Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episodes 29

پلوشہ ٹیبل پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی تبھی شجر عجلت میں اندر داخل ہوا اور اسے کھانا کھاتے دیکھ وہیں رک گیا
کیونکہ فلحال وہ ضروری کام سے آیا تھا اور اسے دیکھ کر رکنا بنتا تھا کیونکہ وہ شاید شاور لیے بیٹھی تھی اسکے گیلے بال پشت پر تھے جبکہ چہرہ کافی نکھرا ہوا سا ۔۔۔۔۔
اسنے اسے کہا تھا کہ وہ اپنی ڈیوٹی جوائن کر لے ۔۔۔۔
وہ اسے اعتبار کے دھاگوں میں باندھنا چاہ رہا تھا لیکن پلوشہ اسکے قابو سے باہر تھی وہ مسکراتا ہوا اسکے نزدیک آیا اور دو انگلیوں سے اسکے گال کو چھوا پلوشہ نے فورا اسکا ہاتھ جھٹکا جیسے کرنٹ سا چھو گیا ہو بڑی ہی ناگوار گزری تھی شجر کو یہ بات اسنے ایک نظر توجہ سے اسے دیکھا پلوشہ کھانا کھانے لگی اور شجر اسکے پاس ہی کھڑا ہو گیا آنکھیں سکیڑ کر اسنے خود کا یہ نظر انداز ہونا دیکھا تھا ۔۔۔
بات نا پسندیدگی کی تھی تبھی وہ وہیں کھڑا رہا کچھ توقف سے پلوشہ نے سر اٹھایا اور باغی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا اور شجر کا سیل فون بجنے لگا
اسنے موبائل پر ہارون کی کال دیکھی تھی
اس وقت اسے شدید غصہ چڑھا تھا اگر یہ فون نا آتا تو وہ اسے اچھے سے بتا دیتا آج کہ وہ کون ہے اسکی کیا ولیو ہے اور وہ اسکا شوہر پے جسے وہ یوں نظر انداز نہ کر سکتی تھی اور نہ ہی وہ اسے یہ حق دیتا کہ بہزاد کے فراق میں وہ اسے یوں منہ کی مار دے ۔۔۔
اسنے موبائل بند کیا اور اسکے سامنے سے کھانا کھینچ لیا پلوشہ نے کوئی ریسپونس نہیں دیا
شوہر ہوں تمھارا اور یہ بات تم اپنے دماغ میں بیٹھا لو اور مجھے تم سے بیویوں والا رویہ ہی چاہیے نہ کہ بہزاد کے فراق میں جان دینے والی ہو جاؤ ۔۔۔۔
رات جب گھر آؤں تو اپنے اپکو دماغی طور پر تیار رکھنا میں تم سے اپنا حق لینا چاہتا ہوں جو میرا حق ہے قانونی بھی شرعی بھی ۔۔۔
اسکے آگے پلیٹ پٹختے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سختی کر گیا تھا جبکہ اسے اسکے ساتھ نرمی کرنی چاہیے تھی کچھ اپنائیت کا احساس دلواتا لیکن وہ اسکے رویے اور موڈ پر کافی سخت ہو گیا تھا پلوشہ کچھ بولتی لیکن اسنے آنکھیں نکال کر اسے مزید بولنے سے ٹوک دیا ۔۔
کھانا کھاؤ اچھا ہے پیٹ بھر کر کھاؤ ” وہ دانت پیس کر سیدھا ہو گیا
پلوشہ نے پلیٹ اب خود سائیڈ پر کر دی
یہ تو آپ بھول جائیں کہ میں ایسا کچھ کرو گی ” پلوشہ بھڑک کر بولی
چلو دیکھتے ہیں ” وہ سنجیدگی سے ایک نظر اسے دیکھ کر کمرے میں چلا گیا اور پلوشہ کے تو دل میں بے چینی ڈال گیا تھا وہ اسکی ماتحت تھی وہ اسکے انڈر تھی وہ کر سکتا تھا کچھ بھی ۔۔۔۔
شجر اپنی ضروری چیزیں لے کر باہر نکلا اور پلوشہ اسے دیکھ کر اٹھ گئی وہ اس سےکچھ کہتی لیکن وہ وہاں سے باہر نکل گیا
