Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

بہزاد علی شاہ ۔۔ برگیڈیر علی شاہ شہید ہو گئے ہیں ” یہ وہ آخری الفاظ تھے جو وہ اپنی زندگی میں کبھی سننا نہیں چاہتا تھا ۔
و۔۔۔واٹ” پھنسا پھنسا سا شاکینگ سا وہ بولا ۔
ہر شے کا رنگ پھیکا سا پڑ گیا اسکا وجود رفتہ رفتہ ٹھنڈا پڑنے لگا دوسری طرف فون کھڑاک سے رکھ دیا گیا ۔۔
اسنے دوبارہ کال ملائی کال ڈسکنیکٹ کر دی گئ وہ آرمی تھی ۔ اسکے ماموں کا گھر نہیں جو فون پر ہی اسے ساری اطلاعات دے دیتے۔۔۔
اسنے اپنے ہاتھوں میں کانپتا موبائل دیکھا ۔۔
ہوا جیسے اتنی تیز ہو گئ کہ اسے اڑا کر کہیں پٹخ دے حلق خشک ہو گیا اور وہ تنہا رہ گیا ۔۔
وہ باہر دوڑ لگاتا اندر بھاگتا کہاں جاتا
اسی ادھیڑ بن میں شجر اسکے نزدیک آیا۔
کیا ہوا یہاں کیوں کھڑا ہے ” شجر کے سوال پر بہزاد نے سرخ نگاہوں کو شجر پر اٹھایا
بہزاد” شجر حیران ہوا ۔۔ وہ 21۔سال کا تھا اور وہ دونوں پچھلے تین سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے اسنے ایک بار بھی اسے روتے یہ خوفزدہ نہیں دیکھا وہ اپنے باپ کا لاڈلا تھا اور شاید باپ اسکا ۔۔۔
کیا ہوا ” شجر نے اسے جھنجھوڑا
علی شاہ شہید ہو گئے ” خالی خالی آنکھوں سے وہ بولا تو شجر کو دھچکا لگا وہ دو قدم دور ہوا
لیکن کیسے ۔۔ کیوں علی شاہ کسی بھی مشن میں شامل نہیں تھے ۔۔ ” شجر کا دماغ تیزی سے حرکت کرنے لگا ۔۔۔
بہزاد حوش میں او اٹھو ” شجر چلایا
بہزاد بیٹھتا جا رہا تھا
بہزاد ایسا نہیں ہو سکتا کسی نے مذاق کیا ہے چلو میرے ساتھ ” شجر نے اسے اٹھایا بہزاد نے اپنے گالوں پر گیلا پن محسوس کیا تھا وہ اٹھا اور بس بھاگتے ہوئے دیکھائی دیا
کہاں جا رہے ہیں یہ دونوں ۔۔۔ نانو کی آواز پر بھی وہ نہ روکے اور گاڑی میں سوار ہوتے نکل گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برگیڈیر علی شاہ کو دفناتے ہوئے سولہ توپوں کا سلام دیا گیا تھا ۔۔
آدھے گھنٹے میں یہ خبر پھیلی اور اگلے آدھے گھنٹے میں برگیڈیر علی شاہ کو دفنا دیا گیا ۔
اسکی قبر پر پھولوں کی برسات کی گئی
بڑے بڑے آرمی افسران خاموش کھڑے تھے اور علی شاہ کا کوئی نہیں تھا وہاں نہ اسکی بیوی نہ بیٹا
وہ تنہا ہی اجنبیوں میں دنیا فانی سے کوچ کر گیا ۔۔
جبکہ دوسری طرف ان لوگوں کا سفر اچھا خاصا لمبا تھا کم از کم بھی اگلے دن شام میں وہ لوگ پہنچے تھے علی شاہ کو دفنائے ہوئے ایک دن گزر گیا تھا
وہ جذباتی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ آرمی اپنے رولز ہر شخص پر لاگو کرتی تھی ۔۔ کسی کے لیے کچھ نہیں بدل سکتی
وہ دوڑاتا ہوا باپ کے کمرے میں آیا اور وہاں ویرانہ دیکھ ایک بار پھر اسے لگا وہ ہوا میں معلق ہو گیا ہو
