No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ہارون بیگ اپنے گھر میں داخل ہوئے تو سامنے ہی انیسا بیٹھی تھی وہ اسی کی منتظر تھی ۔۔۔
اور جیسے ہی وہ اندر آئے وہ پریشانی سے اسکی سمت بڑھی اور ہارون نے اسکی جانب دیکھا ۔
کیا ہوا ؟”
اسکے سوال پر انیسا نے پریشانی سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنے چھوٹے بیٹے کے کمرے میں لے گئ
ہارون نے اپنے بیٹے کی زخمی حالت کو دیکھا اور اسکی جانب بے چینی سے بڑھا
یہ کیا ہوا ہے اسے کس نے کیا ہے ۔۔ ” وہ غصے سے انیسا پر بھڑکا
ہارون جب سے بہزاد آیا ہے یہ ہی سب کچھ ہو رہا ہے وہ سب کو مار دے گا ” انیسا منہ پر ہاتھ رکھے رو دی
آج اسکے بیٹے کو چار لوگ اٹھا کر کندھوں پر لائے تھے وہ چیختی چلاتی رہ گئ کون تھے وہ لوگ کیوں آئے تھے اسکے بیٹے کا کیا حال کر دیا تھا ایسا لگ رہا تھا اسے زبردستی پیٹا گیا ہے ۔۔
ہارون جنونی کیفیت میں بیٹھا اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا
کون آیا تھا ” مجھے علم نہیں ان لوگوں کے چہروں کو میں نے نہیں دیکھا اور انکے منہ ماسک سے ڈھکے ہوئے تھے” ۔
وہ بولی تو ہارون نے اپنے بیٹے کے سر پر پیار کیا
اسنے کچھ بتایا ” وہ پوچھ رہا تھا کہ اسکا بیٹا ہوش میں آیا تو اسنے کچھ بتایا لیکن انیسا نے انکار کر دیا کیونکہ وہ ہوش میں آنے کے باوجود بھی سن ہی بیٹھا رہا تھا
نہیں میں پوچھ رپی ہوں کہتا ہے مجھے نہیں پتہ کیا ہوا ہے میرے ساتھ میں نے چیک کیا ہے ڈاکٹر کو بھی بلایا ہے لیکن کہتی ہیں ٹھیک ہے “
مجھے بہت فکر ہو رہی ہے ہارون وہ ایسے چین سے تو نہیں بیٹھے گا اسکا علم ہے ہمیں آپ کچھ کریں آپ اسے بھی مار دیں پلیز ” وہ اسکے سینے پر سر رکھے رونے لگی ۔۔
ہمارے بچی بھی ہے ہارون کل کو کچھ ہو گیا تو ” وہ خدشات میں ڈوبی ہوئی تھی
ہارون نے اسکے گرد بازو باندھے
فکر نہ کرو میں دیکھ لوں گا ۔۔ اندھیر نہیں مچ گئ ہارون بیگ کی بیٹی ہے وہ “
اسنے کہا تو انیسا پھر بھی روتی رہی ہارون نے اسے چپ کرایا اور ۔۔
انیسا اسکو پریشانی نہ دینے کی وجہ سے ۔۔ خاموش ہو گئ اسکے سامنے کھانا رکھا مگر وہ کھانا کھائے بنا اپنے گارڈز کے پاس آ گیا
لیکن سر ہم یہیں تھے کوئی بھی نہیں آیا یہاں تو ” گارڈز بولے تو ہارون کا بس نہیں چلا انھیں چیر کے رکھ دے
وہ انپر دھاڑا
سر آپ فوٹیج دیکھ لیں بھلے ” وہ لوگ بولے تو ہارون لب دبا گیا ۔۔
کیونکہ فوٹیج میں ایسا کچھ نہیں تھا
