No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
پلوشہ نے نم نظروں سے چاروں سمت دیکھا تھا شجر عباس سے نفرت اور بڑھ گئ تھی جبکہ وہ چٹکیوں میں اپنا گھر ٹھیک کرا سکتا تھا لیکن فلحال وہ اردگرد تھا نہیں وہ گارڈز کے ساتھ مل کر چیزوں کو خود سیٹ کرانے لگی تھی جبکہ دوسری طرف بہزاد نے ایک ایف آئی آر درج کرائی ۔
جس کو وہ لوگ پڑھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ سب کو امید یہ تھی کہ وہ شجر عباس کے خلاف کرائے گا لیکن ہوا اسکے الٹ ۔۔۔۔
وہ ایف آئی آر انیسا ہارون کے خلاف تھی
اور اس کے ساتھ کچھ ثبوت بھی موجود تھے انیسا ہارون سے ریلیٹیڈ ۔۔۔۔
ہارون بیگ یہ دیکھ کر جہاں اپنی جگہ ہل کر رہ گیا وہیں ۔۔
شجر اپنی شکست پر بل کھا رہا تھا ضیاء بھی سر پکڑے بیٹھا تھا
اس سے یہ بات واضح ہے کہ اسے ہم میں سے کسی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ” ضیاء کی بات پر ہارون بیگ دھاڑ اٹھا تھا
میری بیوی ہے وہ میں اپنی بیوی کو کسی صورت اسکا نہیں کروں گا پھر چاہے وہ جو مرضی کر لے ” وہ وہ ایف ائ آر پھاڑ گئے
سر ” ایک پولیس والا بھی وہاں کھڑا تھا اسنے حیرانگی سے دیکھا جبکہ ہارون نے توجہ بھی نہ دی ۔۔۔
ہارون اٹھ کر باہر نکلے اور مبین خان کے پاس آ گئے
ایک نوٹس جاری کرو کہ انیسا ہارون کے ساتھ کاروائی آرمی کی حدود میں ہوں گی بحیثیت ہارون بیگ کی بیوی ہونے کے عدالت اس معاملے سے دور رہے ” وہ بے چینی سے بولے
سوری میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں جبکہ یہ کسی اصول میں نہیں آتا ہمارے ملک کی عدالت ابھی موجود ہے سر ” وہ ہلکا سا مسکرائے
لیکن آپکی بیوی پر کس نے ایف آئی آر کرائ ہے ” وہ بولے اور اپنی ٹیبل کے دراز سے ایف آئی آر نکالی جس پر بہزاد کا نام درج تھا
بہزاد علی شاہ ۔۔
علی شاہ کا بیٹا رائیٹ “
مبین خان جو میں تمھیں کہہ رہا ہوں وہ کرو ” وہ اگ بگولہ ہوتے غرائے خبر باہر نکلتی تو کیا ہوتا کتنی بے عزتی ہو جاتی اور انیسا ویسے ہی اج کل ڈری سہمی رہنے لگی تھی ۔
سوری سر میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا یہ عدالتی کاروائ پر ڈال دیا ہے میں نے ” وہ بولے اور کام کرنے لگے جبکہ دوسری طرف ہارون بیگ دانت پیس گئے
میری بیوی عدالت تو نہیں جائے گی یہ تو طے ہے اب اسکے لیے تم نقصان اٹھاو اسکا افسوس مجھے نہیں ہوگا کیونکہ بیوی اور بچے تو تمھارے بھی ہیں “
وہ مسکرائے جبکہ مبین خان سنجیدگی سے انھیں دیکھنے لگے ہارون بیگ کہہ کر باہر نکل گئے اور ابھی انھیں باہر نکلے دس منٹ ہوئے تھے کہ بہزاد کو سامنے سے آتے دیکھ ایکدم انکی پیشانی پر بل پھیلے دس سال بعد اسے دیکھ رہے تھے
وہ ذرا چھپ گئے ۔۔
بہزاد مہروز اور اسکے دو گارڈز وہ چلتا ہوا ا رہا تھا ۔
اور آتے ساتھ بنا اجازت طلب کیے وہ کمرے میں مبین خان کے گھس گیا جبکہ ہارون بیگ کے اندر تجسس کی انتہا ہو گئ کہ بہزاد یہاں کیا کر رہا ہے دس سال بعد اسے دیکھا تھا وہ اکیس سال کا آوارہ نوجوان نہیں لگ رہا تھا وہ اکتیس سال کا بھرپور مرد لگ رہا تھا وہ ۔۔ چاہ کر بھی اندر نہیں جھانک سکتے تھے تبھی وہاں سے نکل گئے
