No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
کیا مسلہ ہے بہزاد ” مہروز نے بلاخر اسے چیڑ کر دیکھا جو اپنی ڈرپ اتار چکا تھا ۔
میں پچھلے ڈیڈ دو دن سے ہوں یہاں اور ٹھیک نہیں ہو رہا جبکہ ایسی گولیاں کھا کھا کر تنہائی میں ہی ٹھیک ہو جاتا تھا تو مجھے ان چونچلے کی عادت نہیں رہی شاید ” وہ بولا لہجہ سپاٹ تھا مہروز نے گھیرہ سانس بھرا
وہاں روح غائب ہے یہاں تم بھی جانا چاہتے ہو کیا کروں میں تمھارا ” بہزاد نے روح کے غائب ہونے کی اطلاع پر ایک نظر اسے دیکھا اور اپنا بیگ اٹھا لیا
میں تم سے دور رہو گا تو تم سب لوگوں کی جان اتنی مشکل نہیں ہو گی “
ہاں تمھارے دور رہنے پر بھی حملہ مجھ پر ہی ہوا ” مہروز نے یاد دہانی کرائی
شجر پر بھروسہ نہ رکھنا ایک بار ڈسک جانے کے بعد ایک ہی انسان پر دوسری بار بھروسہ کرنا حماقت ہے ” وہ کہہ کر شانوں پر بیگ ڈال کیا گیا
بہزاد پلیز یار ہم ساتھ رہ سکتے ہیں ” مہروز سنجیدگی سے اسکے سامنے آیا
ہمیں ساتھ نہیں رہنا میری زندگی کسی گولی کی نظر ہو جائے گی مجھے پرواہ نہیں لیکن تمھاری زندگی ضائع ہونے کے لیے نہیں ہے ” وہ اسکا شانہ تھپتھپا کر نکلنے لگا اور پھر دروازے کے پاس رک گیا جیسے کچھ یاد ا گیا ہو
ایک سجیشن دوں “
نہیں ” پٹاخے سے جواب آیا
ماہنور سے بنا لو اچھی لڑکی ہے ” اسنے کہا تو مہروز ہلکا سا مسکرایا
مجھے اپنی زندگی کسی بھی پلینگ کے تحت نہیں جینی ۔۔
اسکی بات پر بہزاد نے رخ موڑ کر اسے دیکھا
مجھے اپنی بیوی کو گولیوں کی گونج میں نہیں رکھنا مجھے اسے یہ ثابت نہیں کرنا کہ اسکو پانے کے پیچھے میرا ایک بہت بڑا مقصد تھا
میں ایک عام انسان ہوں اور عام زندگی چاہتا ہوں تمھارے اور شجر کیطرح کی زندگی میں افورڈ نہیں کر سکتا جہاں اگر کوئی آواز ہے تو وہ موت کی ہے کوئ نغمہ ہے تو وہ غم کا ہے
اسی لیے مجھے فلٹرنگ پر ہی رہنے دو میں کسی کے ساتھ سیریس نہیں ہونا چاہتا ” اسکی بات پر وہ سر ہلا گیا اور بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا
کبھی اسکے خواب بھی کافی عام تھے ۔
باپ سے محبت تھی ۔
ماں سے محبت نہیں تو نفرت بھی نہیں تھی
نانی جان تو عشق تھیں
سب اچھا تھا ایک دوست بھی تھا
زندگی کافی پرسکون اور عیاش تھی
لیکن زندگی کروٹیں لی اور انسان ہر کروٹ پر آہ نہ کرے ایسا ممکن نہیں اسے ہر موڑ پر اذیت دی گئ اور ایسے دی گئ جیسے یہ سب وہ ڈیزرو کرتا تھا
اسنے سر جھٹکا
انسان جتنا غم کو سوچتا ہے انکھ اتنی ہی بےتاب ہوتی ہے چھلکنے کو وہ اپنے انتقام سے ایک انچ بھی نہیں ہلنا چاہتا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مبین خان کی لوکیشن پر پہنچا تو اج اسکا دل بے ساختہ ہی دھڑک رہا تھا ۔
اسنے بس انکی اجازت دینے پر شہر سے دوسرے شہر سفر سر پر پاوں رکھ کر کیا تھا
وہ چھاونی میں تھے وہ اپنا تعارف کراتا اندر بڑھتا جا رہا تھا اور بالآخر وہ اس جگہ پہنچ گیا جہاں وہ کچھ فائلز پر جھکے انکو سٹڈی کر رہے تھے