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہارون ” انیسا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
ہارون کو یقین نہیں آیا کیونکہ بیٹے کی حالت گواہ تھی ۔۔
وہ اندر گئے انیسا آنکھیں پھاڑے انھیں دیکھ رہی تھی
اگلی صبح اسکا چھوٹا بیٹا باپ کے پاس خود ہی آ گیا انیسا ایکدم جگہ چھوڑ کر اٹھی اسکی فکر میں ۔۔۔
ہائے ڈیڈ ” وہ بولا تو ہارون نے ذرا تڑپ کر اسے سینے سے لگایا
حمزہ کیا ہوا ہے تمھیں کس نے مارا ہے تمھارا یہ حال کس نے کیا ہے مجھے بتاو تم نے کسی کو دیکھا تھا ” وہ بے چینی سے بولا تو حمزہ نے ذرا توقف لیا
سوری ڈیڈ ایکچلی ویلنگ کرتے ہوئے میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور یہ حال ہو گیا ” وہ اہستگی سے بولا
انیسا کی آنکھیں پھٹ گئیں
حمزہ پاگل ہو گئے ہو تمھیں ان لوگوں نے پیٹا تھا ” انیسا ذرا غصے سے بولی تھی
نہیں مام اپکو کیا ہو گیا ہے کون لوگ کیسے لوگ ” حمزہ نے کہا ہارون نے حیرانگی سے انیسا کو دیکھا کیونکہ فوٹیج میں بھی کچھ نہیں تھا
ہارون میں سچ کہہ رہی ہوں یہ “
اچھا ریلکس بیٹھا جاؤ “
لیکن وہ لوگ خود اسے یہاں لے کر آئے تھے ۔۔۔۔ ” وہ بولی مگر اب ہارون کو یہ سب اسکا وہم لگا تھا بہزاد سے ڈرک ہوئی تھی تبھی ہر چیز بہزاد سے منسوب کر رہی تھی
حمزہ آئندہ ویلنگ کرتے ہوئے نہ دیکھنا ” ہارون ذرا اب برہمی سے بولا
سوری ڈیڈ ” وہ مسکرایا تو ہارون نے اسے پیار کیا اسے اپنے تینوں بچوں سے بے پناہ محبت تھی جس طرح اپنی بیوی سے تھی لیکن فلحال بیوی کا رویہ سمجھ نہیں آیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھی جلدی سے سیڑھیاں اتر کر پہلے شجر کو دیکھا
لیکن نیچے کوئی نہیں تھا یعنی ابھی وہ واپس نہیں آیا تھا اب وہ بھاگ کر بہزاد کے گھر چلی جاتی تاکہ وہ یہ نہ سمجھتا کہ وہ کام نہیں کر رہی
وہ اوپر آئی اور اپنے کپڑے نکالے اسنے ایک ٹراوزر شرٹ نکالی کتنا پیارا ڈریس تھا ۔
شجر کو بھی اچھا لگے گا ۔۔ تبھی آج اسنے وہ پہن لیا ۔۔
سیمپل شوز پہنے اور بالوں کو کرلز دے دیے اسکے معصوم سے چہرے پر کرلی ہیرز بہت ہی جچ رہے تھے ۔۔۔
وہ دوپٹہ لیتی گھوم گھوم کر خود کو دیکھ رہی تھی اسنے سارے کرلز کو اکٹھا کر کے اونچا کر کے کیچر میں باندھا اور کچھ لٹیں کرلی چہرے پر نکالی اسنے سوٹ کی مناسبت سے کچھ لائٹ پنک لیپسٹک لگائی جیسمین پرفیوم لگایا اور اب وہ بہت حسین لگ رہی تھی اوپر سے حسین سی خوشبو الگ اڑا رہی تھی
مزے سے ۔۔ وہ نیچے اتری تو یاد آیا کہ وہ بیگ اوپر بھول گئ ہے دوبارہ اوپر چڑھی اور بس اتنے میں ہی تھک گئ ۔۔