اور بہزاد نے مبین خان کی جانب دیکھا
ریلکس یہ لو ” انھوں نے پانی کی بوتل اسکے سامنے رکھی ۔۔
بہزاد سرد نگاہوں سے تادیر دیکھتا رہا
کچھ نہیں ہوتا ” وہ تحمل سے بولے
آپ نے میری کال نہیں اٹھائی ایک بات یاد رکھیے گا مبین خان صاحب ۔۔ میں بندہ الٹے دماغ کا ہوں
اگر آپکی ذرا سی مدد کو یہاں آیا ہوں تو مجھے اسکا نقصان نہ ہو کیونکہ نقصان میں بہت چیزوں کا باہر بیٹھے کر رہا تھا ۔۔
آئندہ میرے گھر کے باہر بھی آپکے یہ فوجی دستے نہ دیکھیں مجھے ” وہ بولا تو مبین خان نے اسکے لہجے کی اکڑ دیکھی ۔
وہ جھکا نہیں تھا اگر اج سے دس سال پہلے والے بہزاد کی بھرائی ہوئی آواز کوئی سنتا تو آج والے بہزاد کی پراعتمادی پر یقین ہی نہ کرتا تھا تو واقعی ہی الٹے دماغ کا ۔۔
اور مشکل وقت سہنے اور سمجھنے مجھے ا گئے ہیں لیکن اگر آپ فون اٹھا لیتے تو میرا کروڑوں کا نقصان نہ ہوتا ۔
اینی ویز جہاں میرا نقصان ہو گا وہاں سامنے والے کا بھی نقصان ہو گا میرے وارنٹ کے ساتھ کیا کرنا ہے آپ بخوبی جانتے ہو ” وہ اٹھ گیا
انیسا کیوں ؟؟؟؟
مبین خان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا کیونکہ اسے اس ایف ائ آر کا مطلب سمجھ جو نہیں آیا تھا
مجھے بس انیسا چاہیے باقی کسی سے کوئی لینا دینا نہیں میرا اپکا کام بھی انھیں شرطوں پر کر رہا ہوں ” وہ سپاٹ نظروں سے کہہ گیا ۔
مبین خان کھڑے ہوئے اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔
اور اسکا شانہ تھپتھپا کر اسے کچھ سمجھانے لگے جس کا فائدہ کوئی نہیں تھا وہ جانتے تھے
جبکہ دوسری طرف یہ گتھی الجھ پر الجھ جا رہی تھی شجر کے دماغ میں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر عباس کو کرنل مبین خان نے بلایا تو وہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا انھیں سلام کر کے سلوٹ مارا اور تن کر کھڑا ہو گیا آپ اپنی ٹیم ریڈی کریں اپکو ایمرجنسی میں کھاریاں بھیجا جا رہا ہے “
یس سر ” وہ بولا
اور ایک ڈاکٹرز کی ٹیم بھی ریڈی کرنی ہے اپ نے یہ آپریشن زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کا ہے اور آپکی قابلیت پر مجھے شک نہیں ” وہ سنجیدگی سے بولے شجر کو لگ رہا تھا وہ بہزاد کی بات کریں گے لیکن انھوں نے کہا کچھ اور تھا وہ حیران ہوا تھا کہ آخر کیا معمہ تھا یہ بہزاد اور مبین خان ایک تھے ۔۔ اتنی تو اسے خبر تھی کرنل صاحب کس طرح ایک ایسے آدمی کا ساتھ دے سکتے ہیں جو کھلے عام دہشت گردی میں شامل ہے وہ ہزار سوال لیے لبوں پر چپ ڈالے کھڑا تھا ۔
مبین خان نے آگے کچھ نہیں کہا کچھ پیپرز اسکے ہاتھ میں دیے اور شجر باہر نکل آیا ۔
کیا کھاریاں میں ایمرجنسی کی وجہ بھی بہزاد تھا ” وہ پر سوچ ہوا۔۔