کمفرٹینل سا روم تھا شاید انکے مزاج کے مطابق ۔۔۔
آؤ شجر عباس ” وہ مسکرائے تو شجر نے کچھ حیرانگی سے انھیں دیکھا اور اسکے کانوں میں آواز گونجی “وہ تمھیں پسند نہیں کرتا “
اسکے نزدیک تم نے 15 کمانڈر غائب کیے ہیں اور تمھاری صلاحیتیں ختم ہیں تمھاری جگہ وہ کسی اور کو رکھتا اور تم آج آرمی سے باہر ہوتے شکر مناؤ اسکا ٹرانسفر ہو گیا ہے ” وہ گھیری سوچ میں کھڑا غیر مری نقطے کو گھورتا گیا جبکہ مبین خان اسی پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے
بیٹھو شجر عباس بتاؤ خیریت سے ملنے آئے ہو ” وہ بولے تو شجر نے سر ہلایا
ایک سوال کا جواب چاہیے بہت بے چینی ہے مجھے ” وہ بولا تو مبین خان دوبارہ مسکرائے
جان لینا بیٹھو پہلی بار ملنے آئے ہو جب میں پنڈی میں تھا بہت بار چاہا تم سے ملوں مگر سنا تھا تم پسند نہیں کرتے مجھے ” وہ بولے شجر نے حیرانگی سے انھیں دیکھا
لیکن مجھے لگا آپ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ پندرہ کمانڈر ” شجر رک گیا
ارے چھوڑو برخوردار وہ تو ہمارا ایک سر پھیرا سا نواب زادہ ہے نہ انکے پاس ہیں معلوم ہے ہمیں اسے کیوں شکایت کرتے ” وہ ہنسے تو اسکی آنکھیں پھیل گئیں
سر پھیرا نواب زادہ ” اسکے لب پھڑپھڑائے
بہزاد علی شاہ ” وہ تسلی سے بولے
وہ کون ہے ” شجر بے چینی سے بولا
آئی ایس آئی آفیسر ” انکے منہ سے سن کر اسے لگا اسکے اعصابی ہر بوجھ بڑھ گیا ہو
لیکن وہ غدار کا بیٹا ہے وہ کیسے آئ ایس آئی آفیسر ہو سکتا ہے “
برخوردار تم صرف وہ دیکھتے وہ جتنا تمھیں دیکھایا جاتا ہے ” وہ مسکرا رہے تھے
نہیں سر میں ۔۔۔ میں بہزاد کو بہت اچھے سے جانتا ہوں بہزاد علی شاہ کا بیٹا ہے علی شاہ جس کے نام پر دنیا جہاں کے کیس بنے ہوئے ہیں اور اسکو مار دینے پر سب فخر محسوس کرتے ہیں ” شجر کی آواز قدرے اونچی تھی اور مبین خان کے چہرے پر بڑی تکلیف سی پھیل گئ
یہ تم اور ہارون سوچتے ہو باقی سب نہیں باقی سب کو علم ہے علی شاہ کیا تھا اور شاید ملٹری اس نقصان پر غمزدہ ہے ” اس غلط فہمی پر جو اسکے نام سے پھیلائے گئ
لیکن میرے پاس کورٹ کیطرف سے وارنٹ ہیں بہزاد کو مارنے کے “
ہاں ہیں علم ہے مجھے بہزاد آئی ایس آئی کے لیے کام کرتا ہے سیکرٹ ایجنٹس کا تو پتہ ہی ہے ہم سب صرف بہزاد کی وجہ سے چپ ہیں کیونکہ وہ ہارون بیگ کو خود مارنا چاہتا ہے “
شجر کو لگا ہوا بہت تیز چلی ہو وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے رہا تھا
وہ بلاسٹ وہ بچوں کی کیفیتیں کراچی میں دنگے فساد ۔۔۔۔
میں کہو وہ سب تم نے کرائے اور میں ثابت بھی کر دوں تو تم کیا کر لو گے ” وہ شانے اچکا کر بولا
تمھارے فیورٹ آفیسر مسٹر ہارون بیگ کوئی عام آدمی نہیں ” وہ مسکرائے تھے
لیکن جلد انکی موت انکی راہ دیکھتے ان تک پہنچے گی ۔۔۔۔
” مجھے یقین ہے بہزاد پر ” وہ کافی تسلی بخش تھے جبکہ شجر کی جان حلق میں پھنس چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسی چوبارے پر دوبارہ ا گیا اسنے آنٹی کو ایڈوانس کرایا تھمایا اور اوپر چڑھ گیا