اسنے ان ہیلر سے اپنی سانسیں بحال کیں اور اپنے گھر سے نکل آئی معلوم نہیں کیا چیز تھی وہ رات گزر جاتی تو سب بھول جاتی کہ کیا ہوا تھا اب وہ مٹکتی ہوئی بہزاد کے گھر کے باہر تھی اسنے دروازہ بجایا تو سامنے وہ ہی بیزار سی شکل بنائے چوکیدار نے اسکی سمت دیکھا ۔
اور روح کے فیشن دیکھ کر چونک ہی گیا
اسکی سبز آنکھوں میں آج کاجل لگ رہا تھا ۔۔
دروازہ کھواو گھور کیوں رہے ہو ” وہ ذرا غصے سے بولی
سوری سر نے ایسی بلاؤں کو گھر میں داخلے سے منع کیا ہے ” وہ ایک چھوٹی سی کھڑکی بھی بند کر گیا
میں بلا ” روح تو تلملا گئ
کیا مطلب ہے دروازہ کھولا آئے بڑے مجھے بلا کہنے والے چور کہیں کے تم سب لوگوں نے خود کو دیکھا ہے شکل بھی دیکھانے قابل نہیں ہے تبھی سارا سارا دن منہ چھپائے پھیرتے ہو یو اڈیٹ ” اسکے تو اگ ہی لگ گئ تھی
شجر کی گاڑی سامنے رکی تو اسکی زبان کو بریک لگ گئ
شجر ” وہ دوڑ کر اس تک آئی تو سانس پھول گئ
ریلکس ۔۔۔ ” شجر نے اسکی پھولتی سانسوں پر اہستگی سے کہا
میں کیسی لگ رہی ہوں ” وہ سڑک پر کھڑی اسے گھوم کر دیکھا رہی تھی شجر گاڑی کے اندر ہی تھا
اچھی لگ رہی ہو ۔۔ لیکن فلحال جاؤ کوئی دیکھ لے گا ” وہ بولا یہ اسکا وہم تھا کہ بہزاد جامتا نہیں کہ وہ سامنے ہی رہتا ہے
دیکھتا رہے ” وہ لاپرواہی سے بولی
روح ” شجر نے ٹوکا تو وہ منہ بسور کر سر ہلا گئ اور شجر لمہوں میں اندر چلا گیا
وہ پھر سے بہزاد کے دروازے پر مکے برسانے لگی اور تبھی بہزاد علی شاہ کی مرسیڈیز عین اسکے قدموں میں رکی ۔
وہ چیختی چیختی رکی ۔۔
دل پر ہاتھ رکھے وہ سامنے دیکھنے لگی
اف۔۔۔۔۔۔ آفت ” مہروز کے منہ سے بے ساختہ نکلا بہزاد نے اسکی جانب دیکھا تو وہ لب دبا گیا وہ باہر نکلا اور گھر کے اندر داخل ہوا ۔
ہائے ” روح نے مہروز کو کہا مگر دونوں نے توجہ نہیں دی
روح کا منہ سا اترا کیا وہ اچھی نہیں لگ رہی تھی اسے سب سے تعریف چاہیے تھی ۔۔۔
وہ وہیں کھڑی ہو گئ ۔۔
اس کام والی بائ سے کہو حلیہ بدل کر آئے ۔۔” بہزاد نے اسکے رک جانے پر ذرا سی نگاہوں کو گھما کر کہا
مہروز نے ہنسی ضبط کرتا شانے اچکا دیے
وہ اچھی لگ رہی تھی اب وہ یہاں نہیں آئے گی یہ بات وہ جانتی تھی جان بوجھ کر سب اس سے جل رہے تھے ۔۔
پلوشہ جو باہر نکل رہی تھی اپنی ڈیوٹی پر جانے کے لیے اسے دیکھ کر تھم گئ
ایسے ہی یہ سب اسپر فدا نہیں تھے ایک تو اسے ساری ادائیں آتی تھیں کہ اسے کس کس طرح مردوں کو لبھانا ہے اسے غصہ آیا روح کا یہ روپ دیکھ کر ۔۔۔۔
ہائے ڈاکٹر “
