان بولیں تو وہ منہ بنا گیا
یار نانی میں جلدی او گا گھر پکا ۔۔” ۔
وہ التجائی لہجے میں بولا تھا
بلکل نہیں ” ۔
وہ مکر گئیں اور شجر تو یہ ہی چاہتا تھا وہ لوگ گھر پر رہیں تاکہ وہ اسکی نظروں کے سامنے رہے ۔
باتیں شروع ہوئیں تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس پڑتی اور شجر اسکی ہنسی میں کھو جاتا کتنی پیاری تھی معلوم نہیں کس کے خواب دیکھتی تھی کیونکہ آنکھوں میں سپنوں کا بسیرا تھا
لیکن وہ خود کو اس محبت اور عاشقی کی اجازت نہیں دیتا تھا وہ یہ سب افورڈ ہی نہیں کر سکتا تھا اسپر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ تھا تبھی اپنے جذبوں کو قابو میں رکھتا نگاہ پھیر گیا ۔
میں ذرا فریش ہو کر آیا ” شجر بولا اور اٹھ کر اوپر چلا گیا جبکہ پلوشہ بھی کھانا بنانے کے لیے اٹھ گئ ۔
نانی کی گود میں سر رکھے لیٹا وہ انکھوں کو بند کر گیا بہت خوش اور مطمئین ہونے کے ساتھ کافی شرارتی تھا وہ ۔۔
میری جان انیسا سے بات چیت ہوتی ہے تمھاری” ۔ وہ اہستگی سے اس سے سوال کر رہیں تھیں کیونکہ وہ صرف اپنے اور علی شاہ کے بارے میں بتا رہا تھا اور کسی کا ذکر نہیں تھا اسکے پاس وہ آنکھیں بند کر کے لیٹا تھا مسکرایا تو ڈیمپلز بھی مسکرانے لگے ۔
وہ صرف میرے باپ کی معشوقہ ہے اور کچھ نہیں” ۔لاپرواہی سے کہتے اسنے نانی کو دیکھا
ایسے مت کہو بہزاد وہ تمھارے باپ کی دوسری بیوی سہی لیکن ۔ وہ تمھاری ماں کے رتبے پر فائز ہے ” ۔
اہ” ۔سرد سانس کھینچ کر وہ اٹھ بیٹھا یہ عزت و احترام کی تھیوری اسکی سمھجہ سے باہر تھی ۔۔جو نانی اسے سمھجانا چاہ رہی تھیں
دیکھیں نانی آپکی بیٹی کو کوئ اور پسند تھا اسنے اس سے شادی کر لی ائ ڈونٹ مائنڈ ۔۔
میرے باپ کو انیسا پسند ا گئ اسنے اس سے شادی کر لی ائ ڈونٹ مائنڈ ۔ مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا میرے ماں باپ ساتھ رہتے ہیں یہ نہیں مجھے دکھ بھی نہیں ۔ لیکن میں اپنے ڈیڈ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کیونکہ میں خود ترسی کی زندگی نہیں گزار سکتا اگر تو اج اپ مجھے یہاں روکنے کی یہ پلینیگز کر رہی ہیں کہ میں اپنی ماں سے ملو گا تو اس بارے میں خیالات نکال دیں اوکے میری پیاری نانو” ۔
وہ انکے گال کھینچ گیا ۔
وہ ہلکا سا مسکرائیں اچھی بات تھی وہ لاپروہ تھا ورنہ بچوں کی حساسیت کتنی دل شکن بن جاتی تھی ماں باپ کے اس رویے پر ۔
وہ دوبارہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی انھوں نے اس سے بہت اہم بات کرنی تھی لیکن لفظوں کو ترتیب دے رہی تھیں کہ بھلا اب کس طرح اسے یہ کہیں
تم بہت بڑے افسر بنو گے بہزاد ” ۔انکی دعا پر
بہزاد کا قہقہ ابھرا ۔
اچھا مجھے تو لگتا ہے میں گینگسٹر بنو گا ” وہ انکھ دبا گیا جبکہ
نانی نے نفی کی
پگلا کہیں کا ” ۔