اور غصے سے وہاں سے آگے بڑھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ لسٹ آئی ہیں ڈاکٹر پلوشہ نورین اسما اور بطول آپ سب کھاریاں مشن میں شامل ہیں میجر شجر عباس کے ساتھ سو بی ریڈی ” اسے جیسے ہی لسٹ ملی وہ لسٹ کو گھورنے لگی ۔۔
دل کیا پھاڑ دے وہ یہ لسٹ ۔۔۔
لیکن یہ مشن تھا یہاں ذاتی دشمنی کی کوئی ولیو نہیں رہتی تھی ملک اور قوم کے سامنے ۔۔
آج صبح جو بہزاد کے گھر کی حالت دیکھی تھی اسنے اسکا دل شجر سے نفرت کی انتہا پر تھا لیکن جانا اسکی مجبوری تھی ۔۔ وہ سر ہلا گئ تھی بنا اختلاف کیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شام میں ہی اسکے گھر پہنچ گئ وہاں ساری چیزوں کو سیٹ کیا جا رہا تھا شجر کا مسیج ریسیو ہوا تھا اسے کہ وہ جا رہا ہے ایمرجنسیین واپس لوٹے تو اسے بہزاد کے بارے میں معلومات چاہیے تبھی وہ اٹھ کر یہاں آ گئ تھی
آج وائیٹ ٹاپ اور بلیو جینز میں تھی وہ ہی ہیل اور بلکل ویسی ہی جیسی وہ شاندار ہوتی تھی ۔
اسنے دیکھا لمہوں میں وہاں کی توڑ پھوڑ کو ٹھیک کیا جا رہا تھا ان دیواروں کو بلکل ویسا کیا جا رہا تھا
جیسی وہ پہلے تھیں کافی برا حال کیا ہو گا یقینا تبھی ایسا لگ رہا تھا یہ ری بیلڈ ہو رہا ہے سب ۔۔۔
وہ اندر آئی ۔۔ جینزی اسے دیکھائی دی ۔۔ اور اسکے ہاتھ میں وہ ہی بلی تھی
روح آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ بلی “
میم انکا نیم روح ہے اپکو پہلے بھی کہا تھا ” جینزی نے ذرا خفگی سے کہا تو روح نے اسکی بلی کی جانب دیکھا
لیکن یہ مر گئ تھی ” وہ یاد کرتی بولی
جی نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہوا اگر ایسا کچھ ہو جاتا تو سر ہم سب کو مار دیتے انھیں روح اتنی عزیز ہے “
جینزی نے بتایا روح کو عجیب محسوس ہو رہا تھا ۔۔ یہ سب بہت عجیب تھا وہ بلی اس وقت مر گئ تھی لیکن آج وہ ہی بلی زندہ تھی ۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اسنے ایک اور منگائی ہو گی
آئی تھنک آپ بیٹھ جائیں کیونکہ آپ بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں
ن۔۔۔نہیں “
مہروز کو سامنے سے اتا دیکھ روح جلدی سے اسکے پاس پہنچ گئ
یہ بلی مر گئ تھی نہ مہروز بہزاد نے یہ دوسری منگائی ہے پلیز مجھے بتاؤ ” وہ بے چارگی سے سوال کر رہی تھی
ارے روح کیا ہو گیا کیوں پریشان ہو گئ ہو
مجھے علم ہے تمھیں ہماری روح نہیں پسند لیکن ہمیں تو یہ بہت پیاری لگتی ہے اب اسکے مرنے کی باتیں تو نہ کرو ” مہروز نے اس بلی کو گود میں بھرا اور پیار کرنے لگا
تبھی اسکی نگاہ اوپر کھڑے بہزاد پر گئ تھی جب وہ یہاں اتی تھی وہ اسے شاکڈ کر دیتا تھا روح کی انکھوں میں وہ سب تھا جسے صرف بہزاد پہچان سکتا تھا
وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اوپر چڑھ گئ
اسکی سانس پھولی ضرور تھی لیکن اس وقت وہ دنگ تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا وہ پاگل ہو جائے گی وہ بلی اسکے سامنے مری تھی
وہ رات وہ بھول کیسے سکتی تھی پھر یہ وہ لوگ کیوں کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہے وہ اوپر چڑھی اور وہاں سب کے سامنے اسنے بہزاد