سر بہزاد علی شاہ ا گیا ہے ” کرنل ضیاء کو اطلاع ملی تو انھوں نے سر ہلایا
آنے دو ” وہ دروازہ ناک کیے بنا اندر داخل ہوا تو انکی پیشانی پر چتون سے بن گئے اور اسنے باہر نکل کر بھرائی ہوئی آواز میں دوبارہ اندر آنے کی اجازت مانگنی پڑی
تو انھوں نے اجازت دی اور وہ اندر داخل ہوا دونوں نے سلوٹ مارا ۔اور تن کر کھڑے ہو گئے
کرنل ضیاء اپنی جگہ سے اٹھے وہ سرخ نگاہوں سے بس سامنے دیکھ رہا تھا
مجھے افسوس ہے علی شاہ کی موت کا ۔ ۔۔” اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر وہ تھپتھپانے لگے بہزاد کے وجود میں بےچینی سے کئ سوال سر توڑ رہے تھے
لیکن شہادت ہمارا ایک رینک ہے بہزاد جو ہمیں کسی بھی وقت کہیں بھی مل سکتا ہے اور اسی رینک کے لیے ہم یہاں ہیں اور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ” انھوں نے کہا بہزاد کے گال پر آنسو گیرہ ۔
May I asked a question please sir”
وہ قدرے بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔
یس ” انھوں نے اجازت دی
ڈیڈ کسی مشن میں شامل نہیں تھے پھر وہ کیسے شہید ہوئے ؟
اسکے سوال پر سب سے پہلے تو انھوں نے اس رشتے پر ٹوک دیا جو وہ کہہ رہا تھا ۔
برگیڈیر علی شاہ کسی مشن میں شامل نہیں تھے سر انکی ڈیوٹی ٹرینرز پر تھی ” وہ سنبھل کر تصیحی کرتا بولا ۔
کرنل ضیاء نے اسے غور سے دیکھا اکیس سالہ ایک لاپرواہ لڑکا سمجھتا تھا وہ اسے ۔۔
میرے خیال سے یہ سوال نہیں بنتا اپکا ” وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔
میں اپکے غم میں شامل ہوں لیکن یہ اصول ہے جو آیا ہے اسے جانا بھی ہے ہم پھر کبھی بات کریں گے اس موضوع پر آپ اپنی ٹریننگ پر فوکس کریں “
Sir may I asked one more question please” .
وہ سنجیدگی سے سر ہلا گئے شجر اس دورانیے خاموش تھا بہزاد کی کیفیت سے واقف تھا ۔
کہاں ہیں وہ “
ڈ جنت میں ” انھوں نے مختصر جواب دیا
بہزاد نے انپر نگاہ اٹھائی سپاٹ چہرے سے وہ اسے دیکھ رہے تھے اسکا دل کیا انکا گریبان پکڑ لے اسکے باپ کو آخری بار بھی دیکھنے نہیں دیا لیکن وہ سلوٹ مارتا وہاں سے نکل گیا
بہزاد ” شجر نے پیچھے سے پکارہ مگر وہ علی شاہ کے کمرے میں چلا گیا اور اسنے لاک کر لیا خود کو ۔۔۔۔
باپ کے کپڑوں سے چمٹ کر وہ اکیس سالہ لڑکا خوب رویا تھا اسے اپنے باپ سے بہت محبت تھی اسے لگتا تھا اسکا باپ شیروں جیسا ہے اسکے آگے کسی ڈھال کیطرح کھڑا ہے اسکے باپ نے ہمیشہ اسے اہمیت دی تھی ۔۔
بھلے سامنے اسکی اپنی ماں ہوتی نانی ہوتی یہ پھر انیسا ۔۔۔۔
وہ ایک سوال بھی نہیں کر سکتا تھا وہ مخالفت نہیں کر سکتا تھا وہ چلا نہیں سکتا تھا کہ یہ رولز کے خلاف تھا ۔
پورے دو دن وہ باہر نہیں نکلا شجر ٹریننگ پر جا چکا تھا ۔