دونوں کے لاڈ ہی نرالے تھے وہ سب سے اپنے لاڈ اٹھوانا جانتا تھا ۔
شجر بلیک پینٹ اور بلیک ہی ٹی شرٹ میں فریش ہو کر نکلا اچھے سے بال بنا کر وہ باہر آیا تو پلوشہ پاس سے ہی گزر رہی تھی ۔۔
اسکا پاوں پھیسلا تھا وہ تیزی اگے بڑھا پلوشہ ابھی سمبھلتی ہی کہ شجر اسے تھام چکا تھا نیچے سے یہ منظر بہزاد اور نانی جان نے بھی دیکھا ۔
پلوشہ حق و دق تھی شجر جبکہ مسکرانے لگا ۔
سمبھل کر چلو تم گیر بھی سکتی تھی” ۔
وہ سمبھل بھی سکتی تھی میرے بھائ اتنی تڑکتی بھڑکتی مدد کی ضرورت نہیں تھی” ۔
بہزاد نے نیچے سے آواز لگائی پلوشہ شرمندگی سے دور ہوئ نانی نے بھی ذرا خفگی سے دیکھا اور منہ موڑ لیا
پلوشہ پیشانی پر بل ڈالے جلدی سے نیچے بھاگ گئ جبکہ وہ سر کھجاتا اپنی اس بے ساختگی پر خود بھی شرمندہ ہوا
بہزاد البتہ معنی خیزی سے اسے دیکھ رہا تھا شجر شرمندہ رہ گیا پلوشہ تو کچن میں گم ہو گئ تھی جبکہ ۔۔ نانی خفگی سے شجر کو دیکھ رہی تھیں ۔
میں ذرا باہر سے آتا ہوں” شجر کو یہ ہی مناسب لگا کہ وہ یہاں سے چلا جائے تبھی باہر نکل گیا
میں بھی آیا ” بہزاد کہاں چین لیتا فورا بھاگنے کی کی
نہیں جانا تم نے کہیں ۔۔ بات سنو میری توجہ سے “
نانی جان نے اسکی شرٹ پکڑ کر پیچھے کھینچی ۔
یوں لگ رہا ہے نانی جان نہیں پہلوان بھلو ہے آنے والے وقت کے فوجی کو ۔۔ مٹھی میں جکڑ کر کھینچ لیا فٹے منہ میری ٹریننگ کا” ۔
وہ انکی توانائ پر بولا تو وہ منہ پر کپڑا رکھے ہنسنے لگیں اور
بہزاد بھی ہنس دیا ۔۔
پلوشہ کو علم تھا وہ کیا بات کریں گی تبھی وہ باہر نہیں نکلی دروازے سے ٹیک لگائے سننے لگی ۔
بہزاد ۔۔ مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے “
جی ہاں بولیں بھئ اب ” ۔وہ منہ بنا کر بولا ۔۔
میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ اب جیسے ڈیڈ سال بعد آئے ہو ۔ اور بس دو ہفتوں کے لیے ۔ اگے معلوم نہیں کب او ۔۔
تو میں چاہ رہی تھی کہ ۔ میں تمھارا اور پلواشہ کا نکاح کرا دوں” ۔
ہیں” ۔وہ چلا اٹھا ۔
پلوشہ کا چہرہ سا اترا ۔
اہستہ” نانی نے گھورا تو وہ سر تھام گیا
نانی آپ خیریت سے تو ہیں میں پلوشہ سے نکاح کروں کیوں کس خوشی میں کوئ لاٹری تھی جو میرے نام کی اس کے ساتھ نکل گئ ارے یار میں نے تو کبھی اسے اس نظر سے بھی نہیں دیکھا جس سے میں اپنی گرل فرینڈز کو دیکھتا ہوں اپ نے چھٹتے ہی نکاح کی بات کر لی حد کرتی ہیں” وہ الجھا الجھا سا بولا اندر داخل ہوتا شجر بھی یہ گفتگو سن کر وہیں رک گیا تھا
بہزاد ” ۔انھوں نے ذرا ناراضگی سے اسکی یہ گرل فرینڈ والی بات سنی تھی
گھر کی بچی کو تم اپنی ان اوارہ دوستوں سے ملا رہے ہو ” انھوں نے گھورا تو ۔ بہزاد نے گھیرہ سانس بھرا
وہ میرے لیے نہیں اسکے لیے کوئ ایسا ڈھونڈے جو اسکے لیے ہو ” ۔ وہ کھڑا ہو گیا چہرے پر ناراضگی تھی یہ جانے بنا کہ کوئ اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ گیا ہے ۔وہ بولتا چلا گیا ۔۔