شیٹ اپ ۔۔ تم اتنا بن ٹھن کر کس لیے یہاں پہنچ جاتی ہو ۔۔
تم جانتی ہو وہ میرے ” پلوشہ اہستگی سے بولی ۔
تم صرف مردوں کو پٹاتی ہو کیا اپنے اس سو کولڈ حسن سے “
اسکی آنکھوں میں جس تیزی سے پانی بھرا تھا پلوشہ کو اپنے رویے کی بدصورتی کا اندازہ ہو گیا وہ کنفیوز ہونے والی لڑکی نہیں تھی لیکن اس وقت لب بھینچے کھڑی وہ نہایت معصوم لگ رہی تھی اپنی سبز بڑی بڑی انکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
۔۔۔۔آئ ایم سوری روح میں وہ ” پلوشہ شرمندگی سے اسے روکنا چاہتی تھی لیکن روح پلٹ گئ اور بھاگ گئ ۔
روح “
پلوشہ نے پکارہ بھی مگر وہ جا چکی تھی اسے افسوس ہوا وہ ایسی لڑکی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ سب کچھ کر رہی تھی جو کرنا نہیں چاہتی تھی ۔ ۔ وہ روح کے ساتھ کافی سختی اور بدتمیزی سے بولتی تھی وہ شرمندہ سی ہوئی
اور اداسی سے باہر نکل گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آئی نہیں “
بہزاد کام چھوڑ کر اسکی پرواہ کر رہے ہو کہیں کچھ گڑبڑ تو نہیں ” مہروز نے انکھ دبائی اور بہزاد نے اسکی کمر پر مکہ جڑ دیا
اپنی بکواس کو منہ میں رکھا کرو میں نے ویسے ہی سوال کیا ہے “
اب تم ویسے کرو یہ ایسے تمھاری توجہ کام پر سے ہٹ رہی ہے ” مہروز نے گھورا تو بہزاد سر جھٹک گیا
تم نے وہ فوٹیج ڈل کر دیا “
تم فکر ہی نہ کرو یوں گھما سکتا ہوں اپنی فینگر ٹیپس پر ہیک کرنے کے بعد ہر چیز کو چل کرو “
بہزاد ہلکا سا مسکرایا اسکا ڈیمپل نمودار ہوا تھا
اسنے سر ہلایا اور مہروز کو کچھ چیزیں بتا کر آنکھیں بند کر کے چئیر کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔
کل ایک بہت بڑی پارٹی ہونی ہے
کیا تم جاؤ گے اس میں “
مبین خان نے بلایا ہے جانا تو پڑے گا ” وہ بولا
اوکے کوئی تیاری “
بلکل تیاری یہ سمجھو بارات لے کر جائیں گئ اور اس بعد بہزاد نے ایک ایک چیز اور کہاں کہاں کیا ہو گا وہ سب اسے سمجھانے لگا تھا مہروز جبکہ سر ہلاتا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوڈلز کی بائیٹ منہ میں لے جا کر اسنے اپنے آنسو ٹشو سے صاف کیے ۔۔
رات تو یوں اتی تھی جیسے دن کو اپنی آر میں بس چھپانے کو بے چین ہو ۔
اور اسے کل والا قصہ یاد ا گیا پھر آج صبح کس طرح پلوشہ نے اسکی بے عزتی کی اور شجر وہ بھی کرتا تھا اور بہزاد بھی ۔۔۔
میری تعریف صرف مہروز کرتا ہے ” وہ اپنے ریڈ لیپس کو صاف کر گئ
میں مہروز سے دوستی کر لوں گی ” وہ ناک صاف کر گئ اور تیز سپائسی نوڈلز کی بائیٹ لیتی سامنے چلتے ٹوم اینڈ جیری بھی دیکھتی جا رہی تھی