بہزاد کو وارننگ مل رہی تھیں لیکن فلحال وہ اس سچویشن میں تھا ہی نہیں کہ کچھ سوچ پاتا یہ کر پاتا ۔۔۔ اسنے شاور لیا
غم سے نڈھال وجود گھسیٹ کر وہ کمرے سے نکلا اور کنٹین تک ا گیا
وہاں اسکے ساتھی دوست احباب سب علی شاہ کا ذکر کرنے لگے وہ خاموشی سے کھانا لے کر پلٹا کہ نگاہوں نے شجر عباس کو تلاشنا چاہا لیکن وہ نہیں تھا وہ حیران تھا لیکن غم زیادہ ہونے کے باعث وہ وہاں سے دوبارہ اپنے باپ کے کمرے میں ا گیا
وہ غمزدہ سا دیکھتا اور بھی حسین لگ رہا تھا اسکی ڈیمپلز کی نمائش ہوئی ہی نہ تھی دو دن سے ۔۔۔۔
وہ کمرے میں آیا اور اسنے ایل سی ڈی اون کر لی ۔
” برگیڈیر علی شاہ غدار تھا ۔۔۔ ایک ایسا غدار جسے مار دینا بہتر تھا ۔۔ “
اس سے لقمہ بھی اندر نہ اترا وہ والیم تیز کر گیا شاید سننے میں غلطی ہوئی ہو اسے اپنی جگہ سے اٹھتا وہ ایل سی ڈی کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا
اسکا سیل فون بجنے لگا اسنے کال اٹینڈ کی نانو تھیں رو رہی تھیں
علی شاہ ” وہ روئیں اسکی آنکھیں بھی بھیگ گئیں لیکن یہ کیا تھا جو نیوز پر چل رہا تھا
اور کرنل ضیاء چلا چلا کر یہ سب بیان بتا رہے تھے ۔۔۔ کیوں وہ شہید ہوئے تھے تو غداری کیسی انھوں نے اپنے وطن اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کیا تھا وہ جانتا تھا
اسنے فون کاٹ دیا ایک لقمہ بھی حرام ہو گیا تھا اسپر اس وقت ۔۔۔
ایک آرمی افیسر کیسے غدار ہو سکتا ہے سر؟ ایک صاحفیہ نے پوچھا کرنل ضیاء مسکرائے
بالکل ۔۔۔ آرمی آفیسرز بھی انسان ہوتے ہیں اور اگرچہ ان کی تربیت وفاداری ، دیانتداری اور حب الوطنی پر مبنی ہوتی ہے مگر بعض مخصوص حالات میں غداری کا امکان ہو سکتا ہے۔
برگیڈیر علی شاہ ذاتی مفاد کے لیے دوہری وفاداری پر اتر آیا تھا وہ ہمارے پڑوسی دشمنوں سے جا ملا تھا اور ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہا تھا ۔
تو ایسی صورتحال میں آرمی سخت کروائی کرے گی ۔
ہم اپنی قوم اپنے وطن کے اگے کسی کو نہیں دیکھیں گے بھلے وہ ہمارے اپنے ہی کیوں نہ ہوں پاکستان کی 24 کروڑ عوام کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔
کرنل ضیاء کے بیان پر انکے نام کے نعرے بلند ہوئے جبکہ اگلی نیوز میں برگیڈیر علی شاہ کے پوسٹرز کو جلایا جا رہا تھا اسکے حامیوں کو مارا پیٹا جا رہا تھا ۔۔۔
ایک ادھم تھا جو وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا تھا
کھینچ کر ریموٹ اسنے ایل سی ڈی پر مارا اور کمرے سے باہر نکل گیا
وہ سیدھا میس سے باہر نکلا اور اس ایریے میں ا گیا جہاں افسران کے افسیز تھے ۔۔