شجر حالانکہ جانتا تھا وہ اس سے ایک نظر کی محبت کا دعوا نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی ۔ اسکے دل میں بہزاد کی بات سے کہیں سکون سا اترا تھا ۔۔۔
بہزاد اپنی نانی کی بات نہیں مانے گا ” وہ اسے نم نظروں سے دیکھنے لگی ۔
نانی پلیز یار آپ مجھے بلیک میل نہیں کر سکتی میں نے اسکے لیے سوچا ہی نہیں ایسا ویسا کچھ”
تو سوچنا بھی نہیں چاہیے کچھ ۔۔ بس میں نے کہہ دیا ہے میں علی شاہ سے بات کرتی ہوں “
وہ حتمی لہجے میں بولی
نانی” وہ بگڑا مگر وہ نفی میں سر ہلاتی اٹھ گئیں ویسے تو
سیپریشن ہو گئ تھی اسکے ماں باپ کی لیکن علی شاہ نانی جان کی کچھ زیادہ ہی عزت کرتے تھے کیونکہ نانی اپنی بیٹی کے خلاف اور پرانے داماد کے حق میں تھیں اور پھر بہزاد کی وجہ سے کافی اچھے تعلقات تھے اور نانی جس طرح سمھجاتی وہ مان بھی جاتے وہ گویا پھنس گیا تھا اب یہاں انے پر بھی افسوس ہونے لگا وہ غصے سے وہاں سے نکلنے لگا کہ نگاہ پلوشہ پر اٹھی تو نظروں میں بے حد غصہ تھا ۔۔ اسنے گاگلز لگائے اپنی نشے سے بھری ہوئی سیگرہٹ کو لبوں میں پھنسایا ۔۔۔
اور اپنی گاڑی میں سوار ہو گیا پنجابی گانا بہت تیز آواز میں گاڑی میں گونجنے لگا جسے وہ خود بھی گا رہا تھا ۔۔
جھنجھر دی پاواں چھنکارا
آوے گا کدوں مینوں پیار ۔۔۔۔
شجر نے اس بکواس کو ہاتھ مار کر بند کر دیا جبکہ بقیہ وہ خود پورا کر رہا تھا گا کر
سٹاپ ایٹ بہزاد” ۔
شجر چیڑ کر بولا
نیناں ویچ ڈولدا خمار
لگا اے دل نو انتظار ۔۔۔۔۔۔۔۔
چھڈی نا کدو میرا پیار ۔۔۔۔۔۔۔
وہ شجر کے گلے میں بازو ڈالے اس گانے کی نیو بیٹس پر حرکت کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
تمھارے لیے کوئ بات سیریس بھی ہے” ۔
شجر نے اسکے بازو کو خود سے دور کیا ۔
ہاں ہے سیریس ۔ اور وہ یہ ہے ۔ کہ میں اپنی زندگی میں خوب چل ہوں ۔۔ اور علی شاہ میری مرضی کے بنا کچھ نہیں کریں گے ۔۔” ۔
وہ اب بھی مزے سے حرکت کر رہا تھا
تمھیں پلوشہ کیوں نہیں پسند۔۔۔”
شجر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
کیونکہ تو پسند کر رہا ہے اسے ۔۔
جھنجھر دی پاواں چھنکار۔۔۔۔۔۔۔
شیٹ اپ” ۔وہ گھور کر اسے دیکھنے لگا
اس بکواس کا مطلب ” ۔
اب اور کس طرح مطلب بتاو ۔ دیکھ میرے بھائ ۔
یہ ون سائیڈیڈ لو مارنے سے بہتر ہے کھل کر اسکے منہ پر کہہ دے پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا ” ۔۔
تیرا بن بیٹھا ہے میرا جیا ” ۔
بہزاد اینف از اینف تجھے پتہ ہے میں ایسی کسی محبت کی پوزیشن میں نہیں ویسے بھی تیری نانی تیرے لیے اسے پسند کرتی ہے ” ۔
