Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

نانی کو منا منا کر وہ تھک چکا تھا جبکہ وہ مان ہی نہیں رہی تھیں ۔۔ بلاخر وہ سر جھٹک کر ۔۔ اپنی سیگریٹ منہ میں دبائے مہروز کو کال کرنے لگا کہ پلوشہ جو اسے کل رات سے اب نظر ائی تھی اسکے پاس سے گزری ۔۔ اسنے نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ایسا نہیں تھا کہ اسکی پسند نہ پسند اس معاملے میں میٹر رکھتی تھی ۔۔
اول تو وہ پلوشہ کو ایسی نگاہ سے دیکھتا ہی نہ تھا دوسرا فرینک ہونے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی اور اب جبکہ اسے یقین تھا کہ اسکا دوست اسے پسند کرتا ہے تو وہ زیادہ کھیج گیا تھا ۔۔
پلوشہ کی سوجھی ہوئی آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں صاف دیکھ رہا تھا غم نے اسکی آنکھوں کو بہت رلایا ہے وہ سیگریٹ لبوں سے نکال کر اسکی جانب دیکھنے لگا ۔
میں اتنی بھی بری نہیں تھی کہ مجھ سے جان بچانے کے لیے کسی اجنبی پندرہ سالہ لڑکی سے شادی کر لی جائے ” وہ بولی تو بہزاد نے گھیرہ سانس بھرا ۔
میں بیزی ہوں اس وقت ” وہ سنجیدگی سے بولا
پلوشہ کے گال پر آنسو گیرہ جبکہ وہ بے رخی سے آگے بڑھ گیا ۔۔۔۔
پیچھے شجر بھی ا رہا تھا اور ان دونوں کو دیکھ چکا تھا بہزاد کے اس رویے کی ایک وجہ شجر بھی ہو سکتا تھا بہرحال وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔۔ جبکہ شجر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا ۔
اسنے مڑ کر دیکھا آنکھوں کو بے رحمی سے صاف کیا اور اندر جانے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
آپ اتنا چاہتی ہیں بہزاد کو ” شجر ذرا بے چینی سے بولا تھا ۔۔۔
چاہنے سے کچھ نہیں ہو گا ایک میری ولیو ثابت کرنے کے لیے وہ کسی اجنبی سے نکاح کر چکے ہیں میری چاہت انپر اثر نہیں کرے گی”
ہو سکتا ہے اپکو کوئی اور بے پناہ چاہنے والا مل جائے “
شجر کی بات پر پلوشہ نے چونک کر اسکا چہرہ دیکھا وہ لو دیتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ پیشانی پر دو بل ڈالے کر وہاں سے چلی گئ
شجر کا دل اداس سا ہو گیا
کیا چین باندھتی جا رہی تھی کوئی کسی کے پیچھے مر رہا تھا اور کوئی کسی کے۔۔۔۔
برحال اسنے خود کو سنبھالا اور بہزاد کے پاس گیا وہ گاڑی میں بیٹھا تھا
سنا حال دل کی کہانی ۔۔ کچھ بتایا اسے ” اسکے پوچھنے پر شجر پھیکا سا ہنس دیا
وہ تجھ سے محبت کرتی ہے اور شاید ٹھیک بھی ہے تم ڈیزرو کرتے ہو یار محبتیں ۔۔۔ امیر باپ کے بیٹے ہو پہلے لگتا تھا تیرا باپ آرمی کو لوٹتا ہے تبھی تو 2000$ فی گرام کا نشہ کرتا ہے
لیکن یہاں دیکھا تو اندازہ ہوا تو پشتوں سے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ اکلوتا ہے ۔۔
تو لڑکیاں تجھ پر نہیں مریں گی تو مجھ پر مریں گی ۔۔
