Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

گولیاں دھنا دھن برسائے جا رہی تھیں اور وہ لوگ اسطرح ٹرینڈ لگ رہے تھے کہ شجر کی ضرورت نہیں تھی لیکن شجر پھر بھی ساتھ دے رہا تھا ۔
ان سب نے انھیں چاروں اور سے گھیرہ ۔۔۔۔
اور پیچھے سے بہزاد اکیلا اور آگے سے وہ سب اگلے پندرہ منٹ میں ان سب نے وہاں سے آئے ایک بندے کو بھی نہیں چھوڑا فتح مند سی مسکراہٹ مہروز کے لبوں پر چھا گئ اسپر کوئی حملہ کرتا اور بہزاد اسے نہ بچاتا ۔۔۔۔ ایسا ممکن ہی نہیں تھا ۔
بہزاد کو خود بھی دو گولیاں لگیں تھیں
ایک اسکے بازو کو چھوتی بازو پھاڑ گئ تھی جبکہ ایک تھائی میں جا کر لگی تھی کیونکہ وہ پیچھے اکیلے تھا وہ دیوار سے ٹیک لگا کر اپنے وجود سے نکلنے والے خون کو دیکھنے لگا
مہروز فورا باہر نکلا ۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو ” اسنے اسکا خون دیکھا بہزاد نے سر ہلایا اور اندر سے نکلتے شجر کو دیکھا
شجر اس پہلے عرصے میں اس سے نگاہ چرا گیا ” بہزاد نے بھی نگاہ پھیر لی
سر ہمیں سر کو ہسپتال لے جانا چاہیے ” ان میں سے ایک بولا اور شجر کو جاننے کے باوجود بھی وہ لوگ بہزاد علی شاہ کے ساتھ تھے بہزاد ہمت کر کے اٹھا تو مہروز نے اسے سہارا دیا اسکی ٹانگ میں لگی گولی کے باعث وہ چل نہیں پا رہا تھا ۔
وہ لوگ اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے اور خون زیادہ نکلنے کی وجہ سے وہ جلد ہی غنودگی میں اتر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی ایک چھوٹی سے سرجری ہوئی تھی اور وہ اس سرجری میں پلوشہ بھی شامل تھی شجر نے خود اسے بلایا تھا اور وہ لمہوں میں آئی تھی
مہروز شجر اس سارے عرصے ایک ساتھ تھے لیکن دونوں نے ہی ایک دوسرے سے بات نہیں کی تھی
شجر بہت گھیری سوچ میں تھا اور مہروز کو بہزاد کی فکر تھی
ہارون نے مہروز پر حملہ کرا دیا
وہ انھیں چوکنا نہ کرتا تو وہ اسے مار کر چلے جاتے اور یہ پندرہ لوگ اسے لگا تھا یہ بہزاد کی قید میں ہیں لیکن یہ تو بہزاد کے ساتھ تھے وہ سب کے سب باہر لون میں تھے شجر اٹھ کر انکے پاس ا گیا وہ کھڑا ہوا تو وہ سب نہ ہی اسے دیکھ کر چونکے نہ ہی کوئی ریسپونس لیا
میجر شجر عباس” وہ مظبوط آواز میں بولا
تب بھی انکا کوئی ریسپونس نہیں تھا جبکہ وہ اسکے انڈر کام کرتے تھے
مجھے کچھ معلومات چاہیے تم لوگوں سے ” شجر نے بات کا آغاز کیا تو وہ لوگ اسکے اردگرد جمع ہو گئے اور سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگے
بہزاد دہشت گردی میں ملوث ہے تو پھر تم لوگ اسکا ساتھ کیسے دے سکتے ہو ” اسکا سوال یقینی تھا
سر آئی ایس آئی کے آفیسر ہیں اپ اس بارے میں معلومات نکلوا سکتے ہیں اور اگر وہ دہشت گرد بھی ہوتے تب بھی ہم لوگ انھیں کے ساتھ ں
کیا تم لوگ پاگل ہو ” شجر کو اس حمایت پر غصہ چڑھا گیا