کتنے برے ہیں سب بہت برے ہیں ” اسنے مرچوں کی مقدار بہت بڑھا دی ۔
یہاں تک کے اسکا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا ۔
شجر معلوم نہیں کہاں تھا وہ سب سے ناراض تھی اپنے کرلی بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا جس میں سے کچھ کرلی لٹیں باہر کو نکل رہی تھیں ۔
اسنے لبوں پر زبان پھیری
بلکل گیلے ہونٹ سرخ ہوئے اتنے خوبصورت لگ رہے تھے کوئی بھی اسے اس وقت دیکھ کر پاگل دیوانہ ہو جاتا ۔۔
اسکا دودھیا سفید شانہ شرٹ کے اندر سے نکل رہا تھا جبکہ ایک شانے پر شرٹ تھی ۔۔
اور بیگی پینٹ پہنے وہ نوڈلز کھانے میں اتنی مگن تھی کہ بہزاد اسکے گھر میں داخل ہوا اسنے دروازہ لاک کیا اور سکون سے اسکی سمت چلنے لگا
بہت برے ہیں سب ” وہ ناک صاف کرتی سائیڈ پر ٹشو پھینک گئ کہ اچانک اسکا ہاتھ کسی نے پکڑ لیا ۔۔
روح نے سر اٹھا کر دیکھا
بلیک پینٹ شرٹ اور بلیک ہی کیپ میں وہ کسی مافیا سے واقعی کم نہیں لگ رہا تھا
وہ اپنے کسی کام کے لیے نکل رہا تھا اور اسکے گھر کا چوپٹ دروازہ دیکھ کر ۔۔ وہ اندر ا گیا
نہ کوئی گارڈ تھا نہ کوئی تیسرا شخص اسے شک سا ہوا
کوئی تھا جو اسکے پیچھے تھا ۔
وہ اس گٹھی کو سمجھ نہیں پایا تھا اور جب وہ اندر آیا تو محترمہ کو ناک اور آنکھ ایک کرتے دیکھ ۔۔
اپنے ارادے کو ملتوی کرکے وہ دروازہ لاک کر کے اندر ا گیا جبکہ دوسری طرف مہروز کا بس نہیں چلا اسکا قتل کر دے
اسکے سیکرٹ ایریے میں شجر حملہ کرنے والا تھا انکے پاس رپورٹ تھی ۔
وہ پندرہ فوجی ان کے اس تھے معاملہ سریس تھا اور وہ سستی عاشقی میں لگ گیا تھا ۔
روح کی انکھ سے بہتے آنسوؤں کو اسنے اپنی گلوز میں ڈھکی ہوئی فنگر سے چن لیا ۔
اس ظلم کی وجہ ۔۔۔ تمھاری طبعیت خراب ہو سکتی ہے ” اسنے وہ کرلی لٹ پکڑ کر ہلکی سی کھینچی
آپ اپ ۔۔۔ یہاں کیوں آئے ہیں ” وہ جلدی سے اٹھ گئ ۔۔۔
تمھیں دیکھنے ” وہ شانے اچکا گیا
ت۔ھیں کہا تھا کام پر آؤ مگر تم کافی ہے حرام ہو ” وہ نوڈلز کے باول کو دیکھنے لگا
مجھے نہیں کرنا آپکے ساتھ کام “
ٹوم اینڈ جیری کا میوزک پیچھے سنائی دے رہا تھا
بہزاد نے وہ نوڈلز کا باولر اٹھایا اور اسے کچن میں لے جا کر اسنے وہ باول سینک میں الٹ دیا ۔
روح اسے ماتھے پر تیوری بنا کر دیکھنے لگی ۔
کیا مسلہ ہے اپکے ساتھ کبھی کچھ کرتے ہیں کبھی کچھ کرتے ہیں ۔۔ آپ میرے گھر میں آتے کیوں ہیں اور اور میں کھا رہی تھی وہ میرا کھانا تھا ” .
وہ منہ بسور کر بولی تھی بہزاد نے اسکے شانے کی جانب دیکھا کتنا خوبصورت لگتا اگر وہ اپنا نام اسکے شانے پر لکھ دیتا اور بس کھڑے کھڑے اسنے طے کر لیا تھا ۔
اسنے فریز کھولا اور بریڈ نکال کر اسپر مایونیز لگا کر اسکی سمت بڑھا دیا
انسانوں والی خوراک کھانی چاہیے بندروں جیسی شکل ہو بھی تب بھی ۔۔۔
اینی ویز کل لاسٹ وارننگ ہے اگر تم کام پر نہ آئ اسکے بعد تمھاری اوپر کیس چلے گا ایسا کیس جس کی وجہ سے تم جیل میں ساری زندگی سکون سے بیٹھو گی “
ہیلو ہیلو مسٹر مافیا پلس بلیک اینڈ وائیٹ مین ۔۔۔
میری نہ بہت اونچی پہنچ ہے ” وہ آنکھیں دیکھا کر بولی
پونچ ” وہ حیرانگی سے اسکی پشت پر دیکھنے لگا
شیٹ اپ ” وہ بھڑکی اور بہزاد نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ سنبھل گئ
جائیں یہاں سے ” وہ بولی اور بہزاد نے گن نکال کر ٹیبل پر رکھ دی
آ ۔۔۔۔آ اچھا کھا کھا لیتی ہوں ” وہ جلدی سے م بریڈ اٹھا کر کھانے لگی ۔۔
کل ا رہی ہو یہ لینے اور “
کہا نہ نہیں کرنا کام آپکے ساتھ ” اسے سکون ملا تھا بریڈ اور مایونیز کھا کر ۔۔ سکون سے کھاتی کھاتی بولی ۔۔
بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
ٹھیک ہے پانچ لاکھ کی بلی مری ہے میری اسکا حساب کتاب “
میں اپنے فینسی سے کہوں گی وہ دے دیں گے بہت امیر ہیں اپ سے زیادہ ” وہ آنکھیں چھوٹی کرتی منہ بنا کر بولی ۔
اوہ تمھارا فینسی ۔۔۔۔
ذرا بلاو مجھے بھی ملنا ہے ” وہ چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
کیوں ۔۔۔ کیوں اٹھیں اور جائیں وہ کسی سے نہیں ملتے “
“ایک تھپڑ کان کے نیچے لگے گا ساری ہوا نکل جائے گی ” ۔۔
کل تم نہ آئی تو میں لینے آؤ گا اور پہنچ گیا تو تم واپس یہاں نہیں آ سکو گی مائیند ایٹ ” وہ اسکی پیشانی پر گن بجاتا آگے چلنے لگا جبکہ روح اسے دیکھنے لگی
وہ مڑا اسکی سبز آنکھوں میں پورا بہزاد علی شاہ دیکھ رہا تھا
دس سال بعد اسکے دل نے دھڑکن کو محسوس کیا تھا روح کو تو وہ کبھی نہ چھوڑتا ۔۔۔۔
کیونکہ انکا نکاح نانی جان کے سامنے ہوا تھا اور ۔۔
وہ باہر نکلا جبکہ روح کو بیڈ اور مایونیز کافی اچھا آپشن لگا وہ ویسے ہی نوڈلز کھا رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد علی شاہ کی پراپرٹی کو سیل کرنے کے وارنٹ ا گئے ہیں
اب صرف اریسٹ وارنٹ پکڑو اور سیدھا اسکے گھر پر ریڈ ڈالو ” شجر نے حیرانگی سے وہ اریسٹ وارنٹ دیکھے تھے
لیکن یہ ” وہ خوش بھی تھا لیکن کوئی خاص ایکسپریشن دے بھی نہ سکا ۔۔۔
ہارون بیگ نے ایک سانس کھینچا
تم سے تو وہ مر نہیں رہا تو سوچا اپنے پاس بلا کر اسکا کام تمام کر دوں ” کافی غصے سے اسنے یہ بات کی تھی ضیاء بھی وہیں موجود تھا
شجر چپ رہ گیا ۔