جس کے اوپر چار بھائی ہوں بڑے ۔۔ دو بہنیں ہوں اور حد تو یہ ہو جائے کسی ایک کی بھی شادی نہ ہوئی ہو ۔۔
جو بمشکل اپنے گھر کو سب مل کر چلا رہے ہوں اور میرے اخراجات احسان کر کے اٹھا رہے ہوں اور بے شمار اخراجات کی وجہ سے ۔۔ ان میں سے کسی کی شادی نہ ہوئی ہو ۔
میری اور تیری زندگی میں بہت فرق ہے بہزاد تیرا حکم فیصلہ کی انتہا ہے میری بات میں بھی پیسے کی طاقت نہیں
وہ میری محبت یہ کسی بھی بات کو کنسیڈر کرے گی ہی کیوں ۔۔” وہ خاموش ہوا اور بہزاد کے منہ سے سیگریٹ گیر گئ ۔۔
اسنے دو تالی بجائی
اچھی سٹوری تھی ۔۔۔” وہ بس اتنا ہی بولا اور سر جھٹک گیا
پیار جس دن مجھے ہو گا اگر خالی ہاتھ بھی ہوا تو اپنی محبت کو تمھارے ان فضول ڈراموں کیطرح کسی کی جھولی میں نہیں پھینکوں گا
تمھاری وجہ میں اپنے خاندان اور دنیا کے خلاف نہیں جا سکتا ۔۔ میں اپنی محبت مار لوں گا کسی کو تکلیف نہیں دوں ۔
گھنٹا سالہ ۔۔۔ جو میری ہو گی
اسکے لیے کوئی کمپرومائز نہیں بھلے وہ میری ہونا چاہے یہ نہیں
جسے میں نے چن لیا اسے چھین لوں گا ۔۔ کیونکہ میرے پاس اصول ہے ہی نہیں کہ میں اپنی چیزیں دان کرتا پھیرو ۔۔۔ مائنڈ ایٹ ۔
پیشہ بہت اہم ہے لیکن انسان آدھی جنگیں اپنی طاقت پر جیتا ہے ۔۔
اور جنگ لڑنے سے پہلے جو ہارا ہوا ہو ۔۔ وہ فوج میں باتھروم صاف کرنے کے لیے رکھا جانا چاہیے “
وہ ہنسی ضبط کرتا بولا جبکہ شجر نے ذرا غصے سے اسے دیکھا جو گاڑی میں گانا چلا کر سکون سے گاڑی گیٹ سے باہر نکالنے لگا تھا ۔۔
شجر کا بس نہیں چلا اسکے منہ پر کچھ مار دے
کچھ تو تھا اس میں اسکے پیسے کے علاوہ اسکی شکل و صورت کے علاوہ ۔۔ جو اٹریکشن کا باعث تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوب عیاشی کر کے وہ رات میں گھر لوٹے ۔۔۔ نانی جاگ رہی تھیں گھر میں ہلچل سی تھی ۔
معلوم نہیں کیا ہوا تھا ۔
وہ نانی کے پاس بیٹھا اور انکے گال چوم لیے شجر اردگرد پلوشہ کو تلاش رہا تھا مگر دیکھائی نہ دی وہ اسے کہیں ۔
اچھا نا نانو مان جائیں ۔۔ کچھ ہی دن کا مہمان ہوں یہاں اب کہ چلا گیا تو ۔۔ واپس معلوم نہیں کب آؤں ” وہ ان سے لاڈ سے بول رہا تھا ۔۔
جبکہ وہ پہلے تو اکڑی اکڑی بیٹھی تھیں پھر اسکی بات پر ایکدم دل حول کا شکار ہوا ۔
یہ کیسی باتیں کر رہا ہے تو واپس آئے گا اور اگلی بار آئے تو میں ہی نہ ملوں پھر کیا کرے گا “
ہیں ۔۔۔ اپ کہاں جا رہی ہیں ” وہ گھور کر پوچھنے لگا
بس وقت آخری یے بیٹے ۔۔ لیکن میری لیے تیری خوشی بہت عزیز ہے تجھے اس بچی سے نکاح کی ضرورت نہیں تھی ” وہ بولیں تو وہ شانے اچکا گیا
دیکھیں آپ کی باتوں سے بچنے کے لیے میں نے نکاح کر لیا پھر کسی کی آخری خواہش پوری ہو گئ اب میرا کیا تعلق اس سے مر مرا گئ وہ تو ۔۔ اچھا خیر چھوڑیں “
اتنی ہلچل کیوں ہے بھئی ” وہ انکے شانے پر ٹھوڑی رکھتا انکے گرد دونوں ہاتھ باندھے سوال کر رہا تھا شجر بھی سامنے ہی بیٹھا تھا