سوری سر لیکن شاید آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا اور سب سے پہلا سوال ہمارا آپ سے یہ ہے کہ جب آپ لوگوں نے تیس فوجی بھیجے تھے تو اسلحہ اپنی مرضی کے گنے چنے لوگوں کو کیوں دیا
صرف پندرہ لوگوں کو ٹریننگ کے دوران ہم پندرہ کو مارنے کے لیے وہاں اپنے لوگ کھڑے کر دیے ۔۔۔۔
ہماری زندگیوں پر بہزاد سر کا احسان ہے کہ انھوں نے ہمیں وہاں سے نکلوایا ورنہ آج ہماری لاشوں پر چار فائرنگ کرا کر آپ لوگ تو ہمیں تمغہ شجاعت دے دیتا لیکن ہماری فیملیز کا کیا ہوتا ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ ہمارے اپنے افسران نے غداری کی ہے آپ اس غداری پر کیا سزا منتخب کرتے ہیں اپنے لیے ” ایک سختی اور برہمی سے بولا تھا ۔
م۔۔۔میرے علم میں نہیں ” شجر پیشانی پر تیوری ڈالے بولا
آپکے علم میں صرف بہزاد سر کی دشمنی ہے ” ایک جلا کٹا سا بولا ۔ غداری تو آپ نے بھی کی ہے سر ایک مخلص دوست کے ساتھ اتنا تو اپکو بھی اندازہ ہونا چاہیے تھا دس سالوں میں کہ علی شاہ بے قصور ہیں اور ساری فائل حقیقت پر مبنی ہے الٹا آپ عدالت سے نوٹس لیے پھر رہے ہیں بہزاد علی شاہ کو مارنے کا ۔۔۔۔
لیگل طریقے سے ماریں نہ رات کے آخری پھیر چوروں کیطرح کیوں مار رہے ہیں اور بہزاد سر کوئی گولی کھائیں اس سے پہلے ہم کھائیں گے ” وہ یک زبان بولے تو شجر خاموش ہی رہ گیا ۔
اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ وہاں سے نکل گیا اسے عجیب گھبراہٹ سی ہو رہی تھی ۔
اسنے پہلی بار اپنے موبائل سے مبین خان کا نمبر ڈائل کیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کر رہی ہو یہ ” ہارون نے انیسا کو دیکھا وہ ناشتہ بنا رہی تھی
روح کے لیے ناشتہ بنا رہی ہوں ” وہ بولی
باقی بھی اولاد تمھاری ہی ہے ” ہارون نے ناگواری سے اسے دیکھا
ہاں تو سب سے ہی پیار کرتی ہوں روح ذرا سینسیٹو ہے ” ہارون کچھ نہیں بولا
یہ لو ” ہارون نے اسکی جانب ایک پیپر بڑھایا
انیسا نے اس پیپر پر دیکھا اور اس پیپر کو غور سے پڑھنے لگی اچانک وہ پیپر اسنے چھوڑا تو پیپر سیدھا آگ پر گیا اور جلنے لگا
انیسا ” ہارون نے اسے دھکیلا اور پیپر کو اگر وہ فورا نہ کھینچتا تو وہ مکمل جل جاتا وہ علی شاہ اور انیسا کا نکاح نامہ تھا
تم ۔۔ تم یہ مجھے کیوں دے رہے ہو ” وہ بے حد گھبرا گئ
کیا بیوقوفانہ حرکتیں کر رہی ہو ” ہارون بھڑکا
ہارون یہ کیسا مذاق ہے مجھے کیوں دیکھا رہے تھے یہ ” وہ غصے کی کیفیت میں تھی اور پیشانی پر پسینہ پھوٹ رہا تھا وہ علی شاہ اور بہزاد سے تھک چکی تھی علی شاہ روز اسکے خواب میں ا رہا تھا کبھی اسے کمرے میں چلتے پھیرتے دیکھائی دیتا کبھی اسکی آواز اسے آ جاتی اور وہ ان سب چیزوں کو ہارون سے چھپا رہی تھی کہ وہ سے پاگل نہ سمجھے لیکن بہزاد کے نا آنے کے باوجود بھی وہ مینٹل طور پر علی شاہ کو لے کر اچھی خاصی ڈسٹرب ہو رہی تھی
ہارون نے اسے غور کر دیکھا