سے سوال کیا تھا
یہ بلی مر گئ تھی نہ ” وہ پوچھنے لگی
مر جاتی تو تم میں سے کوئی زندہ نہ ہوتا “
بہزاد نے بھی ویسا ہی جواب دیا اور اندر چلا گیا ۔۔
جبکہ مہروز نے وہ بلی چھوڑی اور وہ سیدھا دوڑ کر اوپر آئی روح کی ٹانگوں میں سے گزر کر بہزاد کے پاؤں کے پاس آ گئ بہزاد نے اسے گود میں بیٹھا لیا اور پیار کرنے لگا ۔۔ جبکہ نگاہیں روح پر سے ہٹی نہیں تھیں
روح نے ان ہیلر نکال کر سانس ان ہیل کیا وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی جبکہ بہزاد چئیر پر جھولتا اسے تکتا رہا نگاہیں دلچسپ تھیں اور انداز پر مزاہ ۔۔۔۔
آپ مجھے بیوقوف بنا رہے ہیں یہ بھی شاید کوئی ٹیسٹ ہے میں بلکل پاگل نہیں ہوں “
وہ اسکے پاس اندر ا گئ اور ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔
بہزاد نے ائ برو اچکائی تھی داد دینے کے لیے ۔۔ روح نے سر جھٹکا۔۔
آپ نے کل کہا تھا میں اب آپکی مرضی سے نہیں اپنی مرضی سے اپکے ساتھ کام کرو گی “
اچھھھا ” وہ بلی کو پیار کرتا ذرا اچھا کھینچ گیا تھا
جی ہاں کیونکہ میں نے آپکی جان بچائی ہے ” وہ مزے سے بال جھٹکتی بولی
ہممممم ” وہ اپنی جگہ سے اٹھا بلی کو کارپیٹ پر چھوڑا اور اسکے سامنے ا گیا روح نے ایک قدم پیچھے لیا دیکھتا تو ایسے تھا اندر باہر سے جیسے معائنہ کر لے گا روح نے سانس حلق میں اتارا اور بہزاد نے اچانک ہی اسے پکڑا اور اسے کھڑکی سے نیچے تقریبا پھینک دیا کہ بس اسکی ہیلز بہزاد کی ٹانگوں میں اڑی نہ ہوتی تو وہ نیچے جا کر پڑتی ۔
بہزاد ” روح چلائی
ب۔۔بہزاد چھوڑ۔۔۔چھوڑیں مجھے ” وہ بے چینی سے بولی
کیا تمھیں مدد چاہیے روح ” وہ اسکی شرٹ کے اچکے جانے پر اسکی جھانکتی ہوئ بیلی کو نرمی سے چھوتا مسرور سا سوال کر گیا روح نے اسکے ہونٹوں کی حرکت کو محسوس کیا اور
روح کی جان فنا ہونے کو تھی یہ وہ کیا کر رہا تھا ۔
آ۔۔۔ہاں پلیز میری مدد کریں میں ۔۔ میں گیر جاؤں گی مجھے مرنا نہیں ہے بہزاد ” وہ سسکی
بہزاد نے اسے اوپر کھینچا اور روح اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی اسکے پاوں شیک کر رہے تھے بہزاد کی شرٹ کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑے ہوئے تھی کہ اس سے ڈر کے باعث اپنی ہیلز پر بھی کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا
بہزاد اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا اسکا ڈیمپل کافی واضح تھا روح کی سبز انکھوں میں آنسو تیر گئے
اوہ ” اسنے اسکے آنسو صاف کیے وہ ان ہیل کرنا چاہتی تھی لیکن ضدی بنی کھڑی تھی بہزاد نے اسکا ان ہیلر اسکے لبوں سے لگا دیا
روح نے سانس نہیں کھینچا اور آنکھوں سے آنسو پٹ پٹ گیرنے لگے
جبکہ بہزاد نے ان ہیلر ہٹایا اسکے پھولے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھی ۔۔
کیا تم چاہتی ہو میں تمھیں کس کروں ” وہ سوال کر رہا تھا
روح نے اسے دور دھکیلا اور ان ہیلر لے لیا ۔۔۔
اسنے دو تین سانس بھرے اور آنسو صاف کیے