گرمی تو حسب معمول ہی چل رہی تھی لیکن آج موسم میں کچھ تغیر تھا
تیز ہوا چل رہی تھی جس میں اچھی خاصی مٹی تھی
اس کے لیے یہ سب انوکھا تھا دس سالوں میں ایسا بھی وقت نہیں آیا تھا اسپر ۔۔۔۔
وہ مہروز کے ساتھ رہ سکتا تھا وہ اسی کے گھر رہ رہا تھا لیکن وہ ان سب کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا کیونکہ فلحال ملٹری اسکے پیچھے جو پڑی ہوئی تھی
وہ سیدھا بنا ادھر ادھر دیکھے اندر اس چھت کی جانب ا گیا جہاں ایک ہی بلب جل رہا تھا اسنے دھول اڑاتے تاریکی میں بھی خوف پھیلاتے آسمان کو دیکھا اور پھر چلتے بادلوں میں سے کبھی کبھی جھانکتے چاند کو دیکھا تو پورا چاند تھا
معلوم نہیں کیوں اسے پورا چاند پسند تھا اسکا دل کرتا تھا وہ پورے چاند کو دیکھ کر گائیں ۔۔۔۔
اسنے ہلکی سی دھن بنائی ہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا اسنے اپنی پینٹ کی پوکٹ سے گن نکالی اور گھوما اسنے وہ گن روح پر تان تھا روح ایکدم بیٹھ گئ
مجھے مت ماریں میں روح ہوں ” وہ منمنائی جبکہ بہزاد ائ برو اچکا گیا
یہاں کیا کر رہی ہو ” سختی سے وہ بولا تولہجہ بے لچک تھا بلکل سپاٹ ۔۔
ہوا میں مٹی کی آمیزش بڑھ گئ تھی وہ اندر ایا اور اسکا بازو سختی سے تھام لیا اسکو روح پر شدید غصہ چڑھا ہوا تھا روح اسکے جھنجھوڑنے پر جیسے مکمل ہل گئ
میں تو آپکی بیوی ہوں اپکے ساتھ رہو گی ” وہ بولی اور منہ بنانے لگی بہزاد آنکھیں سکیڑ گیا
ایک تھپڑ پڑے گا سیدھی ہو جاؤ گی ” وہ بھڑکا
جاؤ یہاں سے ” اسنے سے دھکیل دیا
م۔۔۔میں ہارون کے گھر نہیں جاؤں گی وہ اچھا آدمی نہیں اور اور آپ مجھے وہاں بھیج رہے ہیں خود سے ” اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
مجھے تم بہت بری لگتی رہی ہو چلی جاؤ ” وہ اگ بگولہ سا چیخا
لیکن آپ تو مجھے اچھے لگتے ہیں پھر میں کیوں جاؤں” وہ اسکے نزدیک ا گئ
روح “
بہزاد ” وہ اسکا بازو پکڑ کر بولی
بہزاد نے اسکا ہاتھ جھٹکا دیا ” روح اسے منہ بنا کر دیکھنے لگی بہزاد نے وقت دیکھا رات کافی ہو گئ تھی
رات زیادہ ہے تبھی یہاں رک سکتی ہو ورنہ ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیتا ” وہ مٹھیاں بھینچتا بولا
مجھ سے اتنا ناراض ہیں “
ناراض ” وہ طنزیہ نگاہیں گھما کر اسکے پورے چاند سے مکھڑے سے نگاہ چرا گیا جو تھوڑا تھوڑا سرخ ہو رہا تھا
اس قابل نہیں کہ تم سے ناراض ہوا جائے دھوکے باز لوگوں کو صرف مار دینا مناسب ہے “
میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے جو بتایا گیا “
آر یو کیڈ “
سولہ سال کی بچی ہو تم ” وہ چیخا تو روح کا ہاتھ خود بخود اسکے بازو پر سے ہٹ گیا وہ سر جھکا گئ
تم نے دھوکا دیا ہے مجھے اور اتنا پاگل تو ہوں نہیں کہ بار بار تم سے دھوکا کھاؤ تو بہتر پے اپنی بوتھی لے کر یہیں کسی اندھیرے میں غ
گم ہو جاؤ اور ” وہ وارن کرتا انگلی اٹھا گیا