یہ نکاح نامہ ہے اسے سنبھال کر رکھو تم نے پہلے والا پھاڑ دیا تھا “
مجھے ۔۔۔ مجھے نہیں رکھنا لے جاؤ یہاں سے ” وہ پریشانی سے بولی
اور ہارون غصے سے باہر نکل آیا انیسا نے شیلف کو زور سے پکڑ لیا
اور اپنی پیشانی صاف کی
معلوم نہیں ہارون کہاں جا رہا تھا
بنا اس سے کچھ کہے وہ چلا گیا حمزہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ دوسرے شہر گیا ہوا تھا جبکہ ماہنور بھی اپنی دوست کیطرف چلی گئ تھی اب گھر پر صرف انیسا اور روح تھیں
اور انیسا نے ناشتہ ٹیبل پر لگایا تو روح دوڑ کر نیچے آئی اور باہر جانے لگی
آؤ روح میں نے ناشتہ بنایا ہے تمھارے لیے ” وہ مسکرا کر بولی لیکن روح نے نفی کر دی
مما بہزاد کو گولیاں لگیں ہیں ” وہ رونے دینے کو تھی انیسا اسکا نام سن کر دانت پیس گئ
م۔۔میں۔۔۔ میں اسکے پاس جا رہی ہوں ” وہ آنسو صاف کرتی باہر بھاگتی کہ انیسا نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گی تم یہیں رہو وہ دشمن ہے ہم سب کا وہ اچھا آدمی نہیں ہے وہ ۔۔۔ وہ ” وہ عجیب گفتگو کر رہی تھی روح کو اسکا انداز عجیب سا لگا وہ بہزاد کو پسند نہیں کرتی تھی اتنا تو اسے اندازہ ہو گیا لیکن اسکا انداز جو تھا وہ ایسا نہیں تھا کہ روح اسے نارمل کہتی ۔۔۔
مما ” وہ رک گئ
ہاں روح وہ اچھا آدمی نہیں ہے وہ وہ اور اسکا باپ ۔۔ میں ۔۔۔ میں صرف تمھیں بتا رہی ہوں وہ دونوں اچھے نہیں ہیں وہ مجھے مارنا چاہتے ہی مجھے وہ روز میرے خواب میں آتا ہے مجھے لینے میں مرنا نہیں چاہتی روح میں ہارون کو یہ سب نہیں بتا سکتی وہ مجھے پاگل سمجھتا ہے وہ کہتا ہے میں بہزاد کو ہر وقت سوچتی رہتی ہوں لیکن وہ آتا ہے وہ مجھے ڈراتا ہے یہ یہ ہاتھ بھی اسی نے کاٹا تھے میرے وہ کبھی میرا گلہ دبا دیتا ہے کبھی مجھے مارنے کی کوشش کرتا ہے ” اسکی ہچکیوں پر روح کی آنکھیں پھیل گئیں وہ وہیں تھم گئ اور شاید اسے لگا کہ اسے اپنی ماں کو گلے لگانا چاہیے وہ اسے گلے لگا گئ جبکہ انیسا رونے لگ گئ ۔
آپ کو غلط فہمی ہے ایسا کچھ نہیں کر سکتے بہزاد ” وہ بولی لیکن اسے یقین خود بھی نہیں تھا کہ وہ سچ بول رہی ہے یہ نہیں
نہیں روح وہ واقعی اچھا انسان نہیں ہے “
اچھا آپ نے کچھ کھایا ہے ” روح کو بے ساختہ اسکی حالت پر ترس آیا تھا
انیسا نفی میں سر ہلا گئ اور روح اسے لے کر اندر ا گئ
آپ بیٹھیں ہم ناشتہ کرتے ہیں ” وہ مسکرائی انیسا اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگی
وہ خوش ہو گئ تھی اسکی تھوڑی سی توجہ سے جبکہ روح اسکے انداز پر پریشان ۔۔۔ ماں تھی وہ اسکی ۔۔۔
بھلے عرصے بعد ملی تھی رشتہ تو ایسا تھا نہ کہ وہ اسے چھوڑ کر کہیں نہ جاتی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہزاد کو ہوش آیا تو کمرے میں پلوشہ اور مہروز کو دیکھ کر گھیرہ سانس بھر گیا ۔
اسنے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔
لیٹے رہیں آپ کی طبعیت نہیں ٹھیک ” پلوشہ نے کہا تو وہ سر جھٹک گیا
یہ بس ایک گولی تھی “
ہاں آپ تو بہت ماہان ہیں بہت کچھ کھا سکتے ہیں ” پلوشہ ذرا غصے سے بولی
لڑکی کے تیور بدل رہے ہیں بھائی چیک کر ” مہروز نے شرارتی لہجے میں کہا تو بہزاد نے پلوشہ کی سمت دیکھا
ویسے اسکے ساتھ رہ کر اسکے شوہر کے بھی بدل گئے ۔۔۔
واہ پلوشہ تم کمال ہو ” وہ بولا جبکہ پلوشہ نے اسکے سر پر تھپڑ مارا ۔
مجھے اس فضول انسان کے ساتھ ملانے کی ضرورت نہیں ” اسکے غصہ کرنے پر مہروز ایکدم چمکا
تو مجھ سے شادی کرنی تھی نہ اوین جا کر اسکی جھولی میں بیٹھ گئ ” وہ منہ بنا کر بولا
یہ سب وہ سن لے تو تم زندہ نہ بچو ” بہزاد بولا تو دونوں نے اسے غور کر دیکھا
یک زبان بولے تھے
” اسکی حمایت مت لینا “
میں حمایت نہیں لے رہا جسٹس انفارم کر رہا ہوں اور میرے سامنے اترنا بند کرو دونوں ” وہ بولا تو دونوں چپ ہو گئے
اور تبھی دروازہ بجا ان سب نے دروازے کی سمت دیکھا تو بہزاد ماہ نور کو وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا
پلوشہ بھی اس اجنبی کنفیوز سی لڑکی کو دیکھ رہی تھی جبکہ مہروز کی تو آنکھوں ک سے دل نکلنے لگے ماہنور کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔
ہائے کیسے ہیں آپ مجھے پتہ چلا آپ زخمی ہیں تو میں اپکے لیے پھول لے ائی ” ماہنور نے اسے کہا جبکہ بہزاد کے چہرے پر بےزاریت کی انتہا تھی
کیا مصیبت پال لی بہزاد ” وہ خود سے ہی بولا ۔
نہیں یار مصیبت تو بلکل نہیں ہے ” مہروز بھی اہستگی سے بولا ماہ نور البتہ کنفیوز ہو چکی تھی وہ تینوں اسے ایسے ہی دیکھ رہے تھے
ک۔۔۔کیا میں نے کچھ غلط کیا ہے ” وہ سانس اٹکاتی بولی
ارے نہیں بیٹھو تم ” وہ نرمی سے بولا تو وہ مسکرا دی
تمھیں کیسے پتہ چلا ” بہزاد کا یہ سوال یقینی تھا
پلوشہ بھی ماہنور کو دیکھ رہی تھی
میں اپنی دوست کی طبعیت پوچھنے آئی تھی وہاں ریسیپشن پر اپکا نام دیکھا تو سوال کیا انھوں نے بتایا تو میں آپکی خیریت پوچھنے ا گئ”
سو نائس آف یو میم کافی رحم دل ہیں اپ تو ” بس بات مکمل ہونے کی دیر تھی مہروز نے آگے بڑھ کر اسکا نرم ہاتھ تھام لیا
ماہ نور اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی
مہروز ” بہزاد کی پکار پر وہ مڑا
ہاتھ بھی چھوڑنا ہے ” وہ گھور کر بولا
تو مہروز نے منہ بنا کر ہاتھ چھوڑ دیا
میرا نام مہروز ہے اپ کا گڈ نیم “
ماہ نور ” جواب بہزاد نے دیا تھا
تجھ سے نہیں پوچھا ” وہ گھورنے لگا
اوکے جسٹس شیٹ اپ تمھیں فلرٹ کرنا ہے کہیں اور جا کر کرو ” بہزاد چیڑ گیا
جبکہ ماہ نور مہروز کے پاس سے ہٹ گئ
ابھی مجھے جانا ہے میں پھر او گئی ” وہ نرمی سے بولی جبکہ بہزاد نے سر ہلایا اور ماہ نور باہر نکل گئ جبکہ مہروز دل پر ہاتھ رکھتا جھوم گیا ۔