اسکے مزاج اس وقت اتنے کڑوے تھے کہ وہ بلا جھجھک سب کر دیتا اسے آرمی کی عزت اسکے رولز کی کوئی فکر نہیں تھی اسکے باپ پر الزام لگایا جا رہا تھا اور جب اسے پتہ چلا کہ وہ قتل ہوا ہے تو اسکا بس نہیں چلا آگ لگا دے وہ ایک ایک چیز کو ۔۔ جبکہ وہ فوجی ٹروزر اور بلیک شرٹ میں اونچا لمبا کسرتی وجود کا مالک وہ چلتا ہوا جنرل ہارون کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے وہ علی شاہ کے بیسٹ فرینڈ تھے اور بہزاد ان سے بہت فرینک تھا دو دن میں ایک بار بھی وہ ان سے نہیں ملا تھا ۔۔۔ اور اب یہ خبر سن کر فورا انکے پاس پہنچ گیا ۔
یہ کیسی نیوز ہے ” اسکا پہلا سوال یہ ہی تھا
آپ لوگوں نے کہا ڈیڈ شہید ہوئے ہیں لیکن انکا قتل ہوا ہے اور انکو آپ لوگوں نے مارا ہے کیوں ” وہ دھاڑا یہاں تک کے اسکا بس نہیں چلا وہ سب کا خون کر دے ۔
دیکھو بہزاد یہ حقیقت ہے جو نیوز میں چل رہی ہے اور حقیقت سے منہ پھیرنے کے بجائے تمھیں اسے قبول کرنا چاہیے وہ غدار ہو گیا تھا “
وہ تحمل سے بولے
کیسے ۔۔۔ کیسے غدار ہو گئے تھے
وہ میس میں ٹرینرز کی ڈیوٹی پر تھے وہ اگلے سال ریٹائرمنٹ لینے والے تھے کیونکہ میں کیپٹن کی سیٹ پر جاتا ۔
وہ غدار نہیں تھے ” وہ غرایا
جنرل ہارون سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگے
آپ لوگ کیسے کیسے کر سکتے ہیں انکے ساتھ یہ سب میں جانتا ہوں میرا باپ حب الوطن تھا وطن کے لیے وہ اپنی جان دے سکتا تھا اور آپ لوگوں نے انھیں غدار بنا کر مار دیا
غدار کی سزا موت ہی ہے ” وہ خفگی سے اسے دیکھتے بولے
کہاں لکھا ہے سر میں پڑھ چکا ہوں سب ۔۔۔ دفع 131
پاکستان پینل کوڈ کہاں مر گیا دفع 121 پاکستان آرمی ایکٹ 1952
اور ان دفعات کے مطابق کسی غدار کو بھی آپ لوگ جان سے نہیں مار سکتے قانون کہاں مر گیا تھا اگر بالفرض وہ غدار بھی تھے اپ لوگوں نے انھیں مار دیا پھر دفنا دیا ۔۔ کیوں کیوں کیا ایسا ” اسنے انکی ٹیبل پر سے کانچ کا شو پیس اٹھا کر دیوار میں دے مارا
بہزاد علی شاہ غدار کے بیٹے ہو تم چاہوں تو تمھیں بھی مروا سکتا ہوں ۔۔”
وہ سختی سے بولے بہزاد بے خوف نگاہوں سے انھیں دیکھنے لگا جبکہ وہ اسکے رویے پر کافی برہم دیکھ رہے تھے عجیب بات تھی اسکے باپ کو مار کر وہ سب یہ چاہتے تھے وہ نارمل رہے ۔۔۔۔
سر مجھے مروا دیں ورنہ میں چین نہ لینے دوں گا اور نہ خود چین سے بیٹھو گا ” دو ٹوک کہتا وہ وہاں سے نکل گیا اسکی آنکھوں میں وہ جنون دیکھ سکتے تھے اسکے نکلتے ہی انھوں نے فون اٹھایا ۔
بہزاد علی شاہ کو مار دو ” مختصر بات کہہ کر کال بند کر دی ۔۔
شجر سامنے سے ہی ا رہا تھا
تمھیں پتہ ہے ان لوگوں نے کیا کیا ہے میرے باپ کو بے قصور مارا ہے شجر بے قصور ۔۔ میں انپر کیس چلاؤ گا ۔۔
میں چھوڑو گا نہیں کرنل ضیاء اور جنرل ہارون کو ” وہ غصے کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔
وہ غدار ہی تھے ۔۔۔ غدار ہو چکے تھے ۔۔