صبح ہونے سے پہلے پہلے دفع ہو جانا یہاں سے ” سختی اور برہمی سے کہہ کر وہ وہاں سے باہر نکل گیا اور اس تخت کو دیکھا جہاں کافی مٹی تھی وہ لیٹ نہیں سکتا تھا تبھی کھڑا ہو گیا ۔
روح نے مڑ کر دیکھا اور ایک بٹن اون کیا
وہ اسکے لیے ایک میٹرس لائی تھی
ایک پنک کشن جس پر وہ سو سکے ایک فین چھوٹا سا اور جتنے اسکے پاس ہاتھ میں پیسے تھے اسنے اسکے لیے وہاں سیٹنگ کی تھی اسنے یلو لائٹس لگائیں تھیں چھوٹی چھوٹی کہ کچھ روشنی ہو سکے ۔۔۔
اور اسنے ایک نگاہ بھی نہیں دیکھا شاید وہ یہ ہی ڈیزرو کرتی تھی
وہ دکھ کے مارے خود ہی اسی بیڈ پر لیٹ گئ اور فین چلا کر لائٹس اون کر لیں اوررونے لگی
اونچی اونچی آواز میں وہ جان بوجھ کر رو رہی تھی
بہزاد نہیں چاہتا تھا کسی کو شک بھی ہو کہ وہ یہاں ہے وہ غصے سے اندر ایا تو اندر کا ماحول دیکھ کر سر تھام گیا
یہ سب کیا ہے ” وہ ذرا غصے سے پوچھنے لگا
آپ کے لیے کیا ہے میں نے تاکہ آپ آرام سے سو سکیں لیکن اپکو تو مجھے ڈانٹنے سے فرصت نہیں طعنے دے دے مار رہے ہیں شرم آنی چاہیے ایک نازک لڑکی کا دل توڑنے والوں کے اللّٰہ ہاتھ پاوں خود ہی توڑ دیتا ہے ” اسکی نوٹنکی کو بہزاد نے خاطے میں بھی نہیں رکھا
اٹھو ” اسنے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا روح نے فورا ہاتھ تھام لیا
بہزاد نے اسے کھڑا کر کے دوسری طرف کر دیا
جاؤ یہاں سے ” وہ کہہ کر میٹرس پر لیٹ گیا
جبکہ ان بتیوں کو بھی بند کر کے آنکھیں بند کر لیں
قدرے بہتر تھا باہر کی نسبت روح منہ بسور گئ اس سنگل میٹرس پر دوسرے فرد کے لیٹنے کی جگہ نہیں تھی
وہ پاوں پٹخ کر باہر نکل گئ اسے یقین ہو گیا تھا یہ انسان بہت سخت دل ہے اسنے تخت کو دیکھا مٹی سے بھرا ہوا تھا
اور ہوا میں مٹی مٹی تھی وہ منہ پر ہاتھ رکھتی اندر ا گئ جبکہ وہ شاید سو بھی گیا تھا اسکے پاس اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ وہیں زمین پر بیٹھ جائے اور وہ بیٹھ گئ
نیند تو اسے بھی ا رہی تھی ۔۔۔
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گئ کہ اسکے اوپر بہزاد کی شرٹ کا گولہ آ کر گیرا ” ایکدم اچھل کر سیدھی ہوئی
ک۔۔۔کیا ہوا ” وہ منمنائی
ادھر ا کر لیٹ جاؤ ۔۔ مجھے ویسے بھی نیند نہیں ا رہی اور یاد رکھنا صبح ہوتے ہی نکل جانا یہاں سے ” وہ بولا جبکہ روح وہاں سے اٹھ گئ اور منہ بنا کر وہ میٹرس پر بیٹھ گئ
بہزاد اٹھنا چاہتا تھا لیکن وہ پہلے ہی لیٹ گئ تھی
میٹرس سنگل تھا تبھی اسکے لیٹے ہی جگہ اسطرح تنگ ہو گئ کہ
اسے بلکل بہزاد کی بانہوں میں لیٹنا پڑا تھا
بہزاد کے بازو پر سر رکھتی وہ اسکے اتنا قریب تھی کہ اسکی سانسوں کی تپش بہزاد کے دل سے ٹکرا رہی تھی وہ اسکے عمل پر چونکا تھا جبکہ وہ اہستگی سے آنکھیں بند کر گئ
آپ بھی لیٹ جائیں ” اسنے کافی اہستگی سے کہا تھا بہزاد نے دانتوں کو سختی سے بھینچ لیا جیسے وہ اپنے اندر بے ساختہ اٹھنے والے جذبات کو کو دبانا چاہ رہا تھا بہزاد سخت بنا یوں ہی لیٹا رہا جبکہ اسے روح کی مدھم مدھم سانسیں بھاری ہونے لگیں اور دل کے مقام پر پڑتا یہ تپش بھرا احساس الگ ہی طوفان لانے والا تھا
