No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
اسکی نگاہ اسکے کمرے کے باہر لگے لاک پر تھی جو کہ جدید تھا اور بڑا واضح تھا وہ ہلکا سا مسکرایا اور سر کے پیچھے دونوں ہاتھ لگا کر وہ سکون سے لاونج کا اے سی فل کر کے دراز ہو گیا اسنے اوپر کی جانب دیکھا روح کے کمرے پر نگاہ گئ اور پھر وہ کچن کی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
اسنے آنکھیں بند کر لیں لبوں پر ایک حسین سیٹی کی دھن بجاتا وہ مطمئین تھا اور اس سے بڑا اطمینان کیا ہو سکتا ہے کہ دشمن کی دونوں بیٹیاں اسکے اشاروں پر تھیں تبھی وہ اس گھر میں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی دیر بیڈ پر لیٹی رہی اور جب پیاس سے گلہ خشک ہوا تو اسنے خود کو زبردستی بستر پر سے اٹھایا اسے لگا تھا وہ آئے گا لیکن وہ نہیں آیا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اسنے کچھ دن بھی خوش رہنے نہیں دیا وہ خالی جگ دیکھ کر اٹھی اور باہر نکل آئی سر جھکائے وہ نیچے اتر رہی تھی بہزاد نے اسے کھلی شرٹ اور ٹراؤزر میں دیکھا نائیٹ ڈریس کا سٹائل چینج کر لیا تھا اسنے اچھی بات تھی کمینے آدمی کے ساتھ رہ رہی تھی ۔
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ روح سر جھکائے بنا اسکی جانب دیکھا کچن میں داخل ہو گی
کیا کر رہی ہو ماہ نور ” روح نے اسے سینڈویچ بناتے ہوئے دیکھا تو بولی جبکہ ماہ نور مسکرا دی ۔۔۔
باہر وہ بیٹھیں ہیں تم ملی ہو ان سے ” ماہنور کے شرمانے پر روح نے ذرا کوفت سے اسے دیکھا
اس میں شرمانے والی کیا بات ہے ” وہ سر جھٹک گئ ماہ نور البتہ اندر ہی تھی اور وہ پانی بھر کر باہر نکلی اور سامنے بہزاد کو دیکھ کر ایکدم اسکے ہاتھ سے بوتل چھوٹی اور بے ساختہ چیخ نکلی تھی
اسنے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا ۔
وہ سکون سے روح کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال گیا جبکہ ماہ نور گھبرا کر اسکے چیخ مارنے پر اسے دیکھنے لگی روح کے چہرے پر یکا یک غصہ پھیل گیا
یہ یہ ” ماہ نور ذرا نرویس ہوئی کیونکہ بلکل یقینی سی بات تھی بہزاد ان دونوں سے ہی کافی برا تھا بوائے فرینڈ میٹیریل تو بلکل نہیں تھا نہ ہی کوئی جوان لڑکا وہ ایک بھرپور اور کافی چالاک شخص تھا روح نے غصے سے ماہنور کو اور پھر بہزاد کو دیکھا بہزاد کے سکون میں رتی بھی کمی نہیں آئی ماہ نور اسکے کچھ بولنے کی منتظر تھی ۔۔۔۔
تم ۔۔۔ یہ سب تم ابھی اتنی سی ہو اور تم ” اس سے غصے میں بات ہی نہ بن سکی اسے سمجھ ہی نہ آیا کیا کہے
روح تم جاؤ ” ماہنور ذرا ضدی سی ہوئی
کیوں جاؤں ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی
ریلکس گرلز ماہنور تم میرا تعارف کراو اپنی سٹیپ سسٹر سے ” وہ مسکرا کر بولا جبکہ اسکے ڈیمپلز اتنے برے لگے روح کو کہ دل کیا کہ ان ڈیمپلز میں ماچس کی تالیاں رکھ دے تاکہ نہ آئندہ دیکھیں اور نہ ہی کسی کا انپر دل آئے وہ اتنا جل بھن گئ تھی
