Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

سیلز بوائے نے اس سے جوڑا لیا اور خالی کارڈ اسکے ہاتھ میں دے دیا جبکہ روح وہیں رونے لگ گئ ۔
میرے شوہر بہت امیر ہیں اپ مجھے یہ جوڑا دے دیں ابھی بل دے دوں گی ” وہ بولی جبکہ وہ سیلز بوائے مسکرانے لگا
تو آپ اپنے ہزبینڈ سے یہ کارڈ ری فل کرا کر آ جائیں پھر یہ جوڑا لے لیجیے گا ” وہ نرمی سے بولا تھا البتہ روح کو غصہ آنے لگا
آپ مجھے یہ جوڑا ادھار دے دو “
میم ہمیں اجازت نہیں ” وہ آدمی عاجز سا آیا
تمھیں سمجھ نہیں ا رہی مجھے چاہیے یہ “
آپ تو پاگل خاتون ہیں جب اپنے پاس پیسے ہی نہیں تو میں اپکو کوئی چیز کیسے دے سکتا ہوں “
تم تم یہ رکھ لو ” اسنے اپنے کانوں میں پہنے چھوٹے چھوٹے گولڈ کے آئیرینگز نکال کر اسے تھما دیے ۔
میم پلیز یہ چیزیں الاو نہیں اور ویسے بھی اس جوڑے کی قیمت کے سامنے یہ ائیرینگ بھی سستے ہیں ” اسنے وہ ائیرینگ اسکی جانب بڑھا دیے
اب جب میں اوں گی نہ اپنے شوہر کے ساتھ پھر تمھیں بتاؤ گی ” وہ روتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئ
کیا ہوا میم ” ایک گارڈ آگے بڑھا جبکہ اسنے پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھا
اپنے پرائمنسٹر بوس کو کہہ دو اگر یہ جوڑا میں نے نہ لیا تو یہیں سے کود کر مر جاؤں گی مجھے نہیں پتہ “
وہ ضدی تو بہت تھی اور کارڈ بھی خالی تھا وہ غصے سے بولی اور دوکان کے باہر ہی بیٹھ گئ وہ دونوں ہی گارڈ بھکلا اٹھے
میم آپ پلیز اٹھیں ” لوگ اسے دیکھ کر ہنس جو رہے تھے
جاؤ یہاں سے ” وہ روتے میں چلائی تو ایک گارڈ نے تھک کر بہزاد کو کال ملا لی وہ دور ہوا اور اسنے سارا معملہ بہزاد کو بتایا اور بہزاد نے کچھ توقف کے بعد آنے کا کہہ دیا روح کی مسکراہٹ پوری کھل گئ
آ رہے ہیں ” گارڈ نے سر ہلایا وہ ہاتھ جھاڑ گئ
یہ ہوئی نہ بات ” وہ سکون سے دوسری دوکان میں گھس گئ
اچانک مجھے ایسا لگا شادی نہ کرنا یارو پشتاو گے ساری عمر ” وہ دونوں ہی گارڈ کنوارے تھے جبکہ دوسرا مسکرا دیا مجھے تو بہت کیوٹ لگتا “
چپ ہو ” دوسرے نے گھورا تو پہلا لب دبا گیا ۔
جبکہ روح اور بھی بہت چیزیں پسند کر رہی تھی یہ سمجھ کر کہ بہزاد کی پوزیشن اب بھی پہلے جیسی ہے اور ہر دوکان کو یہ کہہ رہی تھی کہ میرے شوہر ا رہے ہیں وہ بل دیں گے اور تقریبا آدھے گھنٹے بعد بلیک شرٹ اور بلیک جینز میں بہزاد ماسک سے چہرہ چھپائے مال میں داخل ہوا تو اسکے گورے شولڈرز دمک رہے تھے بلیک شرٹ ماسک میں کون تھا جس نے موڑ کر نہیں دیکھا اسے جبکہ اسنے چہرہ تو چھپایا ہوا تھا ابھی تک وہ اوپر آیا