باہر رات کی تاریکی میں سرخ آندھی نے جوش لیا اور اسے ایسا لگا اس چوبارے پر ہوا کا بڑھتا جا رہا ہے اسنے اٹھ کر ایک نگاہ گھما کر دیکھا بہزاد بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
اسنے ذرا سانس اندر اتارا اور اٹھنے لگی کیونکہ اسکے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی روح کو اپنی جگہ اور مقام سمجھ ا گیا
وہ اسے شاید کبھی نہ معاف کرتا اگر وہ خود کو ختم کر کے دوبارہ بھی پیدا ہو کر اسکے پاس آتی وہ تب بھی اسے معاف نہ کرتا ۔۔۔
اسکی آنکھوں میں سرخ لکیر سی بنی اور وہ اٹھتی کہ بہزاد نے اسکی نازک کمر میں سے ہاتھ نکال کر میٹرس کے دوسری طرف ہاتھ رکھا اور اسپر تقریبا چھا گیا ۔
کیا چاہتی ہو ” اسکے لہجے کی پھنکار روح کے چہرے پر پڑی تھی
ک۔۔کچھ نہیں میں مجھے ڈر لگ رہا ہے م۔۔مجھے مما کے پاس جانا ہے ” وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دور کرنے لگی
جبکہ وہ اتنا ہی جھک گیا یہاں تک کے اسکے وجود پر اسنے سارا بوجھ ڈال دیا جان بوجھ کر ۔۔۔
اچھا نیچ عورت کے پاس جانا چاہتی ہو ” وہ بولا جبکہ روح نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں غصہ تھا
وہ ماں ہیں میری ” وہ منمنائی
اور میرے باپ کی قاتل ” اسنے اسکا چہرہ اپنے ہاتھ میں جکڑا اور اونچا کیا اسکی انگلیاں اسکے گالوں میں دبنے لگی
و۔۔۔وہ “
ہممم بولو ” بہزاد نے نزدیک ہوتے اسکے ہونٹوں کے کنارے پر انگوٹھا رکھا
ک۔کچھ نہیں آپ ہٹیں مجھے جانا ہے ” اہستگی سے بولتی وہ اسے دور کرنے لگی
کہاں جاؤ گی ” وہ بولا
اپنے گھر ” وہ بھی ناراضگی سے کہہ گئ
ہمممم سہی “
جاؤ پھر ” وہ دور ہو گیا آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گیا ۔
روح نے اسکی جانب دیکھا بہزاد کی ناک کے نتھنوں سے اسکی مہک ٹکرائی تھی ۔۔۔
وہ اس مہک کو خود میں کھینچ گیا اسکے اندرونی جذبات اسکے اندر مچل رہے تھے اسکو چھونے کو بے تاب تھے جبکہ وہ بار بار خود کو اس سے دور کر رہا تھا جھڑک رہا تھا اپنی اندرونی جذبات کو ۔۔۔
وہ اٹھی تو اسکے ریشمی بال اسکے چہرے کی نرمی کو چھو گئے
بہزاد نے بازو ہٹایا وہ اٹھ رہی تھی ۔
اور بس ہو گئ اسکی وہ اسکا محرم تھا اسپر حق اور اختیار رکھتا تھا ۔۔۔
اندھیرا تنہائی اور اسکے وجود پر حق اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا اور وہ اس وقت ہر شے کو بلا تاک رکھ کر اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر اسکی نازک کمر پر ہاتھ ڈال لیا اور اسے اپنی سمت کھینچا تو روح زور سے میٹرس پر ا کر گیری وہ ایکدم منہ بنا گئ
بہزاد ۔۔۔ یہ یہ کیا جنگلی پن ہے ” وہ اپنی کمر میں اٹھنے والے درد سے کراہتی بولی
بڑوں کی عزت کرنی چاہیے پیار سے نام لو میرا ” اسنے اسکے ریشمی بال اپنی مٹھی میں جکڑے اور اسکا سر پیچھے کو کھینچا بہزاد کی سانسوں میں تیزی تھی