اگر ریاست کی پالیسیاں سمجھ نہ آئیں تب بھی ہم ان پالیسیوں کو اپنی منشاء کے مطابق کرنے کے لیے دھمکیاں نہیں دے سکتے کہ میں دشمنوں سے جا ملو گا ۔۔ پھر سارے ثبوت ہیں میرے پاس تم غدار کے بیٹے ہو بہزاد خاموشی سے یہاں سب کچھ چھوڑ کر خود چلے جاؤ ۔۔ ورنہ یہ جنگ بہت گھیری ہو جائے گی “
وہ اپنے کانوں پر یقین کیسے کر لیتا کہ یہ شجر بول رہا تھا جس کے پاس یہ الفاظ ہوتے تھے بس
” یار تیرا باپ دنیا کا زبردست آدمی ہے میں اسے ائیڈیالائز کرتا ہوں میری نظر میں اس سے زیادہ کھرا افسر کوئی نہیں “
شجر ” وہ حیران تھا ۔۔
ہاں یہ ہی سچ ہے تمھیں ثبوت چاہیں ” اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے ایک کمرے میں لے آیا
یہاں مجرموں کی پوچھ گچھ ہوتی ہو گی شاید یہ جگہ ان لوگوں کے لیے عام تھی ۔
شجر نے اسکے سامنے تصویریں پھینکنا شروع کر دیں
بہزاد ان تصویروں کو دیکھنے لگا
ان تصویروں میں علی شاہ بھارتی افسر سے ہاتھ ملا رہا تھا اسے کچھ چیزیں دے رہا تھا کہیں کچھ معملہ تھا کہیں کچھ ۔۔
اور کوئی یہ بات کوئلوں پر بھی چلتے ہوئے کہتا کہ علی شاہ غدار ہے بہزاد تب بھی نہ مانتا اسنے وہ ساری تصویریں پھاڑ دیں
سب جھوٹ ہے یہ ۔۔۔ تم لوگ یہ ایویڈینس مجھے دیکھا رہے ہو میں نے دیکھا ہے اپنے باپ کو اس ملک کے لیے جان نثار کرتے یہ سب فیک ہے ہوا کچھ اور دیکھایا کچھ جا رہا ہے انیسا کہاں ہے ” بہزاد کے سوال پر شجر نے سر جھٹکا
میم انیسا کو اپنی جان کا خطرہ تھا تبھی وہ یو ایس اے چلی گئیں ہیں ہمارے افسران نے انھیں خود بھیجا ہے ۔۔ دیکھو بہزاد میں جانتا ہوں تمھاری یہ فیلنگز نیچرل ہیں مگر یہ آرمی ہے یہاں جذبات اور احساسات نہیں دیکھے جاتے یہاں آنکھوں دیکھا سچ ہے اور بس ماضی اور پس پشت کیا ہے اسکے لیے تمھیں عدالتوں کے دھکے کھانے ہوں گے تم جاؤ بہزاد یہاں سے چلے جاؤ ۔۔ ” وہ شجر کو دیکھ رہا تھا اور بس دیکھتا رہ گیا اسنے اپنے گال صاف کیے اور ٹیبل پر مکہ مارتا کھڑا ہوا
تم بھی “
تم بھی سے کیا مراد ہے یہ ہی سچ ہے تمھارا باپ غدار تھا اور مجھے افسوس ہے کہ کبھی میں نے اسے پسند کیا کہ میں اسکے جیسا بنو “
شیٹ اپ ” اسکی دھاڑ دور دور تک گونجی تھی اور کسی شکاری کیطرح اسنے شجر کی گردن جکڑ لی ۔۔
میں بات کی تہہ تک جاوں گا شجر اگر میرا باپ غدار نکلا تو اسکی قبر بھی کبھی نہیں دیکھو گا لیکن اگر وہ غدار نہ ہوا “
خدا کی قسم شجر تم مجھے بہت اچھے سے جانتے ہو ایک ایک کو زمین میں گاڑھ دوں گا اور پہلے تم ہو گئے ” اسنے جھٹکے سے اسکی گردن چھوڑی اور وہاں سے نکل گیا