جو میں کر رہا ہوں اسپر مطمئین ہوں باقی یہ اریسٹ وارنٹ ۔۔۔۔۔۔حیرانگی کی بات ہے کیونکہ اسپر کوئی بھی کیس نہیں تھا ” شجر نے کہا اور ان دونوں کی جانب دیکھا
مجھے بہزاد چاہیے شجر “
سر بہزاد آپکے قدموں میں ہو گا فکر نہ کریں ۔۔
اب تو معملہ اوپر تک پہنچ گیا ہے ” شجر بولا اور ہلکا سا مسکرایا
وہ دونوں بھی مسکرائے اسکی یہ ہی بات ان دونوں کو پسند تھی کہ وہ جو وہ کہہ دیتے اس سے آگے بات نہیں کرتا تھا وہ ۔۔۔
دونوں اسکی تعریف کرنے لگے اور شجر باہر نکل آیا ۔
بہزاد علی شاہ کو اریسٹ کرنا کوئی عام بات نہیں اپنے ساتھ کچھ کمانڈرز کو لے کر جانا ” ۔
وائے ناٹ ” وہ کہہ کر باہر نکلا تھا
بہزاد کے اریسٹ وارنٹ کو ایک بار پھر دیکھا اسنے اور ۔۔ مسکرا دیا ب کیا کرو گے بہزاد کب تک چلتا آخر یہ چوہے بلی کا کھیل ” جبکہ دوسری طرف بہزاد تک یہ اطلاع پہنچی اور اسنے ٹیبل پر زور سے مکہ مارا
کیسے ممکن ہے یہ ” وہ دھاڑا مبین خان کو فون کرو “
وہ کال نہیں پک کر رہا شجر پہنچ جائے گا اب ” مہروز بولا تھا
میں نے کہا مبین خان سے رابطہ کرو اسنے کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ریڈ ڈالنے کا پھر کیا تک ہے “
وہ بولا مہروز کے بار بار ملانے کے باوجود کال اٹینڈ نہیں کی گئی
اور بہزاد نے واس جھٹکے سے پھینکا اور باہر نکلا اسنے وہاں موجود سب لوگوں کو آرڈرز کر دیے تھے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں اور سب اسکے حکم پر وہاں سے نکل گئے تھے یہاں تک کے مہروز بھی ۔۔
جبکہ وہ باہر نکلتا کہ اس سے پہلے ہی ایک فوجی دستہ اسکے گھر کے باہر تھا ۔۔۔۔۔
اور وہ ایسے کودے تھے اسکے گھر میں جیسے کیڑے مکوڑے ہوں وہ کمانڈرز تھے دیواریں توڑ کر بھی اندر گھس جاتے
بہزاد اپنے کمرے کی بالکنی میں ا گیا اسنے سامنے روح کی بالکنی دیکھی اسنے دروازہ کھولا اور باہر نکل ائی
شاید نواب زادہ اب سو کر اٹھی تھی سامنے بہزاد کو دیکھ کر اسنے منہ بنایا ۔۔ اور بہزاد آگے بڑھا اسنے اسے لبوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا ۔۔ کہا تھا ۔۔
بہزاد علی شاہ ” آواز گونجی روح کے کانوں میں بھی ۔۔۔ اسنے جھانک کر دیکھا اور سمجھ گئ
بہزاد جانتا تھا وہ اسکے خلاف ہے یقینا اب وہ کچھ ایسا کرے گی کہ سیدھا وہ ہی پھنس جاتا ۔۔
وہ کسی بات کی امید لگائے اس سے نہیں کھڑا تھا نیچے سے فائرنگ کی آواز ا رہی تھی گویا اسکے گھر کی چیزوں کی توڑ پھوڑ شروع ہو گئ تھی اور معلوم نہیں کیسے گولیوں کی آواز سے روح اندر تک ہل گئ
وہ آگے بڑھی کس بات کی بے چینی تھی خود بھی آگاہ نہیں تھی