اور اہستگی سے پہلا لمس وہ اسے بخشنے لگا ہے اسکے لب اسکی گردن کی نرمیوں کو بے تاب سے تلاش کرنے لگے
روح اس اچانک اور اتنے شدید حملے پر بھکلا سی اٹھی تھی یہ تو وہ اسے منہ لگانے کو تیار نہیں تھا اور اب اتنی شدت سے وہ اسے چھو رہا تھا
روح کی سانسوں کی ناہمواری گواہ تھی کہ بہزاد کا لمس اسکی جان نکال رہا ہے جبکہ وہ اسے ایسے چھو رہا تھا جیسے وہ برسوں کا پیاسا ہوا اور روح اسکو سیراب کر دینے والا پانی کا کنواں “
لو میرا نام ” اسنے سر اٹھایا اور ان گلابی نشانوں پر انگلی چلائی روح نے سانس اندر کھینچا
یہ۔۔۔یہ کیا حرک۔۔۔حرکت کر رہے ہیں دور رہیں ہماری ۔۔ہماری شادی نہیں ہوئی ہے ابھی ” وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئ بہزاد نے سر کے نیچے ہاتھ رکھا اور اسے دیکھنے لگا
دس سال پہلے کیا ہوا تھا “
میں بچی تھی تب “
شادی کا شوق تمھیں بچپن سے تھا ” اسکے سوال پر وہ شرمندہ ہو گئ
تھوڑا تھوڑا مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ کہ آپ مجھ پر یوں حملہ کریں “
شادی کے بعد تو یہ ہی سب ہوتا ہے اور خیر تمھیں تو دس سال مل گئے “
جی بلکل دس سال ہیں ہمارے بیچ میں دولہا بن کر آئیں مجھے میرے گھر سے لے کر جائیں اسکے بعد جو مرضی کیجیے گا ” وہ اسکا موڈ اچھا دیکھ کر اٹھلائی
جو مرضی ” اسنے آئی برو اچکائی
میرا مطلب ” وہ ایکدم سرخ ہوئی
ز۔۔زبان سے پھسل گیا میں “
اور میرا ہاتھ پھسل رہا ہے ” اسکی انگلیاں روح کی کمر پر پھیلی روح ایکدم دور ہوئی
بہزاد آنکھیں سکیڑ گیا
کہا نہ دولہا بن کے آئیے گا “
تم کچھ زیادہ اونچے خواب نہیں دیکھتی ” اسنے گھیرہ سانس بھرا
خواب پورے بھی تو ہوتے ہیں ” وہ نرمی سے بولی
ہمم۔اور یہی خواب بہت جلد دھوکا بھی دے دیتے ہیں ” وہ روح کے بالوں کی نمی کو اپنی انگلیوں میں محسوس کر رہا تھا جبکہ روح کچھ پریشان سی دیکھ رہی تھی وہ چپ ہو گئ
اب کیا ” بہزاد کو اچھا نہیں لگا اسکا چپ رہنا
میں ۔۔۔ میں ہر اس جگہ اپکو ملوں گی جہاں اپکو میری ضرورت ہو گی بہزاد ” اسنے اسکے ہاتھ تھام لیے
مجھے تمھاری ضرورت نہیں میرے معملات سے دور رہنا اگر تم میرے دل کو خوش کرنے کا ایک ذریعہ بننا چاہتی ہو تو اس حد تک کافی ہو لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں ” اسنے کافی بے رحمی سے اسے ایک درجہ دیا تھا ۔
روح کو نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ ا گیا وہ اسے غم سے دیکھنے لگی
میں صرف اپکے بستر کا سکون نہیں ہوں ” وہ برہمی سے بولی
ہاں علم ہے میں نے تمھیں جو بنایا تھا تم وہ بنی نہیں ” وہ شانے اچکا گیا
روح غصے سے لیٹ گئ اور کروٹ موڑ لی جبکہ بہزاد نے اسکی کمر میں ہاتھ باندھ کر اسکی گردن سے بال ہٹائے اور اسکی گردن پر حسین سا نشان بنایا اور آنکھیں موند لی روح کے آنسو اسکے بازو پر گیرنے لگے اسے علم نہیں تھا وہ اسے کب معاف کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