پلوشہ جبکہ بھیگی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی وہ گھر کو باہر سے لاک کر کے چلا گیا تھا اور اب وہ اکثر جانے لگ گیا تھا اسی طرح کے وہ گھر کو لاک کر دیتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ساری فائلز ہارون کو دے دی تھی ۔۔
اور ہارون نے بھی وہ ساری فائلز اپنے گھر میں محفوظ کر لیں وہ گھر میں داخل ہوا تو انیسا صوفے پر بیٹھی تھی اور اسکے پاس روح بھی تھی ماہ نور بھی تھی اور حمزہ معلوم نہیں کہاں تھا ہارون آ کر بیٹھ گیا
روح البتہ اٹھ گئ اسکے بیٹھتے ہی ۔۔۔۔
ہارون نے نوٹ کیا اور قنیسا کی جانب متوجہ ہوا
تمھاری طبعیت ٹھیک ہے ” انیسا البتہ اپنے ہاتھوں پر لگے کٹس کے بعد کافی خاموش ہو گئ تھی اسکی آنکھیں بہزاد کے خوف سے مرجھائے ہوئے سی تھیں
ماہ نور روح سے تھوڑی بہت بات کر رہی تھی اور ہارون کے اتے ہی روح اٹھ گئ تو ہارون نے اسکی جانب دیکھا
بیٹھ جاؤ بیٹا ” وہ نرمی سے بولا
بہت شکریہ ” غصے سے کہہ کر وہ وہاں سے کمرے میں ا گئ
اسکا دل کیا کاش اسے علم ہو کہ بہزاد کہاں ہے تو وہ اسکے پاس چلی جائے لیکن اسے خبر ہی نہیں تھی بہزاد کہاں ہے
ماہ نور بیٹے آپ بھی جا کر آرام کرو ” ہارون نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا
مجھے برا لگتا ہے ڈیڈ روح آپی اپکے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے ” ماہ نور نے یہ بات نوٹ کی تھی جب سے روح آئی تھی اسکا رویہ ایسا ہی تھا ۔۔۔۔
یہ تو تمھاری ماں کو دیکھنا چاہیے ” انیسا کی جانب وہ موڑا تو انیسا شرمندہ سی ہوئی
ماہ نور ذرا خفگی سے چلی گئ اور ہارون اسکے سامنے بیٹھ گیا
تمھیں اب تو یقین ہے نہ ہارون یہ سب بہزاد نے کیا ہے ” وہ اپنا ہاتھ دیکھاتی بولی
نہیں تم نے خود کیا ہے سب میں فوٹیج دیکھ چکا ہوں “
ہارون ” انیسا کی آنکھیں نکل آئیں
تم جانتے ہو یہ بہزاد نے کیا ہے “
انیسا اس چاقو پر تمھارے فنگر ہیں تم نے اپنے سر پر بہزاد کو سوار کر لیا ہے زیادہ کچھ نہیں ہے خیر اٹھو آرام کرو ” ہارون نے اسکا ہاتھ پکڑا اور انیسا اپنے ہاتھوں کو دنگ دیکھتی اسکے ساتھ کھینچتی چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے نجانے کس پہر اسکی انکھ کسی کے پکارنے سے کھلی اور وہ جھٹکے سے آنکھیں کھول گئ
علی شاہ کو دیکھ کر انیسا کی چیخ نکل گئ علی شاہ اسکا گلہ دبا رہا تھا ۔
انیسا اس سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہ رہی تھی
چھوڑو مجھے چھوڑو ” اسنے علی شاہ کو دور ہٹانا چاہا
تم نے مجھے مارا تھا میں تمھیں مار دوں گا ” علی شاہ کی غراہٹ پر انیسا ایکدم ہڑبڑا کر اٹھی اسنے اردگرد دیکھا ہارون سکون سے سو رہا تھا اور اسکے اردگرد دور دور تک کوئی نہیں تھا