ہاں یہ “
بہزاد علی شاہ ” بہزاد نے خود ہی کہا
ہاں ” ماہنور اسکے نام سے بھی متاثر ہو گئ بہزاد روح کے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا
بدقسمتی سے میرے شوہر کا نام بھی بہزاد علی شاہ ہے ” وہ جل کر بولی ماہنور حیران رہ گیا اور بہزاد نہ چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا
چلیں وہ میں تو نہیں ہوں اپ سے مل کر اچھا لگا مس ” وہ اسکی جانب ہاتھ بڑھا گیا
ماہ نور ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
روح نے ہاتھ نہیں ملایا جبکہ بے چینی اسکے انگ انگ سے دیکھ رہی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ماہ نور کو اٹھا کر کہیں پھینک دے اور خود اس کو اچھے سے بتائے یہ کیا حرکت تھی بھلا اسکی ۔۔۔ وہ اسے کیوں جلا جلا کر مار دینا چاہتا تھا ۔
بہزاد نے روح کو مکمل اگنور کیا اور ماہنور سے بات کرنے لگا
ائ تھنک تم نے کچھ اچھا بنایا ہو گا ” وہ کچن میں چلے گئے اور روح میں جالا مکھی پھٹنے لگے
چلو ایک کام کرو تم ایزی ہو کر بناو میں باہر بیٹھا ہوں ” وہ بولا اور ماہنور سر ہلا گئ جبکہ وہ باہر آیا تو وہ تن فن کرتی غصے سے کمرے میں جا رہی تھی بہزاد اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔۔
روح ابھی کمرے کا دروازہ دھڑ سے بند کرتی کہ اسنے اپنا ہاتھ پھنسایا دروازہ کھلا اور اندر ا گیا
اندر آتے ہی دروازہ لاک کر کے اسنے دروازے سے ٹیک لگا کر اسے دیکھا
اچھی بات ہے آپ یہاں ا گئے کہیں نہیں جانا آپ نے ” اسنے دروازے کو مزید لاک کیا بالکنی کا دروازہ بند کیا اور کھڑکیاں بھی بند کر دیں “
جب لڑکی لڑکے کو وٹ ایور میرے جیسے مردوں کو کمرے میں بند کر لے تو اسے خوفزدہ رہنا چاہیے مس روح ” مجھے آپ سے ڈر نہیں لگتا ” وہ سینے پر بازو باندھ کر بال جھٹک کر بولی
ہمم تبھی تو دھوکہ دیا تھا ” بہزاد کی بات پر روح کا غصہ جھاگ کیطرح بیٹھ گیا
ایم سوری ” وہ پہلے ہی جل چکی تھی ایکدم اسکی جانب قدم بڑھا گئ
نا منظور ۔۔ جب تک وہ فائل نہیں آتی تمھاری اس سوری سے مجھے گھنٹا فرق نہیں پڑتا ” وہ اسکے پاس سے ہٹا اور بستر پر دراز ہو گیا
روح اسکے پاؤں کے پاس بیٹھ گئ
میں نے وہ فائل شجر کو دے دی تھی اب میں کیسے لو گی “
تم تو بہت چالاک ہو آرام سے تم سارے کام کر لیتی ہو خود سے چھ سال بڑے مرد کو کتنی سہولت سے بیوقوف بنا لیا تو ایک فائل نہیں لا سکتی ” وہ اسکا مذاق بنانے لگا ۔
میں کوشش “
آ آ اسنے نفی میں سر ہلایا
اگر فائل میرے پاس نہ آئی تو میں تمھارا جینا حرام کر دوں گا کوشش کا سوال نہیں ہے بات ذرا اسی یقین سے کرو میری جان دھان پان جس کانفیڈنس سے تم نے وہ فائل میرے کمرے سے غائب کی ہے ” روح سر جھکا گئ اسے رونا آنے لگا تھا
آپ رات میں نہیں آئے میں انتظار کر رہی تھی “