چلے جاؤ یہاں سے اب تمھیں کچھ نہیں ملے گا بہزاد ” شجر پیچھے سے چلایا لیکن بہزاد آگے نکل گیا وہ ان پھٹی ہوئی تصویروں کو ساتھ لے گیا تھا اور ایک بار پھر بہزاد علی شاہ اپنے باپ کے کمرے میں بند تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ خطرہ ہے ” سنجیدگی سے کمرے کی خاموش فضا میں آواز بلند ہوئی ۔۔۔
ہم ہمارے ملک کے لیے ہماری قوم کے لیے مجھے لگتا ہے اس خطرے کو خاموشی سے ختم کر دینا چاہیے ” وہ بڑے بڑے افسران کے بیچ بیٹھا تھا
علی شاہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں کوئٹہ میں ایک بہت بڑا بلاسٹ کرانا چاہ رہا تھا
اس بلاسٹ سے تو لوگ بچ گئے تھے لیکن بہزاد کی تباہی سے بچانے کے لیے بہزاد کا مر جانا بہتر تھا ” ان سب کا آپسی فیصلہ ہوا شجر حیرانگی سے انھیں دیکھنے لگا
وہ اب کرنل جنرل کے بیچ بیٹھ اٹھ رہا تھا اسکے لیے یہ خوش قسمتی تھی ۔۔ لیکن بہزاد کو مار دینے کے خیال سے وہ پریشان ہو اٹھا
یہ کام تم کرو گے ” کرنل ہارون نے اسکے ہاتھ میں بندوق تھما دی ساونڈ پروف ہے اسکی آواز پیدا نہیں ہو گی تم خاموشی سے یہ کام کر دو تمھیں کیپٹن کی پوسٹ پر ڈائریکٹ لے جائیں گے ” وہ اسکا شانہ تھپتھپاتے بولے جبکہ وہ اپنے ہاتھوں کی لرزش کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی گردن پر شدید دباؤ تھا وہ ایکدم بھپر کر اٹھا چارو اور اندھیرے تھا کوئی اسکی گردن شدت سے دبا رہا تھا ۔
شجر ” وہ پہچان گیا شجر کا ہاتھ ایک لمہے کے لیے چوک کر گیا اور بہزاد نے اسکے پیٹ میں لات ماری
شجر بخوبی جانتا تھا بہزاد کے پاس ہر قسم کا موو تھا لڑنے کے لیے اسکے باپ نے اسے بہت کچھ سیکھایا تھا وہ لاپرواہ ضرور تھا لیکن کم عقل نہیں اور یہ بات سب کو کھٹک رہی تھی
وہ لائٹس اون کرتا کہ شجر کھڑی سے کود کر فرار ہو گیا ۔۔
بہزاد نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھا اسے اب سب سمجھ ا رہی تھی ۔۔ وہ لوگ شجر کو ٹریپ کر چکے تھے اور وہ کم عقل انسان ہو بھی گیا تھا اسے شجر سے نفرت تو اسی وقت ہو گئ تھی جب وہ اسکے باپ کے خلاف بول رہا تھا اب یہاں سب اسکے دشمن تھے جو اسے کسی بھی وقت مار دیتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ کرنل ہارون کے افس میں پہنچ گیا خاموشی سے انکے سامنے کھڑا تھا
مجھے یہاں سے جانا ہے ” اسنے سنجیدگی سے کہا
آرمی چھوڑ کر جاؤ گے “
ہمم کیونکہ میرا کوئی نہیں ہے اب یہاں ” اسکا لہجہ جذبات سے بکھرا بکھرا تھا ۔۔
ہمم گڈ ۔۔ اینی ویز تم جا سکتے ہو ” وہ سنجیدگی سے بولے
اپکو یاد ہو گا ڈیڈ کی پراپرٹی ہے یہاں “
ہم پتہ ہے مجھے ۔۔۔۔
وہ پراپرٹی کسی کو نہیں دی جائے گی ان پیپرز پر سائین کریں “
میں ہوں یہ نہیں اس جگہ کو سیل کر دیا جائے گا لیکن میرے ڈیڈ کی پراپرٹی میں حکومت کے حوالے یہ اپ لوگوں کے حوالے نہیں کروں گا “
جنرل ہارون مسکرائے کتنا نہ سمجھ لگا تھا اس وقت انھیں وہ