بہزاد ” روح بھاگ کر سب کے سامنے اسکے گلے لگ گئ تقریبا سٹاف نے اسے دیکھا
تھینکیو تھینکیو تھینکیو سوسو مچ ” وہ ہنسی
بہزاد نارمل ہی رہا اور وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اس دوکان پر لے ائی
جہاں اسنے تقریبا 2 لاکھ کا لہنگا پسند کیا تھا بہزاد نے ایک نظر ٹیگ دیکھا اور اسکے بعد روح کو دیکھا جو معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا رہی تھی
اسنے کارڈ سیلز بوائے کی جانب بڑھا دیا یہ وہ مہروز سے مانگ کر لایا تھا کیونکہ سیل سب چیز اسکی ہوئی تھی
دو لاکھ کا بل بھرتے ہی روح کا بس نہیں چلا اسکا چہرہ ہی چوم لے اسنے سیلز بوائے کو دو تین پوز مارے اور لہنگا لے کر باہر ا گئ
ادھر بھی ” پھر وہ اسے مختلف دوکانوں پر لے کر گھومی اور تقریبا 6 لاکھ کے لگ بھگ اسکا خرچہ کرا کر وہ کافی مطمئین تھی
بہزاد اب تک کچھ نہیں بولا تھا وہ آنا نہیں چاہتا تھا اسے ڈر تھا اگر وہ نکلا دن دھاڑے تو یقینا اسپر اٹیک ہو سکتا ہے وہ اتنا سر عام نہیں پھر سکتا
چلو ” اسنے بس اتنا ہی کہا روح نے سر ہلایا اور ابھی وہ دونوں ایک کپڑوں کے سٹینڈ کے پاس سے ہٹتے کے لوہے کے سٹینڈ پر اچانک گولی لگی بہزاد فورا نیچے بیٹھا اور روح کو بھی کھینچ لیا
مجھے یہ ہی ڈر تھا ” اسنے گن نکالی
کیا ہوا ” روح اسے دیکھنے لگی
بارات آئی ہے میری جان تمھاری تم سہاگ رات کی تیاری کرتی پھر رہی ہو ” کلس کر بولتا وہ روح کو شرماتا ہوا دیکھ کر سرد سانس کھینچ گیا
یہ تو گولیاں چل رہی ہیں بہزاد ” وہ ایک پل کے لیے پریشان ہوئی
اوہ واو تمھیں پتہ ہے گولیاں بھی چلتی ہیں مجھے لگا پٹاخوں
کی آواز ہے “
غصہ کیوں کر رہے ہیں ” وہ ائسکریم کی سپون منہ میں رکھتی بولی
بات کرنا ہی بے کار ہے تم سے جبکہ باہر اسکے دو گارڈز معملہ سنبھال رہے تھے اور بہزاد یہاں سے بھاگنے کی جگہ دیکھ رہا تھا
مجھے پتہ ہے آپ مجھے اور خود کو بچا لیں گے ” وہ سکون میں بیٹھی تھی اسکا بازو پکڑے کپڑے ہاتھ میں لیے ائسکریم کھاتی وہ بہت مزے میں تھی ۔
شوہر کے سر پر موت کھڑی ہے اور تمھیں سہاگ رات کا دوارہ پڑا ہوا تھا گھر چلو تمھارا تو دماغ میں خود ہی درست کروں گا ” وہ بھڑکا جبکہ روح منہ بسور گئ
اچھا ٹھیک ہے پیار تو انسان کر سکتا ہے “
تھپڑ لگا دوں گا روح ” وہ کافی غصے میں تھا
بس مجھ پر غصہ کریں گے ہر وقت “
تم جو بلاوجہ میرے سر پر ناچ رہی ہو “
میں بلاوجہ ناچ رہی ہوں ” اسکی آنکھیں بھیگنے لگی