تم کیوں کر رہی تھی تمھاری بہن کرے گی اب تو ” اسنے دروازے کی جانب اشارہ کیا جو کہ بڑی زوروں سے بجا تھا
روح نے مڑ کر دیکھا
میں اسکا خون کر دوں گی ” وہ بھڑک کر اٹھی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئ
بہزاد کہاں ہیں ” ماہ نور کے سوال پر روح نے آنکھیں سکیڑی
تمھیں شرم نہیں آتی رہی اول تو وہ کسی کے شوہر ہو سکتے ہیں اور اپنے والد کی عمر کے آدمی کے لیے سینڈویچ بنا رہی ہو شیم اون یو اور میرے پاس کوئی بہزاد نہیں ہے “
تم تم مجھے نہ سیکھاؤ مجھے تمھارے کمرے میں دیکھنا ہے ” ماہ نور بھی غصے سے بولی
ایسے کیسے دیکھنا ہے تم نے میں ۔۔۔ میں کیوں دیکھاؤ ” روح دروازے میں اڑ گئ
بہزاد مزے سے یہ ساری گفتگو سن رہا تھا اور وہ پھر وہ جمپ لگا کر اٹھا اور بالکنی سے ماہ نور کی بالکنی کی جانب اتر گیا
آج کل جس طرح کی زندگی وہ جی رہا تھا اسے اپنا آپ کسی بے فکر بندر سے نہیں لگ رہا تھا
ماہنور اور روح کی لڑائی اس حد تک ہو چکی تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بال ہی نوچ لیتیں اور ماہنور اسے دھکیل کر اندر چلی گئ تو اندر خالی کمرہ منہ چیرا رکا تھا جبکہ ماہنور کے کمرے سے نکل کر بہزاد دوبارہ لاونج میں ویسے ہی بیٹھ کر سیٹی پر دھن گنگناتا پاؤں جھلانے لگا ۔
روح بھی خالی کمرہ دیکھ کر شکر ہوئی اور اسے لگا وہ یقینا چلا گیا ۔۔ اسنے بالکنی کی جانب دیکھا اور ایک سانس کھینچ گئ
ماہنور ابھی واشروم کی تلاشی لے رہی تھی روح اداسی سے باہر آئی اور لاونج میں اسے دیکھ کر ایکدم ڈر گئ جبکہ بہزاد نے انکھ دبائی اور روح کا دل دھڑکا ۔
اسنے پلٹ کر دیکھا ماہنور بھی اداس ہوئی اور پھر اسے دیکھ کر وہ خوش ہو گئ
وہ نیچے گئ اس سے پوچھنے لگی کہ وہ کہاں چلا گیا تھا
میں تو یہیں تھا تم ہی اوپر چلی گئ تھی “
مجھے آپ نظر نہیں آئے ” وہ بولی تو روح نے مٹھیاں بھینچ لیں اتنا اٹھلا کر کیوں بول رہی تھی وہ اسکا تھا بس وہ غصے سے نیچے ا گئ بہزاد رغبت سے سینڈویچ کھارہا تھا ۔
روح کا دل الگ دکھ رہا تھا
وہ کچن میں آ گئ اور کافی کا مگ اٹھا لیا اسکو کافی پسند نہیں تھی لیکن پھر بھی وہ باہر لے ائی اور کچھ دیر وہ ان دونوں کا اٹھلانا برداشت کرتی رہی اور پھر اسنے ماہ نور پر کافی ساری الٹ دی
روح ” ماہ نور غصے سے چیخی
بہزاد نے نوٹس نہیں لیا کیونکہ اسکے ہاتھ میں کافی کے کپ کا مقصد وہ جان چکا تھا
سوری سوری ” دو لٹھ مار کر کہہ کر وہ منہ موڑ گئ
اٹس اوکے ہنی تم شاور لے لو زیادہ پیاری لگو گی ” وہ بولا تو روح منہ بنا کر اسے دیکھنے لگی بہزاد کے ڈیمپلز بار بار ابھر رہے تھے
میری بہن پاگل ہو چکی ہے “
ہمم مجھے بھی یہ ہی لگا ” بہزاد سینڈویچ کی بائیٹ لیتے بولا
ویسے اتنا اچھا کھانا بنانے پر انعام ہونا چاہیے کوئی تمھارا ” اسنے جیب سے کئی نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھائے ماہنور ذرا اپنے کپڑوں سے کوفت زدہ سی کھڑی تھی لیکن اسکا انعام دیکھ کر خوش ہو گئ روح کی آنکھیں ابل آئی یہ اسکا پیسہ تھا جو وہ لٹا رہا تھا وہ مٹھیاں بھینچ کر اسے دیکھنے لگی