میری طبعیت ٹھیک نہیں رہتی ۔۔ تمھاری ماں کہہ رہی ہے پلوشہ کے لیے اسنے کوئی رشتہ دیکھا ہے بس میں چاہتی ہوں اسے کسی کے حوالے کر دوں “
ہیں ” شجر جہاں سن رہ گیا بہزاد حیران ہوا
نانو وہ بس 20 سال کی ہے اپکو کیا فکر چڑھ گئ ہے اسکی ” وہ ذرا خفگی سے بولا کچن میں کھڑی پلوشہ کسی خوش فہمی کا شکار ہوئی ۔۔
نانی کچھ نہیں بولیں جبکہ بہزاد نے شجر کو دیکھا وہ اٹھ کر کمرے میں جا رہا تھا
مام کیوں لا رہی ہیں رشتہ انھیں اپنے شوہر سے فرصت مل گئ ” چیڑ کر بولا تھا وہ ۔۔
بہزاد اب تو تمھیں مجبور نہیں کر رہی پھر تم ایسا کیوں کہہ رہے ہو
کیونکہ جو بھی آئے گا پلوشہ کے قابل ہو گا ہی نہیں ” وہ ناراضگی سے منہ بنا گیا
نانی ہنس دیں
تو کون ہے پلوشہ کے قابل “
” شجر عباس ” خوبصورت ہے ۔۔ شریف ہے کم از کم میری طرح آوارہ نہیں ہے ۔۔۔ خاندان حسب نسب سب کچھ ہے اور دیکھیے گا مستقبل کا بہت بڑا اور کامیاب افسر ہے ۔۔
اور کیا چاہیے ” اسکی بات پر نانو نے گھور کر اسے دیکھا
وہ لونڈا کل کا آیا تو اسکی حمایت لے “
چلو وہ کل تو آیا تھا آپ آج آنے والے پر کیسے بھروسہ کریں گی ” وہ جراح کرنے لگا
زیادہ میرے سامنے وکالت کی ضرورت نہیں ہے ” وہ غصے سے بولیں
یہ غلط ہے نانو میں نے ٹکنے ہی نہیں دینا ” وہ اپنی بات کہتا اٹھ گیا جبکہ وہ پیچھے سر تھام گئیں پلوشہ بھی کیا سوچے گی جاہل تیرے بارے میں ” وہ پیچھے سے بھڑکیں
سوچ لے جو سوچنا ہے بہزاد علی شاہ ایسا ہی ہے ” وہ جمپ لگاتا اوپر چڑھا اور کمرے میں ا گیا شجر آنکھوں پر ہاتھ رکھے پڑا تھا ۔
فکر نہ کر ایسی بینڈ بجاو گا اس آنے والے کی کہ آج کے بعد کسی کے گھر نہیں جائے گا ” وہ اسپر کشن پھینکتا وہاں سے واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
شجر کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی البتہبن کہے جذبات کا طوفان جنم لے رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد کو دیکھ کر عالیہ حیران ہوئی علم نہیں تھا آج اپنے بیٹے سے ملاقات ہو جائے گی ۔
وہ آگے بڑھی اور بہزاد بھی آگے بڑھا بلکل فارمل جیسے وہ کسی عام عورت سے مل رہا ہو ڈیمپلز کی نمائش کرتا وہ ان سے ملا
کیسی ہیں آپ مسیز وجاہت ” وہ اتنا ہی کہتا تھا انھیں
ٹھیک ہوں ” وہ ہلکا سا مسکرائیں
گریٹ ” وہ سامنے بیٹھ گیا انکے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے شاید وہ ہی جو رشتہ لائے تھے ۔
وہ لڑکا تھا اسکی ایک بہن تھی جو ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی اور اسکی ماں تھی ۔۔
شجر بھی سامنے ہی بیٹھا تھا غصہ تو اسے بھی چڑھا تھا جبکہ نانو کچھ تذبذب کا شکار تھیں کہ وہ اپنی بکواس شروع ہی نہ کر دے
تھوڑی بہت باتوں میں وقت گزرنے لگا اور تبھی پلوشہ بھی ا گئ چائے لیے سر جھکائے اچھا سا تیار ہوئے کہ لمہے کے لیے دونوں اسے دیکھتے رہ گئے