یہ خواب تھا اسنے خواب دیکھا تھا اسکے خواب میں علی شاہ کیوں آیا تھا نہیں یقینا یہ بہزاد تھا وہ اٹھی اسنے ساری کھڑکیاں دوبارہ کھول کر بند کی تھی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا
انیسا نے سانس اندر اتارا وہ واقعی نفسیاتی ہو رہی تھی
اسنے خود کو کنٹرول کیا اور ہارون کے پاس لیٹ گئ
اسنے ہارون کی پشت دیکھی یہ وہ شخص تھا جس سے اسے محبت ہوئی تو اسنے کچھ بھی نہیں دیکھا تھا وہ اسکی کمر پر بازو باندھ کر اسکے ساتھ بلکل چپک گئ ہارون نے کروٹ لی اور اسے سینے سے لگا لیا انیسا کو کچھ تسلی ہوئی اور وہ آنکھیں بند کرتی کہ دیوار کے پاس علی شاہ کھڑا ہوا دیکھائی دیا
اسنے ہارون کو سختی سے پکڑا اور آنکھیں پھاڑ کر علی شاہ کو دیکھنے لگی
کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف کبھی وہ اسے بولا رہا تھا کبھی وہ مسکرا رہا تھا
ہارون ” وہ ایکدم ہڑبڑا کر بولی اور علی شاہ غائب ہو گیا ہارون نے نیند سے بوجھل آنکھیں اٹھائیں اور اسکی جانب دیکھا
مجھے عجیب لگ رہا ہے کیا تم تھوڑی دیر میرے ساتھ جاگ سکتے ہو ” انیسا اٹھ کر بیٹھ گئ اسکی پیشانی بھیگی ہوئی تھی
سو جاؤ انیسا میں تھکا ہوا ہوں ” وہ اسے دوبارہ اپنے نزدیک لیٹا گیا
اور انیسا نہ چاہتے ہوئے بھی سائیڈ لیمپ بھجا کر لیٹ گئ اور اسنے فورا سے آنکھیں بھینچ لیں اسکا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دیر تک جاگ کر اسنے رات آنکھوں میں کاٹی اور ابھی انکھ ہی لگی تھی کہ کسی نے کلائی پکڑ کر اسے بستر سے کھڑا کر دیا اسنے آنکھیں کھولیں بہزاد نے اپنے چہرے پر سے ماسک ہٹایا اور اسے دور دھکیل دیا
روح ایکدم ہوش میں آئی اور وہ خوش ہوتی یہ حیران اسے دیکھ کر البتہ خوشی زیادہ تھی لیکن وہ اب اسکے بستر پر لیٹ رہا تھا
اسکے چہرے پر پسینے کی بوندیں تھیں کمرے میں اسکے پسینے سے عجیب ہی خوشبو پھیل سی گئ
معلوم نہیں اب بھی وہ کیسے کلون لگا رہا تھا کیونکہ بظاہر تو اسکے پاس کچھ نہیں تھا ۔۔۔
بہزاد نرم بستر پر لیٹا تو اسنے اردگرد پورے حق سے ہاتھ مارا سائیڈ پر ہی اے سی کا ریموٹ پڑا تھا اسنے اے سی کی سپیڈ فل بڑھا دی اور اسکو اپنے چہرے پر کر لیا
دنیا کی بہت بڑی نعمت تھی اس وقت اسکے لیے یہ بستر اور یہ اے سی ۔۔۔۔۔
بس ہو گئ تھی اسکی تبھی وہ یہاں ا گیا تھا روح اب تک اسے ہی دیکھ رہی تھی
بہزاد نے اپنے بوٹ بھی اتارے ایسا لگا اب اسے سکون کی نیند آنے والی ہے اسنے اپنی گن نکالی اور روح کی جانب اچھال دی اگر روح کیچ نہ کرتی تو یقینا وہ گن اسکے نازک انگوٹھے پر گرتی اور اسکا خوبصورت سا ناخن توڑ دیتی ۔۔۔۔
وہاں بالکنی میں جا کر کھڑی ہو جاؤ اور میری حفاظت کرو ۔۔۔۔
جب تک میں سو کر نہ اٹھو یہاں نہ کوئی آئے اور نہ ہی تمھارا شجر ریڈ مارنے پہنچے “
وہ میرے نہیں ہیں ” وہ اسکی بات پر حیران تو تھی لیکن جلدی سے اس بات پر تڑپ کر بولی
ائ سی ” وہ طنزیہ سر جھٹک گیا