بس چپ کہیں تمھارے اندر ہی نہ اتار دوں گولیاں ” وہ دانت پیس کر بولا اور روح کو پیچھے کیطرف لے جانے لگا اسکے دونوں گارڈز ان لوگوں پر اٹیک کر چکے تھے جبکہ سامنے بھی کم لوگ تھے تبھی وہ بھاگ گئے اور یہ انکے حق میں اچھا ہو گیا
بہزاد اسے گاڑی تک لے آیا اسکے گارڈز ان دونوں کو پروٹیکٹ کر رہے تھے ۔
معلوم نہیں بہزاد کو احساس ہوا یہ گولیاں بہزاد پر نہیں روح پر چلنی تھی اسنے گاڑی ریورس کی اور گھما کر وہ وہاں سے نکلا تھا
میرے شاپنگ بیگز پورے ہیں “
روح کو اسی چیز کی فکر تھی وہ پیچھے جھک کر اپنے بیگ گننے لگی اور وہ پھر انگلیوں پر گنتی وہ سر ہلا گئ جیسے مطمئین ہو گئ ہو اور پھر اپنے خالی ہاتھ دیکھ کر وہ پاوں پٹخ گئ
میری ائسکریم گیر گئ ” وہ سر جھٹک گئ اور بہزاد نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا اور سر نفی میں ہلانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر تم صبح صبح تھوڑا ناشتہ دے دیا کرو تو اچھا ہو جائے ” شجر نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما
ہاتھ چھوڑیں میرا میں نے ہاسپٹل جانا ہے ” وہ اپنا ہاتھ چھڑانے لگی
چلی جانا اس مریض کا تو علاج کر جاؤ ” اسنے اسے اپنی جانب کھینچا جبکہ پلوشہ نے ترچھی نگاہ اسپر اٹھائی
کافی ٹھنڈی لائین ہے ” وہ اپنا ہاتھ چھڑا گئ
میں گرم بھی بول سکتا ہوں تم برداشت کر سکتی ہو ” وہ گھیری نگاہ سے دیکھ گیا جبکہ پلوشہ ہاتھ چھڑا گئ
کیا کھانا ہے “
پنک لپس ” اسنے اسطرح بولا تھا کہ پلوشہ بس چونک سی گئ اور شجر کے دانت باہر نکل آئے
کیا کہا ہے آپ نے؟ وہ ذرا گھور کر پلٹی
نتھینگ سپیشل تم آج جلدی ا سکتی ” وہ ائ برو اچکا گئ
کیوں “
ویسے ہی بیوی ہو میری کہہ سکتا ہوں “
مجھے دنیا کا ہر کام پسند ہے سوائے اس کے کہ میں آپکی بیوی بنو تو یہ باتیں مجھ سے نہ کریں بہتر ہو گا ” وہ اسکے لیے پراٹھا بنانے لگی تھی
شجر گھیرا سانس بھر کر اسے دیکھنے لگا پلوشہ کو کوفت سی ہوئی
اور وہ مڑ گئ
کیا تمھیں پتہ ہے ایک اچھے رشتے میں کیا کیا ہونا ضروری ہے “
اعتبار ” وہ فورا پلٹی
کیا تمھیں مجھ پر اعتبار ہے ” اسنے اس سے پوچھا
نہیں ” پٹاخ سے جواب آیا تو وہ سنجیدہ سا ہو گیا
کیوں ” وہ اسکے نزدیک ہوا
نانی جان کے قاتل ہیں اپ “
تمھیں کس طرح سمجھاؤ میں نے نہیں کیا لیکن جس نے کیا ہے میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گا میں بیوقوف تھا اور شاید میرا یہ جرم سب سے بڑا ہے
میں نے بہت قیمتی وقت ضائع کیا ہے میں اب چاہتا ہوں سب سنوار دوں ” وہ بول رہا تھا اور پلوشہ کو اسکی آنکھوں اور لفظوں میں صداقت بھی لگی لیکن وہ اس سے فاصلہ بنایا گئ