بہزاد نے فورا اسپر سے نگاہ ہٹائی اور شجر کے اندر عجیب بے چینی بھر گئ
وہ کسی اور کے لیے تیار ہو کر آئی تھی ۔۔۔
خیر ابھی اسکی محبت سے ناواقف تھی لیکن اسے اچھا لگ نہیں رہا تھا پلوشہ کی تعریفیں شروع کر دیں تھیں انھوں نے کیونکہ اسے بہت اچھی لگی تھی وہ اور اسکی ماں بھی بار بار بہزاد کو دیکھتی اور بہزاد سرسری سا ۔۔ اتنا لاپرواہ تھا وہ ان سے بھی ۔۔۔
انکی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔
کیا کرتے ہو تم ” بہزاد کے سوال پر سب نے اسکی جانب دیکھا
میرا الیکٹرانکس کا بزنس ہے ” وہ لڑکا مسکرایا
ہممم ” وہ ہنکارہ بھرا گیا
کوئی بری عادت شراب شباب “
جی نہیں بیٹے میرا بیٹا بہت شریف ہے “
لیکن آنٹی اتنا شریف ہماری پلوشہ کو نہیں پسند ایکچلی شی از ویری اپ گریڈ پارٹیز وغیرہ بہت چنچل لڑکی ہے ہماری اپکا لڑکا تو آلو لگ رہا ہے
پلوشہ نانی اور مسز وجاہت تینوں کمرے میں معلوم نہیں کیا مشورہ کر رہی تھیں کہ پیچھے سے وہ شروع ہو گیا
شجر نے اسے روکا ابھی چاہا لیکن اسنے رکنا تھا ۔۔۔ آنٹی کی آنکھیں پھیلیں
ہاں کبھی کبھی تو پی بھی لیتی ہے ” وہ اشارہ کر کے انکھ دبا گیا جبکہ وہ عورت کھڑی ہو گئ استغفراللہ منہ مومنہ کرتوت کافرانہ ” وہ اپنے بیٹے کو باہر چلنے کا کہنے لگی
ہپ ہاپ لڑکی ہے آنٹی جی اس بوندھو کے ساتھ ہمارا میچ نہیں بنتا “
وہ باہر جانے لگے وہ پیچھے سے بولا تبھی وہ تینوں بھی ا گئیں
اوکے آنٹی اوکے میں نانو کو اپکا پیغام دے دوں گا اوکے بائے ” اسنے دروازہ بند کر لیا
شجر نے اسکی جانب دیکھا دونوں کی شرارتی ہنسی گونج گئ تھی
جبکہ وہ عورت بہت کچھ سنا کر گئ تھی وہ پلٹے تو نانو کی گھور نے دونوں کی ہنسی روک دی ۔
نانو کیا ہے اپکو یار اچھا بھلا لڑکا ہے میں لے آتا ہوں رشتہ ” وہ شجر کے شانے پر ہاتھ پھیلاتا بولا ۔
چپ ہو جاؤ تم “
پلوشہ اور مسز وجاہت حیران کھڑی تھیں نانو نے جھٹکا تو وہ چپ ہو گیا
میری پلوشہ سے پیار کرتے ہو ” انھوں نے شجر کی طرف دیکھا وہ جھجھک رہا تھا کافی ۔۔۔۔
نہیں” بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا بہزاد نے کھینچ کر تھپڑ مارا ۔۔ تھا اسکی گردن پر ۔۔۔
میرا مطلب ہ۔۔ہاں ” وہ بولا ۔۔ پلوشہ شاکڈ کھڑی تھی ۔
جی ۔۔ کرتا ہوں “
ٹھیک ہے پھر اپنے گھر والوں کو لے کر آؤ اور نکاح کے دو بولوں سے قیمتی تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔ تمھارے پاس کل کا دن ہے ۔۔ بس ” انھوں نے کہا بہزاد کے ڈیمپلز ابھرے تھے
آئی لو یو نانو ” وہ انکے گال چوم گیا بہت خوش تھا جبکہ شجر فکر مندی سے اسکی یہ خوشی دیکھ رہا تھا
اسکے گھر والے کبھی نہ مانتے پورے چھ بہن بھائی کنوارے بیٹھے تھے ساتویں کا نکاح ۔۔۔ ناممکن ہی تھا ۔۔