فلحال مجھے نیند ا رہی ہے اور میرا موڈ نہیں تمھیں دیکھنے کا ۔۔۔۔ غائب ہو جاؤ یہاں سے باہر بالکنی میں ” وہ سختی سے بولا
لیکن ۔۔ لیکن یہ میرا بستر ہے ” وہ اختلاف کرنے لگی لیکن بہزاد نے اپنی تھکی ہوئی آنکھوں کو کھول کر اسکی آنکھوں میں گاڑھا دیا
روح کنفیوز سی کھڑی رہی ایک جرم نے سارا کانفیڈنس ختم کر دیا
بہزاد خود ہی اٹھا اور اسکا بازو پکڑ کر اسے بالکنی میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا
حفاظت کرو میری ۔۔۔ ویسے تم اس لیے تو ہو نہیں کہ تم سے یہ کام کرایا جائے شجر کو پھر بتا دو گی ” وہ پر سوچ نظر ا رہا تھا
نہیں میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا میں سچ کہہ رہی ہوں ” روح اپنی صفائی دینے لگی
ویری گڈ ایسے ہی سچ بولتی رہو تو پھر تو تمھیں اپنی سچائی ثابت کرنے کو میری حفاظت کرنی چاہیے جب تک سو کر خود نہ اٹھو مجھے ڈسٹرب نہ کرنا ” آنکھیں نکال کر غنڈہ گردی کرتا وہ بستر پر گیرا تو اسنے اسکے بلینکیٹ کو اسکے نرم تکیوں کو ٹانگوں میں پھنسا لیا جبکہ روح بیوقوفوں کیطرح بالکنی میں رات کے تین بجے اس کی حفاظت کو کھڑی ہو گئ تھی اگر وہ اسے جج کرنا چاہ رہا تھا تو وہ امتحان دے گی ۔۔۔۔
وہ کھڑی ہو گئ جبکہ وہ اندر گھیری نیند میں اتر گیا
تقریبا دو گھنٹے مزید اسنے وہاں گرمی میں گزار دیے اور بار بار نیند کو بھگانے لگی لیکن پھر بھی اسے نیند شدید ا رہی تھی اور اس گرمی میں مزید بیٹھنا بھی محال تھا
وہ اہستگی سے کہ کہیں بہزاد اٹھ ہی نہ جائے کمرے میں داخل ہوئی تو لگا کمرہ نہیں جنت ہے اچانک ہی اسکے جسم پر جھرجھری سی آئی اور اسنے بالکنی بند کر دی ۔۔۔
اے سی چل رہا تھا تھا اور اسنے شرٹ بھی اتار کر سائیڈ پر پھینکی ہوئی تھی اور کس قدر معصوم لگ رہا تھا اس وقت وہ سویا ہوا روح کو اپنے عمل پر شرمندگی سی ہوئی ۔۔۔
اسکا بھی نیند سے وجود جھوم رہا تھا وہ اسکے پہلو میں بیٹھ گئ
اسکی بوجھل آنکھیں نیند کے خمار سے بند ہونے کو تھیں ۔۔
اس وقت پنک اور وائیٹ نائیٹ ڈریس میں تھی جب سے یہاں آئی تھی اسنے نائیٹی پہنا چھوڑ دی تھی ہارون کی نظروں سے جو کوفت ہوتی تھی تبھی وہ نائیٹ ڈریس پہنے لگ گئ تھی اور وہ آہستگی سے اسکے پہلو میں لیٹ گئ
اے سی کی ٹھنڈی ہوا اسکے چہرے پر پڑنے لگی چند لمہے بھی اسکا نازک وجود وہ ہوا سہہ نہیں سکا جو وہ جہازی سائز شخص الٹا لیٹا ٹھندی ہوا انجوائے کر رہا تھا شاید اسکا نازک مزاج اس گرمی کو سہنے سے منکر ہو چکا تھا اب تبھی اسکے پاس آ گیا تھا
جبکہ وہ جانتی تھی اسکے پاس جگہ ہے رہنے کی لیکن کوئی اسے چین سے رہنے ہی نہیں دے رہا تھا وہ جہاں جاتا اسکے پیچھے پہنچ جاتے وہ اسے اپنے پاس رکھ لے گی وہ واقعی کسی کو نہیں بتائیں گئی اسکا بلینکیٹ اسکے نیچے تھا اسنے تھوڑا سا کھینچنا چاہا مگر وہ اسے کیسے ہلاتی اب وہ تھک چکی تھی اسے رونا آنے لگا اور پھر یاد آیا اسکے پاس ایک اور بھی بلینکیٹ اور جلدی سے اسنے اپنے الماری میں سے نکالا اور وہ لیٹ گئ لیکن بہزاد پر نگاہ ٹھہری ہوئی تھی ۔۔