میں دیکھ لوں گا میں کسی سے محبت نہیں کرتا کہا نہ لڑکیاں میرے لیے صرف ۔۔ وقت گزاری ہیں” وہ سر جھٹک کر گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا ایک بار پھر وہی پنجابی گانا اور گاڑی کے شور کے ساتھ اسکی زبردست آواز کافی دلچسپ منظر تھا شجر بھی اسکے ساتھ ۔۔ لگ چکا تھا لیکن وہ بہزاد کی آواز کو بیٹ نہیں کر سکتا تھا ۔
روڈ پر چلتی اسکی گاڑی کو کتنوں نے پلٹ پلٹ کر دیکھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ نے آنسو صاف کیا اور سر اٹھایا تو نانی جان اسے ہی دیکھ رہی تھیں وہ شرمندہ ہو گئ” ۔
سر جھکا لیا
تم پریشان نہ ہو باغی گھوڑا ہے ایسی لگام ڈالوں گی انسان کا پتر بن جائے گا ” ۔ وہ غصے سے بولیں تھیں
زبردستی رشتے نہیں بنتے نانو “
اسنے ہچکی بھری وہ اسکو سینے میں بھینچ گئیں
نہیں میرا بچہ فکر نہیں کرنی میں کل یتیم خانے لنگر بانٹنے جاو گی ۔ یہ بھی ساتھ ہی چلے گا تاکہ اس بے حیا کا دھیان دنیا سے ہٹ کر دین میں لگے اور بس وہاں سے ا کر علی شاہ سے بات کروں گی” وہ اسے تسلی دینے لگی
آپ سچ کہہ رہی ہیں نانو” وہ آنسو پونچھ کر انھیں دیکھنے لگی
ہاں میری جان بلکل سچ” وہ اسے پیار کر کے سونے کا کہہ کر اٹھ گئیں اسے نیند انی تھی کیا کبھی نہیں کبھی بھی نہیں اتی وہ پھر سے بے چین دل سے جائے نماز پر کھڑی ہو گئ اور بے شمار رو دی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو بہزاد ” ۔نانی جان کی پکار پر اسنے بمشکل آنکھیں کھولیں تھیں اسنے انکی حیران و پریشان آنکھوں کو دیکھا ۔ منہ پر کپڑا رکھے وہ جیسے حونک تھیں معلوم نہیں کیوں اسنے آنکھیں سکیڑ کر مڑ کر دیکھا تو ۔۔ شجر اسکو بانہوں میں قید کیے الٹا پڑا تھا بہزاد شرٹ لیس تھا اور خود بھی الٹا سو رہا تھا دوسری طرف شجر نے تو اسے کسی بچھڑی محبوبہ کیطرح جکڑا ہوا تھا بہزاد کو نانی کی آنکھیں باہر نکلنے کی وجہ سمھجہ ائ تو اسے لات مار کر دور کیا
نانو آپ یہاں ” ۔
نانی جان نے اسے ایک نگاہ دیکھا اور توبہ توبہ کرتی دروازے تک چلی گئ وہ ۔ جمائ لیتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا پھر لاپرواہ بن گیا ۔
یتیم خانے جانا ہے اج میں نے اٹھ کر جلدی نیچے آ اور تو بہت دین سے دور ہو گیا ہے تجھے سیدھا تیرے باپ سے ہی کراو گی کیسے لونڈے سے چیپٹ کر لیٹا ہوا تھا استغفراللہ ” ۔
نانی کی بڑبڑاہٹ شجر نے بھی سنی تھی منہ پر تکیہ رکھے ہنسنے لگا تھا جبکہ بہزاد نے اسکے پیٹ میں کہنی ماری ۔۔۔
لعنتی ” ۔
پلوشہ نہیں ہوں میں” ۔
اسنے انکھ دباتے دکھتی رگ چھیڑی اور اٹھ کھڑا ہوا جبکہ شجر نے تکیہ کھینچ کر مارا ۔۔۔ تھا
سے وہ واشروم چلا گیا اور شجر پھر سے آنکھیں موند گیا ۔
دونوں فریش ہو کر نیچے اترے تو بہزاد کی تو کیا ہی بات تھی ۔۔ گھنگریالے بال اسکی پیشانی پر الجھے الجھے ہوئے تھے اور وہ اسکی شخصیت کو جیسے چار چاند لگا دیتے پھر فیشن کی بریڈز اور فوج میں ہونے کے باعث شاندار جسامت ۔۔ پھر اسپر اسکا رنگ وہ مرد ہو کر اتنا حسن سمیٹے ہوئے تھا کہ کون تھا جو اسے چاہے نہ ۔۔