رونے والی کیا بات ہے میں نے احسان کا بدلہ اتارا ہے “
ہممم ” روح نے کہا اور جانے لگی وہ خاموشی سے جا رہی تھی بنا لڑے بہزاد اپنے آپ ہی بے چینی محسوس کرنے لگا
تم نہیں جا سکتی ” اسکی آواز ابھری
کیوں ” گال پر سے انسو صاف کرتی وہ آگ بگولہ ہوئی بہزاد لب بھینچ گیا
اپکا جیسے دل کرتا ہے اس طرح ٹریٹ کرتے ہیں
میں انسان ہوں اور ڈر بھی سکتی ہوں ” وہ خوفزدہ ہو گئ تھی تبھی اسپر بھڑک رہی تھی
اوکے سوری اب بیٹھ جاؤ “
ہممہ آئے بڑے اور یہ جو آپکی روح ہے نہ اسکے سر پر پاوں رکھ کر اسکی کھوپڑی میں اپنی ہیل اتار دوں گی ” وہ اس بلی کو اچھلتے کودتے دیکھتی غصے سے بولی
گو اون جنگلی بلی “
بہزاد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وہ کرنے کو کہا جو وہ کرنا چاہتی تھی ۔۔
روح دانت پیستی جانے لگی
میری ایک میٹنگ ہے اگر بیٹر فیل کرو تو ساتھ چل سکتی ہو ” وہ خود بھی اٹھ گیا ۔
روح وہیں رک گئ
پلٹ کر اسکی جانب دیکھا اب اصل موقع آیا تھا ۔۔
وہ اسے گنوا نہیں سکتی تھی
ٹھیک ہے میں تیار ہو آتی ہوں ” وہ اہستگی سے بولی
اپنے گھر جانے کی ضرورت نہیں یہاں پر ہیں کپڑے جاؤ تبدیل کر لو ” اسنے کہا
نئے کپڑے ” وہ اچھل پڑی
نئے کپڑے ” وہ اسکا گال دو انگلیوں میں دبا کر باہر نکل گیا
دوسری طرف روح بخوشی جینزی کے ساتھ اس کمرے میں آ گئ ۔۔
اسے یاد تھا اسکا یہ کمرہ تھا ۔۔ کیونکہ اسنے بہزاد کو یہاں دیکھا تھا ۔
وہ شوق سے اندر ا گئ ۔۔۔
اور جینزی نے اسے کبرڈ کھول کر دیکھائی تو بے شمار کپڑے تھے اسکے سائز کے وہ منہ پر ہاتھ رکھتی خوشی سے پھولے نہ سمائی تھی ۔
ویسے تمھارے مالک کی گرل فرینڈ کافی خوش نصیب لڑکی ہو گی دیکھو کیسے الماریاں بھر رکھیں ہیں ایک شجر عباس ہیں اتنے امیر ہو کر بھی کپڑے واپس کرا دیے ” وہ اداسی سے بولی اور پھر خود ہی سر جھٹکتی وہ اپنے ساتھ ساتھ کپڑے لگا کر دیکھنے لگی ۔۔
اور پھر اسے ایک اوو وائیٹ شرٹ پسند ا گئ کیونکہ وہ میٹنگ میں جا رہے تھے تبھی اوور لباس کو ترجیح دیے بنا اسنے او وائیٹ شرٹ نکالی جس پر باکس بنے تھے ریڈ اور بلیو کلر کے اسنے بلیک جینز لی اور جینزی کیطرف دیکھا
کیا میں اپنے گھر لے جاوں پلیزززز ” بھوکی تو اولین تھی تبھی اپنے مقصد کو بھول بھال کر کپڑوں کے پیچھے لگ گئ تھی
میم سر کے آرڈرز ہیں اپ یہاں تیار ہو سکتی ہیں وینٹی موجود ہے یہاں ” وہ بولی اور روح کے لیے ایک شیشے کو ہٹایا اندر بیگ شوز میکپ پرفیوم آف کیا کچھ نہیں تھا اسے لگا وہ جنت میں آ گئ ہو ایک لڑکی کی خواہش اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتی اسکے پاس یہ چیزیں ہوں وہ جوش میں شاور لینے چلی گئ ۔۔
واشروم میں سوئمنگ پول منی سا دیکھ کر وہ چلا اٹھی ۔
یہ کیا ہے “
میم پول ہے “
ن۔۔۔نہیں مجھے زیادہ پانی سے ڈر لگتا ہے “
تم مجھے بالٹی لا دو “
بالٹی “