میں فریش ہو کر آتی ہوں اپ انتظار کریں گے “
وائے ناٹ میں بور نہیں ہوں گا تمھاری بہن مجھے کمپنی دے گی “
یہ بہت بدتمیز ہے اپ کچھ دیر ویٹ کریں میں آتی ہوں ” وہ جلدی سے بولی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ جبکہ اسکے جاتے ہی روح نے اسکے آگے سے پلیٹ کھینچی اور کافی کا مگ بھی الٹ دیا
واقعی بدتمیز ہو تم تو اچھا بھلا انسان کھانا کھا رہا ہے اور تم ہو کہ ” وہ بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ روح کی جیلسی اب اسے رلا چکی تھی اسکے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے بہزاد کو ایک منٹ کے لیے بھی فرق نہیں پڑا وہ ہاتھ میں موجود سینڈویچ کو دیکھتا اسکے آنسو دیکھ کر انجوائے کرنے لگا
خوبصورت تو تم ہو اس میں ہارون کا قصور نہیں ہے ” اسکے کپلیمنٹ پر روح کو اور رونا آیا بہزاد سر جھٹک گیا
آپ بہت ظالم ہیں ” وہ بولی اسکے نزدیک خود آ گئ شاید وہ کچھ چاہتی تھی اور بہزاد جیسا میچور مرد یہ بات سمجھ نہیں سکے ایسا ممکن ہی نہیں تھی لیکن وہ اپنی انا پر لگے وار کو بھول جائے اپنی انکھوں میں اتری حیرانگی کو فراموش کر دے ایسا بھی ممکن نہیں تھا روح اسکے پاس آ گئ او خود ہی اسکے ہاتھ ہٹا کر اسکی ٹانگوں پر بیٹھ گئ
بہزاد ایم سوری نہ پلیز “
ایک بات بار بار ریپیٹ نہیں کرتا میں ” اسنے سینڈویچ کو منہ میں ٹھونسا اور اسکی خوشبو کو محسوس کرنے لگا
بھنی بھنی میٹھی سی خوشبو پہلو سے اٹھتی قیامت سا روپ اسکی تھائی پر بیٹھا ہو اختیار اور حق مکمل ہو وہ کیسے نگاہ بچا سکتا تھا
اسکی سبز آنکھوں میں سرخی تھی رونے کے باعث ۔۔۔۔۔
بہزاد نے البتہ اسے چھوا نہیں وہ یوں ہی اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
مجھے سانس نہیں ا رہا ” وہ منمنائی
میں کیا کروں ” وہ ہی اکھڑا ہوا لہجہ تھا روح شرمندہ سی ہو گئ
ٹھیک ہے آپ اس ۔۔۔۔ اس ماہ نور چڑیل “
وہ اٹھتی کہ بہزاد نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ اسے وہیں بیٹھا لیا
روح کے ریشمی بال اسکے چہرے کو چھوئے تھے جو اسکے اندر احساس کو اجاگر کر رہا تھا ۔
ہمم تو تمھیں سانس نہیں آ رہا لیکن تم تو اچھے سے سانس کھینچنے کی صلاحیت رکھتی ہو ڈرامے باز لڑکی “
آپ ۔۔۔ آپ مجھے انسلٹ کریں گے اب بس ” اسنے منہ بسورتے ہوئے اسکی گردن پر اپنی انگلی رکھی۔
بہزاد نے وہ ہی انگلی جکڑ کر موڑ دی
آہ ب۔۔بہز ” وہ تڑپی
زیادہ غصہ ہونے کی کوشش بھی مت کرنا “
س۔۔سوری ” وہ جلدی سے آنسو چھپاتی بولی اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن بہزاد شاید خود بھی نہیں جانتا تھا وہ اس سے کیا چاہتا تھا اسپر غصہ بھی حد سے زیادہ تھا اس سے شکوے بھی تھے