وہ نیچے چار سڑھیوں سے چھلانگ لگاتا اترا اور نانی کو پیچھے سے پکڑا
ہٹ جا دور ہو جا بہت بگڑ گیا ہے” ۔وہ غصہ کرنے لگی جبکہ زبردستی انکے گال چومتا وہ سیدھا ہوا تو پلوشہ مسکرا کر انھیں ہی دیکھ رہی تھی بہزاد کی مسکراہٹ سمٹی اور پلوشہ کا دل پاتال میں جا گیرہ اسے بہت اجنبی سا لگا اسکا رویہ ۔۔
کہاں چلنا ہے” ۔
بیٹا یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے بس آج انھیں کے لیے کچھ چیزیں لے جا رہی ہوں” ۔ وہ اسے سمھجانے لگیں تب تک شجر بھی ا گیا اور اسنے پلوشہ کو گھیری نگاہوں کے حصار میں باندھ لیا حالانکہ وہ ایسا چاہتا نہیں تھا پھر بھی وہ اسپر سے نگاہ ہٹانے کا ارادہ نہیں کر پاتا تھا ۔
وہ تھی ہی اتنی پیاری نازک اور پھر ڈری ڈری سی ۔۔۔
وہ سب گاڑیوں میں سوار ہوئے تو نانی اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔
انھوں نے اسکی گاڑی دیکھی اور بہزاد نے ماسک منہ پر چڑھا لیا
قیامت خیز حسن لگ رہا تھا اسکا ۔ پلوشہ بھی اسی گاڑی میں سوار ہوئ اور ۔ شجر دوسری گاڑی میں آ رہا تھا ۔۔۔
یہ کیا ہے” نانی نے اسکی سیگریٹ اٹھائ
نانی میں لڑکا ہوں یار بچہ نہیں ہوں اور یہ سب عام ہے” وہ ایک آنکھ دبا گیا پلوشہ اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی اسکے ہاتھ کتنی مہارت سے گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے ۔
کیا وہ بس خواب ہی رہ جائے گا یہ حقیقت بھی بنے گا ۔۔ اسنے نگاہیں جھکا لیں نانی جان اور بہزاد کی جنگ جاری تھی کیونکہ نانی جان کو اسکی گاڑی سے بہت کچھ مل رہا تھا جو نا قابل قبول تھا اور جب انکے ہاتھ وہ تصاویر لگیں جو کل ہی اسنے گاڑی میں چھپائیں تھیں بہزاد کے تو چہرے کے رنگ اڑ گئے ۔
وہ کچھ لڑکیوں کی تصاویر تھیں جو کہ ۔۔ کافی بے ہودہ تھیں اسنے شجر کو بھونکا بھی تھا کہ یہ وہ کسی پرائیویٹ جگہ پر رکھے مگر نانی کا تو استغفراللہ سن کر بہزاد نے وہ تصویریں گاڑی سے باہر پھینک دیں جبکہ پلوشہ کا چہرہ سرخ رہ گیا اسکے بعد کسی کی ہمت نہ ہوئ کسی سے بولیں ۔ بہزاد اپنی بے عزتی پر تن فن سا ہو کر رہ گیا
جلد ہی وہ ایک یتیم خانے کے باکر پہنچ گئے
گند نکال کر دماغ سے اندر انا ” نانی نے گھورا کر کہا تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر باہر نکل گیا شجر کی گاڑی بھی پیچھے ہی رکی نانی اور پلواشہ دونوں آگے آگے تھیں اور وہ اور شجر پیچھے ایک دوسرے سے ان تصویروں کو لے کر لڑ بھیڑ رہے تھے ۔۔
پلوشہ انکی چیما گویاں سن رہی تھی جو کہ ایک دوسرے کو الزام دے رہے تھے ۔۔
لیکن اسنے مڑ کر نہیں دیکھا وہ نانی جان کے ساتھ یہاں اکثر آتی تھی ۔۔
لیکن اج یہاں ہلچل سی تھی ۔
اور پھر بھاگتے ہوئے لوگوں کو حیرانگی سے ان سب نے دیکھا
پلوشہ نے آگے بڑھ کر وجہ جاننی چاہی تھی کہ کیا ہوا ہے ۔۔