وہ بہت اچھا لگ رہا تھا اور وہ اسکے پہلو میں فاصلے سے لیتی اپنے دھڑکتے دل کو اتنا تیز شور کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ سن ہی نہ لے جاگ ہی نہ جائے اسنے مزید فاصلہ بنایا اور آنکھیں بند کر لیں
جلد ہی اسے نیند نے جا لیا تھا
لیکن اسنے نیند میں محسوس کیا کسی نے اسے اپنی سمت کھینچا لیا تھا اور ایک بھاری ہاتھ اسکے اوپر سما گیا اور روح کو بھی سردی نہیں لگ رہی تھی اب وہ بھی سو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہو چکی تھی دن نکل آیا تھا ایک بجے دو بجے اور پھر تین بج گئے
انیسا نے پریشانی سے دروازہ پیٹ ڈالا
روح ۔۔۔ روح کیا ہوا ہے بیٹا تم اب تک نہیں جاگی ” وہ رات سے بھی ڈسٹرب تھی اور اب تو شدید ڈری ہوئی تھی اسنے دروازہ پیٹ ڈالا تو ایکدم روح کی انکھ کھلی گئ
اسکی انکھ کھلی اسپر بلینکیٹ نہیں تھا وہ مکمل بہزاد کے قبضے میں تھی اسکا نازک وجود وہ خود میں بھینچے اب تک سو رہا تھا
وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور بہزاد کی پیشانی پر بل پڑے
یا اللّٰہ ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی بستر سے اتری
اب ۔۔۔ اب کیا کروں میں اب مما تو ۔۔۔۔ یہ لوگ تو بہزاد کو پکڑ لیں گے
یہ اللّٰہ میں کیا کروں
بہزاد نے کہا تھا میری حفاظت کرنا نہیں میں یہ دروازہ نہیں کھول سکتی لیکن دروازہ دھرا دھڑ بج رہا تھا بہزاد نے کشن اٹھا کر کانوں پر رکھ دیا
روح کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی وہ جاگ بھی تو نہیں رہا تھا سکون سے سو رہا تھا
اور وہ بھی بیوقوفوں کیطرح سوتی رہی اسکے پہلو میں روز کیطرح اٹھ جاتی تو کیا نقصان ہوتا کم از کم یہ تو نہ ہوتا ۔۔۔۔
وہ ناخن کاٹنے لگی تھی اسنے سب سے پہلے پردے آگے کیے اور کمرے میں اندھیرا بڑھا دیا اور ہمت کر کے ہلکا سا دروازہ کھولا
روح ” انیسا اندر آتی کہ وہ باہر نکل گئ خود ہی ۔۔۔
یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے بیٹا تم آج اتنی دیر تک سوتی رہی ” انیسا نے اسکا چہرہ تھام گیا
میں تھک گئ تھی مام اسی لیے تادیر سوتی رہی میں آج اپنے کمرے میں ہی رہو گی تو پلیز آپ “
ہاں ہاں چلو کمرے میں چلتے ہیں ” انیسا نے کہا جبکہ روح دروازے میں کھڑی ہو گئ
وہ میں کم۔۔کمرہ بہت زیادہ گندا ہے میرا مطلب آپ افففف کیا کہوں ” وہ پریشانی سے سوچنے لگی
اچھا تم جاؤ آرام کرو ” اسکی یہ حرکتیں انیسا کو عجیب لگیں تھیں وہ اسکی مشکل آسان کرتی کہہ کر وہاں سے ہٹ گئ جبکہ روح جلدی سے کمرے میں گھس گئ اور اندر آ کر اسنے گھیرہ سانس لیا