لیکن محبت کا کیا کرتا جو اسکا معصوم چہرہ دیکھ کر جرم کی معافی کے لیے کھڑی ہو گئ تھی
اور یہ ہی کیفیات اسے مزید تپ چڑھا رہی تھی کہ وہ اتنا کمزور نہیں تھا کہ ایک دھوکے باز لڑکی کو دوبارہ موقع دیتا البتہ موقع پرست اور مطلب پرست ضرور تھا
You try to seduce me hmmm right”
اسکی بھاری آواز روح کے وجود پر بوجھ سا بنا گئ
اسنے حلق تر کیا اور نگاہ تھی کہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں پری تھی وہ اتنا شاندار مظبوط اور جان کھینچ لینے کی حد تک متاثر کن تھا
Then you are successful “
اہستگی سے بولا اور روح کو مزید قریب کر لیا وہ گھبرا رہی تھی اسکے ہاتھوں کی کپکپی کو محسوس کرتا فخر سے مسکرایا تھا کہ بس ابھی اسکی قربت پر ہی وہ کانپ سی اٹھی۔
وہ اپنے شخصیت کے سحر سے واقف تھا
روح کے بال اسکے چہرے کو چھونے لگے اور بہزاد نے اسکے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر زور سے دبا لیا
روح لب بھینچ گئ ۔
وہ جس طرح کی حرکت کر رہا تھا وہ اسی سے بے بس ہو رہی تھی
اسنے اسکی کان کی لو کو چھوا اور اپنی بھاری انگلی سے اسکے بالوں کو اسکی گردن سے دور کیا
اور اب اسکی گردن کو چھونے لگا اسکی تپتے ہوئے لمس پر وہ اسکی شرٹ جکڑ گئ اور بہزاد نے اسکا رخ اپنی سمت کیا اور اسکی گردن کو لبوں میں بھر کر وہ اسپر ایک خوبصورت مگر پہلا نشان بنا رہا تھا اور روح اسکی ان بے رحم سی حرکتوں پر ڈوبتے ہوئے دل کو سنبھال نہیں پائی کہ اسکے لبوں سے نکلتی مدھم آواز نے بہزاد کے اندر جنون سا بھی دیا
پ۔۔۔پلیز ” وہ تڑپی
اور اسنے اسکے منہ پر اپنی ہتھیلی رکھ دی
اچانک انھیں جھٹکے کی آواز محسوس ہوئی تو بہزاد نے لمہوں میں اسے خود سے دور دھکیلا کہ وہ اسکے قدموں میں جا گیری
ماہنور ا گئ تھی
روح بھی اٹھ کر سیدھی ہوئی بہزاد نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ پھیرا اور انکا گیلا پن روح کو دیکھانے لگا
روح نے ماہنور کو دیکھا اور جلدی سے اپنے بال آگے کر لیے
اب تک اسکے وجود میں کپکپی طاری تھی جو سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی
وہاں سے ماہنور مسکراتی ہوئی نیچے آئی اور بہزاد اپنے ڈیمپل کی نمائش کراتا اٹھ کر باہر نکل گیا
ماہنور نے اسے پکارہ بھی مگر وہ رکا نہیں اور ماہنور غصے سے روح کو دیکھنے لگی
تم نے کوئی بدتمیزی کی ہو گی ” وہ اسپر بھڑک رہی تھی لیکن روح جلدی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئ اب تک وہ گیلا لمس اسے محسوس ہو رہا تھا اور وہ کمرے میں بند ہو گئ
ائینے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے اہستگی سے بال ہٹائے اور ایک سرخ نشان دیکھ کر اسکے رونگٹے سے کھڑے ہو گئے وہ جلدی سے وہ نشان چھپا گئ اور منہ پر ہاتھ رکھ کر بستر میں گھس گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہزاد کی محبت میں رفتہ رفتہ گرفتار ہوتی چلی گئ اگر خبر ہوتی تو ضرور وہ خود کو رکتی لیکن یہ محبت بڑے ڈبے پاوں اسکے اندر اتری تھی اسی دن سے وہ گلٹ میں چلی گئ تھی جب سے اسے دھوکا دیا تھا اور اسکے بعد وہ خود اسکے دل میں اتر گیا