انھوں نے ان سب پیپرز پر سگنچر کیے اور بنا دیکھے کیے ۔۔۔۔
جاؤ اپنی زندگی سکون سے جیو تمھیں کوئی تنگ نہیں کرے گا
وہ مسکرا کر بولے
کہاں جاؤ گے ” انکے سوال پر وہ بے دھیانی میں کہہ گیا
نانو کے گھر ” اور باہر نکل گیا
جنرل ہارون نے فون اٹھایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب چھوڑ کر ا گیا تھا اسے سمجھ ا گئ تھی ۔۔
وہ کچھ نہیں کر پائے گا وہاں کوئی نہیں تھا جب اسکا دوست اسکا یار ہی اسے مارنے کو پہنچ گیا تو کون اسکا تھا وہ شجر سے ملا بھی نہیں تھا واپسی پر ۔۔۔۔
وہ ٹوٹے ہوئے دل اور شکستہ قدموں سے لوٹا اور نانو سے لپٹ کر بہت رویا وہ اسے سنبھال رہیں تھیں
اسے پیار کر رہی تھیں وہ بچہ بن گیا تھا سسک سسک کر باپ کو یاد کرتا رو رہا تھا ۔۔
انکے ساتھ ہوئے زیادتی نانو کو بتا رہا تھا اسکی ماں بھی ا گئ ۔۔
اسکی آنکھیں بھی بیٹے کی حالت دیکھتی بھیگ گئیں اور پہلی بار ماں کے گلے لگا تھا وہ رو پڑا تھا باپ سے اتنی محبت تھی اسے کہ غم اس برداشت نہیں ہو رہا تھا اسے باپ کا غم ہرا رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلوشہ نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر سے باہر نکلنے لگی بہزاد کے ساتھ ساتھ روئی تھی وہ بھی شجر کی باتیں جس طرح وہ بتا رہا تھا ۔۔ اس سے پلوشہ کے دل میں شجر کے لیے شدید نفرت پیدا ہو گئ وہ ہاسٹل شفٹ ہو رہی تھی کچھ دنوں میں زندگی تو بدل گئ تھی اب اپنے لیے خود بھی کچھ کرنا تھا اسنے اور وہ چاہتی تھی وہ آرمی میں ڈاکٹر کی پوسٹ پر جائے جس کے لیے اسے مزید محنت درکار تھی ۔
وہ جانے سے پہلے بہزاد کے پاس ائی وہ علی شاہ کی تصویریں دیکھ رہا تھا اور کچھ اسکی اور شجر کی بھی تھیں
پلوشہ اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔
بہزاد نے موبائل بند کر دیا اور دور چمکتے پوری رات کے چاند کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا کن الفاظوں میں اپکو تسلی دوں ” پلوشہ نے کہا بہزاد نے نفی میں سر ہلایا
تسلی نہیں چاہیے مجھے تم کہاں جا رہی ہو ” اسنے چہرہ موڑ کر دیکھا
ہاسٹل ” وہ بولی
کیوں “
اب نانو کے پاس آپ ا گئے ہیں اپ انکا خیال رکھیں گے مجھے زندگی میں کچھ بننا ہے ” بہزاد نے سر ہلایا
مجھے ایک فیور چاہیے اپ سے ” ۔
ہمم ” وہ بس ہنکارہ بھر گیا پورے چاند پر نگاہ تھی اب بھی اسکی ۔۔۔
شجر عباس کا نام اپنے نام کے آگے سے ہٹانا چاہتی ہوں کیا ؟
ایسا ممکن ہے ” بہزاد نے اسکی جانب دیکھا
وہ پاگل ہو رہا ہے صرف دل کا برا نہیں ہے “
آپ کیسے انکی حمایت لے سکتے ہیں انھوں نے اپکو مارنے کی کوشش کی ” پلوشہ کو غصہ چڑھا تھا اسپر ۔۔۔
ہمم لیکن تمھارے ساتھ اسکا اختلاف نہیں ہے “
مجھے آپکی مرضی سے زندگی نہیں گزارنی بہزاد اپ نے صرف اپنی جان چھڑانے کے لیے مجھے پھنسا دیا مجھے اس انسان سے شدید نفرت ہے اور وہ مجھے ڈھونڈتا ڈھونڈتا مر بھی جائے گا تب بھی ۔ میں اسے کبھی نہیں ملوں گی “
غصے سے کہہ کر وہ اٹھی بہزاد اسکی جانب دیکھنے لگا
آپ میری محبت کو سمجھتے تو سہی میں اپکو سمیٹ لیتی ” اہستگی سے کہتے وہ آخری شکوہ کرتی وہاں سے چلی گئ
جبکہ بہزاد نے اسے ڈرائیور کے ساتھ سوار ہوتے اور پھر وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا ۔۔
اندر نانو اور اسکی ماں تھیں جبکہ اسکی ماں کے دو چھوٹے چھوٹے بچے وہ الجھن کا شکار گھر سے باہر نکل آیا
زندگی میں آگے کیا تھا کیا نہیں اسے واقعی کسی چیز کی خبر نہیں تھی ۔۔
وہ روڈ پر چلتا جا رہا تھا ۔۔
ابھی کچھ دور ہی وہ ایا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے بلاسٹ کی آواز پر اسکا وجود ساکت رہ گیا
اسنے اپنی آخری پناہ گاہ کو اپنی آنکھوں سے جلتے دیکھا ۔۔۔
وہ بھاگا سیاہ رات پورا چاند کتنا ظالم تھا وہ روڈ پر تنہا بھاگا تھا
اسکی چیخوں نے جیسے پورا شہر جاگا دیا تھا ۔۔
وہ گھر جل رہا تھا اسکی نانی ۔۔۔ اسکی ماں وہ دو بچے کہیں کچھ نہیں تھا
وہ مدد کو پکارنا چاہتا تھا ۔۔
وہ چاہتا تھا وہ کسی کو بلائے لوگ دور ہو رہے تھے وہ پاگلوں کیطرح اپنا جلتا آشیانہ دیکھتا چلانے لگا وہ چاہتا تھا اسکا باپ ا جائے جو اسکو رونے تو کیا کسی تکلیف کو اسکے پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتا تھا
” کوئی ہے میری مدد کرو ” ۔۔ اسکے الفاظ گونجے
وہ اندر آگ میں کودنا چاہتا تھا لیکن لوگوں نے اسے اس پاگل پن سے بچا لیا
جب سب راکھ ہو گیا تھا تو وہ کیوں زندہ تھا وہ بھی مر جاتا لیکن اسے بچا لیا گیا ۔۔۔۔
اور نانو اور اسکی ماں بھی ساتھ چھوڑ گئے
شجر عباس ” اسکی دھاڑ بہت وحشت ناک تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویری گڈ ۔۔۔ کیپٹن شجر عباس ” مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ بھی مسکرایا ۔
تمھیں یقین ہے سب ویسا ہی ہوا ہے جیسا کہاں گیا تھا ۔
جی سر وہاں کوئی نہیں بچا “
اور بہزاد علی شاہ “
وہ بھی نہیں ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ دل دکھا تھا اسنے اپنے دوست اپنے یار کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا
لیکن وہ غدار تھا وہ 24 کروڑ عوام کو مار دیتا اس کی نسبت یہ بہتر تھا وہ خود مر جاتا ” ۔ ۔
اسے بس اتنا پتہ تھا پلوشہ وہاں نہیں تھی اب کس ہاسٹل میں تھی یہ اسکے علم میں نہیں تھا لیکن جو طاقت جو اختیار اسے مل گیا تھا اس کو استعمال کرتے بھلا پلوشہ کو ڈھونڈ لینا نا ممکن ہو سکتا تھا ؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