روح کی طبعیت بہت خراب ہے باجی اور بہکی بہکی باتیں کر رہی ہے ” وہ رونے لگی تھی روح صرف پندرہ سولہ سالہ ایک بچی تھی ۔۔ پلوشہ جلدی سے اندر بھاگی نانی جان بھی پریشانی سے اندر بڑھی تھیں جبکہ ۔۔
وہ دونوں اب تک لڑ رہے تھے
اچھا بس ” شجر اسپر چیخا
تیری ” ۔بہزاد اور وہ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوتے ۔ کہ ان دونوں نے محسوس کیا کہ ۔ پلوشہ اور نانی تو اندر جا چکی ہیں اور اتنی ہلچل وہ لڑائ کو بعد پر اٹھا کر ۔ اندر بڑھے لڑکیوں اور خواتین کے رش میں وہ دونوں سب سے اینڈ میں کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے
ایک لڑکی کمزور سی بستر پر پڑئی تھی جس کو سانس لینے میں دقت تھی اور ۔ایک لیڈی ڈاکٹر نفی میں سر ہلا رہی تھی
مجھے نہیں لگتا اب یہ مزید زندہ رہ سکتی ہیں ‘ ۔ ڈاکٹر نے کہا تو نانی جان دل تھام گئ
تو ہاسپٹل لے جاو ایک لوکل ڈاکٹر سے یہ بات سن کر کون سی تسلی ہو رہی ہے ” ۔ یہ بہزاد کی آواز تھی بہزاد کی بات سنتے ہی اس ڈاکٹر کی پیشانی پر بل پڑے ۔۔
ٹھیک ہے جی لے جائیں راستے میں ہی مر جائے گی” ۔
ہائے ڈاکٹر ایسا نہ کہیں اس بچی کے چاہنے والے رونے لگے تھے وہ دونوں باہر ا گئے ۔
کیا ضرورت تھی بولنے کی ” شجر نے کہا تو وہ شانے اچکا گیا ۔
اور کوفت سے ارد گرد دیکھنے لگا
ویسے ہم کتنے بڑے کمینے ہیں وہ مر رہی ہے اندر گاڑیاں ہونے کے باوجود ہم اسے لے کر نہیں جا رہے ہسپتال” ۔
شجر افسوس زدہ لہجے میں بولا
دیکھو بھائ جتنا ہو سکے لوگوں کے سے دور رہو ” اسنے سکون سے بتایا اور بینچ پر بیٹھ گیا ۔
دو تین خواتین باہر نکلیں شجر اور بہزاد کی نگاہیں انھیں پر تھیں ۔
آخری خواہش پے یہ اسکی لیکن کہاں سے کوئ انسان پکڑ کر لیں ” ۔
وہ غمزدہ سی بولیں وہ دونوں کھوجنے والے انداز میں ان دونوں کو سن رہے تھے اور جب ان دونوں کو پتہ چلا کہ اس چھٹانک بھر کی بچی کی مرنے سے پہلے آخری خواہش شادی کرنا ہے تو دونوں نے بس ایک پل کے لیے ایک دوسرے کی شکل دیکھی اور پھر قہقہے ابھرے تو نانی کی گھور نے وہ قہقہے روک ڈالے
بچی تو بلکل نہیں ہے” بہزاد نے انکھ دبائ اور شجر منہ پر ہاتھ رکھ گیا
اوئے ” .ایکدم بہزاد چونکا اور شجر اسکی آنکھوں کی خرافات سمھجہ گیا تھا
نہیں بہزاد ” ۔
ہاں شجر ” ۔وہ فورا اٹھا
کمینے وہ مر رہی ہے تجھے کیا فائدہ ہو گا ” ۔
شجر نے اسے غصے سے روکا ۔
کم از کم جاتے جاتے میرا چھوٹا سا کام کر جائے گی پلوشہ سے جان چھوٹ جائے گی یار اب تو چپ رہ اور میجیک دیکھ بہزاد کا ” ۔ بہزاد بہزاد” شجر پیچھے پکارتا رہ گیا مگر وہ اندر گھس گیا
وہ بچی رو رہی تھی بہزاد نے بےزاری سے نانی کو دیکھا
کیا ہوا نانی جان ” ۔وہ بہت کنسرن سے پوچھ رہا تھا