یار ہیرو ہے تو بھئ تیرے اردگرد ایسی حسین لڑکیوں کا جھرمٹ ہوتا ہے کس کس پر زبان گیلی کرو میں ایک یہ محترمہ ہے ہتھے ہی نہیں چرھتی ” ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی پلوشہ نے گلشن اٹھایا اور اسکے سر پر مارنے لگی
اوئے ڈاکٹر ہو کر خون کرو گی ” مہروز چیخا
اپنی بکواس بند کرو تم “
دیکھا کیسے چار دن اپنے شوہر کے ساتھ گزار کے اسنے آنکھیں ماتھے پر رکھیں ہیں جاؤ جاؤ لڑکی اب مجھے نیا شکار مل گیا ہے ” وہ ماہنور کو سوچنے لگا بہزاد تو آنکھوں پر بازو رکھ گیا یہ بکواس جو اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی اور اچانک اسے کچھ یاد آنے پر اسنے سر اٹھایا
ہسپتال کے پیسے کہاں سے آئے ” اسنے مہروز کو دیکھا
” یہ قائداعظم کی بہن ہیں نہ ہمدرد دوا خانہ ” انھوں نے ہم غریبوں کو اس ہسپتال میں جگہ دی ہے ” وہ بولا تو بہزاد دوبارہ اسی پوزیشن میں چلا گیا جبکہ پلوشہ اور مہروز دوبارہ کرائی سٹارٹ کر چکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے گھر نہیں چلنا ” شجر اسکے کیبن میں آیا اور آتے ہی سوال کیا تو پلوشہ نے ماتھے پر تیوری ڈالے
بدقسمتی سے اپنے ہی گھر جاؤں گی فکر کس بات کی ہے آپکو ” اسکی بات پر شجر مسکرایا اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
میری تپتی زندگی میں چین کی گھڑی ہو تم “
مجھ سے فری نہ ہوں ” وہ بھڑکی
کس سے ہوں پھر ” وہ اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ گیا
اتنا اچھا بننے کی ضرورت نہیں اپکو جائیں یہاں سے میری نائیٹ ڈیوٹی ہے “
یہ ڈاکٹر اور میجر کا رشتہ اچھا نہیں ۔۔۔۔
ہمیں تو رومانس کا وقت ہی نہیں ملے گا ” شجر کچھ سوچتا افسوس سے بولا
بلکل ٹھیک کہا ہے اپ نے ہم دونوں کا رشتہ بلکل اچھا نہیں اب جا سکتے ہیں اپ “
آگے بھی کہا ہے کچھ ” اسنے یاد دلایا
میں بے مطلب باتوں پر توجہ نہیں دیتی “
زبان تو تمھاری کھینچی کی طرح چلتی ہے نانی جان کو تم ایسے ہی بھولی لگتی تھی ” اسکی بات پر وہ طنزیہ مسکرائی
ہممم نانی جان جن کا قاتل میرا شوہر ہے ” پلوشہ نے بھی چٹکی جیسے بھر لی تھی اسکے ۔۔۔
میں نے نہیں مارا انکو میں کتنی بار بتاؤ تمھیں “
آپ نے ہی مارا ہے ” وہ بھرک اٹھی
میں کیسے یقین دلاؤ ” وہ بولا تو پلوشہ نے سر جھٹکا
آپ کچھ بھی کر لیں آپ کسی کے نہیں جو اپنے دوست کا نہیں وہ سب کا دشمن ہے اور اتنے میٹھے پیارے کس لیے بن رہے ہیں ضرور کچھ نیا سوچ رہے ہوں گے بہزاد کو مار دینے کا نوٹس تو ہے آپکے پاس پھر کس بات کا انتظار کر رہے ہے ” وہ شعلے اگلتی شجر عباس کو شرمندہ کر چکی تھی
لیکن وہ ثبوت ابھی جمع کر رہا تھا ابھی یہ بات طے نہیں ہوئی تھی کہ بہزاد اور علی شاہ صاف ہیں ۔۔۔۔
پلوشہ اٹھ کر چلی گئ جبکہ وہ مبین خان کی کال کا تو صبح سے منتظر تھا