بہزاد اسکے اندر آتے ہی جمپ لگا کر اٹھا تھا وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
ناشتہ لاؤ میرے لیے میں فریش ہو کر آتا ہوں ” ترچھی نظر ڈال کر کہتا وہ واشروم تلاشنے لگا اور جب دیکھائی دے گیا تو وہ واشروم میں گھس گیا
روح کا دل اتنی تیزی سے اسکی باڈی دیکھ کر دھڑکتا تھا کہ وہ خود خود سے ہی پریشان تھی لیکن وہ کیا یہ فرمائشی چکر میں اسے پھنسا گیا تھا وہ ناشتہ اوپر کیسے لائے گی
وہ گھبراہٹ بھرا سانس بحال کرتی کمرے سے یوں ہی نکل آئی اور معلوم نہیں کیسے اسکے لبوں کو مسکان نے چھو لیا جلدی جلدی وہ کچن میں بریڈ پر جیم لگا کر کافی ساری بریڈ پلیٹ میں رکھ کر دودھ کا گلاس رکھ کر اوپر لے گئ
انیسا نے اسے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا اور وہیں کھڑی دیکھنے لگی
لیکن اسنے بس جاتے ہوئے دیکھا تھا وہ اسکے ہاتھ میں ٹرے بھی نہیں دیکھ سکی تھی
دوسری طرف روح کمرے میں آئی تو وہ شاور لے کر اپنے حلیے میں تبدیل ہو چکا تھا اسنے ایک نظر ٹرے کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔
دودھ اور بریڈ جیم اور اسکے ہونٹوں کی مسکراہٹ دیکھ کر وہ نگاہ پھیر گیا
روح کی مسکراہٹ سمٹ گئ
یہ ناشتہ اچھا نہیں لگا ” وہ سوال کر گئ
بچہ نہیں ہوں کافی نہیں پی دو ہفتوں سے ” اسنے کہا تو روح سر تھام گئ وہ واقعی بچہ تو نہیں تھا
لیکن دودھ بھی تو صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے اپ آج پی لیں کل اپکے لیے کافی بناؤ گی ” وہ خوشی سے بولی
کیوں تم دہشت گرد کی خدمتوں کا سوچ چکی ہو زیادہ فری نہ ہو مجھ سے ۔۔۔
پیسے دو مجھے ” اسنے کہا اور سکون سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا
روح نے لمہہ بھی نہ لگایا اور اسکے آگے اپنا بیگ کر دیا جس میں سے بہزاد نے اے ٹی ایم کھینچا اور جیب میں ٹھونس لیا روح کی جان نکلی تھی اے ٹی ایم پورا لے لیا ۔۔۔
اور بہزاد علی شاہ بنا کچھ سے بولے وہاں سے جانے لگا
بہزاد ” روح بے ساختہ پکار اٹھی
کیا مجھ پر اعتبار ” وہ ابھی کچھ کہتی وہ طنزیہ مسکرایا
میرا یہاں آنا میرے اپنے عیش اور آرام کے لیے ہے اس میں تمھارا عمل دخل کوئی نہیں ہے ریڈ فائل لا کر دو مجھے اسکے بعد تمھارے بارے میں کچھ سوچ جائے گا ” وہ سر جھٹک کر بولا
روح چپ رہ گئ
جبکہ بہزاد سامنے دیکھنے لگا رات کے وقت اندھیرا ساتھ دے دیتا تھا اس وقت تو چمکتی روشنی تھی گارڈز بھی تھے وہ کیسے چھپ کر نکلتا ۔۔۔۔
میں نکالو اپکو ” روح بولی
اور بہزاد نے ایک فائر سامنے ہارون کے کتے پر کیا ۔۔۔۔ فائر کی آواز پر گارڈز گیٹ پر سے بھاگے تھے
بہزاد نے جتاتی نگاہوں سے پیچھے دیکھا
روح لب بھینچ گئ وہ ثابت کر گیا تھا اسے ۔۔۔ اس جیسے کمزور سہارے کی ضرورت نہیں وہ دس سال سے اس دنیا کی کڑی دھوپ میں اپنی حفاظت خود ہی کرتا ا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