پورا ایک ہفتہ گزر گیا تھا ایک دن بھی وہ نہیں آیا وہ ہر رات اسکی منتظر رہی تھی
وہ سمجھ گئ تھی جب تک وہ فائل نہیں دے گی نہ ہی وہ اسے معاف کرے گا اور نہ شاید وہ آئے ۔۔۔
تبھی وہ شجر کے گھر ا گئ تھی وہاں پلوشہ کو دیکھ کر مسکرائی اور جلدی سے اسکے ہاتھ تھام گئ
تھینکیو تھینکیو سو مچ پلوشہ تمھاری وجہ سے میں بہزاد سے محبت کرنے لگ گئ ” وہ مسکرا کر بولی تو پلوشہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا اور اپنے ہاتھ چھڑایا لیے
بہزاد تمھیں معاف نہیں کرے گا “
میں منا لوں گی” وہ اہستگی سے بولی
ہمم ” وہ غصے سے منہ پھیر گئ
ایم سوری میں نے سب کا دل دکھایا مگر ” ۔ مم
مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے جس کا دل دکھایا ہے اس سے مانگو “
دن رات مانگو گی نہ ” وہ بے ساختہ بولی پلوشہ نے اسے غور سے دیکھا اور سر ہلا گئ
کیوں ائ ہو “
وہ ہی فائل لینے جو بہزاد کے گھر سے یہاں لائی تھی ” وہ اسے سچ بتا گئ
پلوشہ اسکی بیوقوفی پر ہنس دی
تم واقعی کم عقل ہو اور کوئی بھی تمھیں اپنے اشاروں پر ناچا سکتا ہے
میرے ہوتے ہوئے تمھیں لگتا ہے شجر عباس وہ فائل یہاں چھوڑے گا ” روح کے چہرے پر فکر سی اتری ۔
وہ ۔۔۔۔ وہ فائل لے گیا ہے یہاں سے ” پلوشہ نے کہا تو روح خاموش رہ گئ اسنے لب دبائے اور مڑی
کیا تم یہاں سے جانا چاہتی ہو ” اسنے ایک نگاہ پلوشہ کو دیکھا
مجھے قید نہیں کیا گیا نہ میں قیدی ہوں اپنی فکر کرو ” وہ روکھے لہجے میں کہہ گئ اور روح کو اسکا لہجہ کافی محسوس ہوا لیکن اسنے یہ ہی تصور کیا وہ سب کی ناراضگی ڈیزرو کرتی ہے
وہ وہاں سے نکلی اور اپنے چھوٹے سے دماغ کو اسنے مکمل حرکت دے دی
کہاں ہو سکتی تھی وہ فائل کہاں “
اور ہارون بے ساختہ کلک ہونے پر اسکا دل کیا گاڑی کھمبے میں مارے اور اپنا ہی قتل کر لے
فائل اسکے گھر میں تھی وہ دنیا میں ڈھونڈ رہی تھی فورا گھر پہنچی اور اسنے گھر میں کچھ اجنبی لوگوں کو دیکھا تو رک گئ
انیسا کے ساتھ کچھ مہمان بیٹھے تھے
یہ میری بیٹی ہے روح ” انیسا نے اسے ملوایا تو وہ سب سے مل کر جانے لگی
روح ادھر او ” انیسا نے پھر اسے پاس بلا لیا
روح نا سمجھی سے بیٹھ گئ
یہ کاشان ہے ” اسنے ایک لڑکے سے ملوایا
روح نے سر ہلایا
ہمیں تو آپکی بیٹی بہت پسند آئی ہے اب بس جلدی سے آپ بتا دیں ” ایک عورت بولی تو روح نے بل کھا کر ماں کو دیکھا
آ ۔۔ہاں میں اپکو جلد جواب دوں گی ” وہ بولی تو کچھ دیر مزید وہ لوگ باتیں کرتے رہے جن کا جواب روح نے دینا بھی مناسب نہیں سمجھا
وہ اسکے لیے لڑکا ڈھونڈ رہی تھی یہ جانتے ہوئے وہ بہزاد سے محبت کرتی ہے ” انکے جاتے ہی روح غصے سے کھڑی ہو گئ
آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں میں شادی شدہ ہوں “