ناشتہ بن گیا ہے اپکا کر لیں” کہہ کر اسنے اپنا وائیٹ کوٹ اٹھایا اور وہاں سے نکل گئ
اسے وین لینے آتی تھی شجر تو گورنمنٹ کی جانب سے ملنے والی جیپ یوز کرتا تھا لیکن اسکی گاڑی بھی موجود تھی جسے پلوشہ منہ تک نہیں لگاتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر لوٹے تو سامنے کا منظر دیکھ کر بہزاد وہیں رک گیا روح اب تک سامان سمیٹ رہی تھی جبکہ بہزاد روح کے سامنے اڑ کر کھڑا ہو گیا ۔
اسکے پورے گھر میں رینجرز تھے اور مہروز سمیت اسکے گارڈز کو بھی رینجرز پکڑے کھڑے تھے ۔
جبکہ اس کے فلیٹ میں ہارون بڑی ٹھاٹ باٹ سے پھیرتا ایک ایک چیز دیکھ رہا تھا وہ مڑا بہزاد کو دیکھا اور مسکرایا
او او بہزاد علی شاہ تمھارا انتظار تھا “
وہ آگے بڑھا بہزاد نے روح کا ہاتھ زبردستی تھام لیا جبکہ روح نے ہارون کی صورت دیکھی اور ہارون کی بھی نگاہ اسپر تھی تھی وہ زبان ہونٹوں پر پھیر گیا لیکن ان دونوں کے بیچ بہزاد حائل تھا ہارون نے ایک سرد سانس کھینچی اور ان سب کو آرڈرز دیے
لے کر چلو ان کو کتوں کیطرح ” اسنے بہزاد کو اریسٹ نہیں کرایا تھا لیکن مہروز سمیت وہ اسکے گارڈز کو لے جانے لگا
بہزاد اب بھی خاموش کھڑا تھا ۔
لیکن اس سے پہلے وہ کچھ کرتا کہ مہروز چلا اٹھا
بہزاد انہیں تمھیں اریسٹ کرنے کے وارنٹ نہیں ہیں انکے پاس میری فکر نہ کرنا یہ کمینا روح کے پیچھے پڑا ہے کچھ نہیں کرو گے میں سنبھال لوں گا سب ” وہ بولا جبکہ ہارون نے کھینچ کر مکہ مارا تھا ۔
مہروز نے اسے نفرت سے دیکھا
چھوڑو گا تو نہیں تم لوگوں کو میں “
اور یہ خود آئے گا ذرا کھل کر جنگ لڑو اب کب تک چھپ چھپ کر کھیلو گے بہزاد علی شاہ ” ہارون کئ بات پر بہزاد کے لب مسکرائے
یقینا چھپ چھپ کر کھیلنا نہیں چاہیے اب کھل کر کھیلتے ہیں ” وہ روح کا ہاتھ پکڑ کر اندر ا گیا
اسکے انداز میں تسلی تھی لیکن فلحال تمھیں میرے آدمیوں کو چھوڑنا ہو گا ” وہ سکون سے صوفے پر بیٹھ گیا
اریسٹ وارنٹ ہیں کتے کی موت نہ مارا نہ تم لوگوں کو تو کہنا کہ کس سے پلا پڑا تھا تمھارا ۔۔۔۔۔
سب کل کے آئے بچے مجھ سے جیت نہیں سکتے “
ہار جیت فیصلے سے پہلے نہیں سوچتا میں لیکن اتنا مجھے پتہ ہے کہ تمھاری اولاد کی گردن پر اگر میں چھری چلا دوں گا تو وہ اپنا آخری سانس لے گا اور اسکے بعد ” اسنے آسمان کی جانب انگلی کی لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی کیونکہ ہارون کی مسکراہٹ ایک لمہے کے لیے غائب ہو گئ سب ساکت ہو گئے اور بہزاد نے ایل سی ڈی اون کر دی ۔۔۔۔