شجر عباس کے خلاف جانے کا تصور بھی نہیں تھا اسکے اندر لیکن کیا وہ چلی گئ تھی اسنے بہزاد کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا بہزاد نے ائ برو اچکا کر یہ اشارہ دیکھا تھا
جلدی آئیں ۔۔ ” وہ بولی اور اندر سے ایک سیڑھی نما چیز بمشکل کھینچ کر لائی تھی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ۔۔۔
بہزاد نے کود لگا کر وہ سیڑھی
اپنی سمت نیچے کھینچ لی ۔
بہزاد نیچے جھک گیا جبکہ روح کھڑی ہو گئ
ہائے شجر ” وہ اچھل کر بولی بہزاد نے دانت پیسے
کیسے ہیں اپ ” وہ بے حد خوش دیکھائی دی
شیٹ اپ اندر چلی جاؤ ” شجر کو اس وقت اسکا نکلنا فضول لگا تبھی ڈانٹ گیا جبکہ روح کا چہرہ سا اترا گیا
وہ اندر چلی گئ جبکہ بہزاد نے ہلکی سی کلابازی لگائی اور روح کے کمرے میں آ گیا
جبکہ دروازہ لاک کر کے اسنے مسکرا کر دیوار سے ٹیک لگائی اور ٹانگیں پھیلائے لی
واہ روح واہ بہت ذہن نکلی تم اچھا بھلا موقع تھا اور ۔۔ اور میں خود بچا گئ اپکو میں ۔۔ میں ہی ہوں پاگل ہوں گدھی ہوں ” وہ سر تھام گئ تھی خود کو کوسنے لگی
میں ابھی شجر کو کہتی ” وہ اٹھ کر باہر جاتی کہ بہزاد نے اسے اپنی سمت کھینچ لیا ایسے کہ روح اسکی گود میں ا بیٹھی اسکی تھائی پر بیٹھی وہ اسے آنکھیں پٹپٹا کر دیکھنے لگی جبکہ بہزاد کا ڈیمپل کافی حسین لگ رہا تھا باہر گولیوں کی آوازیں تھیں شاید اسکے گھر پر غصہ نکالا جا رہا تھا
۔۔۔۔
آج ابھی وہ کچھ کر لیتا تو کر لیتا ورنہ کل تو بہزاد اس وارنٹ کی بینڈ خود ہی بجا دیتا تو پھر کیسے شجر اسے پکڑ پاتا ۔۔
تھینکیو ” اسنے نرمی سے اسکے نام گال پر ہلکی سی کس کی ۔۔ روح گال پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔
آپ ۔۔۔۔ دور رہا کریں مجھ سے ۔۔۔ میں “
یہ سب کیا ہے میں ایک قاتل کو بچا رہی ہوں اسکی گود میں بیٹھی ہوں آف۔۔۔ چھوڑیں مجھے “
اب کیسے چھوڑو ” اسنے اسکی کمر پر گرفت سخت کی
دیکھیں میں بہت شریف لڑکی ہوں اور جب ۔۔ جب مجھے غصہ ا جائے نہ بس پھر “
پھر میں سانس بھول جاتی ہوں” وہ طنزیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
آپ کی وہ جو منگیتر ہے نہ اسنے بھی مجھ پر طنز کیا تھا آپ سب نہ میں “
ایک دم بہت تیز گولیوں کی آواز پر روح اسکی شرٹ کے کالر جکڑ گئ ۔۔۔۔
بہزاد اسپر سے نگاہ نہیں ہٹا سکا ۔
آپ کو میں نہ بچاتی نہ تو آپ مر جاتے ابھی ” وہ بتانے لگی تھی اسے پریشانی سے ۔۔
ہممم تبھی تو کہہ رہا ہوں تھینکیو ۔۔ اب تم میرے ساتھ کام کر سکتی ہو ۔۔ جیسے تم چاہو “
سچ ” روح خوش ہو گئ
بلکل سچ ” وہ بولا جبکہ وہ مسکرا دی یہ سوچے بنا اسکی گود میں وہ نائیٹی میں بیٹھی تھی بہزاد کی نگاہ اسکے حسین روپ سے ہٹی ہی نہ تھی جبکہ شجر عباس کا زلزلہ باہر سنائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