بیٹا اس بچی کا کوئ نہیں دنیا میں ۔ کوئ بھی نہ ماں نہ باپ وہ چاہتی ہے کسی کا نام تو ہو جس کو لے کر وہ مر جائے آخری خواہش اس بچی کی اپنے محرم کے نام کے ساتھ مرنے کی ہے” ۔نانی بے حد سینٹی ہو رہی تھی جبکہ پلوشہ بھی ۔۔۔
بہزاد کی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی یہ شکر تھا اسنے ماسک لگا رکھا تھا ۔
میں کروں گا اس سے شادی ۔ ” ۔بہزاد کی بات پر وہاں کھڑا ہر شخص دنگ رہ گیا ۔
بہزاد” نانی رونا بھول اسے کھانے کو دوڑیں ۔
نانی اپ نے کہا تھا تو دین سے دور ہے اب مجھے اس نیک کام میں حصہ دار ہونے دیں ۔ ” ۔ وہ بولا تو نانی جان نے اسکا بازو جکڑ لیا
بہت خوب بیٹے اللہ تمھیں اس معصوم کی دعائیں لگائے گا ۔
ہم۔جلدی سے نکاح خواہ کا انتظام کرتے ہیں” ۔
وہ شاید اس یتیم خانے کی اونر تھیں انھوں نے بہزاد کو پیار کیا جبکہ اسکی نانی تو اسے کچا چبانا چاہتی تھی اور پلوشہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ اتنی گئ گزری تھی کہ وہ مرتی ہوئ اس بچی سے شادی کرنے کو تیار تھا نہ کہ اس سے ۔
اسکا دل ٹوٹ گیا وہ منہ پر ہاتھ رکھتی باہر نکل گئ
جھٹ پٹ مولوی کا انتظام کیا تھا ان لوگوں نے ۔
اور بہزاد خوامخواہ ایک انجان کو اپنے نکاح میں لینے کو تیار بیٹھا تھا
نکاح شروع ہوا اسنے اس لڑکی کی طرف سرسری سا دیکھا نکاح نامے پر سائین کرتے اسنے اسکا نام پڑھا ۔۔۔
روح” ۔
جھٹکے سے اسنے منہ موڑا اور وہ بچی سائین کرتے ہی بستر پر جا کر پڑی ۔
بہزاد دنگ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
کیا وہ مر گئ تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اب تک شاکڈ تھا سر تھامے بیٹھا تھا ۔۔۔
اب کیا ہے نکاح کر لیا اور رنڈوا بھی ہو گیا بہت مبارک ہو ” ۔
شجر نے چیڑ کر اسکیطرف دیکھا نانو ناراض تھیں اس سے اور پلواشہ تو دیکھائ ہی نہ دی تھی ۔۔
جبکہ بہزاد ماتھے پر تیوری ڈالے بیٹھا تھا
اسکا نام روح تھا ۔
تو اب تو اسکی روح پرواز کر چکی ہے
اللہ اسکی روح کو سکون دے” ۔
شجر نے کہا اور اسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھنے لگا
بہزاد نے غصے سے اپنی شرٹ اتار کر دور پھینکی اور اپنا شانہ اسے دیکھایا
معلوم نہیں کیسے کیوں ۔۔۔ اسکے جسم پر روح پورا نام کندا ہوا تھا
اب شجر بھی شاکڈ تھا ۔
یہ سب کیا یے ” ۔ بہزاد نا سمھجی سے اسے دیکھنے لگا ۔
ویسے علی شاہ سے پوچھ کے یہ تیرے جسم پر اتنا واضح روح کیوں لکھا ہے” شجر پریشانی سے اسکے نام پر انگلی پھیرنے لگا ۔۔
پوچھ لیا کہتے ہیں تم نے ہی کیا ہے اب مجھ سے بچنے کو یہ بکواس کر رہے ہو ۔۔” ۔
بہزاد نے نفی میں سر ہلایا جبکہ شجر ہنس دیا
روح تیری زندگی میں ائ اور روح کیطرح نکل گئ اور یہ نام تیرے جسم پر عرصے سے ہے تو ان سب فکروں کو چھوڑ نانی کو دیکھ وہ ناراض ہیں ” ۔
شجر نے کہا جبکہ وہ ۔ ۔۔ اٹھ کر شرٹ پہنتا سر ہلا کر اندر چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