فضول باتیں نہ کرو روح کہاں ہے تمھارا شوہر ہاں “
جانتی ہوں میں مام اور آپ یہ سب کرنا بند کریں پہلے ہی وہ مجھ سے خفا ہے اور یہ سب جان لیں گے تو وہ کبھی میری شکل بھی نہیں دیکھیں گے ” روح پریشانی سے بولی
کہاں ہے بہزاد ” انیسا چوڑی ہو گئ کھوجتی نظروں سے دیکھنے لگی
میرے دل میں ” وہ سب کو یہ ہی جواب دیتی تھی
وہ غدار کا بیٹا ہے اور میں نہیں چاہتی تم اس خطرناک آدمی کے بارے میں سوچو بھی کاشان اچھا لڑکا ہے اسکا سوچو “
ہرگز نہیں مام اپ اچانک میری زندگی تبدیل نہیں کر سکتیں “
میں تمھاری ماں ہوں تم پر اتنا حق نہیں رکھتی کہ تمھیں یہ کہوں “
آپ مجھ سے کچھ بھی کروا لیں لیکن ایسے کام نہیں ” وہ سختی سے کہہ کر وہاں سے چلی گئ
روح ” انیسا نے غصے سے پکارہ مگر اسنے سنا ہی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر اس بیلڈنگ کے باہر کھڑا اس فلیٹ کو دیکھنے لگا
اگر ہارون واقعی یہاں حملہ کرا دیتا تو شاید وہ سفر جو وہ کبھی شروع کرنا چاہتا تھا وہ شروع ہو جاتا جسے پچھتاوے کا نام دیا جاتا ہے ۔
وہ رات کے اندھیرے میں چھپ گیا تھا
اور پھر ایک طویل انتظار کے بعد اسے چند گاڑیاں بلڈنگ کے باہر رکتی ہوئی دیکھائی دیں
وہ چونک کر سیدھا ہوا اور اس میں سے کچھ رینجرز نکلے اور تیزی سے اوپر چڑھے
شجر بہزاد کے فلیٹ میں کود گیا اور اسنے اپنی گنز لوڈ کیں
اسنے مہروز اور وہاں موجود لوگوں کو بھی جاگا دیا تھا اور ابھی مہروز کچھ سمجھتا کہ انپر اندھا دھند فائرنگ شروع ہو گئ
فلیٹ کی کھڑکیاں دروازے بڑی طرح چھلنی ہو گئے
مہروز نے ایک ٹکا کر گالی دی تھی شجر کو ۔۔۔۔۔
مجھ پر ریڈ پڑوا کر تم میرے ساتھ چھپ رہے ہو کمینے آدمی دفع ہو جاؤ یہاں سے ” مہروز دھاڑا جبکہ شجر نے اسے گھور کر دیکھا
یہ میں نے نہیں پروائی اگر پروا دیتا تو اس وقت تمھاری لاش چار کندھوں پر ہوتی “
وہ دونوں فائرنگ کرتے ہوئے بول رہے تھے
زیادہ ہم لوگوں کے ساتھ مہربان ہونے کی ضرورت نہیں سمجھے نکلو یہاں سے تمھاری مدد کی ضرورت نہیں مجھے “
“مر جاؤ گے اتنا بندہ ہے باہر
تو میں مروں گا تمھیں کیا ہے ” مہروز کو اس موقعے پر بھی ناگوار گزر رہا تھا
بچانے آیا ہوں ” اسنے دو فائر چھوڑے
تمھاری مدد سے بہتر ہے میں گولیاں سینے پر کھاؤ ” مہروز اٹھ کر نکلا اور پیچھے سے ہونے والی فائرنگ پر اسکے لبوں پر بڑی گھیرہ مسکراہٹ آئی تھی کیونکہ بہزاد علی شاہ ا گیا تھا
ایک بھی بچ کر گیا نہ یہاں سے مہروز تو تو اپنے باپ کا نہیں ہے ” اسکے کان پر لگے ائیر پیس پر آواز ابھری تو مہروز نے سر ہلایا اور شجر نے پھر عجیب پاگل پن دیکھا تھا
وہاں پندرہ وہ ہی لوگ تھے جو اسکی ملٹری سے غائب تھے اور وہ سب بہزاد کے ایک حکم پر ایسے ہو گئے تھے کہ وہاں آنے والے ہر شخص کو جان سے مار دیں گے اور ایسا ہی ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