اوہ شیٹ ایکچلی ہم ٹہرے یتیم سے بچے تو یتیم خانے میں تو بالٹی اور ڈبہ ملتا تھا پھر میں نے شجر سے بھی منگا لیا ایکچلی مجھے سانس مسلہ ہے نہ تو مجھ سے زیادہ پانی برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔” وہ اپنی بات بتانے لگی جبکہ جینزی اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی
اور کچھ توقف کے بعد وہ بولی
ٹھیک ہے میں سر سے کہہ دیتی ہوں “
ارے نہیں نہیں ۔۔۔ میں ایسا کرتی ہوں نہاتی ہی نہیں منہ دھو لیتی ہوں” وہ بچوں کیطرح خوش تھی منہ دھو کر آئ اور اسکے ڈریس چینج کیا
وہ ڈریس چینچ کر نکلی جینزی اسکے دونوں طرف سے نکلے شانے دیکھنے لگی اسنے شرٹ کے اوپری بٹن بند نہیں کیے تھے اور دونوں شانے نکال کر انپر بال ڈال لیے
اسنے میکپ کیا سرخ لیپسٹک لگاتی ہی گویا قیامت برپا کرنے لگی
جینزی نے خود بھی نگاہ پھیر لی اسنے بڑی بڑی پلکوں کو مزید نکھارا ہلکا ہلکا ٹینٹ لگایا اور مطمئین سی ہو کر پلٹی
کیسی لگ رہی ہوں ” وہ ایکشن مارتی بولی تو جینزی کو ہنسی آ گئی
بہت پیاری ایک شرارتی گڑیا سی ۔۔ “
اوہ جینزی تم بہت بہت بہت اچھی ہو اج سے ہم دوست ہیں” وہ اسے گھما گئ جینزی سنبھلی
میڈیم باہر چلی سر ویٹ کر رہے ہوں گے “
اچھا ٹھیک ہے اسنے دو چار کپڑے اپنے ساتھ لگا لگا کر دیکھے اسے کسی بات سے فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ کپڑوں کو لے کر کافی سے زیادہ خوش تھی
تبھی وہ دیوار پوری کھلی اور بہزاد علی شاہ اندر داخل ہوا تو دیوار غیر آئینے میں اسکا عکس دیکھا
چند لمہے ان شولڈز کو گھورتا رہا پھر اگنور کر کے اندر ا گیا
روح نے جلدی سے سارے کپڑے جینزی کو دے دیے
نہیں مجھے تو کوئی بھی نہیں چاہیے ” وہ گھبراتی ہوئی بولی
بہزاد نے گردن گھمائی اور اسکی بات پر بے ساختہ ڈیمپلز دیکھنے لگے تھے اسکے ۔۔
روح اسے آنکھیں کھولے دیکھنے لگی
یہ سب تمھارا ہے تمھیں کسی بھی چیز کے لیے سوچنے کی ضرورت نہیں ” وہ بولا لہجے میں نرمی تھی
کیوں میرا کیوں ہے آپکی گرل فرینڈ کا ہو گا ” وہ سکون سے بولی
ہمم اسی کا ہے ” بہزاد نے بات ختم کی
ہم کہاں جائیں گے بہزاد “
باہر جاتے جاتے اسنے پلٹ کر سوال کیا بہزاد نے انگلی کے اشارے سے جینزی کو وہاں سے چلے جانے کا کہا تھا
اور اسکے منہ سے اپنا نام کافی اچھا لگا تھا سن کر ۔۔۔
ڈنر ڈیٹ پر “
ہیلو ہیلو ۔۔۔ آپ تو فری ہی ہو بیٹھے
دیکھیے کام کے وقت کام کی بات ” وہ سنجیدگی سے بولی
تو بہزاد شانے اچکاتا سر جھٹک گیا
چلو “
آپ تو تیار ہی نہیں ہوئے ” اسکے فارمل سے ڈریسز کو دیکھ کر وہ بولی
مجھے ضرورت نہیں تیاری کی گولیاں چلانے اور مارنے کے لیے کون تیار ہوتا ہے ” وہ اسکی بے دھیانی کا فائدہ اٹھاتا اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اسے باہر لے ایا ۔۔
کتنی گولیاں چلاتے ہیں ایک دن میں ” اسکے سوال نان سٹاپ جاری تھی یہاں تک کہ وہ باہر نکلنے لگے
200 اسنے بھی ہر جواب دینے کی ٹھان لی تھی
اور جو مجھے ماری تھی ” وہ منہ بنا کر بولی
201 ” وہ سکون سے بولا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ حیا
شرم آنی چاہیے ویسے “
روح گاڑی میں بیٹھتی ناراضگی سے بولی