حمزہ کو اسکے دو گارڈز معلوم نہیں کس تہہ خانے میں لیے کھڑے تھے اور اسکی گردن پر تیز دھار چھری تھی ہارون نے مہروز کے ہاتھ سے فورا ہتھکڑیاں کھلوائیں
کھولو جلدی ” وہ چیخا بہزاد پاوں جھلانے لگا اسکی تڑپ دیکھ کر ۔۔۔۔
جلدی کھولو ” اسکی دھاڑ پر وہ سر جھٹک کر ہنسا
میرے بیٹے کو چھوڑو ” ہارون نے اسکی جانب دیکھا
ہاں چھوڑو گا ہی میں نے کون سا پکڑ کر رکھنا ہے ابھی فلحال تم یہاں سے دفع ہو جاؤ ” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولا جبکہ مہروز نے ہاتھ جھاڑ دیے
ہارون فورا وہاں سے نکلا اور بہزاد نے ایل سی ڈی آف کر دی اسکے نکلتے ہی وہ خود بھی اٹھا تھا
یہ جگہ سیو نہیں ہے جاؤ یہاں سے سب ” اسنے عجلت میں کہا
حمزہ کو اٹھایا تھا اسکی بہن کو بھی اٹھا لیتا ” مہروز کی بکواس پر اسنے ضبط سے اسکی جانب دیکھا تو وہ لب دبا گیا
اور سنجیدگی سے کھڑا ہو گیا میں نے کسی کو نہیں اٹھایا یہ AI سے اڈیٹ ہے
اسنے کہا تو مہروز سمیت باقی سب بھی پریشان ہو گئے یقینا ہارون اپنے گھر میں حمزہ کو دیکھ کر یہاں دوبارہ آئے گا اور وہ لوگ پکڑے جاتے تو انکے لیے کتنی مشکلات تھیں یہ وہ ہی جانتے تھے
بہزاد نے دنگ کھڑی روح کا ہاتھ تھاما اپنا بیگ اٹھایا اور وہاں سے نکل گیا
لیکن میرا لہنگا ” وہ پلٹی
میں مر جاؤں پھر پہن کر ناچ لینا ” گھور کر کہتا وہ اسے لیے وہاں سے نکل گیا جبکہ مہروز اور باقی سب بھی فرار ہو گئے دوسری طرف ہارون خوفزدہ سا گھر پہنچا اور حمزہ کو وہاں دیکھ کر اپنے بیوقوف بننے پر خون ہی کھول گیا تھا اسکا ۔۔۔۔
اسے شجر پر شک ہو گیا تھا تبھی اسنے ہر معاملے میں خود سے سب چیز دیکھنے کی ٹھان لی تھی بہزاد پر بھی وہ ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا تبھی اسنے مہروز اور اسکے باقی بندوں کو پکڑنے کا سوچا تھا ۔
وہ دوبارہ وہاں پلٹا لیکن وہاں چڑیا کے پر کے سوا کچھ نہیں تھا اور ہتھیلی پر مکہ مارتا وہ رہ گیا ۔
بہزاد بہزاد ” دانت پیستا وہ مٹھیاں بند کر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلوم نہیں وہ اسے کہاں لے کر آیا تھا ۔
وہ البتہ کافی غصے میں تھی بہزاد مسلسل مہروز سے رابطے میں تھا اور اسے یہ تسلی تھی کہ ہارون کے ہاتھ کچھ نہیں لگا
کچھ دنوں کے لیے وہ غائب ہو جانا چاہتا تھا کیونکہ اسکے بعد ہارون کے سر پر دھماکا ہونے والا تھا
مہروز نے گاڑی کا انتظام کر کے دیا تھا اور اسے اسکا کارڈ استعمال کرنے پر باتیں بھی سنا دیں تھیں کیونکہ وہ تو خرچ کرتے ہوئے کبھی نہیں سوچ سکتا تھا وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا
اور ساتھ بیٹھی لڑکی چنے بھون رہی تھی
اگر بھاگتے بھاگتے ایک بس ایک لہنگا ہی اٹھا لیتے تو کیا ہو جاتا ” وہ بھنا رہی تھی
روح ہماری جانوں کو خطرہ ہے ہم چھپتے پھر رہے ہیں تمھیں اس لہنگے کی پڑی ہے ” وہ تحمل سے بولا
مجھے پہننا تھا ” اسنے منہ بسور لیا
وٹ ایور منہ بند کرو اور سو جاؤ ” ۔
ہممم ” وہ بڑبڑاتی ہوئی اسکی جانب سے منہ موڑ گئ جبکہ بہزاد گھیرہ سانس بھر کر گاڑی کی ڈگی میں پڑے لہنگے کا سوچنے لگا
اگر وہ نہ لاتا تو یہ لڑکی یہ ہی حرکتیں کرتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شجر ہارون کے کمرے میں داخل ہوا اور ہارون نے اسکی جانب غصے سے دیکھا
کیا ہوا سر “
اوقات میں رہو اپنی ” وہ اٹھتے ہی دھاڑا شجر نے پرسکون نگاہوں سے اسے دیکھا
تم تم میرے ٹکڑوں پر پلنے والے کتے تم اس کا ساتھ دے رہے ہو “
اپکو کوئی غلطی فہمی ہوئی ہے
کس نے بہزاد کو کلئیر کیا ہے ” وہ فائلیں دیکھ کر دنگ تھا اسنے بہزاد کے خلاف کیس کیا لیکن وہ اپرو ہی نہیں ہوا کیونکہ اسکا سارا ڈیٹا پیچھے سے شجر عباس کر چکا تھا کلئیر اور اسکا ساتھ مبین خان نے دیا بہزاد کے علم میں لائے بنا ان لوگوں نے اسے پیچھے ایکسپوز کر دیا تھا کہ وہ ائ ایس ائ کا بندہ ہے اور ائ ایس ائ پر ہاتھ ڈال لینا آسان نہیں ۔۔۔۔۔
اسکے خلاف ایک ایک بات اسکے حق میں شجر نے اتروا دی تھی
شاید وہ خاموشی سے اپنی غلطیوں کا مدعا کرنا چاہتا تھا اور اسنے کیا بھی اور آگے بھی وہ اسکا ساتھ دینے کا ارادہ رکھتا تھا جبکہ وہ جانتا تھا اسے ساتھ کی ضرورت نہیں ہارون کا سچ منہ پر دیکھائی دے رہا تھا شجر سکون سے اسے تلملاتا ہوا دیکھنے لگا
سر اپکو بہت سخت غلط فہمی ہے “
میں چھوڑو گا نہیں تم سب کو ” وہ وارن کرتا چیزیں پھینکتا اٹھ کر چلا گیا جبکہ شجر اس خالی کمرے کو دیکھنے لگا جہاں وہ اپنا قہر برسا رہا تھا
شجر کو اندازہ تھا ہارون ابھی سکون سے نہیں بیٹھے گا وہ چھٹیاں لینے آیا تھا اور سگنیچر اسنے کرائے اور وہ وہاں سے نکل گیا
اسکا راستہ پلوشہ کے ہاسپٹل کی جانب تھا وہ ہاسپٹل میں داخل ہوا تو وہ ایمرجنسی میں کسی پیشنٹ کو چیک کر رہی تھی
وہ اسکی جانب آیا اسکے پیٹ پر ایک چٹکی کاٹی اور عین پیشنٹ کے ساتھ بیٹھ گیا جو بے چارہ اپنے زخموں سے نڈھال تھا
میرے ساتھ ڈیٹ پر چلو گی ” اسنے سکون سے پوچھا
شجر ” اسنے پہلی بار غصے میں ہی سہی نام تو لیا تھا
زہے نصیب آج تو میں خوش ہی ہو گیا ” وہ پیشنٹ پر لڑھک گیا جبکہ پیشنٹ ہائے ہائے کرنے لگا ل
کیا بدتمیزی ہے ہٹیں یہاں سے ” پلوشہ نے ذرا شرمندگی سے اسے دور کھینچا