وہ خاموشی سے اوپر چلا گیا جبکہ پلوشہ غصے سے نگاہ بچا کر اسکے کمرے کیطرف بڑھی ۔۔۔
شجر ابھی کمرے میں ہی ایا تھا کہ وہ بھی اندر ا گئ
کیا بدتمیزی ہے یہ ” وہ بھڑک کر پوچھنے لگی
شجر نے مڑ کر اس خوبصورت سی لڑکی کو دیکھا ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔
میرا خیال سے کمرے میں تم آئی ہو تو بدتمیزی تو تمھاری ہے ” وہ سینے پر ہاتھ باندھ گیا
مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ” وہ جھنجھلا کر بولی
بات تو نکاح کی ہوئی ہے ” وہ اسے زیچ کرنے لگا لبوں میں مسکراہٹ روکے کھڑا تھا
بات تو ایک ہی ہے ” اسنے شانے اچکائے ۔
میں ” پلوشہ نے مٹھیاں بھینچ لیں
تم ؟؟؟ وہ اسے پر شوخ نگاہوں سے دیکھنے لگا
اپکا منہ نوچ لوں گی سوچیے گا بھی مت “
اب تو سوچ لیا اب کچھ بھی نوچ لو ” وہ انکھ دبا گیا
اپکو شرم آنی چاہیے ” پلوشہ نے اسے گھورا اسکے چہرے پر واضح ناپسندیدگی تھی
میں بے شرم ہی ہوں تمھیں وقت کے ساتھ پتہ چلتا رہے گا ” وہ سکون سے ہر بات کا جواب دیتا اسکو دیکھ رہا تھا
پلوشہ کو بے کار لگا تھا وہ نانی جان سے بات کرے گی بہزاد اسکی زندگی کا فیصلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔
وہ باہر چلی گئ شجر کی مسکراہٹ سمٹ گئ
دوسری طرف بہزاد نے اسکی تعریفوں کے پل باندھ دیے تھے ۔۔۔
نانی اور مسز وجاہت کے سامنے وہ کچھ کچھ قائل ہو گئیں تھیں
دونوں ۔۔۔
مسز وجاہت تو اس لیے خوش تھیں وہ ان سے بات کر رہا تھا ۔۔ بھلے موضوع کوئی بھی ہو ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر نے جوتی اٹھا کر سے ماری تھی ۔۔
ابے کیا ہے ایک تو تیری لائین سیٹ کرا رہا ہوں اوپر سے مجھ پر چڑھ رہا ہے۔” بہزاد بھڑکا
تجھے کہاں سے لگتا ہے میرے گھر والے مانیں گے 6 بہن بھائی جس کے سر پر ہوں
دیکھ کاکے پیار کیا تو ڈرنا نہیں کل تیرے گھر چلیں گے “
اوئے خواب بن لیے تو نے میں نے سن لیا مجھے نہیں کرنی کوئی شادی “
منہ توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گا ” ۔ بہزاد نے غصے سے کہا
بہزاد کوئی نہیں مانے گا تو مجھے شرمندہ کرائیں گا یار ” شجر زیچ ہوا جبکہ بہزاد لاپرواہی سے سونے چلا گیا
شجر تو ساری رات سو نہیں سکا تھا اس خوف سے کہ کل کیا ہونا ہے ۔۔۔
اگلی صبح وہ تو چین سے اٹھا تھا ناشتہ کر کے وہ گاڑی میں سوار ہوا شجر کے ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے ۔۔۔
پیشانی عرق آلود تھی ۔۔
وہ لوگ کچھ ہی دیر میں ایک کچی آبادی والے علاقے میں ا گئے اتنی بڑی گاڑی ائی تو پورا علاقہ گونج گیا کہ شجر آیا ہے
یو آر سو پاپولر برو ” بہزاد ہنسا اسکے ڈیمپلز اور گھیرے ہو گئے ۔۔۔
شجر البتہ شرمندہ تھا کہاں بہزاد علی شاہ کہاں وہ ۔۔۔
وہ باہر نکلا محلے کے لوگ اس سے چمٹ رہے تھے بہزاد بھی نکلا سب اس سے بھی ملے
میں حاجی ہوں کیا ” بہزاد اسکے کان میں گھس کر بولا
شجر نے ہنسی روکی وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور ۔۔ شجر کے گھر والے اس سے ملے
بہزاد سے بھی ملے اچھے ماحول میں خوشگوار باتیں ہوئیں تو بہزاد نے شجر کے بڑے بھائی کو کمرے میں انے کا کہا ۔
شجر کے رنگ فق ہو گئے
بہزاد ” وہ بولا مگر وہ سنے بنا اندر چلا گیا
اور رفتہ رفتہ سب اندر جانے لگا شجر کو لگا اسکا بی پی لو ہو جائے گا اور وہ گیر کر مر جائے گا یہ ہو کیا رہا تھا ۔۔۔
تقریبا گھنٹے بعد سب باہر نکلے کوئی غصے میں کوئی حیرانگی میں تو کوئی افسوس میں ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا ہم لوگ کل ہی اس بچی کو اسکے نکاح میں دے دیں گے ” اسکی ماں نے کہا شجر کے حلق میں نوالہ پھنس گیا اسنے جھٹکے سے بہزاد کو دیکھا جو شرافت سے سر ہلا رہا تھا جبکہ غصے سے اسکی ماں نے اسے دیکھا اور چلی گئ
بہن بھائی بھی ادھر ادھر ہو گئے
ہو گیا سارا مسلہ حل ” تو نے کیا کہا
بس اتنا ہی کہ تو نے غلطی سے منہ کالا کر لیا اور وہ بے چاری لڑکی ۔۔۔ کے ماں باپ اب تجھے یہ تو جان سے مار دیں گے ورنہ تجھے نکاح کرنا پڑے گا ” وہ مسکرایا فخر سے ۔۔۔۔۔
بہزاد ” شجر دھاڑا جبکہ وہ باہر دوڑ لگا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حیران تھی ۔۔ اسکا نکاح پر محبت کسی سے کی نکاح کسی سے ۔۔
بہت ارجنٹ اس نکاح کا انتظام کرایا تھا
سب نے پلوشہ کے انکار کے باوجود ۔۔
اسنے بہزاد کو بھی کھڑی کھڑی سنا دی تھی کہ وہ ہوتا کون ہے اسکی زندگی کا فیصلہ کرنے والا ۔۔۔۔۔
لیکن وہ اس طرح ڈھیٹ تھا کہ کہیں بھی نہ روکے ۔۔
اسنے بس اتنا ہی کہا شجر اچھا لڑکا ہے مجھ سے کئی گناہ اچھا جب مجھ جیسے آوارہ سے کرنے کو تیار تھی تو وہ تو بہت اچھا ہے اور پھر نانو اور پھر آنٹی سب نے اسپر دباؤ ڈالا اور روتے ہوئے وہ اس نکاح نامے پر سائین کر گئ ۔۔
شجر کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا بہزاد بھی بہت خوش تھا ۔۔۔
لیکن شجر کی مسکراہٹ سمٹی جب اسکی ماں نے یہ کہا کہ اپنی شکل نہ دیکھانا ” وہ افسوس سے بہزاد کو دیکھنے لگا
جی آنٹی ایسی اولاد تکلیف کا سبب بن جاتی ہے بہت روکا اسے بری صحبت سے دور رکھا لیکن کیا کر سکتے ہیں ” وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر بولا
امی ایسا کچھ نہیں ہے یہ پہلے روز سے جھوٹ بول رہا ہے ” شجر رفتہ رفتہ سارا سچ بتا گیا ۔
بہزاد تو سوچنے لگ گیا کبھی سب مل کر اسے مرنے نہ لگ جائیں معلوم نہیں شجر نے کیسے منایا تھا ان سب کو ۔۔۔۔
وہ تو کافی خوش تھا اچانک اسکا سیل فون بجنے لگا
علی شاہ کی کال تھی
جان جی کیا حال چال ہیں ” وہ لہک کر بولا
بہزاد علی شاہ ۔۔
” برگیڈیر علی شاہ شہید ہو گئے ہیں “
اسے لگا زندگی میں یہ آخری الفاظ ہیں جو وہ کبھی سننا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