اگر تم یہ بات نہ ہی کہو تو بہتر ہے ” اسنے اسکی شرٹ جو شانے پر اٹکی ہوئی اپنا نظارہ کرا رہی تھی اوپر کر کے اسکے اصل مقام پر کی ۔۔۔
بٹن بند کرو سیدھی طرح ساری دنیا کو دیکھنے کی ضرورت نہیں تمھارا تل گردن سے عین 3 انچ نیچے کی گہرائ میں ہے “
ک۔۔۔کیا ” وہ چلائی
بہزاد نے سیگریٹ منہ میں دبا لیا اس نے اسے جلدی سے بٹن بند کرتے دیکھا تھا ۔۔ ڈیمپل بار بار نمودار ہو رہا تھا
اپنی بیوی کو دیکھیں مجھے تاڑنے کی ضرورت نہیں ” وہ بھڑکی
اسکو بھی دیکھ لیں گے “
اسنے سکون سے دھواں چھوڑا روح نے شیشہ کھولا اور چہرہ باہر نکال لیا اسنے روکا نہیں شجر کے ساتھ اکثر وہ ایسے کرتی تو وہ ڈپٹ دیتا
وہ ایسے بیٹھا تھا کہ جیسے ہوا بھی اسے اسکے ہوتے ہوئے نقصان نہیں پہنچا سکتی اسکا جو دل کرتا ہے وہ کر لے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ضروری میٹنگ تھی مہروز کو یہاں روح کا آنا اچھا نہیں لگا تھا روح خاموشی سے بیٹھی تھی
لڑکیاں بھی رکھ لی اب تم نے کافی اپسرا ہے “
وہ بولا جبکہ بہزاد اب بھی سیگریٹ پی رہا تھا روح نے بہزاد کی جانب دیکھا وہ خاموش تھا
ہے پرنسز کیا نام ہے تمھارا یہ تمھیں کیا چارج کرتا ہے “
وہ آدمی قہقہہ لگا کر ہنسا روح نے جھٹکے سے بہزاد کی جانب گردن موڑی وہ ایک لفظ نہیں بولا ۔۔۔۔
اوہ بیبی پریشان ہو رہا ہے ۔۔ میں تمھیں بہت اچھا پے کروں گا میرے ساتھ کام کرو گی “
ہماری ڈیل ” مہروز دانت پیستا بولا تھا
ارے فائنل ہے فائنل ۔۔۔ تم انکھوں کو ٹھنڈک دینے کے لیے اسکو لاتے رہنا تمھارے ساتھ کام تو ہم پھر گردن کٹوا کر بھی کریں گے ” وہ آدمی بولا
روح کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے وہ بہزاد کو بار بار دیکھتی جو خاموش بیٹھا تھا گویا کسی بات سے فرق نہ پڑتا ہوا
ہاں پڑتا بھی کیسے وہ تو تھی ہی اسی لیے ۔۔۔
روح نے مٹھیاں جکڑ لیں اور جب تک وہ اسکے سامنے بیٹھی رہی وہ روح کے لیے ہر لفظ کا استعمال کر رہا تھا
یہ اذیت ناک میٹنگ کا اختتام ہوا وہ آدمی اپنا کارڈ دے کر گیا تھا اسے ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر چلے گئے بہزاد بھی کھڑا ہو گیا اور وہ سب بھی واپس لوٹ آئے بہزاد نے اس سے ایک لفظ بات نہیں کی
روح سے البتہ چین سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا وہ اپنے گھر ا گئ تھی سکون تو نہیں تھا اسے ۔۔۔۔
وہ سیدھا بہزاد کے پاس پہنچ گئ
آنسوؤں سے تر چہرہ تھا اسے پرواہ نہیں تھی کہ اس وقت وہ کن لوگوں سے بات کر رہا ہے اگر توجہ دیتی تو پندرہ کمانڈرز آنکھوں کے سامنے دیکھ جاتے وہ اندر آئی بہزاد کا گریبان جکڑ لیا
اپکو تسکین ملی ۔۔ وہ مجھے انسلٹ کرتا رہا آپ کچھ بھی نہیں بولے ایک لفظ بھی نہیں آپ بھی بقیوں کیطرح ہیں اور میں اس کارڈ کو یوز کروں گی اب ” اسنے کھڑے کھڑے نمبر ڈائل کیا بہزاد نے اسکا موبائل کھینچ کر باہر پھینک دیا
روح کے گال پر آنسو پھسلنے لگا
وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