وہ اسکی کال نہیں اٹھا رہے تھے شجر ان سے رابطہ کرنا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن اسنے انیسا کے ساتھ گزارا انیسا کی کچھ عجیب حرکتیں بھی دیکھیں اور پھر ہارون کو آتا دیکھا وہ کھڑی ہو گئ ہارون سے تو بات بھی کرنا پسند نہیں کرتی تھی انیسا سو رہی تھی اس وقت اور روح اسے صوفے پر ہی چھوڑ کر وہاں سے جانے لگی کہ ہارون نے موقع دیکھتے مزے سے اسکی کلائی پکڑتا اسے اپنی سمت کھینچا لیا
روح اسکے موٹے وجود سے ٹکرائی اور ہارون خبیث سا ہنسنے لگا
یہ ۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ” روح کی سانسیں کافی دنوں بعد بے ساختہ اکھڑ کر پھولنے لگ گئیں تھیں
شہزادی بدتمیزی تو بہت عرصے پہلے کی تھی میں نے ان گلابی گلابی ہونٹوں کو چوم کر ” روح کا وجود کانپ اٹھا
م۔۔۔میرا ہاتھ مما ” وہ پلٹی مگر انیسا سو رہی تھی
چھوڑو دفع کرو مما کو تم میرے ساتھ خوش رہو گی ۔۔۔۔ وہ دانت نکوستا ہوا بولا
بہزاد اپکو جان سے مار دیں گے اور میری دعا ہے بہزاد اپکو مار دیں ” وہ اپنی سانسوں کو سنبھالتی بولی
روح اپنی سانسوں کو سلجھانا چاہ رہی تھی
لیکن پھر بھی وہ لمبے لمبے سانس بھرنے لگی اسنے اپنی پشت میں سے ان ہیلر نکالا اور لبوں سے لگاتی کہ ہارون نے اسکا ان ہیلر پھینک دیا اور ہنسنے لگا
روح بے حد گھبرا گئ اور گھبراہٹ کے مارے اسکی سانسیں اور بھی الجھ رہی تھی اور ہارون آگے جا کر اسکے ان ہیلر پر پاوں رکھ گیا
آؤ روح میں تمھیں سانسیں دیتا ہوں ” وہ اسکے گلابی گالوں کو چھونے لگا
روح سانس لینے کے لیے اس وقت دنیا کی بے بس لڑکی لگ رہی تھی وہ اسکی جانب بڑھی اور روتے ہوئے اسکے پاؤں کو اٹھانے لگی
ارے روح کو سانسیں چاہیے آؤ میں دوں تمھیں ” وہ جھکا اسکے ہونٹوں پر لیکن روح دور ہو گئ وہ ہچکیاں لے رہی تھی
مما ” روح نے انیسا کی جانب بھاگنے کی کوشش کی لیکن ہارون نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا
اور زبردستی روح کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ چپکا دیے ۔۔۔۔
روح کو لگا اسکی جان نکل گئ ہو ہارون اسکے ہونٹوں کا کاٹ رہا تھا وحشی پن سے اسپر ہنس رہا تھا جبکہ روح لہرا سی گئ اور اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی کہ انیسا اٹھ گئ
سامنے کا قیامت خیز منظر دیکھ کر ۔۔۔۔ وہ دنگ رہ گئ
ہارون۔” وہ دھاڑی
اور ایکدم ہارون نے روح کو چھوڑ دیا
وہ تو زمین بوس ہوئی لیکن انیسا کہ اندر ایک جلال سا ابھر گیا وہ چیل کیطرح اسپر جھپٹی
دور ہو مجھ سے ” وہ بولا
جبکہ روح زمین پر پڑی تھی اور انیسا ہارون کا گریبان جکڑ گئ تم اتنے نیچ کیسے ہو سکتا ہو ہارون “
اسکا ان ہیلر ٹوٹ گیا اور وہ میرے ہونٹوں سے ا کر لگ گئ اس میں میں کیا کروں سکتا ہوں ” ہارون آگ بگولہ ہوا جبکہ انیسا نے ٹوٹا ہوا ان ہیلر دیکھا اور پھر روح کو حیرانگی سے دیکھا
وہ صرف مجھ سے مدد مانگ رہی تھی اور میں نے اسکی مدد کی ۔۔۔
تم غلط سوچ رہی ہو ” وہ گھور کر اسے چلا گیا جبکہ وہ یوں ہی روح کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