سوری میں تمھیں چیک نہیں کرنے دو گا پہلے تم میرے ساتھ چلو گی چھٹیاں لو ہم کسی ٹھنڈی اور خوبصورت جگہ پر چلیں گے “
آپ اپنا منہ بند کریں اور اپنی ڈیوٹی پر جائیں ” پلوشہ نے گھورتے ہوئے انجیکشن اٹھایا
یار یہ بیویاں اتنی چک چک کیوں لگا کر رکھتی ہیں ” وہ پیشنٹ کو گھورنے لگا
وہ پھر ہائے ہائے کر رہا تھا
تو تو منہ بند کر ” وہ اٹھ کر پھر سے اسکے پیچھے پیچھے ہو لیا
دیکھو مان جاؤ ورنہ میں ہاسپٹل سر پر اٹھا لوں گا ” وہ اسے دھمکانے لگا
یہ ایمرجنسی وارڈ ہے اپ یہاں تماشہ نہ لگائیں “
تو کیا ہوا میں بھی پیشنٹ ہوں میرا علاج کرو پہلے ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا
کہاں چوٹ لگی ہے آپ کے ” وہ گھور کر عاجز آنے لگی تھی
دل میں ” وہ مسکرایا
میرے پاس دلائل نہیں ” اسنے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور بے رخی سے گزر گئ سارا سٹاف دبا دبا مسکرا رہا تھا
جبکہ پلوشہ نے سب کو غصے سے گھورا کیونکہ وہ اس وقت یہاں سینئر تھی
ٹھیک ہے جسم پر لگی چوٹوں کا اعتبار ہے ” اسنے ادھر ادھر دیکھا
سامنے گھڑی دیکھی اور سیدھا اپنا سر کانچ پر دے مارا چھناکے سے کانچ ریزہ ریزہ ہو گیا اور اسکے سر سے خون نکلنے لگا
ہر دوسرا شخص ساکت ہو گیا پلوشہ بھی خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی اسکے سر سے خون نکلنے لگا
کافی چھوٹی چوٹ لگی ہے
مگر چوٹ تو ہے ڈاکٹر آئی نیڈ یو ” وہ سکون سے سٹیچر پر لیٹ گیا جبکہ پلوشہ کو چار نچار اسکے پاس آنا پڑا اسنے پردے آگے کیے اور غصے سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ مسکرا رہا تھا
میں اپکے ساتھ کہیں نہیں جاوں گی تو بہتر ہے یہ بینڈیج لگوائیں اور جائیں ” اسنے جھک کر اسکی پیشانی پر بینڈیج لگائی
شجر نے وہیں اسکی کمر میں بازو ڈال لیا اسکا بھاری ہاتھ عجیب احساس لیے ہوئے تھا وہ ایکدم اسے اپنے سمت کھینچ گیا
ش۔۔۔شجر ” پلوشہ کپکپا سی گئ
اٹھا کر لے جاؤ گا مجھ سے ضد نہ لگاؤ ” اسکے کان کے نزدیک وہ بہت مدھم لہجے میں بولا تھا جبکہ پلوشہ سانس حلق میں اتار گئ
تمھارے ہیڈ سے بات کر لی ہے اسنے بخوشی تمھیں چھٹی دے دی ہے اب میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں تمھارا آ جاؤ ” کہہ کر اسنے ہلکا سا اسکے گالوں کو چھوا کہیں وہ زیادہ گستاخی پر مر ہی نہ جائے اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
پلوشہ اسی بیڈ پر بیٹھ گئ پہلی بار اسکے دل کی دھڑکنوں میں شور سا برپا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے